کل کتب 10

دکھائیں
کتب
  • 1 #2663

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 2746

    آتش بازی اور لائٹنگ صرف آرائش اور کھیل یا؟

    (پیر 01 دسمبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    آگ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہے جس کے چلنے سے حرارت اور روشنی پیدا ہوتی ہے ۔آگ جب جل رہی ہواس کی زد میں جو چیز آئے وہ جل کر بھسم ہو جاتی ہے ۔آگ کی ایک چنگاری پورے شہر یا جنگل کوجلانے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔ انسان کے ازلی دشمن شیطان کواللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ۔اور شیطان روزِ اول ہی سے آگ اور آگ سے منسوب چیزوں کو اپنے آلۂکار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جہنم جو آگ کاسب سے بڑا مرکز ومنبع ہے اس کاسب سے بڑا جہنمی خود شیطان ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی نافرمانی کرنے والوں کے لیے عذاب کا اصل گھر آگ ہی کو قرار دیا ہے ۔نیز ا س نے اس عذاب کے دینے میں کسی اورکو اپنا شریک بنانا گوارا نہیں کیا ۔آگ ہماری دشمن ہے اس آگ ہی سے ڈرانے   اور بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسول بھیجے ۔گو آگ ہماری ضرورت بھی ہے اور ضرورت کے وقت آگ سے کام لینا انسان کا حق ہے ۔ لیکن اسے بغیر ضرورت جلائے رکھنا اس سے پیا ر کرنا، کافروں کی طرح اپنی رسومات اور عادات کا حصہ بنانا کسی صورت بھی زیب نہیں دیتاہے۔ کیونکہ آگ بنیادی طور پرہماری دشمن ہے اور ہمارے دشمن شیطان کی پسندیدہ چیز ہے ۔نبی کریم ﷺ نے ہمیں دنیاوی آگ کی دشمنی کابھی احساس دلایا اور اس سے محتاط رہنے کی تاکید کی ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’آتش بازی اور لائیٹنگ صرف آرائش اور کھیل یا؟‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ آگ کی تاریخ اور مختلف مذاہب میں اس کی کیا حیثیت ہے؟کو پیش کرکے   اس کےجائز اور ناجائز استعمال کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات کوبھی بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کتابچہ کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔آمین ( م۔ا)

  • 2 #2595

    مصنف : خادم حسین الہٰی بخش

    مشاہدات : 2904

    اثر الفکر الغربی

    (منگل 28 اکتوبر 2014ء) ناشر : دار حراء للنشر و التوزیع مکہ مکرمہ

         الحمد لله رب العالمين ، والصلاة والسلام على رسوله الأمين ، سيدنا ونبينا محمدٍ صلى الله عليه وسلم ، وعلى آله وصحابته الطيبين الطاهرين ، ومن سلك سبيلهم وترسم خطاهم ونهج منهجهم إلى يوم الدين ، وبعد : فإن هذا الكتاب رسالة علمية تقدم بها المؤلف لنيل درجة الدكتوراه في العقيدة الإسلامية من جامعة أم القرى بمكة شرفها الله ، ونالها بتقدير ( ممتاز ) .  وتتضمن الرسالة مقدمة وثلاثة أبواب وخاتمة :   ففي المقدمة تحدث المؤلف عن أهمية الموضوع ، وصلته بالواقع المعاصر ، والأسباب التي دَعَتْه للكتابة فيه ، والعقبات التي واجهها أثناء البحث ، ومنهجه فيه .    وتضمن الباب الأول بفصوله الثلاثة دراسة المجتمع المسلم بالهند الموحدة _ باكستان ، الهند ، بنغلاديش _ ومن ضمن أبحاثه كيفية دخول الإسلام إلى الهند إبان حكم الخلفاء الراشدين ، ثم عَرَّج الباحث فَذَكَرَ مظاهر المسلمين المميزة في عهد دولة الغزنويين ، والغوريين ، والمماليك .     وجاء فصله الثاني مبيناً أوصاف المسلمين حكاماً ومحكومين في عهد دولة المغول ، وما تعرض له المسلمون حكاماً ومحكومين من التشيع والتنصير .    وجاء فصله الأخير موضحاً حالة المجتمع المسلم في عهد شركة الهند الشرقية ، وبيان مطامعها الاستعمارية ، وتحديد موقف المسلمين حكومة وشعباً تجاهها برفع راية الجهاد لطرد المستعمرين .    وخصصت الدراسة بابها الثاني بفصوله الأربعة في تحديد أثر الفكر الغربي في حياة المسلمين ، وجاء فصله الأول في بيان أثر النشاط التنصيري في الأفكار والمعتقدات ، فكان من مباحثه التنصير في عهد المغول ، والتنصير أثناء الحكم الإنجليزي المباشر ، وبيان الطرق التي سلكها المُنَصِّرُوْن لتنصير المسلمين وغير المسلمين ، مع تحديد الأسباب التي قادتهم إلى بعض النجاح ....    وحدد الفصل الثاني لهذا الباب أثر الفكر الغربي في مجال التربية والتعليم ، وذلك ببيان موقف الدولة الإسلامية من التعليم ، وموقف الإنجليز من التعليم المُحَقِّق لمطامع المستعمرين ، وبث التنصير عن طريقالتعليم ، والتعليم في الآونة المعاصرة بروافده الثلاثة ، : التعليم الحكومي ، التعليم الخاص ، التعليم الديني .    وكان ثالث فصول هذا الباب محصوراً في القضايا الاجتماعية : كتعليم المرأة ، وعملها ، والزواج ، والقِوَامة ، وشرب المسكرات ، والاقتصاد ، ووسائل الإعلام ....    وجاء خِتام فصول هذا الباب موضحاً أثر الفكر الغربي في مجال النظم التشريعية ، فتحدثت الدراسة عن قضاء المسلمين في الهند ، واتفاقية بَكْسَر وخيانة شركة الهند الشرقية في تنفيذ بنودها المتصلة بالقضاء والفصل بين الناس ، وبداية التحريف في التشريع وآثاره الوخيمة ، ومناقشة فتوى السيد رشيد رضا المصري حول جواز التحاكم إلى غير شريعة الله ، في ضوء الكتاب والسنة وأقوال علماء الإسلام . كما تطرق هذا الفصل إلى وضع دستورٍٍ لدولة باكستان المسلمة ، وقانون العقوبات الباكستاني و مناقشة محتوياته ، وذكرت الدراسة نماذج مقارنة من الجرائم والعقوبات بين الشريعة والقوانين الباكستاني ، وقانون الإثبات ومحتوياته ، وشهادة المرأة ، وشاهد المَلِك بين الشريعة والقانون ...    وخَتَمَتْ الفصل بطلب إصلاحات في القضاء : كإلغاء الرسوم القضائية ، وتكوين مجمعٍ علمي قضائي ، وإصلاح التعليم التشريعي في كليات القانون ، وكليات الحقوق ، والمدارس الدينية ...    وآخر أبواب الرسالة جاء موضحاً لأثر الفكر الغربي في الفرق المنحرفة عن الإسلام ، فتحدث عن الشيعة الاثني عشرية ، والشيعة الإمامية البهرة ، والشيعة الإمامية الأغاخانية ، فكان من مباحث هذا الباب ظاهرة التعاون بين الأفكار المنحرفة ، وظاهرة إخفاء ما يدين به الشيعة عموما....    كما تحدث هذا الباب عن الصوفية وأثر الفكر الغربي فيها ، وحدد منهج الصوفية في الدعوة إلى الإسلام ، وحال الهند المتصوفة عند الاحتلال الإنجليزي ، والنظرة السلبية إلى الحياة ونتائجها لصالح الفكر الغربي .    وجاء رابع فصول هذا الباب في تحديد الفكر الغربي في القرآنيين ، الذين ينكرون حجية السنة في التشريع وأخذ الأحكام الشرعية منها ، ويعود بداية هذا الفكر إلى السيد أحمد خان مؤسس جامعة عليكره ، كما ذكر هذا الباب نماذج من التحريف في فكر زعماء القرآنيين .    وكان ختام فصول الأطروحة في القاديانية وإخلاصها للفكر الغربي ، وذلك حين ادعى زعيمها غلام أحمد القادياني نسخ الجهاد بنبوته ، وأن الهند دار إسلام لا دار حرب ، وتفسير القاديانية لخاتم النبيين ، ونماذج من وحي الغلام ، وختمت الفصل بذكر ما تختلف فيه القاديانية عن الإسلام .     وقبل الخاتمة بينت الوضع الحالي المبشر لصالح الإسلام ، وجاءت الخاتمة متضمنة بين طياتها نتائج البحث التي توصلت إليها الدراسة  المؤلف د/ خادم حسين إلهي بخش  أستاذ العقيدة والفرق والمذاهب المعاصرة  بكلية الشريعة والأنظمة ، قسم الشريعة في 15 شوال 1435 هـ الموافق 11/اكست 2014م   جامعة الطائف    الطائف ، المملكة العربية السعودية

  • 3 #2585

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 2531

    اپریل فول

    (منگل 18 نومبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    بے شک جھوٹ برے اخلاق میں سے ہے ,جس سے سب ہی شریعتوں نے ڈرایا ہے ،جھوٹ نفاق کی نشانی ہے اور اللہ کے رسولﷺنے اس کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے۔ آپ ﷺکے فرمان کے مطابق جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ہمیشہ سچ بولے یا خاموش رہے، مزید براں اللہ کے رسول ﷺنے اس شخص پرخصوصی طور پر لعنت فرمائی ہے جو جھوٹ بول کر لوگوں کو ہنساتا ہے۔ آج کل لوگ مزاح کے نام پر انتہائی جھوٹ گھڑتے ہیں اور لوگوں کو جھوٹے لطائف سنا کر ہنساتے ہیں ۔ آپ ﷺکے اقوال مبارکہ کی روشنی میں اپریل فول جیسی باطل رسوم وروایات کو اپنانے اور ان کا حصہ بن کر لمحاتی مسرت حاصل کرنے والے مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ ایسا کر کے وہ غیر مسلم مغربی معاشرے کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں جس کی رو سے لوگوں کو ہنسانے،گدگدانے اور انکی تفریح طبع کا سامان فراہم کرنے کے لیے جھوٹ بولناانکے نزدیک جائز ہے جبکہ آپ ﷺکے فرمان کے مطابق جھوٹ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینا اور انہیں تفریح فراہم کرنااور ہنسانا سخت موجبِ گناہ ہے۔کتاب وسنت میں جھوٹ کی شدید ممانعت آئی ہے.اوراس کی حرمت پراجماع ہے.اورجھوٹے شخص کیلئے دنیا وآخرت میں برا انجام ہے۔ اپریل فول منانے کی روایت کو بدقسمتی سے اغیار کی اندھی تقلید میں مسلمانوں نے بھی اپنا لیا ہے،اور ہر سال نہایت ہی جوش وخروش کے ساتھ مناتے ہیں اور پھر اپنی کامیابیوں پر فخرکرتے ہوئے اور اپنے شکار کی بے بسی کو یاد کرکے اپنی محفلوں کو گرماتے رہتے ہیں۔آج اپریل فول کا یہ فتنہ امت مسلمہ کی نوجوان نسل کے اخلاق کی پامالی کا سبب بن رہا ہے جسے وہ یہود و نصاریٰ کی پیروی کرتے ہوئے جھوٹ بول کر اپنے احباب واقرباء کو بے وقوف بنانے کے لیے مناتے ہیں۔ اپریل فول کا جھوٹ اور مذاق بےشمار لوگوں کی زندگیوں میں طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ اپریل فول کاشکار ہونے والے کئی لوگ ان واقعات کے نتیجے میں شدید صدمے میں مبتلا ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کئی مستقل معذوری کا شکار ہوکرہمیشہ کے لیے گھر کی چہار دیواری تک محدود ہوجاتے ہیں ، کتنے گھروں میں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور کتنے خوش وخرم جوڑے مستقلًا ایک دوسرے سے متعلق شکوک وشبہات کا شکار ہوجاتے ہیں اور مذاق کرنے والے ان سارے ناقابل تلافی صدمات اور نقصانات کا کسی طور پر بھی کفارہ ادا نہیں کر سکتے۔مسلمانوں کے لیے ان غیر شرعی اور غیر اسلامی رسوم و رواج کو منانے کے حوالے سے یہ بات یقینا سخت تشویشناک ہونی چاہیے کہ یہ غیر اسلامی ہیں اور اسلام کی عظیم تعلیمات اور اخلاقی اقدار کے منافی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’اپریل فول‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی   بگھڑے ہوئے معاشرے کے لیے ایک اصلاحی تحریری کاوش ہے جس میں نے انہوں نے اپریل کی تاریخ اور حقیقت کو کواضح کرتے ہوئے قرآن واحادیث اور علمائےکرام کے فتاویٰ کی روشنی میں اس کا شرعی جائزہ بھی پیش کیا ہے۔ اللہ تعالی ٰ موصوفہ کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے ۔(آمین)

  • 4 #6009

    مصنف : حافظ شفیق الرحمن زاہد

    مشاہدات : 945

    اپریل فول تاریخ اور شریعت کے آئینے میں

    (پیر 25 ستمبر 2017ء) ناشر : شعبہ تحقیق و تالیف، الحکمۃ انٹر نیشنل، لاہور

    اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ اس نے زندگی کے تمام شعبہ جات کے لیے اپنے ماننے والوں کو بہترین اور عمدہ اصول وقوانین پیش کیے ہیں۔ اخلاقی زندگی ہو یا سیاسی، معاشرتی ہو یا اجتماعی اور سماجی ہر قسم کی زندگی کے ہر گوشہ کے لیے اسلام کی جامع ہدایات موجود ہیں اور اسی مذہب میں ہماری نجات مضمر ہے۔مگر آج ہمیں یورپ اور یہودونصاریٰ کی تقلید کا شوق ہے اور مغربی تہذیب کے ہم دلدادہ ہیں۔ یورپی تہذیب وتمدن اور طرزِ معاشرت نے مسلمانوں کی زندگی کے مختلف شعبوں کو اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ مسلمانوں کی زندگی میں انگریزی تہذیب کے بعض ایسے اثرات بھی داخل ہوگئے ہیں، جن کی اصلیت وماہیت پر مطلع ہونے کے بعد ان کو اختیار کرنا انسانیت کے قطعاً خلاف ہے۔مگر افسوس کہ آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان اثرات پر مضبوطی سے کاربند ہے۔ حالاں کہ قوموں کا اپنی تہذیب وتمدن کو کھودینا اور دوسروں کے طریقہٴ رہائش کو اختیار کرلینا ان کے زوال اور خاتمہ کا سبب ہوا کرتا ہے۔یہود ونصاریٰ کی جو رسومات ہمارے معاشرہ میں رائج ہوتی جارہی ہیں، انھیں میں سے ایک رسم ”اپریل فول“ منانے کی رسم بھی ہے۔ اس رسم کے تحت یکم اپریل کی تاریخ میں جھوٹ بول کر کسی کو دھوکا دینا، مذاق کے نام پر بے وقوف بنانا اور اذیت دینا نہ صرف جائز سمجھا جاتا ہے؛ بلکہ اسے ایک کمال قرار دیا جاتا ہے۔ جو شخص جتنی صفائی اور چابک دستی سے دوسروں کو جتنا بڑا دھوکا دے دے، اُتنا ہی اُس کو ذہین، قابلِ تعریف اور یکم اپریل کی تاریخ سے صحیح فائدہ اٹھانے والا سمجھا جاتا ہے۔ یہ رسم اخلاقی، شرعی اور تاریخی ہر اعتبار سے خلافِ مروت، خلافِ تہذیب اور انتہائی شرمناک ہے۔ نیز عقل ونقل کے بھی خلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اپریل فول ، تاریخ اور شریعت کے آئینے میں " جامعہ لاہور الاسلامیہ کے فاضل اور الحکمہ انٹر نیشنل کے مدیر محترم قاری شفیق الرحمن زاھد صاحب﷾ کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے تاریخ اور شریعت کی روشنی میں اپریل فول کی حرمت کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 5 #5425

    مصنف : ڈاکٹر عاصم عبد اللہ القریوتی

    مشاہدات : 1264

    اپریل فول کی تاریخی و شرعی حیثیت

    (ہفتہ 01 اپریل 2017ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    اپریل فول منانے کی روایت کو بد قسمتی سے اغیار کی اندھی تقلید میں مسلمانوں نے بھی اپنا لیا ہے،اور ہر سال نہایت ہی جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں اور پھر اپنی کامیابیوں پر فخر کرتے ہوئے اور اپنے شکار کی بے بسی کو یاد کرکے اپنی محفلوں کو گرماتے رہتے ہیں۔ آج اپریل فول کا یہ فتنہ امت مسلمہ کی نوجوان نسل کے اخلاق کی پامالی کا سبب بن رہا ہے جسے وہ یہود و نصاریٰ کی پیروی کرتے ہوئے جھوٹ بول کر اپنے احباب و اقرباء کو بے وقوف بنانے کے لیے مناتے ہیں۔ اپریل فول کا جھوٹ اور مذاق بےشمار لوگوں کی زندگیوں میں طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ اپریل فول کاشکار ہونے والے کئی لوگ ان واقعات کے نتیجے میں شدید صدمے میں مبتلا ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کئی مستقل معذوری کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لیے گھر کی چہار دیواری تک محدود ہوجاتے ہیں، کتنے گھروں میں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور کتنے خوش و خرم جوڑے مستقلًا ایک دوسرے سے متعلق شکوک وشبہات کا شکار ہو جاتے ہیں اور مذاق کرنے والے ان سارے ناقابل تلافی صدمات اور نقصانات کا کسی طور پر بھی کفارہ ادا نہیں کر سکتے۔ مسلمانوں کے لیے ان غیر شرعی اور غیر اسلامی رسوم و رواج کو منانے کے حوالے سے یہ بات یقینا سخت تشویشناک ہونی چاہیے کہ یہ غیر اسلامی ہیں اور اسلام کی عظیم تعلیمات اور اخلاقی اقدار کے منافی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’اپریل فول کی تاریخی وشرعی حیثیت‘‘ ڈاکٹر عاصم عبد اللہ القریوتی کے عربی کتابچہ کا ترجمہ ہے۔ فاضل مصنف نے اس میں اس رسم بد کی تاریخی حیثیت اور اس کے متعلق کفار کے خیالات و نظریات رقم کیے ہیں۔ جھوٹ کے نقصانات اور اس کے بارے میں وارد شدہ وعیدیں بھی نقل کی ہیں۔ نیز قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں کفار کے ساتھ مشابہت کی مذمت بھی بیان کردی ہے۔ اور مزاح کا جواز اور آنحضرتﷺ کے مزاح کی چند مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • 6 #6946

    مصنف : حسن عسکری

    مشاہدات : 1282

    جدیدیت

    (منگل 30 اپریل 2019ء) ناشر : ادارہ مطبوعات طلبہ لاہور ، کراچی

    محمد حسن عسکری( 1919ء-1978ء) پاکستان کے نامور اردو زبان و ادب کے نامور نقاد، مترجم، افسانہ نگار اور انگریزی ادب کے استاد تھے۔ انہوں نے اپنے تنقیدی مضامین اور افسانوں میں جدید مغربی رجحانات کو اردو دان طبقے میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔برعظیم پاک و ہند میں مشرق و مغرب کی کشمکش میں علمی طور پر شریک افراد میں محمد حسن عسکریؒ کا نام اہم ترین ہے۔ عسکری صاحب نے ترقی پسند ادب سے روایت پسند فکر تک جو سفر طے کیا اس کی بے شمار منزلیں ہیں اور ہر منزل ایک نئے سفر اور ایک نئے فکر کا عنوان بن جاتی ہے۔ اردو زبان و ادب کی تاریخ کو انگریزی فکری اثرات سے آزاد کرانے کا سہرا عسکری صاحب کے سر ہے جنھوں نے فرانسیسی ادبی روایت اور روایت کے مکتبہ فکر کے زیرِ اثر اردو زبان و ادب کا رشتہ دینی روایات سے جوڑ دیا۔ وہ ادب سے دین کے کوچے میں آئے اور کئی کتابیں بھی لکھیں ۔ جن میں  زیر نظر کتاب ’’ جدیدیت‘‘ ہے  جو مغربی تہذیب کی گمراہیوں کاخاکہ ہے یہ کتاب اپنے اسلوب کے اعتبار سے نہایت سادہ اور مثالی کتاب ہے لیکن اس کا دوسرا حصہ نہایت مشکل ترین حصہ ہے جسے سمجھنے کے لیے یونانی و ہندی فلسفے اور مغربی فکر و فلسفے کے ساتھ ساتھ علوم اسلامی پر بھی گہری نظر ضروری ہے۔ عسکری صاحب نے فرانسیسی مفکررینے گینوں کی کتابوں کی مدد سے مغربی تہذیب کی دو سو گمراہیاں دوسرے حصے میں سمو دیں جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ان کو دور کیے بغیر انگریزی تعلیم پانے والوں کو دین کی باتیں نہیں سمجھائی جاسکتیں۔(م۔ا)

  • 7 #6274

    مصنف : محمد سہیل عمر

    مشاہدات : 1185

    حرف بہ حرف

    (منگل 23 جنوری 2018ء) ناشر : اقبال اکادمی لاہور پاکستان

    نام نہاد فکری  سور ماؤں نے انسانی زندگی کو مسائل اور پیچیدگیوں سے پاک اور امن وسکون کا گہوارہ بنانے کی جتنی کوششیں کی ہیں۔ان میں انہیں شکست فاش کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوں نے مسائل کو سلجھانے کی جتنی تدبیریں کیں، ان تدبیروں نے مسائل کو نہ صرف مزید الجھا دیا بلکہ ان میں کئی گنا اضافہ بھی کر دیاہے۔اس ناکامی کا بدیہی سبب یہ ہے کہ یہ حضرات بالعموم اپنی کوششوں کی بنیاد اسی الحاد اور مادہ پرستی پر رکھتے ہیں جو سارے بگار کی اصل جڑ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کو موجودہ فکری بحران، سماجی انتشار اور اخلاقی پستی سے نجات دلانا مقصود ہے تو پھر سب سے پہلے اس کفر والحاد پر کاری ضرب لگانی ہو گی جس کی بنیاد پر موجودہ تہذیب کی عمارت کھڑی کی گئی ہے۔اسلام ہی وہ حقیقی بنیاد ہے جس پر عمل کرنے انسانیت اپنے مسائل حل کر سکتی  ہے، اور دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ حرف بہ حرف‘‘ محمد سہیل عمر کی کاوش ہے۔ جس میں مغربی تہذیب کی وضاحت کرتے ہوئے  اسلام اور مغرب کی چیلنجز، مذہب اور سائنس، جدیدیت، انفرادیت پرستی اور قدیم اقوام کے درمیان روابط کو بیان کیا ہے۔ مزید اس کتاب میں شیخ احمد العلوی، شیخ عیسیٰ نور الدین احمد، شیخ ابن تیمیہ، شیخ عبد الواحد یحییٰ، امام غزالی اور احمد غزالی کے افکار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو  عزت ومقام عطا فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)
     

  • 8 #4254

    مصنف : عبد الوارث ساجد

    مشاہدات : 1950

    عیسائی استعمار کی دھول ’’اپریل فول‘‘ مسلمانوں کو قبول

    (منگل 23 فروری 2016ء) ناشر : صبح روشن پبلشرز لاہور

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی بندگی اور عبادت کے لیے پیدا کیا اور انسان کی راہنمائی کے لیے انبیاء کرام و رسولوں کی جماعت کو انسانیت کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ مگر اس کے باوجود بھی حضرت انسان ایک اندھے کی طرح کسی کا مقلد بن کر اپنی ثقافت، شرافت، معاشرہ اور اپنی ہی دینی تعلیمات و تربیت کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ اگر دین سے ہٹ کر بھی اسے دیکھا جائے تو عقل سلیم رکھنے والا شخص اس کو ہرگز نہیں تسلیم کرے گا کہ ایک گھر میں خوشیوں کا محفل ہو اور ساتھ والے گھر میں رنج و الم کا ماتم، ہر ایسی رسم جو اپنے ساتھ بے شمار طوفان لاتی ہے، اس کا اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اپریل فول منانے والےفرسٹ اپریل کوجھوٹ کی آڑ لے کر اپنے دوسرے بھائیوں کو بیوقوف بنا کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ہمیں یہ بھی احساس نہیں کہ ایک سازش کے تحت مسلمان نو جوانوں کو اپنی تہذیب سے دور کیا جارہا ہے نیو ائیر نائٹ، ویلنٹائن ڈے، اپریل فول جیسی رسمیں اپنا کر ہم نہ صرف اپنا مالی نقصان کرتے ہیں بلکہ تہذیبی موت سے بھی دو چار ہو رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اپریل فول" عبدالوارث ساجد کی ایک تحقیقی تصنیف ہے۔ جس میں موصوف نے اپریل فول کی تاریخِ آغاز، اس کی حقیقت اور اپریل فول کے نقصانات کو قلمبند کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل اسلام کو اس خطرناک سازش سے محفوظ فرمائے اور مصنف کو اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 9 #6951

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹر احمد ندیم

    مشاہدات : 924

    مابعد جدیدیت اور اسلامی تعلیمات

    (اتوار 05 مئی 2019ء) ناشر : کتاب محل لاہور

    جدیدیت ان نظریاتی تہذیبی ،سیاسی اور سماجی تحریکوں کے مجموعے کا نام ے  جو 17ویں اور 18 صدی کے یورپ میں روایت پسندی اورکلیسائی استبداد کے ردّ عمل میں پیدا ہوئیں۔یہ وہ دور تھا جب یورپ میں کلیسا کا ظلم اپنے عروج پر تھا  ۔اور مابعدجدیدیت؍پس جدیدیت دراصل جدیدیت کے ردّ عمل کانام ہے ۔اور مابعدجدیدیت  آج کے دور کافلسفہ، ترقی یافتہ  معاشروں کا عقیدہ طرزِ زندگی، معاشرتی صورت حال اور نظریہ حیات کانام ہے اردو میں مابعدجدیدیت پر علمی انداز  سے  مذہبی موقف کوبہت کم پیش کیا گیا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’مابعدجدیدیت اور اسلامی تعلیمات ‘‘  پروفیسر ڈاکٹر  احمد ندیم کی کاوش ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے  یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جدیدیت ہو یامابعدجدیدیت کوئی بھی نظریہ اسلام کی صاف ستھری اور پرازحکمت تعلیمات کے لیے چیلنج  کا درجہ نہیں رکھتا۔اسلام کی رہنمائی آفاقی، ابدی،سرمدی اور ناقابل تغیر ہےاسی لیے قرآن کریم چیلنج کرتا ہے ۔اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعتمي(م۔ا)

  • 10 #2534

    مصنف : بنت حامد

    مشاہدات : 1801

    کتا کلچر

    (جمعہ 10 اکتوبر 2014ء) ناشر : نا معلوم

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ۔جو      اپنے متبعین کو پاکیزہ رہنے اور پاکیزگی اختیار کرنے اور نجاستوں سے دور رہنے اور بچنے کا حکم دیتا ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق کتا ایک نجس جانور ہے جس  کی نجاست دیگر تمام نجاستوں سے زیادہ اور غلیظ ہے۔نبی کریم نے فرمایا:جب کتابرتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی کے ساتھ اس کو مانجھو۔جبکہ اس کے برعکس مغربی تہذیب میں کتے کو ایک وفادار اور لاڈلا جانور سمجھا اور جانا جاتا ہے۔انہوں نے کتے کو انسانی حقوق دینا شروع کردیئے ہیں ۔وہ تمام جانوروں سے بڑھ کر کتے کو چاہتے ہیں،بلکہ انہوں نے کتوں کو انسانی رشتوں کے طور پر قبول کر لیا ہے۔یورپی اقوام کے اس کتا پیار کی وجہ سے ایک نیا کلچر سامنے آیا ہےجو دنیا کے ہر کلچر سے مختلف ہے۔اسی لئے اس کتابچے کا نام "کتا کلچر "رکھا گیا ہے۔اس کتاب میں آپ اسی کلچر کی چند جھلکیاں آپ دیکھیں گے۔ یہ کتاب  "کتا کلچر "محترمہ بنت حامد کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے مغرب کے کتا کلچر کی چند جھلکیاں دکھائی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ کتے کے ساتھ رہنے کی وجہ سے کتے  کی تمام گندی صفات اہل یورپ میں پائی جاتی ہیں۔اللہ تعالی اہل یورپ کا حقیقی چہرہ دکھانے پر محترمہ بنت حامد کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1328
  • اس ہفتے کے قارئین 14967
  • اس ماہ کے قارئین 53361
  • کل قارئین49438392

موضوعاتی فہرست