کل کتب 23

دکھائیں
کتب
  • 1 #5778

    مصنف : ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی

    مشاہدات : 1613

    اصدق القصص

    (ہفتہ 23 ستمبر 2017ء) ناشر : مدرسہ دار السنہ تگران آباد مکران

    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اوراثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر موڑ پر مکمل راہ نمائی کرتا ہے خوشی ہو یاغمی ہواسلام ہر ایک کی حدود وقیوم کو بیان کرتا ہے تاکہ کو ئی شخص خوشی یا تکلیف کے موقع پر بھی اسلام کی حدود سےتجاوز نہ کرے۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام وتابعین کی سیرت وسوانح میں ہمیں جابجا پاکیزہ مزاح او رہنسی خوشی کے واقعات او رنصیت آموز آثار وقصص ملتے ہیں کہ جن میں ہمارے لیے مکمل راہ نمائی موجود ہے ۔ لہذا اہمیں چاہیے کہ خوش طبعی اور پند نصیحت کےلیے جھوٹے ،من گھڑت اور افسانوی واقعات ولطائف کےبجائے ان مقدس شخصیات کی سیرت اور حالات کا مطالعہ کریں تاکہ ان کی روشنی میں ہم اپنے اخلاق وکردار اور ذہن وفکر کی اصلاح کرسکیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  صحیح اور ثابت قصص کو بیان کیا گیا ہے اور صرف بخاری ومسلم میں مروی ہونے والے واقعات کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ اس کتا ب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے‘ پہلے حصے میں  پانچ فصول قائم کی گئی ہے۔ پہلی میں  انبیاء ورسل﷩ کے قصے‘ دوسری میں اللہ تعالیٰ کے عجائب قدرت پر دلالت کرنے والے قصے‘ تیسری میں فضائل اعمال والے قصے‘ چوتھی میں ایمانی نمونے والے قصے اور پانچویں میں برے نمونے والے قصے بیان کیے گئے ہیں۔ دوسرے حصے میں تین فصول کا اہتمام ہے‘ پہلی میں نبیﷺ سے متعلق قصص وواقعات کو‘ دوسری میں صحابہ کرامؓ سے متعلق واقعات کو اور تیسری میں برے نمونے والے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ اصدق القصص ‘‘ ابوعبد الصبور عبد الغفور دامنی﷾ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 2 #3916

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 2111

    انوکھے مہمان (قصہ سیدنا اسحٰق علیہ السلام)

    (بدھ 06 جنوری 2016ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم ﷤ کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم ﷤ کا اسم گرامی آیا ہے۔ اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے۔ حضرت ابراہیم ﷤نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی۔ جب حضرت ابراہیم ﷤ پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم﷤ کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم﷤کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے۔‘‘ سیدنا ابراہیم ﷤ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ فرشتوں کا ان کے پاس انسانی صورت میں مہمان بن کرآنا اور انہیں بڑھاپے میں بیٹے کی خوشخبری دینا اور قوم لوط کی تباہی کی خبر دینا ہے ۔اس واقعہ کو قرآن مجید نے   بھی بیان کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’انوکھے مہمان‘‘ محترم جناب اشتیاق احمد صاحب کا مرتب شدہ ہے ہے اس کتابچہ میں مرتب نے بڑے خوبصورت انداز میں سیدنا ابراہیم ﷤ کے ان مہمانوں کا تذکرہ ایک کہانی اور مکالمہ کی صورت میں پیش کیا ہے جو کہ بچوں ،بڑوں کے لیے انتہائی دلچسپ نصیحت آموز ہے۔ دارالسلام نے بچوں کےلیے انبیاء اور صحابہ کرام کے واقعا ت کو مرتب کروا کر بڑے خوبصورت اور عمدہ طباعت کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ دار السلام کی بچوں کے لیے یہ منفرد کاوش ہے۔ والدین اپنے بچوں کو بازاری فضول کہانیاں، اخلاق سے گرے ہوئے ڈائجسٹ او رناولوں کی بجائے انبیاء کے قصص واقعات کو پڑھنے کی ترغیب دیں۔ (م۔ا)

  • 3 #473

    مصنف : امتیاز احمد

    مشاہدات : 11555

    اہل فکرکے لیے یاد دہانی

    (جمعرات 17 مارچ 2011ء) ناشر : المکتبۃ التعاونی للدعوۃ والارشاد

    اس وقت آپ کے سامنے"Reminders for people of understanding"  کا اردو ترجمہ’اہل فکر کے لیے یاد دہانی‘ کے نام سے ہے۔ جو محترم امتیاز احمد کی تصنیف ہے۔ فاضل موصوف کے اس سے قبل بھی دو کتابوں کے اردو تراجم اشاعت کے مراحل طے کر چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں انہوں نے انسانی زندگی کے مختلف مراحل پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے قرآن کو بنیاد بناتے ہوئے احادیث و اقوال سلف سے مدد لی ہے۔ انہوں نے متعدد عناوین کے تحت جہاں حضرت داؤد، حضرت سلیمان اور حضرت خضر علیہم السلام سے متعلق متعدد واقعات پر روشنی ڈالی ہے وہیں اسلامی اخلاقیات کے باب میں بھی اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ کتاب کا اردو ترجمہ حافظ سلمان الفارس نے کیا ہے۔ ترجمے کے حوالے سے یہ بات قابل غور ہےکہ انہوں قرآنی آیات ذکر کرتے ہوئے صرف اردو تراجم نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔ اگر ان کے ساتھ قرآنی عربی نصوص کا تذکرہ بھی ہوتا تو بہت بہتر ہوتا۔ اس کے علاوہ قرآنی آیات کے ذیل میں بیان کردہ احادیث اور اقوال سلف کی تخریج بھی نہیں کی گئی۔ اس کا اہتمام بھی ہوتا تو کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہو جاتا۔ بہرحال دین کے چیدہ چیدہ اصولوں سے آگاہی کے لیے یہ کتاب قدرے اہم ہے۔

     

  • 4 #5276

    مصنف : سید سلیمان ندوی

    مشاہدات : 3395

    تاریخ ارض القرآن کامل

    (جمعہ 14 اپریل 2017ء) ناشر : دار الاشاعت، کراچی

    ارض قرآن سے مراد وہ سرزمیں مبارکہ ہے جس میں سید الانبیاء امام الانبیاء سیدنا محمد ﷺ پیدا ہوئے اور جس سرزمین پر اللہ تعالیٰ نے آخری کتاب قرآن مجید نازل ہوا۔اور قرآن مجید نے جسے وادی غیر ذی زرع کا خطاب دیا ہے لیکن جس کی روحانی سیر حاصلی کی فروانی کا یہ عالم ہےکہ آج دنیا میں جہاں بھی روحانی کھیتی کاکوئی سرسبز قطعہ موجود ہے تو وہ اسی کشتِ زاد الٰہی کے آخری کسان کی تخم ریزی وآب سیری کا نتیجہ ہے۔ زیر نظر کتاب ’’تاریخ ارض القرآن ‘‘ برصغیر کے مشہور ومعروف مؤرخ وادیب ، سیر ت نگار مولانا سید سلیمان ندوی ﷫ کی تصنیف ہے ۔ یہ کتاب دو جلدوں میں یکجا شائع ہوئی ہے ۔جلداول قرآن مجید کی تاریخی آیات کی تفسیر، سرزمیں قرآن (عرب) کاجغرافیہ، اور قرآن میں جن عرب اقوام وقبائل کا ذکر ہے ان کی تاریخی اور اثری تحقیق اور جلد دوم بنو ابراہم کی تاریخ اور عربوں کی قبل اسلام تجارت زبان اورمذہب پر حسب بیان قرآن مجید وتطبیق آثار وتوراۃ وتاریخ یونان وروم کی تحقیقات ومباحث پر مشتمل ہے ۔(م۔ا)

  • 5 #4668

    مصنف : ڈاکٹر عبد الرحمن عمیرہ

    مشاہدات : 2930

    رجال قرآن جلد اول

    dsa (جمعرات 26 مئی 2016ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    صحابۂ کرام کے عہد زریں بڑے دلچسپ اور سبق آموز واقعات پر مشتمل ہے ان کی عطر آگیں سیرت اور پاکیرہ زندگی ایمان وعمل کا بہت بڑا سرچشمہ اور منبع نور وہدایت ہے جس سے مسلمانوں نے ایمان ویقین کی مشعلیں روشن کی تھیں ۔ خلفائے راشدین کی قابل فخر تاریخ ایمان وایقان ، صبر وتحمل ، بے پناہ شجاعت، ثابت قدمی اور علم وہنر کے کارہائے نمایاں سے بھر پور ہے ۔ ان کا بے مثال عمل وکردار جس کےثمرات ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور جس کافیضان آج تک جاری ہے۔ وہ لوگوں کے معاملے میں خدا ترس واقع ہوئے تھے۔ دنیا کے مال ومتاع سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ خشوع و خضوع کے پیکر تھے اور اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق بڑی مستحکم بنیادوں پر استوار تھا۔صحابہ کرام ﷢ نے جس طرح اللہ اوراس کے محبوب ﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی اور اس کےلیے قربانیاں دیں تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ صحابہ کرام ﷢ ان اوقات کی تلاش میں رہتے تھے کہ انہیں وقت ملے اور وہ اللہ کے رسول کو راضی کریں۔ صحابہ کرام ﷢ میں بعض ایسی خوش قسمت شخصیات بھی تھی کہ جن افعال اوراعمال کا تذکرہ اللہ رب العزت کو اتنا پسند آیا کہ ان کا ذکر قرآن کریم میں کردیا۔آج کے اس پرفتن دور میں جبکہ نوجوان نسل بتدریج اسلام سے دور ہورہی ہے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اہم اپنے نوجوانوں کو اپنے اسلاف کی سیرت پرھائیں، وہ اسے سنیں اور جانیں کہ ان کی زندگیاں کیسی تھیں، ان کےاخلاق وکردار کیسے تھے اور انہوں نے اسلام کے لیے کتنی قربانیاں پیش کیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’رجال القرآن‘‘ ڈاکٹر عبد لرحمٰن عمیرہ کی عربی کتاب ’’رجال أنزل الله فيهم قرآنا‘‘ کا سلیس ور واں اردو ترجمہ ہے۔ فاضل مصنف کا انداز بڑا عمدہ ہے۔ انہوں نے ایک کہانی کے انداز میں ان صحابہ کرام کی سیرت اس کتاب میں بیان کی ہے جن کے بارے میں قرآن کریم میں آیات نازل ہوئی ہیں۔ نیز انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام ہی نہیں بلکہ ان کفار کے بارے میں بھی پوری تفصیل کے ساتھ لکھا ہے جن کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔ کتاب میں موجود واقعات تاریخ کی مستند کتابوں سے نقل کیے گئے ہیں۔ ان واقعات میں اور صحابہ کرام کی مبارک زندگیوں میں ہمارے لیے دروس ہیں۔ یہ کتاب خلفائے راشدین کے علم و نظر، سیرت و کردار اور ان کے عظیم کارناموں کی روداد ہے۔ اس میں جہاں آپ کو خلفائے راشدین کی پاکیزہ سوانح عمری پڑھنے کو ملےگی وہیں ان کے نور علم کی روشنیاں بھی جگمگاتی نظر آئیں گی۔ اللہ تعالیٰ کتاب کے فاضل مؤلف، مترجم اورناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اسے امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • 6 #2792

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 3176

    سفر نامہ ارض القرآن

    (ہفتہ 10 جنوری 2015ء) ناشر : الفیصل ناشران وتاجران کتب، لاہور

    اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا سفر کیا گیا تھا۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔تاریخی پہلو سے جزیرۃالعرب کے سفرناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین سفرنامے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان  میں  سے اہم سفرنامہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا زیر تبصرہ  ’’سفرنامہ ارض القرآن‘‘ ہے، جسے جناب مولانامحمد عاصم الحدّادنے مرتب کیا ہے۔ یہ حج و عمرہ کا سفرنامہ نہیں، بلکہ آثار و مقاماتِ قرآنی کی تحقیق و زیارت کے لیے کیے گئے ایک سفر کی روداد ہے۔ یہ سفرنامہ علومِ قرآنی کے شائقین اور محققین کے لیے ایک گنجینہ علم ہے۔ اس میں سرزمینِ انبیائے کرام  کی تفصیل، اقوامِ قدیمہ کی سرگزشت اور ان کے مساکن کے آثار وغیرہ کا تعارف کرایا گیا ہے۔ یہ سفرنامہ دینی اور تاریخی لٹریچر میں یہ ایک اہم اور مفید اضافہ ہے۔ تفہیم القرآن کی تالیف کا آغاز مولانا مودودی ؒ  نے محرم ۱۳۶۱ھ؍ فروری ۱۹۴۲ ءسے کیا اور یہ کام تیس سال کے بعدجون ۱۹۷۲ء میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ دورانِ تالیف انھوں نے محسوس کیا کہ جن مقامات و آثار کا تذکرہ قرآن کریم میں آیا ہے یا رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے ان کا تعلق ہے انھیں بہ چشم خود دیکھ لینا بہتر ہوگا۔ اس کے لیے انھوں نے ۱۹۵۹کے اواخر اور ۱۹۶۰کے اوائل میں یہ سفر کیا تھا۔ اس سفر میں جماعت اسلامی پاکستان کی دو شخصیات  چودھری غلام محمد اور مولانامحمد عاصم الحدّاد  ۔ مولانا مودودی کے ہمراہ تھیں۔ یہ سفر ۲۲؍ اکتوبر ۱۹۵۹ءکو لاہور سے شروع ہوا اور ۶؍ فروری ۱۹۶۰کو واپسی پر اختتام کو پہنچا۔ لاہور سے کراچی تک کا سفر بذریعہ ٹرین ہوا، وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے مسقط، دبئی، قطر اور بحرین ہوتے ہوئے سعودی عرب میں داخلہ ہوا۔ اس سفر کا اصل مقصد آثار و مقامات قرآنی کا بہ راہ راست مشاہدہ تھا۔ یہ چیز اس سفرنامہ کو جزیرۃالعرب کے دیگر سفرناموں سے ممتاز کرتی ہے۔ مولانا مودودی نے سب سے پہلے سعودی عرب کے آثار کا مشاہدہ کیا۔پھر اردن و فلسطین اور مصر کے تاریخی آثار کی بھی زیارت کی تھی۔ اس سفر کے ذریعہ مولانا مودودیؒ نے قرآن کریم میں مذکور آثار و مقامات کے مشاہدہ سے جو بلا واسطہ معلومات حاصل کیں انھیں اپنی تفسیر” تفہیم القرآن” میں استعمال کیا۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو تفہیم القرآن کو دیگر معاصر تفسیروں سے ممتاز کرتی ہے۔(م۔ا)

  • 7 #6300

    مصنف : محمد اسحاق دہلوی

    مشاہدات : 2103

    طوفان حضرت نوح علیہ السلام

    (جمعرات 08 مارچ 2018ء) ناشر : کتب خانہ شان اسلام لاہور

    ایک بہت بڑا سیلاب جو نوح علیہ السلام کے زمانے میں آیا جس میں نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار انسانوں اور جانوروں کے علاوہ سب ڈوب گئے۔ اس طوفان میں زمین مسلسل پانی اگلتی رہی اور آسمان مسلسل بارش برساتا رہا۔ روایات اور سائنسی شواہد کی رو سے یہ طوفان بنیادی طور پر عراق کے علاقے مابین النھرین (میسوپوٹیمیا) میں آیا تھا۔ اس کا ذکر تورات، انجیل اور قرآن تینوں میں آتا ہے۔گویا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ کہ اللہ تعالیٰ اس دنیامیں اپنی نافرمانی کرنےوالوں کو مختلف طریقوں میں عذاب میں مبتلاکرتاہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کو عذاب سے دو چار ہونے پڑے گا۔دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کی کثرت سے مثالیں موجود ہیں ۔ جیسے قرآن مجید میں سابقہ اقوام پراللہ کا عذاب نازل ہونے کےواقعات موجود ہیں اور اسی طرح کئی ایسے واقعات بھی موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنےنافرمانوں کوفرداً فرداً بھی عذاب میں مبتلا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’طوفانِ حضرت نوح ‘‘ مولانا محمد اسحاق دہلوی کی تصنیف ہے۔ جس میں مشہور پیغمبرحضرت نوح اور ان کی قوم کے حالات ت اور قوم اور ان کے لڑکے پر اللہ تعالیٰ کا طوفانی عذاب وغیرہ کےواقعات کو قرآن مجید ، کتب حدیث ، سیرت وتاریخ سے اخذ کر کے مرتب کیا گیا ہے ۔(رفیق الرحمن) 

  • 8 #5934

    مصنف : عبد المنعم الہاشمی

    مشاہدات : 1368

    قرآن حکیم میں عورتوں کے قصے

    (جمعہ 17 نومبر 2017ء) ناشر : بیت العلوم، لاہور

    قرآن و حدیث کا اسلوب ہر اعتبار سے خاص، ممتاز اور منفرد ہے۔ کسی ادیب، مؤرخ یا سیرت نگار نے کوئی واقعہ بیان کرنا ہو تو وہ مربوط انداز میں وقت، جگہ اور شخصیات کا تذکرہ کرے گا۔ لیکن قرآن مجید کا اسلوب بیان بالکل نرالا ہے اور اس کا مقصد نہایت اعلیٰ و ارفع ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں جس قدر داستانیں بیان کی گئی ہیں، ان میں اخلاقی اور روحانی پہلو خاص طور پر پیش نظر ہوتا ہے۔ بلکہ ہر پہلو داستان کی جان ہوتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب’’ قرآن حکیم میں عورتوں کے قصّے‘‘لجنۃ المصنفین نے اردو ترجمہ کیا ہےاصل میں یہ کتاب عبد المنعم ہاشمی کی’’ قصص النساءفی القرآن الکریم ‘‘ہے ۔اس کتاب میں پاکباز مومنات خواتین کی مہکتی سیرت کے روح پرور اور ایمان افروز قصّے تذکرے داستانیں بیان کی گئی ہیں جو قرآن مجید نے بیان کی ہیں۔اور قصص کو نہایت مختصر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اور مسلمان بہنوں کو چاہیے کہ وہ مومن عورتوں کی سیرت کا مطالعہ کریں اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعادت حاصل کریں اور اس کتاب کو مرتب کرنے کا مقصد بھی یہی ہے۔امید ہے کہ یہ کتاب بگڑتے ہوئے معاشرے کی اصلاح کے لئے کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں اس کتاب کو مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔(پ،ر،ر)

  • 9 #2776

    مصنف : محمد بن ناصر الحمید

    مشاہدات : 3449

    قرآن میں خواتین کے واقعات

    (پیر 05 جنوری 2015ء) ناشر : دار الکتاب والسنہ، لاہور

    قرآن حکیم  میں  بیان شدہ واقعات وقصص تین اقسام مشتمل ہیں۔انبیاء ورسل کے  واقعات  کہ جو انہیں اہل ایمان کے ہمراہ کافروں کے ساتھ پیش  آئے تھے۔اور دوسری قسم  ان واقعات کی  ہے   جو عام لوگوں یا جماعتوں ،قوموں سے متعلق ہیں ۔تیسری قسم  نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ  میں پیش آمدہ واقعات اور قوموں کاذکر ہے ۔قرآنی واقعات بالکل سچے اور حقیقی قصص ہوتے ہیں  یہ کوئی خیالی اور تمثیلی کہانیاں نہیں ہوتیں۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں  انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان  الفاظ  میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے  نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ  کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا  مقصد آپ  کے  دل  کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے  پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے  بھی نصیحت وعبرت ہے‘‘ ۔اور ان  واقعات  کا ایک بہت بڑا مقصد اہل ایمان کی ہمت کوبندھانا اور انہیں اللہ کی راہ میں جوغم ،دکھ اور مصیبتیں پہنچی ہیں ان کے بارے   میں تسلی دلانا ہوتا ہے ۔قرآن حکیم میں  مذکورہ واقعات وقصص میں  سے بعض وہ   ہیں جو ایک ہی بار ذکر ہوئے ہیں جیسے کہ سیدنا یوسف   اور عزیز مصر کی بیوی  اور ابو الہب کی بیو ی کا واقعہ ہے ۔ان میں سے بعض واقعات ایسے  بھی ہیں  جو باربار ذکر ہوئے  ہیں ۔جیسے  کہ : سیدنا موسیٰ  کی والدہ ، ان کی بہن اور مریم بنت عمران ﷩ کے واقعات ہیں۔ ایسا کسی مصلحت اور ضرورت کے مطابق   ہوا ہے  یہ  تکرار کسی ایک سبب کی بنا پر نہیں ہوا  ۔ اسی طرح ہر تکرار او رعدم تکرار کا کوئی نہ کوئی حکم حکمت ودانائی اور راز ضرور ہے۔ قرآن  حکیم نے  مردوں کے ساتھ  ساتھ  خواتین کے بھی واقعات بیان کیے  ہیں ۔تاکہ  مسلمان عورتیں اپنی اصلاح کے لیے ان واقعات سے نصیحت حاصل کریں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآن میں خواتین کے واقعات ‘‘ مدینہ یونیورسٹی ایک فاضل استاد  ڈاکٹر محمد بن  ناصر  الحمید﷾ کی عربی کتاب قصص النساء فی القرآن کا اردو ترجمہ ہے  ۔مصنف موصوف نے  اس کتاب میں  اللہ  تعالیٰ  کی مومنہ وصالحہ بندیوں کے ساتھ ساتھ کچھ بد اخلاق وبدکردار اور بے وقوف کم عقل عورتوں کےواقعات بھی بیا ن کیے  ہیں ۔ تاکہ مسلمان خواتین اپنے  نہایت اجلے  اسلامی سیرت والے لباس کو اس طرح کے اوچھے پن ،بے وقوقی وبدکرداری اور بد اخلاقی والے  بد نما دھبوں سے بچا سکیں۔ٹیلی ویژن کےسامنے  بیٹھ کر  یا جھوٹے قصے کہانیاں پڑھ کر اپنا وقت برباد کرنے والے  مسلم  خواتین اور مومن ومسلم طالبات کے لیےا س کتاب  میں  دلچسپ واقعات بھی اور اردو ادب کےلیے بہترین عبارتیں اور اسباق ودروس  بھی۔ اس لیے کہ  اردو ترجمہ میں ادبی چاشنی کاخوب لحاظ رکھا گیا ہے ۔ اس  اہم کتاب  کا رواں اور سلیس ترجمہ  کے  فرائض  محترم مولانا  ابو یحییٰ محمد زکریا زاہد  ﷾ نے  انجام دئیے  ہیں ۔اللہ  تمام اہل  ایمان کو   قرآن وسنت  کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسرکی  توفیق عطافرمائے اور اس کتاب  کو  عوام الناس کے   لیے نفع بخش بنائے (آمین)  قصص  القرآن
     

  • 10 #3087

    مصنف : ابو الکلام آزاد

    مشاہدات : 3610

    قرآن کا قانونِ عروج و زوال

    (جمعرات 02 اپریل 2015ء) ناشر : مکتبہ جمال، لاہور

    تاریخی حقائق اس بات کے گواہ ہیں  کہ جب قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں  نے اسلامی اصولوں  کو اپنا شعاربنا کر عملی میدان میں  قدم رکھا تو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو زیر نگین کرلیا۔مسلمان دانشوروں ، سکالروں  اور سائنسدانوں  نے علم و حکمت کے خزانوں  کو صرف اپنی قوم تک محدود نہیں  رکھابلکہ دنیا کی پسماندہ قوموں  کو بھی استفادہ کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔ چنانچہ اُس وقت کی پسماندہ قوموں  نے جن میں  یورپ قابل ذکر ہے مسلمان سکالروں  سے سائنس اورفلسفہ کے علوم حاصل کئے۔یورپ کے سائنسدانوں  نے اسلامی دانش گاہوں  سے باقاعدہ تعلیم حاصل کرلی اور یورپ کو نئے علوم سے روشناس کیا۔حیرت کی بات ہے کہ وہی مسلم ملت جس نے دنیا کو ترقی اور عروج کا سبق پڑھایا آج انحطاط کا شکار ہے۔ جس قوم نے علم و حکمت کے دریا بہا دیئے آج ایک ایک قطرے کے لئے دوسرے اقوام کی محتاج ہے۔ وہی قوم جو دنیا کی عظیم طاقت بن کر ابھری تھی آج ظالم اور سفاک طاقتوں  کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔ یہ اتنا بڑا تاریخی سانحہ ہے جس کے مضمرات کاجاننا امت مسلمہ کے لئے نہایت ضروری ہے۔آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اس قرآن کو اللہ کی جانب سے نازل شدہ مانتے ہیں۔ ان کا ایمان ہے کہ یہ ایک بے مثل اور معجز کلام ہے ۔ بندوں پر حجت ِالٰہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا واجب الاطاعت حکمنامہ ہے او رانسان کی دنیوی ا ور اخروی فلاح وکامرانی کا ضامن ہے ۔ لیکن اس اعتقاد کےباوصف مسلمانوں نے اس کتابِ عظیم کی ہدایت وتعلیم سے مسلسل بیگانگی اختیار کی ۔ جس کا فطری نتیجہ زوالِ امت کی شکل میں نکلا۔کیونکہ قرآن مجید کو اس امت کےلیے عروج وزوال کا پیمانہ قرار دیاگیا ہے ۔جیسا کہ ہادئ برحق نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ اس کتاب پر عمل کے ذریعے لوگوں کوعروج عطا کرے گا او راس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قعر زلت میں دھکیل دے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآن کا قانونِ عروج وزوال‘‘ مولانا ابو الکلام آزاد﷫ کے ان مضامین کا ایک موضوعاتی مجموعہ ہے جو وقتاً فوقتاً   ان کے جاری کردہ مجلہ ’’ الہلال‘‘ میں شائع ہوتے رہے ۔ان مضامین   سے جو مجموعی خاکہ مرتب ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان ہونا انفرادی اوراجتماعی سطح پر جن ذمہ داریوں کو قبول کرنے کا نام ہے ان سے عہدہ برآہونے کی موثر صورتیں کیا ہیں ؟ اسلام ، مسلمان اورتاریخ اس کتاب میں یہ مثلث تشکیل دی گئی ہے اوراس کے ہر زاویے کو قرآنی رخ پر مکمل کیا گیا ہے۔مولانا آزاد نے اس کتاب میں اس بات کوواضح کیا ہے کہ امت مسلمہ قرآن پر عمل کرکے اب بھی راکھ کے اس ڈھیر سے چنگاریاں ڈھونڈ کر لاسکتی ہے ۔ابو الکلام آزاد برصغیر کی حد تک غالباً پہلے آدمی تھے جنہوں نے امت مسلمہ کی بنیادی ساخت کا قرآن کی روشنی میں تعین کیا اوراس کی شکست وریخت کے اسباب اور مکانات کی پور ی قطعیت کے ساتھ نشان دہی کی اوراپنے قول عمل سے وہ راستے بھی دکھائے جن پر چل کر زوال کر راہ روکی جاسکتی ہے ۔اللہ تعالیٰ مولانا آزاد کے درجات بلند فرمائے اورامت مسلمہ کو قرآن پر کما حقہ عمل کرنے والا بنائے۔آمین( م۔ا)

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1458
  • اس ہفتے کے قارئین 5322
  • اس ماہ کے قارئین 43716
  • کل قارئین49303554

موضوعاتی فہرست