دکھائیں کتب
  • اللہ تعالیٰ نے توبہ واستغفار کا دروازہ کھلا رکھا ہے جب تک انسان کاآخری وقت نہیں آجاتا وہ توبہ کرسکتا ہے اوراس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے لیکن جب آخری لمحات آجائیں موت سامنے نظر آنے لگے جب انسان کو یقین ہوجائے کہ بس اب وقت آگیا ہے اس وقت اگر وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے تو اس کی اس توبہ کا کوئی اعتبار نہیں یا اس وقت کی توبہ قابل قبول نہیں۔انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور استغفار کرتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی...

  • 3 اللہ تعالی کی بخشش کے انداز (پیر 27 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2480

    قرآن مجید میں ہے کہ اللہ کریم محتاج بندے کو ایسی جگہ سے رزق عطاکرتے ہیں جہاں سے اس کاگمان بھی نہیں ہوتا۔ بالکل ایسے ہی اللہ کریم اپنے موحد مگر گناہ گار بندوں کوبخشنے کےسامان وذرائع ایسے مقامات سے پیدا کرتے ہیں کہ بندے کا ذہن کبھی اس طرف گیا ہی نہیں ہوتا۔ بندہ گناہ کرتا ہے ،نافرمانیاں کرتا ہے مگر اللہ ارحم الراحمین اس سے اتنا پیارکرتا ہے کہ کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر اس کو معاف کرتا رہتا ہے۔ اس کے گناہ معاف کر کے درجات بلند کرتا رہتا ہے ۔اس کودنیا میں بھی کامیابیاں عطا کرتا ہے اور آخرت میں اپنی رضا وخوشنودی کاسرٹیفکیٹ عطا کر کے جنتوں میں داخل کر دیتا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اللہ تعالیٰ کی بخشش کے انداز ‘‘علامہ ابن ابی الدنیا کی عربی کتاب ’’المرض والکفارات‘‘ کا سلیس ورواں اردو ترجمہ ہے ۔مترجم کتاب جناب حافظ فیض اللہ ناصر ﷾(فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) نے ترجمہ کےعلاوہ اصل کتاب میں مزید اضافہ جات ، مقدمہ اور پھر مزید مفید وضاحتیں لکھ کر کتاب کو چار چاند لگا دیے ہیں۔موصوف اس کتاب کےعلاوہ کی کئی کتب کےمترجم ومصنف ہیں۔ اس کتاب میں اللہ تعالیٰٰکےایسے دلربا اندازوں اور طریقوں کا تفصیلی بیان ہےکہ جن کے ذریعہ اللہ کریم بندے کوبخش دیتا ہے۔ مثلاً اگر کسی بندہ کوکوئی تکلیف پہنچی آزمائش آگئی حتیٰ کہ کبھی بخار ہی ہوگیا تو اللہ کریم بخار سے پہنچنے والی اس کی تکلیف کا بہانہ بنا کر اس کو بخش دیتے ہیں۔ اس کتاب میں ایسے ہی اللہ کریم کی بخشش کےکتنے ہی دلربا انداز پیش کیے گئے کہ آپ انہیں پڑھ عش عش کر اٹھیں گے ۔یہ کت...

  • 4 بخشش کی راہیں (پیر 27 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:3112

    بند ہ مومن خطاکار  تو ہے ہی  ،لیکن اسلامی تعلیمات کے مطابق  بہترین خطا کار وہ  ہوتا ہے  جو اپنی  خطاؤں کو اللہ تعالیٰ سے  معاف کروانے کے  لیے  ہر دم فکر مند رہتاہے اور اس  کے لیے  عملی طور  پر جدوجہد بھی   کرتا ہے  تاکہ  اس کے گناہ مٹ جائیں  او راللہ اس پر راضی ہوجائے ۔مومن جب اپنی  خطاؤں کی طرف دیکھتا ہے او ردوسری طرف اسے اللہ کے عذاب کا ڈر بھی  ہوتاہے  تو  وہ  اللہ   تعالیٰ کی طرف  رجوع کرتا ہے  او ر ان نیک اعمال کو بجا لاتا ہے جو اس  کے گناہوں کاکفارہ بن جاتے ہیں  ،کیونکہ نیک اعمال ہی وہ چیز ہیں جنہیں  اخلاص ومحبت کے ساتھ سرانجام دیا جائے  تواللہ  تعالیٰ ان کے ذریعے  خطا کار انسان کی خطاؤں کو معاف فرمادیتا ہے  فرمان الٰہی  ہے  ( ان الحسنات یذهبن  السیات) (هود:114)زيرنظر کتاب  ’’بخشش کی راہیں ‘‘ اسی موضو ع  کے متعلق آیات واحادیث کا گراں قدر مجموعہ ہے،  جس میں مسلم معاشرہ میں  سرزد ہونے والے گناہوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ  توبہ او راعمال صالحہ کے ذریعے انہیں  معاف کروانے  کا  حل بھی  پیش کیا گیا ہے۔  فاضل مصنف نے  پچاس کے قریب ایسے اعمال ذکر کئے ہیں  جو کتاب وسنت کی روشنی میں   گناہوں کاکفارہ بن سکتے ہیں۔  اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ قرآن وسنت کے دلائل سے مزین ہے  اوراپنے  موضوع کے اعت...

  • 5 بخشش کی راہیں ( حافظ محمد منشاء ) (منگل 31 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1040

    انسان   کی خصلت  ہے کہ  وہ  نسیان  سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت  وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے  گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے  کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے  توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے  معبود ومالک   کی ناراضگی  کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ  کریم  کے دربار میں  حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے  کا پکا عزم کرتےہوئے  توبہ کرتا ہے کہ اے  مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے  آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے  احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل  ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں  کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ  ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی  اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم  اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے  دنیاوالو! ہےکوئی  جو مجھ سے اپنے گناہوں کی  مغفرت طلب کرے ... ہے  کوئی توبہ کرنے  والا میں اسے  ا پنی  رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے  خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے  قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں&...

  • 6 تقویٰ کے ثمرات اور سعادت مند زندگی کے اسباب (جمعرات 08 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1671

    تقویٰ کا مطلب ہے پیرہیز گاری ، نیکی اور ہدایت کی راہ۔ تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہو جانے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجک معلوم ہونے لگتی ہے اور نیک کاموں کی طرف اس کو بے تاہانہ تڑپ ہوتی ہے۔ ۔ اللہ تعالیٰ کو تقوی پسند ہے۔ ذات پات یا قومیت وغیرہ کی اس کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے قابل عزت و احترام وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ ۔ تقویٰ دینداری اور راہ ہدایت پر چلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ بزرگانِ دین کا اولین وصف تقویٰ رہا ہے۔ قرآن پاک متقی لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے۔افعال و اقوال کے عواقب پر غوروخوض کرنا تقویٰ کو فروغ دیتا ہے۔اور روزہ تقویٰ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ روزے، خدا ترسی کی طاقت انسان کے اندر محکم کر دیتے ہیں۔ جس کے باعث انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی عزت اور عظمت اس کے دل میں ایسی جاگزیں ہو جاتی ہے کہ کوئی جذبہ اس پر غالب نہیں آتا اور یہ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے حکم کی وجہ سے حرام ناجائزاور گندی عادتیں چھوڑ دے گا اور ان کے ارتکاب کی کبھی جرات نہ کرے گا۔ تقویٰ اصل میں وہ صفت عالیہ ہے جو تعمیر سیرت و کردار میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ عبادات ہوں یا اعمال و معاملات۔ اسلام کی ہر تعلیم کا مقصود و فلسفہ، روحِ تقویٰ کے مرہون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر تقویٰ اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ خوفِ الٰہی کی بنیاد پر حضرت انسان کا اپنے دامن کا صغائر و کبائر گناہوں کی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کا نام تقویٰ ہے۔اور اللہ اور اس...

  • 7 توبہ (فضائل و احکام اور سچے واقعات) (پیر 17 اگست 2015ء)

    مشاہدات:4967

    انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں. زیر تبصرہ کتاب ’’توبہ۔۔۔ فضائل و احکام اور سچے واقعات‘‘ پاکستان کے نامور دینی سکالر مولانا محمد خالد سیف﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں   عام فہم شگفتہ اسلوب میں توبہ کے معانی ومفاہیم اجاگر کیے ہیں ۔ توبہ کی ضرورت اوراہمیت کا احساس دلایا ہے توبہ کی شرائط بتلائی ہیں۔ توب...

  • 8 توبہ مگر کیسے؟ (جمعہ 25 مئی 2012ء)

    مشاہدات:18946

    اللہ تعالیٰ کو وہ بندے بے حد پسند ہیں جو گناہ کرنے کے بعد خدا تعالیٰ کے سامنے اپنی جبین نیاز کو جھکا دیتے ہیں۔ گناہ ہو جانا ایک فطری عمل ہے لیکن ایک مسلمان کا یہ وطیرہ ہونا چاہئے کہ وہ گناہ کے فوراً بعد اللہ سے رجوع کرے۔ اور گناہوں پر اکڑفوں کا مظاہرہ نہ کرے۔ ’توبہ مگر کیسے؟‘ میں بڑے عمدہ سلیقے سے کتاب وسنت کی نصوص کی روشنی میں توبہ کی تعریف، فضیلت و اہمیت، شرائط، فوائد، گناہوں سے بچاؤ کی تدابیر اور گناہوں کے نقصانات، تائبین کے درجات اور ان کے سچے واقعات اور چند ایک اذکار مسنونہ جمع کر دئیے گئے ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 9 توبہ و استغفار کے فوائد (منگل 10 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:1735

    یہ حقیقت ہے کہ ہر انسان خطا کاپتلا ہے‘ کوئی بھی پارسائی اور پاکدامنی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔تمام اولاد آدم(ما سوائے حضرات انبیاء کرام) سے گناہوں‘ خطاؤں اور غلطیوں کا سر زد ہونا ممکن ہے لیکن سب سے بہترین انسان وہ ہے جو غلطی کے ندامت کا اظہار کرتا ہے‘ اپنے خالق حقیقی کے در پر آکر دو چار آنسو گراتا ہے اور اپنے مالک کے سامنے گڑ گڑاتےہوئے صدق دل سے توبہ واستغفار کرتا ہے۔ ایسا انسان سب سے بہترین ہے جو غلطی کے بعد صدق دل سے توبہ کرتا ہے۔دنیا میں بسنے والے خاکی حضرات کو منانا تو مشکل ہو سکتا ہے مگر اللہ رب العزت کو راضی کرنا مشکل نہیں ہے۔اور خود اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر توبہ واستغفار کرنے کاحکم دیا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب’’توبہ واستغفار کے فوائد‘‘ اسی موضوع کو اُجاگر کرنے کےلیے تصنیف کیا گیا ہے۔ اس میں توبہ و استغفار کی اہمیت اور فوائد کو واضح کرنے کے لیے قرآن وحدیث کی نصوص اور ائمہ ومفسرین کے اقوال‘ گلدستہ کی صورت میں قارئین کی خدمت میں پیش کیے گئے ہیں اور اس کتاب کو مصنف نے بڑی محنت اور عرق ریزی کے ساتھ تصنیف کیا ہے۔ اس کتاب میں توبہ واستغفار کی لغوی واصطلاحی معانی بیان کر کے ان میں فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ توبہ کی شرائط کو درج کر کے توبہ و استغقار کی اہمیت کو اُجاگر کیا گیا ہے اور مختلف مقامات پر استغفار کی کیفیت اور اس کا اثبات بھی بیان کیا گیا ہے اور توبہ کے ثمرات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب کے مؤلف جناب ذکاء اللہ بن محمد حیات﷾ ہیں جو کہ تالیف وتصنیف میں ایک عمدہ ذوق وشوق رکھتے ہیں۔دعا ہے کہ...

  • 10 توبہ وتقویٰ اسباب، وسائل اور ثمرات (منگل 28 اگست 2012ء)

    مشاہدات:19554

    جب سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو وجود بخشا ہے تب ہی سے اس سے غلطیاں سرزد ہونے کا بھی آغاز ہو گیا۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر خاص رحمت ہے کہ اس نے غلطی اور گناہ کرنے والےکو فوراً اس کی سزا نہیں دی بلکہ گناہ کے بعد توبہ کرلینے اور معافی مانگ لینے والے کے لیے اس کی غلطیوں کو نیکیوں میں بدلنے کا وعدہ کیا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب ایسے لوگوں، جو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہمارے گناہ اس قدر زیادہ ہیں کہ اب واپسی کی گنجائش باقی نہیں رہی اور وہ اسی بدگمانی میں گناہ پر گناہ کیے جا رہے ہیں کہ اب ذلت ہمارا مقدر بن چکی ہے، توبہ کرنے اور متقیوں کو تقویٰ پر استقامت کے لیے سیدھی راہ دکھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ کتاب میں فاضل مؤلف ابو شرحبیل شفیق الرحمٰن نے پہلے گناہ، اس کی اقسام اور اس کے انسانی نفس اور کائنات میں واقع ہونے والے برے اثرات کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد توبہ و استغفار کے فوائد، اس کے شروط و احکام اور توبہ و استغفار کے درمیان فرق بیان کیا ہے۔ پھر اس کے بعد تقویٰ، اس کی اہمیت اور احکام و مسائل ذکر کیے ہیں۔ اس کے بعد نیک اعمال کی حفاظت کے بارے میں کچھ نگارشات بیان کی گئی ہیں۔  (ع۔م)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1443
  • اس ہفتے کے قارئین: 4512
  • اس ماہ کے قارئین: 10796
  • کل مشاہدات: 44696036

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں