کل کتب 7

دکھائیں
کتب
  • 1 #6986

    مصنف : ایچ رشید احمد

    مشاہدات : 1100

    دینی مدارس کا منہاج عمل اور جدید معاشرتی تقاضے

    (اتوار 16 جون 2019ء) ناشر : شعبہ سماجی بہبود کلیہ فنون جامعہ کراچی

    دینی مدارس  کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام  ،مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی  مدارس دینِ اسلام  کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ  قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ روزِ اول سے   دینِ اسلام کا تعلق تعلیم  وتعلم اور درس وتدریس سے  رہا ہے  ۔نبی  کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو  وحی  نازل  ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم  کے گھر میں دار ارقم  کے  نام سے    ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح  وشام کے اوقات میں  صحابہ  کرام  وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے  یہ اسلام کی سب سے  پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست  کاقیام عمل میں آیا  تو وہاں سب سے  پہلے  آپﷺ نے مسجد تعمیر کی  جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے  ۔اس کے  ایک جانب آپ نے  ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ  مقامی وبیرونی  صحابہ کرام  کو قرآن مجید اور دین  کی تعلیم دیتے  تھے ۔یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی  مدرسہ تھا جو تاریخ  میں  اصحاب صفہ کے نام سے معروف  ہے  ۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ  کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ  پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں  ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے ۔اسلامی تاریخ    ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث   سے بھری پڑی ہے  کہ  غلبۂ اسلام  ،ترویج   دین  اور تعلیمات اسلامیہ کو عام کرنے  میں  جن کی خدمات نے  نمایاں کردار  ادا کیا۔ برصغیر پاک وہند میں بھی  اسلام کی  ترویج اور تبلیغ کے سلسلے میں  بے شمار علماء نے مدرسے قائم کیے اور درس وتدریس کی مسندیں بچھائیں یہاں کے متعدد ملوک وسلاطین نے بھی اس میں پوری دلچسپی لی  اور سرکاری حیثیت سے اہل علم کو تدریس کی خدمت انجام دینے پر مامور کیا ۔تو ان مدارس  دینیہ سے وہ شخصیا ت  پیدا ہوئیں  جنہوں نے  معاشرے کی  قیادت کرتے  ہوئے  اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور یہ شخصیات عوام  الناس کے لیے  منارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں ۔اسی طرح طلبا کی علمی وفکری تربیت کے لیے  وہ تمام وسائل اختیار کیے گیے جن کااختیار کرنا وقت کےتقاضے کےمطابق ضروری تھا ۔دورِ جدید میں بھی اصلاح معاشرہ کےسلسلے میں دینی   مدارس کا بڑا اہم کردار ہے ۔ زیر نظر مقالہ ’’ دینی مدارس کا منہاج  عمل اور جدید معاشرتی تقاضے  ‘‘ جناب  ایچ رشید احمد  کا  ڈاکٹر یٹ  کے لیے تیارکیا گیا وہ تحقیقی مقالہ ہے  جسے  ا نہوں نے  2003ء میں  جامعہ کراچی میں پیش  کر کے    پی ایچ ڈی  کی  ڈگری  حاصل کی مقالہ نے اس مقالہ کو دس ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔مقالہ نگار نے کراچی کےمختلف علاقوں میں قائم دینی مدارس میں زیر تعلیم  ان طلباء سے جو دینی مدارس کے نظام ونصاب کےتحت تعلیم کی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں ان سے رابطہ کے بعد طویل دورانیہ پر مبنی ملاقاتوں اور مصاحبہ ناموں کےذریعے ان کے نظریات اور مستقبل کےعزائم کےبارے میں  ان   کے  خیالات جمع کیے ہیں ۔  سماج کی تخلیق وترقی میں تعلیمی ادارے  اہم کردار انجام دیتے  ہیں ۔ یہی ادارے اخلاقی وسماجی فلاح  کےاصولوں پر مبنی اقدار سے افراد معاشرہ کو متعارف کراتے انہی  اقدار کی اساس پر زیر تعلیم طلباء کی تربیت کرتے ہیں ۔ اس طرح ایک صحت مند معاشرہ وجود پزیز ہوتا ہے ۔ تعلیمی ادارے جب دین کی تعلیمات اور قرآن حکیم کی آیات محکمات کی روشنی میں اپنا کردار انجام دیتےہیں تو وہ معاشرہ مثبت رویوں کے سبب ایک نمایاں مقام حاصل کرلیتا ہے  ماضی میں یہ ادارے  افراد اور مختلف گروہوں میں  معاشرتی اور سماجی  روابط کو بڑھانے میں ممدد ومعاون ہوئے ہیں۔ اگر یہ  ادارے  زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کوپیش نظر نہ رکھیں توپھر ان کا  نظام ارتقاء کی بجائے جمود وتعطل کا شکار ہوجاتا ہے ۔(م ۔ا)

  • 2 #7022

    مصنف : آیاز خان

    مشاہدات : 786

    ذکری مذہب ظہور ، تعلیمات اور اثرات ( پی ایچ ڈی )

    (جمعہ 26 جولائی 2019ء) ناشر : شعبہ اسلامیات جامعہ پشاور پاکستان

    ذکری مذہب کا بانی  ملا محمد اٹکی ہے ذکری مذہب کا زمانہ ساڑھے چارسوسال پر محیط ہے۔ اس مذہب کے اکثر پیروکار بلوچ ہیں ۔ ذکری مذہب والوں کی زیادہ تعداد مکران میں ہے۔ اگرچہ بعض دوسرے علاقوں میں مثلا لسبیلہ ، خضدار ، کو ہلو اور ساحل سمندر پران کی آبادیاں ہیں۔ علاوہ ازیں کراچی کے مختلف علاقوں مثلا لیاری ، ملیر اور ناظم آباد وغیرہ میں ذکری مذہب کے ماننے والے پائے جاتے ہیں۔ ذکری مذہب کوئی تبلیغی مذہب نہیں ہے، بلکہ بانی مذہب ملا محمد اٹکی نے بلوچوں کے اندر رہ کراس مذہب کی اشاعت کی، جس کی وجہ سے بلوچوں کے علاوہ اور کسی قوم میں اس مذہب کو کوئی پزیرائی نہیں ملی ۔ آج تک یہ لوگ اپنے مذہب کے عقائد کی کتابیں پردہ خفا میں رکھتے ہیں۔  ذکری مذہب کے کلمہ توحید میں اچھا خاصا اختلاف پایا جاتا ہے، مثلا کلمہ لیا جائے تو کسی کتاب میں کہیں پر اضافہ اور کسی کتاب میں کمی اور کہیں پہ الفاظ کی تبدیلی نظر آتی ہے۔ اسی طرح رسالت کے عقائد میں بھی یہی بات سامنے آتی ہے کہ ملا محمد اٹکی کو کہیں پیغمبر ، کہیں پہ ان کو نور من نورالہی قراردیتے ہیں۔ قرآن میں بھی یہ لوگ کمی بیشی کے قائل ہیں اور یہی حال ان کی عبادات کا بھی ہے ۔ زیر نظر   تحقیقی مقالہ بعنوان’’ذکری مذہب ،ظہور، تعلیمات اور اثرات ‘‘ پروفیسرجناب آیاز خان (گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ،بنوں) کا  1998ء میں  ڈاکٹریٹ کے لیے  شعبہ اسلامیات جامعہ پشاور میں پیش کیا جانے والا  مقالہ ہے ۔مقالہ نگار نےاپنے اس تحقیقی مقالہ کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔جس میں انہوں نے ذکری مذہب  کا تاریخی پس منظر وارتقاء، ذکری علماء وادباء کے حالات زندگی ،ذکریوں کے انٹرویوز اور آخری باب پنجم می ذکریوں کے متعلق اہل اسلام کاردّ عمل ،فتاویٰ، عدالتی فیصلے،ذکری مذہب کی تردید میں تحریر شدہ کتب کاتعارف اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹس پیش کی ہیں۔ (م۔ا)

  • 3 #7046

    مصنف : محمد شریف

    مشاہدات : 765

    سر سید کے آراء و افکار کا عبد الحق حقانی کی تفسیر کی روشنی میں تنقیدی و تحقیقی جائزہ ( مقالہ پی ایچ ڈی )

    (منگل 03 ستمبر 2019ء) ناشر : کلیہ عربی و علوم اسلامیہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی

    سر سید احمد خان کی ولادت 17؍اکتوبر1817ء کو دہلی میں ہوئی۔ سر سید کی ابتدائی تعلیم وتربیت خالص مذہبی اور روحانی ماحول میں ہوئی،کیوں کہ ان کے والد اور دیگر افراد خانہ کو دہلی کے دو اہم علمی وروحانی مراکز خانقاہ نقش بندیہ اور خانوادۂ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے گہری عقیدت اور والہانہ تعلق تھا۔سر سید نے تعلیم کے ذریعے مسلمانوں کی معاشرتی اور معاشی ترقی کے لیے متحدہ ہندوستان میں تحریک چلائی،اسے تاریخ میں ’’علی گڑھ تحریک‘‘ کے نام سے جانا جاتاہے،جو مدرسۃ العلوم (علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی)کی شکل میں بارآور ہوئی۔ اور انہوں نے مذہبی مصلح کی حیثیت سے مسلمانوں کی مذہبی اصلاحات کا آغازکیا اور مذہبی خیالات کے زیر اثر جو تعلیمی ، معاشی اور معاشرتی حد بندیاں مسلمانوں نے مقرر کی تھیں،انھیں ختم کرنے کی کوشش کی،نیز عیسائی حکمراں اور مستشرقین اسلام کے جن اصولوں پر معترض تھے،ان کی توجیہہ وتشریح عقل وسائنس کے ذریعے کرنے کی بنا ڈالی۔جو ان کے مقاصد کی تکمیل میں مانع تھا،یہاں تک کہ ہندوستان میں جمہور عقیدوں پر مشتمل ایک ایسا فرقہ ظہور میں آگیاجو اعتزال کی ایک نئی شکل تھی،جو بلا شبہ عقل پسندی اور نیچرل سائنس پر استوار تھا جسے ’’فرقۂ نیچریہ ‘‘ سے تعبیر کیاگیا۔در اصل سرسید کا یہی فعل ان کی ذات سے شروع ہوکر ان کی تعلیمی تحریک کی مخالفت کا سامان بن گیا۔اس اعتراض کو سمجھنے کے لیے سر سید کے مذہبی عقائد وافکار کوجاننا ضروری ہے۔ زیر نظر  مقالہ بعنوان’’  سرسید کے  آراء  وافکار کا مولانا عبد الحق حقانی کی تفسیر کی روشنی میں تنقیدی وتحقیقی جائزہ ‘‘   محترم جناب  محمد شریف کاایم فل کا تحقیقی مقالہ ہے  جسے  انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم رانا  کی نگرانی میں مکمل کر کے  علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پیش کرکے ایم فل کی ڈگری حاصل کی ۔مقالہ نگار  نے ا پنے تحقیقی مقالہ کو پانچ ابواب میں تقسیم کر کے ان ابواب میں اس بات کوواضح کیا ہے مولانا عبدالحق حقانی  نےاپنی  مشہور تفسیر  ’’ حقانی‘‘ میں   سرسید  کے مذہبی نظریات کاتعاقب کیا اورتحریر وتقریر کے ساتھ ساتھ مناظرےاور مباحثوں میں بھی سرسید  کے مذہبی نظریات کاردّ     پیش کیا اور جہاں جہاں قرآن وسنت کی من مانی تاویلات کےسہارے سے سرسید نے اسلامی ضابطوں کو توڑ ا وہاں وہاں مولانا عبد الق حانی نےان کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس کا علمی وعقلی ردّ پیش کیا۔مقالہ کےآخری میں افکار سرسید اور تنقید حقانی کے اثرات وثمرات کا ایک تحقیقی جائزہ پیش کیاگیا ہے  تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان  دو شخصیات کی فکر سے معاشرے کے مختلف طبقات پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ فکرسرسید  پیدا ہونے والے مذہبی وفکری انتشار کی طرف تنقید حقانی کی روشنی میں مناسب رہنمائی کی طرح ڈالی گئ ہے تاکہ ان نقائص کو کم کیا جاسکے اور ان ثمرات کو سمیٹا جاسکے ۔(م۔ا)

  • 4 #6990

    مصنف : محمد اسلم صدیقی

    مشاہدات : 1424

    قرن اول میں مسلمانوں کے غیر مسلموں سے تعلقات و معاہدات اور عصر حاضر ( مقالہ پی ایچ ڈی )

    (جمعرات 20 جون 2019ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    اسلام ایک عالمی  مذہب ہے اور مذاہبِ عالم  میں یہ واحد مذہب ہے جو ہر مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ تمام معاملات میں رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم  دیتاہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اسلام کی آفاقی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے دنیا بھر کے حکمرانوں کے نام خط لکھے اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ان حکمرانوں میں سے بعض عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔اسلام کے داعی اوّل  نبی کریم ﷺ کے دلرُبا کردار  کا نقشہ او ر آپ ﷺ کے صحابہ کرام ﷢ کاطرزعمل  اس بات کی روشن  دلیل ہے اسلامی معاشرے  میں غیر مذہب رعایا کوکیسا مقام حاصل تھا۔روز ِ اول سے ہی مبلغ اسلام رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اسلام کی ترقی اوربقا کےلیے  مختلف مذاہب کے ماننے والوں سےبرسرِپیکار ہونا پڑا ۔ مشرکین کے علاوہ جو طاقتیں اسلام کے راستے میں مزاحم ہوئیں ان میں یہودیت ونصرانیت پیش پیش تھیں۔گوکہ یہ دونوں  طاقتیں اہل ِ کتاب  تھیں لیکن عمومی طور  پر انہوں نے اسلام کی مخالفت اور کاروانِ حق کی ناؤ ڈبونے میں کوئی کسر نہ اٹھا  رکھی۔لیکن اس کے باوجو درسول اللہ ﷺ نے اہل کتاب سے   جو تعلقات  قائم کیے  انہیں عہد حاضر میں   بطور نظیر  پیش کیا جاسکتاہے ۔آپ ﷺ نے امت کی رہنمائی فرماتے  ہوئے عملی  نمونہ پیش  کیا۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ نبی ﷺ نے اہل کتاب کودیگر غیر مسلموں پر فوقیت دی اورہر شعبے میں ان کے ساتھ محض اہل ِکتاب ہونے کی بنا پر دوستانہ اور ہمداردانہ رویہ اپنایا۔عہد نبویﷺ میں رسول اللہ ﷺ نے یہود نصاریٰ سے جو تعلقات  قائم کیے اسی نمونے کو سامنے رکھتے ہوئے  خلفائے راشدین نے اہل ِ کتاب سے  مراسم قائم کیے ۔ مجموعی طور پر  رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ﷢ نے  یہود ونصاریٰ کی طرف  دوستی کاہاتھ ضرور بڑھایا اوران سے مختلف قسم کے تعلقات قائم کرتے ہوئے  باہمی  معاہدات بھی کیے۔ مگر ان کی  اسلام دشمنی کو کبھی فراموش نہیں کیا اور ہمیشہ ایک حد میں رہتے  ہوئے  احکام ِ الٰہیہ کی روشنی میں مختاط انداز اختیار کیا ۔ زیر نظرمقالہ بعنوان ’’ قرنِ اول میں مسلمانوں کے غیر مسلموں سے تعلقات ومعاہدات اور عصر حاضر ‘‘ محترم جناب محمداسلم صدیقی کا  ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ ہے  جسے انہوں نے  2002میں  شعبۂ علومِ اسلامیہ ،جامعہ پنجاب ،لاہور میں پیش کر کے پی  ایچ ڈی کی ڈگری  حاصل کی مقالہ   نگار نے اپنے اس تحقیقی مقالہ کو چھ ابواب میں  تقسیم   کیا ہے  اور اس تحقیقی مقالہ میں یہ ثابت کیا ہے کہ  اسلام ایک عالمی دین ہے اور نبی کریم ﷺ کی بعثت پورے عالم انسانیت کے لیے ہوئی ہے ۔ لہذا تمام مسلمانوں کوبھی اپنی سوچ عالمی بنا کر دنیا کے مسائل حل کرنے اور عالم انسانیت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعلیمات کو اپنانے کے لیے حکمت موعظہ حسنہ اور  مجادلہ احسن  سے کام لینا چاہیے ،مسلمانوں کو غیر مسلموں سے تعلقات ومعاہدات کےلیے اسے مشعل راہ بنا کر اقوام عالم سے صحیح اسلامی روادری وسعت ظرفی اور احترام انسانیت سے بھر پور رویوں کا مظاہرہ کرنا چاہیے ،نبی  اکرم ﷺ نے  مدنی دور میں  جو غیر مسلم اقوام سے مختلف معاہدے کیے  وہ آج عصر  حاضر میں بھی  مسلمانوں کےلیے مشعل راہ بن سکتے ہیں  نیز  خلفاء راشدین  نے  اقوام عالم سے تعلقات ومعاہدات کےلیے دور نبوی کو بنیاد بنایا تھا ان کا نمونہ بھی عالم اسلام کےلیے ایک اعلیٰ مثال او راقوام عالم کو اپنا شاندار ماضی دکھانے کےلیے ایک مثالی دور کی حیثیت رکھتا ہے ،اسلام کی تعلیمات ابدی ہیں دور نبوی اور خلفاء راشدین کے دور کی مثالیں ہمیں ہر دور کے غیر مسلموں سے احسن سلوک اور ان سے خاندانی ، سماجی اور معاشی تعلقات کی بنیادیں فراہم کرتی ہیں ۔(م ۔ا) 

  • مذاہب باطلہ کے رد میں مؤلفین تفسیر ثنائی و حقانی کی کاوشیں ( مقالہ پی ایچ ڈی )

    (بدھ 21 اگست 2019ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    مذاہب باطلہ کے پیروکار اس بات کوتسلیم کرتے ہیں  کہ مذہب حق اسلام  ہےلیکن  اس کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔غیر مسلم مصنفین نے ہمیشہ حقائق کو توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔مستشرقین نے جب اسلام کو اپنی تحقیقات کا نشانہ بنایا تو انہوں نے  مستند تاریخی حقائق، بخاری ومسلم ودیگر کتب صحاح کی صحیح روایات کو نظر انداز کر کے غیر مستند اور وضعی روایات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ ہر دو ر میں محدثین اور ائمہ عظام نے  مذاہب باطلہ کا خوب  رد ّکیا ہے ۔مذاہب باطلہ کےردّ میں  علمائے برصغیر کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر نظر  مقالہ بعنوان’’ مذاہب باطلہ کےردّ میں مؤلفین تفسیر ثنائی وحقانی کی کاوشیں ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر  حافظ اسرائیل فاروقی (سابقہ چیئر مین شعبہ علوم اسلامیہ،یو ای  ٹی) کا وہ تحقیقی مقالہ  ہے   جسے انہوں نے  2003ء میں پنجاب یونیورسٹی شعبہ علوم اسلامیہ میں   پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ مقالہ نگار نے  اپنے اس تحقیقی مقالہ  کو چھ ابواب میں تقسیم کر کے  تفسیر ثنائی وحقانی کے   تمام دلائل جو مذاہب  باطلہ کےردّ میں  ہیں  انہیں مرتب صورت میں یکجا کردیا ہے  اور اس  میں  یہودیت کاتعارف بھی شامل کردیا ہے ۔(م۔ا)

  • 6 #7040

    مصنف : سلطان سکندر

    مشاہدات : 593

    مسلم قادیانی مناظرانہ ادب کا تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ ( مقالہ پی ایچ ڈی )

    (بدھ 28 اگست 2019ء) ناشر : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد

    عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کابہت اہم اور بنیادی عقیدہ ہے۔جس پر تمام امت مسلمہ سلفاً و خلفاً کا ہمیشہ ہر زمانے میں اجماع رہا ہےکہ جو شخص بھی اس اجماعی عقیدے کا مخالف ہو گاوہ کافر،مرتد،خارج از اسلام ہوگا۔1857ء کے بعد برطانوی سامراج نے برصغیر میں اپنے غلیظ اور ناپاک مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے جھوٹی نبوت کی بنیاد ڈالی اور اس کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کا انتخاب کیا گیا۔اس دجال،کذاب کے ذریعے امت مرزائیہ وجود میں آئی۔جس نے برطانوی سامراج کے مقاصد شریرہ کو ہر سطح پر کامیاب کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے مذہبی روپ اختیار کرکے مسلمانوں کو اجرائے نبوت،حیات مسیح،مہدویت کی بحثوں میں الجھایا اورمسلمانوں کو انگریزوں کا وفادار بننے پر زور دیا۔ علمائے اسلام مجاہدین ختم نبوت نے شروع دن سے ہی اس کفریہ فتنے کا محاسبہ وتعاقب کیااور عوام الناس کو ان کے کفریہ و باطل عقائد و عزائم سے آگاہ کیا۔برصغیر کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے ایک دینی جذبہ کے تحت مرزائے قادیانی اور اس کے حاشیہ نشینوں کے تقابل میں ایک تحریک برپا کر دی،  قادیانیت کے یوم پیدائش سے لے کر  آج تک  اسلام  اور قادیانیت میں جنگ جار ی ہے یہ جنگ گلیوں ،بازاروں سے لے کر حکومت کے ایوانوں اور عدالت کےکمروں تک لڑی گئی اہل علم  نے  قادیانیوں کا ہر میدان میں تعاقب کیا تحریر و تقریر ، خطاب وسیاست میں  قانون اور عدالت میں  غرض کہ ہر میدان  میں انہیں شکستِ فاش دی ۔یوں تو ہر مکتب فکر کے علماء کرام مسئلہ ختم نبوت پر کارہائے نمایاں سرانجام دیتے رہے مگر ’’فاتح قادیان‘‘ کا لقب جس رجلِ عظیم کے حصے میں آیا، ان کو شیخ الاسلام مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری ﷫ کے نام نامی سے یاد کیا جاتا ہے۔ زیر نظر  مقالہ بعنوان’’  مسلم قادیانی مناظرانہ ادب کا تحقیقی وتجزیاتی مطالعہ ‘   محترم جناب  سلطان سکندر کاڈاکٹریٹ کا وہ  تحقیقی مقالہ ہے  جسے  انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی(کلیہ عربی وعلوم اسلامیہ) میں پیش کرکے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔مقالہ نگار  نے ا پنے تحقیقی مقالہ کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔باب اول میں مناظرہ کا مفہوم اس کےبارے میں علماء کی آراء اور مناظرہ کی ا قسام کو زیر لایاگیا ہے  ۔نیز اس  باب میں  مناظرہ کےآداب  مناظرہ کےاصول او رمختلف اسالیب پر طائرانہ انداز  سے جائزہ لیا گیا ہے ۔دوسرے باب میں انیسویں صدی کےنصف ثانی کے بعد برطانوی حکومت کے  قیام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال اور مختلف تحریکات کی نمو پذیری کا جائزہ لیا گیا ہے ۔باب سوم میں وہ علماء اسلام جنہوں نے وقت کی نزاکت کے پیش نظر فتنہ قادیانیت کاسد باب کرنے کے لیے کاوشیں کیں ان کی مساعی جمیلہ کو زیر بحث لایاگیا ہے۔نیز اس باب میں مسلمان مناظرین کی تالیفات اورمسلم وقادیانی  حضرات کےمابین ہونےوالے اہم مناظروں او رمباہلوں کو  زیر بحث لایاگیا ہے۔باب چہارم میں قادیانی ربیوں کا تعارف ،قادیانی مناظرین کی تالیفات کاذکر اور قادیانی ادب میں مختلف رسائل کا تعارف پیش کیاگیا ہے۔باب پنجم میں تحریک ختم نبوت کاسیاسی سطح پر تجزیہ کرنے کے علاوہ  قادیانیت کا تقسیم ہند سے  اور پاکستان کے قیام کے بعد سیاسی جائزہ لے کر اس تحریک کی بڑی بڑی سازشوں کوطشت ازبام کیاگیاہے۔(م۔ا)

  • 7 #7024

    مصنف : ڈاکٹر ریحانہ ضیا صدیقی

    مشاہدات : 2031

    مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر بیان القرآن کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ

    (اتوار 28 جولائی 2019ء) ناشر : الندوہ ٹرسٹ لائبریری چھتر اسلام آباد

    مولانا اشرف علی تھانوی ﷫ تھانہ بھون ضلع اترپردیش  میں 1863ء کوپیداہوئے   ابتدائی تعلیم میرٹھ میں ہوئی فارسی کی ابتدائی کتابیں یہیں پڑھیں اور حافظ حسین مرحوم دہلوی سے کلام پاک حفظ کیا پھر تھانہ بھون آکر حضرت مولانا فتح محمد صاحب سے عربی کی ابتدائی اور فارسی کی اکثر کتابیں پڑھیں ذوالقعدہ 1295ھ میں آپ بغرض تحصیل وتکمیل علوم دینیہ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور پانچ سال تک یہاں مشغول تعلیم رہ کر 1301ھ میں فراغت حاصل کی اس وقت آپ کی عمر تقریباً19سال تھی زمانہ طالب علمی میں حضرت میل جول سے الگ تھلگ رہتے اگر کتابوں سے کچھ فرصت ملتی تو اپنے استاد خاص حضرت مولانا محمد یعقوب کی خدمت میں جابیٹھتے۔ تکمیل تعلیم کے بعد والد اور اساتذہ کرام کی اجازت سے آپ کانپور تشریف لے گئے اور مدرسہ فیض عام میں پڑھانا شروع کر دیا چودہ سال تک وہاں پرفیض کو عام کرتے رہے،1315ھ میں کانپور چھوڑکر آپ آبائی وطن تھانہ بھون تشریف لائے اور یہاں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خانقاہ کو نئے سرے سے آباد کیا اور مدرسہ اشرفیہ کے نام سے ایک درسگاہ کی بنیاد رکھی جہاں آخر دم تک تدریس،تزکیہ نفوس اور اصلاح معاشرہ جیسی خدمات سر انجام دیتے رہے۔تدریس کے علاوہ آپ  نے بیسیوں کتب  تصنیف کیں۔ آپ کی تصانیف اور رسائل کی تعداد 800 تک ہے۔آپ کی اہم تصانیف میں  تفسیر بیان القرآن  یہ تقریباً چھ سال کی مدت میں مکمل ہوئی اور پہلی بار 1326ھ میں "اشرف المطابع" تھانہ بھون سے طبع ہوئی،اس میں سلیس بامحاورہ ترجمہ، تفسیر میں روایات صحیحہ اور اکابر کے اقوال کا التزام کیا گیا ہے۔ زیر نظر کتاب’’ مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر بیان القرآن کا تحقیقی وتنقیدی مطالعہ ‘‘ ڈاکٹر ریحانہ ضیاء صدیقی  کے تحقیقی مقالہ کی کتابی صورت  ہے جیسے انہوں نے 1991ء میں   علی گڑھ یونیورسٹی میں پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی  بعد ازاں اس تحقیقی مقالہ کو کتابی میں شائع کردیاگیا۔مقالہ نگار نے   اس مقالے میں  مولانا اشرف علی تھانوی نے جس مقصد اور ضرورت کے تحت تفسیر بیان  القرآن  لکھی تھی اسے  پوری طرح مثالوں کےساتھ واضح کرنے کی  کوشش کے ساتھ ساتھ  تفسیر کے تحقیقی مطالعہ کی روشنی میں چنددیگر تراجم وتفاسیر کا ذکرکرتے ہوئے تفسیر کی فقہی :عقلی،کلامی حیثیت کو واضح کیا ہے  اور اردوترجمہ ،ربط آیات کے حوالوں سے مثالیں بھی پیش کی ہیں ۔نیز مولانا تھانوی کی تفسیر کا امتیاز دیگر تراجم  اور تفاسیر کے موازنہ کےساتھ  مکمل ایک باب میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1320
  • اس ہفتے کے قارئین 14959
  • اس ماہ کے قارئین 53353
  • کل قارئین49438158

موضوعاتی فہرست