کل کتب 55

دکھائیں
کتب
  • 1 #1813

    مصنف : محمد ابراہیم جونا گڑھی

    مشاہدات : 10380

    آداب قبور اور فرمان محمدی

    (جمعرات 17 جولائی 2014ء) ناشر : مکتبہ اہل حدیث ٹرسٹ، کراچی
    #1813 Book صفحات: 12

    اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ابتدائے اسلام میں شرک کے اندیشے کے پیش نظر قبروں کی زیارت سے منع کردیا گیا تھا اور پھر عقیدہ توحید پختہ ہوجانے کے بعد اس کی اجازت دے دی گئی۔زیارتِ قبور ایک جائز ومستحب بلکہ مسنون عمل ہے۔ نبی کریم ﷺبھی قبروں کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے اور اہل قبور کے لیےدعا کرتے اور فرماتے تم قبروں کی زیارت کیاکرو، وہ دنیا سے بے رغبتی کا سبب بنتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ زیارتِ قبور یادِ آخرت کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ...

  • 2 #88

    مصنف : امیر حمزہ

    مشاہدات : 27742

    آسمانی جنت اور درباری جہنم

    (بدھ 25 فروری 2009ء) ناشر : دار الاندلس،لاہور
    #88 Book صفحات: 254

    جنت اور جنہم دنیا میں کیے جانے والے اعمال کی جزا کا نام ہے-اپنے آپ کو اللہ کے حکموں کی پابندی کرنے والے اور اس کے احکامات کے مطابق اپنے زندگی بسر کرنے والوں کے لیے جزا کے طور پر جنت اور اس کی نافرمانی کرنے والوں کے لیےجزا کے طور پر جنہم مقرر کی گئی ہے-اس كتاب کےپہلے حصے میں اللہ تعالی کے مہمان خانے یعنی جنت کی سیر کا تذکرہ ہے جبکہ دوسرے حصے میں زمین پربنی جعلی اور خودساختہ بہشت کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا گیا ہے-تیسرے اور چوتھے حصے میں مصنف نے  مزید دودرباروں پر ہونے والے مشاہداتی مناظر کا تفصیلی تذکرہ کیاہے-مثال کے طور پر ڈھول کی تھاپ پر اللہ کا ذکر،قبروں کا طواف،قبروں پر حج،بہشتی دروازے کی حقیقت اور لوگوں کا عقیدہ،درباروں اور مزاروں پر ہونے والے حیا سوز اور اخلاق سوز مناظر،ولیوں کی دھمالیں وغیرہ- اس کتاب کے مطالعے سے یہ بات بخوبی عیاں ہوجائے گی کہ موجودہ پرفتن اور آندھیوں کے دور میں اس درباری جہنم سے اللہ کی مخلوق کو نکال کر آسمانی جنت میں داخل کرنے کی کوشش کرنا کس قدر ضروری ہے-
     

  • 3 #3073

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 10548

    اردو ترجمہ کتاب الوسیلہ

    (پیر 30 نومبر 2015ء) ناشر : ادارہ ترجمان السنہ، لاہور
    #3073 Book صفحات: 270

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علومِ اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاویٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے زیر تبصرہ کتاب’’ اردو ترجمہ کتاب الوسیلہ‘‘امام ابن تیمیہ ﷫ کی ان معرکۂ آراء تصنیفات میں سے ایک ہےجن میں امام  نے بڑی تفصیل کے ساتھ بدعات اور عوام میں م...

  • 4 #7169

    مصنف : ابو سلمان جاوید اقبال محمدی

    مشاہدات : 926

    اسلام میں قبروں کے احکام

    (ہفتہ 04 نومبر 2023ء) ناشر : المکتب التعاونی للدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات، ریاض
    #7169 Book صفحات: 8

    قبر پرستی شرک اور گناہ کبیرہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی وفات کے وقت سختی سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس سے بچنے کی تلقین کی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خود بھی رسول اللہ ﷺکے حکم پر عمل کیا اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دیا۔ ائمہ کرام اور محدثین نے لوگوں کو تقریر و تحریر کے ذریعے اس فتنہ یعنی عبادتِ قبور سے آگاہ کیا۔ ابو سلمان جاوید اقبال محمدی کا مرتب شدہ زیر نظر کتابچہ ’’ اسلام میں قبروں کے احکام‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ اس کتابچہ میں موصوف نے اختصار کے ساتھ احکامِ قبور کو قرآن و سنت کے دلائل کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو لوگوں کے لیے قبر پرستی کے مذموم جہنمی فعل سے بچانے کا ذریعہ بنائے ۔ آمین (م۔ا)

  • 5 #877

    مصنف : محمد بن علی شوکانی

    مشاہدات : 22176

    اسلام میں پکی قبروں کی حیثیت

    (اتوار 26 فروری 2012ء) ناشر : مکتبہ دعوت توعیۃ الجالیات،ربوہ،ریاض
    #877 Book صفحات: 35

    دین اسلام شرک وبدعات ،افراط وتفریط اور غلو سے پاک دین ہے ۔شرعی دلائل کی رو سے شرک بہت خوفناک گناہ ہے ،جو انسان  کو رب تعالیٰ سے دور کردیتا اور جہنم کاسزاوار قرار دیتا ہے ۔سو شرکیہ عقائد ونظریات سے بچنے اور وہ اسباب ومحرکات جو شرک کا ذریعہ بنیں ،کتاب وسنت کے دلائل ان سے گریز کرنے کی سخت تاکید کرتے ہیں اورانسانو ں کو شرکیہ وکفریہ اعمال و افعال سے اجتناب کی پرزور تلقین کرتے ہیں۔ان شرکیہ او رکفریہ نظریات میں سے انتہائی خطرناک عقیدہ قبرپرستی اورمزارات کی پوجا ہے ۔شریعت اسلامیہ نے قبروں پر قبے او رمزارات تعمیر کرنے سے منع کیا ہے اور قبروالوں سے حاجات پوری کرانے اور انہیں مشکلات میں پکارنے کو حرام قراردیاہے ،قبروں پر قبوں کی تعمیر اورمزارات سازی امت مسلمہ میں شرک کا بہت بڑا محرک ہے ،جس کی وجہ سے امت مسلمہ کی اکثریت شرک جیسے سنگین جرم میں ملوث ہے اورتقدس و عقیدت کی آڑ میں تمام شرکیہ و کفریہ کام جاری ہیں ۔زیرنظر کتاب قبروں کی پختہ تعمیر ،مزارات و درگاہوں  کی تعمیر اور قبروں میں مدفون اولیا کرام کی پوجا پاٹ کی حرمت پر ایک شاندار علمی تصنیف ہے۔(ف۔ر)

  • 6 #3312

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 5952

    الجواب الباہر فی زوار المقابر (اردو)

    (اتوار 31 جنوری 2016ء) ناشر : مکتب الدعوۃ، پاکستان
    #3312 Book صفحات: 206

    اللہ اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے  سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ابتدائے اسلام میں شرک کے اندیشے کے پیش نظر قبروں کی زیارت سے منع کردیا گیا تھا اور پھر عقیدہ توحید پختہ ہوجانے کے بعد اس کی اجازت دے دی گئی۔زیارتِ قبور  ایک جائز ومستحب بلکہ مسنون  عمل ہے۔ نبی کریم ﷺبھی قبروں کی زیارت کے لئے  تشریف لے جاتے اور اہل قبور کے لیےدعا کرتے اور فرماتے تم  قبروں کی زیارت  کیاکرو، وہ دنیا سے بے رغبتی کا سبب بنتی ہیں اور آخرت  کی یاد دلاتی ہیں۔آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ زیارتِ قبور  یادِ آخرت کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء ؑ مبعوث ہوئے اور باری باری موت...

  • 7 #556

    مصنف : عبد الہادی عبد الخالق مدنی

    مشاہدات : 64298

    اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا

    (پیر 04 مارچ 2013ء) ناشر : المکتب التعاونی للدعوۃ والارشاد توعیۃ الجالیات بالاحساء
    #556 Book صفحات: 31

    غیب کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا۔ نہ فرشتے غیب جانتے ہیں، نہ جنات اور نہ ہی انسان غیب جانتے ہیں۔ انسانوں میں اللہ کے محبوب بندے انبیا اور اولیا بھی غیب نہیں جانتے۔ نبیوں کے سردار محمد رسول اللہﷺ بھی غیب نہیں جانتے تھے۔ یہ وہ مبرہن حقائق ہیں جو کتاب و سنت کے صفحات میں بے شمار دلائل کے ساتھ دوپہر کے سورج کی طرح عیاں اور روشن ہیں۔ لیکن پھر بھی بہت سے لوگ اس قدر واضح دلائل کے باوجود علم غیب کو اللہ کے علاوہ بہت سے لوگوں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ 31 صفحات پر مشتمل زیر نظر کتابچہ میں مولانا عبدالہادی عبدالخالق مدنی نے قرآن و سنت کے محکم دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ علم غیب فقط اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف اس کی نسبت کرنا گمراہی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔(ع۔م)
     

  • 8 #7243

    مصنف : حافظ مبشر حسین لاہوری

    مشاہدات : 827

    انسان اور گناہ

    (بدھ 14 فروری 2024ء) ناشر : اریب پبلیکیشنز نئی دہلی
    #7243 Book صفحات: 450

    اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کا ہر کام گناہ کہلاتا ہے ۔ اہل علم نے کتاب و سنت کی روشنی میں گناہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں ۔ صغیرہ ، کبیرہ گناہ ۔بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہو گئی ہے ۔ گناہ کے بعد جسے احساس ندامت اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی کا احساس خوش نصیب انسان کے حصہ میں آتا ہے۔گناہ انسان کے مختلف جوارح و اعضاء سے سرزد ہوتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’انسان اور گناہ ‘‘‘ ڈاکٹر حافظ مبشر حسین لاہوری حفظہ اللہ کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع میں جامع اور مستند کتاب ہے۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں موضوع سے متعلقہ تمام ضروری مباحث کا احاطہ کر دیا ہے۔گناہ کی حقیقت ، گناہ کے اسباب، گناہوں سے بچنے کے طریقے، خطرناک گناہوں کی تفصیلات، گناہوں کے دنیوی و اخروی اعتبار سے انفرادی، اجتماعی ،اخلاقی ،روحانی ،مادی اور طبی نقصانات کا مکمل احاطہ ، گناہوں کے اُخروی نقصانات،گناہ چھوڑنے کے دنیوی و اُخروی فوائد انعامات ، گناہوں سے بچنے کے لیے توبہ کا صحیح طریقۂ کار اور توبہ کی راہ میں بننے والی رکاوٹوں کا مکمل ب...

  • 9 #7159

    مصنف : ابو عدنان محمد منیر قمر

    مشاہدات : 1010

    انسداد زناکاری کے لیے اسلام کی حفاظتی تدابیر

    (منگل 24 اکتوبر 2023ء) ناشر : مکتبہ کتاب وسنت ریحان چیمہ ڈسکہ
    #7159 Book صفحات: 178

    زنا کاری و فحاشی اور جنسی بے راہ روی ایک جرم عظیم ہے جس کی حرمت و قباحت شرائع سابقہ و امم قدیمہ، قبائل بدویہ اور شریعت اسلامیہ میں موجود ہے۔ فحاشی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو ناجائز جنسی لذت کے حصول کے لئے کیا جائے یا جس کے ذریعے جنسی اعضاء یا فعل کی اس نیت سے اشاعت کی جائے کہ جنسی اشتہا بھڑ کے یا جنسی تسکین حاصل ہو۔ زنا و اغلام بازی تو واضح طور پر ایک فحش عمل ہے۔ البتہ وہ امور جو زنا سے قریب کرنے کا ذریعہ ہوں وہ بھی فحاشی ہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں فحاشی کا سیلاب آیا ہوا ہے جس سے ہمارا معاشرہ تباہی کی طرف گامزن ہے۔ فحاشی کے اس سیلاب سے ہمارے ایمان و یقین اور اقدار و روایات کو خطرہ ہے۔ فحاشی کا یہ سیلاب اونچے اونچے گھرانوں تک پہنچ چکا ہے۔ فحاشی کے سیلاب کو روکنا معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے ۔  زیر تبصرہ کتاب ’’ انسداد زناکاری کے لیے اسلام کی حفاظتی تدابیر‘‘ مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ(مترجم و مصنف کتب کثیرہ ) کے ریڈیو ام القیوین متحدہ عرب امارات کی ارد...

  • 10 #3158

    مصنف : حافظ محمد گوندلوی

    مشاہدات : 7193

    اھداء ثواب

    (اتوار 03 جنوری 2016ء) ناشر : گل حسن شاہ گوجرانوالہ
    #3158 Book صفحات: 54

    دور ِحاضر میں مسلمانوں کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے کارواج عام ہے ۔ قرآن خوانی اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی خوانی اور ایصال ثواب توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا میت کوثواب نہیں پہنچتا۔ البتہ قرآن پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا کرنے سے میت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔ 1۔کسی مسلمان کا مردہ کےلیے دعا کرنا بشرطیکہ دعا آداب وشروط قبولیت دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا تو اس کی طرف سے روزے رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑجانے سےبھی...

  • 11 #7066

    مصنف : کرم الدین سلفی

    مشاہدات : 1225

    اھداء ثواب اور قرآن خوانی

    (ہفتہ 22 جولائی 2023ء) ناشر : مکتبہ ابن کرم
    #7066 Book صفحات: 31

    جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال اس سے منقطع ہو جاتے ہیں ( یعنی کسی عمل کا ثواب اسے نہیں ملتا ) مگر تین چیزیں ایسی ہیں ( جن کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے ) ایک صدقہ جاریہ ، دوسری نیک اولاد، جو اس کے لئے دعا کرتی رہے اور تیسری چیز وہ عمل ہے جس سے لوگ اس کے مرنے کے بعد فائدہ اٹھاتے رہیں ۔ ان تین چیزوں کے علاوہ کسی بھی عمل کا ثواب اسے نہیں ملتا ۔ قرآن خوانی جیسے تمام امور خلاف شریعت ہیں اور محض رسم و رواج کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ زیر نظر کتابچہ ’’ اھداء ثواب اور قرآن خوانی ‘‘شیخ الحدیث کرم الدین سلفی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے انہوں نے اس میں قرآن و سنت کی روشنی میں چند ایسے اعمال کو پیش کیا ہے کہ اگر انسان انہیں اپنی زندگی میں کر جائے تو مرنے کے بعد بھی ان کا ثواب برابر پہنچتا رہے گا ۔ بعض ایسے اعمال بھی ہیں جنہیں اگر زندہ آدمی میت کو ثواب پہنچانے کی نیت سے کرے تو ان کا ثواب اور نفع میت کو پہنچ جاتا ہے لیکن اس کے لیے قرآن و حدیث کی روشنی میں چند ضروری شرطیں ہیں جب تک ان کا لحاظ نہ کیا جائے میت کو کچھ فائدہ نہ ہو گا ۔ (م۔ا)

  • 12 #2168

    مصنف : عادل سہیل ظفر

    مشاہدات : 11403

    ایصال ثواب اور اس کی حقیقت

    (جمعہ 12 دسمبر 2014ء) ناشر : نا معلوم
    #2168 Book صفحات: 52

    مسلمانوں کی بڑی اکثریت اس بات کو مانتی ہے کہ ہم دعا کے ذریعے سے اپنی نیکیوں کا اجر اپنے مرحوم اعزہ کو دے سکتے ہیں۔ چنانچہ اس تصور کے مطابق ایک شخص یا کچھ لوگ کوئی نیک عمل کرتے ہیں۔ پھر یہ دعا کی جاتی ہے کہ اس نیک عمل کا اجر فلاں مرحوم یا فلاں فلاں مرحوم کو عطا کیا جائے۔ ہمارے ہاں، اس کام کے لیے کچھ رسوم بھی رائج ہیں اور ان میں یہ عمل بڑے اہتمام سے کیا جاتا ہے۔یہ مسئلہ دور اول ہی سے موضوع بحث ہے۔ چنانچہ اس بات پر توسب متفق ہیں کہ میت کواخروی زندگی میں ہمارے دو طرح کے اعمال سے فائدہ پہنچتاہے۔ایک دعاے مغفرت، دوسرے وہ اعمال خیر جو میت کی نیابت میں کیے جائیں۔نیابت سے مراد یہ ہے کہ مرنے والااس عمل میں کسی نہ کسی نسبت سے شریک ہے۔ اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں، مثلاً یہ کہ مرنے والے نے کوئی کام شروع کیا ہوا تھا اور تکمیل نہیں کر سکا، کوئی نذر مانی ہوئی تھی پوری نہیں کر سکا یا کوئی قرض تھا جسے وہ ادا نہیں کر سکا وغیرہ۔البتہ، اس میں اختلاف ہے کہ مرنے والے کی نسبت کے بغیر عمل کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے یا نہیں۔مراد یہ ہے کہ میت کے اعزہ واقارب اپنے طور پر کوئی نیکی...

  • 13 #4226

    مصنف : حافظ شبیر صدیق

    مشاہدات : 8318

    ایصال ثواب جائز اور ناجائز صورتیں

    (ہفتہ 21 جنوری 2017ء) ناشر : مسلم پبلیکیشنز لاہور
    #4226 Book صفحات: 65

    عصرحاضر میں مسلمانوں کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے کارواج عام ہے ۔ قرآن خوانی اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی اور اایصال ثواب توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا میت کوثواب نہیں پہنچتا۔ البتہ قرآن پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا کرنے سے میت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔
    1۔کسی مسلمان کا مردہ کےلیے دعا کرنا بشرطیکہ دعا آداب وشروط قبولیت دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا تو اس کی طرف سے روزے رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑجانے سےبھی میت ک...

  • 14 #146

    مصنف : شریف غالب بن محمد الیمانی

    مشاہدات : 19128

    ایک سوال کی دس شکلیں

    (ہفتہ 21 فروری 2009ء) ناشر : الفرقان اسلامک کلچر سوسائٹی حیدر آباد، دکن
    #146 Book صفحات: 17

    حضور نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے اللہ تعالی کی وحدانیت کا درس دیا لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ نے بھی پہلی قوموں کی روش اختیار کرتے ہوئے شرک کی مختلف صورتوں کو اپنا لیا- زیر نظر کتاب میں مصنف نے ''کیا اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اور مشکل حل کرنے پر قادر ہے؟''سوال کی مختلف انداز میں دس شکلیں پیش کرتے ہوئے کتاب وسنت کی روشنی میں تسلی بخش جواب پیش کیاہے-جس میں انہوں نے اس چیز کو واضح کیا ہے کہ کیا اللہ کے علاوہ کوئی اور پکار کو سن سکتا ہے؟اگر سن سکتا ہے تو اس کی کیفیت کیا ہو گی؟کیا وہ سب کی پکار کو ایک ہی لمحے میں سن سکتا ہے؟کیا اس کو دنیا میں پائی جانے والی تمام زبانوں کے علم کا ہونا ضروری ہے یا نہیں-مصنف نے انتہائی سادہ انداز میں امت مسلمہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اہل قبور سے مانگنا ،ان کو تصرفات دینا اور اپنے معاملات میں ان کو بااختیار سمجھنا یہ سب شرک کی اقسام میں ہی آتا ہے –اسی طرح احناف کی معتبر کتب سے پائے جانے والی عقیدے کی خرابیوں کو واضح کیا ہے-جیسے قبروں کو پکا بنانا،ان کو بوسہ دینااور کسی ولی یا پیر فقیر کی قبر کے واسطے سفر کرنا ،ولی کےواسطے...

  • 15 #107

    مصنف : احمد بن عبد اللہ السلیمی

    مشاہدات : 25882

    جنازہ ،قبر اور تعزیت کی چند بدعات

    (جمعہ 11 ستمبر 2009ء) ناشر : المکتبۃ التعاونی للدعوۃ والارشاد
    #107 Book صفحات: 4

    چند صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ان مشہور بدعات کی نشاندہی کرتا ہے جن میں اکثر و بیشتر مسلمان شعوری یا لاشعوری طور پر گرفتار ہیں۔ جنازہ، قبر اور تعزیت سے متعلقہ اکثر بدعات کو بہت سے کتاب و سنت کے شیدائی بھی بدعات نہیں سمجھتے اور ان میں بالواسطہ یا بلا واسطہ شریک ہو جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ان تمام احباب کیلئے انشاء اللہ سنت و بدعت کے درمیان تفریق کا شعور پیدا کرے گا۔

     

     

  • 16 #4221

    مصنف : ڈاکٹر سید شفیق الرحمن

    مشاہدات : 6528

    حب رسول ﷺ کی آڑ میں مشرکانہ عقائد

    (جمعرات 19 جنوری 2017ء) ناشر : محمد پبلشرز اسلام آباد
    #4221 Book صفحات: 82

    اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے  سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ شرک کا لغوی معنی برابری جبکہ شرک کی واضح تعریف جو علماء کرام نے کی ہے وہ یہ ہے کہ اَللہ تعالیٰ کے کسی وصف کو غیر اللہ کیلئے اِس طرح ثابت کرنا جس طرح اور جس حیثیت سے وہ اَللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے ،یعنی یہ اِعتقاد رکھنا کہ جس طرح اَللہ تعالیٰ کا علم اَزَلی، اَبدی ، ذاتی اور غیر محدود ومحیطِ کل(سب کو گھیرے ہوئے ) ہے ،اِسی طرح نبی اورولی کو بھی ہے اور جس طرح اَللہ تعالیٰ جملہ صفاتِ کمالیہ کا مستحق اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے ،اِسی طرح غیر اللہ بھی ہے تو یہ شرک ہو گا اور یہی وہ شرک ہے جس کی وجہ سے اِنسان دائرۂ اِسلام سے خارِج ہو جاتا ہے اور بغیر توبہ مرگیا تو ہمیشہ کیلئے جہنم کا اِیندھن بنے گا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں جس قدر شرک کی مذمت اور توحید کا اثبات کیا ہے اتنا کسی اور مسئلے پر زور نہیں دیا ہے۔سیدنا آدم ؑ سے لے کر  نبی کریمﷺ تک ہر رسول و نبی نے اپنی قوم...

  • 17 #5027

    مصنف : مقصود الحسن فیضی

    مشاہدات : 5928

    حقیقت وسیلہ

    (اتوار 15 اکتوبر 2017ء) ناشر : نور اسلام اکیڈمی، لاہور
    #5027 Book صفحات: 176

    ہر انسان خواہش مند ہے کہ وہ صراطِ مستقیم ‘ ہدایت یافتہ اور صحیح عقیدے کا حامل  ہو۔یقین اور عقیدے کا انسان کے کردار پر گہرا اور لازمی اثر ہے۔جس شخص کا عقیدہ یہ ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ کے بغیر آخرت میں نجات نہیں مل سکتی وہ پوری محنت کے ساتھ ایمان کو حاصل کرے گا اور اعمال صالحہ کے لیے وقت اور سرمائے کو خرچ کرے گا۔اور یہی نجات کا محفوظ راستہ ہے۔البتہ اگر کسی کا عقیدہ بگڑ گیا اور اُس نے سمجھ لیا کہ فلاں صاحب کا وسیلہ کام دے دے گا یا فلاں ہستی کی شفاعت کام آجائے گی تو بھلا وہ کیوں کر مشقت اٹھا کر اعمال کی محنت کرے گا اور اپنی ذات وخواہشات کو پابندیوں میں جکڑے گا۔اس وقت ہمارا معاشرہ اسی غلط عقیدے کی وجہ سے بے عملی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بس رہے ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب مصنف﷾ نے وسیلے کے عنوان پر ایک جامع ومدلل کتاب تالیف فرمائی ہے۔ اس عنوان کو جملہ تفصیلات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور روشن دلائل کو آسان زبان میں سمو دیا ہے۔ہر عنوان میں دیگر اہم شخصیات کی اہم تالیفات سے اقتباس بھی لیے گئے ہیں۔ حوالہ جات کا خاص اہتمام کیا گیا ہے‘ حوالے میں اصل مصدر...

  • 18 #4761

    مصنف : مقصود الحسن فیضی

    مشاہدات : 4233

    حقیقت وسیلہ ( مقصود الحسن فیضی )

    (اتوار 10 ستمبر 2017ء) ناشر : المکتب التعاونی للدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات، ریاض
    #4761 Book صفحات: 183

    ہر باشعور کا یقین ہے کہ آگ سے ہاتھ جل جاتا ہے‘ لہٰذا کوئی سمجھ دار جان بوجھ کر آگ کو ہاتھ نہیں لگاتا۔اسی طرح ہر انسان کا یقین ہے کہ مال ومتاع ضرورت پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ ہر صاحب استطاعت انسان مال کمانے میں اپنی جان عزیز کا بڑا حصہ خرچ کر ڈالتا ہے۔ معلوم ہوا کہ یقین اور عقیدے کا انسان کے کردار پر گہرا اور لازمی اثر ہے۔جس کا عقیدہ ہے کہ ایمان اور اعمال صالح کے بغیر نجات ممکن نہیں تو وہ اپنا وقت اور سرمایہ اسی مقصد میں خرچ کرے گا اور جس کا عقیدہ بگڑ گیا کہ فلاں کے وسیلے سے کام چل جائے گا تو وہ بھلا کیوں مشقت کرے گا۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  اسی موضوع کو بیان کیا گیا ہے کہ وسیلہ کی کیا حقیقت ہے ؟ کتاب کو جامع ومدلل انداز میں تحریر کیا گیا ہے اور مضمون کی جملہ تفصلات کو دلائل میں سمو دیا ہے۔ وسیلہ کے مفہوم اور اس کی جائز وناجائز صورتوں کا بیان ہے اور وسیلے کی ناجائز صورتوں میں پیش کیے جانے والے دلائل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ حوالہ جات بھی فٹ

  • 19 #3052

    مصنف : عبد الرحمن عزیز آبادی

    مشاہدات : 3669

    حقیقۃ الوسیلۃ

    (جمعہ 20 نومبر 2015ء) ناشر : ادارہ امر بالمعروف، پتوکی
    #3052 Book صفحات: 67

    وسیلہ کامطلب ہے ایسا ذریعہ استعمال کیا جائے جو مقصود تک پہنچا دے۔توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر اور قبر کے قریب کا درخت۔اس خیال سے کہ ''بڑے کا پڑوسی بھی بڑا ہوتا ہے''۔اور صاحب قبر کے لئے اﷲکا اکرام قبر کو بھی پہنچتا ہے 'جس کی وجہ سے قبر کا وسیلہ بھی اﷲکے پاس درست ہوجاتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ بعض متاخرین نے تو غیر اﷲسے استغاثہ کو بھی جائز قرار دے دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ یہ بھی وسیلہ ہے 'حالانکہ یہ خالص شرک ہے جو توحید کی بنیاد کی خلاف ہے۔ جائز وسیلہ کی تین صورتیں ہیں جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہیں اور وہ درج ذیل ہیں۔ 1۔اللہ تعالیٰ کے اسماء کا وسیلہ قرآن میں ہے: وَلِلَّهِ الْأَسْم...

  • 20 #23

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 25478

    حلال اور حرام وسیلہ

    (جمعرات 04 دسمبر 2008ء) ناشر : مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ،پاکستان
    #23 Book صفحات: 94

    مختلف مذاہب میں اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں اسی طرح دین اسلام میں اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے نیک اعمال اور صدقہ جاریہ جیسے امور کو مقرر کیا گیا ہے-عقیدے کی خرابی کی وجہ سے کچھ لوگوں میں غلط ذرائع کو اختیار کر کے دین میں داخل کر کے ان کے ذریعے تقرب حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ سیدھا سا اصول ہے کہ ایک اچھے کام کے لیے غیر شرعی کام کا سہارا لینا حماقت کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا-مصنف نے اپنی کتاب میں اسی چیز کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کون سے ذرائع ہیں کہ جن کے ساتھ اللہ تعالی کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے اور وہ کون سے ناجائز امور ہیں جن کو اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا-اسی طرح وسیلہ کی لغوی تعریف،شرعی اور غیر شرعی وسیلہ کی پہچان کا طریقہ،کون سا وسیلہ اللہ کے ہاں قابل قبول ہے،شرعی وسیلہ کی اقسام کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور اسی طرح مخلوق کو وسیلہ بنانے کے بارے میں لوگوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ بھی کیا گیا ہے-اور اس چیز کو ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کے لیے کسی مخلوق کو وسیلہ کے طور پر پیش نہیں...

  • 21 #4150

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 6128

    خالق اور مخلوق کے درمیان وسیلہ کی شرعی حیثیت

    (بدھ 28 دسمبر 2016ء) ناشر : ساجد اسلامک ریسرچ سنٹر پاکستان
    #4150 Book صفحات: 66

    مسئلہ آخرت کاہو یا دنیا کاانسان ’’ وسیلہ‘‘ کامحتاج ہے ۔ وسیلہ زندگی کی ایک بنیادی حقیقت ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کااعتراف ہرحقیقت پسند کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اہل یمان کووسیلہ کاحکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدہ) ’’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اوراس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ‘‘۔وسیلہ کامطلب ہے ایسا ذریعہ استعمال کیا جائے جو مقصود تک پہنچا دے۔توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر ا...

  • 22 #5030

    مصنف : ابو بلال عبد اللہ طارق

    مشاہدات : 3191

    دعوت توحید وسیلے کی حقیقت

    (بدھ 18 اکتوبر 2017ء) ناشر : نا معلوم
    #5030 Book صفحات: 96

    اسلامی تعلیمات میں تمام امور پر عقیدہ توحید کو اولیت حاصل ہے اور توحید ہی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور اسی پر دنیا وآخرت کی کامیابی کا انحصار ہے الغرض دین اسلام کی اساس وبنیاد عقیدہ توحی ہے۔عقیدہ توحید کی ضد شرک ہے اور شرک ایسا جرم عظیم ہےکہ اگر بندہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہوئے فوت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے اور بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کو بھی مبعوث فرمایا اور ہر نبی نے جس دعوت سے آغاز کیا وہ دعوت توحید ہی تھی۔زیرِ تبصرہ کتاب’’ دعوت توحید وسیلے کی حقیقت ‘‘ بھی اسی موضوع کو اُجاگر کرنے کے لیے تالیف کی گئی ہے۔ اس کتاب میں سب سے پہلے عقیدہ توحید ہی کی دعوت دی گئی ہے‘ توحید کے بعد وسیلہ کی حقیقت کو بیان کیاگیا ہے جو شرک کی ہر قسم کی بنیادی جڑ ہے۔اور وسیلہ کی ایک شکل جو تعویز ہے اس کو بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ امت شرک کی ہر قسم سے نکل کر خالص اللہ کی توحید کی طرف آجائے۔ اور اس کتاب میں قرآن وحدیث سے غلط عقائدونظریات کی تردید کی گئی ہے او...

  • 23 #2055

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 7572

    زندہ کا مردہ کے لیے ہدیہ اور ایصال ثواب

    (جمعہ 14 نومبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور
    #2055 Book صفحات: 64

    دور ِحاضر میں مسلمانوں کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ   بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے کارواج عام ہے ۔ قرآن خوانی اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی اور اایصال ثواب توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ   قرآن پڑھنے کا میت کوثواب نہیں پہنچتا۔ البتہ قرآن پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا  کرنے سے میت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ 1۔کسی مسلمان کا مردہ کےلیے دعا کرنا بشرطیکہ دعا آداب وشروط قبولیت دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا تو اس کی طرف سے روزے رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پی...

  • 24 #1765

    مصنف : محترمہ ام منیب

    مشاہدات : 7117

    زندہ کا مردہ کے لیے ہدیہ اور قرآن خوانی

    (بدھ 16 جولائی 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور
    #1765 Book صفحات: 69

    دور ِحاضر میں مسلمانوں  کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے  کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ  بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے  بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے  کارواج عام ہے  ۔ قرآن خوانی  اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت  سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی خوانی توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت  یہ ہے کہ  قرآن  پڑھنے کا  میت  کوثواب نہیں  پہنچتا۔ البتہ  قرآن  پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا کرنے سے  میت کو فائدہ  ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور  قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں  کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔1۔کسی مسلمان کا مردہ  کےلیے دعا کرنا  بشرطیکہ  دعا  آداب  وشروط قبولیت  دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا  تو اس  کی طرف...

  • 25 #2190

    مصنف : محمد بشیر سہسوانی

    مشاہدات : 5765

    زیارت قبر نبوی

    (جمعرات 01 جنوری 2015ء) ناشر : ام القریٰ پبلی کیشنز، گوجرانوالہ
    #2190 Book صفحات: 450

    امت ِ مسلمہ کا  اس بات پر اجماع ہے کہ دینِ  اسلام کامل ہے او راس میں کسی قسم کی زیادتی او رکمی کرنا موجب کفر ہے  ۔اس لیے  ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا  چاہیے  کہ اللہ  تعالی نےہم مسلمانوں پر صرف اللہ اور اس کے رسول کے امر کوواجب قرار دیا  ہے کسی اور کی بات ماننا واجب اور فرضم نہیں خاص طور پر جب اس کی بات اللہ اور اس کے رسولﷺ کے مخالف ہو۔زیارت ِ قبر نبوی  سے متعلق سلف  صالحین (- صحابہ ،تابعین،تبع تابعین) اور ائمہ کرام  کا جو طرز عمل  تھا وہ حدیث ،فقہ اور تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے  فرمان نبویﷺ  لاتشد الرحال إلا ثلاثة (  تین مسجدوں کے علاوہ  عبادت اور ثواب کے لیے  کسی  اور جگہ  سفر نہ کیا  جائے ) کے پیشِ نظر  قرونِ  ثلاثہ میں کوئی رسول  اللہ ﷺ یا کسی  دوسرے کی  قبر کی زیارت کے لیے  سفر نہیں کرتا تھا ،بلکہ  مدینہ میں  بھی لوگ قبرنبوی کی زیارت کے باوجود وہاں بھیڑ نہیں  لگاتے  او رنہ ہی  وہاں کثرت سے جانے&nbs...

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 21805
  • اس ہفتے کے قارئین 114219
  • اس ماہ کے قارئین 206680
  • کل قارئین95858524

موضوعاتی فہرست