کل کتب 187

دکھائیں
کتب
  • 1 #6889

    مصنف : احمد شاکر

    مشاہدات : 2532

    آثار حنیف بھوجیانی جلد اول

    dsa (جمعہ 22 فروری 2019ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی﷫ (1909۔1987)ضلع امرتسر کے ایک گاؤں’’ بھوجیاں‘‘ میں 1909ءکوپیداہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی میاں صدرالدین حسین اور مقامی علماء  کرام  سے حاصل کی ۔اس کےبعد  پندرہ سولہ برس  کی عمر  میں مدرسہ حمیدیہ ،دہلی میں   داخل ہوئے او روہاں مولانا عبدالجبار کھنڈیلوی اور ابوسعید شرف الدین دہلوی سے   بعض متداول درسی کتب  اور حدیث کا درس لیا ۔بعد ازاں لکھو کے  اور گوندالانوالہ  کے اہل حدیث مدارس میں علوم دینیہ کی تکمیل کی جہاں مولانا عطاء اللہ  لکھوی اور  حافظ محمد گوندلوی ان کے اساتذہ میں  شامل تھے ۔مولانا  نے عملی زندگی  کاآغاز اپنے  گاؤں کے اسی  مدرسہ  فیض الاسلام میں بطور مدرس کیا جس میں  انہوں نے  خود ابتدائی تعلیم حاصل کی  تھی ۔لیکن چند ماہ  قیام کے بعد  گوجرانوالہ تشریف گئے او رمختلف مدارس میں  تدریسی فرائض سرانجام  دیتے رہے ۔سالانہ تعطیلات  گزارنے گاؤں  گئے ہوئے تھے کہ  ہندوستان تقسیم ہوگیا ۔مولانا ہجر ت کر کے پاکستان آگئے اور اپنے  پرانے تعارف  وتعلق کےتحت گوندلانوالہ میں سکونت اختیار کی ۔ اسی زمانے میں گوجرانوالہ سے ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ کا  ڈیکلریشن حاصل کیا اور مولانا محمد  حنیف ندوی کی ادارت میں   9اگست 1949ء کو ’’الاعتصام‘‘ کی اشاعت  کا آغاز کیا۔اس کے بعد  آپ گوجرانوالہ سے لاہور منتقل  ہوگئے اور مکتبہ السلفیہ کی  بنیاد ڈالی اور اس کے  تحت اپنے ذوق تحریر واشاعت کی تکمیل کی اور  اکتوبر 1956ء میں ایک علمی وتحقیقی مجلہ ’’رحیق‘‘ کااجراء کیا ۔جس کا مقصد اسلام کی عموماً ا ور   مسلک اہل حدیث کی خصوصاً تبلیغ واشاعت تھا،اسلام اور سلف  امت کے مسلک پر حملوں کی علمی اور سنجیدہ طریقوں  سے مدافعت بھی اس کے اہم مقاصد میں   شامل تھا ۔دینی   صحافتی حلقوں میں  ماہنامہ  ’’رحیق ‘‘ کا بڑا خیرمقدم کیا  گیا ۔لیکن  یہ مجلہ صرف تین سال  جاری رہا ہے ۔ مولانا کے تحریری سرمائے میں  سرفہرست  عربی زبان میں  سنن نسائی کا حاشیہ ’’ التعلیقات السلفیہ‘‘ ہے اس کےعلاوہ  بھی  بہت  سی کتب پر علمی  وتحقیقی  کام اور بعض کتب کےتراجم کرواکر  مکتبہ سلفیہ سے شائع کیں۔مولانا  کی علمی تحریروں،دروس اور فتاویٰ    جات کو   مولانا موصوف کےجانشین  مولانا حافظ احمد شاکر ﷾ نے  زیر نظر کتاب  ’’آثار حنیف بھوجیانی ﷫ ‘‘ میں حسن ترترتیب سے مرتب کیا ہے اور انہیں آٹھ عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔(1) دروس قرآن وحدیث(2) فتاویٰ(3) علمی مقالات(4) ماہنامہ رحیق کےاداریے(جرعات) اور الاعتصام کے مختلف ادوار کے میں لکھے ہوئے اداریے  وشذرات(5)(مختلف کتب کےشروع میں لکھے گئے) مقدمے،تصدیرات، وتقریظات (6) (علمائے مرحومین کی تصنیفات کے شروع میں  لکھے گئے اور الاعتصام کےصفحات میں پھیلے ہوئے ) تراجم علماء واعیان (7) (ماہنامہ رحیق کے عرصہ ادارت اور الاعتصام میں علماء واحباب کی وفات پر تحریر کئے ہوئے، وفیات وتذکرے ( 8) نئی طبع شدہ کتابوں پر )تبصرے  ۔مرتب موصوف نے  تمام عنوانات کو تاریخی ترتیب کے ساتھ مرتب کیا ہے البتہ فتاویٰ کو فقہی  ترتیب سے مرتب کیا ہے یہ تحریریں 4جلدوں پر مشتمل ہیں ۔اللہ  تعالیٰ  حافظ احمد شاکر ﷾ کی صحت وعافیت والی زندگی دے اور ان کی تمام مساعی کو شرف قبولیت سے نوازے اور  مولانا  عطاء اللہ حنیف   کی   دینی   ،علمی ،دعوتی اور صحافی خدمات کو  قبول فرمائے اور  انہیں جنت الفردوس میں  اعلی ٰ مقام عطا فرمائے (آمین)(م ۔ا)

  • 2 #8017

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

    مشاہدات : 977

    آسان دین

    (جمعرات 14 نومبر 2019ء) ناشر : دار الفکر الاسلامی، لاہور

    عرصہ ہوا کہ فیس بک پر آسان دین کے عنوان سے ایک سلسلہ ہائے مضامین مکمل کیا تھا کہ بہت سے دوستوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان مضامین کو یکجا کر کے کسی کتابچے کی صورت شائع کر دیا جائے تو اسی غرض سے یہ کتابچہ مرتب کیا گیا ہے۔ اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ آسان دین کے نام سے اس کتابچے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے یہ تصویر کا ایک رخ ہے، مکمل تصویر نہیں ہے۔ لیکن یہ تصویر کا وہ رخ ضرور ہے کہ جسے مذہبی حلقوں کی طرف سے لوگوں کے سامنے پیش نہیں کیا گیا لہذا مجھے اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ تصویر کے اس رخ کو بھی لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے تا کہ دین کی سخت گیری کا جو روایتی تصور اس وقت سوسائٹی میں عام ہو چکا ہے، اس میں اعتدال پیدا ہو۔ اللہ عزوجل ہم سب کی علمی کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے، آمین۔(م۔ا)

  • 3 #1131

    مصنف : مرزا عمران حیدر

    مشاہدات : 18707

    احادیث میں تعارض رفع کرنے کے اصول۔مقالہ ایم فل

    (جمعرات 16 فروری 2012ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    قرآن مقدس کے بعد احادیث نبویہ دین اسلام کا دوسرامعتبر ذریعہ ہے ۔دین اسلام  کے یہ دو اصل بڑے ماخذ ہیں ، اس اہمیت کے پیش نظر صحابہ کرام  ،تابعین و تبع تابعین اور علماء و محدثین جیسے قرآن حکیم کو سینوں میں محفوظ کیا ،اسی طرح ذخیرہ حدیث کوحفظ وتحریر اوردرس و تدریس کے ذریعہ محفوظ و مامون بنایا اور قبول حدیث کے ایسے حتمی اور معتبر اصول وضع  کیے کہ احادیث نبویہ میں اختراع اوروضع احادیث کا خاتمہ ہوگیا ۔پھر علما و محدثین نے فقہ و اجتہاد سے شرعی مسائل مستنبط کیے اور کتاب وسنت کے دلائل سے مسائل اخذ کرنے کے قواعد و ضوابط وضع کیے ،جن کی راہنمائی سے اصل مسئلہ تک رسائی ممکن ہوئی اور علمائے سلف کی ان کاوشوں سے تاویلات وتحریفات اور احادیث نبویہ میں تشکیکات پیدا کرنے والوں کےاہداف متاثر ہوئے اور ایسے فتنہ گروں کو ہر دور میں سخت پسپائی اورندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ان متجددین کا اصل ہدف احادیث میں شکوک و شبہات پیداکر کے دین کے اس  دوسرے بڑے ماخذ کو بے اثر کر کے اپنی من مانی تاویلات اور فکری کجی کو ایک باقاعدہ دین کی شکل دینا تھا ۔لیکن نہ یہ بازیگر اپنی اس مہم جوئی میں ماضی میں کامیاب ہوسکے اورنہ یہ حال  واستقبال میں کبھی سرخرو ہوں گے ،کیونکہ دین کی حفاظت کاذمہ خود اللہ مالک الملک نے اپنے ذمہ لیا ہے ۔لہذا ان فتنہ گروں کو سوائے ذلت و رسوائی اور ہزیمت وشکست  کے کچھ نہ ملے گا ۔منکرین احادیث نے احادیث رسول میں کئی طرح سے تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی،ان میں ایک اعتراض یہ تھا کہ احادیث اس حوالہ سے غیر معتبر ہیں کہ ان میں اختلاف پایا جات ہے اورایک ہی معنی کئی متضاد مفہوم کی احادیث پائی جاتی ہیں ۔اس اعتراض کا سبب ان کی علمی کم مائیگی ،جہالت اور حدیث دشمنی کا شاخسانہ ہے ۔ورنہ مفاہیم و مطالب میں اختلاف تو قرآنی آیات میں بھی موجو د ہے کہ فقط اختلاف مفاہیم کی وجہ سے کلام الہٰی کو غیر معتبر قرار دیا جاسکتاہے،اس عقلی موشگفی کو ماننے کے لیے اپنے یہ کرم فرما بھی تیار نہیں ۔پھر مختلف احادیث کو حل اور جمع کرنے کے باقاعدہ قواعد و ضوابط اور کتب موجود ہیں ،جن سے اس تعارض کا حل ممکن ہے ۔تعارض احادیث کو رفع کرنے کے بارے میں زیرنظر مقالہ ایک اچھی کاوش اور منکرین حدیث کے تعارض حدیث کے اعتراض کابہترین تریاق بھی۔(ف۔ر)
     

  • 4 #4991

    مصنف : محمد اسحاق بھٹی

    مشاہدات : 6595

    استقبالیہ و صدارتی خطبات

    (منگل 20 دسمبر 2016ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    قیامِ پاکستان کے بعد مسلک کے عنوان پر  سب سے پہلی غیر سیاسی تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث  ہے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان وطن عزیز کی وہ اولین تنظیم ہے جس نے وعظ وتبلیغ اور تحریر وتصنیف سےاسلام کے چشمۂ صافی کے آبِ حیات کے جام سرعام لنڈھائے اور تشنگان دین وعمل کی سرابی کا فریضہ انجام دیتی رہی ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے تحت  سال دو سال کےبعد کسی شہر میں ایک کانفرنس کا انعقاد   عمل میں لایا جاتا جس کی میزبانی کےلیے ہرشہر  کی جماعت کا ہر شخص مستعد ہوتا اسے جمعیت اہل حدیث کی سالانہ کانفرنس کا نام دیا جاتا۔ ہر کانفرنس کا صدر استقبالیہ کانفرنس کےپہلے اجلاس میں شہر انعقاد سے متعلقہ تاریخی ، جغرافیائی اور مسلکی خدمات کا تذکرہ کرتا اور اپنے رفقائے کار کی طرف سے مہمانوں کو خوش آمدید کہتا۔کانفرنس کی صدارت کےلیے  ہر دفعہ ملکی سطح کی کسی اہم علمی اور خاندانی شخصیت کو منتخب کر کے ان کی خدمت میں صدارت قبول کرنے کی درخواست کی جاتی ۔صدارت کااعزاز قبول کرنے والے حضرات ِ گرامی کانفرنس کے لیے پہلے اجلاس کی صدارت بایں انداز فرماتے کہ خطبہ صدارت ارشاد فرماتے جس میں وہ مسلک کی حقانیت ، محدثین سےتعلق اوران کی خدمات کا تذکرہ بھی فرماتے۔مرکز کی افادیت ،اہمیت، خدمات اوراس کے مقاصد پر سیر حاصل تبصرہ بھی کرتے اوراصلاح واحوال کی تجاویزسے بھی  مرکزی جمعیت اہل حدیث کونوازتے ۔جماعت اہل حدیث کی اشاعتی خدمات ، رسائل وجرائد تو تاریخ میں  محفوظ ہوچکے ہیں ۔لیکن اس کی  تبلیغی خدمات کو  محفوظ کرنے کی ضرورت  تھی۔ زیر تبصرہ کتاب’’استقبالیہ وصدارتی خطبات‘‘ میں مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ نے   دعوت وتبلیغ کی غرض سے  مرکزی  جمعیت کے تحت منعقد کی جانے والی تمام سالانہ  کانفرنسوں کے خطبہ ہائے صدارت واستقبالیہ  کو جمع کردیا ہے  موصوف نے  اولاً ان  خطبات کو تلاش کیا  مطبوعہ اور غیر مطبوعہ  خطبات میں طباعتی اغلاط درست کیں۔ پھر اپنی نگرانی میں ان کو کمپوزکرایا اور دوبارہ سہ بارہ ان کی تصحیح کی  تب کہیں جاکر یہ تاریخی دستاویز تیار ہوئی ہیں۔( م۔ا) 

  • 5 #1134

    مصنف : حافظ حسین ازہر

    مشاہدات : 15859

    اسلامی اجتماعیت میں خاندان کا کردار۔مقالہ پی ایچ ڈی

    (ہفتہ 18 فروری 2012ء) ناشر : کلیہ معارف اسلامیہ، جامعہ کراچی ، کراچی

    اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے ،جوانسان کی دینی و دنیوی ہر معاملہ میں پوری راہنمائی کرتاہے اور انسانی زندگی کا کوئی پہلو تشنہ اور ناقص نہیں چھوڑتا جہاں انسان کی راہنمائی نہ ہو۔اسلام دیگرانسانی اقدار کے تحفظ کے ساتھ خاندانی زندگی کا کامل نظام دیتاہے ،جو انسانی سوچ کا عکاس اوردنیا کا معتدل ترین نظام ہے۔اسلام خاندانی نظام واحد مؤثرنظام ہے ،جوعصمت کا محافظ ، خاندانی کفالت کا بہترین ذمہ دار اور خاندان کے افراد کے حقوق وفرائض کا اصل محافظ ہے۔اسی نظام کو اپنانے سے معاشرتی استحکام پیدا ہو سکتاہے اور معاشرتی ناہمواریوں اور باہمی خاندانی تنازعات کا ازالہ ممکن ہے۔زیر نظر مقالہ میں خاندان کی اہمیت ،معاشرتی حقوق و فرائض اور خاندانی افراد کے حقوق کا مفصل بیان ہے،ان تعلیمات پر عمل کر کے معاشرتی نظام کو مستحکم بنایا جاسکتاہے اور تیزی سے روبہ زوال نظام خاندان کے بگاڑ کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور معاشرے میں پھیلی بددلی کا ازالہ کیا جاسکتاہے۔(ف۔ر)
     

  • 6 #810

    مصنف : میمونہ اسلام

    مشاہدات : 19520

    السنن الکبری کی تدوین میں امام بیہقی کا منہج ایک تحقیق جائزہ ( مقالہ ایم فل )

    (اتوار 28 اگست 2011ء) ناشر : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد

    امام بیہقی رحمہ اللہ ایک عظیم محدث تھے،جن کی کتاب ’السنن الکبری‘کتب حدیث میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔یہ کتاب پانچویں صدی ہجری میں مرتب کی گئی اور ارباب علم ونظر کے ہاں انتہائی اعلیٰ مرتبہ کی حامل ہے۔’السنن الکبریٰ‘میں بے شمار علمی نکات وفوائد موجود ہیں اور اس میں نقد کی روح کارفرما نظر آتی ہے۔اس کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے  جو تحقیق حدیث میں زیادہ سے زیادہ مسائل کا احاطہ کرنا چاہے یا نقد کے طرق اور باریکیوں سے آگاہی کا متمنی ہو۔زیر نظر مقالہ میں امام بیہقی کے منہج کو اجاگر کیا گیا ہے ،جسے انہوں نے ’السنن الکبریٰ‘کی تدوین وتالیف میں مد نظر رکھا ہے۔آغاز میں  امام بیہقی کا مفصل تعارف کرایا گیا ہے پھر کتب حدیث میں ’السنن الکبریٰ‘کا مقام ومرتبہ اجاگر کیا گیا ہے۔بعد میں ان اصولوں کی وضاحت ہے جنہیں امام صاحب نے پیش نظر رکھا ہے۔روایات کے اخذ وقبول اور جرح ونقد میں جو ضابطے امام بیہقی کے سامنے رہے ہیں ،انہیں بھی بیان کیا گیا ہے۔یہ مقالہ ایم فل کی ڈگری کے حصول کے لیے لکھا گیا ہے ،چنانچہ تحقیق کے باب میں لائق بھروسہ ہے۔(ط۔ا)

  • 7 #4840

    مصنف : ابو حنظلہ محمد نواز چیمہ

    مشاہدات : 5020

    انبار نگینہ المعروف مواعظ چیمہ

    (جمعہ 28 اکتوبر 2016ء) ناشر : حنظلہ اکیڈمی مرکز توحید، گوجرانوالہ

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ انبار نگینہ المعروف مواعظ چیمہ ‘‘ ہردلعزیز عوامی خطیب جناب مولانا محمد نواز چیمہ﷾ کےدرج ذیل اہم موضوعات پر خطبات کا مجموعہ ہے ۔ اعوذ بااللہ، شیطانی چالیں،شیطانی حملے ،پناہ کیسے اور کن چیزوں سے ، فضائل بسم اللہ، فوائد ذکر الٰہی،اقسام ذکر الٰہی ،ذکر الٰہی سے غفلت کے نقصانات، توبہ،بخشش کےبہانے ، قرآءت قرآن ، سماعت قرآن تاثیر قرآن ،قرآن اور صاحب قرآن، فوائد قرآن، فضائل قرآن، تعلیم قرآن کی اجرت،فضائل ماہ رمضان ، فضائل روزہ ، احکام روزہ ، آداب روزہ ،نفلی روزے ، مسنون تراویح،اعتکاف کے فضائل ومسائل، لیلۃ القدر ، صدقہ فطر۔موصوف نے ان خطبات میں دلچسپ اور غیرمشہور واقعات کو باحوالہ درج کیا ہے اور ہرموضوع میں اشعاربھی درج کیے ہیں ۔اور حتی الوسع موضوع اور ضعیف روایات کی نشاندہی کی ہے اور صحیح احادیث وروایات سے عنوان بیان کیے ہیں۔آیات واحادیث اور واقعات کے مستند کتب سے حوالہ جات بھی نقل کیے ۔(م۔ا)

  • 8 #1913

    مصنف : سید محمد ثانی حسنی

    مشاہدات : 5219

    انسانیت آج بھی اسی در کی محتاج ہے

    (بدھ 26 فروری 2014ء) ناشر : سید احمد شہید اکیڈمی بریلی

    اس  دنیا میں  بہت سےبڑے  بڑے  نامور  آدمی   پیدا ہوئے اور انہوں نے  بہت   کارہائے  نمایاں  سر انجام دئیے لیکن ساری دنیا جانتی  ہے  کہ ان میں  ہر ایک کا  دائرہ محدود تھا  او ران میں  کسی  کی زندگی ایسی نہیں تھی  کہ جو ہمیشہ سارے عالم کے انسانوں کے لیے  نمونہ بن سکے  اگر کوئی بہت اچھا فاتح تھا تو ظلم سے  اس کادامن پاک نہ تھا  ،اگر کوئی اچھا مصلح اور معلّم ِاخلاق تھا تو قائدانہ صلاحیت او راخلاقی  جرأت  سے محروم تھا روحانیت کا دلدادہ تھا تو عملی زندگی  سے نا آشنا او ر دنیاکے نشیب وفراز سے بے خبر تھا  ۔صرف نبی کریم ﷺ کی  ایسی ذات ہے کہ  جو عام اجتماعی  دائرہ سےلے کر  زندگی کے چھوٹے  سے چھوٹے  گوشے تک اس میں ہر چیز کے لیے  قیامت کے لیے  رہنمانی  موجود ہے  نبی کریم  ﷺکی سیرت  پر  عہد نبوی سے  لے  کر  آج تک  بے شمار    لکھنے والوں نے  مختلف انداز میں  لکھا ہے  اور لکھ  رہے  ہیں ۔زیر نظر کتابچہ   بھی سیرت النبی  ﷺ  کے  موضوع پر مولانا محمد حسنی   کے  مضامین کامجموعہ  ہے  جس میں  انہو ں نے  سیرت محمدی  کا اعجاز،سیرت محمدی اور  اس کےتقاضے ،اور نبی  کر یم  ﷺ کے اخلاق کو  بڑے  احسن   میں  پیش کیا  ہے  اللہ تعالی  ان  کی   کاوش  کو قبول  فرمائے  (آمین) (م۔ا)

  • 9 #391

    مصنف : عبد الملک قاسم

    مشاہدات : 13797

    ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر میں

    (اتوار 26 دسمبر 2010ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخلاق و کردار اور افعال و اقوال سے قلب و فکر کو جس قدر جلابخشی اس میں کوئی دوسرا ان کا شریک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان کی اخروی و دنیوی فلاح کو صرف اور صرف  اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی پنہاں رکھا گیا ہے۔ فاضل مصنف ’عبدالمالک قاسم‘زیر نظر مختصر سے رسالہ میں عام فہم انداز میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ایک دن کے معمولات کو سامنے لائے ہیں۔ کتابچے میں آپ جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز گفتار، اعزہ و اقربا اور ازداوجی زندگی سے متعارف ہوں گے وہیں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمین، طرز گفتار اور اجتماعی زندگی کے مختلف مراحل کی مفید معلومات بھی حاصل ہوں گی۔ کتاب میں بیان کردہ صفات کو اپنا کر ہم ایک اچھے مؤمن کی حیثیت سےزندگی گزار سکتے ہیں۔

  • 10 #6975

    مصنف : محمد افضل

    مشاہدات : 1252

    برصغیر کے علمائے اہل حدیث کی کتب فتاویٰ تعارفی و تحقیقی جائزہ ( مقالہ ایم فل )

    (پیر 03 جون 2019ء) ناشر : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد

    اسلام میں  فتویٰ نویسی کی تاریخ  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنا  کہ  بذات  خود اسلام۔ فتویٰ سے  مراد پیش  آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی  روشنی  میں شریعت کا وہ  حکم  ہے  جو کسی سائل کےجواب  میں کوئی عالم دین  اور احکامِ شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے  کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے  چلا آرہا ہے  ۔نبی کریم  ﷺ نے  اپنی زبانِ ر سالت  سے   سوال کرنے اور اس سوال کاجواب دینے کےادب آداب بھی سکھلائے ہیں ۔کتب فقہ وحدیث میں  یہ  بحثیں موجود ہیں او رباقاعدہ آداب  المفتی والمستفتی  کے نام سے  کتب بھی  لکھی گئیں ہیں  اب عصر حاضر میں  تو مفتی کورس بھی کروائے جاتے ہیں۔ ہر دور میں فتاویٰ  کےاثرات  دیر پار ہے  ہیں ۔فتاوی کےاثرات کبھی کبھی تاریخ ساز ہوتے ہیں ۔ہندوستان میں شاہ عبد العزیز   محدث دہلوی ﷫کے  فتوےکاہی اثر تھا کہ سید احمد شہید﷫ اور شاہ اسماعیل شہید﷫ کی قیادت میں مجاہدوں کی ایک تحریک اٹھی جس نےملک کو انگریزی استبداد سےنجات دلانے کےلیے  کمر کس لی اور اس کی راہ  کی صعوبتیں براداشت کرتے ہوئے 1831ء میں جام شہادت نوش کیا ۔ یہ اس فتویٰ کااثر تھا کہ ہندوستانیوں میں قومی شعور پیدا ہوا، ان میں آزادی کا احساس جاگا اور 1857ء میں انگریزوں کےخلاف ایک فیصلہ کن جنگ چھیڑ دی۔ہندوستان میں آزادی کےبعد افتا کافریضہ کافی اہمیت اختیار کرگیا۔لیکن ہمارا دستور آئینِ اسلام کے شرعی قوانین سے قعطا ًمیل نہیں کھاتا ۔ افتا کے نفاذ  اور اس پر عمل  کی آزادی بہت ہی محدود ہوچکی ہے ۔ حکومتی عدالتیں دار الافتا کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتی ۔بر صغیر پاک وہند کےعدالتی نظام نے  انصاف کےحصول کوبہت پچیدہ اوردشوار بنادیا ہے ۔پاک ہند میں  دار الافتاء کی تعد اد عربی مدارس سے کم  نہیں  مگر افسوس کہ ان میں باہمی ربط اور ہم آہنگی  نہیں ہے ۔  برصغیر پاک وہند میں  قرآن  کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی وتراجم کےساتھ فتویٰ نویسی میں  بھی  علمائے اہل حد یث کی کاوشیں لائق تحسین ہیں  تقریبا  چالیس کے قریب   علمائے حدیث کے فتاویٰ جات    کتابی صورت میں   شائع ہو چکے  ہیں ۔ زیر نظر  مقالہ بعنوان’’ برصغیر میں علمائے اہل حدیث کی کتبِ فتاویٰ تعارفی وتحقیقی  مطالعہ  ‘‘  جناب     محمد افضل  صاحب  کا ایم فل  علوم اسلامیہ  کے لیے تیارکیا گیا وہ تحقیقی کامقالہ ہے جسے انہوں نے معروف اہل حدیث پروفیسر ڈاکٹر خالدظفراللہ ﷾ آف سمندری کی نگرانی میں مکمل  کر کے  2007ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پیش کیا ۔مقالہ نگار نے اس تحقیقی مقالے میں  مسلک اہل حدیث کی سترہ مستقل کتب فتاویٰ کا مفصل تعارف پیش کیا ہے ۔یہ مقالہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے ۔ باب اول  میں برصغیر میں مسلک اہل حدیث ۔ ایک تعارف کےعنوان کے تحت برصغیر میں علم حدیث کی خدمت کرنے والے نمایاں علماء ومدثین کا تذکرہ ہے ۔باب دوم میں  فتویٰ کامفہوم اور اہمیت بیان کرنے کےکے بعد  برصغیر کے علمائے اہل حدیث کی کتب فتاویٰ کاتعارف وتحقیقی جائزہ پیش کیاگیا ہے ۔باب سوم میں عصری کتبِ فتاویٰ  کہ جن کہ  مؤلفین حیات ہیں  کا تعارفی وتحقیقی جائزہ پیش کیاگیا ہے(اس مقالہ کو تیار کرتے وقت مولانا حافظ عبد المنان نوری﷫ اور مولانا حافظ زبیر علی زئی ﷫ حیات تھے مولانا نور پوری 2012ء اور مولانا حافظ زبیر علی زئی نومبر2013ء میں  اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون)۔باب چہارم میں علمائے اہل حدیث کی کتبِ فتاویٰ کی روشنی میں اصول دین اورمسائل کا بیان کیا گیا ہے  اس ضمن  میں  وہ عقائد ومسائل بیان کیے گئے ہیں  کہ جن پر علمائےاہل حدیث کی اکثریت  کا اتفاق ہے ۔باب پنجم میں جدید عصری مسائل کےبارے میں علمائے اہلحدیث کی آراء کوبیان کیاگیا ہے ۔مقالہ نگار نے  یہ مقالہ خود کتاب وسنت سائٹ پر پبلش  کرنے کےلیے عنایت کیا  ہے ۔(م۔ا)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 18 19 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 883
  • اس ہفتے کے قارئین 4760
  • اس ماہ کے قارئین 56793
  • کل قارئین49481407

موضوعاتی فہرست