کل کتب 5793

دکھائیں
کتب
  • 1 #8085

    مصنف : قاری ابو الحسن اعظمی

    مشاہدات : 88

    قراءات شاذہ

    (بدھ 22 جنوری 2020ء) ناشر : قرآءت اکیڈمی لاہور

    قرآن مجید     نبی کریمﷺ پر نازل کی جانے والی   آسمانی کتب میں سے  آخری  کتاب ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے  اپنی زندگی میں    صحابہ کرام ﷢ کے سامنے  اس کی مکمل تشریح وتفسیر  اپنی  عملی زندگی،  اقوال  وافعال اور اعمال کے  ذریعے پیش فرمائی اور  صحابہ کرام ﷢کو مختلف قراءات میں  اسے پڑھنا  بھی سکھایا۔ صحابہ کرام   ﷢ اور ان کے بعد آئمہ  فن اور قراء نے  ان قراءات کو آگے منتقل کیا۔  کتب ِاحادیث میں  احادیث کی طرح  مختلف کی قراءات کی اسناد  بھی موجود ہیں۔   علماء نے عموماً قراءا ت کی دو مشہور قسمیں ذکر کی ہیں: (۱) قراء اتِ متواترہ (۲) قراء اتِ شاذہ قراء اتِ متواترہ سے مراد وہ صحیح اور مقبول قراء ات مراد لی جاتی ہیں جو نبی کریم ﷺ سے بطریق ِتواتر مروی ہوں۔قراء اتِ شاذہ سے مراد ضعیف سند والی قراء ات ہیں ۔ قراءات قرآنیہ کے میدان میں جہاں قراءات متواترہ پر کتب لکھی گئی ہیں وہیں قراءات شاذہ پر بھی کتب موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ قراءات شاذہ‘‘ استاذ القرّاءقاری ابوالحسن علی  اعظمی صاحب  کی  تصنیف ہے ۔فاضل مصف نے کتاب  آغازمیں قراءات صحیحہ مقبولہ اور قراءات شاذہ مردودہ کا معیار  کیا ہے؟ اس کےاصول وضوابط  کیا ہیں؟اس پر مختصر کلام کرنے کے بعد   قرّاء اربعہ ، ان کےرواۃ اور طرق کے حالات کامختصر تذکرہ کیا ہے۔اس کےبعد  قراءاتِ شاذہ کے اصول فروش کو بیان کیا ہے ۔(م۔ا) 

  • 2 #8084

    مصنف : محمد تقی عثمانی

    مشاہدات : 197

    پڑوسیوں کے حقوق

    (منگل 21 جنوری 2020ء) ناشر : بیت العلوم، لاہور

    انسانی حقو ق کے بارے میں اسلام کا تصور بنیادی طور پر بنی نوع انسان کے احترام و قار اور مساوات پر مبنی ہے ۔قرآن حکیم کی روسے اللہ رب العزت نے نوع انسانی کو دیگر تمام مخلوق پر فضیلت و تکریم عطا کی ہے۔قرآن کریم میں شرف ِانسانیت وضاحت کے ساتھ بیان کیاگیاہے کہ تخلیق آدم کے وقت ہی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سیدنا آدم ﷤ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور اس طرح نسل آدم کو تمام مخلوق پر فضلیت عطاکی گئی ۔اسلامی  تعلیمات میں حقوق العباد کا خاص خیال رکھا گیا ہے ۔ کتاب وسنت  میں تمام حقوق العباد(حقوق والدین ،حقوق اولاد،حقوق زوجین، حقوق الجار وغیرہ)    کے تفصیلی احکامات موجو د ہیں ۔ زیر نظر کتابچہ’’ پڑوسیوں کے حقوق‘‘معروف عالم دین  جسٹس مولانا مفتی محمدتقی عثمانی ﷾ کے ایک خطبہ کی کتابی صورت ہے ۔ مولانا محمد کفیل خان صاحب نے اسے مرتب کر کے افادۂ عام کے لیے شائع کیا ہے ۔اس کتابچہ میں آسان فہم اسلوب میں  پڑوسی کا مقام ،پڑوسی کی اقسام ،پڑوسی کےحقوق وغیرہ کو کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے ۔(م۔ا)

  • 3 #8083

    مصنف : عنایت اللہ

    مشاہدات : 224

    پرچم اڑتا رہا

    (پیر 20 جنوری 2020ء) ناشر : علم و عرفان پبلشرز، لاہور

    پاکستان کے مشہور و معروف مصنف عنایت اللہ مرحوم کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ جب بھی تاریخی ناولوں کا ذکر ہو تو ان کا نام فورا ذہن میں آجاتاہے۔ اور اک بت شکن پیدا ہوا، شمشیر بے نیام، دمشق کے قید خانے میں، اور نیل بہتا رہا، ستارہ جو ٹوٹ گیا!، حجاز کی آندھی، اندلس کی ناگن، فردوس ابلیس جیسے کئی ناول ان کے قلم سے وجود میں آئے۔اس کے علاوہ  بی آر بی بہتی رہی، پرچم اُڑتا رہا، بدر سے باٹا پور تک جیسی بے شمار کتب ان کےقلم سے منظر پر آئیں۔ زیر نظر کتاب ’’ پرچم اڑتا رہا ‘‘  بھی  عنایت اللہ کی تصنیف ہے یہ کتاب جذبہ حریت پر مبنی سچی تاریخی15 داستانوں کا مجموعہ  ہےان میں سے دو کہانیاں سید احمد شہید کی تحریک مجاہدین کے جہاد کی ہیں۔دو کہانیاں الجزائر کی جنگ آزادی کی ہیں۔دو کہانیاں پاکستان کے پہلے میجر جنرل اکبر خان کی ہیں دو کہانیاں پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کی ہیں اور اس کے علاوہ اس میں کچھ متفرق کہانیاں ہیں۔(م۔ا)

  • 4 #8082

    مصنف : قاری محمد ادریس العاصم

    مشاہدات : 271

    نجوم الفرقان فی علم عددایات القرآن

    (اتوار 19 جنوری 2020ء) ناشر : قرآءت اکیڈمی لاہور

    قرآنی علوم میں سے ایک اہم ترین علم عد الآی یا علم الفواصل ہے اس علم کی بدولت آیات قرآنیہ کی ابتدا اور فواصل، نیز تعداد آیات کے حوالے سے متفق علیہ اور مختلف فیہ آیات کاعلم ہو جاتا ہے۔اس علم کی فضیلت کےلیے یہ بات ہی کافی ہے کہ یہ توقیفی ہےجو نبی کریمﷺ کی تعلیمات اور صحابہ کرام﷢ وتابعین﷫ کے ارشادات کے ذریعہ  ہم تک پہنچا ہے ۔ اس میں قرآن مجید کی آیتوں کے شمار اور ان کے مواقع بتائے جاتے ہیں ۔عدد آیات کا علم بڑا وسیع علم ہےاس علم کے متعلق عربی زبان میں متعدد کتب موجود ہیں۔علامہ شاطبی﷫   کی کتاب ’’ناظمۃ الزھر‘‘علم  فواصل کے متعلق اہم کتاب  ہے ۔ زیر نظر کتاب’’نجوم الفرقان فی علم عدد آیات القرآن‘‘شیخ القرّاء قاری محمد ادریس العاصم﷾ (مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہےقاری صاحب  نے   اس  کتاب میں علم عدد آیات کی معلومات کو عام فہم ، مختصر اور جامع انداز میں  مکمل علم کااحاطہ کرتے ہوئے  جمع کردی ہیں ۔عدد آیات کے متعلق طلباء کے لیے یہ ایک مفید کتاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ قاری صاحب کی تدریسی ،تصنیفی وتحقیقی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں صحت وعافیت والی زندگی  سے نوازے۔(م۔ا)

  • 5 #8081

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 314

    مختصر سیرت خلفائے راشدین ( مختلف علمائے کرام کے کلام سے )

    (ہفتہ 18 جنوری 2020ء) ناشر : توحید خالص ڈاٹ کام

    اسلام کی ابتدائی تاریخ کے خلفاء اربعہ کو’’خلفائے راشدین ‘‘ کہا جاتا ہے ۔یہ خلفاء کرام عہد نبوت میں ہی ہر   لحاظ سے دیگر صحابہ کرام ﷢  کےمقابلے میں ایک امتیازی شان  و مقام رکھتےتھے ۔تمام صحابہ کرام ﷢ کو عمومی طور پر اور خلفائے راشدین ﷢ کو خصوصی طور پر ، امت میں جو مقام و مرتبہ حاصل ہے ، اس کے بارے میں صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ انبیاء کرام ﷩ کے بعدیہ مقدس ترین جماعت تھی جس نے خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺکی رسالت کی تصدیق کی ، آپﷺ کی دعوت پر لبیک کہا ، اپنی جان و مال سے آپﷺکا دفاع کیا ، راہِ حق میں بے مثال قربانیاں دیں ، نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی بے چوں وچراں پیروی کی اور آپﷺ کی رحلت کے بعد اپنے عقیدہ وعمل کے ذریعے اس آخری دین اور اس کی تعلیمات کی حفاظت کی۔صحیح احادیث میں خلفائے راشدین﷢کے جو فضائل بیان ہوئے ہیں ، وہ ہمارے لیے کافی ہیں۔اس لیے کہ جہاں ہم ان کے ذریعے صحابہ کرام﷢کے حقیقی مقام و مرتبہ کو جان سکتے ہیں وہیں ان کی عقیدت میں غلو کے فساد سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ زیر  نظرکتابچہ’’مختصر سیرت خلفائے راشدین‘‘جناب طارق علی بروہی﷾ کا مرتب کردہ ہے ۔فاضل مرتب نے  مختلف  علماء کرام کے بیانات  اور تحریروں سے  مختصراً خلفاء راشدین(سیدنا ابو صدیق،سیدعمرفاروق،سیدنا عثمان غنی،سید علی ﷢) کے فضائل ومناقب اورسیرت کے  متعلق مواد  کو اخذ  کر کے  مرتب کیا اور  افادۂ عام کے لیے اسکا اردو ترجمہ کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے  اور اسے ان کےمیزانِ حسنات میں  اضافہ کا ذریعہ بنائے اور ہمیں خلفائے راشدین کی سیرت کو اختیار کی توفیق دے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 6 #8080

    مصنف : قاری محمد شریف

    مشاہدات : 226

    معلم التجوید للمتعلم المستفید ( نیو ایڈیشن )

    (جمعہ 17 جنوری 2020ء) ناشر : مکتبہ القراءۃ، لاہور

    تلاوت ِقرآن کا  بھر پور اجروثواب اس  امر پرموقوف ہے کہ تلاوت پورے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ کی جائے قرآن کریم  کی تلاوت  کا صحیح  طریقہ جاننا اورسیکھنا علم ِتجوید کہلاتا ہے  ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ  وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی  حاصل کرے ۔ کیونکہ  قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی  وہ عظیم الشان کتاب ہے کہ ہر مسلمان پراس کتاب کو صحیح پڑھنا لازمی اور ضروری ہے جس  کاحکم  ورتل القرآن ترتیلا سے واضح ہوتا ہے۔ اس قرآنی حکم کی تکمیل اور فنّ تجویدکوطالبِ تجوید کےلیے  آسان اورعام فہم بناکر پیش کرناایک استاد کے منصب کا  اہم فریضہ ہے ۔ایک اچھا استاد جہاں اداء الحروف کی طرف توجہ دیتا ہے ۔ وہیں وہ اپنے  طالب علم کو  کتاب کےذریعے بھی مسائل تجوید ازبر کراتا ہےعلم تجوید قرآنی علوم کے بنیادی علوم میں سے ایک  ہےاس علم کی تدوین کا آغاز دوسری صدی کے  نصف سے ہوا۔ائمۂ حدیث وفقہ کی طرح تجوید وقراءات کے ائمہ کی بھی  ایک طویل فہرست ہے  اور تجوید وقراءات کے موضوع    پرماہرین تجوید وقراءات  کی بے شمار کتب موجود ہیں    جن سے استفادہ کرنا اردو دان طبقہ کے لئے اب  نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے ۔حتیٰ کہ اب  تجویدی  مصاحف    نے  قرآن مجید کو تجوید سے پڑھنا مزید آسان کردیا ہے۔ زیر نظر کتاب’’  معلّم التجوید للمتعلم المستفید‘‘شیخ القراء والمجودین محترم  قاری محمد شریف ﷫ (بانی دار القراء ،ماڈل ٹاؤن،لاہور )تصنیف ہے ۔مرحوم نے  تجوید کے تمام مسائل  کوسلف اور خلف کی معتر کتابوں سے اخذ کر کے تجوید کے جملہ مسائل کو عمدہ اور سلیس عبارت میں سمجھانے  اور ذہین نشین کرانے کی کوشش کی  ہےجس  سے معمولی استعداد کا طالب علم بھی آسانی سےسمجھ سکتا ہے۔نیزہرمسئلہ کو سوال وجواب کی صورت میں پیش کیا ہے جس سے مسائل کو یاد کرلینے میں بڑی آسانی ہوجاتی ہے۔تقریباً ساٹھ سال  قبل  80 صفحات پر مشتمل 1959ء میں یہ کتاب پہلی مرتبہ شائع ہوئی تھی ۔قاری محمدشریف مرحوم کے صاحبزادے جناب خالد محمود صاحب نے اس رسالہ کی تدوین نو کر کے دو سال قبل  اس کاجدید اضافی شدہ ایڈیشن شائع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم  کی خدمت کےقرآن مجید  کے سلسلے میں جملہ مساعی کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 7 #8079

    مصنف : قاری محمد طاہر الرحیمی

    مشاہدات : 326

    جمال القرآن مع شرح کمال الفرقان

    (جمعرات 16 جنوری 2020ء) ناشر : مکتبہ مدنیہ لاہور

    تلاوت ِقرآن کا  بھر پور اجروثواب اس  امر پرموقوف ہے  کہ تلاوت پورے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ کی جائے قرآن کریم  کی تلاوت  کا صحیح  طریقہ جاننا اورسیکھنا علم تجوید کہلاتا ہے  ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ  وہ علم تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی  حاصل کرے ۔ کیونکہ  قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی  وہ عظیم الشان کتاب ہے کہ ہر مسلمان پراس کتاب کو صحیح پڑھنا لازمی اور ضروری ہے جس  کاحکم  ورتل القرآن ترتیلا سے واضح ہوتا ہے۔ اس قرآنی حکم کی تکمیل اور تجویدکوطالب تجوید کےلیے  آسان اورعام فہم بناکر پیش کرناایک استاد کے منصب کا  اہم فریضہ ہے ۔ایک اچھا استاد جہاں اداء الحروف کی طرف توجہ دیتا ہے ۔ وہیں وہ اپنے  طالب علم کو  کتاب کےذریعے بھی مسائل تجوید ازبر کراتا ہے۔علم تجوید قرآنی علوم کے بنیادی علوم میں سے ایک  ہے  ۔ اس علم کی تدوین کا آغاز دوسری صدی کے  نصف سے ہوا۔ائمۂ حدیث وفقہ کی طرح تجوید وقراءات کے ائمہ کی بھی  ایک طویل لسٹ ہے  اور تجوید وقراءات کے موضوع    پرماہرین تجوید وقراءات  کی بے شمار کتب موجود ہیں ۔   جن سے استفادہ کرنا اردو دان طبقہ کے لئے اب  نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے ۔ عرب قراء کی طرح برصغیر پاک وہند کے علماء  کرام اور  قراءعظام  نے  بھی  علم تجوید قراءات  کی اشاعت وترویج کےلیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔پاکستان میں دیوبندی قراء کرام کےعلاوہ  سلفی قراء عظام  جناب قاری یحییٰ رسولنگری، قاری محمداریس العاصم ،قای محمد ابراہیم میرمحمدی  حفظہم اللہ اور ان کےشاگردوں کی  تجوید قراءات کی نشرواشاعت میں  خدمات  قابل تحسین ہیں  ۔مذکورہ قراء کی تجوید وقراءات کی کتب کے  علاوہ  جامعہ لاہور الاسلامیہ کے کلیۃ القرآن ومجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور  کے زیر نگرانی شائع ہونے  والے  علمی مجلہ  رشد کےعلم ِتجویدو  قراءات  کے موضوع پر تین ضخیم  جلدوں  پر مشتمل قراءات نمبرز  اپنے  موضوع  میں انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں ۔جس میں  مشہور قراء کرام کے   تحریر شدہ مضامین ، علمی  مقالات  اور حجیت  قراءات پر    پاک وہند کے  کئی  جیدمفتیان کرام کے فتاوی ٰ جات بھی شامل ہیں اور اس میں  قراءات کو عجمی فتنہ قرار دینے والوں کی  بھی خوب خبر لیتے ہوئے  ان کے  اعتراضات کے  مسکت جوابات دیئے گئے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ جمال القرآن مع  شرح کمال الفرقان   ‘‘محترم مولانا اشرف علی تھانوی  صاحبکی تصنیف ہے ۔جمال القرآن  کی شرح کمال  الفرقان  استاذ القراء  مولانا  قاری محمد طاہر رحیمی کی تحریر کردہ ہے ۔جمال القرآ ن علم تجوید کی ابتدائی کتاب ہےشائقین علم تجوید کے لئے یہ ایک مفید اور شاندار کتاب ہے۔شارح جمال القرآن جناب قاری طاہر رحیمی صااحب نے اس شرح میں  ہر ہر  مضمون ،قاعدہ  اور تنبیہ پر حاشیہ کا نشان دے کر بقدر ضرورت اس کی پوری تفصیل  بیان کردی ہے اور بعض لمعات کےآخر میں ان کے مناسب بعض مضامین ضروریہ  بعنوان تکملہ درج کردئیے  ہیں ۔نیز ہر لمعہ کےآخر میں مختصر لفظوں میں اس کا جامع خلاصہ بھی تحریر کردیا ہے ۔ (م۔ا)

  • 8 #8078

    مصنف : محمد بشیر سہسوانی

    مشاہدات : 559

    اظہار حق اردو ترجمہ صیانۃ الانسان عن وسواس الشیخ دحلان

    (بدھ 15 جنوری 2020ء) ناشر : مکتبہ ایوبیہ کراچی

    اسلام  کی  فلک  بوس  عمارت  عقیدہ  کی  اسا س پر قائم ہے  ۔ اگر  اس بنیاد میں  ضعف یا  کجی  پیدا ہو جائے تو دین کی عظیم عمارت  کا وجود  خطرے میں پڑ جاتا  ہے۔ عقائد کی تصحیح اخروی فوز و فلاح کے لیے اولین شرط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی طرف سے بھیجی جانے والی برگزیدہ شخصیات سب سے پہلے توحید کا علم بلند کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔  اور  نبی کریم ﷺ نے  بھی مکہ معظمہ میں  تیرا سال کا طویل عرصہ  صرف اصلاح ِعقائدکی جد وجہد میں صرف کیا عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی  تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو  خوب واضح کیا ۔ عقائد کے باب میں اب تک بہت سی کتب ہر زبان میں شائع ہو چکی ہیں اردو زبان میں بھی اس موضوع پر قابل قدر تصانیف اور تراجم سامنے آئے ہیں۔ زير نظر كتاب’’ اظہارِ حق اردو ترجمہ صیانۃ الانسان عن وسواس الشیخ دحلان ‘‘ شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی﷫ کے  ممتاز اولین شاگر علامہ محمد  بشیرسہسوانی﷫ کی  عقیدہ میں معرکۃ الآراء کتاب ’’صیانة الانسان عن وسوسةالشیخ دهلان کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب علامہ سہسوانی ﷫ نے شافعی مفتی شیخ احمد دحلان مکی سے مسئلہ توحید پر مناظرہ کےبعد اس کے ردّ میں  مرتب کی اور اس میں  میں عقیدے  سے متعلق نہایت اہم مباحث قلمبند کیے ہیں۔یہ پہلی مرتبہ مطبع فاروقی ،دہلی سے طبع ہوئی اس کےبعد نجد سے بھی کئی مرتبہ شائع  ہوئی۔علامہ رشید رضا مصر ی صاحب تفسیر المنار نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوکہا کہ: ’’ کتاب  ’’صیانۃ الانسان‘‘ صرف شیخ دحلان کاردّ ہی نہیں  ہے  اور نہ صرف ان فقہاء کاردّ ہے جن سے شیخ دحلان نے اپنے دلائل کو نقل کیا ہے...بلکہ یہ  ان کےبعد آنے والے تمام قبر پرستوں اوربدعتیوں پر ردّ ہے‘‘یہ کتاب اس قدر اہمیت کی حامل  ہےکہ توحید پر لکھی جانے والی اکثر کتب میں اس کتاب کےبکثرت حوالے ملتے ہیں۔ حتیٰ کہ علامہ ناصر الدین البانی﷫ نےبھی اس کے حوالے اپنی متعدد تحریروں میں دیے ہیں ۔صیانۃ الانسان کی ہمہ گیر افادیت کے پیش نظر سہوانی خاندان کے ایک صاحب علم شخصیت جناب عبد المعید نقوی﷾ کی خواہش پر  جناب عبد العظیم حسن زئی﷾(مدرس جامعہ ستاریہ،کراچی ) نےاسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف،مترجم وناشرین کی  کاوش کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 9 #8077

    مصنف : ڈاکٹر رضی الدین صاحب صدیقی

    مشاہدات : 432

    آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت

    (منگل 14 جنوری 2020ء) ناشر : انجمن ترقی اردو، انڈیا

    بیسویں صدی کے آغاز تک تمام بڑے بڑے سائنس دان، مفکر اور فلسفی یہی کہتے رہے کی مادہ ایک ایسی شے ہے جسے نہ تو پیدا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی تباہ کیا جاسکتا ہے مادہ بے شک اپنی شکل تبدیل کر لیتا ہے، جسے قانون بقائے مادہ یعنی law of conservation of matter بھی کہتے ہیں۔مادہ اپنی شکل تبدیل کر سکتا ہے جیسے پانی برف کی صورت بھی اختیار کر لیتا ہے اور بھاپ کی بھی۔ لیکن اس کے وجود کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن 1905 میں آئن سٹائن نے اپنے شہرہ آفاق نظریہ، نظریۂ اضافیت (Theory of relativity) پیش کیا تو صدیوں پرانے سائنسی اصول ریت کی دیوار کی طرح ڈھے گئے۔ آئن سٹائن چونکہ اعلٰی پائے کا ریاضی دان تھا اس لیے اس نے مادے اور توانائی کے تعلق کو ایک کلیےسے ظاہر کیا۔ زیر نظر کتاب’’آئن سٹائن کانظریہ اضافیت‘‘ جناب رضی الدین صدیقی کی تصنیف ہےیہ کتاب  انہوں نے علامہ  اقبال ﷫ کی خواہش  پر 1938ء میں شروع کی تھی تاکہ  نظریۂ اضافیت کے بنیادی اصولوں سے واقفیت ہوجائے اور جدید فلسفہ پر اس نظریہ کاجو گہرا اثرا ہوا ہےاس  کااندازا ہوسکے ابھی اس کتاب کے پہلے تین ابواب ہی مکمل ہوئے تھےکہ علامہ اقبال کا انتقال ہوگیا۔مصنف نے اس کتاب میں آئن سٹائن کے نظریۂ اضافیت کی عام فہم تشریح  پیش کی ہے ۔(م۔ا)

  • 10 #8076

    مصنف : نا معلوم

    مشاہدات : 499

    اسلام میں یزید نام کے اکابرین

    (پیر 13 جنوری 2020ء) ناشر : نا معلوم

    کسی بھی مسلمان کی  عزت وآبرو کا دفاع کرنا انسان کو جنت میں لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔سیدنا ابو درداء فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص  اپنے بھائی کی عزت سے اس چیز کو دور کرے گا جو اسے عیب دار کرتی ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ کو دور کر دے گا۔(ترمذی:1931)اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا  کہ  کسی بھی مسلمان کی عزت کا دفاع کرنا ایک مستحب اور بے حدپسندیدہ عمل ہے۔اور اگر ایسی شخصیات کی عزتوں کا دفاع کیا جائے جو صاحب فضیلت ہوں تو اس عمل کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔مثلا اگرکسی صحابی کی شان میں گستاخی کی جاتی ہےاور ان پر غلط الزامات لگائے جاتے ہیں تو ایسے صحابی کی عزت کادفاع کرنا بہت بڑی عبادت اور بہت بڑے اجروثواب کا باعث ہے۔یزید بن معاویہ ؓ تابعین میں سے ہیں اور صحابی رسول سیدنا امیر معاویہ ﷜کے بیٹے ہیں۔بعض روافض اور مکار سبائیوں نے ان پر بے شمار جھوٹے الزامات لگائے ہیں اور ان کی عزت پر حملہ کیا ہے۔ان کی عزت کا دفاع کرنا بھی اسی حدیث پر عمل کرنے میں شامل ہے۔یزید بن معاویہ کے متعلق  بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ وہ قسطنطنیہ کے اس لشکر کا سپہ سالار تھا کہ جس نے سب سے پہلے قسطنطنیہ پر لشکر کشی کی تھی اور حدیث میں  اس  لشکر کو مغفور لہم کے لیے پروانہ مغفرت  کی  بشارت سنائی گئی ہے ۔روافض کی  یزید دشمنی ہی کا نتیجہ ہے یا لا علمی کہ امت کے ایک بڑے طبقہ نے یہ سمجھ لیا کہ یزید چونکہ شرابی، جواری اور نعوذ باﷲ زانی تھا، ان سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اﷲ کے رسول کے نواسے حسین بن علی ﷜کا قاتل تھا اس وجہ سے واقعہ کربلا کے بعد امت نے اپنے بچوں کا نام یزید رکھنا چھوڑدیا۔ یہ بات اس قدر مشہور ہوئی کہ بر صغیر ہندوپاک میں شاید ہی کوئی یزید نام رکھنے کی ہمت کرے۔جبکہ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سارے محدثین کے نام یزید تھے جبکہ واقعہ کربلا پیش آچکا تھا۔ یہی نہیں بلکہ عرب ممالک میں اب بھی لوگ اپنے بچوں کا نام یزید رکھتے ہیں۔ اس نام میں نہ کوئی معنوی خرابی ہے اور نہ کوئی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے اس کو ترک کر دیا جائے۔ زیر نظر کتاب’’اسلام میں یزید نام کے اکابرین‘‘ میں مرتب  نے کتب اسماء الرجال  وتاریخ  ، کتب  مذہب شیعہ کے حوالہ جات سے  یزید نام کے اکابر ین کو  پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ   یزید نام رکھنے میں کوئی قباحت  نہیں ۔آج بھی بچوں کےنام یزید رکھے جاسکتے ہیں۔(م۔ا)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 579 580 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1910
  • اس ہفتے کے قارئین 7895
  • اس ماہ کے قارئین 46289
  • کل قارئین49343869

موضوعاتی فہرست