کل کتب 5

دکھائیں
کتب
  • 1 #7029

    مصنف : شاہد مختار

    مشاہدات : 781

    ارسطو حیات و تعلیمات فکر و فلسفہ

    (ہفتہ 17 اگست 2019ء) ناشر : شاہد پبلشرز اینڈ بک سیلرز لاہور

    ارسطو یونان کا ممتاز فلسفی، مفکر اور ماہر منطق تھا، جس نے سقراط جیسے استاد کی صحبت پائی اور سکندر اعظم جیسے شاگرد سے دنیا کو متعارف کروایا۔384 قبل مسیح میں مقدونیہ کے علاقے استاگرہ میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ شاہی دربار میں طبیب تھا۔ وہ بچپن ہی میں اپنی والدہ کے سائے سے محروم ہوگیا۔  ارسطو نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ دس برس کا ہوا تو باپ کا بھی انتقال ہوگیا۔ارسطو 37 سال کی عمر تک افلاطون کے مکتب سے وابستہ رہا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اسے اپنے استاد افلاطون کے خیالات میں تضاد اور طریق تدریس میں کجی نظر آئی جسے اس نے اپنی تحریروں میں موضوع بنایا ہے۔ 53 سال کی عمر میں ارسطو نے اپنے مدینہ الحکمت کی بنیاد ڈالی جہاں اس نے نظری و کلاسیکی طریقہ علم کے بجائے عملی اور عقلی مکتب فکر کو فروغ دیا۔ ارسطو کا خالکس میں7 مارچ 322 قبل مسیح میں انتقال ہوا۔ارسطو صرف فلسفی ہی نہ تھا، بلکہ وہ علم طب، علم حیوانات، ریاضی، علم ہيئت، سیاسیات، مابعدالطبیعیات اور علم اخلاقیات پر قدیم حکما کے مابیں مستند اور صاحب الرائے عالم مانا جاتا ہے۔ اس کی کتب و تحقیقی رسائل کی تعداد ہزار سے زائد ہے۔فلسفہ کے علاوہ جو چیز ارسطو کو سابق فلاسفہ سے ممتاز کرتی ہے وہ اسکا عملی طبیعیات، ہیئت اور حیاتیات میں ملکہ تھا۔ وہ پہلا عالم تھا جس نے علمی اصطلاحات وضع کیں۔ منطق کو باقاعدہ علم کا درجہ دیا۔ اور سیاست و معاشرت کے لیے باضابطہ اصول ترتیب دیے۔ اسکی قائم کردہ اکیڈمی عرصہ دراز تک مرکز علم و فن رہی۔ زیرنظر کتاب  ’’ ارسطو‘‘ شاہد مختار صاحب کی مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب میں  انہوں نے  ارسطور کی  مختصر  حالات زند گی ، ارسطو کی شخصیت،تالیف وتصانیف،ارسطو کے فلسفہ اخلاقیات ، اور فلسفہ سیاسیات  اور  ان کے نظریات    وتعلیمات کو سپرد قلم کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 2 #6365

    مصنف : ڈاکٹر جمیل جالبی

    مشاہدات : 3490

    ارسطو سے ایلیٹ تک

    (اتوار 29 اپریل 2018ء) ناشر : نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک ڈاکٹر جمیل جالبی بھی ہیں جو ایک اہم مفکر اور بلند پایہ مصنف ہیں اور انہوں نے اس کتاب میں مختلف اہل علم کے لکھے مواد پر اپنا ایک مضمون لکھا جس میں متعلقہ مصنف کا تعارف اور حالات بھی لکھے۔زیرِ تبصرہ کتاب میں مصنف نے ان تمام مضامین کو ارسطو سے لے کر ایلیٹ تک کے تمام نامور مصنفین پر لکھے مضامین کو جمع کیا ہے۔اس کتاب کا یہ ساتواں ایڈیشن ہے اس ایڈیشن میں اس کتاب کو  خط نستعلیق  میں کمپوز کروایا گیا ہے  جس کی وجہ سے کتاب کی ضخامت کم ہوئی ہے اور رائج رسم الخط کے استعمال سے کتاب کے حسن میں اضافہ بھی ہوا ہے اور اس میں ایک مضمون سنجیدہ فن کار کا تعارف کروا کر اضافہ بھی کاکیا گیا ہے۔ سب سے پہلے اس کتاب میں مقدمہ میں تسلسل کے ساتھ مغرب کی ڈھائی ہزار سال کی ادبی فکر کے ارتقاء کو موضوع بنایا گیا ہے ‘ اس کے بعد مغرب کی ادبی فکر اور اہم شخصیتوں سے تعارف ہے۔ اس کتاب میں سارے پھول گندھ گئے ہیں جو گلزار مغرب میں پچھلے ڈھائی ہزار سال میں کھلے ہیں۔ اور ہر مضمون کا ایک دوسرے کے ساتھ ربط قائم کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ ارسطو سے ایلیٹ تک ‘‘ ڈاکٹر جمیل جالبی  کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 3 #5019

    مصنف : ابراہیم عمادی ندوی

    مشاہدات : 3725

    مسلمان سائنسدان اور ان کی خدمات

    (ہفتہ 31 دسمبر 2016ء) ناشر : اسلامک پبلیکیشنز، لاہور

    سائنس کو مذہب کا حریف سمجھا جاتا ہے،لیکن یہ محض غلط فہمی ہے۔دونوں کا دائرہ کار بالکل مختلف ہے ،مذہب کا مقصد شرف انسانیت کا اثبات اور تحفظ ہے۔وہ انسان کامل کا نمونہ پیش کرتا ہے،سائنس کے دائرہ کار میں یہ باتیں نہیں ہیں،نہ ہی کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان انسان کامل کہلانے کا مستحق ہے۔اسی لئے مذہب اور سائنس کا تصادم محض خیالی ہے۔مذہب کی بنیاد عقل وخرد،منطق وفلسفہ اور شہود پر نہیں ہوتی بلکہ ایمان بالغیب پر  زیادہ ہوتی ہے۔اسلام نے علم کو کسی خاص گوشے میں محدود نہیں رکھا بلکہ تمام علوم کو سمیٹ کر یک قالب کر دیا ہےاور قرآن مجید میں قیامت تک منصہ شہود پر آنے والے تمام علوم کی بنیاد ڈالی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے تفکر فی الکائنات اور حکمت تکوین میں تامل وتدبر سے کام لیا اور متعددسائنسی اکتشافات  سامنے لائے ۔تاریخ میں ایسے بے شمار  مسلمان سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں،جنہوں نے بے شمار نئی نئی چیزیں ایجاد کیں اور دنیا  میں مسلمانوں  اور اسلام کا نام روشن کیا۔ زیر تبصرہ کتاب" مسلمان سائنس دان اور ان کی خدمات " محترم ابراہیم عمادی ندوی صاحب  کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے ابن الہیثم،البیرونی،بو علی سینا ،الکندی،الفارابی اور الخوارزمی سمیت متعدد مسلمان سائنس دانوں کے نام،سوانح،حالات زندگی اور ان کی ایجادات کا تذکرہ کیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 4 #4703

    مصنف : حمید عسکری

    مشاہدات : 5045

    نامور مسلم سائنسدان ( حمید عسکری )

    (جمعرات 30 جون 2016ء) ناشر : مجلس ترقی ادب لاہور

    سائنس کو مذہب کا حریف سمجھا جاتا ہے،لیکن یہ محض غلط فہمی ہے۔دونوں کا دائرہ کار بالکل مختلف ہے ،مذہب کا مقصد شرف انسانیت کا اثبات اور تحفظ ہے۔وہ انسان کامل کا نمونہ پیش کرتا ہے،سائنس کے دائرہ کار میں یہ باتیں نہیں ہیں،نہ ہی کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان انسان کامل کہلانے کا مستحق ہے۔اسی لئے مذہب اور سائنس کا تصادم محض خیالی ہے۔مذہب کی بنیاد عقل وخرد،منطق وفلسفہ اور شہود پر نہیں ہوتی بلکہ ایمان بالغیب پر زیادہ ہوتی ہے۔اسلام نے علم کو کسی خاص گوشے میں محدود نہیں رکھا بلکہ تمام علوم کو سمیٹ کر یک قالب کر دیا ہےاور قرآن مجید میں قیامت تک منصہ شہود پر آنے والے تمام علوم کی بنیاد ڈالی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے تفکر فی الکائنات اور حکمت تکوین میں تامل وتدبر سے کام لیا اور متعددسائنسی اکتشافات سامنے لائے ۔تاریخ میں ایسے بے شمار مسلمان سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں،جنہوں نے بے شمار نئی نئی چیزیں ایجاد کیں اور دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کا نام روشن کیا۔ زیر تبصرہ کتاب" نامور مسلم سائنس دان " محترم حمید عسکری صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے نامور مسلم سائنس دانوں کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہےاور ان کے نام،سوانح،حالات زندگی اور ان کی ایجادات کا تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 5 #5984

    مصنف : ڈاکٹر سعدیہ چوہدری

    مشاہدات : 1574

    نامور مسلمان سائنسدان

    (بدھ 15 نومبر 2017ء) ناشر : الفجر پبلی کیشنز، لاہور

    شاید ہی دنیا کا کوئی علم ایسا ہو جسے مسلمانوں نے حاصل نہ کیا ہو۔ اسی طرح سائنس کے میدان میں بھی مسلمانوں نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔ گوکہ آج اہل یورپ کا دعویٰ ہے کہ سائنس کی تمام تر ترقی میں صرف ان کا حصہ ہے مگر اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ تجرباتی سائنس کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی ہے اور اس کا اعتراف آج کی ترقی یافتہ دنیا نے بھی کیاہے۔ اس ضمن میں ایک انگریز مصنف اپنی کتاب ’’میکنگ آف ہیومینٹی‘‘ میں لکھتا ہے:’’مسلمان عربوں نے سائنس کے شعبہ میں جو کردار داا کیا وہ حیرت انگیز دریافتوں یا انقلابی نظریات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی ترقی یافتہ سائنس ان کی مرہون منت ہے‘‘۔علم ہیئت و فلکیات کے میدانوں میں مسلمان سائنسدانوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے یونانی فلسفے کے گرداب میں پھنسے علم الہیئت کو صحیح معنوں میں سائنسی بنیادوں پر استوار کیا۔اور مغرب کے دور جدید کی مشاہداتی فلکیات (Observational Astronomy) میں استعمال ہونے والا لفظ Almanac بھی عربی الاصل ہے۔ اس کی عربی اصل المناخ (موسم) ہے۔ یہ نظام بھی اصلاً مسلمان سائنسدانوں نے ایجاد کیا تھا۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں بھی مصنفہ نے نامور مسلمان سائنسدانوں کے نام اور ان کا تعارف کروا کر ان کے مشہور کارناموں اور ان کی ایجادات کا تذکرہ کیا ہے اور کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ اور سلیس ہے۔ قارئین کے لیے حد الامکان آسانی پیدا کی گئی ہے اورنہایت اختصار سے کام لیتے ہوئے تمام مسلم سائنسدانوں کا تذکرہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)(ح۔م۔ا)

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1810
  • اس ہفتے کے قارئین 11495
  • اس ماہ کے قارئین 49889
  • کل قارئین49399033

موضوعاتی فہرست