ادارہ تحقیقات سلفیہ، گوجرانوالہ

17 کل کتب
دکھائیں

  • مسلمانوں کے مابین باہمی اختلافات کا ہونا ایک فطری امر ہے لیکن ان اختلافات کی بنیاد پر فرقہ واریت کی راہ ہموار کرنا قابل تحسین فعل نہیں ہے- لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اپنے مسلک کو حق پر ثابت کرنے کے لیے دوسرے مسالک پر دشنام طرازی اور گالی گلوچ کا بازار گرم کیا جاتاہے- زیر نظر رسالہ بھی غیر اہلحدیث حضرات کی جانب سے دی جانے والی گالیوں کے جواب میں تحریر کیا گیا ہے-جس میں مختلف بے بنیاد دلائل کے ساتھ اہل حدیث پر طعن اور دشنام طرازی کی ہے ان تمام غلط دلیلوں کا جواب دیا ہے اور فقہ حنفی کی ہی کتابوں سے احناف کے مسلک کو بیان کر سوچنے پر مجبور کیا ہے-مصنف نے گالی کا جواب گالی سے دینے کی بجائے انتہائی سنجیدگی اور متانت کےساتھ مقلدین حضرات کے شبہات کے ازالے کی کوشش کی ہے-
     

  • 2 مکالمات نور پوری (جمعرات 06 اگست 2009ء)

    مشاہدات:22334

    زير نظر کتاب میں مولانا عبدالمنان نوری پوری کے ان مناظرات کو جمع کیا گیا ہے جو وقتا فوقتا مختلف عنوانات پر بذریعہ خط وکتابت ہوئے-ان مکالموں میں کیا مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہے؟کیا تقلید واجب ہے؟تعداد التراویح،مسئلہ رفع الیدین اور فاتحہ خلف الامام جیسے مسائل قابل ذکر ہیں-کتاب کے آخر میں حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کے تین مناظروں کا تذکرہ کیا گیا ہے، جن میں پہلا مناظرہ ایک دین اور چار مذہب کے نام سے  ہے،جس کا جواب قاضی حمیداللہ صاحب نے اظہار المرام کے نام سے دیا اس کا جواب بھٹوی صاحب نے کشف الظلام کی صورت میں دیا-جبکہ تیسرا مناظرہ سورۃ فاتحہ اور احناف کے نام سے سپرد قلم کیا گیا ہے-

  • 3 ہم اہلحدیث کیوں ہوئے؟ (جمعرات 07 اکتوبر 2010ء)

    مشاہدات:22388

    اسلام وحی الہی کی اتباع وپیروی سے عبارت ہے وحی قرآن مجید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت کی صورت میں امت مسلمہ کے پاس محفوظ حالت میں موجود ہے اللہ تبارک وتعالی نے بھی ہمیں یہیں حکم دیا ہے کہ ’’اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم ‘‘یعنی اس شئے کی اتباع کرو جو تمہار ے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ وحی یعنی قرآن وحدیث کے سوا کچھ نہیں اہل حدیث کی صرف یہی دعوت ہے کہ امت فلاح وکامرانی او رکامیابی کا راز کتاب وسنت کی غیر مشروط اطاعت میں مضمر ہے یہ فطری سادہ اور شفاف دعوت ہر طبع سلیم کو اپنی جانب راغب کرتی ہے اور لوگ اپنے آبائی اور علاقائی مسالک ومذاہب کو چھوڑ کر اسے اپنا رہے ہیں زیر نظر کتاب میں چند ایسے ہی خوش قسمت افراد کی داستان بیان کی گئی ہے جنہوں نے وحی کی صدائے دل نواز پہ لبیک کہتےہوئے اپنی تقلیدی مسالک کو ترک کرکے عمل بالحدیث کا مذہب اختیار کیا ٹھنڈے دل اور وسعت قلب کے ساتھ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے انشاء اللہ حق کو قبول کرنے کا جذبہ بیدارہوگا اور خودساختہ فرقوں کی حقیقت نکھر کر نظر وبصر کے سامنے آجائے گی ہم خلوص دل کے ساتھ یہ کتاب ہدیۂ قارئین  کر رہے ہیں امید ہے اسی جذبے کو سامنے رکھتے ہوئے اس کتا ب کا مطالعہ کیا جائے گا


     

  • 4 اور ٹاہلی کٹ گئی (بدھ 18 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:18002

    دنیا میں انبیاے کرام کو مبعوث ہی اس لیے کیا گیا تاکہ وہ دنیا کو شرک اور توہم پرستی کے گڑھے سے نکال کر توحید کے راستے پر گامزن کریں۔شیطان نے چونکہ قیامت تک کے لیے یہ عزم کیا تھا کہ وہ اللہ کی مخلوق کو رحمان کے راستے سے ہٹائے گا اور اس کی انتہائی شکل اللہ رب العالمین کے ساتھ بندوں سے شرک کروانا ہے۔ نبیﷺ جب مبعوث ہوئے تو عرب معاشرہ شرک کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔ جگہ جگہ بت نصب تھے اور لوگ مختلف  توہمات کا شکار تھے۔ نبیﷺ نے ان تمام شرکیہ اعمال کو رد کرتے ہوئے خالص اللہ کی توحید کا پرچار کیا ۔ توہمات کی مخالفت کی اور عرب کی سرزمین سے تمام شرکیہ علامتوں کو ختم کردیا اور اپنے ہاتھ سے کعبہ میں موجود بتوں کو توڑا اور حضرت علیؓ کو تمام تصویروں کو مٹا دینے کا حکم دیا۔شرک و توہمات کا رجحان اسلام کے اندر بھی  در آیا اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ خصوصا برصغیر میں قبرپرستی اور مختلف چیزوں او رمقامات کے تبرک کی آڑ میں پرستش کی جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی  واقعہ پہاڑی  پور تحصیل چک جھمرہ ضلع فیصل آباد میں ایک دربار کے احاطہ میں لگی ٹاہلی کے متعلق ہے کہ جو گرچکی تھی اوراسے کوئی وہاں سے ہٹاتا نہیں تھا معروف یہ تھا کہ صاحب قبر بزرگ اس ٹاہلی کو نہیں اٹھانے دیتے۔ محکمہ انہار نے بھی کرینوں کے ذریعے بڑی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ دربار سے ملحقہ گاؤں والوں کا اعتقاد پختہ ہوچکا تھا کہ یہ دربار والے بابا جی کی کرامت ہے اور لوگ درخت کو چھیڑتے تک نہ تھے کہ کہیں بزرگ کی طرف سے کوئی وبال نہ آئے۔ ارد گرد کے توحید پرست لوگوں سے اس بارے میں گفتگو ہوتی رہتی تھی او ریہ بات آخر کار چیلنج بنا کر پیش کر...

  • 5 گستاخ رسول کی سزا( مختصر الصارم المسلول) (پیر 12 مئی 2014ء)

    مشاہدات:1922

    رسول کریم ﷺ کی عزت،عفت، عظمت اور حرمت اہل ایمان کا جز وِلاینفک ہے اور حبِ رسول ﷺ ایمانیات میں سے ہے اور آپ کی شانِ مبارک پر حملہ اسلام پر حملہ ہے عصر حاضر میں کفار ومشرکین کی جانب سے نبوت ورسالت پر جو رکیک اور ناروا حملے کیے گئے دراصل یہ ان کی شکت خودردگی اور تباہی وبربادی کے ایام ہیں نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کی سز ا قتل کے حوالے سے کتبِ احادیث اورتاریخ وسیرت میں بے شمار واقعات موجود ہیں ۔ شیخ االاسلام اما م ابن تیمیہ ﷫ کی متنوع خدمات کادائرہ بہت وسیع ہے آپ نے ہر میدان میں دفاع او رغلبۂ اسلام کی خاطر خدمات سرانجام دیں ۔ شیخ الاسلام کی مساعی جمیلہ میں سے ایک خوبصورت کارنامہ '' الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ ''ہے جو کہ آپ نے ایک عساف نصرانی کے جواب میں تصنیف فرمائی جس کا ترجمہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے ۔زیر نظرکتاب '' گستاخ رسول کی سزا'' دراصل مختصرالصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ کا اردو ترجمہ ہے یہ اختصار آٹھویں صدی ہجری کے علامہ محمدبن علی الحنبلی(متوفی778ھ) نے کیا اور اس کے ترجمہ کی سعادت محمدخبیب﷾ نے حاصل کی اور ادارہ تحقیقات سلفیہ ،گوجرانوالہ نے اسے حسن طباعت سے آراستہ کیا ہے صاحب اختصار نے '' الصارم المسلول'' میں موجود تمام آیات واحادیث ،اجماع،آثارصحابہ اور ان سے استدلال واجتہاد کو حسن ترتیب سے چن لیا ہے کہ جس سے استفادہ کرنا ہر خاص وعام کے لیے آسان ہوگیا ہے ۔ اللہ تعالی کتاب ہذا کےمصنف ،مترجم ،اور ناشرین کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

    &...

  • 6 حافظ عبد المنان نور پوری  (منگل 01 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2572

    حافظ عبد المنان نور پور ی﷫(1941ء۔26فروری2012؍1360ھ ۔3ربیع الثانی 1433ھ) کی شخصیت  محتاج  تعارف  نہیں ۔آپ زہد ورع اورعلم وفضل کی جامعیت کے اعتبار سے اپنے  اقران معاصر میں ممتاز تھے  اللہ تعالیٰ نے  آپ کو  علم  وتقویٰ کی خوبیوں اور  اخلاق وکردار کی رفعتوں سے نوازا تھا ۔ آپ کا شمار جید اکابر علماء اہل حدیث میں  ہوتاہے حافظ  صاحب بلند پایا کے  عالمِ  دین  اور مدرس  تھے ۔ حافظ  صاحب  1941ءکو  ضلع گوجرانوالہ میں  پیدا ہوئے اور  پرائمری کرنے کے بعد دینی  تعلیم جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے حاصل کی  ۔ حافظ صاحب  کوحافظ  عبد اللہ محدث روپڑی ،حافظ  محمد گوندلوی ، مولانا اسماعیل سلفی  ﷭ وغیرہ  جیسے عظیم  اساتذہ سے شرفِ تلمذ کا اعزاز حاصل ہے۔ جامعہ  محمدیہ  سے  فراغت  کے بعد  آپ  مستقل طور پر جامعہ  محمدیہ گوجرانوالہ میں  مسند تدریس  پر فائز ہوئے  او ر  درس  وتدریس  سے وابسطہ  رہے  اور طویل  عرصہ جامعہ  میں  بطور  شیخ الحدیث  خدمات  سرانجام  دیتے  رہے ۔ اوائل عمرہی  سے  مسند تدریس پر جلوہ افروز ہونےکی وجہ سےآپ کو علوم وفنون میں جامعیت عبور اور دسترس  حاصل تھی  چنانچہ  علماء فضلاء  ،اصحا ب منبرومحراب  اہل تحقیق  واہل فتویٰ بھی  مسائل کی تحقیق کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے&...

  • 7 مقالات نور پوری (ہفتہ 07 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:2752

    حافظ عبد المنان نور پور ی﷫(1941ء۔26فروری2012؍1360ھ ۔3ربیع الثانی 1433ھ) کی شخصیت  محتاج  تعارف  نہیں ۔آپ زہد ورع اورعلم وفضل کی جامعیت کے اعتبار سے اپنے  اقران معاصر میں ممتاز تھے   اللہ تعالیٰ نے  آپ کو  علم  وتقویٰ کی خوبیوں اور  اخلاق وکردار کی رفعتوں سے نوازا تھا ۔ آپ کا شمار جید اکابر علماء اہل حدیث میں  ہوتاہے حافظ  صاحب بلند پایا  عالمِ  دین   اور  قابل ترین مدرس  تھے ۔ حافظ  صاحب   1941ءکو  ضلع گوجرانوالہ میں  پیدا ہوئے اور  پرائمری کرنے کے بعد دینی  تعلیم جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے حاصل کی  ۔ حافظ صاحب   کوحافظ  عبد اللہ محدث روپڑی ،حافظ  محمد گوندلوی ، مولانا اسماعیل سلفی  ﷭ وغیرہ  جیسے عظیم   اساتذہ سے شرفِ تلمذ کا اعزاز حاصل ہے۔ جامعہ  محمدیہ  سے  فراغت  کے بعد  آپ  مستقل طور پر جامعہ  محمدیہ گوجرانوالہ میں  مسند تدریس  پر فائز ہوئے   پھر اسی ادارہ  میں   درس  وتدریس  سے وابسطہ  رہے  اور طویل  عرصہ جامعہ  میں  بطور  شیخ الحدیث   خدمات  سرانجام  دیتے  رہے ۔ اوائل عمرہی  سے  مسند تدریس پر جلوہ افروز ہونےکی وجہ سےآپ کو علوم وفنون میں جامعیت ،عبور اور دسترس  حاصل تھی  چنانچہ  علماء فضلاء  ،اصحا ب منبرومحراب ...

  • امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ حدیث  نبوی    کے ذخائر میں صحیح بخاری کو گوناگوں فوائد اورمنفرد  خصوصیات کی  بنا پر اولین مقام   اور  اصح  الکتب بعد کتاب الله کا اعزاز حاصل ہے ۔بلاشبہ قرآن مجید کےبعد  کسی اور کتاب  کو  یہ مقام حاصل نہیں  ہوا ۔  صحیح بخاری  کو اپنے  زمانہ تدوین سے لے کر ہردور میں یکساں مقبولیت حاصل رہی ۔ائمہ معاصرین اور متاخرین نے صحیح بخاری کی اسانید ومتون کی تنقید وتحقیق  وتفتیش کرنے کے بعد اسے شرف قبولیت سےنوازا اوراس کی صحت پر اجماع کیا ۔ اسی شہرت ومقبولیت کی بناپر ہر دور میں بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر کتا ب’’ تفہیم القاری اردو ترجمہ وتوضیح ارشاد القاری ‘‘ محدث العصر حافظ محمد گوندلوی﷫ کی  ’’ارشاد القاری الی نقد فیض الباری ‘‘ کی  پہلی جلد کا  اردو ترجمہ ہے ۔ارشاد القاری الی نقد فیض الباری&nb...

  • 9 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے (ہفتہ 09 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2112

    جن لوگوں کے اعمال اچھے نہیں ہوتے ہیں یا وہ اچھائی کرنا نہیں چاہتے ہیں،وہ لوگ قیامت کے بارے میں مختلف قسم کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں قیامت نہیں آنی ہے،کبھی کہتے ہیں جزا وسزا نہیں ہوگی،کبھی کہتے ہیں اگر دوبارہ زندہ ہوئے تو جنت میں ہم ہی جائیں گے۔ایسے لوگ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلاء ہیں،ان کو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہئے کہ انصاف کا دن ضرور قائم ہوگا اور انسان کو اس کے اعمال کے مطابق جزا وسزا ضرور ملے گی۔اللہ تعالی ہمیشہ انصاف کرتے ہیں اور قیامت کے دن بھی انصاف کریں گے۔اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتے ۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا ہے اللہ تعالی نیکوکاروں کو تو جہنم میں پھینک دیں اور نافرمانوں اور سرکشوں کو جنت دے دیں،بلکہ ہر شخص سے اس کے اعمال کے مطابق ہی معاملہ کیا جائے گا۔یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت دار الجزاء ہے،وہاں ہر انسان کو اس کے دنیا میں کئے گئے اعمال کے مطابق جزا وسزا ملے گی۔جبکہ ایک محدود حد تک اس دنیا میں بھی اللہ تعالی انسان کو اس کے اچھے یا برے اعمال کا صلہ دے دیتے ہیں۔کارخانہ قدرت کا نظام عدل و انصاف پر مبنی ہے۔اللہ تعالی عدل وانصاف کا اختیار اپنے پاس رکھتے ہیں۔یہاں جو کوئی بھی ظلم کرے گا نظام عدل اس کو ظلم کا بدلہ چکھا دے گا۔ زیر تبصرہ کتاب" جیسا کرو گے ویسا بھرو گے "محترم محمد طیب محمدی کی کاوش ہے جس میں انہوں نے اللہ تعالی کے نظام عدل کا اثبات کرتے ہوئے ظالموں کی اس غلط فہمی کو دور کیا ہے کہ آخرت بھی ان کے لئے ہی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جو جیسا کرےگا ویسا ہی بھرے گا۔جزا وسزا کا دن ضرور قائم ہوگا اور ہر انسان کو اس کے عمل...

  • 10 دین اسلام وحی الٰہی کا نام (منگل 30 جون 2015ء)

    مشاہدات:1593

    اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا ہے۔دین اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے، جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمت الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے، بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے۔ زیر نظر کتاب "دین اسلام،وحی الہی کا نام" اسلام کے انہی عظیم محاسن پر مشتمل ہے ،جو محترم محمد طیب محمدی صاحب کی کاوش ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس وقت دنیا پر اللہ کا پیغام صرف اور صرف دین اسلام کی شکل میں موجود ہے،اس کے علاوہ دیگر تمام مذاہب میں تحریف وتصحیف ہو چکی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو ہم سب مسلمانوں کے نافع ومفید بنائے،اور ہمیں بھی دین اسلام پرصحیح معنوں میں عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین (راسخ)


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1786
  • اس ہفتے کے قارئین: 10539
  • اس ماہ کے قارئین: 35067
  • کل قارئین : 47147640

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں