کل کتب 4

دکھائیں
کتب
  • 1 #6982

    مصنف : عبد اللطیف قاسمی

    مشاہدات : 2156

    اساتذہ کا کردار اور چند عملی نمونے

    (پیر 24 اپریل 2023ء) ناشر : جامعہ غیث الھدی بنگلور
    #6982 Book صفحات: 177

    ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کے لیے تعلیم کا ہونا ازحد ضروری ہے ۔ استاد یا معلّم وہ ہے جو متعلم یا طالب علم کی مدد و معاونت اور رہنمائی کرتا ہے ۔ درس و تدریس کے میدان میں معلّم کی حیثیت ایک مربی و محسن کی مانند ہے ۔ اسلامی معاشرے میں ہمیشہ استاد کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے ۔ درس گاہ کوئی بھی ہو،معلّم کے بغیر درس گاہوں کا تقدس بالکل ایسا ہی ہے، جیسا کہ ماں کے بغیر گھر۔ اسلام نے دنیا کو علم کی روشنی عطا کی،استاد کو عظمت اور طالب علم کو اعلیٰ و ارفع مقام عطا کیا ہے ، نبیِ کریم ﷺ نے اپنے مقام و مرتبہ کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ”مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘ زیر نظر کتاب ’’ اساتذہ کا کردار اور چند عملی نمونے ‘‘ مفتی عبد اللطیف صاحب کی کاوش ہے انہوں نے اس کتاب میں بڑی جاں فشانی و محنت سے اکابر علماء و اساتذہ کے تعلیمی و تدریسی تجربات کو جمع کیا ہے ۔ (م۔ا)

  • 2 #1413

    مصنف : پروفیسر ثریا بتول علوی

    مشاہدات : 9770

    استاد ملت کا محافظ

    (جمعہ 13 ستمبر 2013ء) ناشر : تنظیم اساتذہ پاکستان -خواتین
    #1413 Book صفحات: 140

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے ۔ یہاں کے رہنے والے عوام کو اس ملک کے ساتھ جذباتی حد تک وابستگی ہے ۔ لیکن اغیار کی سازشوں سے اس مملکت خداد کی قیادت وسیادت کی باگ دوڑ ان لوگوں کے ہاتھ میں آگئی کہ جو سیکولر ذہنیت کے مالک تھے ۔ وہ نام کی حدتک تو مسلمان ہیں لیکن ان کے طرز و اطوار غیرمسلموں جیسے ہیں ۔ وہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ اس ملک کا نظام تعلیم یا کوئی دیگر شعبہ ہائے حیات اسلام کے مطابق ہو جائے ۔ چناچہ انہوں نے آغاز سے ہی اسے اس خاکے یا نقشے کے مطابق رکھا جو ایک سیکولر قوم نے تشکیل دیا تھا ۔ اور بعض جزوی ترامیم کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ اسلامی بن گیا ہے ۔ تاہم ایک عرصے کے بعد یہ محسوس کیا گیا  تو اس وقت کے صدر جناب ضیاءالحق نے نظام تعلیم کو اسلامیت کے مطابق ڈھالنے میں بنیادی تبدیلی کی ۔ لیکن نام نہاد اسی لادین طبقے نے یہ مساعی بارآور نہ ہونے دیں ۔ اور پھر ایک ملحدانہ افکار کے حامل پرویز مشرف جیسے شخص نے اسے خالص  سیکولر بنیادیں فراہم کیں ۔ قوم کے وہ حساس حلقے جو اسلامیت کے درد اپنے اندر رکھتے ہیں وہ مسلسل چیخ وپکار کر رہے ہیں لیکن ان...

  • 3 #3265

    مصنف : علامہ محمد شاکر مصری

    مشاہدات : 19208

    شاگرد کو استاد کی چند نصیحتیں

    (اتوار 31 جنوری 2016ء) ناشر : الحفیظ دار الصحت لاہور
    #3265 Book صفحات: 82

    تعلیم ایک ذریعہ ہے،اس کا مقصد اچھی سیرت سازی اور تربیت ہے۔علم ایک روشن چراغ ہے جو انسان کو عمل کی منزل تک پہنچاتا ہے۔اس لحاظ سے تعلیم وتربیت شیوۂ پیغمبری ہے۔ اُستاد اورشاگرد تعلیمی نظام کے دو نہایت اہم عنصر ہیں۔ معلّم کی ذمہ داری صرف سکھانا ہی نہیں، سکھانے کے ساتھ ساتھ تربیت دینا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے بارے میں فرمایا: ﴿يُعَلِّمُهُمُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ وَيُزَكّيهِمۚ…. ﴾ (سورة البقرة: ١٢٩)اور نبی ﷺ ان(لوگوں) کو کتاب وحکمت (سنت) کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ وتربیت کرتے ہیں‘‘۔اس بنا پر یہ نہایت اہم اور مقدس فریضہ ہے ،اسی اہمیت او ر تقدس کے پیش نظر اُستاد اور شاگرد دونوں کی اپنی اپنی جگہ جدا گانہ ذمہ داریاں ہیں۔ اُنہیں پورا کرنا ہر دو جانب کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر ان ذمہ داریوں کو بطریق احسن پورا کیا جائے تو پھر تعلیم بلاشبہ ضامنِ ترقی ہوتی اور فوزوفلاح کے برگ و بار لاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ شاگرد کواستاد کی چند نصیحتیں‘‘ مصری عالم دین فضیلۃ الشیخ علامہ محمد شاکر مصری﷫ کی عربی تصنیف ’&...

  • 4 #3443

    مصنف : ڈاکٹر محمد وسیم اکبر شیخ

    مشاہدات : 6100

    مسلمان استاد

    (پیر 08 فروری 2016ء) ناشر : مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور
    #3443 Book صفحات: 176

    دین اسلام میں تعلیم کی اہمیت مسلّم ہے۔ تاریخ انسانیت میں یہ منفرد مقام اسلام ہی کو حاصل ہے کہ وہ سراسر علم بن کر آیا اور تعلیمی دنیا میں ایک ہمہ گیر انقلاب کا پیامبر ثابت ہوا۔ تعلیم ہی کی بناء پر انسانِ اوّل کو باقی تمام مخلوقات سے ممیز اور برتر فرمایا۔ اسلام کے علاوہ دنیا کا کوئی مذہب یا تمدن ایسا نہیں جس نے تمام انسانوں کی تعلیم کو ضروری قرار دیا ہو، یونان اور چین نے غیر معمولی علمی اور تمدنی ترقی کی لیکن وہ بھی تمام انسانوں کی تعلیم کے قائل نہ تھے بلکہ علم کو ایک خاص طبقہ میں محدود رکھنے کے قائل تھے۔ جس زمانہ میں انڈیا کا تمدن رو بکمال تھا اس میں علم کو برہمنوں میں محدود کر دیا گیا تھا۔ کسی شودر کو تحصیلِ علم کی اجازت نہ تھی۔ شودر کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا جاتا تھا، تاکہ وہ علمی بات نہ سن سکے۔ یورپ کی تنگ نظری اور تعصب کا یہ عالم تھا کہ جو شخص علمی و تحقیقی کام کو سر انجام دیتا اس پرکفر و ارتداد کا فتویٰ عائد کیا جاتا۔ ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کے لیے تعلیم کا ہونا ازحد ضروری ہے۔ درس و تدریس کے میدان میں معلّم کی حیثیت ایک مربی و محسن کی مانند...

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 20340
  • اس ہفتے کے قارئین 349578
  • اس ماہ کے قارئین 1410729
  • کل قارئین95380269

موضوعاتی فہرست