• حکیم محمد اشرف سندھو

    شیخ عبد القادر جیلانی ﷫ایک موحد اور متبع سنت انسان تھے۔انہوں نے اپنی ساری زندگی قرآن اور سنت کے مطابق گزاری اور لوگوں کو  قرآن وسنت پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔آپ کی تزکیہ نفس کے حوالہ سے بے مثال خدمات چہار دانگ عالم میں عقیدت واحترام کے ساتھ تسلیم کی جاتی ہیں۔لیکن افسوس کہ آپ کے بعض عقیدت مندوں نے فرطِ عقیدت میں آپ کی خدمات وتعلیمات کوپس پشت ڈال کر ایک ایسا متوازی دین وضع کر رکھا ہے جو نہ صرف قرآن وسنت کے صریح منافی ہے بلکہ خود شیخ کی مبنی بر حق تعلیمات کے بھی منافی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اگر ان عقیدت مندوں کو ان کی غلو کاریاں سے آگاہ کیاجائے تو یہ نہ صرف یہ کہ اصلاح کرنے والوں پر برہم ہوتے ہیں بلکہ انہیں اولیاء ومشائخ کا گستاخ قرار دے کر مطعون کرنے لگتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" پیغام جیلانی﷫" محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے شیخ عبد القادر جیلانی ﷫کی صحیح اور حقیقی تعلیمات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کے معتقدین اور سچے عقیدت مندوں ومریدین سے درخواست کی ہے کہ وہ بھی  اپنی اصلاح کریں اور اپنے پیر مرشد کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسنت کو تھام لیں۔ اللہ تعالی مولف کی اس خدمت کو قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو عقیدہ توحید اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • محمد مبشر نذیر

    اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سے بھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن، لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔تاریخی پہلو سے جزیرۃالعرب کے سفرناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین سفرنامے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے اہم سفرنامہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ’’سفرنامہ ارض القرآن‘‘ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآن اور بائبل کے دیس میں‘‘ کتاب ہذا کے مصنف جناب مبشر نذیر صاحب کے ان اسفار کی روداد ہے، جو انہوں نے 2006-07 میں سعودی عرب میں دورانِ قیام دنیائے عرب کے مختلف حصوں کی طرف کیے۔ اس کتاب میں ان مبارک جگہوں کاذکر ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی بسر فرمائی۔ نیز مصنف نے ان مقامات کا بھی ذکر کیا ہے جن کاذکر قرآن مجید اور بائبل میں کیا گیا ہے۔ مصنف نے ان مقامات سے متعلق قرآنی آیات، احادیث، اور بائبل کی آیات کےحوالے بھی ساتھ فراہم کردئیے ہیں ۔مزید براں ان مقامات کےسیٹلائٹ نقشے بھی پیش کردئیے ہیں ۔ تاکہ بعد میں مقامات کی سیاحت کرنے والے آسانی سے ان مقامات کوتلاش کرسکیں۔ مبشر نذیر صاحب کادو حصوں پر مشتمل یہ سفرنامہ علومِ قرآنی کے شائقین اور محققین کے لیے ایک گنجینہ علم ہے۔ اس میں سرزمینِ انبیائے کرام کی تفصیل، اقوامِ قدیمہ کی سرگزشت اور ان کے مساکن کے آثار وغیرہ کا تعارف کرایا گیا ہے۔(م۔ا)

  • عبد الحلیم شرر

    عقائد نسفی  ابو حفص  عمر بن  محمد نسفی  حنفی ماتریدی  کی  تصنیف ہے ۔ اس کی متعدد شروحات لکھی جاچکی ہیں ۔ 'خیالی' اس کی معروف شرح ہے جس پر علامہ عبد الحکیم سیالکوٹی نے حاشیہ لکھا ہے۔علامہ تفتازانی نے بھی اس کی مفصل شرح لکھی  ہے۔ تفتازانی کی شرح پر کئی شرحیں لکھی گئیں ہیں۔ یہ کتاب مدارسِ عربیہ میں مقبول و متداول ہے۔ادیب عربی کےامتحان میں بطور نصاب شامل ہوجانے کے بعد اس کی درسی حیثیت میں قابل ِقدر اضافہ  ہوا تو جناب عبدالحلیم شرر  نے  عقائد نسفی کے متن کواردو میں پیش کیا  اور طلبہ کی سہولت کےلیے  اسے سوال وجواب کی  شکل دی گئی ۔نیز اس کے ساتھ ایک منظوم عقائد نامہ  بھی شامل کردیا گیا ہے  تاکہ طلباء کوپڑھنے اور یاد کرنے میں آسانی  رہے ۔( م۔ا)

  • علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے بھی  مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام القرآن "بھی اسی طرز بھی لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے معروف حنفی عالم علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی ﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  پورے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے احکام پر مبنی آیات کی خصوصی تفسیر قلم بند کی ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عبد القیوم صاحب نے حاصل کی ہے۔اردو ترجمے پر مبنی کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہیں، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • محمد علی جانباز

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی  سے  ہوا  او ر صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے     استفتادہ  عامۃ الناس  کےلیے  انتہائی دشوار  ہے ۔عامۃ الناس  کی ضرورت کے پیش  نظر کئی اہل علم  نے  مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں  جن میں ایک  100 احادیث پر مشتمل  ایک  مجموعہ  عارف با اللہ  مولانا سید محمد داؤد غزنوی  ﷫ نے   نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘  کے  نام سے مرتب کیا جس میں  عبادات معاملات ،اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل  رااہنمائی موجود ہے۔ نخبۃ  الاحادیث ایک ایسی کتاب ہے کہ جس نے علماء کرام پیدا کرنےکے لیے  بنیاد میں رکھی جانے والی اینٹ کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے  جس کومدرسہ میں داخل ہونےوالا طالب علم سب سے پہلے  حفظ کرتا ہے۔ یعنی ایک طالب حدیث کی علم  حدیث کی ابتداء اسی کتاب سےہوتی ہےموصوف کے کمال حسنِ انتخاب کی وجہ سے یہ کتاب اکثر دینی مدارس کے نصاب  میں شامل  ہے۔اس کی افادیت واثرپذیری کومحسوس کرتے ہوئے شارح ابن ماجہ مولانا محمد علی جانباز﷫ نے زیر تبصرہ  دلپذیر شرح لکھی ہے ۔ اس شرح کے بعد یہ کتاب جہاں اساتذہ وطلباء کے لیے مزید مفید ہوگئی ہے وہاں ہی یہ عام لوگوں کےلیے ایک ایسی روشن شمع بن گئی  ہے کہ جس کی روشنی میں وہ اندھیروں سےروشنیوں کی طرف سفر کی شروعات کرسکتے ہیں ۔ اگرچہ یہ کتاب چھوٹی ہےمگر اس میں مولانا نےاس کی شرح کرتے ہوئے انداز بڑی حدیث کی کتب جیسا رکھا ہے یعنی  کوزے  میں دریا بند کردیا ہے اور راوی الحدیث پر بھی علیحدہ بحث کی ہے ۔حدیث کےترجمہ کے بعد حدیث کی شرح صحاح ستہ کے علاوہ دیگر کتب حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے بیان کی ہے ۔ کتاب کے متن میں آنے  والی احادیث کی تخریج بھی شامل کردی گئی ہے تاکہ اصل مراجع تک آسانی  سے رسائی ممکن ہو اور دیگر کتب حدیث  میں  تلاش کر کے  تحقیق کے کام کوآگے  بڑھایا جاسکے ۔ اللہ تعالیٰ    مولاناداؤد غزنوی ﷫ ، مولانا محمد علی جانباز ﷫ کو جنت میں اعلی مقام عطافرمائے  اورناشرین  کو  اجر عظیم  سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

  • عادل سہیل ظفر

    نبی کریم ﷺ پر درود وسلام بھیجنا ایک مقبول ترین عمل ہے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے، اس نسبت سے یہ جہاں شان مصطفوی ﷺ کے بے مثل ہونے کی دلیل ہے، وہاں اس عمل خاص کی فضیلت بھی حسین پیرائے میں اجاگر ہوتی ہے کہ یہ وہ مقدس عمل ہے جو ہمیشہ کے لئے لازوال، لافانی اور تغیر کے اثرات سے محفوظ ہے۔کیونکہ نہ خدا کی ذات کے لئے فنا ہے نہ آپﷺ پر درود و سلام کی انتہا۔ اللہ تعالی نہ صرف خود اپنے حبیب مکرم ﷺ پردرود و سلام بھیجتا ہے بلکہ اس نے فرشتوں اور اہل ایمان کو بھی پابند فرما دیا ہے کہ سب میرے محبوب پر درود و سلام بھیجیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "بیشک اللہ اور ا س کے فرشتے نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے رہتے ہیں،اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔اسی طرح مستند احادیث سے درود و سلام کے فضائل ثابت ہیں۔ لیکن درود وہ پڑھنا چاہئے جو خود نبی کریم ﷺ نے سکھلایا ہے۔آج کل لوگوں نے بے شمار نام نہاد درود بنا لئے ہیں ، جن کا شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ " رسول اللہ ﷺ پر صلاۃ وسلام ، معنی ومفہوم، صحیح اور ضعیف فضائل، عقائد، اعمال اور مسائل" محترم عادل سہیل ظفر صاحب کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے صلاۃ وسلام کے معنی ومفہوم اور اس کے بارے میں صحیح اور ضعیف فضائل، عقائد اور اعمال کو ایک جگہ فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • چودھری رحمت علی

    دنیا میں پیدا ہونے والا ہر فرد اللہ تعالی کا خلیفہ یا دوسرے لفظوں میں اس کے دئیے ہوئے اختیارات کو ایک مدت تک استعمال کرنے پر قادر ہے۔البتہ کاروبار حیات چلانے کے لئے ہر شخص اپنی اپنی خلافت کا ایک اس شخصیت میں مرتکز کرنے کا پابند ہے جسے اسلام کی زبان میں خلیفۃ المسلمین کہا جاتا ہے،اور جو اس نظام کا سربراہ ہوتا ہے جس نظام کو اللہ تعالی اس دنیا میں برپا اور رواں دواں دیکھنا چاہتے ہیں۔اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے،یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاست“ کی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا۔ زیر تبصرہ کتاب" خلافت ہمارے جملہ مسائل کا حل"محترم جناب چودھری رحمت علی صاحب کی تصنیف ہے۔مولف نے اپنی اس کتاب میں اسلامی نظام خلافت  کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • محمد بن اسماعیل بخاری

    امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِسیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ؁، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ ان کے علمی کارناموںم میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم   کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے  سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا۔ امام بخاری ﷫ کی صحیح بخاری کے علاوہ بھی متعد د تصانیف ہیں۔ اسلامی آاداب واطوار کے موضوع پر امام بخاری نے ایک مستقل کتاب مرتب فرمائی ہے۔ جو ’’الادب المفرد‘‘ کے نام سےمعروف ومشہور ہے۔ اس میں تفصیل کے ساتھ ان احادیث کو پیش فرمایا ہے جن سے ایک اسلامی شخصیت نمایاں ہوتی ہے۔ ایک مسلمان کے شب وروز کیسے گزرتے ہیں وہ اپنے قریبی اعزہ وقارب کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے دوست واحباب اور پاس پڑوس کے تعلق سے اس کا کیا برتاؤ ہوتا ہے ۔ ذاتی اعتبار سےاسے کس مضبوط کردار اور اخلاق کا حامل ہوتا چاہیے۔ان جیسے بیسیوں موضوعات پر امام بخاری نے اس کتاب میں احادیث جمع فرمائی ہیں ۔ اس کتاب میں ابواب کی کل تعداد 644 اور مرفوع وموقوف روایات کی تعداد1322 ہے ۔اس کتاب پر محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی﷫ نے علمی وتحقیقی کام کر کے اس کی افادیت دوچند فرمادی ہے ۔اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر بعض اہل علم نے اس کی شروح وحواشی کا کام بھی کیا ہے۔اور اسی طرح اس کےمتعدد ترجمے بھی کیے گئےہیں ۔ سب سے پہلے نواب صدیق حسن خاں قنوجی ﷫ نے’’ توفیق الباری ‘‘ اور مولانا عبدالغفار المہدانوی ﷫نے’’سلیقہ‘‘ اور مولانا عبد القدوس ہاشمی ﷫ نے’’ کتاب زندگی ‘‘ کےنام سے اس کا ترجمہ کیا ۔ زیرتبصرہ ترجمہ ادب المفرد کا چوتھا محترم مولانا ارشد کمال﷾نے کیا ہے۔ مولاناموصوف ایک منجھے ہوئے صاحب علم نوجوان ہیں جن کے قلم سے کئی مفید کتابیں عالم ِ وجود میں آئی ہیں او راللہ تعالیٰ نے انہیں شرفِ قبولیت سے نوازا ہے ۔مولانا ارشد کمال ﷾ نے ’’الادب المفرد‘‘ کا ترجمہ ہی نہیں اس کی احادیث کی مختصر تخریج بھی کی ہے اور شیخ البانی ﷫ نے احادیث پر جو حکم لگایا ہے اسے بھی ترجمہ کا حصہ بنایا ہے۔ یوں ترجمہ کی افادیت سہ چند ہوگئی ہے۔ اور شیخ الحدیث حافظ عبدالستار الحماد﷾کی نظرثانی سے اس ترجمہ کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔مکتبہ اسلامیہ کےمدیر جناب مولانا محمد سرور عاصم﷾ نے اسے طباعت کے اعلیٰ معیار پر شائع کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذا کے مصنف ،مترجم ، اورناشر کی خدمت حدیث کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین( م۔ا)

  • ابو الکلام آزاد

    دنیا کے بہت سے الفاظ اور اصطلاحات کی طرح "آزادی " کا مفہوم بھی اسلامی لغت میں اس مفہوم سے بہت مختلف ہے جو دنیا کی دوسری قومیں اس لفظ سے سمجھتی ہیں۔مسلمانوں کے نزدیک آزادی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا ہر اطاعت اور بندگی سے آزاد ہو جائے۔یہاں تک کہ خود اپنے نفس،اپنی خواہشات اور اپنی قوم کی حاکمیت کا کوئی پھندا بھی اس کی  گردن میں باقی نہ رہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام میں آزادی کا تصور "دراصل مولانا ابو الکلام آزاد﷫ کے ان مقالات کا مجموعہ ہے جو "الہلال" میں دور اول میں شائع ہوتے رہے۔آپ نے اس کتاب میں اسلام کے تصور آزادی کے بارے میں بحث کی ہے۔آپ کے نزدیک قوم کے نظام اخلاق ونظام عمل کے لئے  اس سے زیادہ کوئی خطرناک امر نہیں کہ موت کا خوف،شدائد کا ڈر،عزت کا پاس،تعلقات کے قیود اور سب سے آخر قوت کا جلال وجبروت ،افراد کے افکار وآراء کو مقید کر دے۔ان کا آئینہ ظاہر ،باطن کا عکس نہ ہو۔ان کا قول انکے اعتقاد قلب کا عنوان نہ ہو،اور ان کی زبان ان کے دل کی سفیر نہ ہو۔آپ کے نزدیک اخلاق کی جان حریت رائے،استقلال فکر اور آزادی قوم ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • حامد انصاری غازی

    اسلام کا نظام ِ حکومت سیاسی دنیا کےلیے ناموسِ اکبر ہے حاکمیت کی جان ہے ۔ اسلامی نظام حکومت کا مآخذ اللہ کاآخری قانون ہے۔تمام برائیوں کا خاتمہ کرتاہے اور تمام بھلائیوں کاح کم دیتا ہے جو انسان ِ کامل کو اللہ تعالیٰ کا نائب بناتا ہے۔ اوراسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ ماوردی کہتے ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔ اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا اور کا اسی کانتیجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنی حکومت کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں جس طرح اخلاق اور حسنِ کردار کی تعلیمات موجود ہیں۔اسی طرح معاشرت،تمدن اور حکومت کے بارے میں واضح احکامات بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام کا نظام حکومت‘‘مولانا حامد الانصاری غازی کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اسلام کی ریاستِ عامہ کا مکمل دستورِ اساسی اور ضابطۂ حکومت جس میں اسلام کےنظامِ حکومت کے تمام شعبوں ،اس کےنظریہ سیاست وسیادت کے تمام گوشوں ، ریاست ومملکت اور اس کےمتعلقات اور عام دستوری معلومات کو وقت کی نکھری ہوئی زبان اورجدید تقاضوں کی روشنی میں نہایت تفصیل سے واضح کیاگیا ہے۔( م۔ا) 

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39760454

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں