کل کتب 17

دکھائیں
کتب
  • 1 #5154

    مصنف : شعبہ تصنیف و تالیف دار السلام

    مشاہدات : 4149

    استغفار و تعوذ فضائل ، فوائد و ثمرات قرآن و حدیث کی روشنی میں

    (منگل 14 فروری 2017ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    اللہ تعالیٰ نے توبہ واستغفار کا دروازہ کھلا رکھا ہے جب تک انسان کاآخری وقت نہیں آجاتا وہ توبہ کرسکتا ہے اوراس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے لیکن جب آخری لمحات آجائیں موت سامنے نظر آنے لگے جب انسان کو یقین ہوجائے کہ بس اب وقت آگیا ہے اس وقت اگر وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے تو اس کی اس توبہ کا کوئی اعتبار نہیں یا اس وقت کی توبہ قابل قبول نہیں۔انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور استغفار کرتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں۔ نبی کریمﷺ خو د ایک دن سو سے زائد مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے ۔استغفار کرنے سے انسان کے تمام چھوٹے بڑے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں جن کو انسان شمار بھی نہیں کر سکتا،لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس ان گناہوں کا پورا پورا ریکارڈ ہوتا ہے،جبکہ انسان بھول جاتا ہے۔استغفار کرنا نبی کریمﷺ کی اقتداء اور پیروی کا اظہار ،کیونکہ نبی کریمﷺ کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے۔اور استغفار گناہوں سے بچنے اور اطاعت کرنے میں کوتاہی کا اعتراف ہے،کیونکہ جب انسان اپنی کوتاہی کا اعتراف کر لیتا ہے تب وہ زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کرتا ہے اورنیک اعمال کر کے اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کوشش کرتا ہے۔ استغفار دل کی سلامتی اور صفائی کا ذریعہ ہے۔کیونکہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ان العبد اذا أخطا خطیئة نکتت فی قلبه نکتة سوداء ،فان هو نزع واستغفر وتاب،صقل قلبه ‘‘(رواہ الترمذی)’’جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے،اگر انسان اس گناہ کو چھوڑ دے اور اس پر توبہ واستغفار کرے تو اس کے دل کودھو کر چمکا دیا جاتا ہے۔‘‘ حضرت شداد بن اوس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص یقین کامل کے ساتھ صبح کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی دن شام سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا،اسی طرح جو شخص یقین کامل کے ساتھ مغرب کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی رات صبح سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا۔سید الاستغفار یہ ہے: "اللھم أنت ربی لااله الا أنت،خلقتنی وأنا عبدک ،وأنا علی عهدك ووعدک مااستطعت،أعوذبک من شر ما صنعت ، أبوء لک بنعمتک علی وأبوء بذنبی ،فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا أنت [رواہ مسلم] ’’اے اللہ تو ہی میرا رب ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوںجس قدرطاقت رکھتا ہوں،میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوںاور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں،پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔‘‘ زير تبصره كتاب ’’ استغفار وتعوذ فضائل وثمرات ‘‘ اشاعت کتب کے انٹرنیشنل ادارے ، دار السلام کے سکالر زکی مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں میں انہوں نےاستغفار کی اہمیت وضرورت، استغفار کی قرآنی ونبوی دعائیں ، استغفار کے مستحب اوقات ومواقع ،استغفار کے فوائد وثمرات کو بیان کیا ہے اور دوسرے حصے میں تعوذ کی ضرروت واہمیت ، قرآنی تعوذ تعوذ کےمستحب اوقات کو قرآن واحادیث کی روشنی میں آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 2 #5595

    مصنف : محمد بن ابراہیم الحمد

    مشاہدات : 2656

    اسلام میں توبہ کی اہمیت و فضیلت اور اس کا طریقہ

    (پیر 07 اگست 2017ء) ناشر : المکتب التعاونی للدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات، ریاض
  • 3 #3360

    مصنف : ابن ابی الدنیا

    مشاہدات : 3203

    اللہ تعالی کی بخشش کے انداز

    (پیر 27 جولائی 2015ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    قرآن مجید میں ہے کہ اللہ کریم محتاج بندے کو ایسی جگہ سے رزق عطاکرتے ہیں جہاں سے اس کاگمان بھی نہیں ہوتا۔ بالکل ایسے ہی اللہ کریم اپنے موحد مگر گناہ گار بندوں کوبخشنے کےسامان وذرائع ایسے مقامات سے پیدا کرتے ہیں کہ بندے کا ذہن کبھی اس طرف گیا ہی نہیں ہوتا۔ بندہ گناہ کرتا ہے ،نافرمانیاں کرتا ہے مگر اللہ ارحم الراحمین اس سے اتنا پیارکرتا ہے کہ کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر اس کو معاف کرتا رہتا ہے۔ اس کے گناہ معاف کر کے درجات بلند کرتا رہتا ہے ۔اس کودنیا میں بھی کامیابیاں عطا کرتا ہے اور آخرت میں اپنی رضا وخوشنودی کاسرٹیفکیٹ عطا کر کے جنتوں میں داخل کر دیتا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اللہ تعالیٰ کی بخشش کے انداز ‘‘علامہ ابن ابی الدنیا کی عربی کتاب ’’المرض والکفارات‘‘ کا سلیس ورواں اردو ترجمہ ہے ۔مترجم کتاب جناب حافظ فیض اللہ ناصر ﷾(فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) نے ترجمہ کےعلاوہ اصل کتاب میں مزید اضافہ جات ، مقدمہ اور پھر مزید مفید وضاحتیں لکھ کر کتاب کو چار چاند لگا دیے ہیں۔موصوف اس کتاب کےعلاوہ کی کئی کتب کےمترجم ومصنف ہیں۔ اس کتاب میں اللہ تعالیٰٰکےایسے دلربا اندازوں اور طریقوں کا تفصیلی بیان ہےکہ جن کے ذریعہ اللہ کریم بندے کوبخش دیتا ہے۔ مثلاً اگر کسی بندہ کوکوئی تکلیف پہنچی آزمائش آگئی حتیٰ کہ کبھی بخار ہی ہوگیا تو اللہ کریم بخار سے پہنچنے والی اس کی تکلیف کا بہانہ بنا کر اس کو بخش دیتے ہیں۔ اس کتاب میں ایسے ہی اللہ کریم کی بخشش کےکتنے ہی دلربا انداز پیش کیے گئے کہ آپ انہیں پڑھ عش عش کر اٹھیں گے ۔یہ کتاب ہر مریض ، میڈیکل سٹوڈنٹ یا ڈاکٹڑ وحکیم اور طبیب کےلیے ایک خاص تحفہ ہے جبکہ عام لوگوں بیمار وپریشان اور مصیبتوں میں پھنسے افراد کےلیے مشعل راہ اور دنیاوی واُخروی کامیابی کی نوید بہار ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اوراس کتاب کوعوام الناس کےلیے مفید بنائے (آمین)(م۔ا)

  • 4 #803

    مصنف : محمد بشیر الطیب بن عطاء اللہ

    مشاہدات : 3527

    بخشش کی راہیں

    (پیر 27 جنوری 2014ء) ناشر : مکتبہ حسین محمد بادامی باغ لاہور

    بند ہ مومن خطاکار  تو ہے ہی  ،لیکن اسلامی تعلیمات کے مطابق  بہترین خطا کار وہ  ہوتا ہے  جو اپنی  خطاؤں کو اللہ تعالیٰ سے  معاف کروانے کے  لیے  ہر دم فکر مند رہتاہے اور اس  کے لیے  عملی طور  پر جدوجہد بھی   کرتا ہے  تاکہ  اس کے گناہ مٹ جائیں  او راللہ اس پر راضی ہوجائے ۔مومن جب اپنی  خطاؤں کی طرف دیکھتا ہے او ردوسری طرف اسے اللہ کے عذاب کا ڈر بھی  ہوتاہے  تو  وہ  اللہ   تعالیٰ کی طرف  رجوع کرتا ہے  او ر ان نیک اعمال کو بجا لاتا ہے جو اس  کے گناہوں کاکفارہ بن جاتے ہیں  ،کیونکہ نیک اعمال ہی وہ چیز ہیں جنہیں  اخلاص ومحبت کے ساتھ سرانجام دیا جائے  تواللہ  تعالیٰ ان کے ذریعے  خطا کار انسان کی خطاؤں کو معاف فرمادیتا ہے  فرمان الٰہی  ہے  ( ان الحسنات یذهبن  السیات) (هود:114)زيرنظر کتاب  ’’بخشش کی راہیں ‘‘ اسی موضو ع  کے متعلق آیات واحادیث کا گراں قدر مجموعہ ہے،  جس میں مسلم معاشرہ میں  سرزد ہونے والے گناہوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ  توبہ او راعمال صالحہ کے ذریعے انہیں  معاف کروانے  کا  حل بھی  پیش کیا گیا ہے۔  فاضل مصنف نے  پچاس کے قریب ایسے اعمال ذکر کئے ہیں  جو کتاب وسنت کی روشنی میں   گناہوں کاکفارہ بن سکتے ہیں۔  اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ قرآن وسنت کے دلائل سے مزین ہے  اوراپنے  موضوع کے اعتبار  سے بہت اہم ہے ۔ عوام وخواص کے لیے  یکساں مفید ہے۔  اسے ہر دردمند مسلمان کے پاس ہونا  چاہیے۔  اللہ تعالیٰ  مصنف کی اس کوشش کو دنیا میں شرف قبولیت سے نوازے  اور ان کے لیے  سرمایہ آخرت  بنائے۔ (آمین)(م۔ا)
     

  • 5 #3038

    مصنف : حافظ محمد منشا بن جمال الدین

    مشاہدات : 1378

    بخشش کی راہیں ( حافظ محمد منشاء )

    (منگل 31 مارچ 2015ء) ناشر : فاروقی کتب خانہ، لاہور

    انسان   کی خصلت  ہے کہ  وہ  نسیان  سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت  وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے  گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے  کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے  توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے  معبود ومالک   کی ناراضگی  کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ  کریم  کے دربار میں  حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے  کا پکا عزم کرتےہوئے  توبہ کرتا ہے کہ اے  مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے  آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے  احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل  ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں  کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ  ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی  اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم  اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے  دنیاوالو! ہےکوئی  جو مجھ سے اپنے گناہوں کی  مغفرت طلب کرے ... ہے  کوئی توبہ کرنے  والا میں اسے  ا پنی  رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے  خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے  قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں  بھر زندگی  سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں ۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ  حضرتِ انسان پر بہت بڑا احسان کیا کہ انسان سے  سرزد ہونے والے گناہوں کی معافی کے لیے  ایسے نیک اعمال  کی  کی ترغیب دلائی ہے   کہ جس کے کرنے سےانسان کے زندگی بھر  کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔احادیث مبارکہ  میں ان  اعمال کی تفصیل موجود ہے  اور بعض  اہل  علم نے  اس موضوع پر مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ کتاب ہذا ’’ بخش کی راہیں‘‘ حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کی  مختصر اور انتہائی جامع تصنیف ’’الخصال المفکرۃ للذنوب المتقدمۃ والمتاخرۃ‘‘ کا ترجمہ ہے ۔ اس مختصر رسالے  میں  حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ نے صرف وہ احادیث مبارکہ جمع فرمائی ہیں جن میں بطور خاص کسی نیک عمل کےانجام دینے پر اگلے اور پچھلے گناہوں کی بخشش کا ذکر ہے ۔کتاب کو اردو قالب میں مولانا حافظ محمد منشاء صاحب نے  ڈھالا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو   لوگوں کےلیے  گناہوں سے بچنے کا  ذریعے بنائے اور مصنف ومترجم اور ناشر کی  اس کا وش کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • 6 #4940

    مصنف : محمد بن صالح العثیمین

    مشاہدات : 2273

    تقویٰ کے ثمرات اور سعادت مند زندگی کے اسباب

    (جمعرات 08 دسمبر 2016ء) ناشر : مکتبہ رشیدیہ سلفیہ سمندری فیصل آباد

    تقویٰ کا مطلب ہے پیرہیز گاری ، نیکی اور ہدایت کی راہ۔ تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہو جانے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجک معلوم ہونے لگتی ہے اور نیک کاموں کی طرف اس کو بے تاہانہ تڑپ ہوتی ہے۔ ۔ اللہ تعالیٰ کو تقوی پسند ہے۔ ذات پات یا قومیت وغیرہ کی اس کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے قابل عزت و احترام وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ ۔ تقویٰ دینداری اور راہ ہدایت پر چلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ بزرگانِ دین کا اولین وصف تقویٰ رہا ہے۔ قرآن پاک متقی لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے۔افعال و اقوال کے عواقب پر غوروخوض کرنا تقویٰ کو فروغ دیتا ہے۔اور روزہ تقویٰ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ روزے، خدا ترسی کی طاقت انسان کے اندر محکم کر دیتے ہیں۔ جس کے باعث انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی عزت اور عظمت اس کے دل میں ایسی جاگزیں ہو جاتی ہے کہ کوئی جذبہ اس پر غالب نہیں آتا اور یہ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے حکم کی وجہ سے حرام ناجائزاور گندی عادتیں چھوڑ دے گا اور ان کے ارتکاب کی کبھی جرات نہ کرے گا۔ تقویٰ اصل میں وہ صفت عالیہ ہے جو تعمیر سیرت و کردار میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ عبادات ہوں یا اعمال و معاملات۔ اسلام کی ہر تعلیم کا مقصود و فلسفہ، روحِ تقویٰ کے مرہون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر تقویٰ اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ خوفِ الٰہی کی بنیاد پر حضرت انسان کا اپنے دامن کا صغائر و کبائر گناہوں کی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کا نام تقویٰ ہے۔اور اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کاہر کام گناہ کہلاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تقویٰ کے ثمرات اور سعادت مند زندگی کےاسباب ‘‘ عربی کےدو مختلف رسالوں کااردو ترجمہ ہے پہلا رسالہ ’’من ثمرات التقویٰ شیخ صالح العثمین کا ہے۔ اس میں انہوں نےپہلے تقویٰ کی اہمیت بیان کی تقویٰ، کےمتعلق سلف صالحین کی وصیتوں کا تذکرہ کیا اور علمائے سلف کے اقوال کی روشنی میں تقویٰ کامفہوم واضح کیا ہے۔ اس کےبعد انہوں نےزیادہ ترقرآنی آیات کی روشنی میں تقویٰ کے معاشی، معاشرتی، اخلاقی، دینی دنیا وی اوراخروی چھیالیس ثمرات ذکر کیے ہیں۔اس کتاب کا دوسرا حصہ شیخ عبدالرحمٰن ناصر السعدی﷫ کے تحریر کردہ عربی رسالہ ’’ الوسائل المفیدہ للحیاۃ السعیدۃ‘‘ کاترجمہ ہے۔ ا اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے اور ہمیں تقوی ٰ اختیار کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق دے (آمین) (م۔ ا)

  • 7 #3523

    مصنف : محمد خالد سیف

    مشاہدات : 6151

    توبہ (فضائل و احکام اور سچے واقعات)

    (پیر 17 اگست 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں. زیر تبصرہ کتاب ’’توبہ۔۔۔ فضائل و احکام اور سچے واقعات‘‘ پاکستان کے نامور دینی سکالر مولانا محمد خالد سیف﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں   عام فہم شگفتہ اسلوب میں توبہ کے معانی ومفاہیم اجاگر کیے ہیں ۔ توبہ کی ضرورت اوراہمیت کا احساس دلایا ہے توبہ کی شرائط بتلائی ہیں۔ توبہ کے تمام احکام اور مسائل نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ کے حوالوں سےثابت کیا ہے کہ توبہ ہی دین کی اصل حقیقت ،انبیائے کرام کا وظیفۂ خاص اور فوز وفلاح کا ابدی سرچشمہ ہے مصنف موصوف نے حضرت آدم ،حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس ﷩ کی توبہ کے واقعات کے علاوہ صحابۂ کرام کی توبہ کےاحوال نہایت اثر انگیز پیرائے میں بیان فرمائے ہیں ۔انہوں نے ہر صاحب ایمان کو ترغیب دی ہے کہ وہ توبہ استغفار کا خاص اہتمام اورالتزام کریں۔ اللہ رب العزت نہایت کریم اور رحیم ہے جو شخص گناہوں سےباز رہنےکا پکا ارادہ کرکے سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اہمیت کی حامل ہے ہر مسلمان مرد اور عورت کو نہایت توجہ سے پڑھنی چاہیے ان شاء اللہ اس سے توبہ کی توفیق ملےگی دل کی دنیا بدلے گی ، قدم صراطِ مستقیم پر چل پڑیں گے۔ اوران تمام مصائب ومکروہات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جنہوں نے آج ہمیں اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔ (م۔ا)

  • 8 #1158

    مصنف : ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

    مشاہدات : 19331

    توبہ مگر کیسے؟

    (جمعہ 25 مئی 2012ء) ناشر : انصار السنہ پبلیکیشنز لاہور

    اللہ تعالیٰ کو وہ بندے بے حد پسند ہیں جو گناہ کرنے کے بعد خدا تعالیٰ کے سامنے اپنی جبین نیاز کو جھکا دیتے ہیں۔ گناہ ہو جانا ایک فطری عمل ہے لیکن ایک مسلمان کا یہ وطیرہ ہونا چاہئے کہ وہ گناہ کے فوراً بعد اللہ سے رجوع کرے۔ اور گناہوں پر اکڑفوں کا مظاہرہ نہ کرے۔ ’توبہ مگر کیسے؟‘ میں بڑے عمدہ سلیقے سے کتاب وسنت کی نصوص کی روشنی میں توبہ کی تعریف، فضیلت و اہمیت، شرائط، فوائد، گناہوں سے بچاؤ کی تدابیر اور گناہوں کے نقصانات، تائبین کے درجات اور ان کے سچے واقعات اور چند ایک اذکار مسنونہ جمع کر دئیے گئے ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 9 #6018

    مصنف : ذکاء اللہ بن محمد حیات

    مشاہدات : 2540

    توبہ و استغفار کے فوائد

    (منگل 10 اکتوبر 2017ء) ناشر : دار الکتب الاسلامیہ، حافظ آباد

    یہ حقیقت ہے کہ ہر انسان خطا کاپتلا ہے‘ کوئی بھی پارسائی اور پاکدامنی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔تمام اولاد آدم(ما سوائے حضرات انبیاء کرام) سے گناہوں‘ خطاؤں اور غلطیوں کا سر زد ہونا ممکن ہے لیکن سب سے بہترین انسان وہ ہے جو غلطی کے ندامت کا اظہار کرتا ہے‘ اپنے خالق حقیقی کے در پر آکر دو چار آنسو گراتا ہے اور اپنے مالک کے سامنے گڑ گڑاتےہوئے صدق دل سے توبہ واستغفار کرتا ہے۔ ایسا انسان سب سے بہترین ہے جو غلطی کے بعد صدق دل سے توبہ کرتا ہے۔دنیا میں بسنے والے خاکی حضرات کو منانا تو مشکل ہو سکتا ہے مگر اللہ رب العزت کو راضی کرنا مشکل نہیں ہے۔اور خود اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر توبہ واستغفار کرنے کاحکم دیا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب’’توبہ واستغفار کے فوائد‘‘ اسی موضوع کو اُجاگر کرنے کےلیے تصنیف کیا گیا ہے۔ اس میں توبہ و استغفار کی اہمیت اور فوائد کو واضح کرنے کے لیے قرآن وحدیث کی نصوص اور ائمہ ومفسرین کے اقوال‘ گلدستہ کی صورت میں قارئین کی خدمت میں پیش کیے گئے ہیں اور اس کتاب کو مصنف نے بڑی محنت اور عرق ریزی کے ساتھ تصنیف کیا ہے۔ اس کتاب میں توبہ واستغفار کی لغوی واصطلاحی معانی بیان کر کے ان میں فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ توبہ کی شرائط کو درج کر کے توبہ و استغقار کی اہمیت کو اُجاگر کیا گیا ہے اور مختلف مقامات پر استغفار کی کیفیت اور اس کا اثبات بھی بیان کیا گیا ہے اور توبہ کے ثمرات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب کے مؤلف جناب ذکاء اللہ بن محمد حیات﷾ ہیں جو کہ تالیف وتصنیف میں ایک عمدہ ذوق وشوق رکھتے ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

  • 10 #1572

    مصنف : شفیق الرحمٰن الدراوی

    مشاہدات : 19995

    توبہ وتقویٰ اسباب، وسائل اور ثمرات

    (منگل 28 اگست 2012ء) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ

    جب سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو وجود بخشا ہے تب ہی سے اس سے غلطیاں سرزد ہونے کا بھی آغاز ہو گیا۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر خاص رحمت ہے کہ اس نے غلطی اور گناہ کرنے والےکو فوراً اس کی سزا نہیں دی بلکہ گناہ کے بعد توبہ کرلینے اور معافی مانگ لینے والے کے لیے اس کی غلطیوں کو نیکیوں میں بدلنے کا وعدہ کیا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب ایسے لوگوں، جو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہمارے گناہ اس قدر زیادہ ہیں کہ اب واپسی کی گنجائش باقی نہیں رہی اور وہ اسی بدگمانی میں گناہ پر گناہ کیے جا رہے ہیں کہ اب ذلت ہمارا مقدر بن چکی ہے، توبہ کرنے اور متقیوں کو تقویٰ پر استقامت کے لیے سیدھی راہ دکھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ کتاب میں فاضل مؤلف ابو شرحبیل شفیق الرحمٰن نے پہلے گناہ، اس کی اقسام اور اس کے انسانی نفس اور کائنات میں واقع ہونے والے برے اثرات کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد توبہ و استغفار کے فوائد، اس کے شروط و احکام اور توبہ و استغفار کے درمیان فرق بیان کیا ہے۔ پھر اس کے بعد تقویٰ، اس کی اہمیت اور احکام و مسائل ذکر کیے ہیں۔ اس کے بعد نیک اعمال کی حفاظت کے بارے میں کچھ نگارشات بیان کی گئی ہیں۔  (ع۔م)
     

< 1 2 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1327
  • اس ہفتے کے قارئین 14966
  • اس ماہ کے قارئین 53360
  • کل قارئین49438380

موضوعاتی فہرست