دکھائیں کتب
  • 1 شاگرد کو استاد کی چند نصیحتیں (اتوار 31 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2989

    تعلیم ایک ذریعہ ہے،اس کا مقصد اچھی سیرت سازی اور تربیت ہے۔علم ایک روشن چراغ ہے جو انسان کو عمل کی منزل تک پہنچاتا ہے۔اس لحاظ سے تعلیم وتربیت شیوۂ پیغمبری ہے۔ اُستاد اورشاگرد تعلیمی نظام کے دو نہایت اہم عنصر ہیں۔ معلّم کی ذمہ داری صرف سکھانا ہی نہیں، سکھانے کے ساتھ ساتھ تربیت دینا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے بارے میں فرمایا: ﴿يُعَلِّمُهُمُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ وَيُزَكّيهِمۚ…. ﴾ (سورة البقرة: ١٢٩)اور نبی ﷺ ان(لوگوں) کو کتاب وحکمت (سنت) کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ وتربیت کرتے ہیں‘‘۔اس بنا پر یہ نہایت اہم اور مقدس فریضہ ہے ،اسی اہمیت او ر تقدس کے پیش نظر اُستاد اور شاگرد دونوں کی اپنی اپنی جگہ جدا گانہ ذمہ داریاں ہیں۔ اُنہیں پورا کرنا ہر دو جانب کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر ان ذمہ داریوں کو بطریق احسن پورا کیا جائے تو پھر تعلیم بلاشبہ ضامنِ ترقی ہوتی اور فوزوفلاح کے برگ و بار لاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ شاگرد کواستاد کی چند نصیحتیں‘‘ مصری عالم دین فضیلۃ الشیخ علامہ محمد شاکر مصری﷫ کی عربی تصنیف ’’وصیۃ الآباء للابناء ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔جس میں ایک مشفق استاذ نے شاگرد کو مختلف پند و نصائح سے نوازا ہے۔درحقیقت یہ کتاب اولاد اور طلبہ کی تربیت کےلیے گرانقدر تحفہ ہے ۔ کتا ب ہذا کا مطالعہ اساتذہ کرام اورطلبہ کےلیے نہایت ضروری ہے ۔ اس سےمعلوم ہوگا کہ طلبہ کے کیا فرائض ہیں اور کن کن امور کی انجام دہی ان کےلیے لازمی ہے ۔ مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ کی خصوصی ترغیب پرعربی کتاب کے ترجمہ کی...

  • 2 مسلمان استاد (پیر 08 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1229

    دین اسلام میں تعلیم کی اہمیت مسلّم ہے۔ تاریخ انسانیت میں یہ منفرد مقام اسلام ہی کو حاصل ہے کہ وہ سراسر علم بن کر آیا اور تعلیمی دنیا میں ایک ہمہ گیر انقلاب کا پیامبر ثابت ہوا۔ تعلیم ہی کی بناء پر انسانِ اوّل کو باقی تمام مخلوقات سے ممیز اور برتر فرمایا۔ اسلام کے علاوہ دنیا کا کوئی مذہب یا تمدن ایسا نہیں جس نے تمام انسانوں کی تعلیم کو ضروری قرار دیا ہو، یونان اور چین نے غیر معمولی علمی اور تمدنی ترقی کی لیکن وہ بھی تمام انسانوں کی تعلیم کے قائل نہ تھے بلکہ علم کو ایک خاص طبقہ میں محدود رکھنے کے قائل تھے۔ جس زمانہ میں انڈیا کا تمدن رو بکمال تھا اس میں علم کو برہمنوں میں محدود کر دیا گیا تھا۔ کسی شودر کو تحصیلِ علم کی اجازت نہ تھی۔ شودر کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا جاتا تھا، تاکہ وہ علمی بات نہ سن سکے۔ یورپ کی تنگ نظری اور تعصب کا یہ عالم تھا کہ جو شخص علمی و تحقیقی کام کو سر انجام دیتا اس پرکفر و ارتداد کا فتویٰ عائد کیا جاتا۔ ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کے لیے تعلیم کا ہونا ازحد ضروری ہے۔ درس و تدریس کے میدان میں معلّم کی حیثیت ایک مربی و محسن کی مانند ہے۔ اسلامی معاشرے میں ہمیشہ استاد کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بادشاہوں اور شہزادوں کے دماغ میں استاد کے پاؤں دھونے کی خواہش انگڑائیاں لیتی رہی ہے۔ زیر نظر کتاب"مسلمان استاد" ڈاکٹر محمد وسیم احمد شیخ کی منفرد تصنیف ہے۔ جس میں ڈاکٹر صاحب نے تعلیم و تعلم کی اہمیت، موجودہ نظام تعلیم کی خامیاں، اسلام اور سائنس اور مسلمانوں کی...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1213
  • اس ہفتے کے قارئین: 3095
  • اس ماہ کے قارئین: 35495
  • کل مشاہدات: 43583133

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں