دکھائیں کتب
  • 1 آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (جمعرات 05 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:2476

    مارشل لا کے اٹھنے کے بعد نئی حکومت کے لئے سب سے زیادہ اہم کاموں میں سے ایک نئے آئین کا مسودہ تیار کرنا تھا.1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد 1972ء کو 1970ء کے انتخابات کی بنیاد پر اسمبلی بنائی گئی۔ ایک کمیٹی مختلف سیاسی جماعتوں کے کراس سیکشن سے قائم کی گئی۔ اس کمیٹی کا مقصد ملک میں ایک آئین بنانا تھا جس پر تمام سیاسی پارٹیاں متفق ہوں۔ کمیٹی کے اندر ایک اختلاف یہ تھا کہ آیا کہ ملک میں پارلیمانی اقتدار کا نظام ہونا چاہیے یا صدارتی نظام۔ اس کے علاوہ صوبائی خود مختاری کے معاملے پر مختلف خیالات تھے۔ آٹھ ماہ آئینی کمیٹی نے اپنی رپورٹ تیار کرنے میں صرف کیے، بالآخر 10 اپریل 1973ء کو اس نے آئین کے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی۔ وفاقی اسمبلی میں اکثریت یعنی 135 مثبت ووٹوں کے ساتھ اسے منظور کر لیا گیا اور 14 اگست 1973ء کو یہ آئین پاکستان میں نافذ کر دیا گیا۔اسی دستور ؍آئین کو پاکستان کا دستور اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین مجریہ 1973ء بھی کہتے ہیں۔اس آئین کے انگریزی اردو میں کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء‘‘ دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء کا نیا ایڈیشن ہے جسے صفدر حیات صفدر کے تجزیہ وتبصرہ کےساتھ نیو بک پیلس ،لاہورنے شائع کیا ہے۔کتاب وسنت سائٹ کے ناظرین وقارئین کے استفادے کے لیے اسے پبلش کیا گیا ہے ۔کیونکہ ہر ذی شعور پاکستانی کو آئین پاکستان 1973ء کوعلم ہونا ضروری ہے۔(م۔ا)

  • 2 آوازیں جو سنائی نہیں دیتیں (منگل 17 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:852

    قیامِ پاکستان  تقسیم ہند  14؍اگست 1947ء کو  آزادی کے وقت دونوں جانب  جو ہندو مسلم فسادات ہوئے اس میں لاکھوں انسان مارے گئے اور لاکھوں گھر برباد ہوئے ۔دونوں طرف سے جو نقل مکانی ہوئی اس میں خاندان کے خاندان کے بے گھر ہوئے اور یہ اجڑے ہوئے لوگ ہندوستان کی طرف سےپاکستان اور پاکستان کی طرف سے  سے ہندوستان گئے۔ان  میں سب سے زیادہ  مظلوم طبقہ عورتوں کا تھا۔ زیر نظر کتاب ’’آوازیں جو  سنائی نہیں دیتی‘‘ اروشنی بٹالیہ کی انگریزی   تصنیف THE OTHER SIDE OF SILENCE  کا اردو ترجمہ ہے ۔مصنفہ  نے اس  کتاب  میں   ان اجڑی ہو ئی عورتوں پر کیا بیتی؟ کے متعلق  حقیقی واقعات کو  درج کیا ہے ۔مصنفہ  نے گھر گھر جاکر ان عورتوں سے بات چیت کی جو اپنے خاندانوں سے بچھڑ کر اب نئے گھر میں زندگی گزار رہی ہیں۔یہ کتاب  آزادی کے وقت بچھڑ جانے والی عورتوں   کی  کہانیوں کے متعلق ایک  مستند کتاب  ہے ۔(م۔ا)

  • 3 بالشویزم اور اسلام (اتوار 05 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:672

    اسلامی نظام حیات کی پوری عمارت دو باتوں پر قائم ہے عبادات اور معاملات،جنھیں دوسرے الفاظ میں ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد سے تعبیر کرتے ہیں۔اسلام معاملات کو درست رکھنے کی خاطر اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنی حکومت قائم کرنے پر زور دیتا ہے۔اسلام ایک ایسی فلاحی مملکت کا عملی خاکہ پیش کرتا ہے جو لوگوں کی بنیادی ضروریات کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔اس میں نہ طبقات ہیں اور نہ طبقاتی کشمکش ہوتی ہے، اس میں وسائل رزق سب کے لئے برابر میسر ہوتے ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ بالشویزم اور اِسلام‘‘الحاج حضرت مولانا شاہ محمد عبدالحامد صاحب قادری معینی بدایوانی نے اپنے دور میں جو نئے مسائل اور چیلنجز درپیش تھے ۔ اُن سے وہ بطریقِ احسن سرخرو ہوئے ۔ زیرِ نظر رسالہ جس دور میں قلمبند ہوا وہ زمانہ اسلامی ہند کی تحریکِ آزادی کا اہم ترین دور ہے۔اس زمانہ میں مسلمانوں کو منظم و متحد کرنے کے لئے مسلمانانِ برعظیم پاک و ہند میں ملّی و سیاسی شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت تھی ۔جس کے نتیجے میں مصنف ہذا نے بڑی کاوش اور محنت سے یہ کتاب لکھی۔جس میں بالشویزم کے نظامِ جکومت، تقسیم سرمایہ، مالی مساوات، اور دیگر اصول بالشویزم پر مدلل بحث کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو محققانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ دعا ہے اللہ کریم ان کی عاجزانہ کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین طالب دعا: پ،ر،ر

  • 4 تاریخ نظریہ پاکستان (اتوار 09 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:1361

    نظریہ پاکستان سے مراد یہ تصور ہے کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمان، ہندوؤں، سکھوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سے ہر لحاظ سے مختلف اور منفرد ہیں ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح اساس دین اسلام ہے اور دوسرے سب مذاہب سے بالکل مختلف ہے، مسلمانوں کا طریق عبادت کلچر اور روایات ہندوؤں کے طریق عبادت، کلچر اور روایات سے بالکل مختلف ہے۔ اسی نظریہ کو دو قومی نظریہ بھی کہتے ہیں جس کی بنیاد پر 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا۔پاکستان کی تاریخ پر لکھی ہوئی کتابوں میں عموماً منفی نقطۂ نظر پایا جاتا ہے ۔ حالانکہ مسلمانان ہند وپاکستان کی عظیم تاریخ ساز جدو جہدکو محض منفی رد عمل بتانا ان کے ساتھ ناانصافی ہے ۔
    زیر نظر کتاب ’’ تاریخ نظریہ پاکستان ‘‘ محترم جناب پروفیسر سید محمد سلیم کی کاوش ہے فاضل مصنف نے اس کتاب میں مطالعہ پاکستان کےلیے مثبت بنیادوں کو نمایاں کیا ہے مزیدبرآں پاکستان کی جدوجہد کو ملت اسلامیہ کی عمومی تاریخ سےمربوط انداز میں پیش کیاگیا ہے ۔اکثر مصنفین اور محققین نظریہ پاکستان اور تحریک پاکستان کا فہم حاصل کرنےمیں ناکام رہے ۔تحریک پاکستان کے حقیقی محرکات دریافت نہ کرسکے اور اسی باعث جدّوجہد پاکستان کی صحیح تاریخ لکھنے سے قاصر رہے ۔ کتاب ہذا کےمصنف کے پیش نظر قیام پاکستان کی صحیح مگر مختصر تاریخ لکھنا ہے ۔ بعید اور قریب عوامل کی نشاندہی کرنا ہے ہندوستان میں دستوری اصلاحات کا ارتقاء یا مسلم لیگ کی تاریخ لکھنا پیش نظر نہیں ہےبلکہ نظریہ پاکستان کے ارتقاء کو واضح کرنا ہے ۔(م۔ا)

  • 5 تاریخ پاکستان اور حکمرانوں کا کردار (جمعہ 23 جون 2017ء)

    مشاہدات:1756

    تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔یوں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ 1940ء کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل شروعات تاریخ کے اس موڑ سے ہوتی ہیں جب مسلمانان ہند نے ہندو نواز تنظیم کانگریس سے اپنی راہیں جدا کر لی تھیں ۔1930 ءمیں علامہ اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغبر میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933 میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938 میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرار داد پاس کر لی ۔ علاوہ ازیں قائد اعظم بھی 1930 میں علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی جدو جہد کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940 تک قائد اعظم نے رفتہ رفتہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ۔23مارچ 1940 کے لاہور میں منٹو پارک میں مسلمانان ہند کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں تمام ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں نے قافلے کی صورت سفر کرکے شرکت کی اور ایک قرار داد منظور کی جس کے مطابق مسلمانان ہند انگریزوں سے آزادی کے ساتھ ساتھ ہندوؤں سے بھی علیحدہ ریاست چاہتے تھے ۔ لیکن افسوس  کہ آج جب ایک عام پاکستانی اپنے روز مرہ کے معاملات کے سلسلے میں حکومت کے مختلف اداروں سے رابطہ کرتا ہے تو قدم قدم پر سر پیٹ کر رہ جاتا ہے۔اسے یقین ہو ج...

  • 6 تحریک آزادی میں علماء کا کردار 1857 سے قبل (بدھ 12 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:2624

    تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔یوں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ 1940ء کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل شروعات تاریخ کے اس موڑ سے ہوتی ہیں جب مسلمانان ہند نے ہندو نواز تنظیم کانگریس سے اپنی راہیں جدا کر لی تھیں ۔1930 ءمیں علامہ اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغبر میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933 میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938 میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرار داد پاس کر لی ۔ علاوہ ازیں قائد اعظم بھی 1930 میں علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی جدو جہد کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940 تک قائد اعظم نے رفتہ رفتہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک آزادی 1857ء سےبھی پہلے شروع ہو چکی تھی، جس میں علماء کرام نے بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ زیر تبصرہ کتاب" تاریخ پاکستان اور حکمرانوں کا کردار "محترم فیصل احمد ندوی بھٹکلی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے 1857ء سے پہلے تحریک آزادی میں علماء کرام کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی ہےاور قیام پاکستان کے اسی پس منظر کو تفصیل سے بیان  کیا ہے۔(راسخ)

  • 7 تحریک پاکستان کی تصویری داستان (ہفتہ 16 جون 2018ء)

    مشاہدات:1310

    تحریک پاکستان کئی پہلوؤں سے بیسویں صدی کی ایک منفرد اور ممتاز تحریک تھی۔ اس کا سب سے نمایاں پہلو تو یہ تھا کہ وہ خطۂ ارض پر ایک نئی اور آزاد  مملکت کے وجود میں لانے پر منتج ہوئ اور اس طرح اس نے نقشۂ عالم پر ایسا پائدار نقش قائم کیا جو اس کے مقابلے میں کم تحریکوں کو حاصل ہو سکا۔اس تحریک کا دوسرا امتیازی پہلو یہ ہے کہ یہ آغاز سے لے کر انجام تک خالصتاً جمہوری خطوط پر چلتی رہی۔ اس کے دور میں جمہوری خطوط پر کام کرنے والی کچھ دوسری تحریکیں بھی تھیں لیکن ان کے پیش نظر صدیوں بلکہ ہزار ہا سال پہلے سے قائم شدہ ایک ملک کے لیے آزادی حاصل کرنا تھی جب کہ تحریک پاکستان کا نصب العین ایک ملک نہیں ایک قوم کے لی آزادی حاصل کرنا اور اسے ایک علیحدہ اور نیا ملک لے کر دینا تھا۔قیام پاکستان سے پہلے ملک جنگیں لڑ کے اور عسکری فتوحات قائم کر کے حاصل کیے جاتے تھے لیکن تحریک پاکستان جس ملک کے قیام پر منتج ہوئی وہ خالصتاً اس علاقے اور برصغیر کے دوسرے مسلمانوں کا کھلا جمہوری مطالبہ تھا۔اس کی خاطر انہوں نے سر عام جدو جہد کی۔ کھلے بندوں ایک زبردست تحریک برپا کی۔ جھیلیں کاٹیں اور دوسرے مصائب برداشت کیے‘ شدید مخالفتوں کا سامنا کیا‘ انتخابات لڑے۔ پہلے ان میں قدرے نامکامی اور پھر زبردست کامیابی حاصل کی۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی  تحریک پاکستان  کے حوالے سے ہے جس میں تصاویر کے ساتھ تاریخ کو بیان کیا گیا ہےتقریبا دو صدیوں کے عرصے کو محیط تاریخ کی تصویریں جھلکیوں سے بیان کیا گیا ہے اور اس میں پانچ سو سے زیادہ تصاویر ہیں جنہیں سلطنت مغلیہ کے زوال سے لے کر 14 اگست 1947ء...

  • 8 تصور پاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں (اتوار 16 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1124

    14 اگست 1947ء وہ تاریخ ساز دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں کا ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا خواب حقیقت سے شناسا ہوا ور دنیا کے نقشے پر اپنے وقت کی سب سے بڑی مملکت معرض وجود میں آئی۔انسانی تاریخ میں ہجرت مدینہ کے بعد ہجرت پاکستان غالبا سب سے بڑی ہجرت تھی، جس میں مسلمانوں نے ایک نظریہ اور مقصد کی خاطر بننے والی مملکت کے لئے اپنے آبائی گھر چھوڑے اور جان ومال اور عزتوں کی لازوال قربانیاں دیں۔پاکستان کی آئندہ تمام نسلیں اپنے ان اسلاف کی احسان مند اور مقروض رہیں گی جن کی مساعی اور بے پناہ قربانیوں کے نتیجہ میں پاکستان وجود میں آیا۔مسلمان ایک الگ  مسلم قومیت  کے حامل تھے۔اسی مسلم قومیت کے تصور نے ایک اسلامی مملکت پاکستان کی خواہش پیدا کی۔جب برصغیر کے مسلمان حصول پاکستان کے لئے جدوجہد کر رہے تھے تو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ان کے اغراض ومقاصد واضح اور اہداف متعین تھے۔قائدین وبانیان پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال،نواب بہادر یار جنگ، علامہ شبیر احمد عثمانی، نواب زادہ لیاقت علی خان اور چوہدری رحمت علی وغیرہ نے متعدد مواقع پر پاکستان کے اسلامی تشخص کا برملاء اظہار فرمایا۔ زیر تبصرہ کتاب" تصور پاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں"شریعہ اکیڈمی  انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد  کی شائع کردہ ہے۔جس میں بانیان پاکستان کی نظر میں پاکستان کے تصور کو اجاگر کیا گیا ہے، تاکہ پاکستان کی نئی نسل کو مقاصد پاکستان سے روشناس کروایا جا سکے۔(راسخ)

  • " تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔یوں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ 1940 کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل شروعات تاریخ کے اس موڑ سے ہوتی ہے جب مسلمانان ہند نے ہندو نواز تنظیم کانگریس سے اپنی راہیں جدا کر لی تھی ۔ 1930 میں علامہ اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغبر میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933 میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938 میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرار داد پاس کر لی ۔ علاوہ ازیں قائد اعظم بھی 1930 میں علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی جدو جہد کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940 تک قائد اعظم نے رفتہ رفتہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ۔23مارچ 1940 کے لاہور میں منٹو پارک میں مسلمانان ہند کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں تمام ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں نے قافلے کی صورت سفر کرکے شرکت کی اور ایک قرار داد منظور کی جس کے مطابق مسلمانان ہند انگریزوں سے آزادی کے ساتھ ساتھ ہندوؤں سے بھی علیحدہ ریاست چاہتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب" زوال سے اقبال تک،قیام پاکستان کا نظریاتی پس منظر تاریخ پاکستان 

  • 10 قرار داد مقاصد میں وائرس (جمعہ 12 جون 2015ء)

    مشاہدات:1476

    تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔یوں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ 1940 کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل شروعات تاریخ کے اس موڑ سے ہوتی ہے جب مسلمانان ہند نے ہندو نواز تنظیم کانگریس سے اپنی راہیں جدا کر لی تھی ۔ 1930 میں علامہ اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغبر میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933 میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938 میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرار داد پاس کر لی ۔ علاوہ ازیں قائد اعظم بھی 1930 میں علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی جدو جہد کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940 تک قائد اعظم نے رفتہ رفتہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ۔23مارچ 1940 کے لاہور میں منٹو پارک میں مسلمانان ہند کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں تمام ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں نے قافلے کی صورت سفر کرکے شرکت کی اور ایک قرار داد منظور کی جس کے مطابق مسلمانان ہند انگریزوں سے آزادی کے ساتھ ساتھ ہندوؤں سے بھی علیحدہ ریاست چاہتے تھے ۔ لیکن افسوس  کہ آج جب ایک عام پاکستانی اپنے روز مرہ کے معاملات کے سلسلے میں حکومت کے مختلف اداروں سے رابطہ کرتا ہے تو قدم قدم پر سر پیٹ کر رہ جاتا ہے۔اسے یقین ہو جاتا...

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 416
    • اس ہفتے کے قارئین: 4931
    • اس ماہ کے قارئین: 11215
    • کل مشاہدات: 44697489

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں