کل کتب 23

دکھائیں
کتب
  • 1 #5956

    مصنف : محمد ایوب سپرا

    مشاہدات : 2977

    ائمہ اربعہ؛ سیرت، عقائد اور فقہی خدمات

    (جمعہ 06 اکتوبر 2017ء) ناشر : مکتبہ سبل السلام، کراچی

    دین اسلام‘ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا ہے‘ جو کتاب وسنت کی تکمیل سے مکمل ہو چکا ہے۔دین اسلام کے تمام احکام مکمل‘ نمایاں اور واضح ہیں۔ اپنے تمام مسائل کا حل بھی انہی میں تلاش کرنا چاہیے۔اور اللہ عزوجل نے ہمیں یہ اصول بتلایا ہے کہ رسول اللہﷺ جس کام کو کرنے کا حکم دیں‘ اس پر عمل پیرا ہونا ہے اور جس کام سے روک دیں‘ اس سے باز رہنا ہے اور اسی عمل کا نام دین پر چلنا ہے۔بنا بریں صحابۂ کرامؓ اسی سنہری اصول کے مطابق زندگی بسر کرتے رہے۔خلفائے راشدین کے دور (632ء۔661ء) تک فتاویٰ کا کوئی ایسا مجموعہ تیار نہیں ہوا تھا جس کی پیروی کی جاتی۔ اسلامی ریاست کے پھیلاؤ کے بعد صحابہ بھی دور دراز علاقوں میں جا کر آباد ہوتے چلے گئے تاہم صحابہؓ کو تمام مسائل زندگی یاد تھے۔ اور اپنے مسائل کا حل قرآن وحدیث سے لیتے اور اگر وقتی طور پر قرآن وحدیث میں مسئلہ نہ ملتا تو حالات کے مطابق اجتہاد کرتے اور مسئلے کا حل نکالتے مگر وہ اصول نا ہوتا تھا۔پھر ائمہ دین قرآن وحدیث سے مسائل استنباط کرنے کی طرف راغب ہوئے اور انہوں نے مستقل اصول وضع کرتے ہوئے امت کی رہنمائی فرمائی۔ ان ائمہ دین میں سے چار ائمہ زیادہ معروف ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب انہی ائمہ کے حالات زندگی‘ تعلیم وتربیت‘ علمی‘ تصنیفی اور فقہی کاوشوں پر مشتمل ہے۔ ان ائمہ دین کے نام پر تعصب کی جو فضا قائم کی گئی ہے اس سے لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے ‘ نیزتقلید اور پھر تقلید جامد کے نقصانات سے بھی لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اور اس کتاب میں فقہ کی تعریف‘موضوع‘ فقہ کے مآخذ اور فقہ اسلامی کی تاریخ کاذکر ہےاور فقہاء کے اختلاف کےلغوی اسباب بھی مذکور ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب ’محمد ایوب سپرا‘‘ کی تحقیقی اور مختصر مگر جامع تصنیف ہے۔اورتحریرو تصنیف کے میدان میں اچھا نام رکھتے ہیں ‘کئی کتب کے مصنف بھی ہیں مثلا اسماء الحسنی‘ کتاب الصلاۃ‘ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ اور یا ایہا الناس(اے بنی نوع انسان) وغیرہ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)

  • 2 #4774

    مصنف : موسیو ریناں

    مشاہدات : 4417

    ابن رشد و فلسفہ ابن رشد

    (منگل 04 اکتوبر 2016ء) ناشر : تخلیقات، لاہور

    ابن رشد کا پورا نام"ابو الولید محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رشد القرطبی الاندلسی" ہے۔آپ  520 ہجری کو پیدا ہوئے۔آپ نے فلسفہ اور طبی علوم میں شہرت پائی۔آپ نہ صرف فلسفی اور طبیب تھے بلکہ قاضی القضاہ اور کمال کے محدث بھی تھے۔نحو اور لغت پر بھی دسترس رکھتے تھے ساتھ ہی متنبی اور حبیب کے شعر کے حافظ بھی تھے۔ آپ انتہائی با ادب، زبان کے میٹھے، راسخ العقیدہ اور حجت کے قوی شخص تھے۔آپ جس مجلس میں بھی شرکت کرتے تھے ان کے ماتھے پر وضو کے پانی کے آثار ہوتے تھے۔ان سے پہلے ان کے والد اور دادا قرطبہ کے قاضی رہ چکے تھے۔ انہیں قرطبہ سے بہت محبت تھی۔ ابنِ رشد نے عرب عقلیت پر بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں، اور یہ یقیناً ان کی اتاہ محنت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی تلاش اور صفحات سیاہ کرنے میں گزاری۔ ان کے ہم عصر گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں سوائے دو راتوں کے کبھی بھی پڑھنا نہیں چھوڑا۔ پہلی رات وہ تھی جب ان کے والد کا انتقال ہوا، اور دوسری رات جب ان کی شادی ہوئی۔انہیں شہرت کی کبھی طلب نہیں رہی، وہ علم ومعرفت کے ذریعے کمالِ انسانی پر یقین رکھتے تھے، ان کے ہاں انسان نامی بولنے اور سمجھنے والی مخلوق کی پہچان اس کی ثقافتی اور علمی ما حاصل پر ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" ابن رشد وفلسفہ ابن رشد "موسیو رینان کی انگریزی تصنیف ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم  مولوی معشوق حسین خان(علیگ)نے کیا ہے۔اس کتاب میں مصنف نے ابن رشد اور اس کے فلسفے پر روشنی ڈالی ہے اور پھر ابن رشد کے فلسفے کی چند درسگاہوں کا تذکرہ کیا ہے۔(راسخ)

  • 3 #5619

    مصنف : ڈاکٹر غلام جیلانی برق

    مشاہدات : 1922

    امام ابن تیمیہ (غلام جیلانی برق)

    (منگل 29 اگست 2017ء) ناشر : الفیصل ناشران وتاجران کتب، لاہور

    مسلمانوں کا قدیم علمی ورثہ ایک ایسا بحرِ زخّار ہے جس میں ایک سے ایک بڑھ کر سچے موتی موجود ہیں لیکن جوں جوں ہم قدیم سے جدید زمانے کی طرف بڑھتے ہیں یہ موتی نایاب ہوتے جاتے ہیں لیکن ان جواہرات میں سے ایک جوہر ایسا بھی مل جاتا ہے جو یکبارگی ساری محرومیوں کا ازالہ کردیتا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کی جامع الصفات شخصیت بلا شبہ ملت اسلامیہ کے لیے سرمایہ صد افتخار ہے۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اسلامی تعلیمات کو خالص کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی بنیاد پر پیش کیا اور اس ضمن میں وہ تمام آلودگیاں جو یونانی افکار و خیالات کے زیر اثر اسلامی تعلیمات میں راہ پا رہی تھیں یا عجمی مذہبیت کی حامل وہ صوفیانہ تعبیرات جو نیکی اور تقدس کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھیں امامؒ نے ان سب کی تردید کی۔ ان کی حقیقت کو بے نقاب کیا اور ان کے برے اثرات سے عالم اسلام کو بچانے کے لیے عمر بھر سیف و قلم سے جہاد کرتے رہے۔ امام ابن تیمیہؒ پانچ سو(500) کے مصنف، مجتہد اور تاریخ اسلام کی انقلاب آفرین شخصیت تھے۔ زیر نظر کتاب"امام ابن تیمیہؒ" جو کہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تصنیف ہے۔ جس میں امام موصوف ہی کے مختصر سوانح حیات، اساتذہ، تصانیف اور زندگی کے تمام ضروری گوشوں کو ناظرین کے سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ امام ابن تیمیہؒ کو غریق رحمت کرے اور ان کی لحد مبارک پر رحمت کی برکھا برسائے اور اس مصنف ہذا کو بھی اللہ رب العزت اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 4 #4964

    مصنف : محمد یوسف کوکن عمری

    مشاہدات : 2339

    امام ابن تیمیہ (یوسف کوکن)

    (ہفتہ 03 دسمبر 2016ء) ناشر : نعمان پبلیکشنز

    شیخ الاسلام و المسلمین امام ابن تیمیہ(661۔728ھ) کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے، آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی، آپ نے جس طر ح اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا۔ او رباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعد رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب و تاب سے موجود ہیں۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت، کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسرکی۔ امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔ آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر و قیمت کا صحیح تعین کیا۔ آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے۔ امام ابن تیمیہ کی حیات و خدمات کےحوالے سے عربی زبان میں کئی کتب اور یونیورسٹیوں میں ایم فل، پی ایچ ڈی کے مقالہ جات لکھے جاچکے ہیں۔ اردو زبان میں امام صاحب کے حوالے سے کئی کتب اور رسائل و جرائد میں سیکڑوں مضامین و مقالات شائع ہوچکے ہیں۔ چند کتب قابل ذکر ہیں۔ ابو زہرہ کی کتاب جس کاعربی سے اردو میں ترجمہ رئیس احمد جعفری ندوی نے کیاہے حضرت امام پر تحقیق کا حق ادا رکردیا۔ مولانا ابو الحسن ندوی﷫ نے اپنی مشہور تصنیف ’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ کی جلد دوم امام ابن تیمیہ کے لیے وقف کردی اورڈاکٹر غلام جیلانی برق نے ان پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’امام ابن تیمیہ‘‘ علامہ محمد یوسف کوکن عمری کی تصنیف ہے جسے انہوں نے 1937ء میں علامہ سید سلیمان ندوی﷫ کی خواہش پر لکھنا شروع کیا لیکن جلداس کام کو مکمل نہ کرسکے بالآخر 1960ء میں اس کو مکمل کرکے شائع کیا۔ موصوف نے اس کتاب کو اس طرح مرتب کیا ہے کہ علامہ ابن تیمیہ﷫ کی زندگی کے اہم واقعات کے ساتھ ساتھ ان کے اہم اختلافی مسائل کاپس منظر بھی اچھی طرح قارئین کی سمجھ میں آجائے۔ اس کتاب میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ک حالات او ران کے کارناموں کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔ یہ کتاب اس موضوع پر لکھی جانے والی دیگرکتب میں نمایاں او رممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ موجودہ ایڈیشن اس کتاب کا جدید ایڈیشن ہے جسے نعمان پبلی کیشنز، لاہور نے تخریج کےساتھ 2014ء میں شائع کیا ہے تخریج کا کام کرنے کی ذمہ داری جناب ابو احمد عمردراز خان نے انجام ہے۔ (م۔ا)

  • 5 #936

    مصنف : عبد الرشید عراقی

    مشاہدات : 17287

    امام ابن تیمیہ اور ان کے تلامذہ

    (اتوار 07 اگست 2011ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ساتویں صدی ہجری  کی عظیم شخصیت تھے،جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔مختلف گوشوں میں آپ کی تجدیدی واصلاحی خدمات آب زر سے لکھے جانے  کے لائق ہیں ۔امام ابن تیمیہ صرف صاحب قلم عالم ہی نہ تھے ،صاحب سیف مجاہدبھی تھے ،آپ نے میدان جہاد میں بھی جرأت وشجاعت کے جو ہر دکھائے ۔آپ کی طرح آپ کے تلامذہ بھی اپنے عہد کے عظیم عالم تھے ۔جناب عبدالرشید عراقی صاحب نے زیر نظر کتاب میں امام ابن تیمیہ اور ان کے چار جلیل القدر تلامذہ امام  ابن کثیر،حافظ ابن قیم،حافظ عبدالہادی اور امام ذہبی کے حالات زندگی اور ان کے علمی کارناموں کا احوال بیان کیا ہے ،جو لائق مطالعہ ہے ۔(ط۔ا)

  • 6 #4262

    مصنف : ڈاکٹر غلام جیلانی برق

    مشاہدات : 2913

    امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ (غلام جیلانی برق)

    (جمعرات 25 فروری 2016ء) ناشر : ادارہ مطبوعات سلیمانی لاہور

    مسلمانوں کا قدیم علمی ورثہ ایک ایسا بحرِ زخّار ہے جس میں ایک سے ایک بڑھ کر سچے موتی موجود ہیں لیکن جوں جوں ہم قدیم سے جدید زمانے کی طرف بڑھتے ہیں یہ موتی نایاب ہوتے جاتے ہیں لیکن ان جواہرات میں سے ایک جوہر ایسا بھی مل جاتا ہے جو یکبارگی ساری محرومیوں کا ازالہ کردیتا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کی جامع الصفات شخصیت بلا شبہ ملت اسلامیہ کے لیے سرمایہ صد افتخار ہے۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اسلامی تعلیمات کو خالص کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی بنیاد پر پیش کیا اور اس ضمن میں وہ تمام آلودگیاں جو یونانی افکار و خیالات کے زیر اثر اسلامی تعلیمات میں راہ پا رہی تھیں یا عجمی مذہبیت کی حامل وہ صوفیانہ تعبیرات جو نیکی اور تقدس کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھیں امامؒ نے ان سب کی تردید کی۔ ان کی حقیقت کو بے نقاب کیا اور ان کے برے اثرات سے عالم اسلام کو بچانے کے لیے عمر بھر سیف و قلم سے جہاد کرتے رہے۔ امام ابن تیمیہؒ پانچ سو (500) کے مصنف، مجتہد اور تاریخ اسلام کی انقلاب آفرین شخصیت تھے۔ زیر نظر کتاب"امام ابن تیمیہؒ" جو کہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تصنیف ہے۔ جس میں امام موصوف ہی کے مختصر سوانح حیات، اساتذہ، تصانیف اور زندگی کے تمام ضروری گوشوں کو ناظرین کے سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ امام ابن تیمیہؒ کو غریق رحمت کرے اور ان کی لحد مبارک پر رحمت کی برکھا برسائے اور اس مصنف ہذا کو بھی اللہ رب العزت اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (عمیر)

  • 7 #6517

    مصنف : عبد الرحمن ضیاء

    مشاہدات : 2243

    امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ بحیثیت ایک عظیم محدث

    (ہفتہ 19 مئی 2018ء) ناشر : سلفی ریسرچ انسٹیٹیوٹ قصور

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ(661۔728ھ) کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے جس طر ح اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعد رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسرکی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے۔امام ابن تیمیہ کی حیات وخدمات کےحوالے سے عربی زبان میں کئی کتب اور یونیورسٹیوں میں ایم فل ، پی ایچ ڈی کے مقالہ جات لکھے جاچکے ہیں ۔ اردو زبان میں امام صاحب کے حوالے سے کئی کتب اور رسائل وجرائد میں سیکڑوں مضامین ومقالات شائع ہوچکے ہیں ۔ چند کتب قابل ذکر ہیں ۔ابو زہرہ کی کتاب جس کاعربی سے اردو میں ترجمہ رئیس احمد جعفری ندوی نے کیاہے حضرت امام پر تحقیق کاحق ادا رکردیا۔ مولانا ابو الحسن ندوی﷫ نے اپنی مشہور تصنیف ’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ کی جلد دوم امام ابن تیمیہ کےلیے وقف کردی اورڈاکٹر غلام جیلانی برق نے ان پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی ۔زیر تبصرہ کتابچہ ’’ امام ابن تیمیہ بحیثیت ایک عظیم محدث ‘‘ اسی سلسلہ کی کڑی ہے یہ کتابچہ ’’ مولانا عبد الرحمٰن ضیاء﷾‘‘ شیخ الحدیث مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث ،جھنگ کا مرتب شدہ ہے ۔ مرتب موصوف نے اس مختصر کتابچہ میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ کے مختصر سوانح حیات پیش کرنے علاوہ مختلف ائمہ کرام کی نظر میں امام ابن تیمیہ کا مقام ومرتبہ، حدیث وعلوم حدیث کے متعلق  شیخ الاسلام ﷫ کے علمی موقف واسلوب کو بڑے مدلل اور جامع انداز میں پیش کیا ہے مرتب موصوف ماشاء اللہ بڑا علمی ذوق رکھتے ہیں آپ محدث العصر عبد المنان نور پوری ﷫ کے شاگرد خاص ہیں مختلف علمی موضو عات پر ان کی تحریریں جماعت کے علمی جرائد کی زینت بنتی رہتی ہیں ۔کئی سال تک آپ جامعہ ابن تیمیہ ،لاہور میں شیخ الحدیث کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں ان دنوں مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث ،جھنگ میں مصروف عمل ہیں ۔۔اللہ تعالیٰ مرتب موصوف کی تدریسی وتعلیمی ، تحقیقی وتصنیفی ،دعوتی وتبلیغی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے۔(آمین) (م۔ا)

  • 8 #5643

    مصنف : فیصل احمد ندوی بھٹکلی

    مشاہدات : 2321

    امام شافعی  کا علمی مقام

    (اتوار 23 جولائی 2017ء) ناشر : ادارہ احیائے علم و دعوت لکھنؤ

    اللہ تعالیٰ نے حدیث او رحاملین حدیث کو بڑی عزت فضیلت اور شرف سے نوازا ہے او رحدیث رسول ﷺ کی خدمت او رحفاظت کےلیے اپنے انہی بندوں کا انتخاب فرمایا جو اس کے چنیدہ وبرگزیدہ تھے ان عظیم المرتبت شخصیات میں بلند تر نام امام شافعی ﷫ کا ہے ۔امام شافعی 150ھ کو غزہ میں پیدا ہوئے۔اور204ھ کو مصرمیں فوت ہوئے ۔حضرت امام کی حدیث وفقہ پر خدمات اہل علم سے مخفی نہیں۔ امام شافعی اپنے زمانہ کے بہت بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ عربی زبان پر بڑی قدرت حاصل تھی۔ اور اعلیٰ درجہ کے انشاپرداز تھے۔ آپ کی دو کتب کتاب الام اور الرسالہ کو شہرت دوام حاصل ہوئی۔آپ کی تالیفات میں سے ایک کتاب مسند الشافعی بھی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’امام شافعی﷫ کا علمی مقام ‘‘دار العلوم ندوۃ العلماء کےزیر اہتمام نومبر 2014ء کو منعقد ہونے والے دو رزہ تربیتی پروگرام بعنوان’’ ائمہ اربعہ کی خدمات اور عصر حاضر کی مسائل کے حل میں ان کی آراء اور منہج استنباط کی اہمیت ‘‘ میں فیصل ندوی کی طرف سے’’ امام شافعی کے علمی مقام اور فقہی بصیرت‘‘ پرپیش کیے گئے مقالہ کی کتابی صورت ہے۔اولاً یہ مقالہ تیس چالیس صفحات پر مشتمل تھا ۔بعد ازاں اس مقالہ کی نظر ثانی اور اس میں مزید اضافہ کیاگیا جس سے تین صد سے زائد صفحات پر مشتمل اچھی خاصی کتاب تیار ہوگئی۔فاضل مرتب نےبڑے علمی انداز میں اس کتاب میں امام شافعی ﷫ کے علمی مقام کو واضح کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 9 #4273

    مصنف : پروفیسر نسیم اختر

    مشاہدات : 7728

    امام شوکانی اور تفسیر فتح القدیر

    (پیر 29 فروری 2016ء) ناشر : شیخ محمد اشرف لاہور

    امام شوکانی ﷫ 1350 صدی کے مجدد اور مصلح دین تھے۔آپ کی اصلاحی کوششیں کسی خاص علاقے تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں متعارف ہوئیں۔آپ نے کتاب وسنت اور عقیدہ توحید کو عوام تک پہنچانے کے لئے آخری دم تک اپنی کوششیں جاری رکھیں۔امام شوکانی ﷫ کا شمار یمن کے مشاہیر اور کبار علماء میں ہوتا ہے۔ آپ بے شمار کتب کے مصنف ومولف ہیں۔ آپ کا خاندان ایک علمی خاندان تھا اور آپ کے والد گرامی اپنے وقت کے ایک معروف عالم دین تھے۔ آپ نے متعدد اساتذہ کرام سے فیض حاصل کیا اور اپنے معاصرین پر فوقیت حاصل کر لی حتی کہ کبار شیوخ بھی آپ کے علمی مقام ومرتبے کے معترف ہو گئے۔آپ کے بے شمار تلامذہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" امام شوکانی اور تفسیر فتح القدیر " پروفیسر محترمہ نسیم اختر ایم۔ اےکی کاوش ہے، جو امام شوکانی ﷫ کی معروف تصنیف تفسیر فتح القدیر کے مصادر وماخذ پر مشتمل ہے۔ مولفہ نے اس کتاب میں فتح القدیر کے ماخذ اور ان کا تعارف قلم بند کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 10 #1827

    مصنف : ڈاکٹر محمد الدسوقی

    مشاہدات : 7102

    امام محمد بن حسن شیبانی اور ان کی فقہی خدمات

    (جمعہ 27 ستمبر 2013ء) ناشر : ادارہ تحقیقات اسلامی،اسلام آباد

    امام محمد بن حسن شیبانی صاحبین یعنی امام ابوحنیفہ کے دو جلیل القدر شاگردوں میں سے ایک ہیں جن سے ان کی فقہی روایت آگے بڑھی ہے ، ان کے دوسرے شاگرد امام ابویوسف ہیں ۔امام ابوحنیفہ کی جانب اگر چہ عقائد اور تعلیم و تعلم سے متعلق چند رسائل منسوب ہیں ،مگر حدیث و فقہ پر ان کی اپنی مرتبہ کوئی کتاب محفوظ نہیں، ان کے علمی تبحر اور تفقہ فی الدین کا حاصل ان کے شاگردوں اور بالخصوص صاحبین کی تالیفات میں ملتا ہے ۔ امام ابو یوسف کا تحریری کارنامہ کتاب الخراج اور الرد علی سیر الاوزاعی جیسی کتابوں تک محدود ہے ۔ اس کے برعکس امام محمد بن حسن شیبانی کی تالیفات فقہ و قانون کے سارے پہلووں کی جامع ہیں ، اور نہایت مفصل ہیں ۔ امام محمد بن حسن کے اس کارنامے کے سبب جملہ متاخر حنفی فقہاء ان کے خوشہ چین ہیں ۔ امام شیبانی ، اسلامی فقہی روایت سے قطع نظر بنی نوع انسان کی تاریخ قانون میں منفرد مقام کے حامل ہیں ۔ ان کی کتاب الاصل یا المبسوط کا مقابلہ اگر  رومن قانون کی شہرہ آفاق کتاب مجموعہ قوانین جشی نین سے کیا جائے تو امام شیبانی کی ژرف نگاہی اور دقت نظر کا قائل ہونا پڑتا ہے ۔ زیرنظر کتاب امام  صاحب کی زندگی کے مختلف پہلووں اور ان کی دینی خدمات پر مشتمل ہے ۔ اللہ مصنف کو اجر سے نوازے ۔ آمین۔(ع۔ح)
     

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1346
  • اس ہفتے کے قارئین 3272
  • اس ماہ کے قارئین 41666
  • کل قارئین49276771

موضوعاتی فہرست