علم و عرفان پبلشرز، لاہور

علم و عرفان پبلشرز، لاہور
لاہور
26 کل کتب
دکھائیں

  • 1 پارلیمنٹ میں قادیانی شکست (ہفتہ 04 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1870

    اسلامی تعلیم کے مطابق نبوت ورسالت کا سلسلہ حضرت آدم ﷤ سے شروع ہوا اور سید الانبیاء  خاتم المرسلین حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوا اس کے  بعد جوبھی نبوت کادعویٰ کرے گا وہ  دائرۂ اسلام سے خارج ہے  نبوت کسبی نہیں وہبی ہے  یعنی اللہ تعالیٰ نے  جس کو چاہا نبوت ورسالت سے  نوازاکوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی عبادت گزارمتقی اور پرہیزگار کیوں نہ وہ نبی نہیں  بن سکتا ۔قادیانیت کے یوم پیدائش سے لے کر  آج تک  اسلام  اور قادیانیت میں جنگ جار ی ہے یہ جنگ گلیوں ،بازاروں سے لے کر حکومت کے ایوانوں اور عدالت کےکمروں تک لڑی گئی اہل علم  نے  قادیانیوں کا ہر میدان میں تعاقب کیا تحریر و تقریر ، خطاب وسیاست میں  قانون اور عدالت میں  غرض کہ ہر میدان  میں انہیں شکستِ فاش دی ۔  سب سے پہلے قادیانیوں سے  فیصلہ کن قانونی معرکہ آرائی بہاولپور   کی سر زمیں میں ہوئی جہاں ڈسٹرکٹ جج بہاولپور نے مقدمہ تنسیخ نکاح  میں مسماۃ عائشہ بی بی کانکاح عبد الرزاق قادیانی  سے فسخ کردیاکہ ایک مسلمان عورت مرتد کے نکاح میں نہیں رہ سکتی  1926ء سے  1935 تک  یہ مقدمہ زیر سماعت رہا  جید  اکابر علمائے  کرام   نے عدالت   کے  سامنے  قادیانیوں کے خلاف  دلائل کے انبار لگا دیے  کہ ان  دلائل کی روشنی میں  پہلی  بار عدالت کے ذریعے  قادیانیوں کو غیر مسلم  قرار دیا گیا  ۔   پھر  اس کے بعد بھی  قادیانیوں کے خلاف...

  • 2 قرآن اور مسلمانوں کے زندہ مسائل (اتوار 25 اپریل 2010ء)

    مشاہدات:18222

    قرآن اور مسلمانوں کے زندہ مسائل ایک ایسی تصنیف ہے جس میں قرٍآن کو مرکزی ہدایت  قرار دے کر عصر حاضر کے مسائل پر ایک گہری نگاہ ڈالی گئی ہے اور اس سلسلے میں تاریخ فکر کی نمایاں شخصیتوں پر گفتگو کے علاوہ پاکستان اوراسلامی معاشرے کے اعتبار سے تاریخ کے رجحانات اور ان رجحانات پر غلبہ حاصل کرنے کے منہدج سے متعلق تفصیل سے غور کیا گیا ہے ان معنوں میں یہ ایک غیر معمولی تصنیف ہے اورمطالعے میں بھی ایک گہری توجہ اور ارتکاز کا تقاضا کرتی ہے علمیات کے بنیادی مسائل سے طریق انقلاب کی تفصیلات  تک پھیلتی یہ کتاب عمر بھر کے تفکر کا ثمر ہے اور ہماری تاریخ فکر میں  ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے ۔
     

  • 3 مطالعہ قرآن (ہفتہ 16 اکتوبر 2010ء)

    مشاہدات:23278

    صحائف سماوی میں قرآن حکیم وہ منفردکتاب ہے جس کے متعلق کامل وثوق سے کہاجاسکتاہے کہ یہ ہمارے پاس اسی صورت میں محفوظ ومامون ہے جس صورت میں یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان حق ترجمان ووحی ربانی کے ذریعے سے جاری ہوئی تھی ۔نزول قرآن کااصل مقصدنفس انسانی کی تہذیب اورباطل عقائداورفاسداعمال کی تردیدہے ۔اس انقلاب انگیزنظریہ کی حامل یہ جامع کتاب ہرزمانہ میں علماءوفضلاکے لیے جاذب توجہ رہی ہے ۔اس کے غائرمطالعہ سے علم وحکمت کے چشمے سداپھوٹتے رہتے ہیں اورانسانی فکرونظرکی آبہاری ہوتی رہی ہے۔زیرنظرکتاب ’’مطالعہ قرآن‘‘مولانامحمدحنیف ندوی کے سال ہاسال کے تدبروتفقہ فی القرآن اوران کے مدت العمرکے شغف علوم دین کانتیجہ ہے۔مولانامرحوم نے انتہائی خوبصورت ادبی پیرائے میں علوم قرآن پرروشنی ڈالی ہے جولائق مطالعہ ہے ۔


     

  • 4 مطالعہ حدیث (منگل 26 اکتوبر 2010ء)

    مشاہدات:18022

    اس کتاب میں ثابت کیاگیاہے کہ حدیث وسنت کی تدوین تاریخی تقاضوں کے بجائے خالصتہ دینی عوامل کی بناء پرہوئی ہے اوراپنے دامن میں یہ اس طرح سےاستناد،اتصال اورتسلسل کولیے ہوئے ہے جس کی دنیاکے تاریخی لٹریچرمیں نظیرنہیں پائی جاتی۔ہم اس میں اس حقیقت کااظہاربھی کرچکےہیں کہ محدثین کرام نے نہ صرف رواۃ کے بارے میں جرح وتعدیل سے کام لیاہے بلکہ ان پیمانوں اوراصولوں کی تشریح بھی فرمائی ہےجن کےبل پرمتن ونفس مضمون کی صحت واستواری کابھی ٹھیک ٹھیک اندازہ کیاجاسکتاہے۔رہاتیسراعتراض تواس کابھی ہم نے اس کتاب میں تفصیل سے جواب دیاہے اوربتایاہے کہ فتنہ وضع حدیث کب ابھرا،کن اسباب ووجوہ نے اس کوتقویت پہنچائی اورمحدثین کرام نے اس کے انسدادکے لیے کیاکیامساعی جمیلہ انجام دیں۔نیز اس سلسلے میں کن ایسی علمی وتحقیقی کسوٹیوں کی نشان دہی کی،جن کے ذریعے نہ صرف موضوع حدیثوں کوآسانی سے پہچاناجاسکتاہے بلکہ ان سے فن تاریخ میں ان حقائق کی تعیین بھی کی جاسکتی ہے جوصحیح اوردرست ہیں اوران واقعات کوبھی دائرہ علم وادراک میں لایاجاسکتاہے جوتصحیف والحاق کی دخل اندازیوں کاکرشمہ ہیں ۔دوسرے لفظوں میں یوں کہناچاہیے کہ حدیث وسنت  کے ذخائرمحض انواررسالت اورفیوض نبوت کے ان پہلوؤں ہی کی عکاسی نہیں کرتے جوہمارے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ،بلکہ اپنے جلومیں حفظ وصیانت کےان علو م ومعارف کوبھی لیے ہوئے ہیں جن کی بناپرکسی واقعہ کےمدارج صحت وضعف کاتعین ہوتاہے۔یہ علوم ومعارف کیاہیں اوراحادیث نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کرعہدتدوین  تک حفظ وصیانت کے کن مرحلوں کوطے کیااورکیونکرعلم وحکمت کے یہ لعل وگہراتصال وتسلسل...

  • 5 چہرہ نبوت قرآن کے آئینے میں (بدھ 20 اکتوبر 2010ء)

    مشاہدات:17497

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پربے شمارکتابیں لکھی جاچکی ہیں اورابھی یہ سلسلہ جاری ہے جوتاقیامت جاری رہے گا۔ان شاء اللہ ۔سیرت نگاروں نے متعدداورمتنوع اسالیب اختیارکیے ہیں ۔اس ضمن میں مولانا محمدحنیف ندوی رحمہ اللہ نے قرآن شریف کی روشنی میں سیرت مرتب کرنے کاکام شروع کیاتھایعنی قرآن حکیم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش سیرت کواجاگرکیاجائے’چہرہ نبوت‘اس کے نتیجے میں منصہ شہودپرآئی ۔تاہم افسوس مولانااس کام کومکمل نہ کرسکے۔اورمولانااسحاق بھٹی نے چندابواب کااضافہ کیا۔اس پرکام کی مزیدضرورت ہنوز باقی ہے تاہم جتناکام مولانانے کیاوہ لائق تحسین اورقابل قدرکاوش ہے ۔جس سے واضح ہوتاہے کہ قرآن مقدس میں بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ موجودہے۔


     

  • 6 زیرو پوائنٹ 4 (بدھ 05 اکتوبر 2011ء)

    مشاہدات:22637

    زیرو پوائنٹ 4 پاکستان کے معروف صحافی اور کالم نگار جاوید چودھری کے کالموں کا مجموعہ ہے ۔جاوید چودھری کا نام محتاج تعارف نہیں بلکہ ایک اندازے کے مطابق اردو اخبارات میں موصوف کا کالم تقریباً سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ ایکسپریس چینل پر موصوف ایک ٹاک شو میں ’اینکر پرسن‘ بھی ہیں اور بہت کامیاب پروگرام کر رہے ہیں۔ ان کا کالم نگاری کا انداز عام لکھاریوں سے جداگانہ اور دلچسپ ہوتا ہے کہ جس میں کہانی اور افسانے کا رنگ  اور اصلاح کے پہلو نمایاں ہوتے ہیں کہ جب تک قاری مکمل کالم پڑھ نہ لے نظر ہٹانے کو تیار نہیں ہوتا۔ جاوید چودھری کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے کالموں میں لفّاظی بکھیرنے کے بجائے عام اور سادہ لفظوں میں نفس مسئلہ کو افسانوی انداز میں بیان کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کالم کے قارئین میں ہر ذہنی سطح کے لوگ دلچسپی محسوس کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مسائل کو افسانوی رنگ دینے اور قارئین کے توجہ حاصل کرنے  کے لیے مرچ مصالحہ سے بھی کام لینا پڑتا ہے لہذا موصوف اس کا اہتمام بھی وقفے وقفے سے کرتے رہتے ہیں۔ (ف۔ق)

  • 7 سلطان محمود غزنوی (جمعرات 05 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:4723

    سلطان محمود غزنوی﷫ (971ء ۔ 1030ء ) کا پورا نام یمین الدولہ ابو القاسم محمود ابن سبکتگین ہے ۔ 997ء سے اپنے انتقال تک سلطنت غزنویہ کے حکمران رہے۔ انہوں نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کیا ۔ اس کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا۔ وہ تاریخِ اسلامیہ کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے سلطان کا لقب اختیار کیا۔محمودغزنوی 971ء میں پیدا ہوا۔ چھ برس کا تھا کہ باپ غزنی کا بادشاہ بنا۔ پندرہ سال کی عمر میں باپ کے ساتھ جنگوں میں شریک ہونے لگا اور اس کی بہادری اور جرات کے چرچے ہونے لگے، چنانچہ سبکتگین نے اس کو خراسان کا حاکم بنا کر بھیج دیا۔ تعلیم نہایت عمدہ پائی تھی، فقہ، حدیث، تفسیر کی کتابیں پڑھیں، قرآن مجید حفظ کیا۔ ابتدائی عمر میں فقہ پر خود ایک کتاب بھی لکھی۔شمالی ہند کا راجا جے پال سبکتگین کے زمانے میں دو دفعہ غزنی پر حملہ کرچکا تھا، جب محمود چھبیس سال کی عمر میں باپ کا جانشین ہ...

  • 8 ٹیپو سلطان (شیرِ میسور) (جمعرات 26 فروری 2015ء)

    مشاہدات:3378

    ٹیپوسلطان برصغیرِ کا وہ اولین مجاہد آزادی اور شہید آزادی ہے جس نے آزادی کی پہلی شمع جلائی اور حریت ِفکر، آزادی وطن اور دینِ اسلام کی فوقیت و فضیلت کے لیے اپنی جان نچھاور کردی تھی، ٹیپوسلطان نے حق و باطل کے درمیان واضح فرق و امتیاز قائم کیا اور پرچم آزادی کو ہمیشہ کے لیے بلند کیا تھا۔ ٹیپوسلطان 1750 میں بنگلور کے قریب ایک قصبے میں پیدا ہوا ۔ٹیپوسلطان کا نام جنوبی ہندوستان کے ایک مشہور بزرگ حضرت ٹیپو مستان کے نام پر رکھا گیا تھا، ٹیپوسلطان کے آباؤ اجداد کا تعلق مکہ معظمہ کے ایک معزز قبیلے قریش سے تھا جو کہ ٹیپوسلطان کی پیدائش سے اندازاً ایک صدی قبل ہجرت کرکے ہندوستان میں براستہ پنجاب، دہلی آکر آباد ہوگیا تھا۔ٹیپوسلطان کے والد نواب حیدر علی بے پناہ خداداد صلاحیتوں کے حامل شخص تھے جو ذاتی لیاقت کے بے مثال جواں مردی اور ماہرانہ حکمت عملی کے سبب ایک ادنیٰ افسر ’’نائیک‘‘ سے ترقی کرتے ہوئے ڈنڈیگل کے گورنر بنے اور بعد ازاں میسور کی سلطنت کے سلطان بن کر متعدد جنگی معرکوں کے بعد خود مختار بنے اور یوں 1762 میں باقاعدہ ’’سلطنت خداداد میسور‘‘ (موجودہ کرناٹک) قائم کی۔ 20 سال تک بے مثال حکمرانی کے بعد نواب حیدر علی 1782 میں انتقال کرگئے اور یوں حیدر علی کے ہونہار جواں سال اور باہمت فرزند ٹیپوسلطان نے 1783 میں ریاست کا نظم و نسق سنبھالا۔دنیا کے نقشے میں ہندوستان ایک چھوٹا سا ملک ہے اور ہندوستان میں ریاست میسور ایک نقطے کے مساوی ہے اور اس نقطے برابر ریاست میں سولہ سال کی حکمرانی یا بادشاہت اس وسیع وعریض لامتناہی کائنات...

  • 9 رواداری اور پاکستان (منگل 14 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:1719

    المیہ یہ ہے کہ بعض گروہوں کی طرف سے ایک سازش کے تحت شعائر اسلامی کا مذاق اڑایا جاتا ہے،شان رسالت ﷺ میں توہین کا لائسنس طلب کیا جاتاہے،مقدس شخصیات کی تضحیک وتنقیص کی جاتی ہے اور اگر کوئی اس پر کبھی بھول کر بھی صدائے احتجاج بلند کر دے تو اسے رواداری کے نام پر صبر،تحمل اور برداشت سے کام لینے کو کہا جاتاہے،اسے حقوق انسانی ترقی پسندی اور اعلی ظرفی کا درس دیا جاتا ہے ۔وہ جو اسلام دشمنی اور اقدار شکنی کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں ،انہیں بنیاد بنا کر اپنے تئیں دائرہ روشن خیالی سے خارج کر دیا جاتا ہے۔لیکن جب ان لوگوں کے ذاتی مفادات پر زد پڑتی ہے اور وہ آپس میں دست وگریباں ہوتے ہیں تو خود رواداری کی تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں۔تحمل وبرداشت اور رواداری ایسے خوشنما الفاظ ان کی ڈکشنری سے خارج ہو جاتے ہیں۔ان میں اتنا حوصلہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ معمولی سی تنقید ہی سن سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب" روا داری اور پاکستان "محترم جناب محمد صدیق شاہ بخاری صاحب کی مرتب کردہ ہے جس میں انہوں نے روشن خیالوں کی اسی روشن خیالی کا بھانڈہ پھوڑا ہے۔یہ کتاب پاکستان میں اقلیتوں کے ظلم وستم اور رواداری کی آڑ میں مسلمانوں کی دم توڑتی غیرت کی کربناک صداؤں پر مشتمل ایک تحقیقی وتاریخی دستاویز ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائےاور ان کی غیرت دینی کو بیدار کرے۔آمین(راسخ)

  • 10 اسلام کا معاشی نظام (ہفتہ 07 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:5210

    دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام کا معاشی نظام"محترم جناب پروفیسر چودھری غلام رسول چیمہ صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے اسلام کے اسی  عظیم الشان معاشی نظام کی خوبیوں کو بیان کیا ہے اور اسلام کے علاوہ دیگر نظاموں کی خامیوں اور خرابیوں کو واضح کیا ہے۔اسلام حلال طریقے سے کمانے اور حلال جگہ پر خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔یہ  اپنے موضوع...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1298
  • اس ہفتے کے قارئین: 14376
  • اس ماہ کے قارئین: 48397
  • کل قارئین : 47953671

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں