دکھائیں کتب
  • 1 اسلام اور اصول حکومت (جمعرات 31 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:1409

    اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے، اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے، یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاست“ کی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا،بقول ڈاکٹرمحمود احمدغازی  کے:”اسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چناں چہ ماوردی نے یہ بات لکھی ہے کہ جب دین کم زورپڑتاہے تو حکومت بھی کم زورپڑجاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہو تی ہے تودین بھی کم زورپڑجاتاہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔“(محاضراتِ شریعت :ص287) زیر تبصرہ کتاب" اسلام اور اصول حکومت"مصر کے معروف عالم دین شیخ علی عبد الرازق ﷫ کی عربی ت...

  • 2 اسلام کا انتظامی قانون (پیر 30 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:481

    قرآنِ حکیم میں انتظامی امور کے لیے تدبیر کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے جیسے سورۃ ’’ الرعد‘‘ اور سورۃ ’’ یونس‘‘ اور ’’ السجدۃ‘‘ میں ’’ یدبر الامر‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ انتظامی اداروں کےاختیارات کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے انتظامی یا قانون ادارت کی بڑی اہمیت ہے ۔کیونکہ اس طرح عوام الناس کےحقوق کی بھی بطرز احسن پاسبانی ہوجاتی ہے۔ یہ عظمت اورخصوصیت دینِ اسلام کو ہی حاصل کہ شروع اسلام سے ہی انتظامی قوانین واضح کردئیے گئے تھے۔نبی اکرم ﷺ نےولایت مظالم جیسےادارے کا سنگ بیناد رکھا۔ اس لحاظ سےحضور اکرم دنیا کےپہلے محتسب ہیں ۔لہذااہل مغرب کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ احتساب کا نظام سویڈن میں 1809ء میں پہلی دفعہ قائم کیا گیا ۔نبی کریم ﷺ نےایسے انتظامی قوانین مقرر فرمائے کہ جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی حتی کہ ماضی قریب کے ترقی یافتہ ممالک امریکہ اور انگلینڈ میں 19ویں صدی کے اواخر تک نظام ادارت یا قانون ادارت کا تصور مکمل طورپر نہیں تھا۔ زیر نظر کتا ب’’ اسلام کا انتظامی قانون ‘‘ جناب ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی کی اہم تصنیف ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کا اسلوب بیان نہائیت سادہ اور دلنشین ہے۔ مواد کی فراہمی میں بساط بھر تحقیق وتفتیش سے کام لے کر ایک مبسوط کتاب مرتب کی ہےفاضل مصنف نے کتاب کے شروع میں اسلامی قانون کا خاکہ پیش کیا ہے ۔ اسلامی دستور کے خدوخال اور نظام شوریٰ پر بھی باب دوم میں بحث کی گئی ہے ۔اسلامی انتظامی قانون کے مطابق عورت سربراہ مملکت نہیں بن سکتی فاضل مصنف نےاس موضوع پر...

  • 3 اسلام کا شورائی نظام (پیر 16 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:334

    عربی زبان میں شوریٰ کے معنیٰ اشارہ کرنا، مشورہ کرنا، اظہار رائے کرنا اور غور و خوض کرنا اور عربی لغت میں شہد کو چھتے سے نکالنے کے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔یعنی جن امور کے متعلق قرآن وسنت میں واضح تصریح موجود نہ ہو امت مسلمہ ان پر آزادانہ رائے زنی کے ذریعے فیصلہ کرے تو اس کو شوریٰ کہتے ہیں۔مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں "شوریٰ" نام کی ایک سورت ہے۔ اور حضور اکرم ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ارشاد ربانی ہے’’ وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ (آل عمران: ١٥٩ ) ‘‘ عہد نبوی اور عہد صحابہ میں کئی ایک باہمی مشورہ کی مثالیں مو جود ہیں ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’اسلام کا شورائی نظام ‘‘ جناب اختر حجازی صاحب کی مرتب کردہ ہے ۔ موصوف نے مولانا جلال الدین انصر عمری کی نگارشات کو اس میں حسن ترتیب سے جمع کیا ہے اس میں انہوں نے اسلامی اجتماعیات کے اس اصول مشاورت کو پیش کر کے مسلمانوں کو شورائیت وجمہوریت کا راستہ دکھایا ہے ۔جس طرح توحید ورسالت وآخرت کےبغیر کسی اسلام کا تصور ممکن نہیں ہےاسی طرح نظام مشاورت کے اہتمام کے بغیر بھی کسی اسلامی نظام مملکت کا تصور ممکن نہیں ہے ۔یہ کتاب سید جلال الدین عمری کے ماہنامہ ’’ زندگی‘‘ رام پور میں مطبوع مقالہ پر مشتمل ہے ۔مقدمہ کے طور پر سید ابو الاعلیٰ مودودی کی اسی موضوع کے متعلق ایک تحریر کو بھی اس کتاب میں شا...

  • 4 اسلام کا نظام حکومت اردو ترجمہ احکام السلطانیہ (اتوار 23 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:467

    اسلام کا نظام ِ حکومت سیاسی دنیا کےلیے ناموسِ اکبر ہے  حاکمیت کی جان ہے ۔ اسلامی نظام حکومت کا  مآخذ اللہ کاآخری قانون ہے۔تمام برائیوں کا خاتمہ کرتاہے اور تمام بھلائیوں کاحکم  دیتا ہے جو انسان ِ کامل  کو  اللہ تعالیٰ کا نائب بناتا ہے۔ اوراسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ  ماوردی  کہتے  ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔ اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا  اور اسی کانتیجہ  ہے کہ  مسلمان ہمیشہ اپنی حکومت کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔قرآن پاک اور اح...

  • 5 اسلام میں پولیس اور احتساب کا نظام (منگل 16 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1080

    اسلام ایک روحانی تہذیب کا علمبردار ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے اداروں کے قیام وبقاء پر انحصار نہیں کیا، اور اس امر کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ کسی مخصوص تمدنی ہیئت کو محفوظ رکھا جائےیا کسی خاص تہذیبی مظہر کو اجاگر کیا جائے۔اسلام نے شوری کا حکم دیا ہے ، لیکن شوری کی ہیئت کا تعین لوگوں کے بدلتے ہوئے حالات اور ان کے مصالح پر چھوڑ دیا ہے۔اسی طرح اسلام نے عدل وانصاف اور قضاء کے زریں اصول عطا کئے لیکن داد رسی کا کوئی خاص طریقہ لازم نہیں کیا کہ عدلیہ کا ادارہ کس طرح تشکیل پائے،عدلیہ کے ذیلی ادارے کون کونسے ہوں؟پولیس عدلیہ کے ماتحت ہو یا انتظامیہ کے؟اسلامی نظام حکومت میں تمام امور قرآن وسنت کی ہدایات کی روشنی میں انجام دئیے جاتے ہیں اور پورے نظام کی اساس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر استوار ہوتی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام میں پولیس اور احتساب کا نظام "محترم ساجد الرحمن صدیقی کاندھلوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلام میں پولیس اور احتساب کے نظام کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ الل...

  • 6 اسلامی ریاست ( امین احسن اصلاحی ) (ہفتہ 04 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:972

    اسلام خدا کی طرف سے آخری دین اور مکمل دین ہے جو انسانیت کے تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے اور آج کی سسکتی ہوئی انسانیت کو امن اور سکون کی دولت عطا کرتے ہوئے دنیاوی کامیابی کے ساتھ اخروی نجات کا باعث بن سکتا ہے ۔ اسلام وہ دین یا نظام حیات ہے جس میں حضور ختم المرسلینﷺ کی وساطت سے انسانیت کے نام خدا کے آخری پیغام یعنی قرآن مجید کی روشنی میں زندگی بسر کی جائے۔ اُس وحی خداوندی کی روشنی میں فطرت کی قوتوں کو مسخر کرتے ہوئے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لایا جائے۔اُس ضابطہ حیات پر کامل ایمان لاتے ہوئے قوانینِ خداوندی کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرنے کا نام اسلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے جو نظام اور قانون دیا ہے اس کا نام اسلام ہے۔ اس نظام زندگی کی رہنمائی انبیا اکرام کی صورت میں جاری رہی اور حضور پاک ﷺ پر یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔اور جو ریاست حکومت الہیہ کی شرائط پوری کرتی ہے وہی اصل میں اسلامی ریاست کہلاتی ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘مولانا امین احسن اصلاحی مدرسہ فراہی کے ایک جلیل القدر عالم دین ، مفسر قرآن اور ممتاز ریسرچ سکالر تھے آپ امام حمید الدین فراہی کے آخری عمر کے تلمیذ خاص اور انکے افکار ونظریات کے ارتقاء کی پہلی کرن ثابت ہوئے۔ آپ نے یہ کتاب دو حصوں میں تقسیم کی گئی ہے ۔جبکہ حصہ اوّل ریاست کے متعلق چند بنیادی مباحث پر مبنی ہے، حصہ دوم میں شہریت کے حقوق وفرائض کو واضح کیا گیا ہے،حصہ سوم میں غیر مسلموں کے حقوق کو اجاگر کیا ہے، حصہ چہارم میں اطاعت کی شروط اور حدود کو بیان کیا گیا ہے، اور حصہ پنجم م...

  • 7 اسلامی ریاست میں علاقائی حقوق کا تصور (جمعہ 22 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1029

    اسلامی نظام حکومت میں تمام امور قرآن وسنت کی ہدایات کی روشنی میں انجام دئیے جاتے ہیں اور پورے نظام کی اساس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر استوار ہوتی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔ عبادات ہوں یا معاملات، تجارت ہو یا سیاست، عدالت ہو یا قیادت، طب ہو یا انجینئرنگ، اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔ اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں، بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان، سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ موجودہ دورمیں جبکہ اسلام کےخلاف بے شمار فتنے اسلام کے سیاسی، معاشی نظاموں پر اعتراضات اور شبہات کی صورت میں ظاہر ہورہے ہیں اور جدید تعلیم یافتہ افرادجن کی اکثریت دین کےعلم سے واقفیت نہیں رکھتی ان اعتراضات کا شکار ہوتے نظر آرہے ہیں۔ دور حاضر کا ایک بڑا فتنہ علاقائی معاشی حقوق کےعدم تعین کی وجہ سے پیداہوا ہے۔اس کو ایک ذریعہ بنا کر ملحدانہ، قوم پرستانہ نظریات کو ہوا دی جارہی ہے۔ تاکہ ملت اسلامیہ کا شیرازہ مکمل طور پرمنتشر ہو جائے۔اور ان فتنوں میں الجھ کر مسلمان ایک دوسرے کے سے دست وگریبان ہوجائیں اور مسلم ملت کےاتحاد اور دنیا میں اسلامی ریاست کا قیام نہ ہوسکے۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلامی ریاست میں علاقائی حقوق کا تصور" پروفیسر عبدالخالق سہر یانی بلوچ کی ایک بے مثال تالیف ہے، جس میں موصوف نےایک نئے موضوع کو زیر بحث لایا...

  • 8 اسلامی ریاست میں محتسب کا کردار (جمعہ 19 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1170

    اسلامی نظام حکومت میں تمام امور قرآن وسنت کی ہدایات کی روشنی میں انجام دئیے جاتے ہیں اور پورے نظام کی اساس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر استوار ہوتی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔آج کی دنیا گو تہذیب وسائنس کی تمام تر کامرانیوں اور ترقیوں کے باوجود مصائب وآلام کے ایک لامتناہی دور سے گزر رہی ہے، تاہم عدل واخلاق سے محروم اور جور واستعمار سے معمور میکاولی سیاست کے برعکس ایک ایسی سیاست کے خدو خال اور اصول وضوابط بھی ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں، جس کی بنیاد اقوام عالم کے درمیان عدل وانصاف، اتحاد واتفاق اور مساوات پر رکھی گئی۔ اور یہ ریاست اسلا م کی سب سے پہلی ریاست تھی۔اسلام میں احتساب کا عمل روز اول سے ہی چلا آرہا ہے۔اور یہ انسانی کامیابی کا ضامن ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی ریاست میں محتسب کا کردار " محترم ڈاکٹر ایم ایس ناز صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلامی ریاست میں محتسب کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں...

  • 9 اسلامی قانون فوجداری ترجمہ کتاب الاختیار (اتوار 29 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:460

    فوجداری ضابطہ یا ضابطہ تعزیرات ایک دستاویز ہے جس میں کسی مقام پر عمل در آمد ہونے والے تمام یا بیشتر جرائم کے قوانین کو یکجا کیا جاتا ہے۔ عموماً ایک ضابطہ تعزیرات جرائم کا احاطہ کرتا ہے جو عمل در آمد علاقے میں تسلیم کیے گئے ہیں، جرمانے جو ان جرائم پر عائد ہوتے ہیں اور کچھ مخصوص پہلوفوجداری ضابطے عمومًا دیوانی قوانین مشترک ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ ان سے قانونی نظاموں کی تشکیل پاتی ہے ان ضابطوں اور اصولوں پر جو نسبتاً مبہم ہیں اور انہیں معاملوں کی اساس پر رو بعمل لایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شاذ و نادر ہی عام قانون عمل درآمد کرنے والے علاقوں میں نافذ العمل ہوتے ہیں۔انگریزوں کی واپسی کے بعد، تعزیرات ہند پاکستان کو ورثے میں ملا۔ بعد ازاں ان تعزیرات میں اسلامی قوانین فوجداری کی متعدد دفعات بھی شامل کی گئیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی قانون فوجداری ‘‘ مولانا سلامت علی خان المعروف حذاقت خان محمد پوری کی کتاب ’’ الاختیار‘‘ کا اردو ترجمہ ہے یہ کتاب 1212ھ میں قاضیوں اور عام تعلیم یافتہ حضرات کی رہنمائی کے لیے تیار کی گئی تھی اس کتاب کو اس وقت بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ۔ قانون دان حضرات اسے استفادہ کرتے ہیں حتیٰ بعض مدارس حنفیہ میں یہ داخل نصاب ہے ۔صاحب کتاب محمد آباد میں عدالت مرافعہ میں بطور فیصلہ نویس وریسرچ آفیسر کام کرتے تھے۔انہوں نے اس کتاب میں تمام تعزیرات وجرائم کے متعلق اسلامی قانونِ فوجداری کی تمام دفعات مختلف ابواب وفصول میں فقہ حنفی کی مستند کتابوں کے حوالے سے نہایت جامعیت کے ساتھ جمع کردی ہیں ۔اس کت...

  • اسلام کا نظام ِ حکومت سیاسی دنیا کےلیے ناموسِ اکبر ہے حاکمیت کی جان ہے ۔ اسلامی نظام حکومت کا مآخذ اللہ کاآخری قانون ہے۔تمام برائیوں کا خاتمہ کرتاہے ۔اسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ ماوردی کہتے ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔ اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا اسی کانتیجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنی حکومت کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں جس طرح اخلاق اور حسنِ کردار کی تعلیمات موجود ہیں۔اسی طرح معاشرت،تمدن اور حکومت کے بارے میں واضح احکامات بھی موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب &rsquo...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 725
  • اس ہفتے کے قارئین: 4186
  • اس ماہ کے قارئین: 10403
  • کل مشاہدات: 41277288

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں