دکھائیں کتب
  • 1 آئینہ پرویزیت (بدھ 14 جولائی 2010ء)

    مشاہدات:27997

    اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں میں یہ بات مسلم رہی ہے کہ حدیث نبوی قرآن کریم کی وہ تشریح اور تفسیر ہے جو صاحب ِقرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوئی ہے۔ قرآنی اصول واحکام کی تعمیل میں جاری ہونے والے آپ کے اقوال و افعال اور تقریرات کو حدیث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم ہماری راہنمائی اس طرف کرتا ہے کہ قرآنی اصول و احکام کی تفاصیل و جزئیات کا تعین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب ِرسالت میں شامل تھا اور قرآن و حدیث کا مجموعہ ہی اسلام کہلاتا ہے جو آپ نے امت کے سامنے پیش فرمایا ہے، لہٰذا قرآن کریم کی طرح حدیث ِنبوی بھی شرعاً حجت ہے جس سے آج تک کسی مسلمان نے انکار نہیں کیا۔ انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔دور ِجدید میں برصغیر پاک و ہند میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشارپیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی ک...

  • 2 القرآنیون (بدھ 06 فروری 2013ء)

    مشاہدات:103620

    ’القرآنیون‘ عربی زبان میں محترم جناب خادم حسین صاحب کی ایک بہترین کاوش ہے۔ موصوف جامعہ ام القریٰ طائف میں بطور استاذ خدمات سرانجام دے رہےہیں۔ پاکستان کے ضلع مظفر گڑھ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کتاب دراصل ان کا ایم۔ اے کا مقالہ ہے۔ کتاب کی ابتدا میں انھوں نے برصغیر پاک و ہند میں فرقہ اہل قرآن کےبانیوں کا تعارف کرایا ہے اور ساتھ ساتھ ان کے اساسی نظریات کو بیان کیا ہے، جیسے عبداللہ چکڑالوی، خواجہ احمد دین، سرسید احمد خان اور اسلم جیراجپوری اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا بھی تعارف کرایا ہے جو انکار حدیث کے نظریات کے قائل تھے یا کم ازکم متاثر ضرور تھے۔ اور آخر میں غلام احمد پرویز کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔ شیعہ، خوارج اور معتزلہ جوکہ قدیم منکرین حدیث میں شامل ہیں ان کا سنت کے متعلق نظریہ اور موقف کو بھی کتاب کا حصہ بنایا ہے۔ ماضی قریب سے لے کر موجودہ دور کے حکمرانوں کا کردار و نظریات بیان کیے ہیں جو جزوی طور پر یا کلی طور پر انکار حدیث کے افکار سے متاثر تھے۔ دوسرے باب میں منکرین حدیث کے استدلالات کے تارو پود بکھیر دئیے ہیں۔ اور ان کے دلائل کی کمزوریوں کو آشکارا کیا ہے۔ جزوی مسائل کے علاوہ کلی اصولوں پر بھی بحث کی گئی ہے۔ تیسرے باب میں اعتقادی مسائل کو ہدف بنایا گیا ہے اور منکرین حدیث کےموقف کا شافی رد کیا گیاہے۔ آخری باب میں منکرین حدیث کے نماز، زکوۃ، روزہ اور حدود شرعیہ سے متعلق نظریات کا جائزہ لیا گیا ہے اور ان کا شافی جواب دیا ہے۔ آخر میں وصیت وراثت کے مسائل کو بھی بالتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ عربی زبان سے شد بد رکھنے والے صاحبان علم کے لیے اس کا مطالعہ نہایت مفید رہے گا...

  • 3 امراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ (جمعرات 23 فروری 2012ء)

    مشاہدات:2113

    عداوتوں میں سے بد ترین عداوت وہ ہوتی ہے جو دوستی کے پیرائے میں اختیار کی جائے اور انسان کو پتہ ہی نہ چل پائے کہ اس لباس خلعت میں ملبوس شخصیت اس کی دوست نہیں بلکہ اس کی دشمن ہے۔انسان اپنے کھلے دشمن سے نقصان اٹھا سکتا ہے ،مگر دھوکہ نہیں کھا سکتا ہے۔لیکن دوستی کے لباس میں ملبوس دشمن سے انسان نقصان بھی اٹھاتا ہے اور دھوکہ بھی کھاتا ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ کا مصداق بننے والے  حافظ ابو خالد ابراہیم المدنی ہیں،جو اپنے خود ساختہ شہوت پرستانہ نظریات کے لئے بہت سی احادیث نبویہ کو تختہ ستم بنا بیٹھے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ قرآن مجید کو معیار اول قرار دیتے دیتے اسے اپنا ہتھیار بے بدل بھی بنا بیٹھے ہیں کہ جب چاہا جیسے چاہا اسے توڑ مروڑ کر مغربی تہذیب کا لبادہ اڑھا دیا۔زیر تبصرہ کتاب " امراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ " فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے نام نہاد سکالر  ابو خالد المدنی کی انکار حدیث پر مبنی  کتاب " امراۃ القرآن "کا علمی وتحقیقی رد کیا ہے ۔ابو خالد مدنی نے اپنی کتاب میں پردے کو جاہلانہ رسم قرار دیتے ہوئے اسے ملاؤں کی رسم قرار دیا ہے اور پردے سے متعلق احادیث نبویہ کا انکار کر دیا ہے۔چنانچہ فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾نے اس کی اس بدنام زمانہ کتاب کا ایک علمی وتحقیقی جواب دیا ہے،اور مستند دلائل کے ذریعے اس کا منہ بند کر دیا ہے۔اللہ تعالی فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر﷾ کی اس محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو اصلاح امت کا ذریعہ بنائے۔آمین...

  • 4 انکار حدیث حق یا باطل؟ (منگل 04 نومبر 2008ء)

    مشاہدات:21641

    منکرین حدیث کے تمام بنیادی شبہات کے دو ٹوک جواب پر مشتمل علمی و تحقیقی کتاب ہے۔ جس میں منکرین حدیث کی طرف سے پیش کئے جانے والے نام نہاد دلائل اور احادیث پر اعتراضات کا محکم براہین کی روشنی میں بھرپور جائزہ لیا گیا ہے۔ فتنہ انکار حدیث کے جائزے پر مشتمل اس کتاب میں ظنیات کی بحث، انکار حدیث کے اصولی دلائل، حجیت و کتابت حدیث، احادیث کے متفرق و متضاد ہونے کی حقیقت، اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور منصب رسالت کی حیثیت، نماز پنجگانہ اور منکرین حدیث، عذاب قبر اور ثواب قبر جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔

  • 5 آئینہ غامدیت ۔ ۔تعارف اور نظریات کی ایک جھلک (جمعہ 17 اپریل 2009ء)

    مشاہدات:16926

    دور حاضر کے فتنوں میں ایک بڑا فتنہ منکرین حدیث کا ہے۔ مغرب کی چکا چوند سے متاثر ، وضع قطع میں اسلامی شعائر سے عاری، نام نہاد روشن خیالی کے سپورٹر، دینی اصولوں میں جدت و ارتقاء کے نام پر تحریف کے قائل و فاعل ، دینی احکام کی عملی تعبیر کو انتہا پسندی اور  دقیانوسیت قرار دینے والے، قرآن مجید کی آڑ میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تاویل و تحریف کے ساتھ استہزاء کرنے والے اس گروہ کے دور حاضر کے لیڈر جناب جاوید احمد غامدی صاحب ہیں۔ جو میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے باطل افکار و نظریات کو خوب پھیلا رہے ہیں۔ جن میں معتزلہ کی طرح عقل انسانی کے بجائے فطرت انسانی کو کلی اختیارات عطا کرنا، دین اسلام کی تفہیم و تشریح میں انسانی فطرت و عربی محاورات یا دور جاہلیت کے اشعار کو بنیادی حیثیت دینا اور احادیث کو روایات کہہ کر ثانوی یا ثالثی حیثیت دے کر اور بسا اوقات قرآن سے متصادم کا لیبل چسپاں کر کے اسے پس پشت ڈال دینا، مسئلہ تحلیل و تحریم کو شریعت سے خارج  کرنا، علاقائی رسومات کو تواتر عملی کا جامہ پہنا کر اسے دین بنا ڈالنا، قرآن کے نام پر مغرب کے تمام ملحدانہ افکار و نظریات کو امپورٹ کرنا ، سنت کی جدید تعریف کر کے اصلاحات محدثین کو نشانہ ستم بنانا، قرات سبعہ کو فتنہ عجم بتانا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ان کے باطل نظریات کا احاطہ تو اس کتابچہ میں ناممکن تھا۔ اس کیلئے علیحدہ کتب موجود ہیں۔ اس کتاب میں تو ان کے انہی باطل افکار و نظریات کی ایک جھلک ہی پیش کی گئی ہے۔ غامدی افکار و نظریات کے مختصر تنقیدی جائزے پر مشتمل  ایک اچھی کاوش ہے۔

    ...
  • 6 تحفہ اصلاحی (ہفتہ 30 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2274

    مولانا امین احسن اصلاحی﷫ نے  اپنی تفسیر "تدبر قرآن " کے علاوہ اصول تفسیر میں" مبادی تدبر قرآن "اور اصول حدیث میں "مبادی تدبر حدیث" بھی لکھی ہیں۔جن میں انہوں نے اسلاف سے ہٹ کر چند منفرد اصول بیان کئے ہیں۔چنانچہ مولف کتاب ہذا  ڈاکٹر مفتی  عبد الواحد﷫نے   مولانا امین احسن اصلاحی ﷫کی ان دونوں کتب کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ لیا اور اپنے اس جائزے کو اپنی کتاب "ڈاکٹر اسرار احمد﷫ کے افکار ونظریات تنقید  کی میزان میں"کے ساتھ ہی شائع کر دیا ہے۔کیونکہ ڈاکٹر اسرار احمد﷫ نے  اپنے چار منبع فہم قرآن میں سے ایک مولانا حمید الدین فراہی﷫ اور مولانا امین احسن اصلاحی ﷫کو شمار کیا تھا۔بعد میں وہ جائزہ کچھ اضافوں کے ساتھ مضمون کی شکل میں جامعہ مدنیہ کے رسالہ انوار مدینہ میں قسط وار شائع ہوا۔اب  کے بار مولف﷫ نے اس کی نظر ثانی کرتے ہوئے اسے دوبارہ کتابی شکل میں شائع کردیا ہے ،تاکہ مولانا امین احسن اصلاحی﷫ کے شاگردان رشید اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں اور اپنے افکار ونظریات پر نظر ثانی کریں۔مولانا امین احسن اصلاحی﷫ تو دنیا میں نہیں رہے ،لیکن ان کے شاگردوں کو تو اصلاح احوال کی گنجائش حاصل ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کتاب کو اصلاح احوال کا ذریعہ بنا دے ۔آمین(راسخ)

     

  • 7 جاوید غامدی اور انکار حدیث (اتوار 03 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:19732

    اسلام کی بنیاد قرآن مجید اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت  پر ہے اور اس پر تمام مکاتب فکر کا اتفاق ہے۔لیکن افسوس ہے کہ متجددین نے اس متفقہ مسلک سے انحراف کر کے خودساختہ نظریات کی بنیاد پر حدیث کا حقیقی مقام ماننے سے انکار کر دیا ہے۔عصر حاضر  کے ایک معروف ٹی وی اسکالر جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے یہ عجیب نظریہ پیش کیا ہے کہ ’حدیث‘دین کا ماخذ نہیں ہے اور اس سے دین ثابت نہیں ہوتا۔انہوں نے ’سنت‘اور’حدیث‘ میں بھی ایک خودساختہ فرق پیش کیا ہے اور اس طرح حدیث کی تشریعی حیثیت کو صدمہ پہنچایا ہے۔محترم جناب رفیق چودھری صاحب نے غامدی صاحب کے اس طرز عمل کو ’انکار حدیث‘سے تعبیر کیا ہے جو کچھ ایسا بے جا بھی نہیں۔چودھری صاحب نے غامدی صاحب کے ’نظریہ حدیث‘کا تفصیلی ناقدانہ جائزہ لیا ہے جس سے اس کی کمزوری واضح ہو جاتی ہے۔بعض مقامات پر کچھ سختی دکھائی  دیتی ہے ،تاہم مجموعی طور پر یہ انتہائی مفید کاوش ہے۔(ط۔ا)

  • غلام احمد پرویز پاکستان میں فتنہ انکار حدیث کے سرغنہ اور سرخیل تھے۔ان کی ساری زندگی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت وثبوت میں تشکیک ابھارنے میں بسر ہوئی اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ تردید حدیث کا کام قرآن حکیم کے ’’حقائق ومعارف‘‘اجاگر کرتے ہوئے سرانجام دیتے تھے۔حافظ محمد دین قاسمی صاحب نے زیر نظر کتاب میں ’’مفکر قرآن‘‘کے کردار وعمل کو اجاگر کیا ہے اور ان کے فکری تضاد پر روشنی ڈالی ہے۔قاسمی صاحب کا نام’رد پرویزیت‘میں ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے اور اب تک ان کی متعدد کتابیں اس فتنہ کی سرکوبی کے حوالے سے شائع ہو چکی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ’مفکر قرآن‘صاحب قرآن کے نام پر جو کچھ پیش کرتے رہے وہ تحریف کی بد ترین شکل ہے لیکن ان کے مداح اسے معارف وحقائق کا نام دیتے ہیں۔زیر نظر کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوگا کہ پرویز صاحب ساری عمر متضاد باتیں کہتے رہے اور اپنی تردید خود ہی کرتے رہے۔ظاہر ہے کہ یہ ان کے باطل پر ہونے کی واضح دلیل ہے ،امید ہے اس کتاب کے مطالعہ  سے پرویزصاحب کی دوغلی شخصیت بے نقاب ہوگی اور مقلد شیان حق کو سچ او رجھوٹ میں امتیاز کرنے میں سہولت ہوگی۔(ط۔ا)

  • 9 جناب غلام احمد پرویز کے نظام ربوبیت پر ایک نظر (جمعرات 04 جون 2009ء)

    مشاہدات:12216

    جناب غلام احمد پرویز نے تہذیب غالب کے جملہ عوامل وعناصر کو لے کر اسلامی تعلیمات میں سمودینے کے لیے قرآنی مفردات کی خودساختہ توضیح اور مصلحت قرآنیہ کی خانہ زاد تشریح سے خوب کام لیا-ان کی بہت سی توضیحات تشریحات، انتہائی رکیک،دورخیز، اختراعی اور افترائی ہیں-زیر نظر کتاب میں پروفیسر حافظ محمد دین قاسمی صاحب نے پرویز صاحب کے انہی نظریات کی قلعی کھولتے ہوئے جناب کے نظام ربوبیت کا مدلل انداز میں جائزہ لیا ہے- کتاب کے شروع میں علمی اور تحقیقی انداز میں پرویز اور کارل مارکس کے اشتراکی نظریات میں کس حدتک مماثلت پائی جاتی ہے کی بین مثالیں پیش کی ہیں- اور ملکیت اراضی، ملکیت مال، انفاق اموال اور زکوۃ کے حوالے سے قرآن مجید کا مؤقف واضح کیا گیا ہے-علاوہ ازیں کیا صدر اسلام میں نظام ربوبیت نافذ تھا؟کیا خلافت راشدہ میں دولت فاضلہ کا وجود نہیں تھا؟کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے صدر اسلام کے نظام معیشت کی اصل واساس اور ''مفکر قرآن'' کو اپنے ہی ڈھیروں تضادات دکھا کر موصوف کے دام ہمرنگ زمیں کا شکار ہونے والوں کی  راہ اعتدال کی جانب راہنمائی کی ہے-

  • 10 جواب اصول مبادی (ہفتہ 14 اگست 2010ء)

    مشاہدات:19777

    عصرحاضرمیں ایسے بہت سے گروہ نظرآتےہیں جونہ صرف تجدیداسلام کے نام نہادودعوے دارہیں بلکہ ائمہ اسلام کے مرتب کردہ ان اصول وقواعدمیں بھی جدت لاناچاہتےہیں کہ جن کی روش میں علمائےسلف وخلف استدلال واستنباط اوراحادیث کی تصحیح وتضعیف کافیصلہ کیاکرتے تھے ۔حالانکہ یہ اصول دراصل قرآن وسنت سے ماخوذہیں اوران کامرجع ومصدرنصوص شرعیہ ہی ہیں ۔لیکن یہ لوگ اپنی عقل وفکرکے بل بوتے پران کی تردیدوتغلیط کرناچاہتے ہیں ،جس سے ایک نیانظام فکرونظروضع کرناان کامنتہائے نگاہ ہے ۔زیرنظررسالہ میں ایک گروہ کے ’’اصول ومبادی‘‘پرناقدانہ  نگاہ ڈالی گئی ہے اورمدلل طریقے سے ثابت کیاگیاہے یہ ’’اصول ومبادی‘‘قرآن وسنت اوراجماع امت سے متصادم ہیں ولہذاناقابل التفات ہیں ۔

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 906
  • اس ہفتے کے قارئین: 5354
  • اس ماہ کے قارئین: 22257
  • کل مشاہدات: 44881388

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں