دکھائیں کتب
  • 1 اسلام انسانی حقوق کا پاسبان (ہفتہ 31 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2692

    حقوق ِانسانی کے سلسلہ میں اسلام کا تصور بہت ہی واضح اور اس کا کردار بالکل نمایاں ہے ۔ اس نے فرد اور  جماعت اور مختلف سطح کے افراد اور طبقات کے حقوق کا تعین کیا اور عملاً یہ  حقوق فراہم کیے  ۔ جن افراد اور طبقات کے حقوق ضائع ہور ہے تھے  ان کی نصرت وحمایت میں کھڑا ہوا اور جو لوگ ان حقوق پر دست درازی کر رہے تھے ان پر سخت تنقید کی اور انہیں دنیا اورآخرت کی وعید سنائی ،معاشرہ کو ان کے  ساتھ بہتر سلوک کی تعلیم وترغیب دی۔ قرآن مجید انسانی حقوق کی ان کوششوں کی اساس ہے اور احادیث میں ان کی قولی وعملی تشریح موجود ہے ۔قرآن وحدیث کا اندازِ بحث ونظر مروجہ قانونی کتابوں کا سا نہیں ہے۔کسی حق کو جاننے کےلیے  پورے قرآن اور ذخیرۂ حدیث کودیکھنا چاہیے۔ فقہاء کرام او رماہر ین شریعت نے تفصیل سے اس پر غور کیا ہے اور حقوق کےتعین کی اپنے دور کےحالات وظروف کے لحاظ سے   کوشش کی ہے ۔ اسلامی قانون کے سمجھنےمیں اس سے بڑی مدد ملتی ہے ۔ زیر  نظر کتاب ’’اسلام انسانی حقوق کا پاسبان‘‘انڈیا کے ممتاز عالم دین  محترم  مولانا سید جلال الدین عمری ﷾ کی  تصنیف ہے ۔موصوف ایک جید عالم دین ،بہترین خطیب، اورممتاز مصنف کی حیثیت سےمعروف ہیں ۔ قرآن وسنت کا گہرا علم رکھتے ہیں ۔ موضوع کا تنوع،اسلوب کی انفرادیت، طرزِ استدلال کی ندرت اور زبان وبیان کی شگفتگی ان کی نمایاں خصوصیات ہیں ۔موصوف  مختلف موضوعات پر دودرجن سےزائد کتب کےمصنف ہیں ۔کتاب ہذا میں مصنف نے  بڑے عالمانہ  انداز میں انسانی حقوق اور اس کےت...

  • انسانی حقو ق کے بارے میں اسلام کا تصور بنیادی طور پر بنی نوع انسان کے احترام و قار اور مساوات پر مبنی ہے قرآن حکیم کی روسے اللہ رب العزت نے نوع انسانی کو دیگر تمام مخلوق پر فضیلت و تکریم عطا کی ہے۔قرآن کریم میں شرف انسانیت وضاحت کے ساتھ بیان کیاگیاہے کہ تخلیق آدم کے وقت ہی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سیدنا آدمؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور اس طرح نسل آدم کو تمام مخلوق پر فضلیت عطاکی گئی ۔مغرب نے حقوقِ انسانی کا جو تصور پیش کیا ہے وہ انتہائی ناقص اور فرسودہ ہے، اس کے اندر اتنی وسعت نہیں کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرسکے اس کے باوجود مغرب حقوق انسانی کی رٹ لگائے تھکتا نہیں، لیکن محمد عربی ﷺنے جو مربوط نظام، انسانی حقوق کا پیش کیا وہ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے، جن میں احترام انسانیت، بشری نفسیات ورجحانات اور انسان کے معاشرتی، تعلیمی، شہری، ملکی، ملی، ثقافتی، تمدنی اورمعاشی تقاضوں اور ضروریات کا مکمل لحاظ کیاگیا ہے اور حقوق کی ادائیگی کو اسلام نے اتنی اہمیت دی ہے کہ اگر کسی شخص نے دنیا میں کسی کا حق ادا نہیں کیا تو آخرت میں اس کو ادا کرنا پڑے گا ورنہ سزا بھگتنی پڑے گی، حتیٰ کہ جانوروں کے آپسی ظلم وستم کا انتقام بھی لیا جائے گا۔ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: حق والوں کو ان کے حقوق تمہیں ضرور بالضرور قیامت کے روز ادا کرنے پڑیں گے، حتیٰ کہ بے سنگھے بکرے کو سینگھ والی بکری سے بدلہ دیا جائے گا۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور انسانی حقوق، اقوام متحدہ کے عالمی منشور کے تناطر میں" محترم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلام کی رو...

  • دین اسلام میں اخلاقیات کا باب نہایت وسیع اور قابل رشک ہے۔ اس کے لیے اسلام کے عطا کردہ حقوق و فرائض کا سرسری جائزہ کافی ہے۔ اسلام نے نہ صرف والدین، اولاد، بیوی، شوہر اور ہمسایہ کے حقوق کا مستقل تذکرہ کیا بلکہ غیر مسلموں کے حقوق کی ادائیگی پر بھی شدو مد سے زور دیا۔ عام طور پر غیر مسلم مفکرین اور مستشرقین کی جانب سے اسلام کے نظام حدود و تعزیرات پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور اس کو غیر انسانی رویہ قرار دیا جاتا ہے اسی کے پیش نظر پروفیسر ڈاکٹر سلیمان بن عبدالرحمٰن الحیقل نے زیر مطالعہ کتاب میں انسانی حقوق سے متعلق پھیلائے گئے شبہات کاتحقیقی انداز میں تفصیلی جواب دیا ہے۔ کتاب کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ مصنف نے سیکولر قانونی دستاویزات میں انسانی حقوق کا تذکرہ کرتے ہوئے اسلام میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی اعلامیے کے درمیان موازنہ کیا ہے۔کتاب کے اخیر میں انسانی حقوق کی انٹرنیشنل کانفرنس میں سابقہ سعودی وزیر خارجہ امیر سعود الفیصل کا خطاب بھی شامل کیا گیا ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 4 اسلامی حقوق وآداب (جمعہ 22 فروری 2013ء)

    مشاہدات:51583

    دیگر علوم کی با نسبت حقوق و آداب کے علم کی اہمیت و ضرورت بہت زیادہ ہے، کیونکہ اسی سےمعلوم ہوتا ہے کہ بندہ اپنے رب کے ساتھ کیسا معاملہ کرے اور اپنے والدین کے ساتھ کیا طرز عمل اختیار کرے، نیز دیگر صغیر و کبیر کے ساتھ کیا رویہ اپنائے؟تمام آداب سب کے حقوق جان کر ہی ادا کیے جا سکتے ہیں۔ اسلام کی شمولیت اس بات کی متقاضی ہے کہ ایسا اہم علمی باب بیان سے تشنہ نہ رہے، چنانچہ کتاب و سنت میں حقوق و آداب کی بڑی تفصیل آئی ہے اور علمائے کرام نے اس موضوع پر مستقل تصنیفات کی ہیں۔ مولانا عبدالہادی عبدالخالق نے بھی اس نیک کام میں زیر نظر کتابچہ کی صورت میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور ایک نئے اسلوب اور نئے طرز و انداز سے حقوق و آداب کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ابتدا میں موضوع سے متعلق چند تمہیدی کلمات لکھے گئے ہیں پھر واجبات و مستحبات کو اختیار کرنے اور اس کے بعد مکروہات و محرمات کو چھوڑ دینے کی دعوت دی گئی ہے۔ اختصار کی خاطر دلائل ذکر کیے بغیر صرف مسائل کو نقاط کی صورت میں پیش کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 5 انسان کی عظمت کی حقیقت (جمعہ 13 مارچ 2009ء)

    مشاہدات:18219

    اہل تصوف جو خود کو اہل حقیقت کہتے ہیں کی اہل توحید سے چپقلش کوئی نئی بات نہیں۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی یہ کتاب ہے۔ یہ دراصل علامہ سید بدیع الدین شاہ صاحب کا لکھا ہوا مقدمہ ہے جو عبد الکریم بیر شریف کی ایک متصوفانہ تقریر بزبان سندھی "انسان کی عظمت" کے جواب میں ایک حنفی المسلک محمد حیات لاشاری صاحب کی طرف سے لکھے گئے جواب کا مقدمہ ہے۔ لاشاری صاحب کی اصل کتاب تو مفقود ہو گئی۔ لیکن شاہ صاحب کے مقدمہ کا مسودہ باقی رہا۔ رسالہ "انسان کی عظمت" میں بہت سی باتیں اسلام کی روح کے خلاف پیش کی گئی ہیں۔ مثلاً اللہ تعالٰی کیلئے مخلوق سے مثالیں، قرآن مجید کی لفظی و معنوی تحریف، موضوع اور ضعیف روایات، صفات الٰہی کی توہین، (نعوذ باللہ) وغیرہ۔۔صوفیانہ افکار اور باطل عقائد کے رد پر نہایت ٹھوس علمی اور دقیق زبان میں شاندار تصنیف ہے۔

     

  • 6 انسانی حقوق اور اسلامی نقطہ نظر (جمعرات 25 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:6340

    اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ دو باتیں ہیں ۔اللہ تعالی کی بندگی و اطاعت اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک اسی لیے جیسے شریعت میں ہمیں اللہ تعالی کے حقوق ملتے ہیں اسی طرح ایک انسان کے دوسرے انسان پر بھی حقوق رکھے گئے ہیں ۔ اسلام میں انسانی حقوق کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ اسی لیے اسلام نے ان حقوق کو بہت واضح طور پر پیش کیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے ، انسان ایک سانپ کی طرح تنہا کسی بل میں اور ایک شیر کی طرح تنہا کسی غار میں زندگی نہیں گزار سکتا ، وہ سماج اور خاندان کا محتاج ہے اور بہت سے رشتے داروں کے حصار میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ چناچہ اس نسبت سے بھی انسان  کے اوپر بہت سے حقوق عائد ہوتے ہیں ۔ والدین اور اولاد کا حق ، بیوی ، بھائیوں اور بہنوں کا حق اور پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ یہ تمام حقوق اصل اسلامی حقوق کے دائرے میں آتے ہیں ۔ اس لئے شریعت میں انسانی حقوق کا دائرہ بہت وسیع ہے اور انہیں بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ زیر مطالعہ کتاب در اصل انڈیا میں منعقد سمینار میں دیے گئے لیکچرز کا مجموعہ ہے ۔ جس میں اس موضوع کے حوالے سے تقریبا تمام پہلو آچکے ہیں ۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک جامع اور فکر انگیز کتاب ہے ۔ اللہ ان تمام لوگوں کی محنت کو ان کے لیے ذریعہ نجات بنائے جنہوں نے اس کے لیے کاوش فرمائی ہے۔(ع۔ح)
     

  • 7 انسانیت (اتوار 29 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1490

    اسلام میں معاشرتی نظام کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ اسی لیے اسلامی تعلیمات میں حقوق اللہ سے زیادہ حقوق العباد پر زور دیا گیا ہے۔ میدان حشر میں حقوق العباد کے متعلق ہی زیادہ پرسش ہوگی اور اس سلسلے میں معمولی سے معمولی غلطی بھی قابل معافی نہ ہوگی۔ حقوق العباد میں انسان کو اپنے بیگانے ، اقارب واجانب ، ماں باپ اور دیگر رشتہ داروں سے نیک سلوک بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی ، جانوروں کو دکھ نہ پہنچانا ، آداب مجلس ، آداب گفتگو ، آداب ملاقات ، وغیرہ حقوق العباد میں شمار ہوتے ہیں۔لیکن افسوس کہ آج کے اس مادی دور میں لوگ ایک دوسرے سے بے بہرہ  اور بیگانہ ہوچکے ہیں حتی کہ عزیز واقارب ،بہن بھائیوں اور جنم دینے والے والدین سے بھی کچھ تعلق  اور لگاو نہیں رکھتے ہیں۔سوچ صرف مفادات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔عبادت بھی صرف عادت کے طور پر کی جاتی ہے۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے ضرورت تھی کہ کم از کم مسلمانوں کو احساس دلایا جائے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کو نہ بھولیں اور حقوق العباد کا خصوصی طور پر دھیان رکھیں۔ زیر تبصرہ کتاب"انسانیت" مرکزی جمعیت اہل حدیث کے معروف راہنما محترم رانا محمد شفیق خاں پسروری کی تصنیف ہے جو  حقوق العباد کی اہمیت وفضیلت کے نیک جذبے کے تحت لکھی گئی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں حقوق العباد کا خیال رکھنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • 8 حقوق العباد (ہفتہ 05 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:4199

    آج کے دور میں کوئی ایسا بھی ہے جسے کسی دوسرے سے گلہ نہ ہو، کوئی رنجش  یا شکایت نہ ہو۔ ان شکووں سے رشتوں کی مضبوط دیواروں میں دراڑیں پڑ رہی  ہیں۔باہمی تعلق کے گلستان اجڑ رہے ہیں، بندھن کمزور ہو رہے ہیں۔ رویوں میں سرد مہری کی برف جمتی جارہی ہے۔ پیشانیاں شکنوں سے بھرتی جارہی ہیں۔آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر ان ساری کیفیات کا سبب کیا ہے؟ محبت کی مٹھاس کی جگہ تلخی کا زہر کیوں رگوں میں اتر رہا ہے؟  خوشیاں بانٹنے والے اب دکھ کا باعث کیوں بن رہے ہیں؟اگر معاشرے پر غور کریں تو ایسے تمام معاملات کی ایک ہی بڑی وجہ سامنے آتی ہے۔اور وہ  ہے کہ کسی  کے حق کی ادئیگی نہ کرنا  یا کسی کا حق چھین لینا۔کیونکہ آج کے دور میں یہ فلسفہ ہر کسی کےذہن میں جگہ بنا چکا ہے کہ دوسروں کا حق دینا نہیں اور اپنا حق چھوڑنا نہیں۔یہی فساد کی بنیادی جڑ ہے۔ تاہم  باہمی حقوق و فرائض کا شعوری فقدان  بھی  اس طرح کے مسائل کو جنم دیتا ہے۔زیرنظر کتاب میں حقوق و فرائض کا  تعارف اور تعین کیا گیا ہے۔تاکہ شعور و آگاہی کی راہ ہموار ہوسکے۔(ع۔ح)
     

  • 9 حقوق العباد کی یاد دہانی بندہ مسکین کی زبانی (منگل 29 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1187

    اسلام ایک امن و عافیت اور اخوت کا دین ہے۔ اسلام کی تاریخ اخوت و مودّت کے سنہری ابواب سے لبریز ہے۔ اس کی ایک نمایاں جھلک ہجرت مدینہ کے بعد آپﷺ کا انصار و مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی کے رشتے میں پرو دینا اور پھر انصار و مہاجرین کا آپس میں ایسی محبت کا نمونہ پیش کرنا دنیا کا کوئی دین ایسی مثال پیش کرنے سے عاجز و قاصر ہے۔ یہی وہ آفاقی دین ہے جس کی تعلیمات قیامت تک زندہ و جاوید رہیں گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا  ہے۔ اسی طرح  دین اسلام کی مقدس تعلیمات روات کی مستند کڑیوں کے ساتھ امت مسلمہ تک پہنچی اور علمائے اسلام ہی کو آپ ﷺ کی زبان اطہر سے دین کے وارث قرار ہونے کے لقب سے نوازہ گیا"العلماء ورثۃ الانبیاء"۔ جہاں دین اسلام نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اتباع رسول اللہ ﷺ کا حکم دیا ہے وہاں دین اسلام بندوں کےحقوق کی پاسداری کا درس بھی دیتا ہے۔ دین اسلام میں حقوق العباد پر بہت زور دیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"حقوق العباد کی یاد دہانی بندہ مسکین کی زبانی" فاضل مصنف عبدا لرشید انصاری کی مرتب شدہ تصنیف ہے۔ جس میں فاضل موصوف کے مسلک اہل حدیث کے جید علماء سے خط و کتابت کی صورت میں سوال و جواب کو ایک مختصر کتابچہ کی شکل دی گئی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ موصوف کی محنت کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 10 حقوق انسانی کی آڑ میں (اتوار 28 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1436

    قوموں کے عروج و زوال کی داستان اس حقیقت پر شاہد ہے کہ قومی دفاع اور ملکی سلامتی سے غفلت برتنے والی اقوام با لآخر اپنی آزادی اور استقلال کو کھو دیتی ہیں اور اغیار کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لی جاتی ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ برصغیر کے جذبہ ایمانی سے سرشار مسلمانوں کی ایک بھرپور تحریک اور لازوال شہادتوں اور قربانیوں کے نتیجہ میں ہم جس عظیم ملک کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، پچھلے تقریباً پچاس(50) سالوں کے دوران اس کی بقاء اور سلامتی کے تقاضوں کو کما حقہ سمجھنے، ان کے حصول کے لیے مناسب پالیسیوں کی تشکیل اور پھر ہم ان پر خلوص نیت سے عمل پیرا ہونے میں مسلسل ناکام چلے آ رہے ہی، بدلتے ہوئے عالمی حالات میں پاکستان کی سلامتی کو گوناگوں خطرات کاسامنا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ کسی ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدیں بھی ہوتی ہیں۔ دور حاضر میں کچھ ادارے اغیار کے اشاروں پر پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ ان کی سر گرمیاں شریعت اور قرآن مجید کو(نعوذ با للہ) نا قابل عمل قرار دلوانے، ارتداد کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں سے نور ایمان کی دولت ختم کرنے، دینی مدارس پر پابندی لگانے، مخلوط تعلیم کی ترغیب دینے، یہودیت اور عیسائیت کو فروغ دینے، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کرنے اور مغربی کلچر کو فروغ دینے کے لیے وقف ہیں۔ زیر نظر کتاب" حقوق انسانی کی آڑ میں" محترم محمد خالد متین کی ایک بے مثال اور تاریخی تصنیف ہے۔ جس میں موصوف نے ان اداروں کا تذکرہ کیا ہے جو اسلام کے دشمن کے ساتھ ساتھ ملک پاکستان کے بھی انتہا...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 851
  • اس ہفتے کے قارئین: 5299
  • اس ماہ کے قارئین: 22202
  • کل مشاہدات: 44880608

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں