• #2556
    عبد الرؤف باجوہ

    1 اہل کتاب سے مسلمانوں کے تعلقات (عہد نبوی تا عہد بنو امیہ)

    اسلام ایک عالمی مذہب ہے اور مذاہبِ عالم میں یہ واحد مذہب ہے جو ہر مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ تمام معاملات میں رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم دیتاہے ۔اسلام کے داعی اوّل نبی کریم ﷺ کے دلرُبا کردار کا نقشہ او ر آپ ﷺ کے صحابہ کرام ﷢ کاطر زعمل اس بات کی روشن ددلیل ہے اسلامی معاشرے میں غیر مذہب رعایا کوکیسا مقام حاصل تھا۔روز ِ اول سے ہی مبلغ اسلام رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اسلام کی ترقی اوربقا کےلیے مختلف مذاہب کے ماننے والوں سےبرسرِپیکار ہونا پڑا ۔ مشرکین کے علاوہ جو طاقتیں اسلام کے راستے میں مزاحم ہوئیں ان میں یہودیت ونصرانیت پیش پیش تھیں۔گوکہ یہ دونوں طاقتیں اہل ِ کتاب تھیں لیکن عمومی طور پر انہوں نے اسلام کی مخالفت اور کاروانِ حق کی ناؤ ڈبونے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔لیکن اس کے باوجو درسول اللہ ﷺ نے اہل کتاب سے   جو تعلقات قائم کیے انہیں عہد حاضر میں بطور نظیر پیش کیا جاسکتاہے ۔آپ ﷺ نے امت کی رہنمائی فرماتے ہوئے عملی نمونہ پیش کیا۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ نبی ﷺ نے اہل کتاب کودیگر غیر مسلموں پر فوقیت دی اورہر شعبے میں ان کے ساتھ محذ اہل ِکتاب ہونے کی بنا پر دوستانہ اور ہمداردانہ رویہ اپنایا۔عہد نبویﷺ میں رسول اللہ ﷺ نے یہود نصاریٰ سے جو تعلقات قائم کیے اسی نمونے کو سامنے رکھتے ہوئے خلفائے راشدین نے اہل ِ کتاب سے مراسم قائم کیے۔ مجموعی طور پر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ﷢ نے یہود ونصاریٰ کی طرف دوستی کاہاتھ ضرور بڑھایا اوران سے مختلف قسم کے تعلقات قائم کرتے ہوئے باہمی معاہدات بھی کیے۔ مگر ان کی اسلام دشمنی کو کبھی فراموش نہیں کیا اور ہمیشہ ایک حد میں رہتے ہوئے احکام ِ الٰہیہ کی روشنی میں مختاط انداز اختیار کیا۔ زیر نظر تحقیقی مقالہ بعنوان ’’ اہل کتاب سے مسلمانوں کے تعلقات عہد نبوی تا عہد بنوامیہ‘‘مقالہ نگارعبدالرؤف باجوہ نے پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف صاحب کی زیکر نگرانی مکمل کر کےاسلامیہ یونیورسٹی، بہاولپور سے ایم فل علوم اسلامیہ کی ڈگری حاصل کی ہے ۔ مقالہ نگار نے اس کو پانچ ابو اب میں تقسیم کر کے اپنی تحقیقی بحث کو پیش کیا ہے۔ مقالہ نگار نے اپنی بساط کے مطابق بھر پور طریقے سے اہل کتاب سے مسلمانوں کےتعلقات کوقرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کے طرزِ عمل کی روشنی میں پیش کرنےکی کوشش کی ہے ۔ تاکہ عہدِ حاضر میں ان تعلقات کی روشنی میں استفاد کیا جاسکے ۔اللہ تعالیٰ مقالہ نگار کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔(آمین) م۔ا)

  • #2320
    محمد متین خالد

    2 علامہ اقبال اور فتنۂ قادیانیت

    اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت کی بلند مقام عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہیں ،جن کی آمد سے سلسلہ نبوی کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک جھوٹا اور کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کےجھوٹ وفریب کوبے نقاب کرد یا اور وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں ذلیل وخوار ہو کر رہ گیا۔علامہ اقبال بیسویں صدی کے شہرہ آفاق دانشور ،عظیم روحانی شاعر ،اعلی درجے کے مفکر اور بلند پایہ فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عہد ساز انسان بھی تھے۔انہوں نے جب دیکھا کہ مرزائی خود تو کافر اور مرتد ہیں ہی ،دیگر مسلمانوں کو بھی مرتد بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔اور اسلام کا لبادہ اوڑھ کر انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔تو وہ اس دجل اور فریب کو برداشت نہ کر سکے۔چنانچہ انہوں نے اس مسئلے کا گہرائی سے جائزہ لیا اور اپنے تاثرات امت مسلمہ کے سامنے واضح انداز میں پیش کئے۔ زیر تبصرہ کتاب " علامہ اقبال اور فتنہ قادیانیت " قادیانی فتنے کے خلاف لکھنے والے معروف قلمکار محمد متین خالد کی کاوش ہے،جس میں انہوں نے علامہ اقبال کے اسلامی غیرت وحمیت پر مبنی ان تاثرات کو انہی کی زبان میں جمع کر دیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبول ومنظور فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اس فتنے سے محفوظ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #2325
    محمد بن اسماعیل بخاری

    3 صحیح بخاری جلد چہارم

    امام بخاری  کی شخصیت اور  ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام  بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ  عطا کیا بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے  مختلف انداز میں  مختلف  زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی  کو  امتیازی مقام  حاصل  ہے  ۔اردو زبان میں سب سے پہلے  علامہ وحید الزمان نے  صحیح بخاری کا  ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث  اور  اہل علم نے  صحیح بخاری  کا ترجمہ  حواشی اور شروح  کا کام  سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی  جانے  والی فیض الباری  ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری  اور  حافظ عبدالستار حماد کی شرح بخاری  قابل ذکر ہیں ۔ زیر نظر  کتاب ’’ صحیح بخاری ‘‘ مو لانا  داؤد راز کے  ترجمے ساتھ سات مجلدات پر مشتمل یونیکوڈ  اور پی ڈی  ایف فارمیٹ میں  منفرد نوعیت  کی  حامل ہے ۔محترم سید شاہنواز حسن، محترم ابوطلحہ عبدالوحید بابر ،محترم محمد عامر عبدالوحید انصاری حفظہم  اللہ نے  بڑی محنت شاقہ سے اسے دعوتی  مقاصد کے لیے  تیا رکیا ہے  ۔کہ  جسے صحیح بخاری  مترجم سے  استفاد ہ کرنے کا تیز ترین سوفٹ وئیر کا درجہ حاصل ہے  ۔ اس پروگرام  میں  صحیح بخاری کے ابواب کی فہرست اور حدیث  نمبر پر کلک کرنے سے ایک  لمحہ میں  مطلوبہ باب  ،متنِ حدیث ، تک  پہنچ  کر  استفادہ کیا جاسکتاہے  ۔اور یونیکوڈ  فائل سے  کسی  بھی  مطلوبہ  حدیث کا  متن او راس کا ترجمہ کاپی کیا جاسکتا ہے ۔قارئین کی آسانی کی  کے پیش  نظر  حدیث کوتلاش کرنے کےلیے  صحیح بخاری کی احادیث کو سات حصوں میں  تقسیم  کر کے  فہارس  ابواب  اور حدیث نمبرز  پر لنک لگا  دئیے گئے  ہیں ۔اللہ تعالی ٰ کتاب ہذا کو تیار کرنے والوں کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف  قبولیت سے  نوازے اور  اسے اہل اسلام کے  لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)
    سات حصوں میں موجود احادیث کی  تقسیم حسب  ذیل ہے ۔
    حصہ 1 :  کتاب الوحی سے کتاب الجمعہ  احادیث:1سے941
    حصہ2 :  کتاب صلاۃ الخوف سے کتاب فضائل مدینہ  احادیث 942 سے 1890
    حصہ3 :  کتاب الصوم سے کتاب الوصایا  احادیث 8191سے 2781
    حصہ4 :  کتاب الجھاد والسیر سے کتاب فضائل الصحابہ  احادیث 2782سے 3775
    حصہ5 :  کتاب مناقب الانصار سے کتاب التفسیر  احادیث3776سے 4835
    حصہ6 :  کتاب التفسیر (بقیہ) سے کتاب اللباس    احادیث4836سے 5969
    حصہ7 :  کتاب الادب سے کتاب التوحید  احادیث5960سے 7563
    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1261
    محمد بن صالح العثیمین

    4 یہ اختلاف کب تک ؟

    انسانوں میں مسائل ومعاملات کو سمجھنے میں فکرونظر کا اختلاف کچھ اچنبھے کی بات نہیں اس لیے کہ ہر شخص کی سوچ او رفہم وفکر کی صلاحیتیں متفاوت ہیں مزیدبرآں بسااوقات شرعی نصوص میں ایک سے زیادہ معانی کی گنجائش  ہوتی ہے لہذا اختلاف واقع ہوجاتاہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہاختلاف رائے میں رویہ او رانداز کیا ہونا چاہیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی اختلاف ہوئے لیکن انہوں نے ایک دوسرے کی نیت پر حملہ کیا اور نہ ایک دوسرے کو کافر وفاسق کہا آج بھی اسی بات کی ضرورت ہے کہ اختلاف کو علمی دلائل تک محدود رکھاجائے اور کتاب وسنت کی روشنی میں ان کو حل کرنے کی سعی کی جائے لیکن اسے باہمی بغض ونفرت اور حسدو کینہ کا سبب  نہ بنانا چاہیے زیرنظر رسالے میں اسی نکتے پر زور دیا گیا ہے



  • #902
    علامہ ابی جعفر محمد بن جریر الطبری

    5 تاریخ طبری - جلد4

    زیر نظر کتاب تاریخ اسلامی کا بہت وسیع ذخیرہ اور تاریخی اعتبار سے ایک شاندار تالیف ہے جس میں مصنف نے بہت عرق ریزی سے کام لیا ہے۔واقعات کو بالاسناد ذکر کیا ہے جس سے محققین کے لیے واقعات کی جانچ پڑتال اور تحقیق سہل ہو گئی ہے۔یہ کتاب سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیر صحابہ وتابعین پر یہ تالیف سند کی حیثیت رکھتی ہے اور سیرت نگاری پر لکھی جانے والی کتب کا یہ اہم ماخذ ہے المختصر سیرت نبوی اور سیرت صحابہ وتابعین پر یہ ایک عمدہ کتا ب ہے ۔جس کا مطالعہ قارئین کو ازمنہ ماضیہ کی یاد دلاتا ہےاور ان عبقری شخصیات کے کارہائے نمایاں قارئین میں دینی ذوق ،اسلامی محبت اور ماضی کی انقلابی شخصیات کے کردار سے الفت و یگانگت پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔لہذا فحش لٹریچر ،گندے میگزین اور ایمان کش جنسی ڈائجسٹ کی بجائے ایسی تاریخی کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے جو شخصیات میں نکھار ،ذوق میں اعتدال ،روحانیت میں استحکام اور دین سے قلبی لگاؤ کا باعث بنیں ۔
  • #511
    فضل الرحمان بن محمد

    6 عورت کی سربراہی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں

    کتاب وسنت  کے دلائل کی رو سے امور حکومت کی نظامت مرد کی ذمہ داری ہے اور حکومتی و معاشرتی ذمہ داریوں سے ایک مضبوط اعصاب کا مالک مرد ہی عہدہ برآں ہو سکتاہے۔کیونکہ عورتوں کی کچھ طبعی کمزوریاں ہیں اور شرعی حدود ہیں جن کی وجہ سے نا تو وہ مردوں کے شانہ بشانہ مجالس و تقاریب  میں حاضر ہوسکتی ہیں اور نہ ہی سکیورٹی اور پروٹوکول کی مجبوریوں کے پیش نظر ہمہ وقت اجنبی مردوں  سے اختلاط کر سکتی ہیں ،فطرتی عقلی کمزوری بھی عورت کی حکمرانی میں رکاوٹ ہے کہ امور سلطنت کے نظام کار کے لیے ایک عالی دماغ اور پختہ سوچ کا حامل حاکم ہونا لازم ہے ۔ان اسباب کے پیش نظر عورت کی حکمرانی قطعاً درست نہیں بلکہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے اگر کوئی عورت کسی  ملک کی حکمران بن جائے تو یہ اسکی تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ہو گی ۔زیر نظر کتاب میں کتاب وسنت کے دلائل ،تعامل صحابہ  اور محدثین وشارحین کے اقوال سے فاضل مولف نے یہ ثابت کیا ہے کہ عورت کا اصل مقام گھر کی چار دیواری ہے اور دلائل شرعیہ  کی  رو سے  عورت کبھی حکمران نہیں بن سکتی ۔پھر معترضین کے اعتراضات اور حیلہ سازیوں کا بالتفصیل رد کیا ہے  اور عورت کی حکمرانی کی راہ ہموار کرنے کے لیے فتنہ پرور مستشرقین کی فتنہ سامانیوں کو احسن انداز سے طشت ازبام کیا ہے ۔کتاب انتہائی مدلل ہے اور اپنے موضوع کی کما حقہ ترجمانی کرتی ہے ۔نیز دلائل و براہین کا ایسا انبار ہے جو افتراء پرداز علماء و نام نہاد مغربی طفیلیوں کے مصنوعی حیلوں کو خس و خاشاک کی طرح بہاتا چلا جاتا ہے ۔اس کتاب کی تالیف پر مولف حفظہ اللہ  داد کے مستحق ہیں اور موجودہ دور میں جب سارا معاشرہ ہی عورت کی حکمرانی کا قائل دکھائی دیتا ہے ۔پھر حکومتی سطح پر قومی و صوبائی پارلیمان میں عورتوں کی وزارتوں کا کوٹہ بڑھا  دینے اور الیکشن میں عورتوں کی مزید حوصلہ افزائی کی وجہ سے  اس کتاب کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے ۔اسے گھر گھر پہنچانا مبلغین و اہل ثروت کی ذمہ داری ہے ۔

  • #383
    احمد بن حجر قاضی دوحہ قطر

    7 بدعات اور ان کا شرعی پوسٹ مارٹم

    بعض غفلت شعار لوگوں کی نیک نیتی کی بناء پر یا اپنے تئیں دین میں بگاڑ پیدا کرنے کے لیے بعض مفسدہ پرداز لوگوں کے سبب ایام قدیم سےمسلمانوں میں بدعات کی ایجاد اور ان پر عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا میں ایسے علماء سوء کی کمی نہیں ہے جو ان بدعات کی نشر و اشاعت کے ذریعےدادِ عیش حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب بدعات کے موضوع پر شیخ احمد بن حجر کی ایک شاندار تصنیف ہے جس میں حقیقی طور پر موضوع سے متعلقہ تمام مواد کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں عقائد و عبادات سے متعلق بہت سی بدعات کو جمع کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے قواعد کا تذکرہ موجود ہے جو اس موضوع پر بنیادی اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔جہاں اہل بدعات کے شبہات کا ذکر اوران کا مدلل رد موجود ہے وہیں بدعت کی تمام اقسام کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی تشریعی حیثیت کو بھی کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ کتاب کا خاتمہ مختلف ابواب میں وارد شدہ موضوع احادیث کے مجموعہ پر کیا گیا ہے جس نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اگر اس کتاب کو بدعات کا قلع قمع کرنے والی تلوار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

  • #370
    محمدابوسعیدالیار بوزی

    8 اسلام میں ترک نماز کا حکم

    باجماعت نماز کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لیے دین اسلام کی یہ ہدایات ہی کافی ہیں کہ میدان جہاد میں موت کے مدمقابل بھی نماز ترک نہ کی جائے بلکہ جماعت بھی ترک نہ کی جائے۔ ایمان و اسلام کی سلامتی نماز کے قیام سے ہی مشروط ہے۔ تارک نماز کے گناہ گار ہونے پر تو امت کا اجماع ہے۔ لیکن اس کے مشرک، کافر اور ابدی جہنمی ہونے پر اختلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں مصنف نے دلائل قطعیہ اور استنباطات فقہیہ سے تارکین نماز کو گناہ کی شدت کا احساس دلایا ہے۔

     

     

  • #369
    عبد الہادی عبد الخالق مدنی

    9 وفات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

    محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و مناقب اور امتیازات و خصوصیات کا شمار آسان نہیں۔ آپ کی سیرت نگاری ایک شرف ہے اور "آپ صلی اللہ علیہ وسلم" کی وفات سیرت کا ایک اہم موضوع ہے۔ جو نہ صرف موت کی یاد دلانے اور دنیا سے رشتہ کاٹ کر آخرت کی طرف لو لگانے کی وجہ سے اہمیت کا حامل ہے بلکہ دور حاضر میں مروّج بہت سے عقائد کی تصحیح کا پہلو بھی اس موضوع میں بہت نمایاں ہے۔اگرچہ اس موضوع پر عربی زبان میں بہت کتب موجود ہیں، لیکن اردو میں غالباً مستقل اس موضوع پر کوئی تصنیف موجود نہیں تھی۔ زیر تبصرہ کتاب میں موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے اور قرآن کریم ، احادیث صحیحہ اور مستند تاریخی روایات سے مدلل مؤقف پیش کیا گیا ہے۔

     

  • #367
    عبد المالک مجاہد

    10 سنہری کرنیں

    اسلام نےخواتین کو جو مقام عطا کیا اورانہیں جواہمیت دی ہے اس کی مثال دنیاکاکوئی دوسرامذہب دینےسےقاصرہےبھلا اور کس مذہب میں آپ کو ملے گا کہ ماں کےقدموں کےنیچےجنت ہےاور کس مذہب کےرہنما آپ کو بتائیں گے کہ ہماری خدمت اور حسن سلوک کی سب سے زیادہ حقدار ہماری مائیں ہیں ۔اور حقیقت یہی ہے کہ شروع ہی سے ہماری نوزائیدہ نسلیں اپنی بالیدگی ،تربیت او ر نشوونما کےلیے اپنی ماؤں کی محتاج رہی ہیں بچوں کی تربیت اور او ران کی مناسب انداز میں اٹھان اتنا بڑا کام ہے اور اس کےلیے اتنی توجہ ،صبر،محبت  اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو مرد کے بس سے باہر کی بات ہے ۔الغرض اسی طرح عورت اپنے ہر رشتے کے اعتبار سے بھی  مقدس ومحترم ہوتی ہے چاہے وہ ایک ماں ،نانی،دادی،بہن،بیٹی ،خالہ اور پھوپھی کے روپ میں ہو یا ساس ،بہو کے روپ میں۔عورت کی شخصیت کےایسے تمام پہلو جن میں اس کی ذہانت ،شجاعت،تقوی،پرہیز گاری او ربہادری ظاہرہوتی ہو اس کتاب کی زینت ہیں۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39825460

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں