دکھائیں کتب
  • 1 اسلام اور عصر جدید (منگل 31 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:2127

    آج روئے زمین پر واحد دین اسلام ہے جو اپنی اصل حالت میں باقی ہے جس کی تعلیمات زندہ ہیں جس کے مآخذ دستیاب ہیں اور جس کے پاس نبی کریم محمد رسول اللہ جیسی ہستی نمونہ عمل کے لیے ہے ۔ انسانی اذہان کے پیدا شدہ افکار ونظریات دم توڑ چکے ہیں اور اب آنے والا دور اسلام کا دور ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا فیصلہ آنے والی تاریخ کرے گی۔یورپ اور امریکا جیسی مادیت پرست دنیا میں اسلام کی روز افزوں ترقی اس کا واضح ثبوت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام اور عصر جدید‘‘ کی جناب محمد تنزیل الصدیقی الحسینی کے اسلام اور عصر جدید کے متعلق تحریر گئے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو وقتاً وقتاً مختلف رسائل میں اشاعت پذیر ہوئے۔ان مضامین میں انہوں نے مسلمانوں کی توجہ عہد جدید کی روشن حقیقتوں کی طرف مبذول کروائی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام انسانوں کا واحد دین ، نبی کریم ﷺ انسانی زندگی کےواحد رہبر اور قرآن انسانی ہدایت کی کامل کتاب ہے ۔اسلام ایک عالمگیر دین ہے یہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے فریضہ ہے کہ وہ گمراہ انسانیت کو ان کی دولت بے پایاں اور متاع گم گشتہ سےآگاہ کریں۔(م۔ا)

  • جب ہم دنیا کے موجودہ معاشی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تہذیبی منظرنامہ پر نظر ڈالتے اور پھر پیچھے مڑ کر اپنے ماضی کی تاریخ میں جھانکتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُسلوبِ حیات میں غیر معمولی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ ایسے تغیرات مسلسل رونما ہورہے ہیں جن کا قبل ازیں تصور بھی نہیں کیاجاسکتا تھا۔ ابلاغِ عامہ اور ترسیل معلومات کے ایسے ایسے ذرائع اور وسائل ایجاد ہو رہے ہیں جن سے ہماری گذشتہ نسلوں کو سابقہ پیش نہیں آیا۔امت مسلمہ آج سے ایک سو سال قبل جس نو آبادیاتی نظام میں جکڑی،بے بسی اور بے چارگی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے  باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔عالم کفر کی اس منہ زور یلغار کے سامنے بند باندھنے کی کوئی حکمت ِ عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہم خود اسی تکنیکی مہارت سے آراستہ ہو کر اپنی تہذیب و ثقافت کے توانا پہلوؤں کو دنیا کے سامنے نہیں لاتے۔ محض وعظ و تلقین یا غیر حقیقت پسندانہ دفاعی حربوں کے ذریعے اس یلغار کو روکنا ممکن نہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن و سنت کی تعلیمات، اسلام کے انسانیت نواز پیغام اور اپنی روشن تہذیبی اَقدار کو پوری قوت اور خود اعتماد ی کے ساتھ دنیا پر آشکارا کریں۔ زیرتبصرہ کتاب " امت مسلمہ کے موجودہ مسائل اور ان کا حل،سیرت طیبہ کی روشنی میں "پاکستان کے معروف عالم دین اور دانشور محترم ڈاکٹر صہیب حسن کی تصنیف ہے،جو درحقیقت ایک علمی مقالہ ہے جو  انہوں نے بہاولپوراسلامک یونیورسٹی  میں پیش کر...

  • جدید دور اگر ایک طرف سائنس اور ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز بلکہ ہوش رب ترقیوں سے عبارت ہے تو دوسری طرف ذہنی نراج اور جذباتی بے اطمینانی سے۔ مادی ترقیوں نے انسان کی روحانی تسکین کے سامان بہم نہیں پہنچائے ہیں، بلکہ اسے ایک نئے خلفشار سے دو چار کر دیا ہے۔ ہماری دنیا ایک گلوبل ویلیج تو بن گئی ہے لیکن اس کا ہر گھر‘ بلکہ ہر فرد بجائے خود ایک دنیا بنتا جا رہا ہے۔ انسانی رشتے معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ محض مادی مفادات کے رشتے رہ گئے ہیں۔یہ تمام انسانوں کے لیے عام طورپر اور مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں اس بحران کا جائزہ لیا گیا ہے اور مختلف مکاتیب فکر کی آراء اجمالا پیش کرنے کے بعد فاضل مصنفہ نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے جو اسلام کی آفاقی اقدار پر مبنی ہے۔ یہ کتاب پیش پا افتادہ مسائل سے متعلق اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے اور قارئین کے لیے ایک خاصے کی چیز ہے اور مصنفہ نے ایسے مضامین پر قلم اُٹھایا ہے جن سے اردو دان قارئین کم واقف ہیں یا ناواقف ہیں اور اس کتاب میں جدیدیت جیسے اہم مضمون کی تفصیلی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ تہذیب کے اس پار ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر عارفہ فرید کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتی ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفہ وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمی...

  • 4 عالم اسلام پر امریکی یلغاریں کیوں (اتوار 04 فروری 2018ء)

    مشاہدات:878

    مغربی دنیا اب تک مختلف ذرائع سے سیاسی، سماجی ، فوجی اور اقتصادی سطح پر مسلمانوں پر حاوی رہی ہے۔ لیکن ایک طرف مسلمانوں میں بیداری پیدا ہونے کے بعد انھیں یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ اگر عالم اسلام کو کچھ لائق اور ژرف نگاہ قائد میسر آگئے اور انھوں نے اپنی بکھری قوتوں کا استعمال کر نا سیکھ لیا تو وہ دن دور نہیں جب کہ مغرب کی قیادت کا طلسم چکناچور ہوکر بکھر جائے گا اور عالم اسلام قیادت و جہاں بانی کی نئی بلندیاں طے کرتا ہوا نظر آئے گا۔دوسری طرف اہل مغرب کو خود اپنے ملکوں میں پیر تلے زمین کھسکتی نظر آرہی ہے، مسلمان پورے اسلامی تشخص اور تہذیبی شناخت کے ساتھ ہر میدان میں پورے یورپ و امریکہ میں اپنا وجود تسلیم کرا رہے ہیں۔ جب کہ اسلام نے انسانیت کو عزت دی، مقامِ ممتاز پر فائز کیا، علم، اخلاق، کردار، حیا، تہذیب، شرم و مروت اور امن و عافیت کے جوہر سے آشنا کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انسانیت کی برہم زلفیں سنور گئیں۔ نصیبہ جاگ اٹھا، غیر انسانی رویوں کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ خیالات کی وادیاں گل زار ہوئیں۔اسلام نے انسان کو انسان بنایا۔ اس کی فکر کی اصلاح کی، عقیدہ وعمل میں سدھار پیدا کیا اور اسے بے راہ رو ہونے سے بچایا۔ جب کہ ادیانِ باطلہ اور تمدنِ جدید کے پجاریوں نے دنیا کو تباہی و بربادی سے دوچار کیا۔ انسانیت کی قبا تار تار کی۔

    زیر تبصرہ کتاب ’’ عالم اسلام پر امریکی یلغار کیوں؟‘‘ ایک عیسائی مصنفہ گریس ہال سیل (امریکی صدرکی تقریر نویس)کے قلم سے متعدد متعصب عیسائی اور یہودی شخصیات سے ملاقات اور اسرائیل کا دو مرتبہ دورہ...

  • 5 مارکسزم کیا ہے ؟ (ہفتہ 18 اگست 2018ء)

    مشاہدات:676

    سا ئنسی اشتراکیت مارکسیت کے بانی کارل مارکس 5 مئی 1818ء میں جرمنی کے شہر ترئیر صوبہ رائن پروشیا میں ایک قانون دان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ مارکس کا مقام پیدائش صوبہ رائن صنعتی طور پر بہت ترقی یافتہ تھا۔1830ء سے 1835ء تک مارکس نے ترئیر کے جمناسٹکاسکول میں تعلیم حاصل کی۔ جس مضمون پر اُن کو بی اے کی ڈ گری دی گئی اُس کا عنوان تھا ’’پیشہ اختیار کرنے کے متعلق ایک نوجوان کے تصورات‘‘مارکس کے سائنسی اور سیاسی نظریات نما یاں طور پر اُس وقت متشکل ہو ئے جب جرمنی اور دوسرے یورپی ملکوں میں عظیم تاریخی واقعات کی زمین ہموار ہو رہی تھی۔مارکس کی معاشی اور سماجی مسائل سے بھرپور لگن نہ صرف جرمنی کے عوام کی تکلیف دہ بد حالی اور محرومی دیکھ کر جاگی تھی بلکہ نہایت ترقی یافتہ سر مائے دار ملکوں،برطانیہ اور فرانس کے حالات و واقعات سے بھی ابھری تھی۔مارکس نے صر ف مادیت کو سما جی مظاہر تک پھیلایا بلکہ اس نے مادیت کے نقطۂ نظر کو مزید ترقی دی۔ جو اس کے پہلے میکانکی اور ما بعد الطبیعاتی نوعیت رکھتی تھی ۔مارکس نے اپنے فلسفے کی بنیاد سائنس اور خصوصاً قدرتی سائنس کے مجموعی مواد پر رکھی۔ اس نے ہیگل کی جدلیات کو مادیت کے ساتھ ملاکر ایک اکائی بنائی اور دنیا کو ایک کُلیت کی صورت میں نئی تشکیل دینے کی کو شش کی۔ زیر کتابچہ ’’مارکسزم کیا ہے ؟‘‘ ایمل برنس کے انگریزی کتاب کاترجمہ ہے جناب محمد کلیم اللہ نے اس  کو اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ اس کتاب میں  سا ئنسی اشتراکیت مارکسیت کے بانی کارل مارکس کے   سائنسی افکا ر و نظریات کو مختصراً پیش کیا  گی ہے ۔(م...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 508
  • اس ہفتے کے قارئین: 4091
  • اس ماہ کے قارئین: 21047
  • کل مشاہدات: 42397492

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں