کل کتب 164

دکھائیں
کتب
  • 1 #599

    مصنف : حبیب الرحمن

    مشاہدات : 63922

    آخرت(مطالعہ حدیث کورس)

    (جمعرات 24 جنوری 2013ء) ناشر : دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کا چوتھا یونٹ ہے جس میں عقیدہ آخرت پر ایمان، عقیدہ آخرت کی اہمیت، ضرورت اور عملی زندگی پر اس کے اثرات سے متعلق احادیث نبوی اور ان کا ترجمہ اور مفہوم پیش کیا گیا ہے۔ اس کے مطالعہ کے بعد قارئین پر یہ بات واضح ہوگی کہ عقیدہ آخرت کا مطلب و مفہوم کیا ہے اور عملی زندگی پر اس عقیدہ کے کیا اثرات پڑتے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 2 #3001

    مصنف : جاوید انور صدیقی

    مشاہدات : 10833

    آسان الفیہ و شرح ابن عقیل ( اردو)

    (منگل 17 مارچ 2015ء) ناشر : مکتبہ صدیقیہ لاہور

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔لیکن عربی زبان کو اس وقت تک سیکھنا ناممکن ہے جب تک اس کے اصول وقواعد اور اس کی گرائمر (نحو وصرف)کو نہ سیکھ لیا جائے۔عہد تدوین سے لیکر آج تک عربی گرائمر(نحو وصرف) پر  عربی واردو  زبان  میں مختصر ،معتدل،مغلق اور مطول ہر طرح کی بے شمار کتب لکھی جاچکی ہیں۔عربی گرائمر (نحو وصرف)کی سب سے  مربوط اور مستند کتاب امام ابن مالک اندلسی کی "الفیہ ابن مالک"ہے۔اہل عرب میں یہ کتاب بڑی مشہور اور معروف ہےاور لوگوں کے ہاں اسے مقبولیت حاصل ہے۔اس کی تصنیف کے بعد علماء نحو نے دوسری کتب تصنیف کرنے کی بجائے اسی پر کام کرنے کو اہمیت دی اور اس کی متعدد شروحات لکھیں۔ان شروحات میں سے سب سے مقبول ترین شرح "شرح ابن عقیل "ہے۔جس میں انہوں نے انتہائی آسان انداز میں الفیہ کو حل کر دیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب " آسان الفیہ وشرح ابن عقیل " بھی  الفیہ ابن مالک اور شرح ابن عقیل کی اردو زبان میں تسہیل ہے،جو جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے سابق اور جامعہ عربیہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ کے حالیہ استاذ محترم جاوید انور صدیقی صاحب ﷾کی کاوش ہے۔موصوف ایک عرصہ سے ایک مدارس میں ابن عقیل پڑھاتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے ان تجربات کی روشنی میں اسے اردو میں نہائت سہل انداز میں پیش کر دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • 3 #4564

    مصنف : پروفیسر رب نواز

    مشاہدات : 3604

    آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمی جدو جہد

    (جمعرات 16 جون 2016ء) ناشر : ادارہ تعلیمی تحقیق مزنگ لاہور

    مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دارارقم ،درس گاہ مسجد قبا ، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترہ میں تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ چوتھی وپانچویں صدی ہجری کی معروف دینی درس گاہوں میں مصر کا جامعہ ازہر ، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی ، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔غرضیکہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔اور جب دہلی میں مسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں وقصبوں ودیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم ، توضیح وتشریح ، تعمیل واتباع ، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں ، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے کہ ہر ہر انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے۔لیکن افسوس کہ اس وقت دینی مدارس اپنوں نے بے وفائیوں اور غیروں کی سازشوں کا نشانہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" آنحضور ﷺ کی تعلیمی جدوجہد " محترم پروفیسر رب نواز صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمی جدوجہد کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 4 #1804

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 14517

    ابتدائی قواعد النحو

    (بدھ 04 ستمبر 2013ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    علم نحو تمام عربی علوم و معارف کے لئے ستون کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ تمام عربی علوم اسی  کی مدد سے چہرہ کشا ہوتے ہیں ۔ علوم نقلیہ کی جلالت و عظمت اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسرار و رموز اور معانی و مفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں ۔ حق یہ ہے کہ قرآن و سنت اور دیگر علوم سمجھنے کے لئے علم نحو کلیدی حیثیت رکھتا ہے ، علم نحو کی اس اہمیت کے پیش نظر عربی ، فارسی اور دیگر زبانوں میں اس فن کی مفصل و مطول ، متوسط اور مختصر ہر طرح کی کتابیں لکھی گئیں ۔ اردو زبان میں صرف و نحو کی کتابیں لکھنے کا مقصد لسانی اصول و قواعد کی تسہیل و تفہیم اور عربی زبان کی ترویج و اشاعت ہی تھا ۔ کیونکہ فن تعلیم کا اصول اور تجربہ یہ ہے کہ اگر ابتدائی طور پر کوئی مضمون مادری زبان میں ذہن نشین ہو جائے تو پھر اسے کسی بھی اجنبی زبان میں تفصیل و اضافہ سمیت بخوبی پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے ۔ زیر نظر کتاب اسی مقصد کے تحت ایف ائے طلبا کی ذہنی استعداد کے پیش نظر لکھی گئی ہے ۔ اس کتاب کے اندر قواعد و مسائل کی عام فہم اور آسان اسلوب  میں وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ (ع۔ح)
     

  • 5 #621

    مصنف : حبیب الرحمن

    مشاہدات : 54048

    اجتماعی نظم ونسق(مطالعہ حدیث کورس)

    (بدھ 13 فروری 2013ء) ناشر : دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا چوبیسواں اور آخری حصہ ہے، جس کا موضوع ’اجتماعی نظم و نسق‘ ہے۔ اس یونٹ میں اسلامی نظم مملکت، اسلامی ریاست کا مقصد وجود، حاکمیت الٰہی، تصور خلافت، مشاورت، خلیفۃ المسلمین اور اصول اطاعت، خلافت کے حقوق و فرائض  اور اجتماعیت کی دینی اہمیت پر بحث کی گئی ہے۔(ع۔م)
     

  • 6 #2928

    مصنف : جمیل احمد سکروڈوی

    مشاہدات : 10278

    اجمل الحواشی علی اصول الشاشی

    (جمعہ 06 فروری 2015ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟ قرآن اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ قرآن مجید، سنت اور حدیث میں سے کس ماخذ کو دین کا بنیادی اور کس ماخذ کو ثانوی ماخذ قرار دیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کو کیسے سمجھا جائے گا اور ان سے سنت کو کیسے اخذ کیا جائے گا؟ اگر قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر کوئی اختلاف نظر آئے یا دو احادیث میں ایک دوسرے سے بظاہر اختلاف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے اپنے اپنے اصول وضع کئے ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔اصول شاشى احناف كى اصول فقہ پر لکھی گئی مشہور كتابوں ميں سے ایک ہے اور اس كے مؤلف ابو على الشاشى احمد بن محمد بن اسحاق نظام الدين الفقيہ حنفى متوفى ( 344ھ )ہيں۔يہ امام ابو الحسن كرخى كے شاگرد ہيں، ان كى تعريف كرتے ہوئے كہتے ہيں: ابو على سے زيادہ حافظ ہمارے پاس كوئى نہيں آيا، شاشى بغداد ميں رہے اور وہيں تعليم حاصل كى۔چونکہ علماء احناف کے ہاں یہ کتاب اصول فقہ کے میدان میں ایک مصدر کی حیثیت رکھتی ہے ،چنانچہ انہوں نے اس کی متعدد شروحات بھی لکھی ہیں۔ جن میں سے "شرح مولى محمد بن الحسن الخوارزمى متوفى ( 781 ھ)،حصول الحواشى على اصول الشاشى از حسن ابو الحسن بن محمد السنبھلى الہندى ،عمدۃ الحواشى از مولى محمد فيض الحسن گنگوہى،تسھيل اصول الشاشى از شيخ محمد انور بدخشانى قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اجمل الحواشی علی اصول الشاشی "بھی اصول شاشی کی ایک عظیم الشان اردو شرح ہے،جو دار العلوم دیو بند کے استاذ مولانا جمیل احمد سکروڈوی صاحب کی تصنیف ہے۔اور سچی بات یہ ہے کہ اصول شاشی کی تفہیم میں یہ ایک منفرد اور مفید ترین شرح ہے،راقم جامعہ لاہور الاسلامیہ میں اصول شاشی کے مادہ کی تدریس کے دوران اس کتاب سے بھی استفادہ کرتا رہا ہے۔اصول فقہ کے طلباء اور اساتذہ کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔(راسخ)(اصول فقہ)

  • 7 #4068

    مصنف : خرم مراد

    مشاہدات : 3027

    احیائے اسلام اور معلم

    (جمعرات 21 جنوری 2016ء) ناشر : ادارۂ تعلیمی تحقیق، تنظیم اساتذہ، پاکستان

    آج ملت اسلامیہ کے سامنے سب سےبڑا چیلنج یہ ہےکہ وہ اپنی مکمل زندگی کی تشکیل نو اسلام کے مطابق کرے۔ اس جدوجہد کا اہم ترین محاذ نظام تعلیم کا میدان ہے۔ اور اس میدان میں کلیہ اور مرکز کی حیثیت معلم کو حاصل ہے۔ اگر ایک معلم اپنی صلاحیت اور طاقت کو محسو س کر لے اور تعلیم و تعلم کے ساتھ اخلاص پیدا کرتے ہوئے معاشرے کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا شروع کردے تو دنیا کی کوئی طاقت اسلام کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اس لیے تعلیم ہی وہ ذریعہ ہےجس کے ذریعے مغرب اور مغربی تہذیب کا تسلط مسلمانوں پر قائم ہے۔ سیاسی بیداری کا یہ تو نتیجہ ہو اکہ غلامی کے جو طوق گردن میں تھے وہ ایک حدتک اتر گئے لیکن تعلیم کے ذریعے مغرب کے جو نظریات وتصورات ہمارے رگ و پے میں اتر چکے ہیں ان کا نکالنا اتنا آسان ثابت نہ ہوا۔ اس کے لیے بہت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ زیر نظر کتاب "احیائے اسلام اورمعلم" خرم جاہ مراد کی تعلیم و تعلم سے وابستہ افراد کے لیے ایک نادر تحفہ ہے۔ جس میں معلمین کا اپنے مقام کو پہچاننا، مقصد کی لگن، تعلیمی محاذ پر احیائے اسلام کو اجاگر کرنا اوراپنے تلامذہ کو اسلامی تعلیمات سے بہرور کرتے ہوئے ایک اسلامی معاشرہ کی تشکیلِ نو کا تصور دیا گیاہے۔ اللہ رب العزت ان کی محنت و لگن کو قبول فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 8 #8034

    مصنف : پروفیسر محمد یوسف خان

    مشاہدات : 741

    اساتذہ کی ذمہ داریاں سلسلہ مجالس یوسفیہ 1

    (پیر 02 دسمبر 2019ء) ناشر : مکتبہ بیت العلم کراچی

    تعلیم اچھی سیرت سازی اور تربیت کا ایک ذریعہ ہے ۔علم ایک روشن چراغ ہے جو انسان کو عمل کی منزل تک پہنچاتا ہے۔اس لحاظ سے تعلیم وتربیت شیوۂ پیغمبری ہے۔ اُستاد اورشاگرد تعلیمی نظام کے دو نہایت اہم عنصر ہیں۔ معلّم کی ذمہ داری صرف سکھانا ہی نہیں، سکھانے کے ساتھ ساتھ تربیت دینا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ  کے بارے میں فرمایا: ﴿يُعَلِّمُهُمُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ وَيُزَكّيهِمۚ…. ﴾ (سورة البقرة: ١٢٩)اور نبی ﷺ ان(لوگوں) کو کتاب وحکمت (سنت) کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ وتربیت کرتے ہیں‘‘۔اس بنا پر یہ نہایت اہم اور مقدس فریضہ ہے ،اسی اہمیت او ر تقدس کے پیش نظر اُستاد اور شاگرد دونوں کی اپنی اپنی جگہ جدا گانہ ذمہ داریاں ہیں۔ اُنہیں پورا کرنا ہر دو جانب کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر ان ذمہ داریوں کو بطریق احسن پورا کیا جائے تو پھر تعلیم بلاشبہ ضامنِ ترقی ہوتی اور فوزوفلاح کے برگ و بار لاتی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’اساتذہ کی ذمہ داریاں سلسلہ مجالس یوسفیہ1 ‘‘ صاحب کتاب مولانا محمد یوسف  خان صاحب(استاد الحدیث جامعہ اشرفیہ ،لاہور ) کے مدرسہ بیت العلم اور البدر اسکول ،کراچی میں  اساتذۂ کرام کے مختلف طبقات سےمختلف نشتوں میں دل سوز بیانات   اور درس وتدریس کے درمیان پیداہونے والے مختلف اشکلات کے جوابات کی کتابی صورت ہے ۔ یہ کتاب مدارس اور اسکول کے اساتذہ کرام کے لیے ایک انمول اور بیش قیمت تحفہ ہے ۔اس کتاب میں  مولانا محمد یوسف خان صاحب کے وہ بیانات جمع کیے گئے ہیں جواساتذہ کرام سے متعلق ہیں تاکہ  اساتذہ کرام منصبِ تدریس کی حقیقت کو پہنچان کر صحیح معنوں میں رسول اللہﷺ کی نیابت کاحق ادا  کرسکیں اور معاشرے کےایک کامیاب اور مثالی استاد بن سکیں۔(م۔ا)

  • 9 #1813

    مصنف : پروفیسر ثریا بتول علوی

    مشاہدات : 6158

    استاد ملت کا محافظ

    (جمعہ 13 ستمبر 2013ء) ناشر : تنظیم اساتذہ پاکستان -خواتین

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے ۔ یہاں کے رہنے والے عوام کو اس ملک کے ساتھ جذباتی حد تک وابستگی ہے ۔ لیکن اغیار کی سازشوں سے اس مملکت خداد کی قیادت وسیادت کی باگ دوڑ ان لوگوں کے ہاتھ میں آگئی کہ جو سیکولر ذہنیت کے مالک تھے ۔ وہ نام کی حدتک تو مسلمان ہیں لیکن ان کے طرز و اطوار غیرمسلموں جیسے ہیں ۔ وہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ اس ملک کا نظام تعلیم یا کوئی دیگر شعبہ ہائے حیات اسلام کے مطابق ہو جائے ۔ چناچہ انہوں نے آغاز سے ہی اسے اس خاکے یا نقشے کے مطابق رکھا جو ایک سیکولر قوم نے تشکیل دیا تھا ۔ اور بعض جزوی ترامیم کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ اسلامی بن گیا ہے ۔ تاہم ایک عرصے کے بعد یہ محسوس کیا گیا  تو اس وقت کے صدر جناب ضیاءالحق نے نظام تعلیم کو اسلامیت کے مطابق ڈھالنے میں بنیادی تبدیلی کی ۔ لیکن نام نہاد اسی لادین طبقے نے یہ مساعی بارآور نہ ہونے دیں ۔ اور پھر ایک ملحدانہ افکار کے حامل پرویز مشرف جیسے شخص نے اسے خالص  سیکولر بنیادیں فراہم کیں ۔ قوم کے وہ حساس حلقے جو اسلامیت کے درد اپنے اندر رکھتے ہیں وہ مسلسل چیخ وپکار کر رہے ہیں لیکن ان کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگتی ۔ کیونکہ وہ تو اسے بنانا ہی غیراسلامی ملک چاہتے ہیں ۔ محترمہ ثریابتول صاحبہ ان درد رکھنے والے لوگوں میں سے ہیں جو پاکستان کو اسلامی ملک دیکھنا چاہتی ہیں ۔ اور یہ کتاب اسی حوالے سے ان کی کاوش ہے ۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔(ع۔ح)
     

  • 10 #3734

    مصنف : ڈاکٹر سید تنویر بخاری

    مشاہدات : 5205

    اسلام اور جدید افکار

    (جمعرات 05 نومبر 2015ء) ناشر : ایورنیو بک پیلس لاہور

    اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور جدید افکار "ڈاکٹر سید تنویر بخاری اور پروفیسر حمید اللہ جمیل صاحبان کی مشترکہ کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے اسلام اور جدید سیاسی، معاشی اور معاشرتی افکار  کا موازنہ کرتے ہوئے اسلام کی روشن تعلیمات کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 16 17 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1739
  • اس ہفتے کے قارئین 3584
  • اس ماہ کے قارئین 55617
  • کل قارئین49466149

موضوعاتی فہرست