دکھائیں کتب
  • 1 جدید صحافتی انگریزی اردو لغت (ہفتہ 17 فروری 2018ء)

    مشاہدات:1335

    ذرائع ابلاغ کی موجودہ برق رفتار ترقی نے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ ہائے زندگی میں ہونے والی اس زبر دست ترقی کے باعث نت نئے تصورات پر مبنی جدید اصطلاحات وضع ہو رہی ہیں۔ ان اصطلاحات کی بڑی تعداد مغرب میں تشکیل پاتی ہیں اور پھر ایسی جدید اصطلاحات کا ترجمہ نہ ہونے کے باعث جلد ہی دنیا بھر میں مروج ہو جاتی ہیں۔انگریزی سے ترجمہ کی اہمیت جتنی آج ہے پہلے محسوس نہیں کی گئی تھی۔ انگریزی ہماری معلومات‘ ہمارے خیالات اور ہمارے اظہار جذبات کا منبع ہے۔ رسالوں‘ اخباروں‘ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر انگریزی متن کو اردو کا جامہ پہنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک میں بہت کم لوگوں کو ان اصطلاحات کے سیاق وسباق سے آشنائی حاصل ہو پاتی ہے۔ ایک عرصہ سے ایک لغت کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی جس میں ایسی اصطلاحات کو یکجا گیا گیا ہو۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع کے حوالے سے ہے جس میں مصنف نے انگریزی اصطلاحات کو بہت سادہ اور عام فہم زبان میں اردو زبان کے قالب میں ڈھالا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اصطلاحات اردو زبان ہی کی ہیں۔ اس میں صرف انگریزی اصطلاحات کے اردو مترادفات ہی نہیں دیے بلکہ ان اصطلاحات کی بڑی سلیس انداز میں تشریح بھی کر دی گئی ہے۔ اس میں برصغیر کے سماجی دھاروں‘ تاریخی حوالوں اور اردو کی بعض دلچسپ ضرب الامثال کے جھلک بھی ہیں۔ اردو ترجمہ میں مروجہ اردو کا خیال رکھا گیا ہے اور عربی اور فارسی تراکیب سے حتی الامکان گریز کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نئے الفاظ گھڑنے کی بجائے باوثوق لغت کی کتب سے الف...

  • 2 علم لغت‘اصول لغت اور لغات (جمعہ 19 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:1998

    لُغت (dictionary ڈکشنری ایک ایسی کتاب ہے جس میں کسی زبان کے الفاظ کو وضاحتوں، صرفیات، تلفّظات اور دوسری معلومات کے ساتھ بترتیبِ حروفِ تہجّی درج کیا گیا ہو یا ایک ایسی کتاب جس میں کسی زبان کے الفاظ اور کسی اور زبان میں اُن کے مترادفات کے ساتھ حروفِ تہجّی کی ترتیب سے لکھا گیا ہو۔ لغت میں کسی زبان کے الفاظ کو کسی خاص ترتیب کے لحاظ سے املا، تلفظ، ماخذ اور مادہ بیان کرتے ہوئے حقیقی، مجازی، یا اصطلاحی معنوں کے ساتھ درج کیا جاتا ہے۔ ضرورت کے مطابق الفاظ کی شکلوں میں تبدیلی اور صحیح محل استعمال کی وضاحت کی جاتی ہے۔لغت نویسی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ دو مختلف زبانوں کے بولنے والے افراد، گروہ یا جماعتیں، جب ایک دوسرے سے زندگی کے مختلف شعبوں میں ربط پیدا کرتی اور اسے برقرار رکھتی ہیں تو انھیں ایک دوسرے کی زبان کے الفاظ سیکھنے پڑتے ہیں۔  لُغات عموماً کتاب کی شکل میں ہوتے ہیں، تاہم، آج کل کچھ جدید لُغات مصنع لطیفی  ڈکشنری 

  • 3 فیروزاللغات اردو پارٹ 1(1تا103) (اتوار 25 نومبر 2012ء)

    مشاہدات:22867

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 4 فیروزاللغات اردو پارٹ 2(104تا 208) (پیر 26 نومبر 2012ء)

    مشاہدات:17138

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 5 فیروزاللغات اردو پارٹ 3(209تا317) (منگل 27 نومبر 2012ء)

    مشاہدات:16989

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 6 فیروزاللغات اردو پارٹ 4(318تا426) (بدھ 28 نومبر 2012ء)

    مشاہدات:17810

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 7 فیروزاللغات اردو پارٹ 5(427 تا 539) (جمعرات 29 نومبر 2012ء)

    مشاہدات:16778

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 8 فیروزاللغات اردو پارٹ 6(540تا653) (جمعہ 30 نومبر 2012ء)

    مشاہدات:16606

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 9 فیروزاللغات اردو پارٹ 7(654 تا771) (ہفتہ 01 دسمبر 2012ء)

    مشاہدات:17556

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 10 فیروزاللغات اردو پارٹ10(1007تا 1117) (منگل 04 دسمبر 2012ء)

    مشاہدات:17706

    لسانیات میں اردو زبان کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ جو تاریخ کے مختلف دور طے کرتےہوئے ہنوز ایک علمی، ادبی اور بڑی حد تک ایک سائنسی زبان بن چکی ہے۔ کسی بھی زبان کے معانی کی وسعت اور جامعیت کو جاننے کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ زبان کی لغات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر لغات میں سے کچھ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ آئندہ لغات کےلیے بنیاد و اساس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ زبان اردو میں اس حوالے سے ’فیروز اللغات‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جسے بابائے اردو الحاج مولوی فیروز الدین نے اپنی عمر بھر کی ریاضت کے بعد تدوین و ترتیب دیا تھا۔ا س کے ساتھ ساتھ اردو کےاولین اور اتھینٹک لغات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’فیروز اللغات‘ کا زیر مطالعہ ایڈیشن نئی ترتیب اور جدید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں پچیس ہزار کے قریب جدید اصلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ایڈیشن لغت نگاری کی جدید سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دوسرے مروجہ لغتوں سے زیادہ مستندہے اور عہد حاضر کے تمام لسانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں اردو میں رائج ہونے والے نئے الفاظ اور دفتری اصطلاحات کے علاوہ وہ قدیم اور متروک الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے معنی جانے بغیر اردو کی کلاسیکی خصوصاً دکنی تصنیفات سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمام الفاظ کےمعنی شرح و بسط سے دئیے گئے ہیں اور ہر محاورے، ضرب الامثال اور اصطلاح کی تشریح کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1432
    • اس ہفتے کے قارئین: 8127
    • اس ماہ کے قارئین: 42148
    • کل قارئین : 47891004

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں