نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد

نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد
راوالپنڈی
6 کل کتب
دکھائیں

  • 1 اصول تحقیق (ہفتہ 01 اگست 2015ء)

    مشاہدات:8038

    تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی اصلیت وحقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین اور تفتیش کرنا۔اصطلاحا تحقیق کا مطلب ہے  کہ کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کر کے کھرے کھوٹے اور اصلی ونقلی مواد میں امتیاز کرنا،پھر تحقیقی قواعد وضوابط کے مطابق اسے استعمال میں لانا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ۔ایسا تحقیقی کام سندی تحقیق میں کیا جاتا ہے ،جو ہر مقالہ کی آخری منزل ہوتی ہے۔ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔ معاشرتی علوم اور ادبیات میں علمی نوعیت کی جدید رسمیات پر مبنی کتابیں اور تحقیقی مجلے اس وقت عام ہونے لگے تھے جب رائل ایشیا ٹک سوسائٹی نے خصوصا تاریخ کے موضوعات پر اپنے مطالعات کو جدید اصولوں کے تحت شائع کرنے کا آغاز کیا اور یورپ کے دیگر ملکوں جیسے جرمنی، اٹلی، فرانس اور ہالینڈ کے تحقیقی اور اشاعتی اداروں نے بھی اس جانب پیش قدمی کی اور اسی زمانے میں خصوصا تحقیق و ترتیب متن کی بہترین کوششیں سامنے آنے لگیں۔لیکن افسوس کہ آج تک اردو میں تحقیق کی رسمیات متفقہ طور پر نہ طے ہو سکیں۔ نہ ان کے بارے میں سوچا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب پیش رفت ہوسکی۔ چنانچہ ایک ہی جامعہ میں، بلکہ اس جامعہ کے ایک ہی شعبے میں لکھے جانے والے مقالات باہم ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک مقالے میں حواش...

  • 2 اصول تحقیق ( اضافہ شدہ ایڈیشن ) (پیر 18 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:3304

    تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردۂ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصۂ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔مزید واقعاتی حقائق کا جائزہ لینے اور ان کے اثرات معلوم کرنے کا نام بھی تحقیق ہے ۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔تحقیق کے لغوی معنیٰ کسی شئے کی حقیقت کا اثبات ہے۔ ’’تحقیق کے لیے انگریزی میں استعمال ہونے والا لفظ ریسرچ ہے…اس کے ایک معنیٰ توجہ سے تلاش کرنے کے ہیں، دوسرے معنیٰ دوبارہ تلاش کرنا ہے۔دور حاضر میں اصول تحقیق ایک فن سے ترقی کرتاہوا باقاعدہ ایک علم بلکہ ایک اہم علم کی صورت اختیار کرچکا ہے ۔ عالمِ اسلام کی تمام یونیورسٹیوں ، علمی اداروں ، مدارس اور کلیات میں تمام علوم پر تحقیق زور شور سے جاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اصول تحقیق کا مادہ تمام عالمِ اسلام کی یونیورسٹیوں میں عموماً ا ور برصغیر کی جامعات اور متعدد اداروں میں خصوصاً نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے ۔ان تمام اداروں میں بھی جہاں گریجویٹ اوراس کے بعد کی کلاسوں میں مقالہ لکھوایا جاتا ہے یا ایم فل وڈاکٹریٹ کی باقاعدہ کلاسیں ہوتی ہیں وہاں تحقیق نگاری یا اصول تحقیق کی بھی باقاعدہ تدریس ہوتی ہے ۔ اس طرح اصول تحقیق ، تحقیق نگاری، فن تحقیق یا تحقیق کا علم جامعات اورمزید علمی اداروں میں بہت زیادہ اہمیت حاصل کرچکا ہے۔تحقیق واصول تحقیق پر متعدد کتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ...

  • 3 دوا، غذا اور شفاء (اضافہ شدہ ایڈیشن) (جمعہ 20 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:2042

    اللہ رب العزت نے دنیا ومافیہا کی رہنمائی کے لیے انبیاء کا سلسلہ جاری کیا اور ہر نبی اور رسول کو اپنے اپنے دور کے مطابق تعلیمات سے نوازا لیکن سب سے آخری نبی کو جو تعلیمات دیں وہ نہایت جامع ہیں۔ دینی تعلیمات نے اپنے ماننے والوں کو ہر شعبے (وہ چاہے معاشی ہو‘ سیاسی ہو‘ معاشرتی ہو) میں جامع اور کبھی تفصیل کے ساتھ رہنمائی فرمائی ہے اور انسانیت کو وقت کے ساتھ ساتھ مختلف عوارض پیش آتے رہتے ہیں اور بیماری کا لگ جانا اللہ رب العزت کی رحمت کی نشانی ہے اور اللہ رب العزت نے کوئی بھی بیماری ایسی دنیا میں نازل نہیں کی جس کا علاج یا شفاء نازل نا کی ہو‘ وہ الگ بات ہے کہ ہماری اس علاج تک دسترس نا ہو۔زیرِ تبصرہ کتاب میں مختلف بیماریوں میں استعمال ہونے والی دواؤں‘ ان کے مضر اثرات‘ استعمال اور انتخاب سے متعلق تفصیلی معلومات ہیں۔ دوا کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ مروجہ اور جدید دواؤں کے پس منظر‘ پیش منظر‘ ذیلی اثرات اور ان کے بے خطا انتخاب پر مستند‘ مربوط اور مبسوط راہنمائی کی گئی ہے۔ دوا کے ساتھ ساتھ دُعا پر ایمان رکھنے والوں کے لیے بھی کتاب کما حقہ تعلیمات بیان کریتی ہے اور یہ کتاب عوام طلبہ اور پریکٹس کرنے والوں کے لیے کار آمد اور مدد گار ہے۔ ہر بیماری اور متعلقہ ادویات کی ضرورت واہمیت کا جامع خلاصہ دیا گیا ہے۔ یہ کتاب مصنف کے وسیع مشاہدات وتحقیقات اور غائر مطالعہ کا حسین امتزاج ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ دوا‘غذا اور شفاء‘‘ ڈاکٹر...

  • 4 فلسفے کے بنیادی مسائل (جمعرات 25 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:3452

    فلسفہ یونانی لفظ فلوسوفی یعنی حکمت سے محبت سے نکلا ہے۔ فلسفہ کو تعریف کے کوزے میں بند کرنا ممکن نہیں، لہذا ازمنہ قدیم سے اس کی تعریف متعین نہ ہوسکی۔فلسفہ علم و آگہی کا علم ہے، یہ ایک ہمہ گیر علم ہے جو وجود کے اغراض اور مقاصد دریافت کرنے کی سعی کرتا ہے۔ افلاطون کے مطابق فلسفہ اشیاء کی ماہیت کے لازمی اور ابدی علم کا نام ہے۔ جبکہ ارسطو کے نزدیک فلسفہ کا مقصد یہ دریافت کرنا ہے کہ وجود بذات خود اپنی فطرت میں کیا ہیں۔ کانٹ اسے ادراک و تعقل کے انتقاد کا علم قرار دیتا ہے۔فلسفہ کو ان معنوں میں ’’ام العلوم‘‘ کہہ سکتے ہیں کہ یہ موجودہ دور کے تقریباً تمام علوم کا منبع و ماخذ ہے۔ ریاضی، علم طبیعیات، علم کیمیا، علم منطق، علم نفسیات، معاشرتی علوم سب اسی فلسفہ کے عطایا ہیں۔پانی کے اجزائے ترکیبی عناصر (آکسیجن، ہائیڈروجن) معلوم کرنا سائنس ہے اور یہ دریافت کرنا کہ کیا اس ترکیب اور نظام کے پیچھے کوئی دماغ مصروف عمل ہے ؟ فلسفہ ہے ۔ فلسفی کائناتی مسائل کی حقیقت تلاش کرتا اور اقدار و معانی کا مطالعہ کرتا ہے ۔ افلاطون کہتا ہے کہ فلسفہ تلاش حقیقت کا نام ہے ۔ رواقیہ کے ہاں علم ، نیکی ، فضیلت اور ایسی دانش حاصل کرنے کا نام فلسفہ ہے جو خدائی مشیت سے ہم آہنگ کر دے ۔

    زیر تبصرہ کتاب ’’ فلسفے کے بنیادی مسائل‘‘ قاضی قیصر الاسلام کی کاوش ہے۔ جس میں فلسفے کی تعریف، حدود، عملی افادیت، فلسفہ اور اس کا دیگر علوم سے تعلق، وجود سے متعلق مختلف نظریات، عملیات، فلسفہ فدار ومذہب اور مسلمانوں کے ما بعد الطبیع...

  • 5 ارسطو سے ایلیٹ تک (اتوار 29 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:3094

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک ڈاکٹر جمیل جالبی بھی ہیں جو ایک اہم مفکر اور بلند پایہ مصنف ہیں اور انہوں نے اس کتاب میں مختلف اہل علم کے لکھے مواد پر اپنا ایک مضمون لکھا جس میں متعلقہ مصنف کا تعارف اور حالات بھی لکھے۔زیرِ تبصرہ کتاب میں مصنف نے ان تمام مضامین کو ارسطو سے لے کر ایلیٹ تک کے تمام نامور مصنفین پر لکھے مضامین کو جمع کیا ہے۔اس کتاب کا یہ ساتواں ایڈیشن ہے اس ایڈیشن میں اس کتاب کو  خط نستعلیق  میں کمپوز کروایا گیا ہے  جس کی وجہ سے کتاب کی ضخامت کم ہوئی ہے اور رائج رسم الخط کے استعمال سے کتاب کے حسن میں اضافہ بھی ہوا ہے اور اس میں ایک مضمون سنجیدہ فن کار کا تعارف کروا کر اضافہ بھی کاکیا گیا ہے۔ سب سے پہلے اس کتاب میں مقدمہ میں تسلسل کے ساتھ مغرب کی ڈھائی ہزار سال کی ادبی فکر کے ارتقاء کو موضوع بنایا گیا ہے ‘ اس کے بعد مغرب کی ادبی فکر اور اہم شخصیتوں سے تعارف ہے۔ اس کتاب میں سارے پھول گندھ گئے ہیں جو گلزار مغرب میں...

  • 6 حکمائے اسلام حصہ اول (ہفتہ 20 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:2160

    مسلمانوں میں جو حکماء وفلاسفہ پیدا ہوئے ان میں کچھ تو ملحد وبے دین اور اکثر ضعیف العقیدہ تھے۔ یا کم ازکم ان کی مذہبی حالت  بہتر نہیں تھی یہی وجہ  ہے کہ قدیم زمانے میں بھی ان کے سوانح وحالات کی طرف بہت کم مؤرخین نے  توجہ دی۔اس لیے عوام الناس  ان کے حالات سے بالکل ناآشنا رہے ۔قدیم زمانے میں اگرچہ بعض آزاد خیال لوگوں نے ان کے حالات پر چند کتابیں لکھیں  لیکن اولاً تو یہ کتابیں خاص طور ان کے زمانے کے حکماء کے حالات تک محدود ہیں ۔ثانیاً ان کتابوں میں حکمائے اسلام کے ساتھ ساتھ  زیادہ تر حکمائے یونان ، عیسائی  فلاسفہ او راطباء کے نام  مذکور ہیں۔ خالص حکمائے اسلام کے حالات  میں کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔لہذا اس ضرورت کے پیش نظر  مولانا عبد السلام ندوی  نے زیر نظر کتاب ’’ حکمائے اسلام ‘‘ تحریر کی یہ کتاب  دو حصوں میں  ہے ۔مصنف نے اس کتا ب میں  حکمائے اسلام کی ہر قسم کی مذہبی اخلاقی اور فلسفیانہ خدمات کو نمایاں کیا ہے  حصہ اول میں  پانچویں صدی تک  کے حکماء کے حالات مذکور ہیں  اور دوسرے  حصے  میں متوسّطین  ومتاخرین حکمائے اسلام  کے مستند حالات ان  کی علمی خدمات  اور ان کے  فلسفیانہ نظریات کی تفصیل  دی گئی ہے۔(م۔ا) 


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1874
  • اس ہفتے کے قارئین: 6364
  • اس ماہ کے قارئین: 40385
  • کل قارئین : 47875517

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں