دکھائیں کتب
  • 1 ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء جلد1 (پیر 20 مئی 2013ء)

    مشاہدات:7368

    اسلام کاسیاسی نظام خلافت ہے اوراس  نظام کی  مثالی شکل خلافت راشدہ کے دور میں ہمیں نظرآتی ہے۔علمائے امت نے ہزاروں کتابیں لکھیں ہیں،جن سے  اس کی توضیح کی گئی ہے۔ازاں جملہ ان  کتابوں کے ایک کتاب شاہ ولی اللہ کی ہے۔اس کتاب میں بھی شاہ صاحب کا تبحر علمی اور قلمی روانی اپناایک اثردیکھاتی ہوئی نظرآتی ہے۔حضرت شاہ صاحب جہاں علوم نقلیہ وعقلیہ میں مہارت رکھتےتھےوہاں  وہ ایک صوفی بھی تھے۔چناچہ اس کتاب میں حضرت شاہ صاحب نے تینوں طرح کا استدلا ل فرمایا ہے ۔اس میں  مسلہ  خلافت کی توضیح ،خلفائے راشدین  کےفضائل ومناقب اور شیخین (ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم)کی افضلیت وبرتری ثابت کرنےکی کو شش فرمائی ہے۔یہ کتاب دوحصوں میں منقسم ہےپہلے حصےکانام مقصداول ہےاور دوسرے حصےکانام مقصددوم ہے۔مقصداول میں قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اوردلائل عقلیہ کے ساتھ خلفائے راشدین کی خلافت کو برحق ہوناثابت کیاگیاہے۔اورمقصددوم میں خلفائےراشدین کےکارناموں کابیان ہے۔مولاناعبد الشکور نےاسے بڑی دیانت داری کےساتھ اردوقالب میں ڈھالنےکی کوشش کی ہےاللہ ان کی محنت کو شرف قبول عطافرمائے۔(ع۔ح)
     

  • 2 اسلام ایک نظر میں (بدھ 18 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:1486

    اسلام دین ہدی بھی اور دین فطرت بھی‘ یہ کائنات کے پیدا کرنے والے نے اپنے بندوں کے فائدے اور ان کی زندکیوں کو آسان بنانے کے لیے(آسان انداز میں) اپنی طرف سے نازل کیا۔ خالقِ کائنات سے بڑھ کر انسان کی ضرورت‘ فطرت اور نفسیات کو کون جان سکتا ہے‘ وہی جانتا تھا کہ کس نظامِ حیات میں انسان صحیح طرح رچ بس سکتا اور کامرانیوں سے ہمکنار ہو سکتا ہے‘ چنانچہ اُس نے ہر دور کے تقاضوں کو پورا کرنے والا دین نازل کیا اور اپنے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے ذریعے دین کی تکمیل اور اتمام کر کے دین کو خوب سنوارا‘نکھارا اور عملی شکل میں واضح کیا۔ لیکن بعد میں اس میں انسانی اختراعات کی ملاوٹ سے مشکل سے مشکل تر بنتا چلا گیا۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہے جس میں مصنف نے اسلام جیسے دین فطرت کو آسان تر انداز میں اختصار کے ساتھ ایک دینِ حیات اور نظام زندگی کے طور پر کتابی شکل میں ہمارے سامنے رکھا ہے۔ مصنف نے صحیح معنوں میں دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں زندگی کے تقریباً تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔ متعلقہ عنوان پر چند سطریں لکھ کر مفہوم کو واضح کیا اور اس عنوان پر قرآن واحادیث پر مبنی مزید حوالہ جات بھی دے دیے ۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام ایک نظر میں ‘‘ڈاکٹر حافظ محمد شہباز حسن کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس...

  • 3 اسلام کا نظریہ تاریخ (جمعرات 28 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2115

    افراد اور اقوام کی زندگی میں جو انقلابات اور تغیرات واقع ہوتے ہیں، ان سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنے مستقبل کی تعمیر وتشکیل اور اپنی قسمت کے بناؤ بگاڑ پر قادر نہیں ہے۔ہر فرد اور ہر قوم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت سے آگے کی جانب قدم نہ  بڑھا سکے تو کم از کم پیچھے ہٹنے پر بھی مجبور نہ ہو۔اگر ترقی  اور اصلاح کی منازل طے نہ کر سکے تو اپنے آپ کو پستی اور ذلت سے محفوظ رکھے۔لیکن اس قسم کی کوششیں بارہا ناکام ہو جاتی ہیں۔افراد پر خوشحالی  اور آسودگی کے بعد اکثر اوقات تنگی اور افلاس کا دور آ جاتا ہے۔قومیں عروج وترقی کے بعد محکومی اور ذلت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔اسی تغیر حال اور انقلاب کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن مجید فرماتا ہے:وتلک الایام نداولھا بین الناس(3:140)اور یہ زمانہ کے انقلابات ہیں جن کو ہم لوگوں میں گردش دیتے رہتے ہیں۔لیکن جب کسی گروہ یا خاندان پر خوشحالی اور قوت واقتدار کا ایک طویل دور گزر جاتا ہے تو اس کے افراد اس دھوکہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کی یہ صورت حال ہمیشہ باقی رہے گی اور ان کی حکومت کبھی ختم نہ ہوگی۔اور اگر کبھی شکست کا دور آ جائے تو اسے ایسے اسباب سے نتھی کر دیتے ہیں  جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا نظریہ تاریخ "محترم محمد مظہر الدین صدیقی کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے اقوام کے عروج وزوال کی اسی تاریخ کو بیان ہے کہ جب قومیں اللہ کی نافرمانی کرتی ہیں تو اللہ تعالی انہیں پستی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ م...

  • 4 اسلامی تمدن و تاریخ (جمعہ 20 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2249

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے باوجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی تمدن وتاریخ "محترم پروفیسر عثمان غنی اور محترم پروفیسر نذیر احمد بھٹی صاحبان کی مشترکہ کوشش ہے،جس میں انہوں نے  بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت  پر روشنی ڈالی ہے۔یہ کتاب انہوں نے انٹر میڈیٹ علوم اسلامیہ کے امتحان کے لئے...

  • ایک نکتہ داں شخص نے کسی قدر سچ کہا ہے کہ "ہم کو صرف یہی رونا نہیں ہے کہ ہمارے زندوں کو یورپ کے زندوں نے مغلوب کر لیا ہے، بلکہ یہ رونا بھی ہے کہ ہمارے مردوں پر یورپ کے مردوں نے فتح پا لی ہے۔"ہر موقع اور ہر محل پر جب شجاعت،ہمت،غیرت،علم وفن الغرض کسی کمال کا ذکر آتا ہے تو اسلامی ناموروں کی بجائے یورپ کے ناموروں کا نام لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ قوم سے قومی حمیت کا مادہ بالکل جاتا رہا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید ےعلیم میں ابتداء سے انتہاء تک اس بات کا موقع ہی نہیں ملتا کہ اسلاف کے کارناموں سے واقفیت حاصل کی جائے۔ اس لئے جب خصائل انسانی کا ذکر آتا ہے تو خواہ مخواہ انہی لوگوں کا نام زبان پر آجاتا ہےجن کے واقعات کی آوازیں کانوں میں گونج رہی ہیں اور یہ وہی یورپ کے نامور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلامی خلفاء وملوک اور تاریخ اسلام سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ" جماعت اہل حدیث کے معروف اور نامورمفسر مولف محترم مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرنے کی سعی مشکور کی ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں "اسلامی ریاست کے تصور" کو اجاگر کرنے اور اسلامی کے نامور حکمرانوں اور مشاہیر کی سوانح حیات کو قلم بند کرتے ہوئے ہمیں اپنے اسلاف کے نمونے کو اپنانے کی جدوجہد کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 6 اسلامی نظریہ اجتماع (پیر 02 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:796

    اسلام نے ا نسان کے یقین اور اس  کےاعمال کی بنیاد رکھی  ہے اس  ناقابل انکار حقیقت پر  کہ انسان خود بخو د  پیدا نہیں ہوا بلکہ کسی ذی شعور صاحب ادراک ہستی برتر نے اسے پیدا کیا ہے ۔ اور اس لیے انسانی  اعمال  وافکار کا محض اس کی رضا واطاعت کے لیے ہونا ضروری ہے ۔انسان کی زندگی انفرادی ، عائلی اوراجتماعی تمام تر اسی مقصد واصول کے تحت تو صحیح  ہے ورنہ غلط ہے۔انسان بولے تواس کے لیے  اور چپ رہے تو اس کے لیے ، شادی کرے بچوں سے محبت کر ے، پڑسیوں کی امداد  کرے یا ملی وقومی فرائض  کو ادا کر ے  الغرض تمام تر امور اسی  ذات واحد کی منشاء  کےلیے  ہوں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’اسلامی نظریہ اجتماع‘‘   جناب حیدر زماں صدیقی کی   مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب میں  اسلام کے ہمہ گیر نظریہ اجتماع کی حقیقت اوراجزاء ترکیبی  سےبحث کی گئی ہے۔طرزِ بیان شگفتہ اور مدلل ہے مصنف نے دلنشیں انداز میں مسئلہ زیربحث سے متعلق تقریباً سب کچھ کہہ دیا ہے   پہلی دفعہ یہ کتاب تقسیم ہند کےوقت اگست؍1947ء کو  حید رآباد دکن سے شائع ہوئی۔موجود ہ ایڈیشن ادارہ  ترجمان القرآن ،لاہور نے  1989ء میں شائع کیا ہے۔(م۔ا)

  • زیر مطالعہ کتاب ابوالحسن علی ندوی کی وہ شاہکار تصنیف ہے جس میں انھوں نے انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کی خونچکاں داستان رقم کی ہے۔ مصنف نے ان نقصانات کی نشاندہی کی ہے جو مسلمانوں کے تنزل و زوال اور دنیا کی قیادت و رہنمائی سے کنارہ کش ہو جانے سے انسانیت کو پہنچے۔ اس کے لیے انھوں نے عام انسانی تاریخ، نیز اسلامی تاریخ کا جائزہ لیا اور دکھایا کہ محمد ﷺ کی بعثت کس جاہلی ماحول میں ہوئی پھر آپ کی دعوت و تربیت کے باوصف کس طرح ایک امت تیار ہوئی جس نے دنیا کی زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لی اور اس کے اقتدار و امامت کا دنیا کی تہذیب اور لوگوں کے رجحانات و کردار پر کیا اثر پڑا۔ کس طرح دنیا کا رخ ہمہ گیر خدافراموشی سے ہمہ گیر خدا پرستی کی طرف تبدیل ہوا۔ پھر کس طرح اس امت میں زوال و انحطاط کا آغاز ہوا اور اس کو دنیا کی قیادت و امامت سے ہاتھ دھونا پڑےاور کس طرح یہ قیادت مادہ پرست یورپ کی طرف منتقل ہوئی۔ اس وقت مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہے اور وہ اس سے کس طرح عہدہ برآ ہو سکتےہیں۔ ان تمام سوالات کے تشفی بخش جوابات اس کتاب کا موضوع ہیں۔ کتاب کی افادیت کا اس سے اندازہ کیجئے کہ اس کے عربی، اردو، انگریزی، ترکی، فارسی اور فرنچ زبان میں تراجم ہوئے اور متعدد ایڈیشن نکلے۔ اردو میں اس کتاب کا یہ گیارہواں ایڈیشن ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 8 ایوبی کی یلغاریں (ہفتہ 25 ستمبر 2010ء)

    مشاہدات:18765

    اسلامی تاریخ میں جو شخصیات مسلمانوں کےلیے سرمایۂ افتخار کی حیثیت رکھتی ہیں ان میں ایک نمایاں نام سلطان یوسف المعروف صلاح الدین ایوبی کا ہے جنہوں نے اپنی بے مثال شجاعت اور جرأت واستقلال سے قبلۂ اول فلسطین کو صلیبیوں کے پنجۂ استبداء سے آزادکروایا ۔سلطان صلاح الدین ایوبی کی پوری زندگی ان کے دلیرانہ اور بہادرانہ کارناموں سے بھری پڑی ہے موصوف نے ہمیشہ ملت کے دفاع کااور اسلام کی سربلندی کےلیے اپنی شمشیر کو بے نیام کرتے ہوئے میدان قتال مین دادشجاعت دی ہے زیر نظر کتاب میں ان کی زندگی کے آخری چھ سالوں کے مختلف واقعات کو جمع کیا گیا ہے جو سلطان کی حیات کے سب سے قیمتی اور یادگار ایام ہیں کہ جن میں انہوں نے مسلسل صلیبیوں سے گھیر گھیر کر ان کا شکار کرتے ہوئے بیت المقدس کو ان کے ناپاک عزائم سے بچانے کےلیے اللہ کے گھر کی عزت وناموس کی رکھوالی کے لیے  دن رات اپنی جان ہتھیلی پرلیے شمشیروں کی چھاوں میں ،تیروں کی بارش میں ،نیزوں کی انیوں میں،گھوڑے کی پشت پر بیٹھ کر اس کو شمن کی صفوں  میں سرمیٹ دوڑاتے ہوئے تلوار بلند کرتے ہوئے اللہ کے باغیوں ،کافروں ،ظالموں کی گردنیں اڑاتے ہوئے بسرکیا زیر نظر صفحات میں آپ کو یہی نظارے نظر آئیں گے۔


     

  • 9 تاریخ ابن خلدون جلد 1 (ہفتہ 08 جنوری 2011ء)

    مشاہدات:17390

    کسی بھی معاشرے کی تعمیر کے لیے یہ عنصر خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ معاشرہ اپنی تاریخی روایات سے سبق سیکھتا رہے۔ تاریخ ہی اس بات سے پردہ اٹھاتی ہے کہ کن اسباب کی بناء پر ایک قوم ترقی کرتی ہے کس قسم کے نقائص کی وجہ سے ایک قوم زبوں حالی کا شکار ہو جاتی ہے۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ کی تیسری جلد کا پہلا حصہ آپ کے سامنے ہے جس میں اسلامی تاریخ کے نہایت درخشاں دور کو صفحہ قرطاس پر بکھیرا گیا ہے۔ علامہ عبدالرحمن ابن خلدون نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ زمانہ قبل ازاسلام کے واقعات کو مختصراً قلمبند کرنے کے بعد ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر وفات تک کے تمام قابل ذکر واقعات کو بیان کیا ہے۔  اس کے بعد خلفائے راشدین کے زریں عہد خلافت پر روشنی ڈالی گئی ہے اس میں خلفائے راشدین کی زندگیوں، ان کے دور میں ہونے والی فتوحات اور مسلمانوں کے کارناموں کو پوری تفصیل و توضیح کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس حصے کے ترجمے کے لیے حکیم احمد حسین الہ آبادی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور ترتیب و تبویب کے فرائض شبیر حسین قریشی نے بخوبی نبھائے ہیں۔

     

     

  • 10 تاریخ ابن خلدون( قبل ازاسلام ،تاریخ الانبیاء) (جمعہ 07 جنوری 2011ء)

    مشاہدات:11776

    تاریخ ایک انتہائی دلچسپ علم ہے خاص طور پر اسلامی تاریخ، جس میں صداقت کو خصوصاً ملحوظ رکھا گیا ہے دنیا کی تاریخ جھوٹے سچے واقعات سے پُر ہے، جس سےاس کی افادیت کا پہلو دھندلاگیا ہے ۔ تاریخ اسلامی پر مشتمل علامہ عبدالرحمن ابن خلدون کی زیر مطالعہ کتاب کی ورق گردانی سے آپ جان سکیں گے کہ اسلامی تاریخ میں تاریخی واقعات کو حقیقی رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور اس میں کسی قسم کے رطب و یابس کا کوئی دخل نہیں ہے۔ آپ کےسامنے اس وقت ’تاریخ ابن خلدون‘ کا پہلا اور دوسرا حصہ ہے۔ پہلے حصے میں علامہ موصوف نے حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد چھٹی صدی عیسوی تک کے حالات و انساب تفصیل کےساتھ درج کیے ہیں۔ ان میں انبیائے بنی اسرائیل و عرب اور بابل و نینوا و موصل و فراغہ کے صحیح اور سچے واقعات شامل ہیں۔ دوسرے حصے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک تقریباً چھ سو سال کے مکمل حالات، عقائد و افکار میں تغیرات، مراسم اور توہمات کی پیداوار اور ان کے نتائج کی پوری تفصیل و استناد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 928
  • اس ہفتے کے قارئین: 4315
  • اس ماہ کے قارئین: 25008
  • کل مشاہدات: 45232431

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں