کل کتب 21

دکھائیں
کتب
  • 1 #4241

    مصنف : ڈاکٹر محمد شوکت شوکانی

    مشاہدات : 5502

    اسلام اور جدید میڈیکل سائنس

    (اتوار 06 مارچ 2016ء) ناشر : مکتبہ دانیال اردو بازار لاہور

    آج کے مغرب زدہ معاشرے میں اسلام کو ضابطہ حیات کی بجائے چند عبادات اور رسم ورواج کا دین سمجھ لیا گیا ہے اور باور بھی یہی کروایا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید میڈیکل سائنس کے متعلق اسلام خاموش ہے۔اس کا مکمل کریڈٹ یورپ کو دیا جاتا ہے ۔حالانکہ یہ ظلم ہے ۔تعصب کی عینک اتار کر اگر اسلام کا مطالعہ کیا جائے توآپ کو اس میں دین ودنیا کے ہر شعبہ کے متعلق مکمل راہنمائی ملے گی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور جدید میڈیکل سائنس "محترم ڈاکٹر شوکت علی شوکانی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں جدید میڈیکل سائنس کے چند اہم مسائل جیسے انتقال خون، جنسی تبدیلی، کلوننگ، ٹیسٹ ٹیوب بے بی،انتقال اعضاءاور خاندانی منصوبہ بندی وغیرہ پر کتاب وسنت کے مطابق روشنی ڈالی ہے اور ان مسائل کے بارے میں ممتاز علماء کرام کے فتاوی اور ماہرین فن کی آراء کو بھی جمع کر دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 2 #1926

    مصنف : ڈاکٹر امجد احسن علی

    مشاہدات : 8848

    الحجامۃ ، حجامہ علاج بھی سنت بھی

    (منگل 11 مارچ 2014ء) ناشر : گابا سنز اردو بازار کراچی

    انسا ن  کو بیماری  کا لاحق ہو نا  من  جانب  اللہ  ہے  اوراللہ تعالی نے  ہر بیماری کا علاج بھی   نازل فرمایا ہے  جیسے کہ  ارشاد نبویﷺ  ہے ’’ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی دواء نازل کی ہے  یہ الگ بات ہے کہ کسی نےمعلوم کر لی  اور کسی  نے نہ کی ‘‘بیماریوں کے علاج  کے لیے  معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ  علاج،حجامہ سے  علاج) سے  علاج کرنا  سنت  سے  ثابت ہے ۔ روحانی  اور جسمانی  بیماریوں سےنجات کے لیے  ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت  میں  پختگی  ہو گی تو  بیماری سے  شفاء بھی اسی قدر تیزی  سے  ہوگی ۔زیر نطر کتاب ’’ الحجامۃ‘‘میں  فاضل مرتبین نے    مریض کی خدمت اور عیادت کےفضائل اور  صحت کے بنیادی  اصول قرآن  وحدیث کی روشنی میں  ذکر کرنےکے بعد  احادیث کی روشنی میں  حجامہ  کاتعارف کروایا ہے او ر صحیح احادیث سے  ثابت کیاکہ   حجامہ کے ذریعے  علاج سنت  نبوی ﷺہے   اور جن بیماریوں کاعلاج حجامہ  کے ذریعے ممکن ہے  اور  جن بیماریوں کا علاج حجامہ کےذریعے نہیں ہوسکتا ہے  ان  کا  بھی ذکر کردیا ہے  اور آخر میں  تصاویر کی مدد سے  ان مقامات کی نشاندہی کردی ہے  جن میں مختلف امراض میں حجامہ لگانے چاہیں ۔   الغرض حجامہ کے موضوع پر قرآن  وحدیث کی روشنی میں یہ  ایک  جامع کتاب ہے۔(م۔ا)
     

  • 3 #4261

    مصنف : مہاراج دھراج شری سوائی پرتاب سنگھ

    مشاہدات : 4052

    امرت ساگر اردو

    (جمعرات 25 فروری 2016ء) ناشر : مطبع منشی نول کشور، لکھنؤ

    طب یونانی جسے طب ِمشرقی اور طبِ اسلامی بھی کہا جاتاہے' کے تحت جڑی بوٹیوں سے علاج کی افادیت زمانہ قدیم سے مسلمہ ہے۔ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دونوں ممالک ہی اب اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جدید اینٹی بایوٹک ادویات کی افادیت سے کسی طور انکار نہیں کیا جاسکتا۔لیکن ان کے استعمال سے بعض اوقات انسانی جسم پر سخت مضراثرات پڑتے ہیں جن سے تکلیف میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہوجاتاہے یا کوئی اور بیماری آلیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس ایٹمی دور میں پوری دنیا کے لو گ دوبارہ جڑی بوٹیوں کے فطری اور بے ضرر علاج کی طرف متوجہ ہور ہے ہیں کیونکہ طبِ یونانی (اسلامی ) یا ہر بل سسٹم آف میڈیسن میں ادویات کا استعمال موسم' عمر اور مزاج کو مد نظر رکھ کر کروایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان دیسی ادویات کے کسی قسم کے سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہوتے۔ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی رپورٹ کے مطابق جدید میڈیکل سائنس کی بے پناہ ترقی کے باوجود دنیا کی 86فیصد آبادی ہربل ادویات استعمال کر رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے فنڈبرائے آبادی کے مطابق پاکستان کی 76فیصد آبادی مختلف امراض کے سلسلے میں طب یونانی کی ہربل میڈیسنز کا استعمال کرتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" امرت ساغراردو"انڈیا جے پور کےمہاراج دھراج شری سوائی پرتاپ سنگھ کی سنسکرت زبان میں تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ جناب لال پنڈت کشمیری عرف رگونے کیا ہے۔ مولف نے اس کتاب میں طب یونانی کے بے شمار نسخے اور متعدد جڑی بوٹیوں کے فوائد قلم بند کر دئیے ہیں۔ یہ طب یونانی کے میدان میں ایک نایاب اور منفرد کتاب ہے جو حکمت کے پیشے سے منسلک احباب کے لئے گوہر نایاب ہے۔ (راسخ)

  • 4 #6726

    مصنف : حکیم محمد یٰسین

    مشاہدات : 3700

    تربیت معالجین قانون مفرد اعضاء

    (منگل 07 اگست 2018ء) ناشر : یٰسین طبی کتب خانہ لودھراں ، لاہور

    انسا ن  کو بیماری  کا لاحق ہو نا  من  جانب  اللہ  ہے  اوراللہ تعالی نے  ہر بیماری کا علاج بھی   نازل فرمایا ہے  جیسے کہ  ارشاد نبویﷺ ہے ’’ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی دواء نازل کی ہے  یہ الگ بات ہے کہ کسی نےمعلوم کر لی  اور کسی  نے نہ کی ‘‘بیماریوں کے علاج  کے لیے  معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ  علاج،حجامہ سے  علاج) سے  علاج کرنا  سنت  سے  ثابت ہے ۔ روحانی  اور جسمانی  بیماریوں سےنجات کے لیے  ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت  میں  پختگی  ہو گی تو  بیماری سے  شفاء بھی اسی قدر تیزی  سے  ہوگی ۔نبی کریم ﷺ جسمانی  وروحانی بیماریوں کا علاج جن وظائف اور ادویات سے  کیا کرتے تھے یاجن  مختلف بیماریوں کےعلاج کےلیے  آپﷺنے جن چیزوں کی نشاندہی کی اور  ان کے  فوائد ونقصان کو  بیان کیا ان کا ذکر  بھی  حدیث وسیرت کی کتب میں موجو د ہے  ۔ کئی اہل علم نے  ان  چیزوں ک یکجا کر کے  ان کو طب ِنبوی کا نام  دیا ہے ۔ان میں امام  ابن قیم﷫ کی کتاب  طب نبوی  قابل ذکر  ہے  او ردور جدید میں ڈاکٹر خالد غزنوی کی  کتب بھی  لائق مطالعہ ہیں۔طب کی اہمیت وافادیت کے  پیش نظر اس کو بطور  علم پڑھا جاتارہا ہے  اور  کئی نامور ائمہ ومحدثین ماہر طبیب بھی ہوا کرتے تھے۔ہندوستان میں بھی طب کو  باقاعدہ  مدارس ِ اسلامیہ  میں پڑھایا جاتا  رہا ہے  اور الگ سے   طبیہ کالج  میں بھی قائم تھے ۔ اور ہندوستان کے کئی نامور  علماء کرام اور شیوخ الحدیث ماہر  طبیب وحکیم تھے ۔محدث العصر علامہ حافظ محمد گوندلوی﷫ نے  طبیہ  کالج دہلی سے  علم طب پڑھا اور کالج میں اول  پوزیشن حاصل کی ۔کئی علماء  کرام نے علم طب حاصل کر کے  اسے اپنے روزگار کا ذریعہ بنائے  اور دین کی تبلیغ واشاعت  کا فریضہ فی سبیل اللہ  انجام دیا ۔ لیکن  رفتہ رفتہ علماء میں یہ سلسلہ ختم ہوتاگیا اب  خال    خال ہی ایسے علماء  نظر آتے  ہیں کہ  جوجید عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر  ومستند حکیم وڈاکٹر بھی ہوں۔ زير تبصره كتاب ’’تربیت معالجین قانون مفرد اعضاء  ‘‘  حکیم محمد یٰسین دنیاپوری کی  کا وش  ہے انہوں  نےاپنے  بیس سالہ طبی تجربات  کا ما حاصل   اس کتاب میں درج کردیا ہے اس میں  ا س بات کا خاص اہتمام کیا ہے کہ کوئی بات ایسی  نہ لکھی جائے جو تجربہ ومشاہدہ  اور تحقیق میں درست ثابت نہ ہوئی ہو ۔محض سنی سنائی باتوں کتابوں کی بے  معنی نقل اور بغیر غور وفکر کئے مسئلہ کولکھنے سے اخترا ز کیا ہے  اور مصنف نے کوشش کی ہے کہ طب کے قدیم مسائل کو  بڑی وضاحت سے اور عام فہم الفاظ میں آسان اور سہل خیالات  کےساتھ  ذہن نشین کرایا ہے ۔(م۔ا) 

  • 5 #2758

    مصنف : حکیم مبشر علی حسن

    مشاہدات : 6836

    تشخیص صابر

    (اتوار 21 دسمبر 2014ء) ناشر : مکتبہ دانیال اردو بازار لاہور

    انسا ن کو بیماری کا لاحق ہو نا من جانب اللہ ہے اوراللہ تعالی نے ہر بیماری کا علاج بھی   نازل فرمایا ہے جیسے کہ ارشاد نبویﷺ ہے ’’ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی دواء نازل کی ہے یہ الگ بات ہے کہ کسی نےمعلوم کر لی اور کسی نے نہ کی ‘‘بیماریوں کے علاج کے لیے معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ علاج،حجامہ سے علاج) سے علاج کرنا سنت سے ثابت ہے ۔ روحانی اور جسمانی بیماریوں سےنجات کے لیے ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت میں پختگی ہو گی تو بیماری سے شفاء بھی اسی قدر تیزی سے ہوگی ۔نبی کریم ﷺ جسمانی وروحانی بیماریوں کا علاج جن وظائف اور ادویات سے کیا کرتے تھے یاجن مختلف بیماریوں کےعلاج کےلیے آپﷺنے جن چیزوں کی نشاندہی کی اور ان کے فوائد ونقصان کو بیان کیا ان کا ذکر بھی حدیث وسیرت کی کتب میں موجو د ہے ۔ کئی اہل علم نے ان چیزوں ک یکجا کر کے ان کو طب ِنبوی کا نام دیا ہے ۔ان میں امام ابن قیم﷫ کی کتاب طب نبوی قابل ذکر ہے او ردور جدید میں ڈاکٹر خالد غزنوی کی کتب بھی لائق مطالعہ ہیں۔طب کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر اس کو بطور علم پڑھا جاتارہا ہے اور کئی نامور ائمہ ومحدثین ماہر طبیب بھی ہوا کرتے تھے۔ہندوستان میں بھی طب کو باقاعدہ مدارس ِ اسلامیہ میں پڑھایا جاتا رہا ہے اور الگ سے   طبیہ کالج میں بھی قائم تھے ۔ اور ہندوستان کے کئی نامور علماء کرام اور شیوخ الحدیث ماہر طبیب وحکیم تھے ۔محدث العصر علامہ حافظ محمد گوندلوی﷫ نے طبیہ کالج دہلی سے علم طب پڑھا اور کالج میں اول پوزیشن حاصل کی ۔کئی علماء کرام نے علم طب حاصل کر کے اسے اپنے روزگار کا ذریعہ بنائے اور دین کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ فی سبیل اللہ انجام دیا ۔ لیکن رفتہ رفتہ علماء میں یہ سلسلہ ختم ہوتاگیا اب خال   خال ہی ایسے علماء نظر آتے ہیں کہ جوجید عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر ومستند حکیم وڈاکٹر بھی ہوں۔الحمد للہ   مولانا حکیم مبشر علی حسن ﷾ (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور )ان علماء میں سے ایک ہیں جو اچھے عالم دین ، اچھے خطیب وواعظ ہونےکے ساتھ ساتھ ماہر تجربہ کا ر حکیم ہیں اور طب کے موضوع پر تقریبا چار کتب(تشخیص صابر ،کلیات صابر، انسائیکلو پیڈیا آف طب نبویﷺ، تحقیقات علم النباتات ) کے مصنف ہیں ۔ اور لاہور میں مطب بخاری کے نام   سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔موصوف کے تقریبا 70 اطباء شاگرد پنجاب بھر میں مصروف عمل ہیں۔ طب کےمیدان میں ان کی حسنِ کارکردگی کے اعتراف میں ان کی مادر علمی جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور نے فروری 2014میں انہیں اعزازی شیلڈ سے نوازا ہے۔ اور حال ہی میں موصو ف نے ’’جامعۃ الامام البخاری‘‘ کے نام سے ایک دینی ادارے کا آغازکیا ہے جس میں دینی و عصر ی علوم کے ساتھ ساتھ طب وحکمت کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی تمام مساعی جمیلہ کوشرفِ قبولیت سے نوازے (آمین) زیر نظر کتاب’’تشخیص صابر‘‘ مولانا حکیم مبشر علی حسن ﷾ کی تصنیف ہے جو کہ انہوں نے بطور ہدیہ ویب سائٹ پر پبلش کرنے کے لیے عنائیت کی ۔ یہ کتاب طبِ قدیم کے بنیادی اصولوں اور جدید میڈیکل سائنس کی تحقیق (لیبارٹری ٹیسٹوں)سے تشخیصی مطابقت کے اسرار ورموز کامجموعہ ہے جسے فاضل مصنف نے   جدید طبی تحقیق قانون مفرد اعضاءکی روشنی میں بیان کر دیا ہے۔ تاکہ مبتدی حضرات علم سریریات یعنی علم تشخیص سے آگاہ ہوسکیں۔اس کتاب میں انہوں نے تشخیص کے پانچ بنیادی ذرائع کے متعلق ٹھوس معلومات بھی جمع کردی ہیں جس سے تعارف رکھنا ہر معالج کی بنیادی ضرورت ہے کیونکہ صحیح تشخیص ہی صحیح علاج کی اساس ہے ۔(م۔ا)

  • 6 #5910

    مصنف : حکیم محمد ادریس لدھیانوی

    مشاہدات : 2196

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ غذاؤں سے علاج اور جدید سائنس

    (ہفتہ 25 نومبر 2017ء) ناشر : مکی دارالکتب لاہور

    سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کے طریقہ علاج و معالجہ کو علاج نبوی ﷺ کہا جاتا ہے۔ انسا ن کو بیماری کا لاحق ہو نا من جانب اللہ ہے اوراللہ تعالی نے ہر بیماری کا علاج بھی نازل فرمایا ہے جیسے کہ ارشاد نبویﷺ ہے ’’ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی دواء نازل کی ہے یہ الگ بات ہے کہ کسی نےمعلوم کر لی اور کسی نے نہ کی ‘‘بیماریوں کے علاج کے لیے معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ علاج،حجامہ سے علاج) سے علاج کرنا سنت سے ثابت ہے ۔ روحانی اور جسمانی بیماریوں سےنجات کے لیے ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت میں پختگی ہو گی تو بیماری سے شفاء بھی اسی قدر تیزی سے ہوگی ۔ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں کتاب الطب کے نام سے ابواب بھی قائم کیے اور بعض ائمہ نے طب پر مستقل کتب بھی تصنف کی ہیں امام ابن قیم  کی الطب النبوی قابل ذکر ہے ۔اور اسی طرح بعض ماہرین طب نے طب نبوی ،جدید سائنس اور عصر ی تحقیقات کو سامنے رکھتے ہوئے کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ حضور اکرم ﷺ کی پسندیدہ غذاؤں سے علاج اور جدید سائنس‘‘حکیم محمد ادریس لدھیانوی فاضل طب و الجراحت کی ہے۔ جس میں نبی کریم ﷺ کے طبی تحائف سے بیماریوں کےعلاج کا ایک خزانہ ہےجس میں صحت بنانے والی غذائیں ، صحت بگاڑنی والی غذاؤں احاطہ کیا ہے۔ مزیدمنہ اور پیٹ کی تمام بیماریوں ان کی علامات ،اسباب کاجائزہ لینے کے بعد جدید اور قدیم ادویہ کے مقابلے میں طب نبویؐ سے علاج کی ایک مکمل کتاب ہے ۔یہ کتاب انہوں نے نہایت عرق ریزی ،محنت شاقہ اور مطالعہ کے بعد تصنیف کی ہے اس میں ان تمام اشیاء اور ادویہ کی تفصیل وتشریح کی گئی ہے جو احادیث نبویہ میں مذکور ہیں۔ حکیم محمد ادریس لدھیانوی نے اپنے مشاہدات وتجربات سائنسی وطبی مسلمات کے ساتھ پیش کرنے کا شرف حاصل کیا ۔ جس سے معالجین کےلیے رہنما اصول ملتے ہیں اور اب ہسپتالوں میں ان نباتات طب نبویؐ سے معالجات میں استفادہ ممکن ہوگیا ہے ۔ اللہ تعالی ڈاکٹر صاحب کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین طالب دعا: پ،ر،ر

  • 7 #2926

    مصنف : ڈاکٹر خالد غزنوی

    مشاہدات : 4464

    دل کی بیماریاں اور علاج نبوی ؐ

    (ہفتہ 28 فروری 2015ء) ناشر : الفیصل ناشران وتاجران کتب، لاہور

    قلب  عضو رئیس ہے  ،ضامن حیات ہے  اعضائے جسم انسانی میں مرکزیت اورعلوئیت کا مرتبہ ومقام رکھتا ہے ۔ اس  میں خواہشات کی دنیا آباد ہے  اور دل سے ہی  فیصلوں کا صدور ہوتا ہے۔  اور وجودِ انسانی  کا مرکز دل ہے   انسانی  زندگی کی بقا کے لیے ضروری  ہے  کہ  اپنے  مرکز دل سے  اس کا  رابطہ برابر قائم رہے ، قلب ہی  وہ اولین  سرچشمہ ہے جہاں سے خیالات،احساسات ،جذبات اورارادوں کےجھرنے پھوٹتے  ہیں فساد اگر اس میں  آجائے تو پھر سارے کردار میں پھیل جاتا ہے  او راصلاح بھی اگر اس سرچشمہ کی ہوجائے تو ساری  سیرت سنور جاتی  ہے ۔ قلب درست ہو تو  یہی  اصل مربی  ومزکی ہے یہی مفتی  وجج ہے  یہی اگر بگڑ جائے  تو  باہر  کی کوئی امداد انسان کو نہیں سنوار سکتی  اور دل  انسانی  جسم  کا اہم  او رکلیدی  عضو ہے جو جسم  انسانی  کی طرح فکروعمل میں بھی  بنیادی  کردار کرتا ہے  اس لیے  قرآن  وحدیث  کی نظر میں  قلب کی درستی  پر انسانی  عمل  کی درستی کا  انحصار  ہے  نبی  کریم  ﷺ نے  فرمایا یاد رکھو!کہ جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے  اگر وہ  سنور گیا تو سارا بدن سنور گیا اور  جووہ بگڑا تو سارا بدن بگڑگیا ،سنو وہ  دل ہے۔ اور اسی طرح  ارشاد نبوی  کی  ترجمانی کسی  شاعرنے ان الفاظ میں کی ہے  دل کے بگاڑ سے  ہی  بگڑتا ہے آدمی  جس نے اسے  سنبھال لیا وہ سنبھل گیا قلبِ انسانی اپنی حیات کےلیے خون کا صرف گیارہ فیصد استعمال کرتا ہے باقی 89 فیصد خون  جسم انسانی کے دوسرے اعضائے رئیسہ وشریفہ کی حیات قائم رکھنے کےلیے پمپ کردیتاہے ۔انسان کا یہ  عظیم دل بھی علالتوں کی زد میں آتاہے ۔ قلب کی یہ علالتیں کبھی روحانی ہوتی ہیں، نفسیاتی ہوتی ہیں اور کبھی عضویاتی وجسمانی    ہوتی ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ دل کی بیماریاں اور علاج نبویﷺ‘‘ غزنوی خاندان کے  معروف ڈاکٹر خالد غزنوی کی تصنیف ہے ۔ جوکہ امراضِ  قلب میں علاج نبوی ﷺ اور دل کی مادی علالتوں کے متعلق بحث کرتی ہے ۔روحانی  امراض سے اس کا تعلق نہیں۔موصوف نے   اس کتاب  میں طب ِنبویؐ اور ارشادات نبویؐ کی روشنی میں دل کی بیماریوں کا علاج  بڑے احسن انداز میں  بیان کیاہے ۔ کیونکہ  دل کی بیماریوں کا  کوئی بھی علاج   علاجِ نبوی سےبہتر نہیں ہوسکتاہے۔ڈاکٹر خالد غزنوی صاحب اس کتاب کے علاوہ  طب کے سلسلے میں تقریبا چھ کتب کے مصنف  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان  کی  کاوشوں کو قبول فرمائے  اور ان کی کتب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)
     

  • 8 #6031

    مصنف : ڈاکٹر آصف محمود جاہ

    مشاہدات : 2323

    دوا، غذا اور شفاء (اضافہ شدہ ایڈیشن)

    (جمعہ 20 اکتوبر 2017ء) ناشر : نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد

    اللہ رب العزت نے دنیا ومافیہا کی رہنمائی کے لیے انبیاء کا سلسلہ جاری کیا اور ہر نبی اور رسول کو اپنے اپنے دور کے مطابق تعلیمات سے نوازا لیکن سب سے آخری نبی کو جو تعلیمات دیں وہ نہایت جامع ہیں۔ دینی تعلیمات نے اپنے ماننے والوں کو ہر شعبے (وہ چاہے معاشی ہو‘ سیاسی ہو‘ معاشرتی ہو) میں جامع اور کبھی تفصیل کے ساتھ رہنمائی فرمائی ہے اور انسانیت کو وقت کے ساتھ ساتھ مختلف عوارض پیش آتے رہتے ہیں اور بیماری کا لگ جانا اللہ رب العزت کی رحمت کی نشانی ہے اور اللہ رب العزت نے کوئی بھی بیماری ایسی دنیا میں نازل نہیں کی جس کا علاج یا شفاء نازل نا کی ہو‘ وہ الگ بات ہے کہ ہماری اس علاج تک دسترس نا ہو۔زیرِ تبصرہ کتاب میں مختلف بیماریوں میں استعمال ہونے والی دواؤں‘ ان کے مضر اثرات‘ استعمال اور انتخاب سے متعلق تفصیلی معلومات ہیں۔ دوا کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ مروجہ اور جدید دواؤں کے پس منظر‘ پیش منظر‘ ذیلی اثرات اور ان کے بے خطا انتخاب پر مستند‘ مربوط اور مبسوط راہنمائی کی گئی ہے۔ دوا کے ساتھ ساتھ دُعا پر ایمان رکھنے والوں کے لیے بھی کتاب کما حقہ تعلیمات بیان کریتی ہے اور یہ کتاب عوام طلبہ اور پریکٹس کرنے والوں کے لیے کار آمد اور مدد گار ہے۔ ہر بیماری اور متعلقہ ادویات کی ضرورت واہمیت کا جامع خلاصہ دیا گیا ہے۔ یہ کتاب مصنف کے وسیع مشاہدات وتحقیقات اور غائر مطالعہ کا حسین امتزاج ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ دوا‘غذا اور شفاء‘‘ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 9 #7065

    مصنف : حکیم محمد طارق محمود عبقری

    مشاہدات : 1517

    دیسی جڑی بوٹیوں کے کمالات اور جدید سائنسی تحقیقات

    (پیر 23 ستمبر 2019ء) ناشر : خزینہ علم وادب لاہور

    انسا ن  کو بیماری  کا لاحق ہو نا  من  جانب  اللہ  ہے  اوراللہ تعالیٰ نے  ہر بیماری کا علاج بھی   نازل فرمایا ہے بیماریوں کے علاج  کے لیے  معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ  علاج،حجامہ سے  علاج) سے  علاج کرنا  سنت  سے  ثابت ہے ۔ روحانی  اور جسمانی  بیماریوں سےنجات کے لیے  ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت  میں  پختگی  ہو گی تو  بیماری سے  شفاء بھی اسی قدر تیزی  سے  ہوگی ۔نبی کریم ﷺ جسمانی  وروحانی بیماریوں کا علاج جن وظائف اور ادویات سے  کیا کرتے تھے یاجن  مختلف بیماریوں کےعلاج کےلیے  آپﷺنے جن چیزوں کی نشاندہی کی اور  ان کے  فوائد ونقصان کو  بیان کیا ان کا ذکر  بھی  حدیث وسیرت کی کتب میں موجو د ہے  ۔ کئی اہل علم نے  ان  چیزوں کو یکجا کر کے  ان کو طب ِنبوی کا نام  دیا ہے ۔ان میں امام  ابن قیم﷫ کی کتاب  طب نبوی  قابل ذکر  ہے  او ردور جدید میں ڈاکٹر خالد غزنوی کی  کتب بھی  لائق مطالعہ ہیں۔طب کی اہمیت وافادیت کے  پیش نظر اس کو بطور  علم پڑھا جاتارہا ہے  اور  کئی نامور ائمہ ومحدثین ماہر طبیب بھی ہوا کرتے تھے۔ہندوستان میں بھی طب کو  باقاعدہ  مدارس ِ اسلامیہ  میں پڑھایا جاتا  رہا ہے  اور الگ سے   طبیہ کالج  میں بھی قائم تھے ۔ ہندوستان کے کئی نامور  علماء کرام اور شیوخ الحدیث ماہر  طبیب وحکیم تھے ۔طب اسلامی اورطب یونانی  کے تحت جڑی بوٹیوں سےعلاج کی افادیت زمانہ قدیم سے مسلمہ ہے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک دونوں ہی اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’دیسی جڑی بوٹیوں کے کمالات اور جدید سائنسی تحقیقات  ‘‘ طب کی دنیا کی معروف شخصیت  حکیم  محمود طارق محمود چغتائی کی مرتب شدہ ہے  یہ کتاب  ان نباتاتی ثمرات کا مرقع ہے جو ا للہ تعالیٰ نے ہمارے لیے رکھے ہیں  اورجن سے اہم اپنی بیماریوں  اور بیماروں کاعلاج کرتے ہیں ۔(م۔ا)

  • 10 #3234

    مصنف : ڈاکٹر خالد علوی

    مشاہدات : 9231

    سانس کی بیماریاں اور علاج نبویﷺ

    (منگل 12 مئی 2015ء) ناشر : الفیصل ناشران وتاجران کتب، لاہور

    انسا ن کو بیماری کا لاحق ہو نا من جانب اللہ ہے اوراللہ تعالی نے ہر بیماری کا علاج بھی   نازل فرمایا ہے جیسے کہ ارشاد نبویﷺ ہے ’’ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی دواء نازل کی ہے یہ الگ بات ہے کہ کسی نےمعلوم کر لی اور کسی نے نہ کی ‘‘بیماریوں کے علاج کے لیے معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ علاج،حجامہ سے علاج) سے علاج کرنا سنت سے ثابت ہے۔ روحانی اور جسمانی بیماریوں سےنجات کے لیے ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت میں پختگی ہو گی تو بیماری سے شفاء بھی اسی قدر تیزی سے ہوگی۔ نبی کریم ﷺ جسمانی وروحانی بیماریوں کا علاج جن وظائف اور ادویات سے کیا کرتے تھے یاجن مختلف بیماریوں کےعلاج کےلیے آپﷺنے جن چیزوں کی نشاندہی کی اور ان کے فوائد ونقصان کو بیان کیا ان کا ذکر بھی حدیث وسیرت کی کتب میں موجو د ہے ۔ کئی اہل علم نے ان چیزوں ک یکجا کر کے ان کو طب ِنبوی کا نام دیا ہے ۔ان میں امام ابن قیم﷫ کی کتاب طب نبوی قابل ذکر ہے او ردور جدید میں ڈاکٹر خالد غزنوی کی کتب بھی لائق مطالعہ ہیں۔طب کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر اس کو بطور علم پڑھا جاتارہا ہے اور کئی نامور ائمہ ومحدثین ماہر طبیب بھی ہوا کرتے تھے۔ہندوستان میں بھی طب کو باقاعدہ مدارس ِ اسلامیہ میں پڑھایا جاتا رہا ہے اور الگ سے   طبیہ کالج میں بھی قائم تھے ۔ اور ہندوستان کے کئی نامور علماء کرام اور شیوخ الحدیث ماہر طبیب وحکیم تھے ۔محدث العصر علامہ حافظ محمد گوندلوی﷫ نے طبیہ کالج دہلی سے علم طب پڑھا اور کالج میں اول پوزیشن حاصل کی ۔کئی علماء کرام نے علم طب حاصل کر کے اسے اپنے روزگار کا ذریعہ بنائے اور دین کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ فی سبیل اللہ انجام دیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سانس کی بیماریاں اور ان کا علاج نبوی ﷺ‘‘ غزنوی خاندان کے معروف ڈاکٹر خالد غزنوی کی تصنیف ہے۔ موصوف نے اس کتاب میں آیات قرآنی اور ارشادات نبویؐ کی روشنی میں سانس کی بیماریوں کا علاج بڑے احسن انداز میں بیان کیاہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے قرآن میں کی اس آیت مبارکہقَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينکی رو سے قرآن مجید کو سینے کے تمام مسائل (خواہ وہ عضوی ہوں یا نفسیاتی) کےلیے شفا کا مظہر قرار دیتے ہوئے کتاب میں اسی آیت مبارکہ کی طبی تفسیر بیان کی ہے ڈاکٹر خالد غزنوی صاحب اس کتاب کے علاوہ طب کے سلسلے میں تقریبا چھ کتب کے مصنف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کی کتب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے۔ آمین(م۔ا)

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1395
  • اس ہفتے کے قارئین 15034
  • اس ماہ کے قارئین 53428
  • کل قارئین49439921

موضوعاتی فہرست