دکھائیں کتب
  • 1 آداب قبور اور فرمان محمدی (جمعرات 17 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:1638

    اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ابتدائے اسلام میں شرک کے اندیشے کے پیش نظر قبروں کی زیارت سے منع کردیا گیا تھا اور پھر عقیدہ توحید پختہ ہوجانے کے بعد اس کی اجازت دے دی گئی۔زیارتِ قبور ایک جائز ومستحب بلکہ مسنون عمل ہے۔ نبی کریم ﷺبھی قبروں کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے اور اہل قبور کے لیےدعا کرتے اور فرماتے تم قبروں کی زیارت کیاکرو، وہ دنیا سے بے رغبتی کا سبب بنتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ زیارتِ قبور یادِ آخرت کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے...

  • اسلامی حکومت میں اسلامی حدود کا نفاذ نہ تو کسی حکمران کی صوابدید پر ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی حکمران انہیں سیاسی انتقام کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔یہ حدود تو اس رب ذوالجلال والاکرام نے عائد کی ہیں جو اپنے بندوں پر ساری کائنات میں سب سے زیادہ مہربان ہے۔ان حدود کے نفاذ کا بڑا مقصد اسلامی حکومت میں بسنے والے ہر فرد کی عزت وآبرو اور جان ومال کا تحفظ اور انسانیت کی تکریم ہے نہ کہ توہین۔پھر یہ کہ یہ حدود اندھا دھند نافذ نہیں کر دی جاتیں بلکہ ملزم پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے شریعت اسلامیہ  میں کئی شرائط،لوازم،حد درجہ احتیاط اور کڑا معیار شہادت مقرر ہے۔اسلامی حدود کے نفاذ کا یہ مطلب نہیں کہ ملک بھر میں سب کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے جائیں گے اور بدکاری کے معمولی شبے پر لوگوں کو سنگسار کر دیا جائے گا۔یہ محض مغرب زدہ لوگوں کا پروپیگنڈا اور اسلام دشمنی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی حدود اور ان کا فلسفہ  مع اسلام کا نظام احتساب " دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری لاہور کے ریسرچ ایڈ وائزر مولانا  سید محمد متین ہاشمی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے قوانین مغرب سے متاثر اور مرعوب حضرات کی اسی قسم کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے اسلامی حدود کا فلسفہ ،مصالح،اجرائے حد میں احتیاط اور معاشرے میں ان کیبرکات کو بیان کرتے ہوئے حدود شرعیہ کا مختصر اور جامع تعارف کروایا ہے۔ساتھ ہی اسلام کے نظام احتساب کی اہمیت اور اس کے شرائط وآداب پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 پہلا زینہ (جمعہ 13 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:3543
    عذاب  قبر دین اسلام کے    بنیادی  عقائد میں   سے  ایک  اہم  عقیدہ   ہے۔ عقلی وعلمی گمراہیوں میں غرق   بے دین افراد عذاب قبر کا  انکار کرتے ہیں ۔لیکن حقیقت یہی  ہے  کہ عذاب  قبر  برحق ہے اور اس کے اثبات پر کتاب  وسنت میں بے شمار دلائل موجود  ہیں۔تمام  اہل علم کا اس کے اثبات  پر اجماع ہے، اور وہ اسے برحق مانتے  ہوئے  اس  پرایمان رکھتے ہیں۔  عقیدہ  عذاب  قبر اس قدر اہم ہے کہ اس پر  امام  بیہقی ،امام ابن قیم ، اما م جلال الدین سیوطی ، اورامام ابن رجب ﷭  جیسے کبار محدثین اور آئمہ   کرام نے  باقاعدہ کتب  تالیف فرمائی  ہیں۔ نبی کریمﷺ کی صحابہ کو عذاب قبر سے  پناہ مانگنے کی تلقین،  اور  دور نبویﷺ  میں  پیش آنے  والے  کئی واقعات  عذاب   قبر کےبرحق ہونے پر  دال ہیں۔مگر عقلی گمراہیوں  میں مستغرق بعض  بے دین حضرات نے محض اس وجہ سے عذاب قبر کا انکارکردیا کہ یہ ہمیں نظر نہیں آتا ہے،  اور ہماری عقل اسے تسلیم نہیں کرتی ہے۔ ان کی یہ بات انتہائی جاہلانہ اور احمقانہ  ہے،  کیونکہ اس کائنات میں کتنی ہی ایسی اشیاء ہیں، جن کا وجود مسلم ہے، لیکن ہمیں وہ نظر نہیں آتی ہیں۔  زیر نظر کتاب    ابو انشاء قاری خلیل الرحمن جاوید کی کاوش ہے ،جس میں  عذاب قبرکے متعلق جو مختلف شکوک شبہات  ونظریات محض عقلی بنیادوں پر پائے جاتے  ہیں، کتاب وسنت کی روشنی میں ان کا  کافی وشافی جواب دیا گیا ہے  اور دلائل وبراہین سے ثابت کیا گیا ہے کہ  عذاب قبر برحق ہے ۔(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے
  • 4 سیرت ابوبکر صدیق (اتوار 31 اگست 2014ء)

    مشاہدات:1754

    سیدنا ابوبکر صدیق﷜ قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق﷜ ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمن ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر ﷜ نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مخت...

  • 5 صحیح مسلم (آن لائن ایڈیشن) جلد۔1 (اتوار 04 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2098

    صحیح مسلم امام کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین  لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے پیش نظر صحیح بخاری کی طرح اس کی بہت زیادہ شروحات لکھی گئیں۔ عربی  زبان میں  لکھی گئی  شروحات ِ صحیح مسلم میں امام نوویکی شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل ہے۔ پاک وہند میں بھی کئی اہل علم نے عربی  واردو  زبان میں اس کی  شروحات  وحواشی لکھے۔ عربی زبان میں نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں علامہ وحید الزمان کا ترجمہ قابل ذکر ہے اورطویل عرصہ سے یہی  ترجمہ متداول ہے۔لیکن  اس قدیم اردو کی تسہیل و تھذیب اوراحادیث کی ترقیم کرکے اب کئی مکتبات نے بڑی عمدہ طباعت کے ساتھ صحیح مسلم کا ترجمہ شائع کیا ہے۔ او ر دار السلام تو نے نئے ترجمہ وحواشی کے ساتھ اسے طبع کیا ہے۔ زیر تبصرہ صحیح مسلم کا ترجمہ محترم عزیز الرحمن صاحب نے کیا ہے جو کہ تین مجلدات پر مشتمل ہے۔ اور تینوں جلدوں کی فہارس ع...

  • 6 علماء کا مقام اور ان کی ذمہ داریاں (منگل 28 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:3324
    امت مسلمہ کی قیادت کا فریضہ ہمیشہ علماء کرام نے انجام دیا ہے او رہر دور میں  اللہ تعالی نے ایسے  علماء پیدافرمائے ہیں جنہوں نے  امت کو خطرات سےنکالا ہے اوراس کی  ڈوبتی  ہوئی  کشتی  کو پار لگانے کی کوشش کی ہے ۔ اسلامی تاریخ ایسے افراد سے روشن ہے  جنہوں نے  حالات کو سمجھا  اور اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کے  لیے  اور ان کو صحیح رخ  پر لانے  کے لیے  ہر طرح کی قربانیاں دیں  جو اسلامی تاریخ کا  ایک سنہرا باب ہے ۔مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی شخصیت بھی ان ہی  علمائے  ربانیین او ر مجددین ومصلحین  کے طلائی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے  پورے  عالم اسلام میں  مسلمانوں کے ہر طبقہ کو راہنما خطوط دیئے ہیں  اورپیش آنے والے  خطرات سے آگاہ کیا ہے۔  مولانا  ابو  الحسن ندوی  نے  حالات کی روشنی  میں علماء کےلیے  ان کے کام کی نوعیت واضح فرمائی اور ان کی زندگی کا مقصد او ران کا مرکز عمل بتایا ہے  او ردعوت الی اللہ اور اشاعت  ِعلمِ دین  کی طرف ان کو خاص طور پر متوجہ کیا ہے ۔ زیر نظر کتاب  اسی موضوع پر مولاناکے مختلف مضامین اورتقریروں کا چوتھا  مجموعہ ہے  جوعلماء کے مقام اور ان کی ذمہ داریوں کے متعلق ہے جس میں  مولانا نے  درج ذیل  اہم موضوعات پر مفصل  گفتگو کی  ہے ۔ اللہ تعالیٰ  مولانا  ندوی کی اشاعت  دین  حنیف کے سلسلے  میں تمام مساعی کو قبول  فرمائے  او ر اس کتاب کے نفع کو عام فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے
  • 7 فضائل قرآن (جمعرات 20 فروری 2014ء)

    مشاہدات:20821
    قرآن کریم کےنزول کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اس کو پڑھیں، اسے سیکھیں، اس میں غور و فکر کریں، اسے سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر اس پر عمل کر کے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کریں۔ لیکن اس کے برعکس آج کے مسلمان قرآن کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں وہ محتاج وضاحت نہیں۔ زیر نظر میں مصنف نے فضائل قرآن کےساتھ ساتھ اسی فکر کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن صرف حصول برکت یا محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ یہ کتاب ہدایت بھی ہے جس سے زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ فی زمانہ  ہمارے زوال و ادبار کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ ہم نے قرآن مقدس کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔قرآن سے بے رغبتی کی وجہ یہ ہے کہ ہم  اس کی اہمیت و فضیلت سے بے خبر ہیں۔عالم عرب کے مشہور ومعروف عالم دین عبداللہ بن جار اللہ بن ابراہیم الجار اللہ نے قرآن مجید کے فضائل پر یہ بہترین کتاب تالیف فرما کر ہمیں یہی بتانے کی کوشش کی ہے کہ یہ کتاب لاریب ،کس قدر عظیم الشان ہے۔خدا کرے کہ ہم قرآن حکیم کی فضیلت سے با خبر ہو جائیں اور اس سے اپنا رشتہ مستحکم کر لیں،تاکہ دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکیں اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے مستحق ہو سکیں۔(ع۔م)

  • 8 قرآن مجید کے مسلمانوں پر حقوق (منگل 07 مئی 2013ء)

    مشاہدات:3648
    اس دنیا میں ہر شخص اپنے حقوق کا متلاشی اور متقاضی ہے حتیٰ کہ حیوانات کے حقوق کے حصول کے لیے دسیوں پروگرام اسٹیج کیے جاتے ہیں اور اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے ہر آن محو گفتگو ہوتے ہیں اور ہر ممکن کوشش بروئے کار لائی جاتی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ ہر شخص حقوق لینے کا ہی ڈھنڈورا پیٹتا ہے اس کو یہ نہیں پتہ کہ اسلام کے ساتھ منسلک ہونے سے مصدر و منبع اسلام قرآن مجید کے حقوق مجھ پر بھی ہیں میں ان کو ادا کر رہا ہوں کہ صرف اپنے بناوٹی حقوق کا رونا ہی رو رہا ہوں۔ انھی قرآنی حقوق کو یاد کروانے کے لیے اور ان کی حقیقت سے باور کروانے کے لیے قاری صہیب احمد میر محمدی نے تقریباً 230 احادیث مبارکہ سامنے رکھ کر اپنے جذبات کو قلم و قرطاس کے حوالے کیا ہے۔ جو اس وقت ’قرآن مجید کے مسلمانوں پر حقوق‘ کے عنوان کے ساتھ آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کی اساس قرآن و سنت کو بنایا گیا ہے چنانچہ ہر قسم کے تعصب و جانبداری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اس بات کی سعی کی گئی ہے کہ اسلوب سادہ اور عام فہم ہو اور اختصار کے ساتھ تمام جزئیات کا احاطہ ہو سکے نیز کوشش کی گئی ہے کہ احادیث تمام کی تمام صحیح ہوں۔ اس ضمن میں اگر احادیث پر تحقیق بھی رقم کر دی جاتی تو زیادہ مفید ہوتا لیکن صرف احادیث کی تخریج پر اکتفا کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ کتاب بہت اچھی اور لائق مطالعہ ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے
  • 9 مختار النحو (ہفتہ 28 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:6284
    مختار احمد سلفی حفظہ اللہ نے ابتدائی طالب علموں کے لیے ان کی استعداد کو محلوظ رکھ کر کتاب النحو کی جگہ پر ’’ مختار النحو ‘‘ بڑی عرق ریزی اور جانفشانی سے مرتب کی ہے ۔ یہ منتہی طلبا اور اساتذہ کرام کے لیے بھی جواہر کا منبع محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس میں اکثر مثالیں قرآن مقدس اور احادیث مبارکہ سے ماخوذ ہیں ، پھر آخر کتاب میں ہر سبق میں آنے والی بعض مثالوں کی ترکیب بھی موجود ہے ۔ قوانین نحو کو عربی عبارت پر لاگو کرنے کے لیے اجراء کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے ۔ اس کتاب کے اسلوب کو نحو کی دوسری درسی کتابوں کے مطابق ہی رکھا گیا ہے تاکہ طلبا ذہنی انتشار و خلفشار اور تشویش سے محفوظ رہیں ۔ اس کا اسلوب سہل اور ترتیب پرکشش ہے ۔ مبتدی کی استطاعت سے بالاتر وہ باتیں جو اہم تھیں ان کا بیان حاشیے میں ہے ۔ نہ اتنا اختصار کہ مفہوم سمجھ نہ آئے نہ اتنی طوالت کہ پڑھنے والا اکتا جائے ۔ کتاب کی اسباب میں تقسیم ، ہر سبق کے آخر میں مختصر نقشہ ، ہر سبق کے بعد قرآن و سنت کی مثالوں سے مزین تمرین اور سبق میں آیات قرآنیہ کا مختصر حوالہ اس کتاب کی افادیت کو چار چاند لگا دیتا ہے ۔ بعض معلمین اور شیوخ الحدیث ، مثلا مولانا عبدالصمد رفیقی حفظہ اللہ اور مولانا عمر فاروق سعیدی حفظہ اللہ کو اس کتاب کی تعریف میں رطب اللسان پایا ۔ مؤلف جس مدرسے میں پڑھاتے ہیں اس میں انہوں نے اسے نصاب کا حصہ بنا دیا ہے اور باقاعدہ پڑھائی جا رہی ہے اور واقعی یہ اس قابل ہے کہ ابتدائی طلبہ کو پڑھائی جائے ۔ مدرسین و معلمین مطالعہ میں اسے اپنا معاون بنائیں ، تب بھی مفید ہے ۔ خالصتا قرآن و حدیث کو سمجھنے...
  • ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔ معاشرتی علوم اور ادبیات میں علمی نوعیت کی جدید رسمیات پر مبنی کتابیں اور تحقیقی مجلے اس وقت عام ہونے لگے تھے جب رائل ایشیا ٹک سوسائٹی نے خصوصا تاریخ کے موضوعات پر اپنے مطالعات کو جدید اصولوں کے تحت شائع کرنے کا آغاز کیا اور یورپ کے دیگر ملکوں جیسے جرمنی، اٹلی، فرانس اور ہالینڈ کے تحقیقی اور اشاعتی اداروں نے بھی اس جانب پیش قدمی کی اور اسی زمانے میں خصوصا تحقیق و ترتیب متن کی بہترین کوششیں سامنے آنے لگیں۔مغربی جامعات اور تحقیقی و طباعتی ادارے اس بارے میں اپنے اختیار کردہ یا وضع کردہ رسمیات کو بے حد اہمیت دیتے اور ان کی پابندی کرتے ہیں۔ ان اداروں اور جامعات میں ان رسمیات کے معیارات میں فرق یا اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن ہر ادارہ یا جامعہ اپنے لئے وضع کردہ اور اختیار کردہ اصولوں پر سختی سے کاربند رہتی ہیں۔ آکسفورڈ اور کیمبرج کی جامعات میں ان کے طباعتی اداروں میں یہ رسمیات باہم مختلف ہوسکتی ہیں لیکن کیمرج میں لکھا جانے والا ہر مقالہ یا وہاں سے شائع ہونے والی ہر کتاب بڑی حد تک یکساں معیارات اور اصولوں کے تحت لکھی یا شائع کی جاتی ہیں۔ یوں ہم تحقیق میں ہر مغربی جامعہ یا تحقیقی ادارے کو اپنی مخصوص رسمیات یا اسالیب و اصولوں پر عمل پیرا دیکھ سکتے ہیں۔لیکن افسوس ک...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1966
  • اس ہفتے کے قارئین: 5639
  • اس ماہ کے قارئین: 58588
  • کل مشاہدات: 40534715

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں