دکھائیں کتب
  • 1 اشاریہ مضامین قرآن جلد۔1 (اتوار 14 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:3000

    قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سینکڑوں موضوعات پرمشتمل ہے۔ مختلف اہل علم نے اس حوالے سے كئی کتب تصنیف کی ہیں علامہ وحید الزمان  کی ’’تبویب القرآن فی مضامین الفرقان ‘‘، شمس العلماء مولانا سید ممتاز علی کی ’’ اشاریہ مضامین قرآن ‘‘ اور ’’مضامین قرآن‘‘از زاہد ملک قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اشاریہ مضامین قرآن؍تفصیل البیان فی مقاصد القرآن‘‘شمس العلماء مو لانا سید ممتاز علی کی قرآن میں بیان شدہ مضامین کو جاننے کے لیے ایک اہم کاوش ہے۔ موصوف 1860ء کو راولپنڈی میں ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنےکےبعددار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور وہاں ممتاز اساتذہ سے   تعلیم حاصل کی ۔آپ زندگی بھر تصنیف وتالیف کے کام سے منسلق رہے ۔آپ نے چار رسالوں کااجراء کیا اور تقریبا 14 کتب تصنیف کیں جن میں سےاہم ترین کتاب’’ تفصیل البیان فی مقاصد القرآن‘‘ ہے ۔یہ موصوف کا بڑا علمی کارنامہ ہے جس کو آپ نے پچیس برس کی محنت سے ترتیب دیا ۔یہ آیات قرآنی کا ایک مبسوط اشاریہ ہے جو معانی ومطالب کےاعتبار سے مرتب کیا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں ایک موضوع ایک ہی مقام پر بیان نہیں ہوا بلکہ ایک عنوان پر روشنی ڈالنے والی متعدد آیات مختلف مقامات پر ملتی ہیں ۔لٰہذا جوشخص کسی...

  • 2 اقرأ اول (ہفتہ 07 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:5867
    عربی زبان کو ایک ایسا اعزاز حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ قیامت تک رہے گی ۔ اور وہ یہ ہے کہ قرآن جیسی مقدس کتاب اس زبان میں موجود ہے ۔ مسلمان اپنا دین سیکھنے کے لئے ہمیشہ ہی اس زبان کے محتاج رہیں گے ۔ اس کی تفہیم اور تشریح کے لئے ماہرین نے مختلف پہلوؤں سے کام کیا ہے ۔ ایک تو اس کا گوشہ گرائمر کا ہے جس میں اس زبان کے قواعد و ضوابط زیر بحث آیا کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسے براہ راست بولنے کی مشق کی جائے ۔ تاکہ اس کے الفاظ معانی کے ساتھ زبان پر چڑھ جائیں ۔ زیر نظر کتاب مؤخرالذکر پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے ۔ اس میں تقریبا تمام وہ الفاظ آگئے ہیں جو ہماری روزمرہ معمولات میں استعمال ہوا کرتے ہیں ۔ اور اس کے علاوہ یہ ہے کہ زبان کے اساسی اجزا کو ملا کر ایک جملہ کیسے تشکیل دیا جانا چاہیے اس حوالے سے بھی ساتھ ساتھ بطریق احسن مشق ہوتی جاتی ہے ۔ اس کتاب کی افادیت کے پیش نظر اسے مدارس میں داخل نصاب بھی کیا جا چکا ہے اور ہزاروں مبتدی طلبا اس سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ اللہ مصنف کو اجر سے نوازے ۔ آمین (ع۔ح)

  • 3 تحفظ عصمت (منگل 11 فروری 2014ء)

    مشاہدات:16386
    اہل مغرب نے اپنی لادین تہذیب وثقافت کو فروغ دینے کےلیے جومختلف نعرے ایجاد کیے ہیں ان میں سے ایک آزادئ نسواں یا حقوق خواتین کابھی ہے اس کی آڑ میں وہ مسلم ممالک میں فحاشی وعریانی کاایک سیلاب لاناچاہتے ہیں جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہیں جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت ان کےدام تزویر میں پھنس چکی ہے اور غیرت وحیاء کا جنازہ نکل چکاہے جس سے زنا کاری اور بدکاری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے ان حالات میں ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات کو جانا جائے اور ان پر عمل پیرا ہواجائے اسلام نے عورت کو سب سے بڑھ کر عزت اور تحفظ دیا ہے زیرنظر کتاب میں بڑی خوبصورتی سے خواتین کےبارے میں اسلامی تعلیمات کو اجاگر کیا گیا ہے جن سے اسلام میں عورت کی عزت وعصمت کامقام ومرتبہ ظاہر ہوتا ہے اور معاشرے میں باکیزگی  اور حیاء کے جذبے فروغ پاتے ہیں


  • 4 خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم (منگل 18 فروری 2014ء)

    مشاہدات:20454
    خلفائے راشدین حضرت ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب سے متعلق بہت ساری احادیث مروی ہیں۔ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کی نسبت آپﷺ نے فرمایاکیا تم پہلے شخص نہیں جو میری امت میں سے جنت میں داخل ہوگے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے متعلق ارشاد فرمایا: گزشتہ امتوں میں محدثین تھے اگر میری امت میں کوئی محدث ہو گا تو وہ عمر ہوں گے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ ہر پیغمبر کے رفیق ہوتے ہیں اور جنت میں میرے رفیق عثمان ہوں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت ارشاد ہوا کہ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ میرے ساتھ تم کووہی نسبت حاصل ہو جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی۔ آخر کیا وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان برگزیدہ شخصیات کو اس قدر مقام و مرتبہ عطا فرمایا۔ اس کے لیے ہمیں ان حضرات کی سیرت کی ورق گردانی کرنا ہوگی۔ زیر تبصرہ کتاب انہی شخصیات کی سیرت پر ایک جامع دستاویز ہے جس میں کسی لگی لپٹی کے بغیر خلفائے راشدین کی زندگی کے تمام گوشوں پر بالتفصیل روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کے مصنف مولانا معین الدین ندوی سب سے پہلے خلیفہ راشد کے حالات زندگی اور ایمان لانے کے واقعات قلمبند کرتے ہیں اس کے بعد ان کے اخلاق و عادات، فضائل و مناقب اور کارہائے نمایاں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ مصنف نے مذکور حضرات کے خلیفہ راشد بننے کے بعد کے حالات کو خصوصی طور پر موضوع سخن بنایا ہے اور اس سلسلہ میں پائے جانے والے اشکالات کو حتی المقدور دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ (ع۔م)

  • 5 سنت کی روشنی اور بدعت کی تاریکیاں (منگل 14 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:2243

    قرآن کریم  تمام شرعی دلائل کا مآخذ  ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے  بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے  ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے۔قرآن مجید کے ساتھ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے  قرآن مجید میں بے  شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے  کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثیت ہے  ۔سنت وہ ہدایت ہےجس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ،علم واعتقاد اور قول وعمل کےساتھ گامزن تھے اور یہی وہ سنت ہے جس کی اتباع واجب ہےاور اس پر چلنے والے قابل تعریف اوراس کی مخالف کرنےوالے قابل مذمت ہیں ۔کیونکہ اتباعِ سنت جزو ایمان ہے  ۔حدیث  سے  انکا ر  واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی  اور فہم قرآن سے  دوری  ہے ۔سنت  رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی تفہیم  کا  دعو یٰ نادانی  ہے ۔ اطاعتِ رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش  نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اور ایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث نبویہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباعِ سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں  سے  ایک تقاضا ہے ۔ اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چ...

  • 6 عقیدہ طحاویہ (اردو) (بدھ 12 فروری 2014ء)

    مشاہدات:19866
    اسلامی تعلیمات کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک فکروعقیدہ  اور دوسرے عملی امور ان دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن عقیدہ زیادہ اہم اور ضروری ہے کہ اعمال کی قبولیت بھی صحیح عقیدہ پر منحصر ہے علماء نے ہر دور میں فکرواعتقاد کے موضوع پرکتابیں لکھی ہیں زیرنظر کتاب امام طحاوی رحمہ اللہ نے مرتب کی ہے جس میں بہت ہی مختصر انداز میں اسلامی عقائد کا احاطہ کیا گیا ہے اور اہل سنت والجماعت کے عقائد بیان کیے گئے ہیں عقیدہ کی تعلیم اوراس کے عناصر سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے اس کامطالعہ ازحدضروری ہے کتاب مذکور کی خو بی یہ ہے کہ تمام اسلامی عقائد کو مختصراً بیان کردیا گیا ہے اور باطل فرقوں کے بالمقابل اہل سنت والجماعت کے افکارونظریات کی نمائندگی کی گئی ہے اسی لیے مجلس التحقیق الاسلامی نے تصحیح ونظر ثانی کے بعد قارئین کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے خداکرے کہ اصلاح عقائد کی صورت پیدا ہو-


  • 7 فاتحہ خلف الامام بشمول دو فتوے سکتات اور آمین (پیر 19 جنوری 2009ء)

    مشاہدات:16122
    سورہ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا ایک لازمی جز ہے جو کہ احادیث سے با صراحت ثابت ہے اور نماز میں سورہ فاتحہ کے نہ پڑھنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے اس لیے علما نے اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر بہت کچھ لکھا ہے جس کی ایک مثال بدیع الدین راشدی کی زیر نظرکتاب فاتحہ خلف الامام ہے –نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں لوگوں میں مختلف گروہ پائے جاتے ہیں ان میں سے کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ جہری نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی اور پھر اس موقف کو تقویت دینے  کے لیے اور اس کو ثابت کرنے کےلیے دلائل دیے جاتے ہیں-تو ان دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے سورہ فاتحہ کے بارے میں کیا موقف ہونا چاہیے مصنف نے فاتحہ خلف الامام کے نام سے کتاب تصنیف کر کے اس بات کو بڑے اچھے انداز واضح کیا ہے-اس کتاب میں مصنف نے فاتحہ خلف الامام کے بارے میں صحیح اور مرفوع احادیث کا ذکر کیا ہے اور ان راویوں کا ذکر بھی کیا ہے جن سے یہ احادیث مروی ہیں اور اس کے علاوہ ایسے آثار کو بیان کیا ہے جو صحابہ کرام سے منقول ہیں اور آخر میں دو اہم فتوے بیان کیے ہیں  جوکہ امام کے سکتات میں مقتدیوں کا سورہ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں ہیں-

  • مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی     ضلع امرتسر کے ایک گاؤں’’بھوجیاں‘‘ میں 1909  کوپیداہوئے ۔ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی میاں صدرالدین حسین اور مقامی علماء  کرام  سے حاصل کی ۔اس کےبعد  پندرہ سولہ برس  کی عمر  میں مدرسہ حمیدیہ ،دہلی میں  داخل ہوئے او روہاں مولانا عبدالجبار کھنڈیلوی اور ابوسعید شرف الدین دہلوی سے  بعض متداول درسی کتب  اور حدیث کا درس لیا ۔بعد ازاں لکھو کے  اور گوندالانوالہ  کے اہل حدیث مدارس میں علوم دینیہ کی تکمیل کی جہاں مولانا عطاء اللہ  لکھوی اور  حافظ محمد گوندلوی ان کے اساتذہ میں  شامل تھے ۔مولانا  نے عملی زندگی  کاآغاز اپنے  گاؤں کے اسی  مدرسہ  فیض الاسلام میں بطور مدرس کیا جس میں  انہوں نے  خود ابتدائی تعلیم حاصل کی  تھی ۔لیکن چند ماہ  قیام کے بعد  گوجرانوالہ تشریف گئے او رمختلف مدارس میں  تدریسی فرائض سرانجام  دیتے رہے ۔سالانہ تعطیلات  گزارنے گاؤں  گئے ہوئے تھے کہ  ہندوستان تقسیم ہوگیا ۔مولانا ہجر ت کر کے پاکستان آگئے اور اپنے  پرانے تعارف  وتعلق کےتحت گوندلانوالہ میں سکونت اختیار کی ۔ اسی زمانے میں گوجرانوالہ سے ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ کا  ڈیکلریشن حاصل کیا اور مولانا محمد  حنیف ندوی کی ادارت میں  9اگست 1949ء کو ’’الاعتصام‘‘ کی اشاعت  کا آغاز کیا۔اس کے بعد  آپ گوجرانوالہ سے لاہور منتقل  ہوگئے اور مکتبہ السلفیہ کی  بنا ڈالی اور اس کے  تحت اپنے ذوق تحریر واشاعت کی تکمیل کی اور  اکتوبر 1956ء میں ایک علمی وتحقیقی مجلہ ’’رحیق‘‘ کااجراء کیا ۔جس کا مقصد اسلام کی عموماً ا ور  مسلک اہل حدیث کی خصوصاً تبلیغ واشاعت تھ...

  • 9 یہودیت قرآن کی روشنی میں (اتوار 02 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2555

    حضرت نوح ﷤ کے بعد حضرت ابراہیم ﷤ پہلے نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نےاسلام کی عالمگیر دعوت پھپلانے کےلیے مقرر کیا تھا ۔ انہوں نے پہلے خود عراق سے مصر تک اور شام و فلسطین سے ریگستان عرب کے مختلف گوشوں تک برسوں گشت لگا کر اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کی طرف لوگوں کو دعوت دی ۔حضرت ابراہیم﷤ کی نسل سے دوبڑی شاخیں نکلیں۔ ایک حضرت اسماعیل ﷤ کی اولاد جوعرب میں رہی۔قریش اور عرب کے بعض دوسرے قبائل کاتعلق اسی شاخ سے تھا۔دوسرے حضرت اسحاق ﷤ کی اولاد جن میں حضرت یعقوب، یوسف، موسیٰ،داؤد، سلیمان،یحییٰ ،عیسیٰ﷩ اور بہت سے انبیاء پیدا ہوئے ہوئے۔حضرت یعقوب کا نام چونکہ اسرائیل تھا اسی لیے یہ نسل بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔حضرت یعقوب﷤ کےچار بیویوں سے بارہ بیٹے تھے۔حضرت یو سف ﷤ اور ان کے بعد بنی اسرائیل کو مصرمیں بڑا اقتدار نصیب ہوا۔مدت دراز تک یہی اس زمانے کے مہذب دنیا کے سب سے بڑے فرماں روا تھے۔اور ان ہی کاسکہ مصر اوراس کے نواح میں رواں تھا۔اصل دین جو حضرت موسیٰؑ اور اسے پہلے اور بعد کے انبیاء لائے تھے وہ تو اسلام ہی تھا ۔ان انبیاء میں سے کوئی بھی یہودی نہ تھا اورنہ ان کےزمانے میں یہودیت پیدا ہوئی تھی۔یہ مذہب اس نام کے ساتھ بہت بعد کی پیدا وار ہے ۔یہ اس خاندان کی طرف سے منسوب ہے جو حضرت یعقوب﷤ کے چوتھے بیٹے یہودا کی نسل سے تھا ۔حضرت سلیمانؑ کے بعد جب ان کی سلطنت دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی تو یہ خاندان اس ریاست کامالک ہوا جو یہودیہ کےنام سے موسوم ہوئی اور بنی اسرائیل کے دوسرے قبیلوں نے اپنی الگ ریاست قائم کرلی جو سامریہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ پھر اسیریا نے نہ...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 592
  • اس ہفتے کے قارئین: 1364
  • اس ماہ کے قارئین: 7581
  • کل مشاہدات: 41236192

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں