طارق اکیڈمی، فیصل آباد

33 کل کتب
دکھائیں

  • 1 ذکر الہی (اتوار 25 اکتوبر 2009ء)

    مشاہدات:20035

    دین اسلام میں ذکر الہی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور انسان کا اللہ  تعالی سے تعلق کو گہرے کرنے والی سب سے بنیادی چیز بھی ذکر الہی ہے-مصنف نے اپنی کتاب میں ذکر کے معنی ومفہوم کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ذکر کی اہمیت ،ذکر کا طریقہ کار،ذکر کی مختلف اقسام،ذاکر کی فضیلت اور ذکر کے فوائد وثمرات کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے-اس کے ساتھ ساتھ یہ واضح کیا ہے کہ ذکر کی سب سے بہترین صورتیں کون سی ہو سکتی ہیں اور ذکر الہی سے انسان کس طرح گناہوں سے بچ کر نیکیوں میں سبقت حاصل کرتا ہے-ذکر الہی چونکہ عبادت ہے تو مصنف نے اس چیز کو بھی تفصیل سے بیا ن کیا ہے کہ ذکر الہی کے آداب وتقاضے کیا ہیں،محفل ذکر کی اللہ تعالی کے ہاں کتنی فضیلت ہے اور ذکر کرنے والوں کو اللہ تعالی کیا کیا انعامات سے نوازتے ہیں اور ذکر کرنے سے جنت میں درجات کیسے بڑھتے ہیں-

  • 2 زبان کی آفتیں اور تدابیر (بدھ 28 اپریل 2010ء)

    مشاہدات:13495

    زبان عجائبات صفت الٰہی سے ہے اگرچہ گوشت کا ایک ٹکڑا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتوں اور صنائع لطیفہ میں سے ہے۔ اس کا گناہ بھی سب سے زیادہ ہے اور طاعت بھی سب سے بڑھ کر، کیوں کہ ایمان و کفر کی شہادت زبان ہی سے ظاہر ہوتی ہے۔ دور حاضر میں عوام و خواص ایسی چیزوں میں مبتلا ہیں جو زبان سے صادر ہونے والی مصیبتیں اور گناہ ہیں۔ اس چھوٹی سی زبان میں کیا کیا خوبیاں اور کیا کیا خرابیاں ہیں اس طرف لوگوں کا ذہن جاتا ہی نہیں۔ زیر تبصرہ کتاب میں زبان کی بڑی بڑی آفتوں اور ان سے بچاؤ کی تدابیر کو یکجا کیا گیا ہے ، جن سے بے توجہی اور غفلت عام اور شدید ہے۔ حتی کہ ادراک و احساس اور گناہ کا تصور بھی ختم ہو چکا ہے۔

  • 3 وہابی تحریک (جمعہ 30 اپریل 2010ء)

    مشاہدات:15830

    ایک مصری بزرگ ڈاکٹر محمد بہی کی تصنیف "الفکر الاسلامی فی تطورہ" جس میں امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اور آپ کی تحریک احیاء و تجدید دین سے متعلق نہایت کچی، سطحی اور سنی سنائی باتوں پر انحصار کرتے ہوئے خوب زور قلم صرف کیا گیا ہے، کا نہایت متین اور شستہ انداز میں جواب زیر تبصرہ کتاب میں سعودی عرب کے ڈاکٹر محمد خلیل راس نے دیا ہے۔ جس میں ڈاکٹر صاحب کے ایک ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے اور ایک ایک غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی ثقاہت اور متانت کیلئے یہ عرض کر دینا شاید کافی ہو کہ اسے اسلامک یونیورسٹی مدینہ منوّرہ نے زیور طباعت سے آراستہ کرایا ہے۔
     

  • 4 مرزائیت نئے زاویوں سے (ہفتہ 11 دسمبر 2010ء)

    مشاہدات:16891

    نبوت کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد اپنے اختتام کو پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی بھی نبی دنیا میں ظہور پذیر نہیں ہوگا۔ لیکن ملک و ملت کے دشمنوں نے اپنے اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد کا رنگ دیا جو بعد میں مسیح موعود اور نبی و رسول کا روپ دھار گیا۔ ایسے میں مولانا حنیف ندوی کا قلم کیسے خاموش رہ سکتا تھا کیونکہ مولانا حنیف ندوی علم و فضل کی جس وسعت اور فکر و نظر کی جس گہرائی سے مالا مال تھے شاید ہی کوئی اور شخص ان کے اس مقام بلند کو چھو سکنے والا ہو۔ زیر نظر کتاب ’مرزائیت نئے زاویوں سے‘ مولانا کی وہ شاہکار تصنیف ہے جس نے مرزائیت کے علمبرداروں کو ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ مولانا نے ابطال باطل اور احقاق حق کا فریضہ پوری تندہی سے ادا کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا پیش کردہ تصور نہایت گھٹیا اور غیر حکیمانہ ہے۔ اور اس سے سوا قیل و قال اور چند حوالوں اور مناظرانہ ہتھکنڈوں کے اور کچھ حاصل نہیں۔ کتاب سے وہ لوگ بہت مستفید ہوں گے جو غلط فہمی سے مرزائیت کا شکار ہو گئے ہیں۔ کتاب میں جہاں مولانا نے ختم نبوت پر آیات و احادیث کے حقائق پیش کرتے ہوئے ختم نبو ت کے حدود و اطلاق پر قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے وہیں خلافت مرزائیہ پرانتہائی اہم اور اصولی ابحاث بھی پیش کی ہیں۔

  • 5 ائمہ سلف اور اتباع سنت (اتوار 29 اپریل 2012ء)

    مشاہدات:20394

    قرآن اور سنت دین اسلام کے بنیادی ماخذ ہیں۔ حدیث اور قرآن کے وحی ہونے میں صرف اس حد تک فرق ہے کہ قرآن وحی متلو اور حدیث وحی غیر متلو ہے۔ لیکن فی زمانہ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی حدیث قرآن کے خلاف ہونے کا نعرہ مستانہ بلند کر کے اور کبھی ائمہ کرام کی تقلید کے باوصف احادیث رسولﷺ سے انحراف کا رجحان پایا جاتا ہے۔ جبکہ ائمہ کرام کے مختلف موقعوں پر کہے گئے اقوال اس بات کی ضمانت ہیں کہ دین میں حجت صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ ہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی اس کتاب میں ائمہ سلف اور سنت کے حوالے سے نگارشات پیش کی گئی ہیں۔ جس میں ائمہ اربعہ کا عمل بالحدیث اور ترک حدیث پر گتفتگو کرتے ہوئے ترک حدیث کے اسباب پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اردو ترجمہ پروفیسر غلام احمد حریری نے کیا ہے۔ (ع۔م)

  • 6 محمد بن عبد الوہاب ایک مظلوم اور بدنام مصلح (بدھ 11 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:17579

    شیخ محمد بن عبدالوہاب ایک بلند پایہ شخصیت ہیں جنھوں نے تاریکیوں اور گمراہیوں میں حق کےچراغ روشن کیے اور لوگوں کے عقائد و اخلاق سنوارنے میں اپنا آپ وقف کر دیا۔ لیکن ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ قوم کے کچھ افراد نہ صرف ان پر سب و شتم کا بازار گرم رکھتے ہیں بلکہ تکفیر و تضلیل کے تیر برسانے میں بھی باک محسوس نہیں کرتے۔ پیش نظر کتاب ’امام محمد بن عبدالوہاب ایک مظلوم اور بدنام مصلح‘ میں امام صاحب کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے خلاف افترا پردازیوں کے برپا کیے گئے طوفان بدتمیزی کی حقیقت طشت ازبام کی گئی ہے۔ کتاب کے مصنف علامہ مسعود عالم ندوی ہیں جو ایک بلند پایہ ادیب، ایک صاحب طرز انشا پرداز اور قوم کا درد رکھنے والے عظیم رہنما تھے۔ فاضل مصنف نے شیخ کے حالات زندگی معتبر حوالوں کے ساتھ بیان کرتے ہوئے ایک باب میں ان تمام تصنیفات کا اجمالی تعارف پیش کیا ہے۔ ایک باب میں شیخ کی دعوت، ان کا فقہی مسلک اور عقائد پر روشنی ڈالی گئی ہے اور آخری باب میں شیخ سے متعلق مشہور کی گئیں غلط بیانیاں اور افتراپردازیوں کی حقیقت واشگاف کی گئی ہے۔ (ع۔ م)
     

  • 7 تصوف کی حقیقت ( اپ ڈیٹ) (جمعرات 19 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:24200

    ہر دور کے علمائے ربانی اور کتاب و سنت کی اتباع پر زور دیتے آئے ہیں اور وہ ان تمام طریقوں اور سلسلوں کی مذمت کرتے آئے ہیں جو کتاب و سنت کے خلاف تھے۔ ان علمائے ربانی میں ایک قد آور شخصیت شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی ہے۔ جو خلاف کتاب و سنت افکار و نظریات کی تردید کے لیے شمشیر برّاں ہیں۔ انہوں نے جس طرح دیگر شعبوں سے متعلق ان افکار و آراء کی تردید کی جو کتاب و سنت کے خلاف تھے اسی طرح انہوں نے ان افکار و نظریات پر بھی شدید تنقید کی جو تصوف کے نام سے مسلمانوں میں فروغ پا گئے تھے اور حقیقت میں اسلامی تعلیمات کے صریحاً خلاف تھے۔ صوفیا کے اسی قسم کے افکار و نظریات سے متعلق ان کی بعض تحریروں کو ’حقیقۃ التصوف‘ نامی کتاب میں یکجا کیا گیا تھا۔ زیر نظر کتاب اسی کتاب کا اردو قالب ہے جسے اردو میں مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے منتقل کیا ہے۔ کتاب کی افادیت میں اس اعتبار سے مزید اضافہ ہو گیا ہے کہ ترجمے کی نظر ثانی مولانا خالد سیف نے کی ہے۔ صوفیت سے متعلقہ بنیادی معلومات کے حصول کے لیے اس کتاب کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ (ع۔م)
     

  • سرزمین فیصل آباد کو جن نفوس قدسیہ نے کتاب و سنت کے علم سے سیراب کیا ان میں سے  ایک  استاذ العلماء ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ محدث امرتسری ہیں ۔ کلیہ دارالقرآن و الحدیث انہی کی یاد گار ہے جو تقریبا نصف صدی سے علم و عمل کے میدان میں اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے ۔ یہ درسگاہ انہوں نے آزادی برصغیر کے بعد قائم کی تھی ۔ جس سے بے شمار حضرات  استفادہ کر چکے ہیں ۔ مولانا نے ہمیشہ ہی دنیا سے بے رغبتی اختیار کی بلکہ وغظ و تبلیغ اور تدریس  کی جو خدمات سرانجام دیتے اس کا بھی معاوضہ نہ لیتے اور اپنی تجارت شروع کی ۔ انہوں نے اپنی تمام دلچسپیوں کا مرکز اپنے طلباء کو بنا رکھا تھا انہیں اللہ کے دین سے روشناس کرانا ان کی زندگی کا مقصد اولین تھا ۔ آپ نحو ، صرف ، منطق ، بلاغت ، معانی میں یکتائے روز گار تھے ۔ اور علم الفرائض کے تو گویہ امام تھے ۔ اس علم کی معروف کتاب السراجی کی انہوں نے شرح بھی لکھی ہے ۔ آپ علوم میں بہت زیادہ رسوخ رکھتے تھے ۔ اسی وجہ سے آپ کے اساتذہ آپ پر مکمل اعتماد کر تے تھے ۔ ان کی علالت  یا عدم موجودگی میں آپ ہی مسند تدریس ارشاد فرمایا کر تے تھے ۔ (ع۔ح)
     

  • 9 وسیلہ انبیاء و اولیاء قرآن وحدیث کی روشنی میں (جمعہ 25 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:4475

    شرک وبدعت  امت مسلمہ کے لیے ایسے موذی امراض ہیں  جو امت کے لیے باعث ہلاکت ہیں۔ان کی وجہ سے جہاں امت کے عقائد  و اعمال میں دراڑیں پڑتی ہیں وہاں   اس کا دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ امت کا شیرازہ منتشر ہو جاتا ہے۔دینی اقدار ختم ہی نہیں بلکہ تبدیل ہو کر رہ جاتی ہیں۔جو ختم ہونے سے بھی   زیادہ نقصان دہ صورت حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی شرک و بدعت کے خاتمے کے لیے اپنے لاکھوں کروڑوں انبیاء و رسل مبعوث  فرمائے۔ ان سب کا یہی مقصد تھا کہ اس دنیا سے یا اپنی اپنی امتوں سے شرک و بدعت کا خاتمہ کیا جائے۔ چنانچہ اس کےلیے  انہوں نے دن رات کوششیں کیں۔پھر انبیاء کے بعد  ان نیک لوگوں نے بھی اسی تعلیم کا درس دیا۔ یعنی انہوں نے انبیاء والا سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن شرک کی بنیا گہری عقیدت کا جذبہ ہے چنانچہ بعد میں انسانوں نے ان نیک شخصیات کوہی وسیلہ شرک بنا لیا۔ زیرنظرکتاب میں انسانوں کی  اسی گمراہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ  ان  دونوں طرح کی ہستیوں کو   اپنے اعمال  میں کہاں کہاں اور کیسے کیسے وسیلہ شرک بناتے ہیں۔ اور اس کے بالمقابل صحیح اسلامی تعلیم کی طرف  بھی رہنمائی فرمائی ہے۔(ع۔ح)
     

  • 10 مسئلہ رفع الیدین ایک علمی و تحقیقی کاوش (بدھ 14 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2466

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے '' نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو'' (بخاری) نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام ﷢ کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ ﷢ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 5 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔زیر نظر کتاب ''مسئلہ رفع الیدین'' شیخ ابومحمد عبد القادر بن حبیب اللہ سندھی ﷫ کی عربی تصنیف الكشف عن كشف الرين عن مسئلة رفع اليدين کا ترجمہ ہے ۔ترجمہ کی سعادت مشہور ومعروف مترجم ومصنف مولانا محمد خالد سیف ﷾ نے حاصل کی ہے ۔اس کتا ب میں مصنف نے فاضلانہ ومحدثانہ انداز میں مضبوط ومستحکم دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ رفع الیدین ہی حضور اقدس ﷺ کی دائمی سنت ہے۔اس کے منس...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 814
  • اس ہفتے کے قارئین: 4201
  • اس ماہ کے قارئین: 24894
  • کل مشاہدات: 45231577

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں