کل کتب 8

دکھائیں
کتب
  • 1 #1970

    مصنف : ابو نعمان محمد زبیر صادق آبادی

    مشاہدات : 7755

    آئینہ دیوبندیت

    (جمعہ 11 اپریل 2014ء) ناشر : مکتبہ الحدیث، حضرو ضلع اٹک

    کسی بھی مذاکرہ ،مباحثہ ومناظرہ اور علمی گفتگو میں اصول وضوابط کو مد نظر رکھتے ہوئے بات کرنا آداب ِگفتگو کاحصہ ہے لیکن عموما مختلف مسالک کے حاملین اہل علم اور علماء علمی گفتگو ،مباحثہ ومناظرہ کے موقع پر اصول وضوابط کو سامنے نہیں رکھتے جس کے نتیجے میں اکثر مباحثے ومذاکرے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے ۔زیر نظر کتا ب ''آئینہ دیوبندیت'' اسی لیے مرتب کی گئی ہےکہ جب کوئی اہل حدیث کسی دیوبندی سے کوئی حدیث بیان کرتا ہے یاپھر کوئی دیوبندی کسی اہلِ حدیث کو تقلید کی دعوت دیتا ہے تو عام طور پر دیوبندیوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اصل موضوع کو چھوڑ کر طرح طرح کی دوسر ی باتیں شروع کردیتے ہیں ۔اورکبھی خود ساختہ اصول بنا کر اہل حدیث پر طعن کرتے ہیں۔آل دیوبند کےاس قسم کے اعتراضات کے جواب میں محترم ابو نعمان محمد زبیر صادق آباد ی ﷾ نے یہ کتاب مرتب کی جس میں علامہ حافظ زبیرعلی زئی﷫ کے بھی بعض مضامین بھی شامل ہیں اللہ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

     

     

  • 2 #1271

    مصنف : حافظ زبیر علی زئی

    مشاہدات : 21694

    آل دیوبند سے 210 سوالات

    (بدھ 21 جولائی 2010ء) ناشر : نعمان پبلیکشنز

    برصغیرمیں دیوبندی اور اہل حدیث کی کش مکش ایک عرصے سے جاری ہے اس میں دونوں طرف سے اپنے اپنے نقطۂ نظر کے حق میں اور دوسرے کی تردید میں بہت کچھ لکھا جاچکاہے زیرنظر کتاب میں جناب حافظ زبیرعلی زئی نے دیوبندیوں سے 210 سوالات کیے ہیں کہ وہ ان کاجواب دیں اس لیے کہ ان کابھی یہی اسلوب ہے کہ وہ اہل حدیث سے سوالات ہی کرتے جاتے ہیں اگر ان سوالات کو غور سے پڑھا جائے تواوضح ہوگا کہ دیوبندی حضرات کے عقائد وافکار میں بہت سی غلطیاں موجود ہیں جن کی اصلاح ہونی چاہیے نیز ان سوالات کا جو اب بھی ان کےپاس موجود نہیں ہے کیونکہ جواب قرآن وحدیث او رامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال کی روشنی میں مانگاگیا ہے جبکہ ان کےعقائد ونظریات ان سے ثابت نہیں ہیں

     

  • 3 #916

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹر طالب الرحمن شاہ

    مشاہدات : 14328

    الدیوبندییۃ تعریف۔ عقائد

    (منگل 24 فروری 2009ء) ناشر : دار الکتاب والسنہ، لاہور

    انڈیا کے ایک قصبے دیو بند میں قائم دار العلوم سے وابستگان او روہاں کے علما کے فکر وعقیدہ سے متعلق لوگ اپنے آپ کو دیو بندی کہلاتے ہیں ۔یہ فقہ میں حنفی اور عقیدہ میں ماتریدی ہیں۔تصوف کے سلاسل اربعہ کے بھی قائل ہیں اور اپنی نسبت ان کی طرف کرتے ہیں ۔زیر نظر کتاب میں اس گروہ کا تعارف کرایا گیا ہے کہ ان حضرات کے خیالات بھی بہت حد تک بریلوی حضرات سے ملتے ہیں۔برزگان دین اور علماء سے متعلق ان کے بھی وہ نظریات ہیں جو بریلوی کے ہیں مثلا ً دور دراز سے کسی کے پکارنے پر اس کی مدد کے لیے پہنچ جانا،محض اپنی توجہ ہی سے جہاز کو ڈوبنے سے بچالینا،پیش آمدہ واقعات کا علم ہو جانا وغیرہ۔عموماً دیوبندی حضرات انہیں کرامات سے تعبیر کرتے ہیں ،لیکن یہی بات تو بریلوی بھی کہتے ہیں ۔بہر حال اس کتاب کے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان میں اور دیو بندیوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے ۔مصنف نے ہر بات کو با حوالہ بیان کیا ہے ،امید ہے بہ نظر انصاف اس کا مطالعہ کیا جائے گا اور حق کو قبول کرنے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔(ط۔ا)
     

  • 4 #4015

    مصنف : عبد الرحیم چار یاری

    مشاہدات : 1975

    عقائد اہلسنت و الجماعت اور علامہ زاہد الراشدی صاحب کی نوازشات جلد اول

    (پیر 01 فروری 2016ء) ناشر : جامعہ حنفیہ فیصل آباد

    دیوبندی مسلک کی بنیاد انڈیا کے شہر دیوبند سے پڑی۔دارالعلوم دیوبند جہاں پر اسلامی عقائد میں ایک خاص مکتبہ فکر اور مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی ۔اس مسلک کے علما اور اُن کے پیروکارحنفی عقیدہ کےحامل ہیں لیکن دیوبندی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یہ دوسرے حنفی مکتبہ فکر کے مقابلے میں نہ صرف زیادہ توحید پرست ہونے کا دعوی کرتے ہیں بلکہ اللہ جل شانہ کے سوا کسی دوسرے سے مدد مانگنے کے بھی سخت مخالف ہیں۔یہ لوگ مقلد تو  ہیں لیکن بدعت سے بچتے ہیں۔ صحابہ کرام اور امہات المومنئین کی شان میں گستاخی کرنے والوں کا بریلوی حضرات کے مقابلے میں زیادہ شدت سے محاسبہ کرتے ہیں۔دیوبندی مکتب فکر کے لوگ  فقہ میں امام ابو حنیفہ ﷫ جبکہ عقائد میں امام اشعری و ماتریدی رحمہما اللہ کی تقلید کرتے ہیں۔لیکن اس مسلک کے بعض علماء کا مختلف مسائل میں  باہمی اختلاف پایا جاتا ہے۔مثلا علامہ زاہد الراشدی صاحب متعدد مسائل میں معروف مسلک دیو بند سے اختلاف کرتے نظر آتے ہیں، اور دیگر علماء دیو بند ان کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" عقائد اہلسنت اور علامہ زاہد الراشدی صاحب کی نوازشات"محترم عبد الرحیم چار یاری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے علامہ زاہد الراشدی صاحب کے ان مسائل کا رد کیا ہے، جو انہوں نے معروف مسلک دیو بند سے الگ اختیار کئے ہیں۔دیو بندی مسلک کے عقائد کے حوالے سے یہ ایک مفید کتاب ہے۔(راسخ)

  • 5 #1162

    مصنف : خلیل احمد سہارنپوری

    مشاہدات : 20356

    عقائد علماء اہل سنت دیوبند

    (پیر 02 جولائی 2012ء) ناشر : دار الکتاب والسنہ، لاہور

    پیش نظر کتاب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے علمائے دیوبند کے عقائد پر تصنیف کی گئی ہے۔ ’المہند علی المفند‘ اور عقائد اہل السنۃ دیوبند حضرات کی مستند ترین کتابیں ہیں۔ زیرنظر کتاب میں مصنف نے حاشیہ کے ذریعے ان کتابوں میں علمائے دیوبند کے ایسے عقائد کی نشاندہی کی ہے جو اہل سنت والجماعت کے عقائد کے خلاف ہیں۔ کتاب کے مطالعے سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ بریلویوں اور دیوبندیوں کے عقائد میں کس حد تک فرق ہے۔ کتاب میں مصنف نے دیوبندیوں کے عقائد پر تعلیقات لکھی ہیں اور علمائے اہل سنۃ والجماعۃ کے فتووں کو ان عقائد کی تردید میں پیش کیا گیا ہے۔ (ع۔ م)

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • 6 #91

    مصنف : حکیم محمود احمد بن اسماعیل سلفی

    مشاہدات : 18579

    علمائے دیوبند کا ماضی

    (بدھ 08 اپریل 2009ء) ناشر : ادارہ نشر التوحید والسنہ،لاہور

    مولانا سرفراز صاحب صفدر دیوبندی اور ان کے فرزند ارجمند کی طرف سے کتاب و سنت کے داعیوں پر دشنام طرازی اس کتاب کی وجہ تالیف بنی۔ تاریخی حقائق کو خوب موڑ توڑ کر یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ مولانا ثناءاللہ (جنہیں فاتح قادیان کا لقب ملا) مرزائیت کے شیدائی تھے، ان کے پیچھے نماز کو جائز سمجھتے تھے۔ اسی طرح انگریزوں کے خلاف جہاد کے موضوع پر شیشے کے گھر میں بیٹھ کر مضبوط قلعوں پر پتھر پھینکے جاتے رہے ہیں۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے نہ صرف یہ کہ علم برداران کتاب و سنت کا دفاع ہی کیا ہے بلکہ علمائے دیوبند کے ماضی کو بھی تاریخی حوالہ جات اور حقائق کی مدد سے خوب واضح کیا ہے۔
     

  • 7 #871

    مصنف : محمد بشیر ظہیر

    مشاہدات : 16328

    کشف الحقائق حصہ اول

    (منگل 19 جولائی 2011ء) ناشر : چوک سرائے کرشنا ضلع بھکر

    ہمارے ہاں عمومی طور پر دیوبندی حضرات کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ وہ تقلید شخصی کے قائل تو ہیں لیکن شرکیہ امور سے دور ہیں اور پکے موحد ہیں،چنانچہ بریلوی حضرات کے مقابلے میں یہ اہل حدیث کے زیادہ قریب ہیں۔سچ  یہ ہے کہ فرقہ پرستی کے اس عہد میں افراد امت کو وحدت کی لڑی میں پرونے کی اشد ضرورت ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اتحاد و اتفاق کا اصل و اساس عقیدہ توحید ہی ہے۔اب اگر بے تعصبی سے دیوبندی لٹریچر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ان کے ہاں بھی ایسی بے شمار چیزیں موجود ہیں ،جن کی وجہ سے بریلوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شرکیہ امور کے مرتکب ہیں۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ایک بریلوی مصنف ارشد القادری صاحب نے ’زلزلہ‘نامی کتاب لکھ کر یہ ثابت کیا  ہے کہ دیوبندی بھی وہی عقاید رکھتے ہیں جو بریلویوں کے ہیں،لیکن اس کے باوجود وہ ہمیں مشرک کہتے ہیں اور خود کو موحد۔ایک مصنف دیوبندی عالم جناب عامر عثمانی نے بھی’زلزلہ‘کے مندرجات کی تائید کی ہے کہ واقعتاً دیوبندی حضرات بھی انہی خرابیوں کا شکار ہیں ۔زیر نظر کتاب میں بھی اسی نکتے پر بحث کی گئی ہے یہ ایک سابق دیوبندی مولانا محمد بشیر مظہر کی تصنیف ہے جس  میں ا نہوں نے معتبر حوالہ جات سے دکھایا ہے کہ دیوبندی حضرات کے ہاں بھی شرکیہ حکایات موجود ہیں۔انداز کہیں کہیں سخت ہے تاہم  بات درست ہے ،امید ہے دیوبندی دوست کھلے دل سے اس کا مطالعہ کریں گے اور حق بات واضح ہو جانے پر اصلاح احوال کی سعی کریں گے۔(ط۔ا)

  • کیا علماء دیوبند اہل سنت ہیں

    (بدھ 22 مارچ 2017ء) ناشر : المکتب التعاونی للدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات، ریاض

    1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمانان ہند کے سیاسی اور معاشی زوال کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاق ، ثقافت ، مذہب اور معاشرت پر بھی دوررس نتائج کے حامل برے اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ مسلمانوں کا ملی تشخص خطرے میں پڑ گیا تھا اگر ایک طرف سقوط دہلی کے بعد مدرسہ رحیمیہ کے دروازے بند کر دئیے گئے تھے تو دوسری طرف ان کو ان کے مذہب سے بیزار کرنے کے لیے مذموم کوششوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا تھا۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانوں کو اسلامی احکامات سے باخبررکھا جائے اور ان میں جذبہ جہاد اور جذبہ شہادت کی تجدید کا عمل بلا تاخیر شروع کیا جائے تاکہ سپین اور خلافت عثمانیہ کے مسلمانوں کی طرح ان کا شیرازہ ملت کہیں بکھر نہ جائے مذکورہ مقاصد کے حصول کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ کی تعلیمات اور تحریک سے متأثر کچھ علماء نے برطانوی ہند میں دینی مراکز قائم کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یو۔ پی کے ضلع سہارنپور کے ایک قصبے نانوتہ کے مولانا قاسم نانوتوی نے 30 مئی 1866ء بمطابق 15 محرم الحرام 1283ھ کو دیوبند کی ایک چھوٹی سی مسجد (مسجد چھتہ) میں مدرسۃ دیوبند کی بنیاد رکھی۔ بعد میں   دار العلوم دیوبند کے نام سے اسے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی اور جہاں سے بڑے بڑے نامور علماء   کرام نے تعلیم حاصل کر کے سند فراغت حاصل کی۔ اسی مناسبت سے آج مسلک احناف میں سے ایک فرقہ دیوبندی کہلاتا ہے۔ علمائے دیوبند عملاً مسلک امام ابوحنیفہ کے پیروکار ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں انگریز کے دور استبداد میں حنفیہ کی مسند تدریس کو منور رکھنا علمائے دیوبند کا کارنامہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’کیا علماء دیوبند اہل سنت ہیں؟‘‘ سعودی عرب کے دعوت وتبلیغ کے میدان میں کام کرنے والے فعال ادارے ’’جالیات‘‘ کی طرف سے عربی زبان میں مرتب کردہ رسالہ ’’هل علماء الفرقة الديوبندية اهل السنة والجماعة ؟ کا اردو ترجمہ ہے۔ مشہور واعظ و مبلغ محترم جناب سید توصیف الرحمٰن راشد﷾ نے اسے عربی سے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ مرتب نے اس کتاب میں علماء دیوبند کی کتب کےحوالہ جات کی روشنی میں ان کے عقائد کو بیان کر کے ان کا ناقدانہ تجزیہ کیا ہے۔ (م۔ا)

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1878
  • اس ہفتے کے قارئین 11563
  • اس ماہ کے قارئین 49957
  • کل قارئین49400925

موضوعاتی فہرست