کل کتب 76

دکھائیں
کتب
  • 1 #5480

    مصنف : محمد منیر عاجز

    مشاہدات : 2582

    آئینہ کتاب وسنت مقلد اور غیر مقلد کب سے ہیں

    (منگل 06 جون 2017ء) ناشر : مجلس اشاعت توحید و سنت ڈنمارک

    مسلک اہل حدیث ایک نکھرا ہوا اور نترا  ہوا مسلک ہے۔جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے ۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث  ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "آئینہ کتاب وسنت، مقلد اور غیر مقلد کب سے ہیں "محترم محمد منیر عاجز صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں  نے بڑے ہمدردانہ انداز میں مقلدین کو مسلک اہل حدیث اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 2 #4081

    مصنف : نواب صدیق الحسن خاں

    مشاہدات : 3880

    ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع

    (پیر 01 فروری 2016ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    ہر مسلمان پرواجب اور ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے بعد مسلمانوں کے علماء، مجتہدین اور اولیاء صالحین کی محبت اختیار کرے، خاص کر وہ ائمہ اور علماء جو پیغمبروں کے وارث ہیں، آسمان کے ستاروں کی طرح خشکی و تری کی تاریکیوں میں راستہ دیکھاتے ہیں، مخلوق کے سامنے ہدایت کے راستے کھولتے ہیں۔ خاتم الرسلﷺ کی بعثت سے پہلے جو امتیں تھیں ان کے علماء بد ترین لوگ تھے، مگر ملت اسلامیہ کے علماء بہترین لوگ ہیں۔ جب کبھی رسول اللہﷺ کی سنت مطہرہ مردہ ہونے لگتی ہے تو اس کو یہ علماء ہی زندہ کرتے ہیں، اور اسلام کے جسم میں ایک تازہ روح پھونکتے ہیں۔ اسی طرح چاروں ائمہ مجتہدین اور دوسرے علماء حدیث جن کی مقبولیت کے آگے امت سرنگوں رہتی ہے، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ رسول اللہﷺ کی کسی حدیث اور سنت کی مخالفت کا اعتقاد دل میں رکھتا ہو۔ زیر تبصرہ کتاب"ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع" علامہ نواب صدیق حسن خان بھوپالیؒ کی ایک معرکۃ الاراء کتاب"جلب المنفعۃ فی الذب عن الائمۃ المجتہدین الاربعۃ" فارسی کا اردو ترجمہ ہے، مترجم مولانا محمد اعظمی حفظہ اللہ تعالیٰ نے حتی المقدور کتاب کا ترجمہ سہل انداز میں پیش کیا ہے۔ مولانا خان صاحبؒ کے علمی و دینی خدمات جلیلہ اور ان کے تجدیدی کارنامے تعارف کے محتاج نہیں۔ مولانا خان صاحبؒ نے اپنی اس نایاب تصنیف میں ائمہ اربعہ کے دفاع کے ساتھ ان کے اور جماعت اہل حدیث و محدثین کے فضائل و مناقب بیان کئے ہیں اور مقلدین اور ان کے مخالفین کے درمیان جو لعن طعن، الزام تراشی اور تکفیر و تفسیق کی گرم بازاری رہتی ہے اس پر سخت نکیر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہم دعا گو ہیں کہ وہ امت مسلمہ کو اتفاق و اتحاد سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور مصنف و مترجم کو اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (عمیر)

  • 3 #5721

    مصنف : عبد الجبار سلفی

    مشاہدات : 2599

    اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا تقلید امام ابو حنیفہ 

    (جمعرات 17 اگست 2017ء) ناشر : فیض اللہ اکیڈمی لاہور

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل بالحدیث کے مباحث صدیوں پرانے ہیں ۔زمانہ قدیم سے اہل رائے اور ہل الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند دہائیوں میں تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا ہے ۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں اور کئی کتب تصنیف کیں ہیں۔ ۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں  انہیں کتابوں میں سے ایک ہے جس میں نبیﷺ کی سیرت اور امام ابو حنیفہ کی تقلید  کے حاملین کے چند مکالمات کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ اور نہایت آسان  اور عام فہم اسلوب کو اپنایا گیا ہے اور اختلافی مباحث میں بھی ایک دوسرے کو باعزت طریقے سے مخاطب کر کے سوال وجواب کی صورت میں مسئلہ حقیقت کو واضخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور بحث کے ساتھ ہی حوالہ جات کو ذکر کیا جاتا ہے لیکن کہیں کہیں حوالہ جات ناقص بھی ہیں ۔ یہ کتاب’’ اتباع رسول یا تقلید امام ابو حنیفہ ‘‘ مولانا عبد الجبار سلفی  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 4 #5722

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 3024

    اتباع سنت اور تقلید ائمہ اربعہ کی نظر میں

    (بدھ 06 ستمبر 2017ء) ناشر : مکتبہ ناصریہ، فیصل آباد

    اسلام نے اپنے ماننے والوں کو جن باتوں کی تعلیم دی ہے ان میں باہمی اتحاد واتفاق کو خاص اہمیت حاصل ہے‘ قرآن کریم اور حدیث شریف میں مختلف اسلوب سے اتحاد کی منفعت کو واضح کیا گیا ہے اور اختلاف وافتراق کی مذمت کی گئ ہے‘ گزشتہ اقوام کی تاریخ ذکر کر کے بھی اس حقیقت کو ذہن نشین کرایا گیا ہے کہ صفحۂ ہستی پر باوقار اور بااقبال زندگی کے نقوش ثبت کرنے کے لیے قوم کا متحد ومتفق ہونا ضروری ہے۔ افسوس ہے کہ اسلام کی اس واضح تعلیم کے باوجود امت میں نفرت واختلافات کے جراثیم سرایت کر گئے اور فرقوں اور ٹولیوں میں بٹ گئے۔زیرِ تبصرہ کتاب علامہ البانی اور شیخ عبد الرحمان کے رسالہ کا اردو ترجمہ ہے جس میں  عوام میں موجود فرقوں کے اسباب اور اشکالات کو کتاب وسنت کے دلائل کے ساتھ دور کرنے کی سعی کی گئی ہے اور ثابت کیا ہے کہ جماعت اہل حدیث نہ تو ائمہ کی توہین کرتی ہے اور نہ ہی تقلید کی دعوت دیتی ہے۔ اور تقلید کی تعریف وتوضیح کے ساتھ ساٹہ مختصر تاریخ بھی قلمبند کی گئی ہے۔ اور تقلید کی شرعی حیثیت کیا ہے اور عمل صحابہ واقوال ائمہ کیا ہیں کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ اتباع سنت اور تقلید ائمہ اربعہ کی نظرمیں ‘‘ علامہ محمد ناصر الدین البانی  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 5 #6050

    مصنف : ڈاکٹر وصی اللہ محمد عباس

    مشاہدات : 3067

    اتباع سنت اور صحابہ و ائمہ کے اصول فقہ

    (جمعرات 28 دسمبر 2017ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    اللہ تعالیٰ نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ، فرمایا:( َ ومَا خَلَقْتُ الْجِنَّوَالْاِنْسَاِلَّالِیَعْبُدُوْن)(الذاریات)میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں)۔ جن وانس کی تخلیق کا مقصد اصلی چونکہ عبادت ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے عبادت کا طریقہ اور اس کی کیفیت بتانے کےلئے انبیائے کرام کاسلسلہ قائم فرمایا۔کیوں کہ کون ساعمل اورکونسی عبادت اللہ کو پسند اور کون ساعمل اور کون سی عبادت اللہ کو ناپسند ہے یہ بندے کو اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکتی جب تک کہ اللہ تعالیٰ خود نہ بتائے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے ذریعہ اپنی خوشی اور ناراضگی کے امور کی اطلاع دی اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْت))النحل: ۳۶(۔ ہم نے ہرامت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف ا للہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو)۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہر قوم پر یہ فرض کیا کہ اپنے رسولوں کی بات مانیں ، ان کی اطاعت کریں اور انہیں اپنا اسوہ تسلیم کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ )(النساء)۔ہم نے ہر ہر رسول کو صرف اسی لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے)۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ سے قبل جتنے بھی نبی بھیجے ہر ایک کے کچھ خاص ساتھی ، مددگار اورصحابہ ہوا کرتے تھے، جونبی کی باتوں کو مانتے اور ان کی سنت کو اپناتے تھے‘‘ (مسلم)۔ یعنی ہرزمانے کے انبیائے کرام کی امتوں پر فرض تھا کہ اپنے نبی کی باتوں پر ایمان لائیں اور ان کی اطاعت کریں جنہوں نے ایسا کیا وہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور جنہوں نے انبیائے کرام کی ہدایت اور ان کے طریقے کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا وہ مستحق ہلاکت قرار پائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اتباع سنت اور صحابہ وآئمہ کے اصول فقہ‘‘جوکہ وصی اللہ محمد عباس کی تصنیف کردا ہے ،جس میں انہوں نے اس موضوع کو قرآن وحدیث اور سلف وصالحین کے اقوال سے مرتب کیا ہے،اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(شعیب خان)

  • 6 #2301

    مصنف : قاری محمد موسیٰ

    مشاہدات : 7825

    اتباع سنت کی اہمیت اور فضیلت

    (بدھ 06 اگست 2014ء) ناشر : بشیر سنز ریل بازار گوجرانوالہ

    دین اسلام  میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اسی طرح فرض ہے  جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے  ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه  (سورہ نساء:80) جس نے  رسول  اللہﷺ کی اطاعت  کی اس  نے اللہ  کی اطاعت  کی ۔ اور  سورۂ محمد میں  اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ(سورہ محمد:33)اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ  اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو (اور اطاعت سے انحراف کر کے ) اپنے  اعمال ضائع نہ کرو۔اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش  نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے  میں صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث بڑی اہم ہے ۔ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’میر ی امت کے  سب لوگ جنت میں جائیں گے  سوائے  اس  شخص کے جس نے انکار کیا  تو صحابہ  کرام﷢ نے عرض کیا  انکار کس نے کیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا جس نے  میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا او رجس نے میر ی نافرمانی کی اس  نے انکار کیا ۔(صحیح بخاری :7280)گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباع سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں  سے  ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے  بلکہ یہ  دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی  چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے  اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔گویا اپنی پوری زندگی  میں خواہ انفرادی ہویا اجتماعی ،مسجد کے اندر ہویا مسجدکے باہر، بیوی بچوں کےساتھ ہو یا دوست احباب کے ساتھ  ،ہر وقت ،ہرجگہ سنت کی پیروی مطلوب ہے ۔محض عبادات کے چند مسائل  پرتوجہ دینا اور زندگی کے باقی معاملات میں سنت کی پیروی کو نظر انداز کردینا کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں کہلا سکتا۔زیر نظر کتاب ’’اتباع سنت کی اہمیت اورفضیلت‘‘ محترم  قاری محمد موسیٰ  کی  تصنیف ہے  ۔ جس میں انہوں نے  قرآنی آیا ت او ر احادیث کی روشنی میں سنت کی اہمیت کواجاگر کیا ہے ۔ اللہ تعالی  ان کی اس کاوش  کو قبول فرمائے ۔اور اہل اسلام کے لیے  اتباع رسولﷺکا ذریعہ بنائے (آمین )(م۔ا)

  • 7 #2928

    مصنف : جمیل احمد سکروڈوی

    مشاہدات : 10132

    اجمل الحواشی علی اصول الشاشی

    (جمعہ 06 فروری 2015ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟ قرآن اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ قرآن مجید، سنت اور حدیث میں سے کس ماخذ کو دین کا بنیادی اور کس ماخذ کو ثانوی ماخذ قرار دیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کو کیسے سمجھا جائے گا اور ان سے سنت کو کیسے اخذ کیا جائے گا؟ اگر قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر کوئی اختلاف نظر آئے یا دو احادیث میں ایک دوسرے سے بظاہر اختلاف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے اپنے اپنے اصول وضع کئے ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔اصول شاشى احناف كى اصول فقہ پر لکھی گئی مشہور كتابوں ميں سے ایک ہے اور اس كے مؤلف ابو على الشاشى احمد بن محمد بن اسحاق نظام الدين الفقيہ حنفى متوفى ( 344ھ )ہيں۔يہ امام ابو الحسن كرخى كے شاگرد ہيں، ان كى تعريف كرتے ہوئے كہتے ہيں: ابو على سے زيادہ حافظ ہمارے پاس كوئى نہيں آيا، شاشى بغداد ميں رہے اور وہيں تعليم حاصل كى۔چونکہ علماء احناف کے ہاں یہ کتاب اصول فقہ کے میدان میں ایک مصدر کی حیثیت رکھتی ہے ،چنانچہ انہوں نے اس کی متعدد شروحات بھی لکھی ہیں۔ جن میں سے "شرح مولى محمد بن الحسن الخوارزمى متوفى ( 781 ھ)،حصول الحواشى على اصول الشاشى از حسن ابو الحسن بن محمد السنبھلى الہندى ،عمدۃ الحواشى از مولى محمد فيض الحسن گنگوہى،تسھيل اصول الشاشى از شيخ محمد انور بدخشانى قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اجمل الحواشی علی اصول الشاشی "بھی اصول شاشی کی ایک عظیم الشان اردو شرح ہے،جو دار العلوم دیو بند کے استاذ مولانا جمیل احمد سکروڈوی صاحب کی تصنیف ہے۔اور سچی بات یہ ہے کہ اصول شاشی کی تفہیم میں یہ ایک منفرد اور مفید ترین شرح ہے،راقم جامعہ لاہور الاسلامیہ میں اصول شاشی کے مادہ کی تدریس کے دوران اس کتاب سے بھی استفادہ کرتا رہا ہے۔اصول فقہ کے طلباء اور اساتذہ کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔(راسخ)(اصول فقہ)

  • 8 #572

    مصنف : جلال الدین قاسمی

    مشاہدات : 6450

    احسن الجدال بہ جواب راہ اعتدال

    (ہفتہ 11 جنوری 2014ء) ناشر : جمعیت اہل حدیث حیدرآباد انڈیا

    حیدر آباد شہر(انڈیا)  کے مشہور دیو بندی عالم دین  مولانا خالد سیف اللہ رحمانی  صاحب نے  ’’’راہ  اعتدال‘‘کے  نام سے   ایک  کتاب لکھی،  جس  میں  انہوں نے  چند مشہور مسائل  تقلید ،  اما م ابو حنیفہ کا مقام ،قراءت خلف الامام ،رفع الیدین ،آمین بالجھر ،مصافحہ کا مسنون طریقہ، عورتوں اور مردوں کی نماز میں فرق ،خواتین کا مساجد میں آنا  وغیرہ  جیسے  موضوعات پر خامہ فرسائی فرمائی ،اور انہوں   نے ان مسائل میں اپنے مذہب کے اثبات میں  آیات  قرآنیہ کی تحریف سے بھی گریز نہیں کیا اور اپنے موقف کی تائید میں ہر ہر قدم پر روایات ضعیفہ کاسہارا لیا اور  غیر مقلدیت   کوگمراہی  کا دروازہ کہا جبکہ معاملہ اس کے بر عکس ہے ساری خرابیوں اورگمراہیوں کی جڑ تو تقلید ہے ۔ زیر نظر  کتا ب ’’احسن الجدال بہ جواب راہ اعتدال ‘‘مولانا  حافظ جلال الدین  قاسمی  فاضل  دار العلوم دیو بند﷾ کی اہم تالیف  ہے۔  جس میں   انہوں  نے رحمانی صاحب کی کتاب ’’ راہ اعتدال ‘‘کا تحقیقی جائزہ لیاہے   اوررحمانی  صاحب  کی بے اعتدالیوں کا خوب  محاسبہ کیا ہے۔ فاضل مصنف  ایک وسیع النظر عالم دین اورکئی کتب کے مصنف ہیں ۔آپ  کی کتابوں کو علمی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتاہے اللہ تعالی مصنف کی اس  کاوش کو شرف قبولیت بخشے  اور اس کتاب کومفید عوام وخواص بنائے (آمین)(م۔ا)
     

  • 9 #5148

    مصنف : محمد علی جانباز

    مشاہدات : 2764

    احکام سفر

    (ہفتہ 11 فروری 2017ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    سفر انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے،جس کے بغیر کوئی بھی اہم مقصد حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔انسان متعدد مقاصد کے تحت سفر کرتا ہے اور دنیا میں گھوم پھر کر اپنے مطلوبہ فوائد حاصل کرتا ہے۔اسلام دین فطرت ہے جس نے ان انسانی ضرورتوں اور سفر کی مشقتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بعض رخصتیں اور گنجائشیں  دی ہیں۔مثلا مسافر کو حالت سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے ،جس کی بعد میں وہ قضاء کر لے گا۔اسی طرح مسافر کو نماز قصر ونماز جمع پڑھنے کی رخصت دی گئی ہے کہ وہ  چار رکعت والی نماز کو دو رکعت کر کے  اور دو دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھ سکتا ہے۔اسی طرح  سفر کے اور بھی متعدد احکام ہیں جو مختلف کتب فقہ میں بکھرے پڑے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  " احکام سفر " شیخ الحدیث  مولانا محمد علی جانباز صاحب کی تصنیف ہے، جس  میں انہوں نے  سفر کی مختلف اقسام بیان کرتے ہوئے ان  کے شرعی  احکام کو بیان کیا ہے ۔ نیز اس سفر میں نماز کی ادائیگی کے مسائل مثلا یہ کہ نماز قصر کب ہو گی اور کتنے دنوں تک ہو گی اور کیا سواری پر نماز ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں کی جا سکتی ہے وغیرہ وغیرہ جیسے مسائل تفصیل سے بیان فرمائے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 10 #8065

    مصنف : محمد زبد الحق برکاتی مصباحی

    مشاہدات : 403

    احکام میں عرف و تعامل کی حیثیت

    (جمعرات 02 جنوری 2020ء) ناشر : فلاح ریسرچ فاؤنڈیشن انڈیا

    فقہ اسلامی  کا ایک  اہم ماخذ او رسرچشمہ عرف و عادت ہے ۔عرف سے مراد وہ  قول  یا فعل ہے  جو کسی ایک معاشرہ کےیا تمام معاشروں کے تمام    لوگوں میں  روا ج  پاجائے ۔اور وہ اس کے مطابق چل رہے ہوں۔فقہاء کے نزدیک  عرف وعادت دونوں کے  ایک ہی معنیٰ ہیں ۔عرف  شریعت اسلامیہ میں  معتبر  ہے او ر اس پر احکام کی بنیاد رکھنا درست ہے ۔کتب فقہ میں  اس کی حجیت اور اقسام وغیرہ کے حوالے سے تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’ احکام میں عروف وتعامل کی حیثیت ‘‘   علامہ سید محمد امین المعروف ابن عابدین شامی       کے ’’ مجموعہ رسائل‘‘  میں  سے  ایک رسالہ   نشر العرف في بناء الأحكام على العرف  کا اردو ترجمہ ہے۔اس  رسالہ میں میں  علامہ ابن عابدین نے  یہ  ثابت کیا ہے کہ  بہت سے مسائل شرعیہ کی بنیاد عرف  پرہے  نیز کن مسائل میں عرف کا اعتبار ہے اور کن لوگوں کاعرف معتر  ہے۔یہ رسالہ  تخصص فی الفقہ کے طلباء  اور مفتیان کرام کےلیے بہت مفید ہے ۔جناب مولانا  محمد زبد الحق برکاتی نے اسے اردو  قالب میں ڈالا ہے ۔(م۔ا)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1241
  • اس ہفتے کے قارئین 3167
  • اس ماہ کے قارئین 41561
  • کل قارئین49276168

موضوعاتی فہرست