کل کتب 15

دکھائیں
کتب
  • 1 #6327

    مصنف : ڈاکٹر جمال الدین فالح الکیلانی

    مشاہدات : 1591

    جدید صحافتی انگریزی اردو لغت

    (ہفتہ 17 فروری 2018ء) ناشر : دار الباز پبلشنگ

    ذرائع ابلاغ کی موجودہ برق رفتار ترقی نے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ ہائے زندگی میں ہونے والی اس زبر دست ترقی کے باعث نت نئے تصورات پر مبنی جدید اصطلاحات وضع ہو رہی ہیں۔ ان اصطلاحات کی بڑی تعداد مغرب میں تشکیل پاتی ہیں اور پھر ایسی جدید اصطلاحات کا ترجمہ نہ ہونے کے باعث جلد ہی دنیا بھر میں مروج ہو جاتی ہیں۔انگریزی سے ترجمہ کی اہمیت جتنی آج ہے پہلے محسوس نہیں کی گئی تھی۔ انگریزی ہماری معلومات‘ ہمارے خیالات اور ہمارے اظہار جذبات کا منبع ہے۔ رسالوں‘ اخباروں‘ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر انگریزی متن کو اردو کا جامہ پہنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک میں بہت کم لوگوں کو ان اصطلاحات کے سیاق وسباق سے آشنائی حاصل ہو پاتی ہے۔ ایک عرصہ سے ایک لغت کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی جس میں ایسی اصطلاحات کو یکجا گیا گیا ہو۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع کے حوالے سے ہے جس میں مصنف نے انگریزی اصطلاحات کو بہت سادہ اور عام فہم زبان میں اردو زبان کے قالب میں ڈھالا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اصطلاحات اردو زبان ہی کی ہیں۔ اس میں صرف انگریزی اصطلاحات کے اردو مترادفات ہی نہیں دیے بلکہ ان اصطلاحات کی بڑی سلیس انداز میں تشریح بھی کر دی گئی ہے۔ اس میں برصغیر کے سماجی دھاروں‘ تاریخی حوالوں اور اردو کی بعض دلچسپ ضرب الامثال کے جھلک بھی ہیں۔ اردو ترجمہ میں مروجہ اردو کا خیال رکھا گیا ہے اور عربی اور فارسی تراکیب سے حتی الامکان گریز کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نئے الفاظ گھڑنے کی بجائے باوثوق لغت کی کتب سے الفاظ اکٹھے کیے گئے ہیں اور اردو ہندسے ہی استعمال کیے گئے ہیں یہ کتاب’’ جدید صحافتی انگریزی اردو لغت ‘‘ سید راشد اشرف کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 2 #6447

    مصنف : رؤف پاریکھ

    مشاہدات : 2499

    علم لغت‘اصول لغت اور لغات

    (جمعہ 19 اکتوبر 2018ء) ناشر : فضلی سنز کراچی

    لُغت (dictionary ڈکشنری ایک ایسی کتاب ہے جس میں کسی زبان کے الفاظ کو وضاحتوں، صرفیات، تلفّظات اور دوسری معلومات کے ساتھ بترتیبِ حروفِ تہجّی درج کیا گیا ہو یا ایک ایسی کتاب جس میں کسی زبان کے الفاظ اور کسی اور زبان میں اُن کے مترادفات کے ساتھ حروفِ تہجّی کی ترتیب سے لکھا گیا ہو۔ لغت میں کسی زبان کے الفاظ کو کسی خاص ترتیب کے لحاظ سے املا، تلفظ، ماخذ اور مادہ بیان کرتے ہوئے حقیقی، مجازی، یا اصطلاحی معنوں کے ساتھ درج کیا جاتا ہے۔ ضرورت کے مطابق الفاظ کی شکلوں میں تبدیلی اور صحیح محل استعمال کی وضاحت کی جاتی ہے۔لغت نویسی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ دو مختلف زبانوں کے بولنے والے افراد، گروہ یا جماعتیں، جب ایک دوسرے سے زندگی کے مختلف شعبوں میں ربط پیدا کرتی اور اسے برقرار رکھتی ہیں تو انھیں ایک دوسرے کی زبان کے الفاظ سیکھنے پڑتے ہیں۔  لُغات عموماً کتاب کی شکل میں ہوتے ہیں، تاہم، آج کل کچھ جدید لُغات مصنع لطیفی شکل میں بھی موجود ہیں جو کمپیوٹر اور ذاتی رقمی معاون پر چلتی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’علمِ لغت، اصولِ لغت اور لغات‘‘ ڈاکٹر رؤف پاریکھ کے لغت نویسی اور لغات کے موضوع پر لکھے گئے مقالات پر مبنی کتاب ہے۔ ڈاکٹر رؤف پاریکھ کا شمار پاکستان کے نامور اور ماہرِ لغت نویس اور ماہرِ لسانیات میں ہوتا ہے۔ وہ جامعہ کراچی کے شعبۂ اردو میں، اردو زبان و ادب کے پروفیسر ہیں۔یہ کتاب ’’علم لغت، اصولِ لغت اور لغات‘‘ نو تحقیقی مقالات پر مبنی کتاب ہے۔ان نو مقالات  کا مختصراً تعارف حسب ذیل ہے ۔  اس کتاب کے پہلے مقالے کا عنوان ’’علمِ لغت ، لغوی معنیات اور اردو لغت نویسی‘‘ ہے۔ اس مقالے میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ لغت نویسی کا تعلق علم لسانیات سے بھی ہے۔دوسرے مقالے کا عنوان ہے؛ ’’تاریخی لغت نویسی اور تاریخی اصول پس منظر اور بنیاد (اوکسفرڈ کی لغت کلاں اور اردو لغت بورڈ کی لغت کے تناظر میں )‘‘ اس مقالے میں لغت کی مختلف تعریفوں کے ساتھ تاریخی لغت کی تعریف دی گئی ہے۔تیسرے مقالے کا عنوان ہے؛ ’’خصوصی لغت نویسی اور اردو کی چند نادر اور کم یاب خصوصی لغات‘‘ اس مقالے میں خصوصی لغت کی تعریف کرتے ہوئے ی وضاحت کی گئی ہے کہ خصوصی لغت کئی طرح کی ہوسکتی ہے۔چوتھے مقالے کا عنوان ہے؛ ’’جان ٹی پلیٹس، مصنف نے اس مقالے میں پلیٹس کے حالات زندگی بیان کرنے کے بعد، پلیٹس کی لغت کی خوبیوں اور خامیوں کی نشان دہی کی ہے۔پانچویں مقالے کا عنوان ہے؛ ’’قاموس الہند‘‘قاموس الہند  پچپن (۵۵) جلدوں پر محیط اردو کی نادر ایک بسیط اور کثیر جلدی اردو بہ اردو لغت ہے۔چھٹے مقالے کا عنوان ہے؛ ’’حالی کی شعری لفظیات اور اردو لغت بورڈ کی لغت‘‘ اس مقالے میں مصنف نے ان نادر قلیل الاستعمال الفاظ، تراکیب اور محاورات کی نشان دہی کی ہے جو متدادل لغات میں کم ہی ملتے ہیں۔ ساتویں مقالے کا عنوان ہے؛ ’’ اردو فارسی اور عربی کہاوتوں کی شعری اسناد‘‘ (جو اردو لغت بورڈ کی لغت میں درج نہیں ) اس مقا لے میں مصنف نے کہاوت اور محاورے کا فرق واضح کرتے ہوئے اردو، عربی فارسی کی ان کہاوتوں کو درج کیا ہے جن کا اندراج اردو لغت بورڈ کی لغت میں نہیں ہے۔ ان کہاوتوں کے معنی اور اشعار کی سند بھی پیش کی گئی ہے۔اس کتاب کے آٹھویں مقالے کا عنوان ہے؛ ’’فرہنگِ آصفیہ کی تدوین و اشاعت: چند غلط فہمیوں کا ازالہ‘‘ اس مقالے میں مصنف نے ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ کے حوالے سے جو غلط فہمیاں عام ہیں ان کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ س کتاب کے نویں مقالے کا عنوان ہے؛ ’’اٹھارہ سو ستاون سے قبل کی اردو شاعری میں یورپی زبانوں کے دخیل الفاظ‘‘اس مقالے میں مصنف نے ان یورپی الفاظ کی سند پیش کی ہے جو ۱۸۵۷ کے انقلاب سے قبل مختلف شعرا کے یہاں استعمال ہوئے ہیں۔ یہ کتاب تحقیقی مقالہ جات کا مجموعہ ہے۔ لغت اور اس سے متعلق بیش تر موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ اردو زبان وادب کے طلبہ، لغت سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک خوش آئند اضافہ ہے۔(م۔ا) 

  • 3 #1495

    مصنف : فیروزالدین

    مشاہدات : 23062

    فیروزاللغات اردو پارٹ 1(1تا103)

    dsa (اتوار 25 نومبر 2012ء) ناشر : فیروز سنز، لاہور۔ کراچی

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 4 #1495.01

    مصنف : فیروزالدین

    مشاہدات : 17267

    فیروزاللغات اردو پارٹ 2(104تا 208)

    (پیر 26 نومبر 2012ء) ناشر : فیروز سنز، لاہور۔ کراچی

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 5 #1495.02

    مصنف : فیروزالدین

    مشاہدات : 17117

    فیروزاللغات اردو پارٹ 3(209تا317)

    (منگل 27 نومبر 2012ء) ناشر : فیروز سنز، لاہور۔ کراچی

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 6 #1495.03

    مصنف : فیروزالدین

    مشاہدات : 17942

    فیروزاللغات اردو پارٹ 4(318تا426)

    (بدھ 28 نومبر 2012ء) ناشر : فیروز سنز، لاہور۔ کراچی

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 7 #1495.04

    مصنف : فیروزالدین

    مشاہدات : 16905

    فیروزاللغات اردو پارٹ 5(427 تا 539)

    (جمعرات 29 نومبر 2012ء) ناشر : فیروز سنز، لاہور۔ کراچی

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 8 #1495.05

    مصنف : فیروزالدین

    مشاہدات : 16706

    فیروزاللغات اردو پارٹ 6(540تا653)

    (جمعہ 30 نومبر 2012ء) ناشر : فیروز سنز، لاہور۔ کراچی

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 9 #1495.06

    مصنف : فیروزالدین

    مشاہدات : 17653

    فیروزاللغات اردو پارٹ 7(654 تا771)

    (ہفتہ 01 دسمبر 2012ء) ناشر : فیروز سنز، لاہور۔ کراچی

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 10 #1495.09

    مصنف : فیروزالدین

    مشاہدات : 17806

    فیروزاللغات اردو پارٹ10(1007تا 1117)

    (منگل 04 دسمبر 2012ء) ناشر : فیروز سنز، لاہور۔ کراچی

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

< 1 2 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1379
  • اس ہفتے کے قارئین 15018
  • اس ماہ کے قارئین 53412
  • کل قارئین49439357

موضوعاتی فہرست