امام ابن تیمیہ

  • 1 عقیدہ واسطیہ (بدھ 01 اپریل 2015ء)

    ابن تيميه وه مصنف هیں جنہوں نے دین اسلام کی خدمت کرتے ہوئے ہر اہم موضوع پر گفتگو کی ہے اس لیے عقیدے کے معاملے میں بھی ابن تیمیہ نے جس انداز سے وضاحت کی ہے یہ انہی کا خاصہ ہے –اللہ تعالی کی صفات میں تحریف کے منکرین گروہ پیدا ہوئے جو کہ فلسفہ سے متاثر تھے تو ابن تیمیہ نے ان کے فلسفے کا رد اور ان کے باطل عقائد کا رد قرآن وسنت سے کیا اور ان کے عقائد کی خرابی کو بڑی وضاحت سے بیان کرنے کے بعد مدلل رد کیا ہے-ابن تیمیہ نے اس کتاب میں اہل سنت کے عقیدے کو بیان کرتے ہوئے عقیدے کی مختلف بحثوں موضوع سخن بنایا ہے جس میں اللہ تعالی پر ایمان کے ساتھ ساتھ اس کی مختلف صفات کا ثبوت اور اللہ تعالی کا عرش پر مستوی ہونے کا ثبوت اور مومنین کے لیے جنت میں اللہ تعالی کے دیدار پر تفصیلی بحث کی ہے- اسی طرح اولیاء کی کرامات کو واضح کیا ہے کہ کون سی چیز کرامت ہوتی ہے اور کون سی چیز کرامت سے خارج ہے بلکہ شیطانی دھوکہ ہے

  • 2 اصحاب صفہ اور تصوف کی حقیقت (پیر 26 جنوری 2009ء)

    اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جو پوری دنیا پر چھا جانا چاہتا ہے اور زندگی کی ہر فیلڈ میں جگہ چاہتا ہے-دنیا میں پائے جانے والے دوسرے ادیان کو ان کے ماننے والوں نے ان کو مخصوص جگہوں اور عبادت گاہوں تک محصور کر کے رکھ دیا جس کی وجہ سے وہ ادیان اپنے ماننے والوں کے لیے کوئی راہنمائی نہ دے سکے اسی طرح کچھ لوگوں نے دین اسلام کو بھی پرائیویٹ کرنے کے لیے اس کو تنگ کر کے مخصوص عبادت گاہوں اور خانقاہوں تک محصور کرنے کی کوشش کی اور اسی کام کو دین کی خدمت اور اصل روح قرار دے کر لوگوں کو صرف خوشخبریاں سنائیں اور انہی چیزوں کو اصل اسلام بنا دیا-اسلام کو جس نام سے سکیڑنے کی کوشش کی گئی وہ تصوف ہے اور تصوف کے ماننے والوں نے اس کو مختلف طریقوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی اور ثبوت کے طور پر مختلف واقعات کو توڑ مروڑ کر اور من گھڑت احادیث اور واقعات کا سہارا لیا جس کی وجہ لوگ اسلام کی اصل روح سے واقف ہونے کی بجائے اور دوسری چیزوں میں مصروف ہو گئے-ابن تیمیہ نے دین سے مفرور ان لوگوں کی خوب خبر لی اور ان کے من گھڑت دلائل کی حقیقت کو واضح کیا-صحابہ کی طرف نسبت جوڑنے والے صوفیاء کی اس نسبت کی وضاحت کرتے ہوئے صوفیاء میں پائے جاانے والے مختلف سلوک اور من گھڑت روایات سے سہارا لے کر حال اور ناچ گانے کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اس کو ابن تیمیہ نے قرآن وسنت کے دلائل سے واضح کیا...
  • موسیقی اور گانے بجانے کی اسلام میں شدید مذمت کی گئی ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں اس حوالے سے وعید کا تذکرہ کیاہے  لیکن ہمارے ہاں نام نہاد ملا اور صوفیاء حضرات قوالی اور  سماع و وجد کے نام پر موسیقی کو رواج دینے پر تلے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں  وہ کتاب وسنت کی براہین کے ساتھ لہوولعب کرنے سے بھی باز نہیں آتے-زیر نظر کتاب میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ  نے قوالی اور گانے بجانے کی اسلام میں کیا حیثیت ہے کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے – کتاب کو اردو زبان کا جامہ مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے پہنایا ہے- مصنف نے محققانہ انداز میں قوالی اور گانے بجانے کے جواز پر پیش کی جانے والی احادیث کی حیثیت واضح کرتے ہوئے حرمت موسیقی پر آئمہ کرام کے اقوال اور احادیث رسول پیش کی ہیں-

  • آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی زیارت کرنا تو درست ہے لیکن قبر والوں سے جا کرمدد مانگنا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور وہاں نذر ونیاز تقسیم کرنا وغیرہ ایسے اعمال جو شرک کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ قبروں کی زیارت اور صاحب قبر سے فریاد ‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی تالیف کا ثمر صادق احمد حسین نے اردو ترجمہ کیا ہے۔یہ کتاب درحقیقت رد قبر پرستی کے موضوع پر لکھے گئے ان کے متعدد مضامین کا مجموعہ ہے۔ اور ان دلا...

  • جاہلیت جدیدہ کے علم برداروں نے آزادی اظہار کے نام  پر انبیائے کرام علیہم السلام کو بالعموم او رحضور حتمی المرتبت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص و اہانت کو اپنا منتہائے نگاہ ٹھہرا لیا ہے،جس کے مظاہر حالیہ چند برسوں میں مختلف یورپی ممالک میں دیکھنے کو ملے۔ان حالات میں یہ لازم تھا کہ جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیس و تعظیم کے تصور کو اجاگر کیا جاتا اور توہین رسالت کی شناعت و قباحت اور اس کی سزا وعقوبت کو کتاب وسنت کی روشنی میں واضح کیا جاتا۔اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کرامت کہیے  یا عنداللہ ان کی مقبولیت کہ ناموس رسالت کے دفاع و تحفظ پر جو کچھ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کے قلم سے نکلا ہے سات صدیوں  سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اس قدر جاندار،زندہ اور مدلل ہے کہ اس مسئلہ میں آج بھی سند اور اولین مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔زیر نظر کتاب حضرت شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے خاص اسی مسئلہ پر تحریر کی ہے اور اپنے خاص انداز تحریر میں اس قضیہ کے ہر پہلو پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔اس کتاب کے حسن قبول کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو شیخ الاسلام کے سخت ناقد اور مخالف ہیں وہ بھی اس کا اردو ترجمہ کر کے شائع کر رہے ہیں،جیسا کہ اس سے قبل اس ترجمے کو اسی ویب سائٹ پر پیش کیا جا چکا ہے۔اب معروف سلفی عالم اور مصنف و م...
  • فکر وعقیدہ کی گمراہیوں میں سے شرک اور بدعت دو بڑی گمراہیاں ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتب میں ان دونوں گمراہیوں پر مفصل کلام موجود ہے۔ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کی اس کتاب کا موضوع بدعات ہیں ۔ شیخ الاسلام نے اپنی اس کتاب میں اپنے زمانے میں پائی جانے والی متعدد بدعات کی نشاندہی کی ہے اور ان کا رد کیا ہے۔اس کتاب کو بالاستیعاب پڑھنے والوں پر ایک تاثر قائم ہوئے بغیر نہیں رہے گا کہ شیخ الاسلام کا شرک اور بدعت کا منہج تردید مختلف ہے۔ شرکیہ و کفریہ افکار کے حاملین اشخاص اور گروہوں کا رد کرتے ہوئے شیخ الاسلام کا لب ولہجہ اور اسلوب، افکار ونظریات اور ان کے حاملین دونوں کے حوالہ سے انتہائی سخت ہوتاہے جبکہ اہل بدعت اور مبتدعین کی تردید میں موقف میں تو لچک نہیں ہے اور بدعات کی خوب تردید موجود ہے جبکہ اہل بدعت پر نقد کرتے ہوئے بہرحال رویہ اتنا سخت نہیں ہے اور کبھی کبھار بعض بدعات میں ان کے لیے اجتہاد ی خطا کے نام پر ثواب کی امید بھی رکھتے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی بدعات میں مخلص ہوں اور یہ بدعات عبادات وغیرہ کی قبیل سے ہوں لیکن اس کے باوجود ان کی بدعات پر شدید نکیر کے قائل ہیں۔شیخ الاسلام کا کہنا یہ ہے کہ بدعات میں خیر وشر دونوں پہلو ہوتے ہیں ۔ خیر کا پہلو تو وہ عبادات اور اعمال صالحہ ہیں جو اہل بدعت کرتے ہیں مثلاً بعض متعین راتوں کو عبادات کے لیے مخصوص...
  • اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لئے مختلف اسباب مہیا فرمائے، جن میں ایک سبب یہ ہے کہ اس نے امت کے ربانی علماء کو دین اسلام کا دفاع اور بدعت اور اس کے خطرات کی نشاندہی کرنے کی توفیق دی، اللہ نے جن علمائے امت کو اس کارخیر کی توفیق بخشی ان میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا نام بھی شامل ہے۔ ان کی تالیفات میں سے منہاج السنۃ النبویہ ایک اہم تالیف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب اسی کتاب سے منتخب کردہ رافضیت کے موضوع پر سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔ مذکورہ فرقہ سے متعلق ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اقوال اس کی واضح دلیل ہیں کہ انہیں اس فرقہ کے مذہب اور ان کے اقوال و روایات پر وسیع معلومات حاصل تھیں، ان کے پیش کردہ عقلی و نقلی دلائل و براہین سنجیدہ ، ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر قائم ہیں۔جن کی تردید کی فریق مخالف نے آج تک جرات نہیں کی۔

  • 8 کتاب الوسیلہ (اتوار 26 جنوری 2014ء)

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا اسم گرامی محتاج تعارف نہیں ۔ساتویں صدی ہجری میں جب کہ ہر طرف شرک و بدعت ،تصوف و فلسفہ اور الحاد ولادینیت کے گھٹا گھوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے،حضرت الامام نے توحید رسالت اور آخرت پر ایمان و یقین کی قندیلیں روشن کیں او ر شرک و بدعت کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔امام صاحب کے زمانہ میں ایک گمراہ کن عقیدہ یہ بھی فروغ پارہا تھا کہ اللہ تعالی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کسی بزرگ کے وسیلہ کی ضرورت ہے ۔جس طرح ایک عام شہری کسی درمیانی واسطہ کے بغیر براہ راست بادشاہ  وقت تک نہیں پہنچ سکتا،اسی طرح اللہ عزوجل کا تقرب بھی کسی توسط کے بغیر ممکن نہیں ۔ظاہر ہے کہ یہ نظریہ قرآن وحدیث سے کسی طرح میل نہیں کھاتا لہذا امام صاحب نے اس کی پرزور تائید کی اور شرعی دلائل کی روشنی میں وسیلہ کے جائز و ناجائز پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی۔موجودہ زمانے میں بھی یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اہل بدعت وسیلہ کے غلط تصور کو معاشرے میں پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں ۔لہذا ہر متبع سنت کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ حقیقت حال سے آگاہ ہو سکے اور شکوک و شبہات سے خود  بھی بچ سکے اور دوسروں کو بھی بچا سکے۔

  • 9 الوصیۃ الصغریٰ (پیر 27 جنوری 2014ء)

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ علیہ الرحمۃ کی تجدیدی اوراصلاحی خدمات قیامت تک امت اسلامیہ پراحسان رہیں گی،اوران کی علمی ،اصلاحی اورتجدیدی یادگاریں رہتی دنیاتک عوام وخواص کے لیے مشعل راہ بنی رہیں گی۔زیرنظررسالہ الوصیۃ الصغریٰ جودراصل حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کی  مکمل تشریح ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تقوی ،حسن خلق ،اخلاص ،توکل ،توبہ ،استغفار،تفقہ فی الدین اورمداومت ذکرکی تاکیدفرمائی تھی ۔یہ وصیت اتنی جامع اورمکمل ہے کہ ہرمسلمان کواسے اپنی زندگی کادستورالعمل بنایاچاہیے کہ اسی میں امت کی فلاح اوردین ودنیا کی سعادت کارازمضمرہے ۔رب کریم ہمیں ان قیمتی نصائخ کواپنانے کی توفیق عنائیت فرمائے تاکہ ہم اپناکھویاہوا وقارپھرسے حاصل کرسکیں۔آمین

     

     

  • 10 روضئہ اقدس کی زیارت (منگل 28 جنوری 2014ء)

    یہ کتاب شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’الرد علی الاخنائی‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس میں جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس کی زیارت پر مبسوط بحث کی گئی ہے ۔روایتی فقہاء کا خیال ہے کہ روضہ رسول کی زیارت کے لیے سفر جائز ہے ،لیکن شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ سختی سے اس کی تردید کی ہے ۔شیخ الاسلام خوب سمجھتے تھے کہ اس نازک مسئلہ پر قلم اٹھانا آسان نہیں،لیکن انہوں نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عتاب کے پیش نظر اپنے آپ کو اس کٹھن کام کے لیے آمادہ کیا اور عوام کی مخالفت اور دشمنی کی پروا نہ کرتے ہوئے اس کو مفصل ،مبسوط اور واضح شکل میں پیش کر دیا۔واضح رہے کہ امام صاحب نے روضہ رسول کی زیارت کے لیے سفر سے تو روکا ہے تاہم مطلق زیارت کو جائز قرار دیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ بنی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا اجلال و احترام اور توقیر و اکرام ایسے پر کشش انداز اور دل نشین پیرائے میں ذکر فرمایا ہے جو کمال محبت،جذب و مستی اور وارفتگی میں اپنی مثال آپ ہے ۔

  • 11 کیا مجذوب اولیاء اللہ ہوتے ہیں (جمعرات 25 نومبر 2010ء)

    اسلام ایک دین فطرت ہے جو انسان کوبے لگام گھوڑا  بننے کی اجازت قطعاً اجازت نہیں دیتا بلکہ  نفسانی خواہشات کو اعتدال میں لانے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایک مسلمان کے کامل مؤمن بننے کے لیے از حد ضروری ہے کہ اس کی خواہشات شریعت کے فراہم کردہ احکامات کے تابع ہوں۔ زیر نظر مختصر سے رسالہ میں علامہ ابن قیم نے انتہائی اثر آفریں انداز میں 50 ایسے علاج پیش کیے ہیں جن کی روشنی میں خواہشات کے دام فریب میں گرفتار لوگ آسانی سے اپنی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اپنے انجام سے بے خبر ہو کر وقتی جذبات کے دھارے میں بہہ جانے والوں کے لیے یہ رسالہ انتہائی مفیدہے۔  رسالہ کو اردو قالب میں ڈھالنے اور مزید اضافہ جات کا سہرا عبدالہادی عبدالخالق مدنی کے سر ہے۔


  • شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں آپ نےزنان وقلم کےساتھ سیف وسنان سے بھی راہ خدا میں جہاد کیا زیرنظر کتاب ''منہاجالسنۃ'' آپ کی ایک شہرۂ آفاق کتاب ہے جو ایک رافضی ابن المطہر الحصی کے جواب میں لکھی گئی رافضی مصنف نے المنہاج الکرامۃ میں اپنے مذہب کو ثابت کرنے کے ساتھ اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی کیچڑ اچھالا اس پرامام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کاقلم جنبش میں آیا اور رافضی مؤلف کے اٹھائے ہوئے تمام اعتراضات واشکالات او رمطاعن ومصائب کامدلل ومسکت جواب ظہور پذیر ہوا۔شیخ الاسلام کی ہر بات عقل ونقل کی دلیل سے مزین اور محکم استدلال پرمبنی ہے آپ نے روافض کے تمام افکارونظریات کےتاروبود بکھیر کر رکھ دیئے ہیں خداوندقدوس شیخ الاسلام کو جزائے خیرعطافرمائے۔


  • 13 مسلمان عورت کا پردہ اور لباس (جمعرات 19 فروری 2009ء)

    عورت کےلیے پردہ اسلامی شریعت کا ایک واضح حکم ہے اور اس کامقصد بھی بالکل واضح ہے اسلام نے انسانی فطر ت کےعین مطابق یہ فیصلہ کیاہے کہ عورت او رمرد کے تعلقات پاکیزگی وصفائی اور ذمہ داری کی بنیادوں پراستوار ہوں اور اس میں کہیں کوئی خلل نہ آنےپائے اسی بناء پر ان تمام اسباب ومحرکات پر مکمل قدغن لگائی ہے جوغلط کا بیش خیمہ ہیں انہی میں سے ایک چہرے کاپردہ بھی ہے کہ اسی سے فتنے جنم لیتے ہیں زیرنظر کتاب شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے افادات پرمشتمل ہے جس میں یہ بتایاگیا ہے کہ نماز میں عورت کالباس کیسا ہونا چاہیے ضمناً اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نماز اور غیرنماز میں عورت کے پردے میں کیا فرق ہے انتہائی علمی اور لائق مطالعہ کتاب ہے


  • 14 ائمہ سلف اور اتباع سنت (بدھ 12 فروری 2014ء)

    قرآن اور سنت دین اسلام کے بنیادی ماخذ ہیں۔ حدیث اور قرآن کے وحی ہونے میں صرف اس حد تک فرق ہے کہ قرآن وحی متلو اور حدیث وحی غیر متلو ہے۔ لیکن فی زمانہ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی حدیث قرآن کے خلاف ہونے کا نعرہ مستانہ بلند کر کے اور کبھی ائمہ کرام کی تقلید کے باوصف احادیث رسولﷺ سے انحراف کا رجحان پایا جاتا ہے۔ جبکہ ائمہ کرام کے مختلف موقعوں پر کہے گئے اقوال اس بات کی ضمانت ہیں کہ دین میں حجت صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ ہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی اس کتاب میں ائمہ سلف اور سنت کے حوالے سے نگارشات پیش کی گئی ہیں۔ جس میں ائمہ اربعہ کا عمل بالحدیث اور ترک حدیث پر گتفتگو کرتے ہوئے ترک حدیث کے اسباب پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اردو ترجمہ پروفیسر غلام احمد حریری نے کیا ہے۔ (ع۔م)
  • 15 تصوف کی حقیقت ( اپ ڈیٹ) (بدھ 19 فروری 2014ء)

    ہر دور کے علمائے ربانی اور کتاب و سنت کی اتباع پر زور دیتے آئے ہیں اور وہ ان تمام طریقوں اور سلسلوں کی مذمت کرتے آئے ہیں جو کتاب و سنت کے خلاف تھے۔ ان علمائے ربانی میں ایک قد آور شخصیت شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی ہے۔ جو خلاف کتاب و سنت افکار و نظریات کی تردید کے لیے شمشیر برّاں ہیں۔ انہوں نے جس طرح دیگر شعبوں سے متعلق ان افکار و آراء کی تردید کی جو کتاب و سنت کے خلاف تھے اسی طرح انہوں نے ان افکار و نظریات پر بھی شدید تنقید کی جو تصوف کے نام سے مسلمانوں میں فروغ پا گئے تھے اور حقیقت میں اسلامی تعلیمات کے صریحاً خلاف تھے۔ صوفیا کے اسی قسم کے افکار و نظریات سے متعلق ان کی بعض تحریروں کو ’حقیقۃ التصوف‘ نامی کتاب میں یکجا کیا گیا تھا۔ زیر نظر کتاب اسی کتاب کا اردو قالب ہے جسے اردو میں مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے منتقل کیا ہے۔ کتاب کی افادیت میں اس اعتبار سے مزید اضافہ ہو گیا ہے کہ ترجمے کی نظر ثانی مولانا خالد سیف نے کی ہے۔ صوفیت سے متعلقہ بنیادی معلومات کے حصول کے لیے اس کتاب کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے
  • 16 الفرقان (اردو) (پیر 10 جون 2013ء)

    نبی کریمﷺ اور آپ کی امت کے بہت زیادہ فضائل و خصائص ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو دوستوں اور دشمنوں کے درمیان فرق بتانے کا ذمہ دار ٹھیرایا۔ اس لیے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ حضورﷺ پر اور جو کچھ وہ لائے ہیں اس پر ایمان نہ لائے اور ظاہر و باطن ان کا اتباع نہ کرے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت اور ولایت کا دعویٰ کرے اور حضور نبی کریمﷺ کی پیروی نہ کرے وہ اولیاء اللہ میں سے نہیں ہے۔ بلکہ جو ان سے مخالف ہو تو وہ اولیاء الشیطان میں سے ہےنہ کہ اولیاء الرحمٰن میں سے۔ اس موضوع پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے ’الفرقان‘ کے نام سے زیر نظر شاندار کتاب تالیف کی۔ جس میں اللہ کے دوستوں اور شیطان کے دوستوں کے مابین حقیقی فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگوں کو اولیاء اللہ کا درجہ دے دیا جاتا ہے جو دین کی مبادیات تک سے واقف نہیں ہوتے اور تو اور ایسے لوگ بھی ولی کے خطاب سے سرفراز ہوتے ہیں جنھیں زندگی میں کبھی نہانا بھی نصیب نہیں ہوا۔ ایسے میں شیخ الاسلام کی یہ کتاب ان جیسے خانہ زاد اولیاء کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ جس میں اولیاء اللہ کی پہچان کے ساتھ ساتھ بہت سارے اولیاء اللہ کا تعارف بھی کرایا گیا ہے۔ کتاب کا اردو ترجمہ مولانا غلام ربانی مرحوم نے کیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے...
  • 17 کتاب الاربعین ( ابن تیمیہ ) (جمعرات 04 جولائی 2013ء)

    شیخ السلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنے عہد کے وہ عظیم محدث ، مجتہد ، مجاہد ، مفتی اور غیور ناقد تھے جنہوں نے موقع کی مناسبت سے باطل مذاہب ومسالک کے ردود بھی لکھے اور فلسفیانہ ومنطقیانہ موشگافیوں کی اصل حقیقت بھی واضح فرمائی ، نیز عوام کے مسائل ہوں یا علما کی  ذہنی   الجھنیں ، آپ نے اپنے فتاوی کے ذریعے سے ان کا بہترین حل پیش جو آج  بھی اس راہ کے راہیوں کے لیے مشعل راہ ہے ۔ شیخ السلام کی ساری زندگی جدوجہد سے عبارت ہے آپ نے اپنے دور میں کتاب و سنت کی ترجمانی کی ، دین اسلام کی برتری اور اہل حق کی علمبرداری خود پر لازم کر رکھی تھی ۔ آپ نے جہاں  عقائد باطلہ اور فرق ضالہ کے خلاف قلمی جہاد کیا ، وہاں اخلاقیات ، عبادات ، معاملات اور حقوق وآداب پر بھی کئی کتابیں تحریر کیں ہیں ۔ انہیں میں سے ایک تصنیف لطیف کتاب الاربعین ہے جس میں ایک اسلامی زندگی کے مذکورہ گوشوں پر بڑی خوش اسلوبی سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اس کتاب کو محترم حافظ زبیر علی زئی نے اردو قالب میں  ڈھال کر اعلی تحقیق و تخریج سے مزین کیا ہے ، نیز مختصر جمع و فوائد اس پرطرہ ہیں ۔ محترم حافظ  صاحب دور حاضر میں حقیقی علمی درد رکھنے والے ہیں ۔ اللہ ان کی  دینی خدمات قبول فرمائے ۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے
  • 18 اتباع کتاب وسنت اور فقہی مذاہب (ہفتہ 19 اپریل 2014ء)

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ او رباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے ۔ زیر نطر کتاب فتاویٰ ابن تیمیہ کی جلد 19،20 کاترجمہ ہے جو کہ اتباع کتاب وسنت اور فقہی مذاہب کے اصول پرمبنی ان فتاوی جات کا مجموعہ ہے جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے قرآن وسنت سے اعراض برتنے والوں اور مبتدعین کے رد میں تحریر فرمائے۔فتاوی ابن تیمیہ کی ان دو جلدوں کا ترجمہ مولانا حافظ عبدالغفور (بانی جامعہ علوم اثریہ ،جہلم اور ان کے صاحبزدگان علامہ محمد مدنی  ،حافظ عبد الحمید عامر﷾ او ر...

  • امت ِ مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ دینِ اسلام کامل ہے او راس میں کسی قسم کی زیادتی او رکمی کرنا موجب کفر ہے ۔اس لیے ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی نےہم مسلمانوں پر صرف اللہ اور اس کے رسول کے امر کوواجب قرار دیا ہے کسی اور کی بات ماننا واجب اور فرض نہیں خاص طور پر جب اس کی بات اللہ اور اس کے رسولﷺ کے مخالف ہو۔زیارت ِ قبر نبوی سے متعلق سلف صالحین (- صحابہ ،تابعین،تبع تابعین) اور ائمہ کرام کا جو طرز عمل تھا وہ حدیث ،فقہ اور تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے فرمان نبویﷺ لاتشد الرحال إلا ثلاثة ( تین مسجدوں کے علاوہ عبادت اور ثواب کے لیے کسی اور جگہ سفر نہ کیا جائے ) کے پیشِ نظر قرونِ ثلاثہ میں کوئی رسول اللہ ﷺ یا کسی دوسرے کی قبر کی زیارت کے لیے سفر نہیں کرتا تھا ،بلکہ مدینہ میں بھی لوگ قبرنبوی کی زیارت کے باوجود وہاں بھیڑ نہیں لگاتے او رنہ ہی وہاں کثرت سے جانے کو پسند کرتے تھے ۔قبر پرستی کی تردید اور زیارتِ قبر کے مسنون اور بدعی طریقوں کی وضاحت کےلیے علمائے اہل حدیث نےبے شمار کتابیں لکھیں اور رسائل شائع کیے ۔زیر نظر کتاب''ر وضۂ رسول کی زیارت '' شیخ الاسلام ابن تیمیہ  کی کتاب الجواب الباہرفی زوار المقابر کا ترجمہ ہے ۔ترجمہ کی سعادت جید عالم دین معروف مترجم مولانا عطاء اللہ ثاقب ﷾ نےکی ہے اس کتاب میں امام ابن تیمیہ نے عقیدہ توحید ک...

  • عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ''عقیدہ واسطیہ''بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے امام ابن تیمیہ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ وفاق المدارس السلفیہ میں الشیخ خلیل ہراس کی شرح شامل نصاب ہے۔زیرنظر کتاب''شرح عقیدہ واسطیہ سوالاً جواباً''شیخ عبد العریز السلمان کی عربی کتاب''الاسئلة والاجوبة الاصولية على العقيدة الواسطية''کا اردو ترجمہ ہے ترجمہ کی سعادت محترم مولانا محمد اختر صدیق ﷾ (فاضل جامعہ لاہوالاسلامیہ ،لاہو ر وفاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے حاصل کی اور مکتبہ اسلامیہ نے اسے اعلی طباعتی معیار پر شائع کیا ہے ۔ فاضل مصنف نے عقیدے کے مسائل کو عمدہ اور آسان فہم انداز میں پیش کیاہےیہ کتاب دینی طلباء،اساتذہ کرام اور ع...

  • 21 اصول تفسیر (پیر 21 جولائی 2014ء)

    قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے،جسے اس نے دنیا کے لیےراہنما بنا کر بھیجا ہے۔اس کے کچھ الفاظ مجمل اور کچھ مطلق ہیں ،جن کی تشریح وتوضیح کے لیے نبی کریمﷺ کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا۔اس لیے صحابہ کرام ﷢کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے تھے،اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتےتھے۔اللہ کے نبیﷺ نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور ، اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب (اصول تفسیر)شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اصول قرآن اور اصول تفسیر پر بحث کی ہے۔ اس کا اردو ترجمہ مولانا عبد الرزاق صاحب ملیح آبادی﷫ نے کیا ہے اور مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی﷫ نے مفید تعلیق چڑھائی ہے۔قرآن مجید کی تفسیر میں گمراہی کا اصلی سبب اس حقیقت کو بھول جانا ہے کہ قرآن کے مطالب وہی درست ہیں ،جو اس کے مخاطب اول نے سمجھے اور سمجھائے ہیں۔قرآن محمد پر نازل ہوا ،اور قرآن بس وہی ہے جو محمد نے سمجھا اور سمجھایا ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ ہے ،یا تو علمی ،روحانی نکتے ہیں ،جو قلب مومن پر القا ہوں اور یا پھر اقوال وآراء ہیں۔اٹکل پچو باتیں ہیں ،جن کے محتمل کبھی...

  • 22 شرح عقیدہ واسطیہ (جمعرات 15 جنوری 2015ء)

    عقیدے  کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے  اللہ تعالیٰ نے ہر دور  میں انبیاء کو مبعوث کیا  حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م  نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی  تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو  خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں  عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ  الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ’’عقیدہ واسطیہ‘‘بھی اسی  سلسلے کی  ایک کڑی ہے ۔شیخ  الاسلام کی تالیفات وتصنیفات کی ورق گردانی  کرنے والے  اور ان کا گہرا مطالعہ کرنے والے  اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں  کہ انہوں نے   حق کے  دفاع اور اہل باطل کی تردید میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔امام ابن تیمیہ کی  کتاب عقیدہ واسطیہ کے مفہوم  ومطلب کو واضح کرنے  کے لیے  الشیخ  محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ زیرنظر کتاب’’شرح عقیدہ واسطیہ‘‘معروف سعودی عالمِ دین ومفتی فضلیۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین﷫ کی تصنیف ہے ۔جس کے ترجمہ کی سعادت محترم  پروفیسر جار اللہ ضیا ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے حاصل کی  اور الفرقان ٹرسٹ نے  اسے اعلی طباعتی معیار پر شائع کیا ہے ۔...

  • 23 مسائل ستر و حجاب (منگل 27 جنوری 2015ء)

    عورت کے لیے  پردہ اسلامی شریعت کا ایک  واضح حکم ہے اور اس کامقصد بھی بالکل واضح ہے ۔ اسلام نےانسانی فطرت کے عین مطابق یہ  فیصلہ کیا ہے کہ  عورت او رمرد کے تعلقات پاکیزگی،صفائی اور ذمہ داری کی بنیادوں پر استوار ہوں اس میں کہیں کوئی خلل نہ آنےپائے ۔اور عورت کے لیے  پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر  دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ مردکی تمام تر شہوانی  کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے  سلسلے میں  معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم  کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس  کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم  کی رو سے عورت پر پردہ  فرض ِعین ہے  جس کا تذکرہ  قرآن   کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے  اور  کتبِ احادیث میں اس کی  صراحت موجو د ہے  ۔کئی  اہل علم نے  عربی  واردو زبان  میں  پردہ کے  موضوع پر متعدد کتب  تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مسائل وستر وحجاب‘‘ شیخ  الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کی بعض تحریروں سے مقتبس ہے ۔جس میں   نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں احکام ستر وحجاب  کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے  ۔بالخصوص چہرے...

  • 24 روزے کی حقیقت (ہفتہ 28 فروری 2015ء)

    روزہ اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے اور رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں،برکتوں، کامیابیوں اور کامرانیوں کا مہینہ ہے ۔اپنی عظمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے دیگر مہینوں سے   ممتاز ہے ۔رمضان المبارک وہی مہینہ ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں اللہ تعالی جنت کے دروازے کھول دیتا ہے او رجہنم   کے دروازے بند کردیتا ہے اور شیطان کوجکڑ دیتا ہے تاکہ وہ اللہ کے بندے کو اس طر ح گمراہ نہ کرسکے جس طرح عام دنوں میں کرتا ہے اور یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور سب سے زیاد ہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی کا انعام عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی جانے والی عبادات ( روزہ ،قیام ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت لیلۃ القدر وغیرہ )کی بڑی فضیلت بیان کی   ہے ۔روزہ کے احکام ومسائل سے   ا گاہی ہر روزہ دار کے لیے ضروری ہے ۔لیکن افسوس روزہ رکھنے والے بیشتر لوگ ان احکام ومسائل سےلا علم ہوتے ہیں،بلکہ بہت سے افراد تو ایسے بھی ہیں جو بدعات وخرافات کی آمیزش سے یہ عظیم عمل برباد کرلینے تک پہنچ جاتے ہیں ۔   کتبِ احادیث میں ائمہ محدثین نے   کت...

  • 25 تفسیر آیت کریمہ (ہفتہ 18 اپریل 2015ء)

    زیر تبصرہ کتاب "تفسیر آیت کریمہ "شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫  کی تصنیف ہے جو انہوں نے ان آٹھ سوالوں کے جواب میں لکھی جو ایک سائل نے آیت کریمہ(لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین)  کے ضمن میں پیدا ہونے والے سوال امام ممدوح کی خدمت میں پیش کئے تھے۔یہ تمام سوالات کتاب کی تمہید میں بالترتیب ذکر کر دئیے گئے ہیں۔امام ابن تیمیہ ﷫ کی یہ کتاب عربی میں ہے ،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحیم﷫ ناظم دار العلوم پشاور نے کیا ہے،تاکہ عوام الناس پوری طرح اس سے استفادہ کر سکیں۔نئی طباعت کے وقت اسے از سر نو ترتیب دیا گیا ہے اور مکتبہ ابن تیمیہ کی جانب سے اسے عصرحاضر کے تقاضوں کے عین مطابق شائع کیا گیا ہے۔کتاب کے سات ابواب بنائے گئے ہیں اور کہیں کہیں اسے مزید آسان بنانے کی غرض سے حاشیہ آرائی بھی کی گئی ہے،تاکہ ہر عام وخاص اس سے استفادہ کر سکے۔کتاب کے شروع میں امام ابن تیمیہ ﷫ کے حالات بھی قلم بند کر دئیے گئے ہیں،تاکہ کتاب پڑھنے سے پہلے مطالعہ کرنے والے کے ذہن پر مصنف کی ہمہ گیر شخصیت کا اثر پڑ سکے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 26 ائمہ اسلام (اتوار 14 جون 2015ء)

    غلطی  ہر شخص سے ہوتی ہے ،لیکن شرعی مسائل کے استنباط میں علماء ومجتہدین سے جو غلطیاں ہوئیں،اگرچہ وہ سخت نتائج پیدا کرتی ہیں ،تاہم اگر ان پر بھی سکتی کے ساتھ دار وگیر کی جاتی تو اجتہاد کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوجاتا،اور اسلام نے علماء کو جو عقلی آزادی عطا فرمائی ہے،اور اسے جو منافع امت کو پہنچے ،وہ ان سے محروم رہ جاتی،یہی وجہ ہے کہ شریعت نے اجتہادی غلطیوں کو قابل ثواب قرار دیا  اور ان پر علماء کو اجر کی بشارت دی ہے۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے انسانی عقل کے لئے کس قدر وسیع فضا پیدا کر دی ہے۔شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے حدیث کی اسی بشارت کو پیش نظر رکھ کر اپنے مخصوص انداز میں اس مسئلہ پر نہایت وسعت نظر سے بحث کی ہے،اور اپنے ایک مستقل رسالہ میں پہلے ائمہ اسلام کی خطا اجتہادی پر تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا ہے اور پھر مختلف دلائل سے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی اجتہادی غلطیوں  پر قابل مواخذہ ہونے کے بجائے عند اللہ ماجور ہیں،اس لئے کوئی شخص اس بات کا حق دار نہیں ہے کہ وہ ائمہ کی اجتہادی غلطیوں پر طعن وطنز کرے۔ زیر تبصرہ کتاب"ائمہ اسلام "شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫کے اسی رسالے "رفع الملام عن ائمۃ الاعلام" کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ محترم سید ریاست علی ندوی رفیق دار المصنفین نے کیا ہے۔جس میں ان کی طرف سے یہ بھرپور یہ کوشش کی گئی ہے کہ امام ابن تیمیہ ﷫...

  • 27 روزہ اور اس کی حقیقت (ہفتہ 27 جون 2015ء)

    روزہ اسلام کا ایک  بنیادی رکن ہے اور رمضان المبارک اسلامی سال کا  نواں مہینہ ہے  یہ مہینہ  اللہ تعالیٰ کی رحمتوں،برکتوں، کامیابیوں اور کامرانیوں کا مہینہ ہے ۔اپنی عظمتوں اور برکتوں کے  لحاظ سے  دیگر مہینوں سے   ممتاز  ہے  ۔رمضان المبارک وہی مہینہ  ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی  کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں  اللہ تعالی  جنت  کے دروازے کھول  دیتا ہے  او رجہنم   کے دروازے  بند کردیتا ہے  اور شیطان  کوجکڑ دیتا ہے تاکہ  وہ  اللہ کے بندے کو اس طر ح  گمراہ  نہ کرسکے  جس  طرح عام دنوں میں کرتا  ہے اور یہ ایک ایسا  مہینہ ہے  جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے  بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور  سب  سے زیاد ہ  اپنے بندوں کو  جہنم  سے آزادی کا انعام  عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے  روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے  نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی  جانے والی عبادات  ( روزہ ،قیام  ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت  لیلۃ القدر وغیرہ )کی  بڑی فضیلت بیان کی   ہے ۔روزہ  کے  احکام ومسائل  سے   ا گاہی  ہر روزہ دار کے لیے  ضروری ہے  ۔لیکن افسوس روزہ رکھنے والے بیشتر لوگ ان احکام ومسائل سےلا علم ہوتے ہیں،بلکہ بہت سے افراد تو ایسے بھی ہیں جو بدعات وخرافات کی آمیزش سے  یہ عظیم عمل برباد کرلینے تک پہنچ...

  • 28 مناسک حج (جمعرات 27 اگست 2015ء)

    بیت اللہ کا حج  ارکانِ اسلام میں ایک اہم ترین  رکن ہے۔ بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اورآرزو ہے۔ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر  زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے، اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ کہ آپ نےفرمایا "الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة "حج مبرور کا ثواب جنت کے  سوا کچھ نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں زیرنظر کتاب "مناسک حج"شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کی شاندار تصنیف ہے۔جس کا اردو ترجمہ مولانا عبد الرحیم ﷫ ناظم مکتبہ علوم مشرقیہ دار العلوم پشاورنے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب  میں حج کے متعلقہ تمام مسائل او ر اس دوران پڑھی جانے والی دعائیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جمع کر دی گئی ہیں ۔ ان کی مرتب کردہ یہ دلکش کتاب خود پڑھنے اور عزیز واقارب دوست احباب کو تحفہ دینے کے لائق ہے تاکہ حج وعمرہ اور قربانی وعیدین کے فرائض مسنون طریقے سے ادا کیے جاسکیں اللہ تعالی ان  کی اس کاوش کو اہل اسلام کے لیے مفید بنائے۔آمین۔(راسخ)

  • 29 سیاست شرعیہ اردو (پیر 14 ستمبر 2015ء)

    ساتویں صدی ہجری کا دور ابتلاء وآزمائش کا دور تھا،اور اس کی سب سے بڑی وجہ اخلاق واعمال میں کتاب وسنت سے دامن بچانے کا مرض تھا۔امام ابن تیمیہ ﷫ کے لئے یہ صورت حال بڑی تکلیف دی تھی،آپ اس صورتحال کو برداشت نہ کر سکے،قلم سنبھالا،تلوار اٹھائی،وعظ وتقاریر کا سلسلہ چھیڑا اور جب مخالفت شروع ہوئی تو بے خطر مخالفت کے عظیم سمندر میں کود پڑےاور چراغ حرم کے پروانوں کو میر کارواں کی طرح پکارنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ مذہبی ابتری اور سیاسی انتشار میں اتحاد وجمعیت کی صورتیں نظر آنے لگیں۔عصر حاضر میں مسلمانوں کے سیاسی نظریات میں جو تزلزل پایا جاتا ہے وہ ساتویں صدی ہجری سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے۔صرف پاکستان ہی میں نہیں تمام دنیا میں مسلمان سیاسی توازن قائم رکھنے میں بڑی حد تک ناکام ہوتے جا رہے ہیں۔جس کی سب سے بڑی وجہ ان اصولوں سے دوری  اور بے تعلقی ہے جن کو اسلام میں سیاست شرعیہ کہا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " سیاست شرعیہ " امام ابن تیمیہ ﷫ کی ایک عظیم الشان اور تاریخی کتاب ہے،جس میں انہوں نے اسلامی سیاست کو کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا ہے اور یہ بات مکمل طور پر واضح کر دی ہے کہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لئے خواہ وہ انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا اخلاق ومعاملات سے ،اسلام نے جو نظام پیش کیا ہے وہ نہ صرف آخری ولازمی ہے بلکہ اس پر کاربند ہوئے بغیر نہ معاشرے میں...

  • 30 الوصیۃ الکبریٰ (ہفتہ 14 نومبر 2015ء)

    عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’الوصیۃ الکبریٰ‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کا تحریر شدہ ہے ۔اس میں انہوں نے فرقۂ ناجیہ اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد کی تحقیق پیش کی ہے ۔ یہ کتاب امام ابن تیمیہ نے ابو البرکات عدبن مسافر اموی  کےپیروکاروں کی اصلاح کےلیے لکھی تھی ۔اصل کتاب میں عناوین کی تقسیم نہیں تھے لیکن مترجم نے قارئین کی سہولت اورتفہیم کےلیے سو عناوین قائم کرکے کتاب کو عام فہم بنادیا ہے ۔اس کتاب کو حافظ محمدشریف عبد الغنی ﷫ نے تقریبا 90سال قبل ترجمہ کروا کر شائع کیا۔(م۔ا)

  • 31 منہاج السنہ جلد اول (اتوار 22 نومبر 2015ء)

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے زیرنظر کتاب '' مختصر منہاج السنۃ'' شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی ایک شہرۂ آفاق کتاب’’ منہاج السنۃ‘‘ کا اختصار و اردو ترجمہ ہے۔ منہاج السنۃ ایک مشہور رافضی شیعہ عالم حسن بن یوسف بن علی بن المطہر الحلی کے جواب میں لکھی گئی۔ رافضی مصنف نے المنہاج الکرامۃ فی معرفۃ الامامۃ‘‘ کےنام سے ایک کتاب تصنیف کی ‘‘ ۔یہ کتاب اہل سنت وشیعہ کےمابین متنازع مسائل ومباحث سےلبریز اور من...

  • 32 منہاج السنہ جلد دوم (پیر 23 نومبر 2015ء)

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے زیرنظر کتاب '' مختصر منہاج السنۃ'' شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی ایک شہرۂ آفاق کتاب’’ منہاج السنۃ‘‘ کا اختصار و اردو ترجمہ ہے۔ منہاج السنۃ ایک مشہور رافضی شیعہ عالم حسن بن یوسف بن علی بن المطہر الحلی کے جواب میں لکھی گئی۔ رافضی مصنف نے المنہاج الکرامۃ فی معرفۃ الامامۃ‘‘ کےنام سے ایک کتاب تصنیف کی ‘‘ ۔یہ کتاب اہل سنت وشیعہ کےمابین متنازع مسائل ومباحث سےلبریز اور من...

  • 33 اردو ترجمہ کتاب الوسیلہ (پیر 30 نومبر 2015ء)

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علومِ اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاویٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے زیر تبصرہ کتاب’’ اردو ترجمہ کتاب الوسیلہ‘‘امام ابن تیمیہ ﷫ کی ان معرکۂ آراء تصنیفات میں سے ایک ہےجن میں امام  نے بڑی تفصیل کے ساتھ بدعات اور عوام میں مروجہ افکار ونظریات کی تردید وابطال کیا ہے۔ مسئلہ وسیلہ ان مسائل میں سے ہے جن پر اہل بدعت بہت زیادہ زور دیتے ہیں ۔ امام ﷫ نے کتاب وسنت کی روشنی میں بڑے دل نشیں اور مؤثر انداز میں اس کی نقاب کشی کی اور حق کی راہ دکھلائی...

  • عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ’’عقیدہ واسطیہ‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے امام ابن تیمیہ﷫ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ وفاق المدارس السلفیہ میں الشیخ خلیل ہراس کی شرح شامل نصاب ہے۔ زیرتبصرہ کتاب’’ عقیدہ اہل سنت الجماعت ‘‘شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کی شہرہ آفاق تالیف عقیدہ واسطیہ کی شرح کاترجمہ ہے ۔یہ شرح وتوضیح فضیلۃ الشیخ محمد ہراس کی ہے۔ شیخ موصوف نے نہایت سلیس شگفتہ انداز میں عقیدہ واسطیہ کی شرح فرمائی ہے۔ اس شرح کا یہ سلیس و آسان فہم ترجمہ معروف عالم دین مصنف ومترجم کتب کثیرہ مولانا محمد صادق خلیل ﷫ نے عقیدہ اہل سنت والجماعت کےنام سے کیا ۔ جسے مدارس کے اساتذہ وطلباء کے ہاں بڑی مقبولیت حاصل ہو...

  • اللہ اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے  سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ابتدائے اسلام میں شرک کے اندیشے کے پیش نظر قبروں کی زیارت سے منع کردیا گیا تھا اور پھر عقیدہ توحید پختہ ہوجانے کے بعد اس کی اجازت دے دی گئی۔زیارتِ قبور  ایک جائز ومستحب بلکہ مسنون  عمل ہے۔ نبی کریم ﷺبھی قبروں کی زیارت کے لئے  تشریف لے جاتے اور اہل قبور کے لیےدعا کرتے اور فرماتے تم  قبروں کی زیارت  کیاکرو، وہ دنیا سے بے رغبتی کا سبب بنتی ہیں اور آخرت  کی یاد دلاتی ہیں۔آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ زیارتِ قبور  یادِ آخرت کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصر...

  • شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔فکر وعقیدہ کی گمراہیوں میں سے شرک اور بدعت دو بڑی گمراہیاں ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتب میں ان دونوں گمراہیوں پر مفصل کلام موجود ہے۔آپ کی کتابوں میں سے  ’’اقتضاء الصراط المستقیم فی مخالفۃ اصحاب لجحیم‘‘ایک ممتاز مقام رکھتی ہے ۔اس کتاب کا موضوع بدعات ہیں ۔ شیخ الاسلام نے اپنی اس کتاب میں اپنے زمانے میں پائی جانے والی متعدد بدعات کی نشاندہی کی ہے اور ان کا رد کیا ہے۔اور غیر مسلموں سےمشابہت او ران کےخاص د...

  • 37 مومنات کا پردہ اور لباس (جمعرات 03 مارچ 2016ء)

    اسلام دینِ فطر ت اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس ضابطہ حیات میں ہر دو مرد وزن کی حفاظت وتکریم کے لیے ایسے قواعد مقرر کئے گئے ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں نہ کوئی دقت پیش آتی ہے نہ فطرت سلیم انہیں قبول کرنے میں گرانی محسوس کرتی ہے۔ اسلام باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس   کے تحفظ کے لیے تعزیری قوانین نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے ۔عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن   کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجو د ہے ۔کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں پردہ کے موضوع پرمتعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’مومنات کاپردہ اورلباس‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب کا ترجمہ ہے۔اس کتاب میں انہوں نے عور...

  • 38 تفسیر سورہ اخلاص (جمعہ 01 اپریل 2016ء)

    سورۂ اخلاص قرآن کریم کی مختصر اور اہم ترین سورتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک تہائی قرآنی موضوعات کا احاطہ کرتی ہے اور توحید کا محکم انداز میں اثبات کرتی ہے۔ اس کےشان نزول کے سلسلے میں مسنداحمدمیں روایت ہے کہ مشرکین نے حضورﷺ سے کہا اپنے رب کے اوصاف بیان کرو، اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی ۔اور اس سورۃسے محبت جنت میں جانے کا باعث ہے اسی لیے بعض ائمہ کرام نماز میں کوئی سورۃ پڑھ کر اس کے ساتھ سورۃ اخلاص کو ملاکرپڑھتے ہیں صحیح بخاری میں ہے کہ حضورﷺنے ایک لشکر کو کہیں بھیجا جس وقت وہ پلٹے تو انہوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ آپ نے ہم پر جسے سردار بنایا تھا وہ ہر نماز کی قرات کے خاتمہ پر سورۃ قل ھواللہ پڑھا کرتے تھے، آپ نے فرمایا ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ پوچھنے پر انہوں نے کہا یہ سورۃ اللہ کی صفت ہے مجھے اس کا پڑھنا بہت ہی پسند ہے ،حضورﷺنے فرمایا انہیں خبر دو کہ اللہ بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔اور اسی طر ح ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک انصاری مسجد قبا کے امام تھے،ان کی عادت تھی کہ الحمد ختم کرکے پھر اس سورۃ کو پڑھتے، پھر جونسی سورۃ پڑھنی ہوتی یا جہاں سے چاہتے قرآن پڑھتے۔ایک دن مقتدیوں نے کہا آپ اس سورۃ کو پڑھتے ہیں پھر دوسری سورۃ ملاتے ہیں یہ کیا ہے؟ یاتو آپ صرف اسی کو پڑھئے یا چھوڑ دیجئے دوسری سورۃ ہی پڑھ لیاکریں ،انہوں نے جواب دیا کہ میں تو جس طرح کرتا ہ...

  • 39 اسلام اور غیر اسلامی تہذیب (جمعہ 20 مئی 2016ء)

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اس کی اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے باوجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں ہیں ۔
    زیر تبصرہ کتاب’’اسلام اور غیر اسلامی تہذیب‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم میں سے اسلامی تہذیب وثقافت پر مشتمل حصہ کا اختصار وترجمہ ہے ۔اس میں امام ابن تیمیہ ﷫ نے اسلامی تہذیب کے اصول...

  • 40 تفسیر امام ابن تیمیہؒ (جمعرات 12 مئی 2016ء)

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ (661۔728ھ) کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے، آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی، آپ نے جس طر ح اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا۔ او رباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعد رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت، کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسرکی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔تفسیر، حدیث، فقہ، علم فقہ، علم کلام، منطق، فلسلفہ، مذاہب وفرق اورعربی زبان وادب کاگوشہ ایسا نہیں ہے جس پر آب نےگراں قدر علمی سرمایہ نہ چھوڑا ہو۔ آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے۔شیخ الاسلام کو قرآن سے گہرا لگاؤ تھا۔ فتاوی کی 37 جلدوں میں سے جلد 15،16،17 قرآن مجید کی مختلف آیات وسور کی تفسیر پر مشتمل ہیں ۔تفسیرآیت کریمہ ، تفسیر سورت اخلاص، تفسیرمعوذتین الگ کتابی صورت میں شائع ہوئی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’...

  • عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ’’عقیدہ واسطیہ‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے   امام ابن تیمیہ﷫ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ الشیخ خلیل ہراس کی شرح العقیدۃ الواسطیۃ پاک و ہند کےاکثر مدارس وجامعات کے نصاب میں شامل ہے ۔ اس کتاب میں   عقیدۂ سلف کو قرآن وصحیح احادیث کی روشنی میں واضح کیاگیا ہے ساتھ ہی ساتھ باطل فرقوں کے اعتقادات کا دلائل کی روشنی میں رد بھی کیاگیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ صحیح اسلامی عقائد اردو ترجمہ شرح العقیدۃ الواسطیۃ‘‘ فضیلۃ الشیخ خلیل ہراس کی تالیف کردہ شرح عقیدہ واسطیہ کا   اردو ترجمہ ہے ۔یہ ترجمہ انڈیا کے ایک عالم مولوی جاوید عمری   کی کاوش ہے ۔شیخ خلیل ہراس کی یہ شرح عقیدہ سے متعل...

  • نبی کریمﷺ اورآپ کی امت کے بہت زیادہ فضائل و خصائص ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو دوستوں اور دشمنوں کے درمیان فرق بتانے کا ذمہ دار ٹھیرایا۔ اس لیے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ حضورﷺ پر اور جو کچھ وہ لائے ہیں اس پر ایمان نہ لائے اور ظاہر و باطن ان کی اتباع نہ کرے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت اور ولایت کا دعویٰ کرے اور حضور نبی کریمﷺ کی پیروی نہ کرے وہ اولیاء اللہ میں سے نہیں ہے۔ بلکہ جو ان سے مخالف ہو تو وہ اولیاء الشیطان میں سے ہےنہ کہ اولیاء الرحمٰن میں سے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےاپنی کتاب  میں اوراپنے رسول ﷺ کی سنت  میں بیان فرما دیا ہےکہ لوگوں میں سے  اللہ  تعالیٰ کے دوست بھی ہیں اور شیطان کے بھی اور اولیاء رحمٰن اور اولیاء شیطان کے  درمیان  جو فرق ہے  وہ بھی ظاہر کردیا ہے ۔اس موضوع پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے ’’الفرقان بین اولیاء الرحمٰن واولیاء الشیطان‘‘ کے نام سے شاندار کتاب تالیف کی۔ جس میں اللہ کے دوستوں اور شیطان کے دوستوں کے مابین حقیقی فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگوں کو اولیاء اللہ کا درجہ دے دیا جاتا ہے جو دین کی مبادیات تک سے واقف نہیں ہوتے اور تو اور ایسے لوگ بھی ولی کے خطاب سے سرفراز ہوتے ہیں جنھیں زندگی میں کبھی نہانا بھی نصیب نہیں ہوا۔ ایسے میں شیخ الاسلام کی یہ کتاب ان جیسے خان...

  • امت مسلمہ صرف ’کلمہ گو‘ جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے ۔ یہ اس کے دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرافرازی اور آخرت کی سرخروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں ، بنی آدم کو اس کا درس اور اس کی مخالف سمت چلنے سے ان کو روکے ۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔ مسلم معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے کہ کلمہ حق کہے ،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرے اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کوروکنے میں اپنی ممکن حد تک پوری کوشش صرف کردے ۔ ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں ۔ برائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ ہوں او ر نیکی کا غلبہ رہے۔ برے لوگ کم ہوں اور برائی مغلوب رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیا...

  • 44 اتباع الرسول بصریح المعقول (جمعرات 15 جون 2017ء)

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی اصلاحی وتجدیدی زندگی کا واحد مشن یہ تھا کہ اسلام فکر وعمل کی جن بدعات کا شکار ہوگیا ہے اور اس کے صاف ستھرے عقائد وتصورات میں آلائش اور بگاڑ کی جو صورتیں ابھر آئی ہیں ان کو دور کیا جائے اور بتایا جائے کہ اصلی اور حقیقی اسلام کا ان مزخرفا سے دورکا بھی تعلق نہیں ہے۔آپ کی ساری عمر اسلام کے رخ زیبا کو سنوارنے اور جلا بخشنے میں بسر ہوئی ہے۔آپ کی تگ ودو، تحریر وتقریر اور غور وتعمق کا موضوع ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اس سر چشمہ حیات کو کیوں کر اس انداز سے پیش کیا جائے کہ پیاسی اور تشنہ روحیں پھر سے تسلین حاصل کر سکیں۔ اور یہ واقعہ ہے کہ جس اخلاص، جس زور اور بلند آہنگی کے ساتھ امام ابن تیمیہ﷫ نے تجدیدواصلاح کے اس فریضے کو انجام دیا، اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اتباع الرسول بصریح المعقول " میں بھی امام ابن تیمیہ﷫ نے اسلام کی روشن تعلیمات کو اجاگر کیا ہے۔کتاب کا اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحمن عزیز صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف  اور مترجم کی اس خدمت کو  اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 45 العقیدۃ الواسطیۃ اردو (اتوار 02 اپریل 2017ء)

    عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی۔ عقیدہ توحید کی تعلیم و تفہیم کے لیے   جہاں نبی کریمﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نے بھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کی کتاب ’’عقیدہ واسطیہ‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ رسالہ آپ نے مقام واسط کے قاضی شیخ رضی الدین واسطی شافعی کی فرمائش پر تحریر کیا اور اسے اپنے عقیدہ کی بنیاد قرار دیا جس وجہ اس مختصر رسالہ کی امام صاحب کی عقیدہ کے متعلق تصنیف کردہ دوسری کتب سے اہمیت زیادہ ہے۔ امام ابن تیمیہ﷫ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس، الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں۔ عقیدہ واسطیہ اپنی افادیت وجامعیت کی وجہ سے کئی عرب یونیورسٹیوں اور پاک و ہند کے عربی اسلامی مدارس میں شامل نصاب ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’عقیدہ واسطیہ‘‘ کے متن کا ترجمہ ہے یہ ترجمہ شیخ صفی احمد مدنی نے کیا ہے۔ تاکہ مدارس کے طلب...

  • دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ‏ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ‏ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین ‏مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔‏ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے ‏برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حکمران بیورو کریسی اور عوام‘‘ امام ابن تیمیہ﷫ کی معروف کتاب ’’السیاسیۃ الشرعیہ‘‘  کا اردو رترجمہ ہے جس میں انہوں نے اسلامی سیاست کو کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا ہے اور یہ بات مکمل طور پر واضح کر دی ہے کہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لئے خواہ وہ انتظامیہ سے تعلق رکھتے...

  • مسئلہ آخرت کاہو یا دنیا کاانسان ’’ وسیلہ‘‘ کامحتاج ہے ۔ وسیلہ زندگی کی ایک بنیادی حقیقت ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کااعتراف ہرحقیقت پسند کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اہل یمان کووسیلہ کاحکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدہ) ’’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اوراس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ‘‘۔وسیلہ کامطلب ہے ایسا ذریعہ استعمال کیا جائے جو مقصود تک پہنچا دے۔توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر اور قبر کے قریب کا درخت۔اس خیال سے کہ ''بڑے کا پڑوسی بھی بڑا ہوتا ہے''۔اور صاحب قبر کے لئے اﷲکا اکرام قبر کو بھی پہنچتا ہے 'جس کی وجہ سے قبر کا وسیلہ بھی اﷲکے پاس درست ہوجاتا ہے ۔یہ...

  • 48 تفسیر معوذتین (جمعہ 16 دسمبر 2016ء)

    قرآن مجید کی آخری دو سورتوں سورۃ الناس اور سورۃ الفلق کو مشترکہ طور پر مُعَوِّذَتَیُن کہا جاتا ہے۔اگرچہ قرآن مجید کی یہ آخری دوسورتیں خود الگ الگ ہیں، اور مصحف میں الگ ناموں ہی سے لکھی ہوئی ہیں، لیکن ان کے درمیان باہم اتنا گہرا تعلق ہے، اور ان کے مضامین ایک دوسرے سے اتنی قریبی مناسبت رکھتے ہیں کہ ان کا ایک مشترک نام "مُعَوِّذَتَیُن" (پناہ مانگنے والی دو سورتیں) رکھا گیا ہے۔ یہ دو سورتیں سورہ فلق اور سورہ الناس خاص فضیلت وبرکت کی حامل ہیں۔بالخصوص یہ دو سورتیں جادو کا تریاق ہیں اور ان کی تلاوت سے انسان جادوزہریلے جانوروں کی کاٹ اور شیطان کے تسلط اور اس کی شرانگیزیوں سے محفوظ رہتا ہے۔ لہذا فرض نماز کے بعد صبح وشام کے اوقات میں اور نیند سے پہلے ان دو سورتوں سمیت سورہ اخلاص کی تلاوت کو ضروری معمول بنانا چاہیے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ : رسول الله ﷺ جب بیمار ہوتے تو مُعَوِّذَات ( سورۃ اخلاص ، سورۃ فلق، سورۃ الناس ) پڑھ کر اپنے اوپر  پهونک مارتے، پھر جب (مرض الوفات میں) آپ کی تکلیف زیاده ہوگئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر رسول الله ﷺ پر پڑھتی  تهی اور اپنے ہاتھوں کو برکت کی امید سے آپ کے جسد مبارک پر پھیرتی تھی۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ اوران کے نامور شاگر امام ابن قیم ﷫ نے ا ن دونوں سورتوں  کی  الگ  ال...

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 514
  • اس ہفتے کے قارئین: 16820
  • اس ماہ کے قارئین: 55498
  • کل مشاہدات: 40188761

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں