• 1 آب کوثر (جمعہ 31 مئی 2013ء)

    علوم کےمیدان میں تاریخ کاایک اپنامقام ہے۔بالخصوص دور جدید میں  جب اجتماعی اور معاشرتی علوم نےایک خاص اہمیت اختیا ر کی ہےتو اس  میں تاریخ کی اور زیادہ اہمیت بڑھ گئی ہے۔چناچہ اس سلسلے میں قدیم  اور جدید تاریخ نگاروں میں جو خاص فرق آیا ہے وہ یہ ہےکہ پہلے دور میں تاریخ کو شخصیات کےحساب سےلکھاجاتاتھاجبکہ آج کے دور میں تاریخ  علوم وفنون اور عام عوام کے حساب سےلکھاجانا پسند کیاجاتاہے۔زیرنظرکتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں راقم الحروف نے ہندستانی تاریخ کا خاص باب عہدمغلیہ کو لکھاہے اور علوم وفنون کےاعتبارسے لکھنےکی کوشش کی ہے۔یہ بہت زیاد ہ مشقت طلب کام ہے۔بلکہ بقول مولاناشبلی رحمۃ اللہ علیہ چیونٹیوں کےمنہ سےدانہ دانہ جمع کرکےخرمن تیارکرناپڑتاہے۔اور  بقول مصنف کےقصہ نویسی اورخوش اعتقادی کی کہرتمام لٹریچر پرچھا ئی ہوئی ہے۔جس کےاندر نہ مختلف اولیا ئے کرام کےجداگانہ خدوخال نظرآتےہیں اور نہ ان کےعملی کارناموں سے صحیح واقفیت ہوتی ہے۔تاہم پھر بھی مصنف نے حتی الوسع اس پر بطریق احسن اور واضح انداز میں روشنی ڈالنےکی کو شش کی ہے۔اللہ انہیں جزائے خیر سےنوازے۔آمین۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • 2 آسمان ہدایت کے ستر ستارے (اتوار 02 جون 2013ء)

    صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم اجمعین  وہ نفوس قدسی ہیں جن کو خاتم الانبیاﷺکےجمال جہاں آراسے اپنی آنکھیں روشن کرنے اور آپ کی مجلس نشینی کی سعادت نصیب ہوئی۔محسن انسانیت کے فیض صحبت نے ان کے شرف انسانیت کو جیتی جاگتی تصویر بنادیا۔ ان کاہر فرد خشیت الہی ،حق گوئی،ایثار،قربانی ،تقوی ،دیانت ،عدل اوراحسان کاپیکرجمیل تھا۔تمام علمائے حق کا اس بات پرکامل اتفاق ہےکہ صحبت رسول ﷺسے بڑھ کرکوئی شرف اور بزرگی نہیں۔اس صحبت سےمتمتع ہونےوالےپاک  نفس ہستیوں کی عظمت اور حسن کردار پراللہ تعالی نے قرآن حکیم میں جابجامہر ثبت فرمائی ہے۔ان عظیم ہستیوں کی سیرت کا ایک بہترین مرقع تیار کرکے جناب طالب ہاشمی صاحب نے ہمارے ہاتھوں میں تھمادیاہے۔تاکہ ہم اس ان نقوش سے راہ ہدایت پاسکیں۔اور اپنی دنیا وآخرت کو بہتر بناسکیں۔اس سلسلے میں واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سیرت کے حوالے سے ایک نہایت اہم باب  مشاجرات صحابہ ہے جوکہ ایک انتہائی نازک باب ہے ہاشمی صاحب  نےاس میں اہل سنت کےطریقےپرچلتےہوئے کف لسان کامؤقف  اختیار کیا ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • اسلام نے عورت کو وہ بلند مقام دیا ہے جو کسی بھی دوسرے مذہب نے نہیں دیا ہے۔دنیا کے مختلف مذاہب اورقوانین کی تعلیمات کا مقابلہ اگر اسلام کے اس نئے منفرد وممتازکردار(Role)سے کیا جائے، جو اسلام نے عورت کے وقار واعتبار کی بحالی، ا نسانی سماج میں اسے مناسب مقام دلانے، ظالم قوانین، غیر منصفانہ رسم و رواج اور مردوں کی خود پرستی، خود غرضی اور تکبر سے اسے نجات دلانے کے سلسلہ میں انجام دیا ہے، تو معترضین کی آنکھیں کھل جائیں گی، اور ایک پڑھے لکھےاورحقیقت پسند انسان کو اعتراف و احترام میں سر جھکا دینا پڑیگا۔اسلام میں مسلمان عورت کا بلند مقام،اور ہر مسلمان کی زندگی میں مؤثر کردار ہے۔صالح اور نیک معاشرے کی بنیاد رکھنے میں عورت ہی پہلا مدرسہ ہے۔عورت کے اسی نیک کردار کو سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن صالح العثیمین نے اپنے (اصلاح معاشرہ میں عورت کا کردار)نامی اس کتابچے میں قلم بند کیا ہے۔تاکہ وہ معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے اور اپنی ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکے۔یہ کتاب ہر مسلمان ماں اور بہن کو پڑھنی چایئے ،کیونکہ یہ خواتین کے حوالے سے بڑی مفید ترین کتاب ہے۔(راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے 

  • علوم اسلامیہ میں سےعلم حدیث کی قدرومنزلت اورعزت وشرف کسی بھی اہل علم سے پنہااورمخفی نہیں ہے۔روایات کی صحت وضعف کی پہچان ایک کھٹن مرحلہ ہےجس میں آدمی کو کمال بصیرت کی ضرورت ہے۔اللہ تعالی محدیثن کرام اجمعین پراپنی رحمت اور فضل کی انتہاکردےجنہوں نےدوردراز کےسفرکی صعوبتوں کو طےکیااوربڑی محنت اورجانفشانی سےاس کےاصول وضوابط مقرر فرمائےاورعلل وشذوذ کی گھتیوں کو سلجھایااورجمع مرویات کے رواۃ کی  حالات زندگی مرتب کی ان کی تاریخ ولادت ووفات  ، علمی رحلات ،اساتذہ ومشائخ اورتلامذہ کاتعین اورثقاہت وضعف،عدالت وضبط وغیرہ جیسے کئی امور منضبط کیےتاکہ طالب حدیث کیلے کسی قسم کی تشنگی باقی نہ رہے۔ان ائیمہ کےاصول وضوابط میں سے ایک قاعدہ یہ بھی ہےکہ جب ایک کمزور روایت کو تعدد طرق حاصل ہوجائےاورضعف شدید نہ ہوتووہ درجہ ءاحتجاج تک پہنچ جاتی ہے۔علامہ البانی نے اسی قاعدےکےتحت اپنےسلسلہء صحیحہ میں کچھ روایات جمع کی تھیں۔جب کہ یہ قاعدہ محدثین کے ہاں  مختلف ہے۔متقدمین کی بجائے متاخرین نےاسے زیادہ اہمیت دی ہے۔زیرنظرکتاب میں کچھ ایسی ہی ضعیف روایات کو  جمع کیاگیاہے۔اللہ مولف کی کاوش کو ان کی کامیابی کاذریعہ بنائے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • 5 تاریخ اہل حدیث جلد3(بہاؤالدین ) (اتوار 23 فروری 2014ء)

    ’اہل حدیث‘ ایک فکر اور تحریک کا نام ہے جو سنت کو مدار عمل ٹھہرانے میں انتہائی حریص اور رد بدعات میں نہایت بے باک ہے۔ اس کا مطمح نظر فقط عمل بالقرآن والحدیث ہے۔ معاشرے میں پھیلے رسوم و رواج کو یہ جماعت سنت رسول کی نگاہ سے دیکھتی ہے اگر ان میں سے کوئی چیز سنت کی میزان پر پوری اترتی ہے تو اسے فوراً قبول کر لیا جاتا ہے اور اگر کسی چیز کا کوئی بھی گوشہ سنت رسول سے متصادم ہے تو اس سے اعراض کر لیا جاتا ہے۔ اس تحریک کے خلاف جہاں بریلی شہر سے صدائیں بلند ہوئیں وہیں ابنائے دیوبند بھی اس کام میں پیچھے نہیں رہے اور اس تحریک پر طرح طرح کے الزامات لگا کر اس کا راستہ روکنے کی سعی لاحاصل کرتے رہے۔ برصغیر میں جماعت اہل حدیث مختلف مصائب اور آزمائشوں سے دوچار رہی لیکن اس ابتلا کے دور میں بھی اس فکر سے وابستہ لوگوں کی توانائیاں کم نہیں ہوئیں اور وہ پامردی کے ساتھ تمام مصائب کا مقابلہ کرتے رہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ آزمائشوں کے تسلسل میں جماعت کی ثابت قدمی اور پامردی کی داستان رقم کی جائے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین نے دیار غیر میں ہونے کے باوجود زیر نظر کتاب کی صورت میں تاریخ اہل حدیث بیان کر کے  اس قرض اور فرض کو ادا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے کام پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قدر وسیع اور ہمہ گیر کام شاید اس سے پہلے انجام نہیں پایا۔ انہوں نے اکابر اہل حدیث کی زبانی مسلک اہل حدیث کے خدو خال واضح کیے ہیں اور اس کے مابہ الامتیاز  مسائل کو اکابر کی تحریروں سے نقل کیا ہے جو اہل حدیث جماعت کے تاریخی ورثے کی حفاظت کی بہترین صورت ہے۔...
  • ’اہل حدیث‘ ایک فکر اور تحریک کا نام ہے جو سنت کو مدار عمل ٹھہرانے میں انتہائی حریص اور رد بدعات میں نہایت بے باک ہے۔ اس کا مطمح نظر فقط عمل بالقرآن والحدیث ہے۔ معاشرے میں پھیلے رسوم و رواج کو یہ جماعت سنت رسول کی نگاہ سے دیکھتی ہے اگر ان میں سے کوئی چیز سنت کی میزان پر پوری اترتی ہے تو اسے فوراً قبول کر لیا جاتا ہے اور اگر کسی چیز کا کوئی بھی گوشہ سنت رسول سے متصادم ہے تو اس سے اعراض کر لیا جاتا ہے۔ اس تحریک کے خلاف جہاں بریلی شہر سے صدائیں بلند ہوئیں وہیں ابنائے دیوبند بھی اس کام میں پیچھے نہیں رہے اور اس تحریک پر طرح طرح کے الزامات لگا کر اس کا راستہ روکنے کی سعی لاحاصل کرتے رہے۔ برصغیر میں جماعت اہل حدیث مختلف مصائب اور آزمائشوں سے دوچار رہی لیکن اس ابتلا کے دور میں بھی اس فکر سے وابستہ لوگوں کی توانائیاں کم نہیں ہوئیں اور وہ پامردی کے ساتھ تمام مصائب کا مقابلہ کرتے رہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ آزمائشوں کے تسلسل میں جماعت کی ثابت قدمی اور پامردی کی داستان رقم کی جائے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین نے دیار غیر میں ہونے کے باوجود زیر نظر کتاب کی صورت میں تاریخ اہل حدیث بیان کر کے  اس قرض اور فرض کو ادا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے کام پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قدر وسیع اور ہمہ گیر کام شاید اس سے پہلے انجام نہیں پایا۔ انہوں نے اکابر اہل حدیث کی زبانی مسلک اہل حدیث کے خدو خال واضح کیے ہیں اور اس کے مابہ الامتیاز  مسائل کو اکابر کی تحریروں سے نقل کیا ہے جو اہل حدیث جماعت کے تاریخی ورثے کی حفاظت کی بہترین صورت ہے۔...
  • 7 تحریک ختم نبوت جلد36 (بدھ 09 جولائی 2014ء)

    تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اور وہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر موت نہیں آئی، وہ زندہ اٹھا لیے گئے تھے اور قرب قیامت وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے اور جس عیسیٰ کے لوگوں کو آنے کا انتظار ہے وہ عیسیٰ یامثیل وہ خود ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے یہ دعویٰ بھی فرما دیا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اس کے رد عمل کے طور پر ہندوستان کے طول و عرض میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا جس میں مرزا کے دعاوی کی تردید اور مسلمہ عقائد مسلمین کی تائید کا کام شروع ہوا۔ کتاب ہذا ان مضامین کا مجموعہ ہے جو 1995ء کے آخر سے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے ’صراط مستقیم‘ برمنگھم میں سلسلہ وار شائع ہوتے رہے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر قیمتی کام کو یکجا صورت میں پیش کرنے کی سعی کی۔ (ع۔م)

     

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • 8 جرابوں پر مسح (ہفتہ 04 جولائی 2015ء)

    زمانہ جس قدر خیرالقرون سے دور ہوتا جارہا ہے، اتنا ہی فتنوں کی تعداد اور افزائش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ہر روزایک نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے اور عوام الناس کو اپنے نئے اعتقاد ،افکار اور اعمال کی طرف دعوت دیتاہے۔ اپنی خواہشات نفسانی کے پیش نظر قرآن وسنت کی وہ تشریح کرتا ہے جو ان کے خود ساختہ مذہب واعمال کے مطابق ہو۔عوام چونکہ ان کے مکروفریب سے ناواقف ہوتے ہیں ۔لہذا ان کے دام میں پھنس جاتے ہیں اور بعض اوقات اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔انہی فتنوں میں ایک تقلید کا فتنہ ہے،جس نے لوگوں کے اذہان کو جامد کر کے رکھ دیا ہے۔موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ جرابوں پر مسح کرنے کے حوالے سے اہل علم کے ہاں دو مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔اس اختلاف کاسبب فقہا میں یہ رہا ہے کہ بعض فقہا کے نزدیک وہ روایت جس میں جرابوں پر مسح کا ذکر ہوا ہے، اتنی قوی نہیں ہے یا ان تک وہ روایت نہیں پہنچی ہے۔ چنانچہ یہ استدلال کیا گیا ہے کہ صرف انہی جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے جن میں نمی اندر نہ جا سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک چمڑا ہو یا کپڑا مسح کی اجازت رخصت کے اصول پر مبنی ہے۔ جرابوں کی ساخت کی نوعیت اس رخصت کا سبب نہیں ہے۔ رخصت کاسبب رفعِ زحمت ہے۔ جس اصول پر اللہ تعالیٰ نے پانی کی عدم دستیابی یا بیماری کے باعث اس بات کی اجازت دی ہے کہ لوگ تیمم کر لیں، اسی اصول پر قیاس کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کی حالت میں جرابیں پہنی ہوں تو پاؤں پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ اصول اگر رخصت، یعنی رفعِ زحمت ہے تو اس شرط کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ جراب...

  • 9 حقانیت رفع الیدین (منگل 22 ستمبر 2015ء)

    شریعتِ اسلامیہ میں  نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری)  رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ  ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ  رفع الیدین کی حدیث کو  صحابہ کرام    کی اس قدر   کثیر  تعداد  نے روایت  کیا ہے  کہ شاید  اور  کسی  حدیث  کواس  سے   زیادہ  صحابہ    نے  روایت  نہ کیا  ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے  جزء  رفع الیدین میں لکھا ہے  ہے کہ  رفع الیدین کی حدیث کوانیس  صحابہ   نے روایت کیا  ہے ۔  لیکن صد  افسوس  اس  مسئلہ  کو مختلف  فیہ  بنا کر  دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین  پر  امام  بخاری   کی جزء  رفع الیدین ،حافظ زبیر  علی  زئی   کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب  قابل  ذکر  ہیں۔اثبات رفع الیدین پر   کتا ب ہذا کے  علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی  موجود ہیں۔زیر تبصرہ کتابچہ’’حقانیت رفع الیدین‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ یہ کتابچہ محمد اسلم ربانی (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور) کی  کاوش ہ...

  • 10 شاہین بچوں کے اقبال (جمعرات 30 مئی 2013ء)

    علامہ اقبالؒ ہماری قوم کے رہبر و رہنما تھے، انھوں نے بچوں کو بچوں سے شاہین بچے بنانے کے لیے باقاعدہ نظمیں لکھیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’اقبال کا شاہین‘ بھی ایسی ہی نظموں پر مشتمل ہے ان نظموں کو پروفیسر سعید انصاری صاحب نے مرتب کیا ہے۔یہ ایسی دلچسپ نظمیں ہیں کہ جن میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے بہت سے پہلو پوشیدہ ہیں۔ یہ نظمیں بچوں کو مجاہد و شاہین صفت اور باکردار مسلمان بننے کا سبق دیتی ہیں۔ ان نظموں میں ننھے منے بچوں کے لیے دلچسپ و سبق آموز کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔ یقیناً یہ دلچسپ نصیحت آموز و سبق آموز کہانیاں بچوں کے کردار کی تعمیر کر کے ان کو معاشرے میں مثالی افراد بنا کر امت مسلمہ کی قیادت و سیادت کا سبق دیں گی۔ ان دلچسپ نظموں کو زبانی یاد کر کے بچے بیہودہ لچر غزلوں گیتوں گانوں سے بچ سکیں گے اور سوچ و فکر اور عمل کے بہترین سانچے میں ڈھل کر اپنے والدین اور قوم و ملک کے لیے عزت و وقار اور نیک نامی کا باعث بنیں گے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 3958
  • اس ہفتے کے قارئین: 16095
  • اس ماہ کے قارئین: 54773
  • کل مشاہدات: 40186154

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں