دکھائیں کتب
  • 1 احکام جنازہ (پیر 10 اگست 2015ء)

    مشاہدات:1436

    موت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ موت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔ اسلام نے جہاں زندگی کے بارے میں احکام ومسائل بیان کئے ہیں وہیں موت کے احکام بھی بیان کر دئیے ہیں۔موت کے احکام میں سے کفن ودفن اور نماز جنازہ وغیرہ کے احکام ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "احکام جنازہ"محترم مولانا عبد الرحمن فاضل دیو بند صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے موت اور اس کے متعلقات نیز موت کے بعد پیش آنے والے حقائق کو نبی کریمﷺ اور خدائے قدوس کے فرامین کی روشنی میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب کی خوبی یہی ہے کہ جس منزل سے ہر انسان نے گزرنا ہے اسے مجمل مگر مدلل طور پر پیش کرتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں احکامات الٰہی کو مد نظر رکھے۔ لیکن بدقسمتی سے  ہمارے ہاں تقلیدی رجحانات کی وجہ سے بعض ایسی چیزیں در آئی ہیں جن کا قرآن وسنت سے ثبوت نہیں ملتا۔اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق رکھے ہیں جن کو ادا کرنا اخلاقی اور شرعی فرض بنتا ہے اور انہیں حقوق العباد کا درجہ حاصل ہے۔ان پانچ حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان بھائی فوت ہو جائے تو اس کی نمازہ جنازہ ادا کی جائے اور یہ نمازہ جنازہ حقیقت میں اس جانے والے کے لیے دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اگلی منزل کو آسان فرمائےاس لیے کثرت سے دعائیں کرنی چاہیں۔لیکن بدقسمتی یہ ہے عوام الناس میں اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو جنازے کے مسائل تو دور کی بات جنازہ میں پڑھی جانے والی دعائیں بھی یاد نہیں ہوتیں جس وجہ سے وہ اپنے جانے والے عزیز کے لیے دعا بھی نہیں کر سکتے۔جبکہ اس کے مقابلے میں بعد میں مختلف بدعات کو اختیار کر کے مرنے والے کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ ظاہر کرنا چاہتے ہوتے ہیں جو کہ درست نہیں اورشریعت  کےخلاف ہے۔نماز جناہ کے مسائل میں  سے ایک مسئلہ  نماز جنازہ کی سلام پھیرنے کا  ہے کہ یہ سلام ایک طر ف پھیرہ جائے  کہ دونوں طرف۔ محترم جناب فاروق عبد اللہ بن محمد اشرف الحق ﷾ نے زیر  نظر مختصر کتاب’’ بغیۃ اہل الحاجۃ فی بیان عدد التسلیم فی صلاۃ الجنازہ ‘‘    میں نماز جنازہ میں  سلام پھیرنے کی تعداد کا  تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 3 تحقیق الدعا ء بعد صلوۃ الجنازہ (بدھ 25 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:1899

    نبی کریمﷺ  دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ ﷺنے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے  بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج  بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی  ہے۔اور اس امر کی  بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ  مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات میں سے ایک  نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا بھی ہے۔اکثر دیہاتوں اور بعض شہروں میں نماز جنازہ کے بعد سلام پھیرتے ہی بیٹھ کر اور بعض علاقوں میں کھڑے ہو کر لوگ دعا مانگتے ہیں۔جس کا اسلام ،شریعت ،نبی کریمﷺ ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ بعد میں گھڑی جانے والی بدعات میں سے ایک بدعت ہے۔ زیر نظر کتاب" تحقیق الدعاء بعد صلوۃ الجنازۃ "محترم حکیم سید عزیز علی شاہ ثابت حنفی البخاری ﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنے کو بدعت ثابت کیا ہے اور تمام مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ سنت کی اتباع کریں اور بدعات سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ...

  • 4 جنازہ ،قبر اور تعزیت کی چند بدعات (جمعہ 11 ستمبر 2009ء)

    مشاہدات:19967

    چند صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ان مشہور بدعات کی نشاندہی کرتا ہے جن میں اکثر و بیشتر مسلمان شعوری یا لاشعوری طور پر گرفتار ہیں۔ جنازہ، قبر اور تعزیت سے متعلقہ اکثر بدعات کو بہت سے کتاب و سنت کے شیدائی بھی بدعات نہیں سمجھتے اور ان میں بالواسطہ یا بلا واسطہ شریک ہو جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ان تمام احباب کیلئے انشاء اللہ سنت و بدعت کے درمیان تفریق کا شعور پیدا کرے گا۔

     

     

  • 5 جنازہ غائبانہ (اتوار 16 اگست 2015ء)

    مشاہدات:1831

    موت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ موت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔اسلام نے جہاں زندگی کے بارے میں احکام ومسائل بیان کئے ہیں وہیں موت  کے احکام بھی بیان کر دئیے ہیں۔موت کے احکام میں سے کفن ودفن اور نماز جنازہ وغیرہ کے احکام  بھی ہیں۔غائبانہ نماز جنازہ کے حوالے سے بعض لوگوں کی طرف سے اعتراضات اٹھائے جاتے رہے اور اسے غیر درست قرار دیا جاتا رہا۔ زیر تبصرہ کتاب " الصلوۃ علی المیت الغائب یعنی  جنازہ غائبانہ " محترم جناب کرم الدین سلفی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ غائبانہ نماز جنازہ شرعی طور پر نہ صرف صحیح اور درست ہے بلکہ نبی کریم ﷺ سے بھی ثابت ہے۔جب نبی کریم ﷺ کو حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی وفات کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے اس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبو...

  • 6 جنازہ کے اہم مسائل و احکام (منگل 09 جولائی 2019ء)

    مشاہدات:917

    ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں احکامات الٰہی کو مد نظر رکھے۔ لیکن بدقسمتی سے  ہمارے ہاں تقلیدی رجحانات کی وجہ سے بعض ایسی چیزیں در آئی ہیں جن کا قرآن وسنت سے ثبوت نہیں ملتا۔اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق رکھے ہیں جن کو ادا کرنا اخلاقی اور شرعی فرض بنتا ہے اور انہیں حقوق العباد کا درجہ حاصل ہے۔ان پانچ حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان بھائی فوت ہو جائے تو اس کی نمازہ جنازہ ادا کی جائے اور یہ نمازہ جنازہ حقیقت میں اس جانے والے کے لیے دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اگلی منزل کو آسان فرمائےاس لیے کثرت سے دعائیں کرنی چاہیں۔لیکن بدقسمتی یہ ہے عوام الناس میں اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو جنازے کے مسائل تو دور کی بات جنازہ میں پڑھی جانے والی دعائیں بھی یاد نہیں ہوتیں جس وجہ سے وہ اپنے جانے والے عزیز کے لیے دعا بھی نہیں کر سکتے۔جبکہ اس کے مقابلے میں بعد میں مختلف بدعات کو اختیار کر کے مرنے والے کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ ظاہر کرنا چاہتے ہوتے ہیں جو کہ درست نہیں اورشریعت  کےخلاف ہے۔(م۔ا)

  • 7 جنازے کے مسائل ( فضل الرحمان ) (بدھ 19 اگست 2015ء)

    مشاہدات:3150

    شرعی احکام کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جواہل بدعت کی فتنہ انگیزموشگافیوں کی نذر ہوچکا ہے۔ لوگ ایک عمل نیکی سمجھ کر کرتے ہیں ۔ لیکن حقیقت میں وہ انہیں جہنم کی طرف لے جارہا ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ عمل دین کا حصہ نہیں ہوتا بلکہ دین میں خود ساختہ ایجاد کا مظہر ہوتا ہے اور فرمان نبویﷺ ہے کہ دین میں ہرنئی ایجاد کی جانے والی چیز بدعت ہے ہر بدعت گمراہی ہےاور ہر گمراہی جہنم کی آگ میں لے جائے گی۔جن مسائل میں بکثرت بدعات ایجاد کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے ان میں وفات سےپہلے اور وفات کےبعد کے مسائل نہایت اہمیت کے حامل ہیں اس لیے کہ ان سے ہر درجہ کے انسان کاواسطہ پڑتا رہتا ہے خواہ امیر ہو یا غریب ،بادشاہ ہو یافقیر اور نیک ہو یا بد ۔ زيرتبصره کتاب ’’ جناز ے کے مسائل ‘‘ مولانا فضل الرحمن بن محمد کی تصنیف ہے۔ جس میں انہو ں نے قریب المرگ شخص کو کلمۂ توحید پڑھنے کی تلقین کرنا ، میت کےلیے دعائے خیر کرنا، وارثوں کا صبر سے کام لینا ، بین اور نوحہ کرنے سے پچنا ، خاوند کا بیوی کو اور بیوی کا خاوند کوغسل دینا، میت کا کفن ، حاجی اور شہید کی تجہیز وتکفین،شہید کی فضیلت ، جنازہ پڑھنے کاطریقہ ، جناز ے کی مسنون دعائیں قبرپر نماز جنازہ وغیرہ کے مسائل بیان کرنے کے علاوہ اایصالِ ثواب اور قرآن خوانی اور رسمِ قل جیسی خلاف شرع رسوم جو ہمارے معاشرے میں مروج ہوگئی ہیں ان کے بارے میں اصل حقیقت کی وضاحت کی گئی ہے اور میت کے طرف سے حج بیت اللہ ،رمضان کے روزے   اگر بیماری اور تکلیف کےباعث اس سے نہ رکھے گئے ہوں ، زیارت قبور اور بیماری یا تکلیف میں صبر کا اجر وغیرہ ا...

  • 8 صلاۃ محمدی (جونا گڑھی) (اتوار 09 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1081

    نماز  انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا   دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل  ہے۔ نماز دین کاستون   ہے جس نے اسے قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا  اور جس نے  اسے ترک کردیا ہے اس نے دین کی عمارت کوڈھادیا۔ نماز مسلمان کے افضل اعمال میں سے  ہے۔نماز ایک ایسا صاف ستھرا سرچشمہ ہے جس کےشفاف پانی  سے نمازی  اپنے  گناہوں اور خطاؤں کودھوتا ہے ۔کلمہ توحید کے  اقرار کےبعد سب سے پہلے  جو فریضہ  انسان  پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی  ہے۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قیامت کےدن  اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال  ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے  نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش و منکرات سے انسان کو روکتی ہے۔ بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سے نماز کا پابند بنایا جائے۔  قرآن  وحدیث میں  نماز کو بر وقت  اور باجماعت  اداکرنے کی  بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ اور نمازکی عدم ادائیگی پر وعید کی  گئی ہے ۔نماز کی ادائیگی  اور  اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر  اہم ہے   کہ  سفر وحضر  اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری  ہے۔ نماز کی اہمیت  وفضیلت کے  متعلق بے شمار  احادیث ذخیرۂ  حدیث میں موجود  ہیں او ر  بیسیوں اہل  علم نے  مختلف  انداز میں اس  موض...

  • 9 صلوة الجنازہ کا مسنون طریقہ (جمعہ 05 دسمبر 2008ء)

    مشاہدات:17261

    ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں احکامات الہی کو مد نظر رکھے- لیکن بدقسمتی سے  ہمارے ہاں تقلیدی رجحانات کی وجہ سے بعض ایسی چیزیں در آئی ہیں جن کا قرآن وسنت سے ثبوت نہیں ملتا-اللہ تعالی نے ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق رکھے ہیں جن کو ادا کرنا اخلاقی اور شرعی فرض بنتا ہے اور ان حقوق العباد کا درجہ حاصل ہے-ان پانچ حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان بھائی فوت ہو جائے تو اس کی نمازہ جنازہ ادا کی جائے اور یہ نمازہ جنازہ حقیقت میں اس جانے والے کے لیے دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالی اس کی اگلی منزل کو آسان فرمائے-اس لیے کثرت سے دعائیں کرنی چاہیں –لیکن بدقسمتی یہ ہے عوام الناس میں اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو جنازے کے مسائل تو دور کی بات جنازہ میں پڑھی جانے والی دعائیں بھی یاد نہیں ہوتیں جس وجہ سے وہ اپنے جانے والے عزیز کے لیے دعا بھی نہیں کر سکتے-جبکہ اس کے مقابلے میں بعد میں مختلف بدعات کو اختیار کر کے مرنے والے کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ ظاہر کرنا چاہتے ہوتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے-اس لیے اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کتاب کو تصنیف کیا گیا ہے کیونکہ بہت سے مسلمان نماز جنازہ تو ادا کرتے ہیں لیکن اس میں مسنون طریقے کو ملحوظ  نہ رکھنے کی وجہ سے اجر سے محروم رہ جاتے ہیں - زیر نظر کتاب میں ڈاکٹر ابوجابر عبداللہ دامانوی نے نماز جنازہ سے متعلق تمام احکامات کا احاطہ کیا ہے-جس میں نماز جنازہ کے مکمل مسنون طریقے کے ساتھ ساتھ تعزیت اور زیارت القبور کا طریقہ شامل ہے- اس کے علاوہ مصنف نے جنازہ سے متعلق پائی جانے والی دیگر بدعات اور مسائل کے حوالے سے ...

  • 10 غائبانہ نماز جنازہ (بدھ 06 مارچ 2013ء)

    مشاہدات:64426

    زیر نظر کتاب ’غائبانہ نماز جنازہ حدیث و تاریخ کی روشنی میں‘ مولانا احسان الحق شہباز کی تحریر ہے۔ جس میں انھوں نے احادیث رسولﷺ کے ساتھ ساتھ تاریخ اسلام کے ہر دو سے باقاعدہ دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ غائبانہ جنازہ کا عمل ہر دور میں جاری و ساری رہا ہے اور عام جنازوں  کے علاوہ شہداء کے غائبانہ جنازے بھی ہوئے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلہ میں بہت سے ایسے علما بھی ہیں جو غائبانہ نماز جنازہ کو جائز نہیں سمجھتے۔ اس موقف کے حامل علما کے دلائل کو دیکھتے ہوئے اس کتاب کے مندرجات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔  (ع۔م)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1408
  • اس ہفتے کے قارئین: 8807
  • اس ماہ کے قارئین: 37056
  • کل قارئین : 46505495

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں