دکھائیں کتب
  • 1 استاد ملت کا محافظ (جمعہ 13 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:5107

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے ۔ یہاں کے رہنے والے عوام کو اس ملک کے ساتھ جذباتی حد تک وابستگی ہے ۔ لیکن اغیار کی سازشوں سے اس مملکت خداد کی قیادت وسیادت کی باگ دوڑ ان لوگوں کے ہاتھ میں آگئی کہ جو سیکولر ذہنیت کے مالک تھے ۔ وہ نام کی حدتک تو مسلمان ہیں لیکن ان کے طرز و اطوار غیرمسلموں جیسے ہیں ۔ وہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ اس ملک کا نظام تعلیم یا کوئی دیگر شعبہ ہائے حیات اسلام کے مطابق ہو جائے ۔ چناچہ انہوں نے آغاز سے ہی اسے اس خاکے یا نقشے کے مطابق رکھا جو ایک سیکولر قوم نے تشکیل دیا تھا ۔ اور بعض جزوی ترامیم کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ اسلامی بن گیا ہے ۔ تاہم ایک عرصے کے بعد یہ محسوس کیا گیا  تو اس وقت کے صدر جناب ضیاءالحق نے نظام تعلیم کو اسلامیت کے مطابق ڈھالنے میں بنیادی تبدیلی کی ۔ لیکن نام نہاد اسی لادین طبقے نے یہ مساعی بارآور نہ ہونے دیں ۔ اور پھر ایک ملحدانہ افکار کے حامل پرویز مشرف جیسے شخص نے اسے خالص  سیکولر بنیادیں فراہم کیں ۔ قوم کے وہ حساس حلقے جو اسلامیت کے درد اپنے اندر رکھتے ہیں وہ مسلسل چیخ وپکار کر رہے ہیں لیکن ان کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگتی ۔ کیونکہ وہ تو اسے بنانا ہی غیراسلامی ملک چاہتے ہیں ۔ محترمہ ثریابتول صاحبہ ان درد رکھنے والے لوگوں میں سے ہیں جو پاکستان کو اسلامی ملک دیکھنا چاہتی ہیں ۔ اور یہ کتاب اسی حوالے سے ان کی کاوش ہے ۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔(ع۔ح)
     

  • 2 اسلامی نظام تعلیم (جمعرات 09 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:2503

     تعلیم و تربیت انسان کی سب سے پہلی،اصل اور بنیادی ضرورت ہے۔ہماری تاریخ میں اس کی عملی تابندہ مثالیں موجود ہیں۔ ایک طرف جہاں مسجد نبوی میں چبوترے پر اہل صفہ علم حاصل کر رہے ہیں، تو دوسری طرف جنگی قیدیوں کے لیے آزادی کے بدلے ان پڑھ صحابہ کو تعلیم یافتہ بنانے کی شرط رکھی جاتی ہے اور کبھی مسجد نبوی کا ہال دینی، سماجی اور معاشرتی مسائل کی افہام و تفہیم کا منظر پیش کرتا ہے۔ آج کل فن تعلیم کو جو اہمیت حاصل ہے وہ  روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے۔ہر طرف ٹریننگ اسکول اور کالج کھلے ہیں،مدرس تیار کئے جاتے ہیں،فن تعلیم پر نئی نئی کتابیں لکھی جاتی ہیں اور نئے نئے  نظرئیے آزمائے جاتے ہیں۔ایک وہ وقت بھی تھا جب اس روئے زمین پر مسلمان ایک ترقی یافتہ اور سپر پاور کے طور پر موجود تھے،مسلمانوں کے اس ترقی وعروج کے زمانے میں بھی اس فن پر کتابیں لکھی گئیں اور علماء اہل تدریس نے اپنے اپنے خیالات کتابوں اور رسالوں میں تحریر کئےاور کتاب وسنت ،بزرگوں کے واقعات اور تجربات کی روشنی میں جو تعلیمی نتائج انہوں نے سمجھے تھے انہیں اصول وقواعد کی حیثیت سے ترتیب دے دیا تھا۔ضرورت اس امر کی تھی کہ مسلمان علماء نے جو کتابیں لکھی ہیں یا اپنی تصنیفات میں تعلیم سے متعلق جو نظرئیے بتائے ہیں یا متفرق خیالات ظاہر کئے ہیں ان سب کو ترتیب سے یکجا کر دیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلامی نظام تعلیم" دار المصنفین انڈیا کے قابل اور محنتی  ریسرچر سید ریاست علی ندوی صاحب کی تصنیف ہے ،جوانہوں اسلامی تاریخ پر مبنی کتب کی ورق گردانی کے بعد مرتب فرمائی ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ و...

  • 3 العلم والعلماء(عبد الرؤف جھنڈانگری) (ہفتہ 08 فروری 2014ء)

    مشاہدات:14801

    علم انسانیت کی معراج ہے ،جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل کرتا ،دین کی اساسیات سے واقف ہوتا اور مقصد حیات سے آگاہی حاصل کرتاہے ۔علم عظمت و رفعت کی علامت ہے اور علم ہی کی بدولت اللہ مالک الملک نے انسان کو دیگر مخلوقات سے فوقیت دی ۔کتاب وسنت میں دینی علم حاصل کرنے کی کافی ترغیب اور علما کے مراتب عام امتیوں سے اعلیٖ و افع بیان ہوئے ہیں ۔وحی کے علم کی حفاظت و ذمہ داری اور تبلیغ و اشاعت کا فریضہ علمائے امت پر عائد ہے ، اس مناسبت سے علماء کا فرض ہے کہ دینی علوم میں دلچسپی لیں اور کتاب وسنت کے احکام و فرائض ،فقہی مسائل اور ضروریات دین کے متعلقہ امور سے کما حقہ بہرہ مند ہوکر تبلیغ دین کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوں۔دینی علم سیکھنا اور سکھانا بہت معزز پیشہ ہے اور دینی تعلیم سے وابستہ افراد انتہائی قابل احترام ہیں ۔زیر نظر کتاب  میں علم کی فضیلت و اہمیت ،علماء کے فضائل ومناقب ، حصول علم کے لیے مصروف طلباء کی عظمت اورتعلیم سیکھنے اور سکھانے کے آداب کا بیان ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع بہترین تصنیف ہے ، جو قارئین کی علمی ذوق کو ابھارے گی اوران میں حصول علم کا نیا ولولہ پیدا کرے۔(ف۔ر)
     

  • 4 العلم والعلماء(عبد الرزاق ملیح آبادی) (منگل 30 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:3301

    علم انسانیت کی معراج ہے ،جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل کرتا ،دین کی اساسیات سے واقف ہوتا اور مقصد حیات سے آگاہی حاصل کرتاہے ۔علم عظمت و رفعت کی علامت ہے اور علم ہی کی بدولت اللہ مالک الملک نے انسان کو دیگر مخلوقات سے فوقیت دی ۔کتاب وسنت میں دینی علم حاصل کرنے کی کافی ترغیب اور علما کے مراتب عام امتیوں سے اعلیٖ و افع بیان ہوئے ہیں ۔وحی کے علم کی حفاظت و ذمہ داری اور تبلیغ و اشاعت کا فریضہ علمائے امت پر عائد ہے ، اس مناسبت سے علماء کا فرض ہے کہ دینی علوم میں دلچسپی لیں اور کتاب وسنت کے احکام و فرائض ،فقہی مسائل اور ضروریات دین کے متعلقہ امور سے کما حقہ بہرہ مند ہوکر تبلیغ دین کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوں۔دینی علم سیکھنا اور سکھانا بہت معزز پیشہ ہے اور دینی تعلیم سے وابستہ افراد انتہائی قابل احترام ہیں ۔زیر نظر کتاب حافظ ابن عبد البر کی معروف کتاب جامع بیان العلم و فضلہ کا ترجمہ ہے ، جس میں علم کی فضیلت و اہمیت ،علماء کے فضائل ومناقب ، حصول علم کے لیے مصروف طلباء کی عظمت اورتعلیم سیکھنے اور سکھانے کے آداب کا بیان ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع بہترین تصنیف ہے ، جو قارئین کی علمی ذوق کو ابھارے گی اوران میں حصول علم کا نیا ولولہ پیدا کرے۔(ف۔ر)
     


  • دینی مدارس  کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام  ،مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی  مدارس دینِ اسلام  کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ  قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ روزِ اول سے  دینِ اسلام کا تعلق تعلیم  وتعلم اور درس وتدریس سے  رہا ہے  ۔نبی  کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو  وحی  نازل  ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم  کے گھر میں دار ارقم  کے  نام سے  ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح  وشام کے اوقات میں  صحابہ  کرام ﷢وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے  یہ اسلام کی سب سے  پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست  کاقیام عمل میں آیا  تو وہاں سب سے پہلے آپﷺ نے مسجد تعمیر کی  جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے  ۔اس کے  ایک جانب آپ نے  ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ  مقامی وبیرونی  صحابہ کرام﷢ کو قرآن مجید اور دین  کی تعلیم دیتے  تھے ۔یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی  مدرسہ تھا جو تاریخ  میں اصحاب صفہ کے نام سے معروف  ہے ۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ  کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ  پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں  ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے ۔اسلامی تاریخ  ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث  سے بھری پڑی ہے ...

  • 6 تدریب المعلمین یعنی رہنمائے مدرسین (ہفتہ 28 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:4951

    اس  پر فتن دور میں مبارک باد کے لائق ہیں وہ والدین  جو  اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرتے  ہیں ۔اور سعادت مند ہیں وہ بچے جو علم دین سےآراستہ ہو رہے  ہیں،  اور  لائق تحسین ہیں وہ قابل فخر اساتذہ کرام  جو خدمت  قرآن  میں مصروف ہیں۔کسی بھی دینی ادارے  کی  خیر  وخوبی انتظام و انصرام کا انحصار اس بات پہ ہوتا ہے  کہ وہاں حصول علم کےلیے  آنے والے  طلباء اور تعلیم دینے  والے  اساتذہ کرام کا باہمی تعلق آپس میں محبت یگانگت اور پڑہائی کے مسلمہ اصول  وقواعد کے مطابق ہو۔یہ اصول وقواعد کیا ہوں طالب  علم حصول علم کے لیے  کن امور کو پیش نظر رکھیں  ۔اساتذہ کن اصول وقواعد کو اختیار کریں۔ پڑہانے کا طریقہ کار کیا ہو؟ مدرسے میں رہن سہن کا طریقہ کیا ہو؟زیر تبصرہ کتاب میں انہی مذکورہ امورکو مد نظررکھتے  ہوئے   استاد القراء  مصنف کتب کثیرہ  قاری محمد ادریس العاصم ﷾ نے   اپنے تدریسی تجربہ و مشاہدات  اور اپنے   قابل صد احترام  اساتذہ عظام کے  ارشادات اور ان کی  کتب  سےاخذ شدہ   تعلیم وتعلم کے رہنما اصول وقواعد کو جمع  کردیا ہے۔اورکتاب میں   صرف ان امور کو  زیر بحث لائے  ہیں جو  ایک  طالب علم اور  استادکے لیے  نہایت ضروری  ہیں۔ نیز طلباء اور اساتذہ کے لیے  قابل مطالعہ کتب کے نام  بھی ذکر کر دیے   ہیں  تاکہ طلباء اوراساتذہ میں  مطال...

  • 7 تعلیم کے بنیادی مباحث (جمعرات 19 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1502

    کسی بھی چیزکی فضیلت وشرافت کبھی اس کی عام نفع رسانی کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہے اور کبھی ا سکی شدید ضرورت کی وجہ سے سامنے آتی ہے۔ انسان کی  پیدائش کے فورا بعد اس کے لئے  سب سے پہلے علم کی ہی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔اور علم ہی کے بارے میں اللہ فرماتا ہے:"تم میں سے جو لو گ ایمان لائے اور جنہیں علم عطاکیا گیا اللہ ان کے درجات کوبلند کر ے گا"۔پھر اللہ کے نزدیک علم ہی تقویٰ کامعیار بھی ہے ۔نبی کریم نے فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اردو میں تعلیم کا لفظ، دو خاص معنوں میں مستعمل ہے ایک اصطلاحی دوسر ے غیر اصطلاحی ، غیر اصطلاحی مفہوم میں تعلیم کا لفظ واحد اور جمع دونوں صورتوں میں استعمال ہو سکتا ہے اور آدرش ، پیغام ، درسِ حیات، ارشادات، ہدایات اور نصائح کے معنی دیتا ہے۔ جیسے آنحضرت کی تعلیم یا تعلیمات ، حضرت عیسیٰ کی تعلیم یا تعلیمات اور شری کرشن کی تعلیمات، کے فقروں میں ، لیکن اصطلاحی معنوں میں تعلیم یا ایجوکیشن سے وہ شعبہ مراد لیا جاتا ہے جس میں خاص عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما، تخیلی و تخلیقی قوتوں کی تربیت و تہذیب ، سماجی عوامل و محرکات ، نظم و نسق مدرسہ، اساتذہ ، طریقہ تدریس ، نصاب ، معیار تعلیم ، تاریخ تعلیم ، اساتذہ کی تربیت اور اس طرح کے دوسرے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔علامہ اقبال کے تعلیمی تصورات یا فلسفہ تعلیم کے متعلق کتب و مقالات کی شکل میں اب تک جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں تعلیم کے اصطلاحی مفہوم سے کہیں زیادہ تعلیم کے عام مفہوم کوسامنے رکھاگیا ہے۔ یعنی جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں درس و تد...

  • اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے  حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی  شخصیت حضرت آدم   کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت  کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج  انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی  ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے  قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے  ۔گزشتہ چودہ صدیوں  میں اس  ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے  ۔یہ سلسلۂ خیر ہنوز  روز اول کی طرح جاری وساری ہے ۔سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے ۔...

  • 9 تعلیمی ادارے اور کردار سازی (جمعہ 24 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2082

    اسلامی نقطہ نظر سے تعلیم محض حصول معلومات کا نام نہیں ،بلکہ عملی تربیت بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔اسلام ایسا نظام تعلیم وتربیت قائم کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف طالب علم کو دین اور دنیا کے بارے میں صحیح علم دے بلکہ اس صحیح علم کے مطابق اس کے شخصیت کی تعمیر بھی کرے۔یہ بات اس وقت بھی نمایاں ہو سامنے آتی ہے جب ہم اسلامی نظام تعلیم کے  اہداف ومقاصد پر غور کرتے ہیں۔اسلامی نظام تعلیم کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا مسلمان تیار کرنا چاہتا ہے،جو اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہو،زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارے اور آخرت میں حصول رضائے الہی اس کا پہلا اور آخری مقصد ہو۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں ایک فعال ،متحرک اور با عزم زندگی گزارے ۔ایسی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم کے مفہوم میں حصول علم ہی نہیں ،بلکہ کردار سازی پر مبنی تربیت اور تخلیقی تحقیق بھی شامل ہو۔لیکن افسوس کہ ہمارے تعلیمی  اداروں میں معلومات تو دے دی جاتی ہیں ،مگر ایک مسلمان اور کارآمد بندہ تیار نہیں ہوپاتا ہے۔اسی احساس کو لئے ہوئے  ڈاکٹر محمد امین  صاحب ﷾نے یہ کتاب " تعلیمی ادارے اور کردار سازی" تیار کی ہے ۔جس میں انہوں نے بچوں کے تربیت کے چند عملی اصول اور اقدامات ،اور بگڑے بچوں کے علاج  اور تربیت کے نصاب وغیرہ جیسے موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔تاکہ تعلیم حاصل کرنے والا ہر طالب علم معلومات کے حصول کے ساتھ ساتھ  معاشرے کا ایک مسلمان اور کارآمد فرد بھی بن جائے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور قوم وملت کے تمام تعلیمی اداروں اور  اساتذہ...

  • وحی الہٰی کے نزول کی ابتداءقراءت،علم اور قلم  کے ذکر سے ہوئی۔رسول اللہ ﷺمعلم الکتاب والحکمۃ بنا کر مبعوث ہوئے۔قرآن وحدیث میں علمِ دین پڑھنے پڑھانے کی تاکید ،اس کی ضرورت و اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور عہدِ رسالت سے لے کر آج تک مسلمانوں میں تعلیم و تعلم  کا مربوط نظام جاری و ساری ہے۔اسلام کے نظامِ تعلیم و تعلم اور مذہب پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے  زیر تبصرہ کتاب ’’ خیر القرو ن کی درسگاہیں اور ان کا نظامِ تعلیم و تربیت ‘‘از قاضی اطہر مبارکپوری   اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے  جس میں  فاضل مؤلف  نے   عہد رسالت  میں  ہجرت سے  قبل اور بعد کی درسگاہوں کا  ذکرکرتے  ہوئے عہد صحابہ وعہد تابعین کی درسگاہوں اور نظام تعلیم کاتفصیلاً ذکر کرنے بعد  مدینہ منورہ کی  دینی وعلمی اور ادبی مجالس کا بھی ذکر کیا ہے  اللہ تعالیٰ  مؤلف کی اس  کاوش کو قبول فرمائے  (آمین)( م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 875
  • اس ہفتے کے قارئین: 4855
  • اس ماہ کے قارئین: 18191
  • کل مشاہدات: 41802993

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں