دکھائیں کتب
  • 1 اللہ کے سپاہی (بدھ 24 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1775

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء کرام و رسل عظام کی ایک برزگزیدہ جماعت کو مبعوث فرمایا۔ اس مقدس و مطہر جماعت کو کچھ ایسے حواری اور اصحاب بھی عنائت کیے جو انبیاء کرام کی تصدیق و حمایت کرتے۔ اللہ رب العزت نے سید الاوّلین و الآخرین حضرت محمد ﷺ کو صحابہ کرام کی ایک ایسی جماعت عطا فرمائی جن کے بارے میں اللہ کی یہ مشیت ہوئی کہ وہ خاتم النبیین سے براہ راست فیض حاصل کریں اور رسول اللہ ﷺ خود ان کا تزکیہ نفس کرتے ہوئے کتاب و حکمت کی تعلیم دیں۔ اور یہ وہ مقدس نفوس تھے جن کا ذکر قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتب میں بھی اللہ رب العزت نے فرمایا اورنبی کریم ﷺ نے" خیر امتی قرنی" کے مقدس کلمات سے نوازہ۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ایک مسلمان کامیابی اور فتح و نصرت کے لیے کبھی ظاہری وسائل پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ اسباب کی بجائے اسباب کے رب پر اعتماد کرتے ہوئے آتش نمرود میں کود کر تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے۔ زیر نظرکتاب" اللہ کے سپاہی" جو کہ فاضل مصنف ابو علی عبدالوکیل نے ایسی ہی بہادر شخصیات کا تذکرہ دلپذیر قلمبند کیا ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو اللہ کی راہ میں وقف کیا ہوا تھا۔ جن کے دن گھوڑوں کے پیٹھ پر میدان جہاد میں گزرتے اور راتیں مصلوں پر اپنے رب کی عبادت میں گزرتیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان بہادر نفوس کو جنہوں نے دین کی سر بلندی کے لیے اپنے جان و مال کی قربانیاں دیں ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے اور فاضل مصنف کی محنت و کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 2 طارق بن زیاد (اتوار 22 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:3409

    طارق بن زیاد بَربَر نسل سے تعلق رکھنے والے مسلم سپہ سالار اور بَنو اُمیّہ کے جرنیل تھے ،جنہوں نے 711ء میں ہسپانیہ (اسپین) میں عیسائی حکومت کا خاتمہ کرکے یورپ میں مسلم اقتدار کا آغاز کیا۔ انہیں اسپین کی تاریخ کے اہم ترین عسکری رہنماؤں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ شروع میں وہ اُموی صوبے کے گورنر موسیٰ بن نصیر کے نائب تھے ،جنہوں نے ہسپانیہ میں وزیگوتھ بادشاہ کے مظالم سے تنگ عوام کے مطالبے پر طارق کو ہسپانیہ پر چڑھائی کا حکم دیا۔طارق بن زیاد نے مختصر فوج کے ساتھ یورپ کے عظیم علاقے اسپین کو فتح کیا اور یہاں دینِ اسلام کاعَلم بلند کیا۔ اسپین کی فتح اور یہاں پراسلامی حکومت کا قیام ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے، جس نے یورپ کو سیاسی، معاشی اور ثقافتی پسماندگی سے نکال کر ایک نئی بصیرت عطا کی اور اس پر ناقابل فراموش اثرات مرتب کیے تھے۔ طارق بن زیاد کی تعلیم و تربیت موسیٰ بن نصیر کے زیر نگرانی ہوئی تھی،جو ایک ماہرِ حرب اور عظیم سپہ سالار تھے۔اسی لیے طارق بن زیاد نے فن سپہ گری میں جلدہی شہرت حاصل کرلی۔ ہرطرف اُن کی بہادری اور عسکری چالوں کے چرچے ہونے لگے۔طار ق بن زیاد بن عبداللہ نہ صرف دُنیاکے بہترین سپہ سالاروں میں سے ایک تھے بل کہ وہ متّقی، فرض شناس اور بلندہمت انسان بھی تھے۔ اُن کے حُسنِ اَخلاق کی وجہ سے عوام اور سپاہی انہیں احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ افریقا کی اسلامی سلطنت کو اندلس کی بحری قوّت سے خطرہ لاحق تھا،جب کہ اندلس کے عوام کا مطالبہ بھی تھا۔اسی لیے گورنر موسیٰ بن نصیر نے دشمن کی طاقت اور دفاعی استحکام کا جائزہ لے کر طارق بن زیاد کی کمان میں سات ہزار (بعض...

  • 3 فاتح سندھ (عظیم ہیرو محمد بن قاسم) (بدھ 14 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:2300

    محمد بن قاسم کا پورا نام عماد الدین محمد بن قاسم تھا جو کہ بنو امیہ کے ایک مشہور سپہ سالار حجاج بن یوسف کے بھتیجا تھا۔ محمد بن قاسم نے 17 سال کی عمر میں سندھ فتح کرکے ہندوستان میں اسلام کو متعارف کرایا۔ ان کو اس عظیم فتح کے باعث ہندوستان و پاکستان کے مسلمانوں میں ایک ہیرو کا اعزاز حاصل ہے اور اسی لئے سندھ کو "باب الاسلام" کہا جاتا ہے کیونکہ ہندوستان پر اسلام کا دروازہ یہیں سے کھلا۔محمد بن قاسم 694ء میں طائف میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد خاندان کے ممتاز افراد میں شمار کئے جاتے تھے۔ جب حجاج بن یوسف کو عراق کا گورنر مقرر کیا گیا تو اس نے ثقفی خاندان کے ممتاز لوگوں کو مختلف عہدوں پر مقرر کیا۔ ان میں محمد کے والد قاسم بھی تھے جو بصرہ کی گورنری پر فائز تھے۔ اسطرح محمد بن قاسم کی ابتدائی تربیت بصرہ میں ہوئی۔ بچپن ہی سے محمد مستقبل کا ذہین اور قابل شخص نظر آتا تھا۔ غربت کی وجہ سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش پوری نہ کرسکے اس لئے ابتدائی تعلیم کے بعد فوج میں بھرتی ہوگئے۔ فنون سپہ گری کی تربیت انہوں نے دمشق میں حاصل کی اور انتہائی کم عمری میں اپنی قابلیت اور غیر معمولی صلاحیت کی بدولت فوج میں اعلی عہدہ حاصل کرکے امتیازی حیثیت حاصل کی۔ محمد بن قاسم کو 15 سال کی عمر میں 708ءکو ایران میں کردوں کی بغاوت کے خاتمے کے لئے سپہ سالاری کے فرائض سونپے گئے۔ اس وقت بنو امیہ کے حکمران ولید بن عبدالملک کا دور تھا اور حجاج بن یوسف عراق کا گورنر تھا۔ اس مہم میں محمد بن قاسم نے کامیابی حاصل کی اور ایک معمولی چھاؤنی شیراز کو ایک خاص شہر بنادیا۔اس دوران محمد بن قاسم کو ف...

  • 4 مشہد بالا کوٹ (منگل 26 نومبر 2013ء)

    مشاہدات:5239

    برصغیر پاک و ہند میں  حضرت سید احمد شہید رحمہ اللہ کی  ذات بابرکات محتاج تعارف نہیں ۔آپ رحمہ اللہ ایک دور، صدی اور عہد کا نام ہیں۔ جب برصغیر   کے مسلمانوں پر مایوسی کے گہرے بادل چھائے ہوتے تھے۔ مسلمان ہر طرف سے سکھوں اور انگریزں اور دیگر قوتوں کے ظلم و استبداد کے شکار تھے۔کسی جگہ کوئی امید نہیں نظر آتی تھی۔ علماو شیوخ اور صوفیا اپنے اپنے مدارس، خانقاہوں اور حلقہ ارادت  میں مصروف تھے۔ اگرچہ کچھ کو انتہائی زیادہ قلق و اضطراب  کے ساتھ  فکر امت دامن گیر تھی۔ہر طرف طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا۔ ان حالات میں  حضرت شاہ ولی اللہ   کے فکری جانشین  یعنی ان کی فکر کے عسکری گوشے کو عملی رخ دینے والے جناب  حضرت سید احمد شہید نے علم جہاد بلند کیا ۔ اور امت کو بیدار کرنے کی کوشش کی ۔ اللہ نے آپ کی اعانت فرمائی اور ایک اسلامی ریاست قائم بھی کردی۔ لیکن اپنے غداری رنگ لائی اور آپ بظاہر تو ناکام ہوئے  لیکن حقیقت میں کامیاب ہوئے۔آپ کی پیدا کی ہوئی جہادی روح ابھی تک امت کے اندر موجود ہے بلکہ وہ ایک  پودے سے تناور درخت بن چکی ہے۔زیرنظر کتاب آب کی سیرت  و سوانح کے مختلف پہلوؤں پر بطریق احسن روشنی ڈالتی ہے۔(ع۔ح)
     

  • 5 پانچ عظیم مسلم سپہ سالار (جمعہ 29 مارچ 2013ء)

    مشاہدات:22989

    دور جدید میں نئی نسل کی تاریخ اسلام میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے وہ اسلام کے تاریخی واقعات پر مبنی کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے بوریت محسوس کرتے ہیں حالانکہ ہر دور میں نئی نسل کے لیے بہادری کی ان داستانوں کا پڑھنا نہایت ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ ان عظیم لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور آنے والے دنوں کے لیے تاریخ میں  اپنا اور اپنے ملک کا نام رقم کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ایسے بے شمار سپہ سالاروں سے نوازا جنھوں نے مختلف مواقع پر مسلمانوں کی بہت بڑی بڑی فتوحات سے ہمکنار کیا۔ زیر تبصرہ کتاب میں عبدالصمد مظفر نے ان میں سے 5 سپہ سالاروں کا انتخاب کیا ہے۔ جن میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، محمد بن قاسم، طارق بن یزید، یوسف بن تاشفین اور امیر تیمور کے نام شامل ہیں۔ اسلامی لشکر کے یہ جانباز سپہ سالار میدانِ جنگ میں دشمن کے لیے موت اور اپنوں کے لیےامن و راحت کے پیامبر تھے۔ اسلام کے ان عظیم سپہ سالاروں نے اپنی منزل کا تعین کرتے ہوئے جب بھی قدم بڑھائے تو رفعت و عظمت کے پھول ان کے استقبال کے لیے بکھرتے چلے گئے۔ ان عظیم سپہ سالاروں کی زندگی کے حالات و واقعات کے مطالعے سے قارئین میں ایک نیا جوش و ولولہ بیدار ہوگا جو دنیا کے مسلمانوں کا مستقبل مزید محفوظ بنا سکتا ہے۔(ع۔م)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1808
  • اس ہفتے کے قارئین: 8339
  • اس ماہ کے قارئین: 27632
  • کل قارئین : 47742421

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں