کل کتب 34

دکھائیں
کتب
  • 1 #1830

    مصنف : ارشاد الحق اثری

    مشاہدات : 11608

    آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے

    (منگل 24 اپریل 2012ء) ناشر : ادارہ علوم اثریہ، فیصل آباد

    فقہی فروعی اختلافات نئے نہیں  بلکہ زمانہ قدیم سے ہی آرہے ہیں۔یہ اختلافات حضرات صحابہ کرام میں بھی تھے ۔ اسی طرح تابعین عظام اور ائمہ مجتہدین میں بھی تھے ۔ مگر وہ حضرات اس  کے باوجود باہم شیر و شکر تھے۔لیکن مقلدین مجتہدین کے دور میں  یہ فقہی اختلافات شدت اختیار کرتے چلے گئے اور امت کے  اندر انتشار و افتراق نے جنم لینا شروع کر دیا ۔ پھر وہ وقت بھی آگیا کہ یہی فقہی اختلافات باہمی کفر و فسق کی بنیاد بھی بننے لگے۔  حالانکہ اختلافات کا پیدا ہوجانا  ایک فطری امر ہے لیکن تشویش ناک  صورت حال اس وقت ہوتی ہے جب  یہ غیر انسانی رویے اور جنگ و جدال کی  شکل اختیار کرجائیں۔ زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جس کا سبب تالیف یہ ہے کہ عصر حاضر کے جید عالم دین مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے اپنے معاصر ،دیو بندی مکتبہ فکر کے راسخ عالم دین مولانا سرفراز احمد صفدر صاحب کو ان کی تصنیفات میں  وارد شدہ بعض فکری و اجتہادی مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے آئندہ ایڈیشن میں تبدیلی کی درخواست کی۔ جس پر  مولاناسرفراز صفدر صاحب نے توجہ فرماکر اصلاح کرلی۔ لیکن ان کے بیٹے  حافظ عبدالقدوس صاحب  نے یہ محسوس کیا کہ والدگرامی کی یہ پسپائی حلقہ احباب میں باعث تشویش  بن رہی ہے ۔ چنانچہ  اس پر انہوں نے ارشادالحق اثری صاحب پر ایک کتاب لکھ ڈالی ۔ جس میں مولانا کی ذات گرامی کے ساتھ ساتھ مسلک اہل حدیث پر نیش زنی کی گی ۔ پھر مولانا ارشادالحق صاحب نے اس  کے جواب میں زیر نظر کتاب رقم فرمائی۔(ع۔ح)

  • آیات بینات

    (بدھ 08 جنوری 2014ء) ناشر : www.KitaboSunnat.com

    مذہب امامیہ، اہل تشیع کے رد میں تحفہ اثنا عشریہ کے بعد زیر تبصرہ کتاب آیات بینات اپنی نوعیت اور شان کی یہ منفرد تصنیف ہے۔ اس کتاب کا انداز مناظرانہ ہے لیکن اسلوب بیان میں اصلاحی پہلو نمایاں ہے۔ اس کی اہمیت اس لئے بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ مصنف پہلے خود شیعہ مذہب  سے منسلک رہے اور پھردونوں مذاہب کے اصول و فروع کا عمیق مطالعہ کر کے شیعہ مذہب کو خیرباد کہا اور پھر یہ کتاب تصنیف کی۔ اس کتاب کا انداز  بیان نہایت دل کش ہے، اس میں سنجیدگی، وقار اور اثر و تاثیر ہر جگہ دکھائی دیتی ہے۔ ہر بات کی تائید یا تردید میں کئی کئی دلائل پیش کئے گئے ہیں اور وہ سب ہی قوی ہیں۔ یہ کتاب مناظرہ کرنے والوں کے لیے تو ایک قیمتی تحفہ ہے ہی، ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی ایک قابل مطالعہ کتاب ہے۔ ہر شخص کے واسطے ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان کو تازہ اور عقائد کو مضبوط کرنے کے لیے یہ کتاب نہایت توجہ سے پڑھے۔ اور جہاں تک ممکن ہو گمراہی کے گڑھے میں گرے دیگر بھائیوں کی اصلاح کے لیے اس کتاب کو عام کریں۔

  • 3 #4433

    مصنف : ڈاکٹر سلطانہ بخش

    مشاہدات : 7781

    اردو میں اصول تحقیق منتخب مقالات

    (ہفتہ 30 اپریل 2016ء) ناشر : اردو اکیڈمی لاہور

    تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی اصلیت وحقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین اور تفتیش کرنا۔اصطلاحا تحقیق کا مطلب ہے  کہ کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کر کے کھرے کھوٹے اور اصلی ونقلی مواد میں امتیاز کرنا،پھر تحقیقی قواعد وضوابط کے مطابق اسے استعمال میں لانا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ۔ایسا تحقیقی کام سندی تحقیق میں کیا جاتا ہے ،جو ہر مقالہ کی آخری منزل ہوتی ہے۔ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔لیکن افسوس کہ آج تک اردو میں تحقیق کی رسمیات متفقہ طور پر نہ طے ہو سکیں۔ نہ ان کے بارے میں سوچا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب پیش رفت ہوسکی۔ چنانچہ ایک ہی جامعہ میں، بلکہ اس جامعہ کے ایک ہی شعبے میں لکھے جانے والے مقالات باہم ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک مقالے میں حواشی کسی طرح لکھے جاتے ہیں اور کتابیات کسی طرح مرتب کی جاتی ہے۔ دوسرے مقالے میں ان کے لکھنے اور مرتب کرنے کے اصول مختلف ہوسکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اردو میں اصول تحقیق،  منتخب مقالات "اسی جانب ایک سنگ میل ہےجسے محترمہ ڈاکٹر سلطانہ بخش نے  مختلف اہل علم کے مقالات سے مرتب فرمایا ہے۔یہ کتاب مقالہ نگار حضرات کے علمی وتحقیقی تجربوں اور وسیع وگہرے مطالعے کا نچوڑ ہے۔اس میں فن تحقیق کے وہ سارے پہلو آ گئے ہیں جو تحقیق کرنے والے ہر طالب علم ،ہر استاذ  اور تمام محققین کے لئے نہایت مفید ہیں۔ (راسخ)

  • 4 #2892

    مصنف : ڈاکٹر طفیل ہاشمی

    مشاہدات : 7716

    اسلام میں تحقیق کے اصول و مبادی

    (بدھ 11 فروری 2015ء) ناشر : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد

    علم  حدیث اسلامی علوم میں شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے ۔آیات کے شانِ نزول اوران کی تفسیر ،احکام القرآن کی تشریح وتبین ،اجمال کی تفصیل ،عموم کی تخصیص ،مبہم کی تبین سب علم  حدیث کے  ذریعہ  معلوم ہوتی  ہیں ۔اسی طرح حامل ِقرآن حضر ت  محمد ﷺ کی سیرت اور حیات ِطیبہ اخلاق وعادات مبارکہ آپﷺ کے اقوال واعمال علم حدیث کے  ذریعہ  ہم تک پہنچے  ہیں ۔علمائے اسلام  نے  علم حدیث کی حفاظت ،جمع وتدوین، اور تحقیق وتدقیق کے سلسلہ میں  قابل قدر کاوشیں سر انجام دی ہیں۔احادیث کی چھان بین کے لیے  انہوں  نے  جرج وتعدیل کے اصول  وضع کیے ہیں جن کی بدولت اسماء الرجال  کا مستقل فن معرض وجود میں  آیا اور کم وبیش چھ صدیوں تک جرح وتعدیل اور  فن اسماء الرجال بر  پر کتابیں لکھی جاتی  رہیں ۔ایک  جرمن مستشرق ڈاکٹر سپرنگر کے بقول  علم اسماء الرجال کی وساطت سے مسلمانوں نے  کم ازکم پانچ لاکھ راویوں کی حالات محفوظ کیے ہیں  جن کا مقصد صرف ایک ذاتِ مقدس کے حالات کو معلوم اور محفوظ کرنا تھا۔ زیر کتاب ’’ اسلام میں  تحقیق کے اصو ل ومبادی کو ڈ نمبر712 ‘‘ ڈاکٹر طفیل ہاشمی  کی  تصنیف ہے ۔ جوکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے  ایم فل پروگرام میں  شامل نصاب ہے ۔ یہ کتاب  اسلام میں تحقیق کے دو اصول روایت  اور درایت پر مشتمل ہے ۔اس کتاب کے مطالعہ سے   طلبہ روایت ودرایت کے میں خاصی معلوما ت حاصل کرسکتے ہیں ۔(م۔ا)
     

     

  • اسلامی اصول تحقیق

    (اتوار 17 جولائی 2016ء) ناشر : ادبیات لاہور

    تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردۂ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصۂ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔مزید واقعاتی حقائق کا جائزہ لینے اور ان کے اثرات معلوم کرنے کا نام بھی تحقیق ہے ۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔تحقیق کے لغوی معنیٰ کسی شئے کی حقیقت کا اثبات ہے۔ ’’تحقیق کے لیے انگریزی میں استعمال ہونے والا لفظ ریسرچ ہے…اس کے ایک معنیٰ توجہ سے تلاش کرنے کے ہیں، دوسرے معنیٰ دوبارہ تلاش کرنا ہے۔دور حاضر میں اصول تحقیق ایک فن سے ترقی کرتاہوا باقاعدہ ایک علم بلکہ ایک اہم علم کی صورت اختیار کرچکا ہے ۔ عالمِ اسلام کی تمام یونیورسٹیوں ، علمی اداروں ، مدارس اور کلیات میں تمام علوم پر تحقیق زور شور سے جاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اصول تحقیق کا مادہ تمام عالمِ اسلام کی یونیورسٹیوں میں عموماً ا ور برصغیر کی جامعات اور متعدد اداروں میں خصوصاً نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے ۔ان تمام اداروں میں بھی جہاں گریجویٹ اوراس کے بعد کی کلاسوں میں مقالہ لکھوایا جاتا ہے یا ایم فل وڈاکٹریٹ کی باقاعدہ کلاسیں ہوتی ہیں وہاں تحقیق نگاری یا اصول تحقیق کی بھی باقاعدہ تدریس ہوتی ہے ۔ اس طرح اصول تحقیق ، تحقیق نگاری، فن تحقیق یا تحقیق کا علم جامعات اورمزید علمی اداروں میں بہت زیادہ اہمیت حاصل کرچکا ہے۔تحقیق واصول تحقیق پر متعدد کتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسلامی اصول تحقیق‘‘علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی شعبہ عربی وعلوم اسلامیہ کے ڈین جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر خان خاکوانی کی تصنیف ہے ۔فاضل مصنف نے اس کی ابواب بندی کو اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں ترتیب دیتے ہوئے اس کتاب میں اسلامی تحقیق کے مختلف نظریاتی پہلو بیان کرنے کے بعد دورِ حاضر میں برصغیر کے طلبہ کے لیے تحقیقی مقالہ تحریر کرنے کے متعدد تحقیقی مراحل کے اہم حصوں کے بارے میں مختصر مگر جامع ہدایات پیش کی ہیں ۔اس کتاب میں پوری طرح کوشش کی گئی کہ الفاظ کی سادگی کےساتھ ایسا آسان طرز تحریر اختیار کیا جائے کہ عام طالب علم بھی آسانی سے اس سے استفادہ کرسکے ۔(م۔ا)

  • 6 #3452

    مصنف : عبد الحمید خان عباسی

    مشاہدات : 8900

    اصول تحقیق

    (ہفتہ 01 اگست 2015ء) ناشر : نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد

    تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی اصلیت وحقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین اور تفتیش کرنا۔اصطلاحا تحقیق کا مطلب ہے  کہ کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کر کے کھرے کھوٹے اور اصلی ونقلی مواد میں امتیاز کرنا،پھر تحقیقی قواعد وضوابط کے مطابق اسے استعمال میں لانا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ۔ایسا تحقیقی کام سندی تحقیق میں کیا جاتا ہے ،جو ہر مقالہ کی آخری منزل ہوتی ہے۔ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔ معاشرتی علوم اور ادبیات میں علمی نوعیت کی جدید رسمیات پر مبنی کتابیں اور تحقیقی مجلے اس وقت عام ہونے لگے تھے جب رائل ایشیا ٹک سوسائٹی نے خصوصا تاریخ کے موضوعات پر اپنے مطالعات کو جدید اصولوں کے تحت شائع کرنے کا آغاز کیا اور یورپ کے دیگر ملکوں جیسے جرمنی، اٹلی، فرانس اور ہالینڈ کے تحقیقی اور اشاعتی اداروں نے بھی اس جانب پیش قدمی کی اور اسی زمانے میں خصوصا تحقیق و ترتیب متن کی بہترین کوششیں سامنے آنے لگیں۔لیکن افسوس کہ آج تک اردو میں تحقیق کی رسمیات متفقہ طور پر نہ طے ہو سکیں۔ نہ ان کے بارے میں سوچا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب پیش رفت ہوسکی۔ چنانچہ ایک ہی جامعہ میں، بلکہ اس جامعہ کے ایک ہی شعبے میں لکھے جانے والے مقالات باہم ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک مقالے میں حواشی کسی طرح لکھے جاتے ہیں اور کتابیات کسی طرح مرتب کی جاتی ہے۔ دوسرے مقالے میں ان کے لکھنے اور مرتب کرنے کے اصول مختلف ہوسکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اصول تحقیق "اسی جانب ایک سنگ میل ہےجو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی  اسلام آباد  کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عبد الحمید خان عباسی صاحب کی تصنیف ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 7 #4565

    مصنف : عبد الحمید خان عباسی

    مشاہدات : 3807

    اصول تحقیق ( اضافہ شدہ ایڈیشن )

    (پیر 18 جولائی 2016ء) ناشر : نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد

    تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردۂ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصۂ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔مزید واقعاتی حقائق کا جائزہ لینے اور ان کے اثرات معلوم کرنے کا نام بھی تحقیق ہے ۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔تحقیق کے لغوی معنیٰ کسی شئے کی حقیقت کا اثبات ہے۔ ’’تحقیق کے لیے انگریزی میں استعمال ہونے والا لفظ ریسرچ ہے…اس کے ایک معنیٰ توجہ سے تلاش کرنے کے ہیں، دوسرے معنیٰ دوبارہ تلاش کرنا ہے۔دور حاضر میں اصول تحقیق ایک فن سے ترقی کرتاہوا باقاعدہ ایک علم بلکہ ایک اہم علم کی صورت اختیار کرچکا ہے ۔ عالمِ اسلام کی تمام یونیورسٹیوں ، علمی اداروں ، مدارس اور کلیات میں تمام علوم پر تحقیق زور شور سے جاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اصول تحقیق کا مادہ تمام عالمِ اسلام کی یونیورسٹیوں میں عموماً ا ور برصغیر کی جامعات اور متعدد اداروں میں خصوصاً نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے ۔ان تمام اداروں میں بھی جہاں گریجویٹ اوراس کے بعد کی کلاسوں میں مقالہ لکھوایا جاتا ہے یا ایم فل وڈاکٹریٹ کی باقاعدہ کلاسیں ہوتی ہیں وہاں تحقیق نگاری یا اصول تحقیق کی بھی باقاعدہ تدریس ہوتی ہے ۔ اس طرح اصول تحقیق ، تحقیق نگاری، فن تحقیق یا تحقیق کا علم جامعات اورمزید علمی اداروں میں بہت زیادہ اہمیت حاصل کرچکا ہے۔تحقیق واصول تحقیق پر متعدد کتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اصول تحقیق‘‘ پروفیسر ڈاکٹر عبد الحمید خان عباسی کی تصنیف ہے انہوں نے اس کتا ب میں اصول تحقیق کے عمومی مباحث تفصیل سے بیان کرتے ہوئے علوم اسلامیہ کے تمام پہلوؤں مثلاُ تفسیر، حدیث ، فقہ، تاریخ ، وسیر ، معاشرتی ، معاشی اور سیاسی علوم پر خصوصی طور پر بحث کی ہے۔ اور ان علوم کے حوالے سے موضوعات پر تحقیق کرتے ہوئے جن راہنما اصولوں کی پاسداری ضروری ہے ان کو مثالوں سے واضح کیا ہے ۔ زبان آسان اورانداز واسلوب محققانہ ہے فاضل مصنف عبد الحمید خاں عباسی نے اپنی علمی وتحقیقی تجربات ومشاہدات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کتاب کواس انداز سے مرتب کیا ہے کہ اس کتاب کی حیثیت فنی سے بڑھ کر عملی ہوگئی ہے یہ کتاب علوم شرقیہ اور علوم اسلامیہ کے محققین کے لیے بہترین رہنمائی کا ذریعہ ہے ۔ اور اپنی منفرد افادیت کے باعث ا س کتاب کو متعدد یونیورسٹیوں کے ایم اے) ایم فل اورپی ایچ ڈی سطح کے تحقیق کے پرچہ کے لیے لازمی امدادی مواد کے طور پر منظور کیا گیا ۔یہ کتاب اگرچہ پہلے بھی ویب سائٹ موجود ہے لیکن اس جدیدایڈیشن میں کچھ ترامیم واضافہ جات کیے گئے اس لیے اسے بھی پبلش کردیا گیا ہے۔(م۔ا)

  • 8 #82

    مصنف : حافظ زبیر علی زئی

    مشاہدات : 21591

    امین اوکاڑوی کا تعاقب

    (جمعہ 30 جنوری 2009ء) ناشر : نعمان پبلیکشنز

    محقق العصر فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کے آٹھ رکعت سنت تراویح کے موضوع پر مدلل رسالہ "نور المصابیح" کے جواب میں مشہور دیوبندی عالم امین صفدر اوکاڑوی کی کتاب کے محاکمہ اور جواب الجواب میں یہ کتاب حافظ زبیر علی زئی  کا امین صفدر اوکاڑوی صاحب کے نام کھلا خط ہے جسے ان کی زندگی ان کی خدمت میں بھیجا گیا تھا اور جس کا کوئی جواب وہ نہ دے سکے۔  یوں تو موضوع کتاب تراویح کی رکعات ہے۔ لیکن مقدمہ میں فاضل مصنف نے اوکاڑوی صاحب کے اکاذیب و اباطیل، ان کی کتب کے تناقضات، اور ان کے باطل عقائد و افکار کو طشت از بام کیا ہے

     

     

  • 9 #3641

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹر خالق داد ملک

    مشاہدات : 7804

    تحقیق و تدوین کا طریقہ کار

    (اتوار 04 اکتوبر 2015ء) ناشر : اورینٹل بکس لاہور

    تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی اصلیت وحقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین اور تفتیش کرنا۔اصطلاحا تحقیق کا مطلب ہے  کہ کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کر کے کھرے کھوٹے اور اصلی ونقلی مواد میں امتیاز کرنا،پھر تحقیقی قواعد وضوابط کے مطابق اسے استعمال میں لانا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ۔ایسا تحقیقی کام سندی تحقیق میں کیا جاتا ہے ،جو ہر مقالہ کی آخری منزل ہوتی ہے۔ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔ معاشرتی علوم اور ادبیات میں علمی نوعیت کی جدید رسمیات پر مبنی کتابیں اور تحقیقی مجلے اس وقت عام ہونے لگے تھے جب رائل ایشیا ٹک سوسائٹی نے خصوصا تاریخ کے موضوعات پر اپنے مطالعات کو جدید اصولوں کے تحت شائع کرنے کا آغاز کیا اور یورپ کے دیگر ملکوں جیسے جرمنی، اٹلی، فرانس اور ہالینڈ کے تحقیقی اور اشاعتی اداروں نے بھی اس جانب پیش قدمی کی اور اسی زمانے میں خصوصا تحقیق و ترتیب متن کی بہترین کوششیں سامنے آنے لگیں۔لیکن افسوس کہ آج تک اردو میں تحقیق کی رسمیات متفقہ طور پر نہ طے ہو سکیں۔ نہ ان کے بارے میں سوچا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب پیش رفت ہوسکی۔ چنانچہ ایک ہی جامعہ میں، بلکہ اس جامعہ کے ایک ہی شعبے میں لکھے جانے والے مقالات باہم ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک مقالے میں حواشی کسی طرح لکھے جاتے ہیں اور کتابیات کسی طرح مرتب کی جاتی ہے۔ دوسرے مقالے میں ان کے لکھنے اور مرتب کرنے کے اصول مختلف ہوسکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" تحقیق وتدوین کا طریقہ کار "پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے چیئرمین محترم پروفیسر ڈاکٹر خالق داد ملک صاحب  کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے اسی کمی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ کتاب انہوں نے انسانی ومعاشرتی علوم میں بحث وتحقیق سے دلچسپی رکھنے والے اساتذہ کرام کے لئے بالعموم اور عربی واسلامی میں کے اساتذہ ومحققین کے لئے بالخصوص بحث وتحقیق کے مناہج سے متعلق تیار کی ہے۔اس کتاب کے دو ابواب ہیں۔پہلے باب میں مقالہ نگاری کے قواعد ومناہج بیان کئے گئے ہیں جبکہ دوسرا باب مخطوطات کی تحقیق وتدوین کے قواعد ومناہج کے متعلق ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 10 #4627

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹر خالق داد ملک

    مشاہدات : 7033

    تحقیق و تدوین کا طریقہ کار ( جدید ایڈیشن )

    (اتوار 24 جولائی 2016ء) ناشر : آزاد بک ڈپو لاہور

    تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردۂ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصۂ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔مزید واقعاتی حقائق کا جائزہ لینے اور ان کے اثرات معلوم کرنے کا نام بھی تحقیق ہے ۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔تحقیق کے لغوی معنیٰ کسی شئے کی حقیقت کا اثبات ہے۔ ’’تحقیق کے لیے انگریزی میں استعمال ہونے والا لفظ ریسرچ ہے…اس کے ایک معنیٰ توجہ سے تلاش کرنے کے ہیں، دوسرے معنیٰ دوبارہ تلاش کرنا ہے۔دور حاضر میں اصول تحقیق ایک فن سے ترقی کرتاہوا باقاعدہ ایک علم بلکہ ایک اہم علم کی صورت اختیار کرچکا ہے ۔ عالمِ اسلام کی تمام یونیورسٹیوں ، علمی اداروں ، مدارس اور کلیات میں تمام علوم پر تحقیق زور شور سے جاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اصول تحقیق کا مادہ تمام عالمِ اسلام کی یونیورسٹیوں میں عموماً ا ور برصغیر کی جامعات اور متعدد اداروں میں خصوصاً نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے ۔ان تمام اداروں میں بھی جہاں گریجویٹ اوراس کے بعد کی کلاسوں میں مقالہ لکھوایا جاتا ہے یا ایم فل وڈاکٹریٹ کی باقاعدہ کلاسیں ہوتی ہیں وہاں تحقیق نگاری یا اصول تحقیق کی بھی باقاعدہ تدریس ہوتی ہے ۔ اس طرح اصول تحقیق ، تحقیق نگاری، فن تحقیق یا تحقیق کا علم جامعات اورمزید علمی اداروں میں بہت زیادہ اہمیت حاصل کرچکا ہے۔تحقیق واصول تحقیق پر متعدد کتب موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’تحقیق وتدوین کا طریقۂ کار‘‘ پروفیسرڈاکٹر خالددادملک (چیئرمین شعبہ عربی پنجاب یونیورسٹی ،لاہور) کی تصنیف ہے اس کتاب کو انہوں نے دو ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ باب اول میں مقالہ نگاری کے قواعد ومناہج بیان کیے ہیں اور با ب دوم میں مخطوطات کی تحقیق وتدوین کےقواعد ومناہج کو پیش کیا ہے ۔ان دونوں ابواب میں بیان کے گئے موضوعات وعنوانات عصر حاضر میں تحقیق نگاری کے اساس اور جوہر ہیں۔فاضل مصنف نے تحقیق وتدوین نگاری کے تمام مناہج وقواعد کوسہل اور آسان طریقے سےمکمل او رعملی انداز میں پیش کیا ہے ۔انتخاب موضوع سے لے کر مقالہ کی کی جلد بندی تک تمام مراحل کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔اسی طرح مخطوطات کی تدوین کے تمام قواعد شروع سے آخر تک پوری تفصیل کےساتھ بیان کیے ہیں ۔اور چونکہ نظری علوم کی تحقیق میں زیادہ تر کام لائبریری میں ہوتا ہے لہذا لائبریری کے استعمال اور طریقۂکار کی تفصیلات بھی بیان کردی ہیں۔نیزعربی واسلامی تحقیق کے جدید ذرائع کے عنوان سے چند اہم عربی و اسلامی سافٹ ویئرز ، سرچ انجنزا ور ویب سائٹس کا تعارف او رطریقہ استعمال اور بلاد مشرق ومغرب میں واقع مخطوطات ونوادرات کی اہم لائبریریوں کی ویب سائٹ کے ایڈریس بھی تحریرکردئیے ہیں ۔تاکہ عربی واسلامیات کے اساتذہ ومحققین اپنی تحقیقات میں ان جدید ذرائع ووسائل سے کما حقہ استفادہ کرسکیں۔مذکور ہ خصوصیات کی باعث یہ کتاب انسانی علوم کے اساتذہ ومحققین کے لیے بالعموم اور عربی واسلامی علوم میں تحقیق کرنے والے اساتذہ کرام اور ایم اے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کے لیے بالخصوص بہترین راہنما کتاب ہے ۔(م۔ا)

< 1 2 3 4 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1913
  • اس ہفتے کے قارئین 7753
  • اس ماہ کے قارئین 59786
  • کل قارئین49531332

موضوعاتی فہرست