جہانگیر بک ڈپو پاکستان

جہانگیر بک ڈپو پاکستان
لاہور ، راولپنڈی ، ملتان ، فیصل آباد ، حیدر آباد ، کراچی
8 کل کتب
دکھائیں

  • 2 عکس وجود باری تعالیٰ (جمعرات 12 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:967

    اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنا مخلوق کا سب سے ارفع مقصد جبکہ اُس ذات باری تعالیٰ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ علم رکھنا انسانیت کا اعلیٰ ترین مقصد ہے۔ جنوں اور انسانوں کے لیے حقیقی خوشی‘ اللہ کی محبت اور عرفانِ الٰہی میں مضمر ہے۔ انسان کی سچی روحانی خوشی اور قلب انسانی کی تابندگی اللہ جل شانہ کی محبت میں پنہاں ہے تمام سچی خوشیاں اور حقیقی مسرت اللہ جل شانہ کی محبت بھری عنایتیں اللہ کی محبت اور معرفت الٰہی کے طفیل ہیں۔ وہ جو صحیح علم رکھتے ہیں اور حق تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں وہی لافانی خوشی بے پایاں عنایت‘ ہدایت ربانی اور اس سے وابستہ اسرار ورموز کا بھید پا سکتے ہیں اور وہ جو ایسا نہیں کرتے‘ روحانی وجسمانی آزار‘ رنج والم اور خوف میں مبتلا کر دیئے جاتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے  جس میں اللہ رب العزت کے تعارف سے لے کر ان کی ذات سے متعلقہ تمام اشکالات اور باطل عقائد کا رد کیا گیا ہے۔ اس میں لوگوں کے ذہنوں اور دلوں سے جمع شدہ جھوٹے اعتقادات اور نظریات  کی تلچھٹ کو دور کرنے اور انہیں شعوری اور روحانی طور پر پاک کرنے کی سعی کی گئی ہے اور انداز تحریر نہ تو عالمانہ ہے اور صحافانہ بلکہ احساسات کے ذریعے اصلاح کی گئی ہے۔ اور حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ عکس وجود باری تعالیٰ ‘‘ بدیع الزمان سید نورسی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہ...

  • 3 اسلام انسانی خوشی کا دروازہ (پیر 09 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:1287

    اسلام اللہ کا وہ بہترین اور پسندیدہ مذہب ہے جو قیامت تک ساری دنیا کے لیے رشدوہدایت کا سبب ہے‘ وہی ذریعہ نجات ہے‘ رضائے الٰہی کا سبب ہے۔ اس عظیم کا مذہب کا مرجع ومصدر اور اس کی بنیادوہ وحی الٰہی ہے ۔ اوریہی ضابطۂ حیات ہے‘ اسلام اور اسلامی تعلیمات کے بغیر دنیا میں زندگی بسر کرنا ناممکن سی بات ہے اس لیے اسلامی تعلیمات سے آگاہی اور اس کو دوسروں تک پہنچانا فرض ہے اور بسا اوقات حالات کے پیش نظر قرض بھی ہونے لگتا ہے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنا ہی در حقیقت باعث مسرت ہوتا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں بھی اسلامی تعلیمات کے حوالے سے ہی لکھا گیا ہے ۔ اس میں بسم اللہ کی فضیلت‘ قناعت کا راستہ‘ اللہ کا راستہ ہی بہتر ہے‘مقررہ نمازوں کے فوائد‘ ایمان والوں کی صحیح تربیت‘ عظیم الشان کاروبار‘ انسانیت کے لیے خوشی کا راستہ‘ مذہب انسان کی ضرورت جیسے اہم مضامین کو کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام ‘ انسانی خوشی کا دروازہ ‘‘ بدیع الزمان سید نورسی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 4 وجود ہستی اور تصور توحید (اتوار 15 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:875

    اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنا مخلوق کا سب سے ارفع مقصد جبکہ اُس ذات باری تعالیٰ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ علم رکھنا انسانیت کا اعلیٰ ترین مقصد ہے۔ جنوں اور انسانوں کے لیے حقیقی خوشی‘ اللہ کی محبت اور عرفانِ الٰہی میں مضمر ہے۔ انسان کی سچی روحانی خوشی اور قلب انسانی کی تابندگی اللہ جل شانہ کی محبت میں پنہاں ہے تمام سچی خوشیاں اور حقیقی مسرت اللہ جل شانہ کی محبت بھری عنایتیں اللہ کی محبت اور معرفت الٰہی کے طفیل ہیں۔ وہ جو صحیح علم رکھتے ہیں اور حق تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں وہی لافانی خوشی بے پایاں عنایت‘ ہدایت ربانی اور اس سے وابستہ اسرار ورموز کا بھید پا سکتے ہیں اور وہ جو ایسا نہیں کرتے‘ روحانی وجسمانی آزار‘ رنج والم اور خوف میں مبتلا کر دیئے جاتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے  جس میں اللہ رب العزت کے تعارف سے لے کر ان کی ذات سے متعلقہ تمام اشکالات اور باطل عقائد کا رد کیا گیا ہے۔اور تصور توحید کو عیاں کرنے اور عوام الناس کے سامنے صحیح اور درست عقیدہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں لوگوں کے ذہنوں اور دلوں سے جمع شدہ جھوٹے اعتقادات اور نظریات  کی تلچھٹ کو دور کرنے اور انہیں شعوری اور روحانی طور پر پاک کرنے کی سعی کی گئی ہے اور انداز تحریر نہ تو عالمانہ ہے اور صحافانہ بلکہ احساسات کے ذریعے اصلاح کی گئی ہے۔ اور حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ عکس وجود باری تعالیٰ ‘‘ بدیع الزمان سید نورسی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف و...

  • 5 قرآن حکیم کے کھلے راز (جمعرات 30 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:1044

    یہ بات اِنتہائی قابلِ توجہ ہے کہ سائنس نے جو دریافتیں بیسویں صدی اور بالخصوص اُس کی آخری چند دہائیوں میں حاصل کی ہیں قرآنِ مجید اُنہیں آج سے 1,400 سال پہلے بیان کر چکا ہے۔ تخلیقِ کائنات کے قرآنی اُصولوں میں سے ایک بنیادی اُصول یہ ہے کہ اِبتدائے خلق کے وقت کائنات کا تمام بنیادی مواد ایک اِکائی کی صورت میں موجود تھا، جسے بعد ازاں پارہ پارہ کرتے ہوئے مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اِس سے کائنات میں توسیع کا عمل شروع ہوا جو ہنوز مسلسل جاری و ساری ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ سائنسی معاشرے کی نشوونما کی تمام تاریخ حقیقت تک رسائی کی ایسی مرحلہ وار جستجو پر مشتمل ہے جس میں حوادثِ عالم خود بخود اِنجام نہیں پاتے بلکہ ایک ایسے حقیقی اَمر کی عکاسی کرتے ہیں جو یکے بعد دیگرے امرِ ربّانی سے تخلیق پاتا اور متحرک رہتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآن حکیم کے کھلے راز‘‘بدیع الزماں سید نورسی (ترکی) کی ہے۔ جس میں قرآن مجید کی معجزاتی فصاحت کو نمایاں کرنے والی آیات کو نمایاں کیا گیا ہے۔اس کتاب میں الہامی عقل اور انسانی فکر کے حوالے سے چار بنیادی اصولوں کو بیان کیا ہے۔مزید قرآن مجید فصاحت اور سائنس، معجزاتی قرآن اور قرآن کریم کے متعلق نو نکات کو بیان کیے ہیں۔اور یہ کتاب رسالہ نور سے اخذ کی گئ ہے۔بدیع الزماں 1873ء ۔ 1960ء اپنے مسلسل اثر و نفوذسے مسلم دنیاں میں ایک اہم مفکر اور مصنف تھے اوٰر اب بھی ہیں۔مصنف نے کمیونزم کے خلاف جد و جہد کرتے ہوئے لوگوں کی اصلاح کے لئے گامزن رہے۔ ہم مصنف کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائ...

  • 6 داستان مجاہد (جمعرات 05 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1060

    نسیم حجاز ی اردو کے مشہور ناول نگار تھے جو تاریخی ناول نگاری کی صف میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام شریف حسین تھا لیکن وہ زیادہ تر اپنے قلمی نام "نسیم حجازی" سے معروف ہیں۔ وہ تقسیم ہند سے قبل پنجاب کے ضلع گرداسپور میں 1914ء میں پیدا ہوئے۔ برطانوی راج سے آزادی کے وقت ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آگیا اور باقی کی زندگی انہوں نے پاکستان میں گزاری۔ وہ مارچ 1996ء میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے ناول مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ پر مبنی ہیں جنہوں نے اردو خواں طبقے کی کئی نسلوں پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔ وہ صرف تاریخی واقعات بیان کر کے نہیں رہ جاتے بلکہ حالات کی ایسی منظر کشی کرتے ہیں کہ قاری خود کو کہانی کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے اور ناول کے کرداروں کے مکالموں سے براہ راست اثر لیتا ہے۔نسیم حجازی  نے تقریبا 20 کے قریب ایمان افروز ناول تحریر کیے ہیں ۔ زیر نظر  کتاب ’’ داستان مجاہد ‘‘ بھی انہی کاتحریر کردہ ناول ہے ۔ان کایہ تاریخی ناول خلافت امویہ، فتح اندلس، فتح سندھ،, فتح وسط ایشیاء اور فتح المغرب کے دلچسپ  واقعات پر مشتمل ہے ۔(م۔ا)

  • 7 انسان اور دیوتا ( نسیم حجازی ) (ہفتہ 28 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1127

    نسیم حجاز ی اردو کے مشہور ناول نگار تھے جو تاریخی ناول نگاری کی صف میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام شریف حسین تھا لیکن وہ زیادہ تر اپنے قلمی نام ’’نسیم حجازی‘‘سے معروف ہیں۔ وہ تقسیم ہند سے قبل پنجاب کے ضلع گرداسپور میں 1914ء میں پیدا ہوئے۔ برطانوی راج سے آزادی کے وقت ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آگیا اور باقی کی زندگی انہوں نے پاکستان میں گزاری۔ وہ مارچ 1996ء میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے ناول مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ پر مبنی ہیں جنہوں نے اردو خواں طبقے کی کئی نسلوں پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔ وہ صرف تاریخی واقعات بیان کر کے نہیں رہ جاتے بلکہ حالات کی ایسی منظر کشی کرتے ہیں کہ قاری خود کو کہانی کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے اور ناول کے کرداروں کے مکالموں سے براہ راست اثر لیتا ہے۔نسیم حجازی  نے تقریبا 20 کے قریب ایمان افروز  تاریخی  ناول تحریر کیے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ انسان اور دیوتا ‘‘ بھی انہی کاتحریر کردہ ناول ہے ۔ان کایہ ناول قدیم ہندوستان(قدیم ہندوستان ایک بہت قدیم تہذیب اور ثقافت رہی ہے۔ قدیم ہندوستان میں موجودہ دور کا پاکستان، بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش شامل تھے۔) برہمن اورکھشتری ذات کے لوگوں کےشودروں پر مظالم  پرمشتمل ہے ۔نسیم حجازی کے ناول دلچسپ تاریخی معلومات پر مشتمل ہیں اس لیے  قارئین وناظرین  کتاب وسنت سائٹ کےلیے اسے سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔(م۔ا)

  • 8 محمد بن قاسم (ہفتہ 11 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1854

    محمد بن قاسم  کا پورا نام عماد الدین محمد بن قاسم تھا جو کہ بنو امیہ کے ایک مشہور سپہ سالار حجاج بن یوسف کا بھتیجا تھا۔ محمد بن قاسم نے 17 سال کی عمر میں سندھ فتح کرکے ہندوستان میں اسلام کو متعارف کرایا۔ ان کو اس عظیم فتح کے باعث ہندوستان و پاکستان کے مسلمانوں میں ایک ہیرو کا اعزاز حاصل ہے اور اسی لئے سندھ کو "باب الاسلام" کہا جاتا ہے کیونکہ ہندوستان پر اسلام کا دروازہ یہیں سے کھلا۔محمد بن قاسم 694ء میں طائف میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد خاندان کے ممتاز افراد میں شمار کئے جاتے تھے۔ جب حجاج بن یوسف کو عراق کا گورنر مقرر کیا گیا تو اس نے ثقفی خاندان کے ممتاز لوگوں کو مختلف عہدوں پر مقرر کیا۔ ان میں محمد کے والد قاسم بھی تھے جو بصرہ کی گورنری پر فائز تھے۔ اسطرح محمد بن قاسم کی ابتدائی تربیت بصرہ میں ہوئی۔ بچپن ہی سے محمد مستقبل کا ذہین اور قابل شخص نظر آتا تھا۔ غربت کی وجہ سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش پوری نہ کرسکے اس لئے ابتدائی تعلیم کے بعد فوج میں بھرتی ہوگئے۔ فنون سپہ گری کی تربیت انہوں نے دمشق میں حاصل کی اور انتہائی کم عمری میں اپنی قابلیت اور غیر معمولی صلاحیت کی بدولت فوج میں اعلی عہدہ حاصل کرکے امتیازی حیثیت حاصل کی۔ محمد بن قاسم کو 15 سال کی عمر میں 708ءکو ایران میں کردوں کی بغاوت کے خاتمے کے لئے سپہ سالاری کے فرائض سونپے گئے۔ اس وقت بنو امیہ کے حکمران ولید بن عبدالملک کا دور تھا اور حجاج بن یوسف عراق کا گورنر تھا۔ اس مہم میں محمد بن قاسم نے کامیابی حاصل کی اور ایک معمولی چھاؤنی شیراز کو ایک خاص شہر بنادیا۔اس دوران محمد بن قاسم کو فارس ک...


  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1746
    • اس ہفتے کے قارئین: 6996
    • اس ماہ کے قارئین: 34690
    • کل قارئین : 45943948

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں