کل کتب 84

دکھائیں
کتب
  • 1 #4099

    مصنف : پروفیسر ثریا بتول علوی

    مشاہدات : 2878

    اربعین للنساء من احادیث المصطفیٰ ﷺ

    (بدھ 10 فروری 2016ء) ناشر : تنظیم اساتذہ پاکستان -خواتین

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی ﷺ سے  ہوا صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم  نے ان  مجموعات کے اختصار اور شروح  ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی  اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع  ہوچکے  ہیں۔نیزبرصغیر میں بھی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ سے  لےکر عصر حاضر کے متعدد علماء کرام نے بھی ’’اربعین‘‘ کے نام سے  کئی مجموعے مرتب کیے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اربعین للنساء‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔اس کتاب کو پروفیسر محترمہ ثریا بتول علوی صاحبہ  نے   خواتین کے لیے  مرتب کیا ہے ۔مصنفہ نےاس میں مجموعہ کو   پانچ ابواب اور چالیس ذیلی موضوعات میں تقسیم کیا ہے ۔ جن میں ایمانیات واخلاق ، ارکان واعمال ،معاملات اور ستروحجاب جیسے اہم موضوعات کا انتہائی پر مغز اور معنی خیر احاطہ کیا ہے ۔خواتین کی انفرادی زندگی سے لے کر عائلی ومعاشرتی سطح تک  اہم مسائل سے متعلقہ احادیث مبارکہ  کا انتہائی دقت تظری سے  انتخاب کیا گیا ہے ۔ اسی وجہ سے یہ مجموعہ مختصر ہونے کے باوجود جامع او رمحیط ہے  اور اپنی  جامعیت  وافادیت کے لحاظ سے اس قابل ہے کہ اسے  باقاعدہ سبقاً پڑھا یاجائے ۔اللہ تعالیٰ اس مجموعہ  حدیث کو  خواتین اسلام کے لیے نفع بخش بنائے  اور مصنفہ کی  اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

  • 2 #1515

    مصنف : ولی الدین الخطیب التبریزی

    مشاہدات : 26706

    اضواء المصابیح فی تحقیق مشکوۃ المصابیح

    (جمعہ 03 اگست 2012ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    مشکوٰۃ المصابیح مسائل میں احادیث کاوہ بہترین مجموعہ ہے کہ جس میں محمد بن عبداللہ التبریزی نے بہترین ترتیب کے ساتھ مسند کتب حدیث سےسينكڑوں روایات کومتعلقہ مسائل کےتحت نقل کردیا ہے۔مشکوٰۃ کی تخریج و تحقیق اگرچہ علامہ ناصر الدین البانی کر چکے ہیں۔ او راب حافظ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ جو کہ فن اسماء الرجال میں منجھی ہوئی شخصیت ہیں ۔زیر نظر کتاب انہی کی تخریج و تحقیق او رفوائد پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے مشکوٰۃ میں درج ہر حدیث کا فن جرح و تعدیل کی روشنی میں جائزہ لیا ہے اور ان پر  صحت و ضعف کا حکم لگایا ہے۔ احادیث کی استنادی حالت کو جانچنے کے لیےنہایت عمدہ تحریر ہے۔(ک۔ط)
     

  • 3 #6829

    مصنف : یحییٰ بن شرف النووی

    مشاہدات : 1557

    الاحادیث النبویہ ( اربعین نووی )

    (پیر 24 دسمبر 2018ء) ناشر : فرید بک ڈپو، نئی دہلی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی ﷺ سے  ہوا صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم  نے ان  مجموعات کے اختصار اور شروح  ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حًسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی  اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع  ہوچکی ہیں ۔ زیر  نظر کتاب ’’ الاحادیث النبویہ ‘‘ امام نووی ﷫ کےمرتب کردہ مجموعہ حدیث ’’ اربعین نووی‘‘ کا دوسرا نام ہے ۔معروف مترجم  وسوانح نگار  جناب  ابو ضیاء محمود احمد غضنفر﷫نے اربعین نووی  کا ترجمہ ،فوائد  کا کام کیا ہے اور اس کی ابواب  بندی بھی کی ہے اور اس  کا نام  ’’ الاحادیث النبویۃ ‘‘ رکھا ہے ۔اللہ تعالیٰ  امام نوری﷫ اور مترجم ﷫ کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے ۔(م۔ا) 

  • 4 #4458

    مصنف : احمد بن عبد اللطیف الزبیدی

    مشاہدات : 4388

    التجرید الصریح لأحادیث الجامع الصحیح(مختصر صحیح بخاری)

    (بدھ 04 مئی 2016ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِسیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ ، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفتِ حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ ان کے علمی کارناموںم میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا۔ امام بخاری ﷫ کی صحیح بخاری کے علاوہ بھی متعد د تصانیف ہیں۔حدیث نبوی کے ذخائر میں صحیح بخاری کو گوناگوں فوائد اورمنفرد خصوصیات کی بنا پر اولین مقام اور اصح الکتب بعد کتاب الله کا اعزاز حاصل ہے ۔بلاشبہ قرآن مجید کےبعد کسی اور کتاب کو یہ مقام حاصل نہیں ہوا ۔ صحیح بخاری کو اپنے زمانہ تدوین سے لے کر ہردور میں یکساں مقبولیت حاصل رہی ۔ائمہ معاصرین اور متاخرین نے صحیح بخاری کی اسانید ومتون کی تنقید وتحقیق وتفتیش کرنے کے بعد اسے شرف ِقبولیت سےنوازا اوراس کی صحت پر اجماع کیا ۔ اسی شہرت ومقبولیت کی بناپر ہر دور میں بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اوربعض اہل علم تراجم ابواب ، امام بخاری کااجتہادوغیرہ جیسے موضوعات کو زیر بحث لائے ہیں ۔اور بعض نے صحیح بخاری کا اختصار بھی کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مختصرصحیح بخاری ‘‘ نویں صدی ہجری کے معروف عالم امام زبیدی ﷫ کا صحیح بخاری کا مرتب کردہ اختصار’’ التجرید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب یقیناً ان لوگوں کے لیے انمول تحفہ ہے جو علم کا ذوق تورکھتے ہیں لیکن وقت کی قلت کے پیش نظر ان کےذوق کی بھرپور تسکین نہیں ہوپاتی۔کیونکہ اس میں صحیح بخاری کے اختصار کے ساتھ ساتھ جامعیت کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے۔اس مختصر صحیح بخاری کا ترجمہ برصغیر پاک وہند کے معروف عالم دین مولانا محمد داؤد راز دہلوی ﷫ کا ہے جس کی تصحیح اور تخریج مکتبہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالرز نےبڑی مہارت کی ہے نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ کی نظرثانی اور اس پر جامع مقدمہ تحریر کرنے اور شیخ احمد زھوۃ ،شیخ احمد عنایۃ کی تخریج سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔اللہ تعالیٰ تمام کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • 5 #652

    مصنف : امام محمد بن نصر المروزی

    مشاہدات : 56693

    السنۃ

    (پیر 25 فروری 2013ء) ناشر : انصار السنہ پبلیکیشنز لاہور

    رسول اللہﷺ کے فرمان کے مطابق گمراہی اور ضلالت سے بچنے کا واحد طریق کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔ لیکن جب اہل اسلام کے ایک بہت بڑے حصہ نے اس حوالے سے سستی کا مظاہرہ کیا تو سیدھے اور سچے راستے کو کھو بیٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بدعت کو سنت کے مقابلے جلدی قبول کیا جاتا ہے بلکہ بدعات و خرافات مسلمانوں کی زندگی کا جزو لازم بن کر رہ گئی ہیں۔ ایسے میں سنت رسول کا دامن تھامنا اور سنن رسول کا زندہ کرنا از حد ضروری ہے۔ چونکہ بدعات کا ظہور رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد جلد ہی ہونے لگا تھا اس لیے علمائے سلف اس حوالہ سے متعدد صورتوں میں اقدامات کرتے رہے ہیں۔ محمد بن نصر مروزی نے اس موضوع پر ایک متہم بالشان کتاب ’السنۃ‘ کے نام سے تالیف کی جس نے صدیوں بعد آج بھی امام صاحب کو علمی حلقوں میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ کتاب میں اس صافی منہج اور صحیح عقیدہ کی پہچان کرائی گئی ہے جس کو نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام نے اپنائے رکھا۔ کتاب کا بامحاورہ، سلیس اردو ترجمہ ابو ذر محمد زکریا نے کیا ہے۔ تخریج ونظرثانی حامد محمود الخضری اور حافظ سلیم اختر ہلالی اور فوائد لکھنے کے فرائض عمران ناصر نے ادا کیے ہیں۔(ع۔م)

    پاسورڈ

  • 6 #4052

    مصنف : امام احمد بن حنبل

    مشاہدات : 5250

    الفتح الربانی فقہی ترتیب مسند امام احمد (اردو) جلد۔1

    dsa (اتوار 24 جنوری 2016ء) ناشر : انصار السنہ پبلیکیشنز لاہور

    امام احمد بن حنبل﷫( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے۔ آپ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ امام احمد جس درجہ کے محدث تھے اسی درجہ کے فقیہ اورمجتہد بھی تھے۔ حنبلی مسلک کی نسبت امام صاحب ہی کی جانب ہے۔ اس مسلک کا اصل دار و مدار نقل و روایت اور احادیث و آثار پر ہے۔ آپ امام شافعی﷫ کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ امام صاحب نے 77 سال کی عمر میں 12 ربیع الاول 214ھ کوانتقال فرمایا۔ اس پر سارا شہر امنڈ آیا۔ کسی کے جنازے میں خلقت کا ایسا ہجوم دیکھنے میں کبھی نہیں آیا تھا۔ جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد محتاط اندازہ کے مطابق تیرا لاکھ مرد اور ساٹھ ہزار خواتین تھیں۔ (وفیات الاعیان : 1؍48) حافظ ابن کثیر﷫ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کایہ قول اللہ تعالیٰ نےبرحق ثابت کردیا کہ: ’’ان اہل بدع ،مخالفین سے کہہ دوکہ ہمارے اور تمہارے درمیان فرق جنازے کے دن کا ہے (سیراعلام النبلاء:11؍ 343) امام صاحب نے کئی تصنیفات یادگار چھوڑیں۔ ان کی سب سے مشہوراور حدیث کی مہتم بالشان کتاب ’’مسنداحمد‘‘ ہے۔ اس سے پہلےاور اس کے بعد مسانید کے کئی مجموعے مرتب کیے گئے مگر ان میں سے کسی کو بھی مسند احمد جیسی شہرت، مقبولیت نہیں ملی۔ یہ سات سو صحابہ کی حدیثوں کا مجموعہ ہے۔ اس میں روایات کی تعداد چالیس ہزار ہے۔ امام احمد نے اس کو بڑی احتیاط سے مرتب کیا تھا۔ اس لیے اس کا شمار حدیث کی صحیح اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی﷫ نے اس کو کتبِ حدیث کے دوسرے درجہ کی کتابوں یعنی سنن ابی داؤد، سنن نسائی اور جامع ترمذی کے ہم پایہ قرار دیا ہے۔ مسنداحمد کی اہمیت کی بنا پر ہر زمانہ کے علما نے اس کے ساتھ اعتنا کیا ہےاور یہ نصاب درس میں بھی شامل رہی ہے۔ بہت سے علماء نے مسند احمد کی احادیث کی شرح لکھی بعض نے اختصار کیا بعض نےاس کی غریب احادیث پر کام کیا۔ بعض نے اس کے خصائص پر لکھا اوربعض نے اطراف الحدیث کا کام کیا۔ مصر کے مشہور محدث احمد بن عبدالرحمن البنا الساعاتی نے الفتح الربانى بترتيب مسند الامام احمد بن حنبل الشيباني کے نام سے مسند احمد کی فقہی ترتیب لگائی اور بلوغ الامانى من اسرار الفتح الربانى کے نام سے مسند احمد پر علمی حواشی لکھے۔ اور شیخ شعیب الارناؤوط نے علماء محققین کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر الموسوعة الحديثية کے نام سے مسند کی علمی تخریج او رحواشی مرتب کیے جوکہ بیروت سے 50 جلدوںمیں شائع ہوئے ہیں۔ مسند احمد کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر اسے اردو قالب میں بھی ڈھالا جاچکا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’مسند احمد امام احمد بن حنبل‘‘ مسند احمد کا 12 جلدوں پر مشتمل ترجمہ وفوائد ہیں۔ مترجمین میں پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی﷾ (سابق شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور) شیخ الحدیث عباس انجم گوندلوی﷾، ابو القاسم محمد محفوظ اعوان ﷾ کےاسمائےگرامی شامل ہیں۔ تخریج وتحقیق اور شرح کا کام جناب ابو القاسم محمد محفوظ اعوان ﷾ کی کاوش ہے۔ موصوف نے آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کی روشنی میں احادیث کی تشریح وتوضیح کی ہے اورمختلف فیہ مسائل میں زیادہ ترصرف راحج قول پیش کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ شرح میں شیخ ناصر البانی ﷫ کے بعض فقہی مباحث بھی موجود ہیں ۔فوائد میں امام البانی ﷫ جیسے محققین پر اعتماد کرتے ہوئے احادیث صحیحہ کاذکر کیاگیا ہے۔ احادیث کی تخریج، صحت وضعف کاحکم لگاتے وقت ’’الموسوعۃ الحدیثیۃ‘‘ کو سامنے رکھاہے۔ اور بعض مقامامات پر حکم لگاتے وقت شیخ البانی کی رائے کو ترجیح دی ہے۔ کتاب کے آخر میں الف بائی ترتیب کے ساتھ احادیث کے اطراف قلمبند کردئیے گئےہیں۔ تاکہ قارئین آسانی کےساتھ اپنے مقصد تک رسائی حاصل کرسکیں۔ اور اسے شیخ احمد عبدالرحمن البنا کی فقہی ترتیب کے مطابق مرتب کر کے شائع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے مولانا حافظ عبد اللہ رفیق﷾ (شیخ الحدیث جامعہ محمد یہ لوکوورکشاپ، لاہور) کو جنہوں نے اس کتاب پرنظرثانی فرماکر اس میں موجود نقائص کو دور کرنے کی بھر پور سعی کی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے جناب شیخ الحدیث ومفتی پاکستان حافظ عبدالستار حماد﷾ کوکہ جنہوں نےاپنی نگرانی میں مسند احمد کا ترجمہ بزبان اردو کروانے کی ذمہ داری لی۔ جو کہ بعد میں یہ سعادت محمد رمضان محمدی صاحب کے حصہ میں آئی جن کی نگرانی میں یہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچا۔ خراج تحسین کےلائق جناب ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی ﷾ جو دیار غیر میں رہتے ہوئے بھی حدیث رسول کی خدمت میں مصروف کار ہیں۔ دیار غیر میں منہج سلف کی ترجمانی میں ان کا کردار انتہائی نمایاں ہے۔ ایسے ہی ان کےدست راست او رمخلص دوست حافظ حامد محمود خضری﷾ (ایم فل سکالر لاہور انسٹی ٹیوٹ فارسوشل سائنسز، لاہور) کو اللہ تعالیٰ اجر جزیل عطا فرمائے کہ جن کے علمی تعاون واشراف سے محدثین کی علمی تراث کو بزبان اردو ترجمہ کے ساتھ منصۃ شہود پر لایاجارہا ہے۔ اب تک مختلف موضوعات پر تقریبا 35 کتب مرتب ہوکر شائع ہوچکی ہیں۔ ہم انتہائی مشکور ہیں جناب خضری صاحب کےجن کی کوششوں سے انصار السنۃ، لاہور کی تقریباً تمام مطبوعات ادارہ محدث کی لائبریری کو حاصل ہوئیں۔ یہ ضخیم کتاب بھی انہی کے تعاون سے میسر ہوئی ہے جسے افادۂ عام کے لیے ہم نے ویب سائٹ پر پبلش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو منظر عام پرلانے میں شامل تمام افرادکی محنت کو قبول فرمائے۔ آمین (م۔ا)

  • 7 #1136

    مصنف : محمد فواد عبد الباقی

    مشاہدات : 22094

    اللؤلؤ والمرجان - جلد1

    dsa (منگل 21 فروری 2012ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    قرآن حکیم کے بعد شریعت اسلامیہ کابڑاماخذ احادیث رسول ہیں ۔صحابہ وتابعین اور ائمہ محدثین سے جیسے قرآن مقدس کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا ایسے احادیث نبویہ کو اپنے منور سینوں میں جگہ دی اور تعلیم و تدریس اور تحریر وتالیف کے ذریعے اس قدر مامون و محفوظ کیا کہ قیامت تک کےلیے آنے والے مسلمانوں کےلیے احادیث رسول تک انکی رسائی کو ممکن و آسان بنادیا ،جو امت پر محدثین کا بہت بڑا احسان ہے۔یہ محدثین اور علماسلف کی محنتوں اور کوششوں کا ثمرہ ہے کہ دین حنیف اصل شکل میں ہمارے پاس موجود ہےاور دینی مسائل کی تلاش میں ہمیں کو ئی دشواری نہیں-صحیح بخاری و صحیح مسلم احادیث کی دواہم کی کتب ہے ،جن کی صحت پر تمام امت کا اجماع ہے اور وہ احادیث مزید اہم اور صحت کے اعتبار سے اعلیٰ ہے ،جن پر بخاری ومسلم کا اتفاق ہے۔زیرنظر کتاب بخاری و مسلم کی متفق روایات کا مجموعہ ہے ،جن کی صحت مسلمہ اور مسائل قطعی ہیں ۔لہٰذاقارئین اس سے کسی قسم کے شکوک وشبہات کے بغیر فائدہ حاصل کرسکتے ہیں ۔(ف۔ر)
     

  • المستدرک علی الصحیحین

    (جمعرات 11 اپریل 2013ء) ناشر : ادارہ پیغام القرآن لاہور

    اس وقت آپ کے سامنے امام حاکم کی مشہور زمانہ کتاب ’مستدرک علی الصحیحین‘ کا اردو قالب ہے۔ دراصل مستدرک حدیث کی اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں کسی صاحب کتاب محدث کی رہی ہوئی احادیث کو لیا جاتا ہے جو اس صاحب کتاب کے مجموعہ احادیث کے ہم پلہ احادیث پر مشتمل ہو۔ چنانچہ امام حاکم نے بھی امام بخاری و امام مسلم کی چھوٹی ہوئی ان حدیثوں کو اس میں جمع فرمایا ہے جو ان کی دونوں کتابوں کی شرطوں پر پوری اترتی ہیں پھر وجہ ترکِ حدیث کو کبھی تو آپ بتا دیتے ہیں لیکن کبھی اظہار لا علمی کر دیا کرتے ہیں، تاہم اپنی شرائط پر پورا اترنے والی احادیث کے لیے ایک عظیم محدث کی طرح دلائل بھی پیش کرتے ہیں جن میں ایک وزن ہے اگرچہ امام صاحب بہت ساری احادیث میں ان شروط کا لحاظ نہ رکھ پائے جن کا اہتمام امام بخاری و مسلم نے کیا تھا اس لیے بعض ضعیف اور موضوع روایات بھی اس میں شامل ہو گئی ہیں پھر بھی اححادیث کا یہ مجموعہ امام بخاری و مسلم کی احادیث میں ایک زبردست اضافہ ہے جس کے لیے امام حاکم ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں۔ اردو ترجمے کا کام شاہ محمد چشتی نے کیا ہے۔ جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ترجموں میں میرا انداز نہایت سادہ ہے بلکہ اتنا سادہ کہ شاید کسی لفظ کے مفہوم سمجھنے کے لیے آپ کو نہ لغات کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی ان شاء اللہ کسی سے پوچھنے کا احتیاج ہو گا۔(ع۔م)
     

  • المستدرک علی الصحیحین جلد۔1

    dsa (اتوار 03 ستمبر 2017ء) ناشر : شبیر برادرز، لاہور

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’المستدرک علی الصحیحین‘‘ للامام الحافظ ابی عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم النیسابوری کی ہے جس کا اردو ترجمہ الشیخ الحافظ ابی الفضل محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی نے خوبصورت اسلوب میں کیا ہے۔ المستدرک علی الصحیحین اس کی چھ جلدیں ہیں اور اسے مستدرک بھی کہتے ہیں اہل سنت کے مشہور عالم امام ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ حاکم نیشا پوریالحاکم نیشاپوری (متوفی 405ھ) کا مرتب کیا ہوا احادیث کا مجموعہ ہے۔ جو الحاکم نیشاپوری نے 72 سال کی عمر میں ترتیب دیا۔ حاکم نیشاپوری کا دعویٰ ہے کہ اس کتاب کی تمام احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم یا دونوں کے معیار کے مطابق حسن اور صحیح احادیث ہیں۔ یہ کتاب المستدرک الحاکم کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن علماء اہل حدیث کا کہنا ہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ حدیث کی تصحیح میں متساہل تھے جس کی بنا پر مستدرک میں بہت ساری ضعیف اور موضوع حدیثیں ذکر کر ڈالی ہیں۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے کتاب کا اختصار کیا اور اس پر بعض مفید تعلیقات بھی چڑھائی ہیں. بہرحال احادیث کا یہ مجموعہ امام بخاری و مسلم کی احادیث میں ایک زبردست اضافہ ہے۔ ہم امام حاکم﷫، محمد شفیق الرحمن القادری الرضوی اور دیگر سا تھیوں کے لئے دعا گو ہیں جنہوں نے اس کتاب پر کام کیا ہےانھیں اللہ رب العزت اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (پ،ر،ر )

  • 10 #4942

    مصنف : احسان الحق فاروقی

    مشاہدات : 2093

    امعان المواضیح لحل مقدمۃ مشکوۃ المصابیح

    (پیر 21 نومبر 2016ء) ناشر : مکتبہ دار الحرمین، گوجرانوالہ

    کسی بھی مسلمان کے لئے یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو تدریس ،تقریر یا تحریر کے ذریعے لوگوں تک پہنچائے،آپ ﷺ نے ایسے سعادت مند افراد کے لئے تروتازگی کی دعا فرمائی ہے۔چنانچہ محدثین کرام ﷭نے اسی سعادت اور کامیابی کے حصول کے لئے کوششیں کیں احادیث نبویہ کو اپنی اپنی کتب میں جمع فرمایا۔انہی سعادت مند شخصیات میں سے ایک صاحب مشکوۃ المصابیح ہیں، جنہوں نے آسانی کی غرض سے متعدد کتب احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی کتاب مرتب فرمائی، تاکہ کسی بھی مسئلہ سے متعلق احادیث ایک ہی جگہ جمع مل جائیں۔ مشکوۃ المصابیح کے شروع میں ایک عظیم الشان مقدمہ بھی موجود ہے، جس میں حدیث اور علوم حدیث کے بارے میں تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ لیکن اس مقدمے کو سمجھنا مبتدی طلباء کے لئے ایک دشوار امر تھا اور طویل عرصے سے اس کے حل کے لئے ایک ایسی جامع شرح کی ضرورت تھی جو اس کی مشکلات کو حل کر دے۔ زیر تبصرہ کتاب" امعان المواضیح لحل مقدمۃ مشکوۃ المصابیح " محترم مولانا احسان الحق فاروقی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مشکوۃ المصابیح کے اسی مشکل مقدمے کو تفصیل کے ساتھ حل فرما دیا ہے اور تمام ممکنہ سوالات کے تسلی بخش جوابات دے دئے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 9 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 799
  • اس ہفتے کے قارئین 15653
  • اس ماہ کے قارئین 39193
  • کل قارئین49251689

موضوعاتی فہرست