کل کتب 15

دکھائیں
کتب
  • 1 #1546

    مصنف : صلاح الدین حیدر لکھوی

    مشاہدات : 25183

    اسلام کا قانون وراثت

    (بدھ 12 دسمبر 2012ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    علم الفرائض شرعی قوانین میں اہم ترین موضوع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کے احکام قرآن مبین میں بیان فرمائے ہیں۔ کسی بھی شخص کو ان احکام میں کمی بیشی کی اجازت نہیں ہے۔ جملہ مفسرین نے اپنی اپنی کتب میں ان آیات کی تفیسر اور تاویل فرمائی۔ اسی طرح محدثین کرام نے بھی اپنی کتابوں میں وراثت سے متعلقہ احادیث کو مختلف ابواب کے تحت بیان فرمایا ہے۔ علم المیراث کی اہمیت کے پیش نظر عربی اور اردو میں اب تک اس موضوع پر دسیوں کتابیں وجود میں آ چکی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’قانون وراثت‘ اس سلسلہ میں ایک بہت اچھا اضافہ ہے۔ مسئلہ وراثت پر لکھی جانے والی دیگر کتب میں طلبا کے ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے عملی طور پر مثالیں دے کر ان قواعد کی تشریح اور وضاحت نہیں کی جاتی جس اہتمام کے ساتھ شیخ صلاح الدین لکھوی نے اپنی کتاب میں رقم کیے ہیں۔ مصنف نے وراثت کے جملہ قواعد کو مثالوں اور نقشوں کے ذریعے وضاحت کے ساتھ تحریرکیا ہے۔ تاکہ طلبہ کو اس مشکل کو سمجھنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو اور ساتھ ساتھ اس موضوع میں دلچسپی بھی پیدا ہو۔(ع۔م)
     

  • 2 #1485

    مصنف : ابو نعمان بشیر احمد

    مشاہدات : 21135

    اسلامی قانون وراثت (سوالاً جواباً)

    (منگل 07 اگست 2012ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    دیگر معاملات کی طرح تقسیم وراثیت سے متعلقہ اسلام کی تعلیمات نہایت عادلانہ اور منصفانہ ہیں۔ تاکہ مرحومین کے پسماندگان کی مامون و محفوظ اور پر امن دنیوی زندگی کا اہتمام ہو سکے۔ لیکن نہ معلوم کس وجہ سے بہت سے علماے کرام اور اہل علم حضرات بھی تقسیم وراثت کے حوالے سے دینی احکامات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’اسلامی قانون وراثت‘ جہاں علمائے کرام کے لیے استفادے کا باعث بنے گی وہیں طلبا اور عامۃ المسلمین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ فاضل مصنف ابونعمان بشیر نے وراثت کے مبادیات، موانع، ترکہ کے متعلق امور، مستحقین اور ان کے حصص، عصبات، حجب سے لےکر تقسیم ترکہ، تخارج، خنثیٰ، حمل سمیت تمام موضوعات نہایت جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ یوں سوالاً جواباً انداز میں لکھی گئی یہ کتاب طلبہ کے لیے بالخصوص مفید ثابت ہوگی، اسے مدارس کے نصاب میں شامل کیا جائے تو یہ ابتدائی کلاسوں کے لیے آسان جدید اسلوب میں نہایت مفید اضافہ ثابت ہوگی تاہم اس کا مطالعہ دین کا فہم حاصل کرنے کے متمنی ہر مسلمان مرد اور عورت کو بھی کرنا چاہئے۔(ع۔م)
     

  • اسلامی وراثت

    (جمعہ 22 نومبر 2019ء) ناشر : جامعہ تعلیم القرآن و الحدیث کراچی

    فوت ہونے والا شخص  اپنےپیچھے  جو اپنا مال ، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے  اسے  ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں ۔ کسی مرنے والے مرد یا  عورت  کی اشیاء اور  وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے  یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا  ملتا ہے شرعی  اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے  ہیں ۔ علم  الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے ۔قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ  کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے ۔چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی  کے  نہایت اہم پہلو سے  ہے ۔ اس لیے  نبی اکرمﷺ نےبھی صحابہ کواس علم کےطرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے  دین کا  نہایت ضروری جزء قرار دیا ۔صحابہ کرام میں  سیدنا علی  ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس،سیدنا عبد اللہ بن مسعود،سیدنا زیدبن ثابت﷢ کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کےبعد زمانےکی ضروریات نےدیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی اہمیت کے پش نظراس کے لیے  خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک   شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی  میں غوروفکر کر کے تفصیلی وجزئی قواعد مستخرج کیے۔اہل علم نے   اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ اسلامی وراثت ‘‘ از مفتی عبد الرحیم  حاکم الدین رحمانی آف کراچی  کتب وراثت کی لسٹ میں ایک اہم اضافہ ہے  صاحب کتاب  نے  کتاب وسنت  سائٹ پر پبلش کرنے کےلیے خود اس کتاب کی   پی ڈی ایف ادارے  کو  ارسال کی ہے اللہ تعالیٰ ان  کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین (م۔ا) 

  • 4 #3842

    مصنف : محمد یعقوب بن مولوی فضل الٰہی

    مشاہدات : 1948

    اعانۃ الراجی علی تصریح السراجی

    (اتوار 20 دسمبر 2015ء) ناشر : القمر پرنٹنگ ایجنسی لاہور

    فوت ہونے والا شخص اپنےپیچھے جو اپنا مال ، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے اسے ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں ۔ کسی مرنے والے مرد یا عورت کی اشیاء اور وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا ملتا ہے شرعی اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے ہیں ۔ علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے ۔قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے ۔چونکہ احکام ِوراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے ۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نےبھی صحابہ کواس علم کےطرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا ۔صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس،سیدنا عبد اللہ بن مسعود،سیدنا زیدبن ثابت کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کےبعد زمانےکی ضروریات نےدیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غوروفکر کر کے تفصیلی وجزئی قواعد مستخرج کیے۔اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ إعانۃ الراجی علی تصریح السراجی ‘‘ فضیلۃ الشیخ محمدیعقوب ﷾ (شیخ الحدیث جامعۃ العلوم الاثریہ ،جہلم) کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب مدارس ِ اسلامیہ میں شامل نصاب وراثت کی معروف کتاب کی شرح وتصريح ہے۔یہ کتاب مسائل ِوراثت میں ایک مفصل،عام فہم اور آسان کتاب ہے جس میں متوفیٰ کےترکہ میں سے اس کے فن ودفن ،قرضےکی ادائیگی ، وصیت پر عمل سے لے کر، اصحاب الفروض (جن کے حصص کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے ) اوران کےحصص ،عصبات کی اقسام اور ان کے حصص نیز ان کی علی الترتیب متوفیٰ کے ترکہ (مال) میں وراثت کی تقسیم کا ذکر وضاحت کےساتھ موجود ہے۔اور کسی وارث کے نہ ہونے پر جن ائمہ کے نزدیک ذووالارحام وارث ہیں ، ان کی باالترتیب اصناف اور ان کی وراثت کے ذکر سے بھی یہ کتاب خالی نہیں ہے۔جہات ِمختلفہ سےایک انسان کی وراثت ، مسئلہ عول ، تصحیح کے قواعد، مفقود الخبر ،ارتداد نیز دیگر اہم مسائل کابیان بھی اس میں مذکور ہے ۔کتاب کے آخر میں ’’تجزیۃ الوارثت‘‘ کے عنوان سے کسی بھی متوفیٰ کے اصحاب الفروض عصبات اور ذووالارحام کاذکر ، نیز ان کے حصص کی ایک مختصر فہرست دے دی گئی ہے۔ جس سےورثاء او ران کے حصص کو سمجھنے میں مزیدآسانی ہوگئی ۔یہ کتاب ہر طبقہ کےاہل علم کےلیے ایک مفید کتاب ہے، جو وراثت کےمسائل کوسمجھنے کےلیے اس سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کتاب کےفاضل مصنف کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے (آمین) ۔(م۔ا)

  • 5 #4316

    مصنف : محمد محفوظ اعوان

    مشاہدات : 4057

    الاعوان الناجیۃ فی شرح الفرائض السراجیۃ (اردو)

    (بدھ 09 مارچ 2016ء) ناشر : جامعۃ الامام البخاری، سرگودھا

    فوت ہونے والا شخص اپنےپیچھے جو اپنا مال، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے اسے ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں۔ کسی مرنے والے مرد یا عورت کی اشیاء اور وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا ملتا ہے شرعی اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے ہیں۔ علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔ قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے۔ چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے ۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نے بھی صحابہ کواس علم کے طرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا۔ صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا زید بن ثابت ﷢ کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے۔ صحابہ کے بعد زمانےکی ضروریات نے دیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غورو فکر کر کے تفصیلی و جزئی قواعد مستخرج کیے۔ اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’الاعوان الناجیۃ فی شرح الفرائض السراجیۃ‘‘ مولانا ابو میمون محمدمحفوظ اعوان کی تصنیف ہے ۔مصنف نے موصوف نے اس کتاب میں مدارس دینیہ کے نصاب میں وراثت کے موضوع پر شامل معروف کتاب ’’سراجی ‘‘ کی تسہیل وتشریح اور تمام مسائل کو مثالوں سے عملی طور پر حل کرکے اردودان علم وراثت میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے انتہائی آسان کر دیا ہے۔ یہ کتاب علم میراث پڑہنے والے طلباء کےلیے انتہائی عمدہ کاوش ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کے علم وعمل میں برکت فرمائے اور ان کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے۔ (آمین) (م۔ا)

  • 6 #5817

    مصنف : محمد سعید کلیروی

    مشاہدات : 1960

    تسہیل المواریث فی حل تمارین فقہ المواریث

    (پیر 25 ستمبر 2017ء) ناشر : دار الخلد، لاہور

    فوت ہونے والا شخص اپنےپیچھے جو اپنا مال ، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے اسے ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں ۔ کسی مرنے والے مرد یا عورت کی اشیاء اور وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا ملتا ہے شرعی اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے ہیں ۔ علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے ۔قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے ۔چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے ۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نےبھی صحابہ کواس علم کےطرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا ۔صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس،سیدنا عبد اللہ بن مسعود،سیدنا زیدبن ثابت کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کےبعد زمانےکی ضروریات نےدیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غوروفکر کر کے تفصیلی وجزئی قواعد مستخرج کیے۔اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تسهيل المواريث فى حل تمرين فقه المواريث(اردو)‘‘ پروفیسر حافظ سعید کلیروی، عطاء اللہ ساجد اور عبد القہار محسن ان تینوں کی کتاب ہے۔ جس میں وراثت کے اصول، مسئلہ کا طریقہ اور دیگر وراثت سے متعلقہ مشکل مسائل کے حل کو انتہائی آسان اور قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کر دئیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فاضل مرتب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔آمین۔ (رفیق الرحمن)

  • 7 #3549

    مصنف : ابو السلام محمد صدیق

    مشاہدات : 2279

    تعلیم الفرائض

    (ہفتہ 12 ستمبر 2015ء) ناشر : ادارہ احیاء السنۃ النبویۃ، سرگودھا

    فوت ہونے والا شخص اپنےپیچھے جو اپنا مال ، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے اسے ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں ۔ کسی مرنے والے مرد یا عورت کی اشیاء اور وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا ملتا ہے شرعی اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے ہیں ۔ علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے ۔قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے ۔چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے ۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نےبھی صحابہ کواس علم کےطرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا ۔صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس،سیدنا عبد اللہ بن مسعود،سیدنا زیدبن ثابت﷢ کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کےبعد زمانےکی ضروریات نےدیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غوروفکر کر کے تفصیلی وجزئی قواعد مستخرج کیے۔اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تعلیم الفرائض‘‘محدث العصر مجتہد وفقیہ حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کے لائق ترین شاگرد اور روپڑی ﷫ کے فتاوی ٰ جات کو تین مجلدات میں فتاویٰ اہل حدیث کے نام سے مرتب کرنے والے ابوالسلام مولانا محمد صدیق سرگودہوی﷫ کی مرتب شدہ ہے ۔ یہ کتاب در اصل محدث روپڑی کے ارشاد پر ’’وارثت اسلامیہ‘‘   کےنام سے   مرتب کیے گئے نقشہ کی طبع دوم ہے مولانا صاحب نے جب اس نقشہ کومرتب کیا تو اکابر علماء وقت نے اسے بہت پسند کیا ۔تو پھر مرتب نے اس میں بعض مسائل کا اضافہ کیا اور اسے ’’تعلیم الفرائض ‘‘ کے نام سے شائع کیا ۔اسلامی وراثت کے موضوع پر یہ کتا ب مختصر ،جامع اور آسان تصنیف ہے ۔ اسی وجہ سے اکثر مدارس سلفیہ میں شامل نصاب ہے۔ (م۔ا)

  • 8 #1629

    مصنف : فاروق اصغر صارم

    مشاہدات : 17452

    تفہیم المواریث

    (منگل 06 نومبر 2012ء) ناشر : مکتبہ نعمانیہ، گوجرانوالہ

    دیگر معاملات کی طرح تقسیم وراثت سے متعلقہ اسلام کی تعلیمات نہایت عادلانہ اور منصفانہ ہیں۔ تاکہ مرحومین کے پسماندگان کی مامون و محفوظ اور پر امن دنیوی زندگی کا اہتمام ہو سکے۔ لیکن نہ معلوم کس وجہ سے بہت سے علماے کرام اور اہل علم حضرات بھی تقسیم وراثت کے حوالے سے دینی احکامات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’تفہیم المواریث‘ جہاں علمائے کرام کے لیے استفادے کا باعث بنے گی وہیں طلبا اور عامۃ المسلمین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ فاضل مصنف فاروق اصغر صارم نے وراثت کے مبادیات، موانع، ترکہ کے متعلق امور، مستحقین اور ان کے حصص، عصبات، حجب سے لےکر تقسیم ترکہ، تخارج، خنثیٰ، حمل سمیت تمام موضوعات نہایت جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ موصوف نے علم الفرائض کی جملہ مباحث کو احاطہ تحریر میں لا کر اس علم کےقواعد و اصول کی خوب وضاحت کی ہے اور مشکل مسائل کے حل میں مثالیں اور نمونے بھی پیش کیے ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 9 #2761

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 3351

    تقسیم وراثت اور ہمارا معاشرہ

    (پیر 29 دسمبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    فوت ہونے والا شخص  اپنےپیچھے  جو اپنا مال ، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے  اسے  ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں ۔ کسی مرنے والے مرد یا  عورت  کی اشیاء اور  وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے  یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا  ملتا ہے شرعی  اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے  ہیں ۔  رسول اللہﷺ نے  اس علم کی اہمیت کو بیان  کرتے ہوئے فرمایا: ’’علم میراث سیکھو اور دوسروں کو  بھی سکھاؤ کیوں کہ مجھے بھی فوت کیا جائے گا اور علم ِمیراث قبض کرلیا جائے گا۔ یہاں تک  کہ دوآدمی مقررہ حصے  میں اختلاف کریں گے  اور کوئی ایسا آدمی  نہیں پائیں گے  جو ان میں فیصلہ کرے ‘‘(مستدرک حاکم) اسلام  اللہ  کا عطا کردہ پسندیدہ دین ہے ۔ اللہ تعالیٰ علیم وحکیم،خبیر وبصیر ،عادل  ومنصف ہے  ۔چنانچہ اس  نے کسی شخض کی موت کےبعد اس کی چھوڑی ہوئی اشیاء اور وسائل آمدنی کےبارے میں جو ہدایات دی ہیں  ان میں والدین اور شتہ داروں کےلیے عدل اور خیر خواہی کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ایک مسلمان  کے لیے ایمان لانے کے بعد اللہ  کےحکم کے سامنے سر تسلیم خم کردینا ضروری ہے لیکن ہمارے موجود ہ معاشرے میں تقسیمِ جائیداد کےبارے  میں بہت سی غلط فہمیاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں ۔زیر تبصرہ کتابچہ ’’ تقسیم وراثت اور ہمارا معاشرہ ‘‘ محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  کاوش ہے جس میں انہوں نے اپنے   مخصوص  عام  فہم انداز میں  علم میراث؍علم الفرائض کی اہمیت  اور  اس  تقسیم  وراثت کے  سلسلے میں جو ہمارے  درمیان  کتاہیاں  پائی جاتی ہیں    ان کی   نشاندہی  کرتے ہوئے  ورثاء کے حصص کو  بیان کیاہے  ۔ اللہ تعالیٰ ان کی  اس کاوش کو قبول فرمائے  ۔ اورکتاب ہذا  کو ہمارے معاشرے میں   تقسیم وراثت کے لیے   پائی جانے والی کوہتاہیوں کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

  • 10 #8089

    مصنف : حافظ ذو الفقارعلی

    مشاہدات : 21

    تقسیم وراثت کے شرعی احکام وراثت کی تقسیم کا مکمل انسائیکلوپیڈیا

    (اتوار 26 جنوری 2020ء) ناشر : مکتبہ بیت السلام الریاض

    فوت ہونے والا شخص  اپنےپیچھے  جو اپنا مال ، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے  اسے  ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں ۔ کسی مرنے والے مرد یا  عورت  کی اشیاء اور  وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے  یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا  ملتا ہے شرعی  اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے  ہیں ۔ علم  الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے ۔اسلامی نظامِ میراث کی خصوصیات میں ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مرد کی طرح عورت کو بھی وارث قرار دیا گیا ہے۔قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ  کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے ۔چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی  کے  نہایت اہم پہلو سے  ہے ۔ اس لیے  نبی اکرمﷺ نےبھی صحابہ کواس علم کےطرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے  دین کا  نہایت ضروری جزء قرار دیا ۔صحابہ کرام میں  سیدنا علی  ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس،سیدنا عبد اللہ بن مسعود،سیدنا زیدبن ثابت﷢ کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کےبعد زمانےکی ضروریات نےدیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی اہمیت کے پش نظراس کے لیے  خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک   شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی  میں غوروفکر کر کے تفصیلی وجزئی قواعد مستخرج کیے۔اہل علم نے   اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’تقسیم وراثت کے شرعی احکام‘‘ حافظ ذوالفقار  علی ﷾(شیخ الحدیث ابو ہریرہ اکیڈمی ، لاہور ) کی علم الفرائض کے متعلق آسان فہم علمی  تصنیف ہے ۔حافظ صاحب  موصوف نے اس کتاب میں  اپنے منفرد انداز میں اسلام کےقانونِ وراثت اس طریقے سے کھول کھول کر بیان کرتے ہوئے عام فہم اور دل نشیں انداز میں احکامِ وراثت پرسیر حاصل بحث کی ہے۔اور احکامِ وراثت کی اہمیت وافادیت ، اسلامی قانونِ وراثت کی خصوصیات ، اور اس کےتدریجی مراحل ، ترکہ سے متعلق ضروری امور اور قانونِ وراثت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔اس کتاب  سے نہ صرف دینی طبقہ کے لوگ مستفید ہو سکتےہیں بلکہ یہ قانون دان حضرات کےلیے بھی مفید ثابت ہوگی۔کتاب ہذا کے مصنف اس  سے قبل دور حاضر کے مالی معاملات اور معیشت وتجارت کے اسلامی احکام پر دوبڑی عمدہ کتابیں تحریر کرچکے ہیں۔اللہ تعالیٰ حافظ  صاحب کی تبلیغی وتدریسی، تحقیقی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

< 1 2 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1320
  • اس ہفتے کے قارئین 14959
  • اس ماہ کے قارئین 53353
  • کل قارئین49438155

موضوعاتی فہرست