کل کتب 4

دکھائیں
کتب
  • 1 #7006

    مصنف : فضل الرحمٰن صدیقی

    مشاہدات : 641

    جشن و جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم غلو فی الدین

    (بدھ 10 جولائی 2019ء) ناشر : مرکزی جمعیت اہل حدیث برمنگھم برطانیہ

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور  احادیث نبویہ میں اللہ  اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات  ہیں  ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی  نہ کرنے میں ہے  اللہ اور رسولﷺکی اطاعت  عقائد ،عبادات ،معاملات ،  اخلاق کردار  ہر الغرض ہر میدان  میں قرآن  واحادیث کو پڑھنے  پڑھانے  سیکھنے  سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونےکی صورت میں ہوسکتی  ہے  مسلمانوں کوعملی زندگی میں  اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اور  سلسلے میں صحابہ کرام ﷢ کے طرزِ عمل  سے راہنمائی لینے  چاہیے کہ انہوں  نے قرآن وحدیث پر کیسے  عمل کیا  کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ  تعالی نے معیار حق  قرار دیا ہے۔ اورنبی ﷺنے  بھی اختلافات کی صورت  میں   سنتِ نبویہ  اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی  ہے جب مسلمان  سنت ِنبویہ اور خلفائے راشدین کے طرز ِعمل کوچھوڑ دیں گے تو  وہ دین میں نئے نئے کام  ایجاد کرکے  بدعات میں ڈوب جائیں گے  اور سیدھے  راستے سے بھٹک جائیں گے یہی حال اس  وقت  مسلمانوں  کا ہے ۔متازعہ مسائل میں  سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے  بہت سارے  مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول  کو عید  میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے  ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے  ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے  محفلیں منعقدکی جاتی  ہیں  اور بعض ملکوں میں سرکاری طور   پر چھٹی کی جاتی  ہے۔ لیکن اگر  قرآن  وحدیث اور قرون اولیٰ کی  تاریخ  کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے  تو  ہمیں پتہ چلتا ہےکہ  قرآن وحدیث  میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے  اور نہ  نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ  ہی اسکی  ترغیب دلائی ،  قرونِ اولیٰ یعنی  صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا  ان کے  ہاں  بھی اس  عید کوئی تصور نہ  تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے  اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید  کا کو ئی تصور  تھا اور نہ وہ اسے  مناتے  تھے  او ر نہ ہی  وہ اپنے شاگردوں کو اس  کی تلقین کرتےتھے  بلکہ نبی  کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز  نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔اس بدعت میلاد کےبارے میں کافی کچھ لکھا جاچکا ہے  لیکن پھربھی  برصغیر پاک وہند کے، یورپین ممالک   بالخصوص انگلینڈ کے اہل بدعت مولوی اس رسم کے احیا ءوترویج کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ وہ سادہ لوح عوام کواصل دین تو کیا بتاتے ،یہود ونصاریٰ کی نقل میں انہیں چند بےاصل رسومات کا خوگر بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کازور لگائے ہوئے ہیں۔ان کے نزدیک نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور حلال وحرام کی تمیز اتنی اہم نہیں جتنی ان بدعات کی آبیاری اور پاسداری۔انگلینڈ میں جہاں پاکستان وہندی الاصل مسلمانوں کی دوسری نسل وجود میں آچکی ہےاور جو مغربی تہذیب کےسایہ میں پروان چڑھ کر خود اپنے دین و ایمان کی بازی لگا چکی ہے۔ وہاں بجائے اس کے کہ انہیں تعلیم وتربیت ،نصیحت وفہمائش اور پیار ومحبت سے اصل دین کی طرف مائل کیاجاتا،بدعتی علماء انہیں میلاد کےجلوسوں ،گیارہویں کے لنگر وں ،مُردوں کےختم اور پیروں فقیروں کےلاتعداد عرسوں پر مشتمل ایک خود  ساختہ دین کا عادی بنارہے ہیں۔الحمد للہ دیار غیر میں  ایسے علماء حق بھی موجود ہیں جودین کے نام  پر کی جانے والی دکانداری کو خوب سمجھتے ہیں اور تحریر وتقریر کےذریعہ قرآن وسنت کی صحیح تعلیمات کو اجاگر کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ زیر تبصرہ  کتاب’’جشن وجلوس عید میلاد النبیﷺ غلو فی الدین‘‘ انگلینڈمیں  مقیم جناب فضل الرحمٰن صدیقی صاحب کی کاوش ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں  میلاد کے جوازپر مصر اہل بدعت کےپیش کردہ ہفوات کوقرآن وسنت،تعامل صحابہ﷜، فرمودات ائمہ وربعد کے ادوار کےعلماء عظام کی تحقیقات کی روشنی میں خس وخاشاک کی مانند اکھاڑ پھینکا ہے۔مصنف موصوف اہل بدعت کےسرخیل پیشواؤں کی تحریروں کے خوب شناسا ہیں اس لیے  انہو ں نے  کمال محنت کےساتھ ان کے اصل روپ کونمایاں کیا ہے جو حب رسول ﷺکے لبادہ میں درحقیقت اہانتِ رسولﷺ کاغماز ہے۔اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کوقبول فرمائے  اوراسےعوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • 2 #5007

    مصنف : عبد القادر حصاروی

    مشاہدات : 1336

    ختم مروجہ برطعام کی تردید سدید

    (اتوار 25 دسمبر 2016ء) ناشر : دار الخلد، لاہور

    اسلام اللہ تعالی کا دیا ہوا دین ہے۔یہ نہ تو عوام کی من مانیوں کا مرکب ہے اور نہ ہی کسی کی خواہشات کے تابع ہے۔نہ اسے بزرگوں کی اندھی تقلید سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی معاشرے کی خود ساختہ رسوم وبدعات سے کوئی سروکار ہے۔بلکہ یہ تو سیدھی کھری اور دو ٹوک بات کرتا ہےکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔یہی وہ خالص اور بنیادی تعلیم ہے جو ہر قسم کی آمیزش سے پاک ہے۔اس میں نہ مرغوبات نفس کا دخل ہے نہ کج رو عقل کا۔مگر انتہائی دکھ کی بات ہے کہ آج اس کا خالص رنگ نظر نہیں آتا، بلکہ سنت کو پامال کیا جا رہا ہے اور رسوم وبدعات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں۔انہی بے شمار بدعات میں سے ایک معروف ترین بدعت کھانے پر ختم پڑھنے کی بدعت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" ختم مروجہ بر طعام کی تردید سدید "محقق شہیر  محترم مولانا عبد القادر عارف حصاروی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس پر محترم مولانا محمد شریف حصاروی صاحب نے تحقیق فرمائی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے  ختم مروجہ کو بدعت ثابت کیا ہے اوردلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ اس کا قرآن وسنت میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 #6179

    مصنف : ضیاء الحسن محمد سلفی

    مشاہدات : 1247

    شب برات کی حقیقت کتاب و سنت کی روشنی میں

    (پیر 22 جنوری 2018ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    دین ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو کہ نبیﷺ کی زندگی میں ہی مرحلۂ تکمیل کو پہنچ گیا تھا۔ اب اس میں کسی بھی قسم کی کمی وبیشی کرنا حرام ہے۔ خود نبیﷺ نے اپنی زندگی مبارک میں تبلیغ دین کا حق ادا کر دیا اور دین کو کوئی گوشہ تشنہ نہ چھوڑا اور آپ نے اپنے اقوال وافعال کے ذریعہ اپنی امت کے لیے ہر اس امر کی وضاحت فرما دی جسے اللہ نے مشروع کر دیا یا جس کو شریعت نے حرام وناجائز بتلایا اور اِس کی گواہی حجۃ الوداع کے تاریخی موقعہ پر صحابہؓ کے جم غفیر نے دی۔ اب نبیﷺ کے بعد دین میں کسی بھی ایسی بات کا اضافہ جو نبیﷺ نے نہیں کی یا بتلائی تو وہ بدعت وگمراہی کے سوا کچھ حیثیت نہ رکھے گی۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں   ان  غیر مشروع اعمال کو بیان کیا گیا ہے جو شب برات کے دن یا رات کو کیے جاتے ہیں اور وہ نہ نبیﷺ سے ثابت ہیں‘ نہ صحابہ سے اور نہ ہی تابعین عظام سے مثلا قبروں کی زیارت کا اہتمام‘ آتش بازی وچراغاں کرنا‘ شب برات کا روزہ اور قیام‘ مخصوص نماز کا اہتمام وغیرہ۔ اور اس میں شب برات کی شرعی حیثیت کے بارے میں بھی گفتگو موجود ہے۔ اس کتاب میں حوالہ جات کا اہتمام نہیں کیا گیا جو اس کتاب میں نقص یا عیب ہے۔ یہ کتاب’’ شب برأت کی حقیقت کتاب و سنت کی روشنی میں‘‘ ضياء الحسن محمد سلفی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 4 #6047

    مصنف : ابو بکر جابر الجزائری

    مشاہدات : 1297

    محفل میلاد قرآن و حدیث کی روشنی میں

    (پیر 25 دسمبر 2017ء) ناشر : مکتبہ محمدیہ،چیچہ وطنی

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے مسلمانوں کوعملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اس سلسلے میں صحابہ کرام ﷢ کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبی ﷺنے بھی اختلافات کی صورت میں سنتِ نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی ہےمتازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور   پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔ہمارے ہاں ہر سال ماہ ربیع الاول کی آمد یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ عیدِ میلاد النبی ﷺ پر جشن وغیرہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ او ر نبی اکرم ﷺکی ولادت باسعادت کس تاریخ کو ہوئی۔ زیر تبصرہ کتاب’’محفل میلاد قرآن وحدیث کی روشنی میں‘‘ معروف عالم دین شیخ ابوبکر جابر الجزائری کے میلاد کے متعلق لکھے گئے عربی رسالہ کا ترجمہ ہے ۔شیخ موصوف نے حقیقت پسندی سے قرآن وحدیث کی روشنی میں محفل میلاد کاجائزہ لیا ہے۔ جناب سیدمشتاق علی ندوی نے 1405ھ میں اس کتابچہ کا سلیس ترجمہ کیا اور مدینہ یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر سید محمد اجتباء ندوی اور ڈاکٹر فواد عبد الرحیم کو چیک کروا کر مصنف کتاب کو پیش کیا تو مصنف کی سفارش پرمترجم نے اس ترجمہ کو دار الافتاء کے صدر شیخ ابن باز ﷫ کے سامنے پیش کیا شیخ نے اس کی اہمیت افادیت کے پیش نظر اس کے پچاس ہزار نسخے چھپوا کر تقسیم کر نے کے احکامات صادر کیے۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو بدعات وخرافات میں گھرے مسلمانوں اصلاح کا ذریعہ   بنائے۔ (م۔ا)

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1913
  • اس ہفتے کے قارئین 7753
  • اس ماہ کے قارئین 59786
  • کل قارئین49531329

موضوعاتی فہرست