• #3358
    محمد ادریس فاروقی

    1 سیرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ( جدید ایڈیشن )

    سیدہ خدیجہ مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے حضرت محمد ﷺ کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ ﷺکی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلی اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ ﷺکو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو نبی ﷺ نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ نبی ﷺ صرف پچیس سال کے تھے۔ سیدہ خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ نبی ﷺ کی ساری کی ساری اولاد سیدہ خدیجہ سے پیدا ہوئی اورصرف ابراہیم جوکہ ماریہ قبطیہ سے تھے جوکہ اسکندریہ کے بادشاہ اورقبطیوں کےبڑے کی طرف سے نبیﷺکوبطورہدیہ پیش کی گئی تھیں۔سید ہ خدیجہ کی وفات کے بعد نبی ﷺ ان کو بہت یاد کرتے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن حضور ﷺنے ان کے سامنے حضرت خدیجہ ؓکو یاد کر کے ان کی بہت زیادہ تعریف و توصیف فرمائی تو حضرت عائشہ کے بیان کے مطابق ان پر وہی اثر ہوا جو کسی عورت پر اپنے شوہر کی زبانی اپنے علاوہ کسی دوسری عورت کی تعریف سن کر ہوتا ہے جس پر حضرت عائشہ نے نبی ﷺ کو کہا کہ یا رسول اللہ ﷺآپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میری زبان سے یہ کلمات سن کر آپ کا رنگ اس طرح متغیر ہو گیا جیسے وحی کے ذریعے کسی غم انگیز خبر سے یا بندگانِ خدا پر اللہ کے عذاب کی خبر سے ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺنے فرمایا :’’ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی کیونکہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی، انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے مجھے اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمایا جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ حضرت خدیجہ کی وفات ہجرت سے قبل عام الحزن کے سال ہوئی۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ سیرت خدیجہ الکبریٰ ‘ مسلم پبلی کیشنز کے مدیر مولانا حافظ نعمان فاروقی﷾ کے والد گرامی جناب حکیم محمدادریس فاروقی﷫ کی کاوش ہے انھوں نے اس کتاب میں سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کی ولادت ،حسب ونسب،گھرانہ تربیت، جوانی ،شادی ،بیوگی،کاروبار ،رسول اکرم ﷺ سے نکاح آپ کی خدمت واطاعت، اخلاص وایثار سادگی حضورﷺ سے نکاح ،آپ کی خدمت واطاعت ،اخلاص و ایثار سادگی حضورﷺ کےاقربا ء سے حسن سلوک ، محصورین کی امداد،اسلام کی خدمت ، تبلیغی مساعی،زہد وعبادت ،فیاضی وکریمی ، اولاد کی تربیت حدیث کی خدمت اللہ اوراس کے رسول کی رضا جوئی، فضائل ومناقب اور بنات الرسول سیدہ زینب ، سیدہ رقیہ ،سید ام کلثوم،سید فاطمہ الزاہراء رضی اللہ عنھن کے مختصر حالات زندگی نہایت عمدگی اور جامعیت سے یکجا کر دئیے گئے ہیں ۔مصنف کا انداز تحریر سلیس اور دلکش ہے ۔ سیدہ خدیجہ الکبریٰ کی زندگی کے بہت سے گوشے بے نقاب کردیے گئے ہیں کہ جن کےمطالعہ سے قارئین کی دلچسپی نہ صرف برقرار رہتی ہے بلکہ اس میں دگرگوں اضافہ ہوتاہے ۔نیز اس کتاب میں ام المومنین خدیجۃالکبریٰؓ کی زندگی سے برآمد ہونے والے بہترین اسباق ہدیۂ قارئین کیے گئے ہیں جس کی بنا پر اس کا سبقاً سبقاً مطالعہ خواتین اسلام کے لیے بہت مفید اور نافع ثابت ہوسکتاہے۔الغرض یہ کتاب سید ہ خدیجہ الکبریٰ کی بابت معلومات کا خزانہ ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کوقبول فرمائے اور اسے خواتین اسلام کےلیے فائدہ مند بنائے (آمین) (م۔ا)

  • #3700
    امام محمد بن نصر المروزی

    2 قیام اللیل

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا  ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" قیام اللیل "دوسری صدی ہجری کے معروف امام محمد بن نصر المروزی﷫ کی تصنیف ہے۔جس کا اردو ترجمہ محترم عبد الرشید حنیف صاحب نے کیا ہے۔ چنانچہ مولف موصوف نے  مستند دلائل سےگیارہ رکعت نماز تراویح کو ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3497
    شاہ معین الدین احمد ندوی

    3 تاریخ اسلام ( معین الدین ندوی ) جلد اول

    قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک اپنی اصلاح نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے اسلاف  کی تاریخ اور ان کی خدمات کو محفوظ نہ رکھے۔اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان اپنی اس تاریخ سے کٹ چکا ہے۔اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے  باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔اس کا سب سے برا سبب مسلمانوں کا  دین سے دور ہونا اور غیروں کے قریب ہونا ہے۔کافر ہمیں اس لئے مارتے ہیں کہ یہ مسلمان ہیں اور ہم اس لئے  مار کھا رہے ہیں  کہ ہم صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہیں۔تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ  قرآن و سنت کی تعلیمات، اسلام کے انسانیت نواز پیغام اور اپنی روشن تہذیبی اَقدار کو پوری قوت اور خود اعتماد ی کے ساتھ دنیا پر آشکارا کریں،اور خود بھی اسی کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ اسلام "شاہ معین الدین احمد ندوی صاحب کی کاوش ہے جو دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔اس کی پہلی جلد عہد رسالت،خلافت راشدہ اور عہد بنو امیہ ،جبکہ دوسری جلد خلافت عباسیہ پر مشتمل ہے۔مولف نے اسلامی تاریخ کو جمع فرما کر مسلمانوں کو اپنے اسلاف سے جوڑنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #2922
    ڈاکٹر خالد علوی

    4 تعلیم اور جدید تہذیبی چیلنج

    تعلیم حیات انسانی کا وہ تجربہ ہے جس پر اس کے وجود اور بقاء کا انحصار ہے۔تعلیم ہی وہ عمل ہے جو حیات انسانی کے قافلے کو رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔تعلیم ہی کے ذریعے سے ایک نسل کے تجربات دوسری نسل تک پہنچتے ہیں اور تعلیم ہی وہ اساس ہے جس پر حیات انسانی کی عمارت قائم ہے۔اسلامی تہذیب کی اساس اگرچہ ایمان پر قائم ہے مگر وہ تعقل سے صرف نظر نہیں کرتی ہے۔اسلامی تہذیب نے  محسوسات کا ادراک کیا ہے اور اس کی حقیقت کو تسلیم کیا ہےلیکن اسے ما بعد الطبیعات سے منسلک کیا ہے۔انسان اور کائنات کے بارے میں اسلامی تہذیب کا اساسی نقطہ یہ ہے کہ ان دونوں کی تخلیق میں ایک مقصدیت پائی جاتی ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے انسان کا وجود بے مقصد ہے اور نہ ہی کائنات کی تخلیق وتنظیم بے سبب۔ارشاد باری تعالی ہے۔ أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ * فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ‏) (المؤمنون 115-116)"کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پید اکیا ہےاور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے۔پس بالا وبرتر ہے باشاہ حقیقی۔کوئی اس کے سوا معبود نہیں ،مالک ہے عرش عظیم کا۔جبکہ جدید تہذیب مادہ پرست،قوم پرسی اور خود غرضی کے اصولوں پر استوار ہے۔اس تہذیب کے متعدد ایسے پہلو ہیں جن کا تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تعلیم اور جدید تہذیبی چیلنج " دعوہ اکیڈمی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائرکٹر جنرل محترم ڈاکٹر خالد علوی صاحب کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے تعلیم کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے تہذیب مگرب کے نقائص کو عیاں کیا ہے۔(راسخ)

  • #2960
    طالب ہاشمی

    5 قسمت کا سکندر اور دوسری کہانیاں

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں کی بھر مار ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب" قسمت کا سکندر اور دوسری کہانیاں"محترم طالب ہاشمی صاحب کی کاوش ہے ۔جس میں انہوں نے اس کمی کو دور کرنے کی مقدور بھر کوشش کی ہےاور بامقصد اور دلچسپ کہانیوں پر مشتمل کتب لکھنے کا آغاز کیا ہے۔ اور یہ کتاب اس سلسلے کی دوسری کڑی ہے۔اس سے پہلے " چاندی کی ہتھکڑی اور دوسری کہانیاں "نامی ایک کتاب چھپ کر بچوں میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔ اگرچہ اب میدان میں اور بھی متعدد کتب چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے احادیث سے ماخوذ واقعات کے ساتھ ساتھ ایسی تاریخی یا نیم تاریخی کہانیاں قلمبند کی ہیں جن سے کوئی نہ کوئی اخلاقی سبق ملتا ہےیامعلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔یہ اگرچہ کوئی تحقیقی یا علمی کتاب نہیں ہے لیکن سائٹ پر بچوں سے متعلقہ مواد نہ ہونے کے سبب اسے بچوں کے بطور تحفہ پیش کیا جارہا ہے۔ (راسخ)

  • #2959
    طالب ہاشمی

    6 علم بڑی دولت ہے اور دوسری کہانیاں

    علم وجہِ فضیلت ِآدم ہے علم ہی انسان کے فکری ارتقاء کاذریعہ ہے ۔ علم ہی کے ذریعے سے ایک نسل کے تجربات دوسری نسل کو منتقل ہوتے ہیں۔سید الانام خیر البشر حضرت محمد ﷺ کو خالق کائنات نے بے شمار انعامات وامتیازات سے سرفراز فرمایا تھا مگر جب علم کی دولت سے سرفراز فرمانے کا ارشاد گرامی ہوا تو اسے ’’ فضلِ عظیم‘‘ قرار دیا ارشاد ربانی ہے :وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا(النساء:113) زیر نظر کتاب ’’علم بڑی دولت ہے اور دوسری کہانیاں‘‘ معروف سوانح نگار اور مصنف کتب کثیرہ جناب طالب ہاشمی کا قوم کےنونہالوں کےلیے دلچسپ تاریخی ،نیم تاریخی ،سوانحی اصلاحی اور معلوماتی مختلف 31 کہانیوں کا چوتھا مجموعہ ہے ۔ان کہانیوں کی اشاعت کا مقصد نونہالانِ قوم کےلیے نہ صرف کردار سازی اور معلومات افزا لٹریچر مہیا کرنا ہے بلکہ ان کو مضرت اثرات سے بھی بچانا ہے جو بعض اداروں کی طرف سے شائع ہونے والی اوٹ پٹانگ فرضی کہانیوں اور تصویروں سے ناپختہ ذہنوں پر پڑتے ہیں۔ (م۔ا)

  • #2957
    شیخ محمد اکرم

    7 رود کوثر

    شیخ  محمد اکرام (1908۔1971ء)چک جھمرہ (ضلع لائل پور ) میں پیدا ہوئے۔ گورنمٹ کالج لاہور اور آکسفورڈ میں تعلیم پائی ۔ 1933ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے اور سوات ، شولا پور، بڑوچ اور پونا میں اعلٰی انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ آپ پونا کے پہلے ہندوستانی کلکٹر اور دسٹرکٹ مجسٹریٹ تھے۔ قیام پاکستان کے بعد اطلاعات اور نشریات کے ڈپٹی سیکرٹری مقرر ہوئے۔ پھر وزارت اطلاعات و نشریات کے جائنٹ سیکرٹری اور بعد میں کچھ مدت کے لیے سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1955ء سے 1957ء تک مشرقی پاکستان میں متعین رہے ، پہلے کمشنر ڈھاکہ اور پھر ممبر بورڈ آف ریونیو کی حیثیت سے ۔1958ء تک محکمہ اوقاف کے ناظم اعلیٰ پاکستان مقرر ہوئے۔دفتری کاموں کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ ہندی مسلمانوں کی ثقافتی اور مذہبی تاریخ لکھی جو تین جلدوں میں شائع ہوئی۔ آب کوثر ، رود کوثر ، موج کوثر ، غالب اور شبلی کے سوانح بھی مرتب کیے۔ برصغیر پاک و ہند کی فارسی شاعری کا ایک مجموعہ ارمغان پاک مرتب کیا۔ جو1950 ء میں شائع ہوا۔  علمی خدمات کی بنا پر حکومت ایران نے آپ کو نشان سپاس اور حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز کے اعزازات عطا کیے۔ پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹر آف لٹریچر کی اعزازی ڈگری ملی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ رودِ کوثر‘‘ شیخ  محمد اکرام کی تصنیف ہے ۔جو کہ  برصغیر پاک وہند کے  مسلمانوں کی مذہبی ،ثقافتی اور علمی تاریخ  اور ان کے کارناموں پر مشتمل ایک اہم دستاویز ہے ۔اور اس  کو سلسلۂ کوثر کی دوسری کڑی کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کتاب میں عہد مغلیہ سے لے کر سرزمین برصغیر پر انگریزوں کے قابض ہونے تک کےواقعات معرض تحریر میں  لائے گئے  ہیں۔عہد مغلیہ میں علماء،مشائخ اور صوفیہ نے  جو خدمات انجام دیں اور ان سے  جو نتائج برآمد ہوئے  ان کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔شیرشاہ سوری اور خاندان سوریہ کے دیگر حکمرانوں کے حالات اور اس عہد کے اسلامی وعلمی واقعات بھی زینت کتاب ہیں۔ کتاب میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے بارے میں بھی معلوم بہم پہنچائی گئی ہیں ۔(م۔ا)

  • #2771
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

    8 سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم

    قرآن کریم  تمام شرعی دلائل کا مآخذ  ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے  بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے  ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے۔قرآن مجید کے ساتھ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے  قرآن مجید میں بے  شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے  کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثیت ہے  ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے  ۔حدیث  سے  انکا ر  واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی  اور فہم قرآن سے  دوری  ہے ۔سنت  رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی تفہیم  کا  دعو یٰ نادانی  ہے ۔ اطاعتِ رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش  نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے ۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اور ایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں۔اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث نبویہ  کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباعِ سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں  سے  ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے  بلکہ یہ  دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی  چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ)  میں اتباع سنت مطلوب ہے  اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ’’ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه  (سورہ نساء:80) کا فرمان جاری  فرماکر  دونوں مصادر پر مہر حقانیت ثبت کردی ۔ لیکن پھر بھی  بہت سارے لوگوں نے ان فرامین کو سمجھنے اور ان  کی فرضیت کے بارے میں ابہام پیدا کرکے کو تاہ بینی کا ثبوت دیا ۔مستشرقین اور حدیث وسنت کے مخالفین نے  سنت کی شرعی  حیثیت کو مجروح کر کے  دینِ اسلام میں جس طرح بگاڑ کی نامسعود کوشش کی گئی اسے دینِ حق کے خلاف ایک سازش ہی کہا جاسکتا ہے۔لیکن الحمد للہ  ہر دور میں محدثین  اور  علماءکرام کی ایک جماعت اس سازش اور فتنہ کا سدباب کرنے میں کوشاں رہی  اور اسلام کے مذکورہ ماخذوں کے دفاع میں ہمیشہ سینہ سپر رہی ۔ زیر نظر کتاب ’’ سنت نبوی ﷺ اور ہم  ‘‘ انصار السنۃ پبلی کیشنز  کے روح رواں  مولانا ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی ﷾(مصنف کتب کثیرہ ) کی تصنیف ہے ۔اس  کتاب میں انہوں نے  قرآن  کریم  کی آیات مبارکہ ،احادیث نبویہ،اقوال  صحابہ وتابعین ،ائمہ اربعہ وسلف صالحین کے اقوال کی  روشنی میں سنت کی اہمیت ،مقام  ومرتبہ  بیان کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے  کہ   جس طرح قرآن کریم دینِ اسلام کے بنیادی عقائد اور شرائع اسلامیہ کو جاننے کا  پہلا ذریعہ ہے اسی طرح نبی کریم ﷺکی احادیث کریمہ دوسرا ذریعہ ہیں ۔ان کے بغیر اسلام کی تکمیل کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔اس کے بعد  حفاظت حدیث کے سلسلے میں معروف ائمہ محدثین  کی حیات وخدمات کومختصرا بیان کیا ہے  اور پھر منکرین  حدیث کے اعتراض اور  ان کے جوابات کو   پیش کرنے کے بعد  تقلید اور بدعت  کی حقیقت  کو واضح کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف  موصوف  کی تصنیفی  ودعوتی کوششوں کو قبول  فرمائے۔ اور اس کو  کتاب عوام الناس  میں حدیث وسنت   کی اہمیت  اوراتباع سنت کا شعور اجاگر کرنے کا  ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا) 

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2717
    امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی

    9 دلائل النبوة جلد دوم

    اللہ تعالی نے قرآن کریم میں نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی کو بہترین نمونہ قرار دے کر اہل اسلام کو آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔جس کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ کے ایک ایک گوشے کو محفوظ کیا جائے۔اور امت مسلمہ نے اس عظیم الشان تقاضے  کو بحسن وخوبی سر انجام دیا ہے۔سیرت نبوی پر ہر زمانے میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں اور اہل علم نے اپنے  لئےسعادت سمجھ کر یہ کام کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب " دلائل النبوۃ "بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،جوامام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی ﷫کی تصنیف ہے۔اس کا اردو ترجمہ مولانا محمد اسماعیل الجارودی ﷾نے کیا ہے۔مولف نے اس عظیم الشان تصنیف میں سیرت نبوی کے ساتھ ساتھ آپ کی نبوت کے دلائل بھی بڑے احسن اور منفرد انداز میں جمع فرما دیئے ہیں۔اصل کتاب عربی میں ہونے کے سبب اردو خواں طبقہ کے لئے اس سے استفادہ کرنا ایک مشکل امر تھا ۔ مولانا محمد اسماعیل الجارودی﷾ نے اردو ترجمہ کر کے اردو خواں طبقہ کی اس مشکل کو حل کر دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی ان خدمت کو قبول فرمائے۔آمین۔(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2647
    پروفیسر مفتی عروج قادری

    10 رمضان کی احادیث اور سنتیں

    روزے کی فضیلت و اہمیت دیگر عبادات کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ اور بے حساب ہے ۔ روزہ کا اجر خود اﷲتعالیٰ عطا کرے گا۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے : ’’ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزے کے۔ پس یہ (روزہ) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔‘‘(بخاری:1805) روزہ دار کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے انتہا اجرو ثواب کے ساتھ ساتھ کئی دیگر خوشیاں بھی ملیں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جن سے اسے فرحت ہوتی ہے : افطار کرے تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو روزہ کے باعث خوش ہوگا۔ ‘‘(بخاری:1805) زیر تبصرہ کتاب "رمضان کی احادیث اور سنتیں" بھی رمضان المبارک کے انہی فضائل ومسائل پر مشتمل ہے۔ جو پروفیسرمفتی عروج قادری کی تصنیف ہے۔اس میں انہوں نے رمضان المبارک کے روزوں ،تراویح،اعتکاف،شب قدر،عید الفطر،زکوۃ اور عمرہ کے حوالے سے تقریبا 600 کے قریب احادیث نبویہ کو موضوعات کے اعتبار سے جمع کر دیا ہے۔ اختلاف امت سے بچنے اور امت مسلمہ کی یکجہتی کی کوشش کے لیے کتاب کھولتے ہی اس کے پہلے صفحہ پر اس کی صحت اور علمیت کی تصدیق کے لیے دیوبندی،بریلوی اور اہل حدیث تینوں مکاتب فکر کے جید علما اور مدرسوں کی اسناد کی نقول نظر آتی ہیں ۔جبکہ مصنف خود بھی جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں اور ایم ایس سی اور ایم اے ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی مدرسے کی سب سے بڑی سند شہادۃ العالمیہ کے حامل اور باقاعدہ سند یافتہ مفتی بھی ہیں۔۔اللہ تعالی مولف کی ان خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں رمضان کی مبارک ساعتوں سے بھر پور استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ( ر ا سخ )

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39792603

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں