• title-pages-ihsas-k-ansu-copy
    نعیم احمد بلوچ

    سیدنا  یونس ﷤کا واقعہ جس کا کچھ حصہ تو خود قرآن میں مذکور ہے اور کچھ روایاتِ حدیث و تاریخ سے ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت یونس ﷤کی قوم عراق میں موصل کے مشہور مقام نینوی ٰمیں بستے تھے، ان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے  حضرت یونس﷤کو بھیجا، انھوں نے ایمان لانے سے انکار کیا،اللہ  تعالیٰ نے یونس ﷤کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کردو کہ تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آنے والا ہے، حضرت یونس ﷤ نے قوم میں اس کا اعلان کردیا، قوم یونس نے آپس میں مشورہ کیا تو اس پر سب کا اتفاق ہوا کہ ہم نے کبھی یونس ﷤کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا اس لئے ان کی بات نظر انداز کرنے کے قابل نہیں، مشورہ میں یہ طے ہوا کہ یہ دیکھا جائے کہ یونس ﷤ رات کو ہمارے اندر اپنی جگہ مقیم رہتے ہیں تو سمجھ لو کہ کچھ نہیں ہوگا، اور اگر وہ یہاں سے کہیں چلے گئے تو یقین کر لو کہ صبح کو ہم پر عذاب آئے گا، حضرت یونس رات کو اس بستی سے نکل گئے، صبح ہوئی تو عذابِ الٰہی ایک سیاہ دھوئیں اور بادل کی شکل میں ان کے سروں پر منڈلانے لگا اور فضاء آسمانی سے نیچے ان کے قریب ہونے لگا تو ان کو یقین ہوگیا کہ اب ہم سب ہلاک ہونے والے ہیں، یہ دیکھ کر حضرت یونس ﷤ کو تلاش کیا کہ ان کے ہاتھ پر مشرف بایمان ہوجائیں اور پچھلے انکار سے توبہ کرلیں مگر یونس ﷤کو نہ پایا تو خود ہی اخلاصِ نیت کے ساتھ توبہ و استغفار میں لگ گئے، بستی سے ایک میدان میں نکل آئے، عورتیں بچے اور جانور سب اس میدان میں جمع کردئے گئے، ٹاٹ کے کپڑے پہن کر عجز و زاری کے ساتھ اس میدان میں توبہ کرنے اور عذاب سے پناہ مانگنے میں اس طرح مشغول ہوئے کہ پورا میدان آہ و بکا سے گونجنے  لگا، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور عذاب ان سے ہٹا دیا۔ سیدنا یونس  ﷤ کاقصہ کئی حوالوں سے منفرد ہے  ۔ ایک یہ کہ  حصرت یونس ﷤ کی قوم دنیا کی واحد قوم ہے  جسے عذاب کے وقت تو بہ نصیب ہوئی۔ اس قصے کی دوسری انفرادیت یونس ﷤ کی شخصیت ہے ۔ ان پر جب قوم کا ایک بھی فرد ایمان  نہ لایا توہ غیرتِ حق میں آکر وقت سےپہلے  اپنی بستی چھوڑ کرچلے گئے۔اس سےاس عظیم قصے کوایک نیا رخ ملا۔ زیرتبصرہ کتابچہ  سیدنا یونس ﷤ کے قصے پر مشتمل  ہے  اس کتاب میں اس  قصے کوایک کہانی کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ اور عام طور پر  سیدنا یونس﷤ کی بھول کے حوالے سے  طرح طرح کی باتیں بنائی جاتی ہیں ۔ اس کتاب میں ان تمام غلط فہمیوں کودور کیاگیا ہے ۔اورسید نا یونس ﷤  سےایسی کسی بات کو منسوب نہیں کیا گیا جس کاقرآن وحدیث اوردوسری الہامی کتب میں حوالہ نہ ملتا ہو۔اشاعت  کتب کے عالمی ادارے ’’دار السلام ‘‘ نےانبیاء کے  واقعات  وقصص کو   بچوں کے لیے کہانیوں کی صورت میں شائع کیا ہے یہ  کتاب بھی اسی سلسلہ  کا حصہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ  ناشرین کی اس عمدہ کاوش کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-islami-tareekh-k-dilchasp-aur-iman-aafrein-waqiat
    ابو مسعود عبد الجبار سلفی
    اسلامی تعلیمات کا یہ اعجاز ہے کہ ان کے ذریعے زندگی کے ہر شعبے میں انتہائی اعلیٰ درجے کے افراد پیدا ہوئے۔چنانچہ اسلامی تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ مختلف ادوار میں بے مثال کردار اور خوبیاں رکھنے والے حکمران،علماء،سپہ سالار اور ماہرین فن موجود رہے،جن پر آج بھی انسانیت کا سر فخر سے بلند ہے۔لیکن افسوس کہ بعض غیر محتاط اور متعصب مؤرخین نے اسلامی تاریخ کو اس طرح بگاڑا ہے کہ آج کی نئی نسل اپنے اسلاف سے بد ظن ہو چکی ہے اور ان کی روشن تاریخ کو اپنے ہی منہ سے سیاہ قرار دینے لگی ہے ۔زیر نظر کتاب میں ہمارے اسلاف کی شجاعت و بسالت،رافت و رحمت فہم و فراست ،جو دوسخا،بدل وعطا،عفو و حلم،حق گوئی و بیباکی ،ہمدردی وغساری کے بے نظیر واقعات انتہائی دلچسپ انداز سے بیان کیا ہے ۔اس کتاب سے ہمیں اپنے روشن ماضی سے آگہی حاصل ہو گی جس سے حال کو سنوارنے میں مدد ملے گی اور درخشندہ مستقبل کی جانب پیش قدمی ممکن ہو سکے گی۔ان شاء اللہ۔(ط۔ا)
  • title-pages-tareekh-e-madeena-manawwara
    شعبہ تصنیف و تالیف دار السلام
    اسلامی تاریخ کے لحاظ سے مدینہ منورہ دوسرا بڑا اسلامی مرکز اور تاریخی شہر ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل یہ کوئی خاص مشہور شہر نہیں تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ،مہاجرین کی ہجرت اور اہل مدینہ کی قربانیوں نے اس غیر معروف شہر کو اتنی شہرت و عزت بخشی کہ اس شہر مقدس سے قلبی لگاؤ اور عقیدت ہر مسلمان کا جزو ایمان بن چکی ہے ۔زیر نظر کتاب انتہائی معلوم افزاء اور اہم ہے۔ جس میں مدینہ منورہ کی قدیم و جدید تاریخ ،مدینۃ الرسول کے فضائل  و مناقب ،حدود حرم مدینہ ،ہجرت کے واقعات ،مدینہ منورہ سے یہودیوں کی جلاو طنی ،مسجد نبوی کی جدید و قدیم توسیع کے مراحل ،مسجد نبوی کی فضیلت ،زیارت قبر نبوی کا مشروع طریقہ اور مدینہ منورہ کی تاریخی مساجد کو انتہائی شائستگی و سلاست سے بیان کیا گیا ہے ۔نیز اس کتاب میں قارئین کی دلی آسودگی ،قلبی تسکین اور مدینہ منورہ سے وابستہ یادوں کا جمیع سامان میسر ہے ۔جس کے مطالعہ سے آپ مدینہ منورہ کی قدیم و جدید تاریخ اور اس کے متعلقہ مسائل کے بارے  میں شرعی راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں ۔


  • title-pages-tareekh-e-makka-mukarrama
    شعبہ تصنیف و تالیف دار السلام
    مکہ مکرمہ کو روزہ اول سے دینی و مذہبی اعتبار سے مرکزیت حاصل رہی ہے اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے انسانوں  کے لیے بالعموم اور اہل اسلام کے لیے بالخصوص تاریخی کشش رکھتا ہے ۔اس لیے اس شہر مقدس کی  تاریخ حیطہ تحریر میں لانا ازحد ضروری تھا ۔کیونکہ اس میں مسلمانوں کی قلبی تسکین کا سامان تھا۔عربی زبان میں تاریخ مکہ مکرمہ اور دعوت اللہ کے تعمیری مراحل کا بیان کتب تاریخ میں تو ہے ہی البتہ اردو دان طبقہ کے لیے مکہ مکرمہ کی قدیم و جدید تاریخ لکھنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔اس عمدہ تاریخی موضوع کو مکتبہ دارالسلام نے بروقت تاڑ کر تاریخ مکہ مکرمہ کے نام سے کتاب مرتب کی جو ظاہری  اور باطنی حسن سے آراستہ ہے ۔اس میں مکہ مکرمہ کی فضیلت و اہمیت ،مکہ کی ابتدائی آبادکاری بیت اللہ کی تعمیر ،تعمیر کعبہ کے مختلف ادوار میں تعمیری مراحل سمیت چاہ زم زم  کی کھدائی ،آب زم زم کی روح زمین کے پانیوں سے فوقیت ،حج کے احکام ،حدود حرم کا بیان اور مکہ مکرمہ کے فلاحی اداروں کا بیان عمدہ اسلوب نگارش سے مرتب کیا گیا ہے ۔کتاب میں انتہائی مفید اور معلومات افزاء ہے   جس کا مطالعہ قارئین کو ماضی و حال  سے روشناس کراتا ہے اور قلوب و اذہان میں مکہ مکرمہ اور کعبۃ اللہ کے بارے میں جو خیالات و احساسات ہیں ان کی خوب روحانی سیرابی کرتا ہے ۔

  • title-pages-touba-copy
    اشتیاق احمد

    اللہ تعالیٰ نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے جب تک انسان کاآخری وقت نہیں آجاتا  وہ توبہ کرسکتا ہے  اوراس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے  لیکن جب آخری لمحات آجائیں موت سامنے نظر آنے لگے جب انسان کو یقین  ہوجائے کہ بس اب وقت آگیا ہے اس وقت اگر وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے تو اس کی  اس توبہ کا کوئی اعتبار نہیں یا اس وقت کی توبہ قابل قبول  نہیں۔انسان   کی خصلت  ہے کہ  وہ  نسیان  سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت  وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے  گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے  کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے  توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے  معبود ومالک   کی ناراضگی  کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ  کریم  کے دربار میں  حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے  کا پکا عزم کرتےہوئے  توبہ کرتا ہے کہ اے  مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے  آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے  احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل  ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں  کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ  ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی  اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم  اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے  دنیاوالو! ہےکوئی  جو مجھ سے اپنے گناہوں کی  مغفرت طلب کرے... ہے  کوئی توبہ کرنے  والا میں اسے  ا پنی  رحمت سے بخش دوں.زیر تبصرہ کتابچہ’’توبہ؟‘‘ محترم جنا ب اشتیاق احمد   صاحب کی کاوش ہے   جس میں  انہوں نے  ایک بہترین کہانی  کے انداز میں یہ بتایا کہ  اصل توبہ کیا ہے  او رسچی توبہ  کس کو کہتے ہیں؟ (م۔ا)

  • title-pages-terti-qabar-copy
    ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

    سیدنا یونس اللہ کے نبی تھے۔ آپ کے نام پر قرآن پاک میں پوری ایک سورت ہے۔ آپ کی قوم نہایت سرکش تھی۔ سالوں کی تبلیغ کے باوجود جب آپ کی قوم نے اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تو آپ نے اُن کو اللہ کی طرف سے سخت عذاب کی نوید دی، جس پر اُس قوم کے سرکش لوگوں نے حضرت یونس کی باتوں کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ “اگر تمہارے خدا کی طرف سے عذاب آنے والا تو تم ہمیں اُس کا وقت بتاؤ، جس پر حضرت یونس نے اُنہیں چالیس دن کے بعد عذابِ الٰہی کی خبر دی جوکہ اللہ کو ناگوار گزری کیونکہ اللہ نے اُس قوم کو عذاب سے ڈرانے کے لئے ہدایت کی تھی نہ کہ عذاب نازل کرنے کا وقت بتانے کی۔ دوسرے نادانی اُس وقت ہوئی کہ جب حضرت یونس عذاب کی نوید دینے کے بعد اُس وطن کو ترک کرکے چلے گئے اس دوران آپ کو اندازہ ہوگیا کہ رب تعالٰی کسی بات پر آپ سے ناراض ہوگیا ہے۔ جب آپ ایک کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی کو طوفان نے گھیر لیا۔ اُس وقت کے رواج کے مطابق کشتی کے ملاح اور دوسرے مسافر اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کشتی میں کوئی اللہ کا نافرمان بندہ سوار ہے، جس کی وجہ سے تمام کشتی والوں کو اس طوفان کا سامنا ہے۔ جس پر حضرت یونس نے اُن سے کہا کہ مجھے دریا میں پھینک دو، تم کو اس طوفان سے نجات مل جائے گی لیکن کشتی والوں نے کہا کہ آپ تو اللہ کے نبی اور نیک بندے ہیں، آپ کو کیسے دریا بُرد کیا جاسکتا ہے۔ آخر سب اس نتیجے پر پہنچے کہ قرعہ کرلیتے ہیں، جس کا نام نکل آئے گا، اُس کو دریا بُرد کردیا جائیگا۔ قرعہ کے نتیجے میں بھی حضرت یونس کا نام نکلا، دوبارہ قرعہ نکالا گیا، پھر حضرت یونس کا نام نکلا، بالآخر جب تیسری بار بھی قرعہ میں حضرت یونس کا نام نکلا تو حضرت یونس نے اُن سے اصرار کیا کہ اُنہیں دریا بُرد کردیا جائے۔ بالآخر آپ کو دریامیں ڈال دیا گیا۔ دریا میں آپ کو ایک عظیم القامت مچھلی نے نگل لیا اور آپ تقریباً چالیس روز تک اُس مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ چالیس دن کے بعد آپ نے رب تعالٰی سے یہ کلمات پڑھ کر لا اله الا أنت سبحانك اني كنت من الظالمين معافی مانگی۔جب حضرت یونس نے مندرجہ بالا کلمات پڑھ کر رب سے معافی مانگی تو آپ کی معافی قبول کرلی گئی اور اُس مچھلی نے آپ کو ساحل پر اُگل دیا لیکن مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے سبب، بہت کمزور اور ناتواں ہوگئے تھے۔ ۔ اللہ تبارک و تعالٰی کے حکم سےآپ کے رزق کے لئے وہاں ایک بیل اُگ گئی ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تیرتی قبر‘‘ ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے مچھلیوں کے متعلق اہم معلومات اوران کی اقسام اور مچھلیوں کے حوالے مختلف تاریخی واقعات بالخصوص سیدنا یونس کا واقعہ کہ جب وہ اپنی قوم سےناراض ہوکر چلے گئے تو انہیں چالیس روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہنا پڑا۔ مصنف نےاس واقعہ کو ایک دلچسپ کہانی کی صورت میں بیان کیا ہے۔(م۔ا)

  • title-pages-teesri-jang-e-azeem-aur-dajjal
    عاصم عمر
    مختلف احادیث رسول اللہﷺ میں دجال  اور علامات قیامت کا تذکرہ آیا ہے۔ہر دور کے علماء نے ان کی تفہیم ، تشریح اور تطبیق کا اپنا اپنا طریقہ اپنا یا ہے۔اسی طرح موجودہ دور میں  بھی درحقیقت  بہت زیادہ فتنے رونما ہورہے ہیں۔ان فتنوں نے ایک لحاظ سے پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔دوسری طرف نصوص شریعت بھی مختلف طرح کے فتنوں کی طرف نشاندہی کرتی ہیں۔ ہر  دور میں یہ ایک نازک مسلہ رہا ہے کہ نصوص شریعت کا حالات پر انطباق کیسے کیاجائے۔علمانے اپنے فرض منصبی سے عہدہ برآں ہوتے ہوئے اس نازک موضوع پر اپنی اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔ ہر ایک کی مختلف رائے بھی ہو سکتی ہے۔رسول اللہﷺ کی طرف سے  علامات قیامت  کے حوالے سے دی گئی  پیشین گوئیوں کا انطباق  انتہائی کھٹن اور  حساس مسلہ ہے۔ چنانچہ موجودہ دور میں  اس  تناظر میں کئی ایک فکری رجحانات سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے کچھ  انتہا  پسندانہ بھی ہیں۔جبکہ زیر نظر کتا ب میں مصنف موصوف  نے اسی احتیاط کو سامنے رکھتے ہوئے  تطبیق کی کوشش تو کی ہے لیکن اپنی کسی بھی رائے کو حتمی نہیں کہا۔ البتہ جن واقعات کی طرف علمائے امت نشاندہی کر چکے تھے ان کی یقین کے ساتھ تشریح کی  ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-samood-ki-tabahi-copy
    اشتیاق احمد

    قوم ثمود یہ شمالی عرب کی ایک زبردست قوم تھی۔ فن تعمیر میں عاد کی طرح اس کو بھی کمال حاصل تھا۔ پہاڑوں کو کاٹ کر مکان بنانا، پتھروں کی عمارتیں اور مقبرے تیار کرتا اس قوم کا خاص پیشہ تھا۔یہ قوم بھی پہلی بھٹکی ہوئی قوموں کی طرح  بت پرست تھی اور جب ان کے فسق و فجور حد سے بڑھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق قوم ثمود میں ہی سے حضرت صالح   کو نبوت کا شرف دے کر مبعوث کیا تاکہ وہ ان بدکردار لوگوں کو اگلی قوموں کے انجام کی داستانیں سنا کر ان کو بتائیں کہ ان کے خوفناک انجام کو دیکھو اور اپنی سرکشی سے باز آؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اللہ  کے عذاب میں گرفتار ہوکر ان قوموں کی طرح دنیا سے ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہوجاؤ۔جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالح  کو نبی بنا کر قوم ثمود کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنی قوم کو جمع کرکے برے کاموں سے بچنے اور اللہ کی راہ اختیار کرنے کی ہدایت کی آپ نے اپنی قوم کو بار بارسمجھایا، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور ان پر اللہ  کے فضل و کرم جتائے، لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا، بلکہ اس کے جواب میں انہوں نے کہا۔اے صالح، ہماری قوت، شوکت، دولت  کی فراوانی، کھیتوں کی سرسبزی، عالی شان مکانات، غرض یہ کہ دنیا جہان کے عیش و آرام جو ہمیں حاصل ہیں تیرے ہی الہ  کی طرف سے ہیں تو پھر وہ لوگ کیوں غریب اور نادار ہیں جو تیرے الہ کو ایک مانتے ہیں۔ اس کا تو مطلب یہ ہے کہ وہ راست پر نہیں اور یہ ہمارے ہی معبودوں کی تو کرم فرمائیاں ہیں۔سیدنا صالح نے ان سے فرمایا کہ اس عقل و دولت اور شان و شوکت پر ہرگز گھمنڈ اورغرور نہ کرو۔ ایسی چیزیں پل بھر میں فنا ہوجایا کرتی ہیں۔قوم ثمود کو سب سے بڑا تعجب یہ تھا کہ ہم میں سے ہی ایک شخص کیسے نبی بن گیا اور اس پر اللہ  کا پیغام نازل ہونے لگا، اگر ایسا ہی ہونا تھا تو کیا ہم اس کے اہل نہ تھے، ہم جیسے رئیسوں اور بڑے آدمیوں کو چھوڑ کر اللہ نے غریب اور کمزور لوگوں کو اپنے پیغام کے لیے کیوں چنا۔حضرت صالح  نے بارگاہ الٰہی  میں دعا کی اور اللہ کا یہ نشان ایک اونٹنی کی صورت میں نمودار ہوا۔اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول کے ذریعے یہ معجزہ بھی ان سرکشوں کو اللہ کی طرف راغب نہ کرسکا۔ تاہم آپ نے اپنی قوم کو نصیحت کی کہ یہ اونٹنی اللہ تعالیٰ  کی طرف سے تم پر حجت ہے، اللہ تعالیٰ کا نشان تم پر ظاہر ہوچکا ہے، اگر تم اپنی بھلائی چاہتے ہو تو اس اونٹنی کو ہرگز ہرگز نقصان نہ پہنچانا، یہ آزادی سے جہاں چاہے چرے، ہاں ایک روز یہ اونٹنی چشمے سے پانی پیا کرے گی اور دوسرے دن تم اور تمہارے جانور دیکھو اس میں فرق نہ آئے۔کچھ دن تک اونٹنی کے حیرت انگیز واقعہ نے اس قوم کو حیران و پریشان رکھا اور وقتی طور پر اونٹنی سے کوئی معترض نہ ہوا، لیکن آہستہ آہستہ جن برائیوں کے ماحول میں انہوں نے پرورش پائی تھی وہ ابھرنے لگا اور انہوں نے سازش کرکے اونٹنی کو ہلاک کردیا جب حضرت صالح  کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ کو بہت رنج ہوا اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔تین دن کے بعد کڑک اور گرج کی ایک ہیبت ناک آواز پیدا ہوئی، جس نے ہر انسان کو جو جس حالت میں تھا ہلاک کردیا، لیکن جو لوگ حضرت صالح  پر ایمان لے آئے تھے اس عذاب الہٰی سے بچ گئے، جب قوم ثمود پر عذاب نازل ہورہا تھا تو حضرت صالح  نے قرآن حکیم کے الفاظ میں اپنی قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:’’اے قوم، بلاشبہ میں نے اپنے پروردگار کا پیغام تم تک پہنچادیا اور تم کو نصیحت کی، لیکن تم تو نصیحت کرنے والوں کو دوست ہی نہ رکھتے تھے‘‘۔ زیر تبصرہ کتاب’’ثمود کی تباہی‘‘ سلسلۃ قصص الانبیاء کا پانچواں  حصہ ہےاس کتابچہ  میں محترم  جناب اشتیاق احمد صاحب نے  سید نا صالح   او رانکی  قوم ثمود کی تباہی کےانجام کو  ایک کہانی اور مکالمے کی صورت میں  انتہائی آسان انداز میں  بیان کیا ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-hararte-iman-yani-iman-ko-garma-dene-wale-waqiyat-copy
    ابو یاسر

    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اوراثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر موڑ پر مکمل راہ نمائی کرتا ہے خوشی ہو یاغمی ہواسلام ہر ایک کی حدود وقیوم کو بیان کرتا ہے تاکہ کو ئی شخص خوشی یا تکلیف کے موقع پر بھی اسلام کی حدود سےتجاوز نہ کرے فرمان نبوی ہے ’’ مومن کامعاملہ بھی عجیب ہے اس کا ہر معاملہ اس کے لیے باعث خیر ہےاور یہ چیز مومن کے لیے خاص ہے ۔ اگر اسے کوئی نعمت میسر آتی ہے تووہ شکرکرتا ہے اور یہ اس کےلیے بہترہے اور اگراسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کےلیے بہتر ہے۔‘‘ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام وتابعین کی سیرت وسوانح میں ہمیں جابجا پاکیزہ مزاح او رہنسی خوشی کے واقعات او رنصیت آموز آثار وقصص ملتے ہیں کہ جن میں ہمارے لیے مکمل راہ نمائی موجود ہے ۔ لہذا اہمیں چاہیے کہ خوش طبعی اور پند نصیحت کےلیے جھوٹے ،من گھڑت اور افسانوی واقعات ولطائف کےبجائے ان مقدس شخصیات کی سیرت اور حالات کا مطالعہ کریں تاکہ ان کی روشنی میں ہم اپنے اخلاق وکردار اور ذہن وفکر کی اصلاح کرسکیں۔ زیر نظر کتاب ’’حرارت ایمان یعنی ایمان کو کو گرما دینے واقعات‘‘ مولانا ابو یاسر﷾ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے مکمل حوالہ جات کےساتھ واقعات پیش کیے ہیں تاکہ اپنی تسلی اور حوالہ دریافت کرنے والوں کومطمئن کیا جاسکے اور خطباء حضرات اپنے خطبات ودروس میں ان کوصحیح واقعات کو بیان کرسکیں۔فاضل مصنف نےاس کتاب کا ابتدائی عنوان اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق قائم کیا ہے او روہ صحیح بخاری کےمنتخب واقعات سے لیا گیا ہے۔ تاکہ ابتداء میں قاری اللہ تعالیٰ کے جاہ وجلال کا نقش ذہن میں رکھے ۔(م۔ا)

  • title-pages-kitab-al-awail-urdu-tarjuma-sub-se-pehle-copy
    ابو صالح محمد سلیمان نورستانی

    اوائل’’اوّل‘‘ کی جمع ہے، اوّل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی’’ پہلا‘‘ ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں مختلف انداز کے ساتھ تقریباً89 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے شخص کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو اوّل(پہلی) پوزیشن حاصل کرتا ہے۔ اور یقینا ہر ایک کے نصیب میں یہ چیز نہیں ہوتی۔ آج ہمارے والدین کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہماری اولاد سکول و کالج سے پہلی پوزیشن حاصل کرے اس کے لیے وہ سکول، ہوم ٹیوشن اور ہر ممکن تگ و دو کرتے ہیں۔ ہم دنیاوی امتحانات کی فکر میں ساری ساری رات تیاری میں گزار دیتے ہیں اور یہ بھول گئے ہیں کہ خالق کائنات نے بھی ایک یوم الحساب مقرر کیا ہے۔ جس دن حقیقی عدل و انصاف کی بناء پر کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ ہوگا، کامیاب ہونے والے کےلیے دائمی جنت کا سرٹیفکیٹ ہو گا اور کانام ہونے والے کو جہنم سے دو چار ہونا پڑے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سب سے پہلے ‘‘ امام ابوبکر احمد بن عمروبن ابی عاصم شیبانی ﷫کی کتاب الاوائل کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں فاضل مصنف نے کتب حدیث وسیرت وتاریخ وتفسیر کی روشنی دنیا میں سب سے پہلے وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو جمع کیا ہے کہ کونسا کام ہےجو سب سے پہلے ہوا اور کس نے کیا ۔جیسے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کس چیز کو بنایا؟، سب سے پہلے اسلام میں اللہ کے لیے کس نے تیر چلایا؟ ، سب سے پہلے اسلام کس نے قبول کیا ؟، سب سے پہلے صلیب کس شخص نے بنائی، سب سے پہلے جنت میں کون داخل ہوگا ؟ ، سب سے پہلے مدینہ منورہ کون تشریف لایا؟ وغیرہ ۔ اور اسی طرح کی دیگر دلچسپ باتوں کو فاضل مصنف نےکتاب کا حصہ بنایا ہے یعنی حو کام کسی حوالے سے سب سے پہلے ہوا ہے ۔ اپنے موضوع پر یہ بڑی دلچسپ کتاب ہے ۔فضیلۃ الشیخ ابو صالح سلیمان نورستانی نے اس کتاب کو عربی سے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔اورنوید احمد ربانی صاحب نے نے کتاب ہذاپر شیخ محمد بن ناصر عجمی کی تحقیق سے استفادہ کرتے ہوئے تحقیق وتخریج کا اہتمام کیا ہے اور احادیث کے راویوں کامختصر مگر جامع تعارف تحریر کرنےکے ساتھ ساتھ کتاب میں موجود احادیث پر سوالات بناکر کتاب کو مزید دلچسپ بنادیا ہے ۔(م۔ا)

  • pages-from-sayyed-badsha-ka-qafila
    آباد شاہ پوری

    انسانی تاریخ عبرت کا بہت وسیع و عریض مرقع ہے۔ انسان نے ظلم و ستم کی داستانیں بھی رقم کیں ہیں لیکن یہی انسان ہمت و عزیمت کے باب بھی جریدہ عالم پر ثبت کرتا رہا ہے۔ وقت کے مستبد حکمران ہمیشہ یہی سمجھتے رہے ہیں کہ ان کا حق حکمرانی غیر محدود ہے اپنے اقتدار کے نشے میں بد مست حکمرانوں کو گھنٹی بجنے سے قبل تک کبھی وہم و گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ دنیا ایک مکافاتی عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس طرح ظالم حکمران ہر دور میں ظلم کے فسانے میں ایک نیا ٹکڑا شامل کر دیتے ہیں، اسی طرح راہ وفا کے دیوانے بھی تاریخ کا قرض چکانے کی جسارت میں لگے رہتے ہیں۔ جہاں ایک جانب فرعون، نمرود، شداد اور ابو جہل نظر آتے ہیں تو وہاں دوسری جانب حضرت موسیٰؑ، حضرت ابراہیمؑ، صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، امام احمد بن حنبلؒ اور شاہ شہیدؒ تک ایک سلسلہ الذہب نظر آتا ہے۔ زیر نظر کتاب"سید بادشاہ کا قافلہ" آباد شاہ پوری کی تاریخی تصنیف ہے۔ مصنف علمی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ موصوف دل بیدار، اندھیروں میں راہ دکھانے والا دماغ روشن اور رہوار وقت کے ساتھ چلنے والا قلم رکھتے ہیں۔ موصوف نے اپنی کتاب ہذا میں ایک عظیم تحریک کے قافلہ شوق کی داستانِ جلیل و جمیل کو قلمبند کیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی پہلی اسلامی تحریک کے قافلے کی داستان لازوال کو اوراق کی زینت بنایا ہے۔ یہ ان جفاکش مجاہدین کی داستان ہے جو فرنگیوں کے خلاف علمِ جہاد لے کر برسرِ میدان نکلے تھے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی کاوش کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • titlepagessayyadinaabubakarsidiquer
    عبد المالک مجاہد
    سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل ہیں ۔اور آپ کی تمام زندگی اسلام کی سربلندی کے لیے وقف تھی۔آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معتمد ترین رفیق اور اسلام کے عظیم داعی اور مبلغ تھے۔جنہوں نے اسلامی کرنوں کی ضیاع پاشیوں کے ساتھ ہی اسلام قبول کیا اور مردوں میں سے سب سے پہلے انہیں ہی اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا۔اور تادم مرگ آپ کی اسلام سے شدید وابستگی رہی ۔حتی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں یہ بات معروف تھی کہ امت کے افضل بزرگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔اور ان کی اسلامی خدمات کا اعتراف خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا۔ایسی عظیم شخصیت کی سیرت نگاری  امتیوں کے لیے رشد وہدایت کا باعث ہے۔ان کی سیرت وکردار سے واقفیت حاصل کرنا اور ان جیسی خدمات انجام دینے کی کوشش کرنا ہر مسلمان کا حق ہے۔ان کی سیرت نگاری پر کئی کتب دستیاب ہیں اور اس کو مزید متعارف کروانے کے لیے مولانا عبدالمالک مجاہد ڈائریکٹر دارالسلام نے اپنا حصہ ڈال کر ایمانی محبت اور صحابہ کرام سے دلی وابستگی کا ثبوت دیا ہے۔کتاب طباعت کے تمام محاسن سے مزین ہے البتہ واقعات کی مکمل تحقیق میں تشنگی باقی ہے۔اس کتاب کا مطالعہ نہایت معلومات افزا اور ایمان میں  اضافے کا باعث ہے۔(ف۔ر)

  • pages-from-sahi-islami-waaqeyaat-ha-shakoor
    حافظ عبد الشکور شیخو پوری

    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اور اثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔فی زمانہ بچے بڑے جھوٹے اور لغوافسانوں ،ناولوں اورکہانیوں کے قصوں میں گرفتار نظر آتے ہیں ،ایسی کتابوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے، جس میں سچے واقعات بیان کئے گئے ہوں ۔جنہیں پڑھ کرعمل کاجذبہ بیدارہو۔ زیر نظرکتاب ’’صحیح اسلامی واقعات‘‘ حافظ عبدالشکور شیخوپوری صاحب کی مرتب شدہ ہے۔ موصوف نے عربی زبان کے مستند ماخذوں سے استفادہ کر کے صحیح اسلامی واقعات کو بحوالہ مرتب کیا ہے۔ جس کے باعث یہ واقعات تاریخی جامعیت کے حامل ہیں۔ جنہیں طلبہ، اساتذہ اور علماء بڑے اعتماد سے مطالعہ کرسکتے ہیں اس میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ او رآپ کے ساتھ کفار کی بد سلوکیوں اور صحابہ کرام ﷢ کے اسلام لانے کے واقعات شامل ہیں۔ جن کا مقصد عبرت وموعظت اور سبق حاصل کرنا ہے۔ قرآن مجید نے بھی امم سابقہ کے جن واقعات کا تذکرہ کیا ہے ان سے مقصود بھی موعظت ہے۔ کتاب کا انداز بیان بہت سادہ، دلچسپ اور سلیس ہے۔ گھروں میں خصوصاً بچوں اورخواتین کوان کےمطالعے کی ترغیب دی جائے تاکہ وہ جھوٹے اور فحش ناولوں میں وقت ضائع کرنےکے بجائے سیرت سلف سے روشناس ہوسکیں۔ کیونکہ ان واقعات کے مطالعہ سے ایمان کو تازگی اور روح کو شادابی نصیب ہوتی ہے۔ نیزدل میں صحابہ کرام اور سلف صالحین کی عظمت اوران سے محبت کاجذبہ پیداہوتاہے۔ (م۔ا)

  • pages-from-sahi-qisas-un-nabi
    محمد بن جمیل زینو

    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اوراثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر موڑ پر مکمل راہ نمائی کرتا ہے خوشی ہو یاغمی ہواسلام ہر ایک کی حدود وقیوم کو بیان کرتا ہے تاکہ کو ئی شخص خوشی یا تکلیف کے موقع پر بھی اسلام کی حدود سےتجاوز نہ کرے۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام وتابعین کی سیرت وسوانح میں ہمیں جابجا پاکیزہ مزاح او رہنسی خوشی کے واقعات او رنصیت آموز آثار وقصص ملتے ہیں کہ جن میں ہمارے لیے مکمل راہ نمائی موجود ہے ۔ لہذا اہمیں چاہیے کہ خوش طبعی اور پند نصیحت کےلیے جھوٹے ،من گھڑت اور افسانوی واقعات ولطائف کےبجائے ان مقدس شخصیات کی سیرت اور حالات کا مطالعہ کریں تاکہ ان کی روشنی میں ہم اپنے اخلاق وکردار اور ذہن وفکر کی اصلاح کرسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح قصص النبوی ‘‘عرب کے مشہور ومعروف ادیب اورسکالرشیخ محمد بن جمیل زینو﷾کی عربی تصنیف ’’ من بدائع القصص النبوی الصحیح‘‘ کا سلیس اردوترجمہ ہے۔شیخ موصو ف نے صحیح احادیث کی روشنی میں زبان رسالت مآبﷺ سے بیان کیے گئےدلچسپ اور نصیحت آموز بارہ خوبصورت ، دلچسپ اور ایمان افروز واقعا ت کو بڑے دلنشیں انداز میں بیان کیا ہے ۔یہ کتاب آج کے دور میں مروجہ بیہودہ اور لغو لٹریچر کا بہترین نعم البدل ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-ghazwa-e-uhad-copy
    عبد المالک مجاہد

    نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ کا ایک بہت بڑا حصہ غزوات اور مغازی پر مشمل ہے ،جس پر باقاعدہ  مستقل کتب لکھی گئی ہیں اور لکھی جا رہی ہیں۔مگر آپ کی جنگیں اور غزوات تاریخ انسانی میں غیر معمولی طور پر ممتاز ہیں۔اکثر دگنی،تگنی اور بعض اوقات دس گنی بڑی قوت کے مقابلہ میں آپ ہی کو قریب قریب ہمیشہ فتح حاسل ہوئی۔دوران جنگ اتنی کم جانیں ضائع ہوئیں کہ انسانی خون کی یہ عزت بھی تاریخ عالم میں بے نظیر ہے!آخر یہ جنگیں کیوں اتنی ممتاز وبے نظیر ہیں؟ان کی نوعیت کیا ہے؟ان جنگوں میں کیا کیا حربی تدابیر اختیار کی گئیں؟کامیابی کا کیا راز تھا؟انتقام ایک ایسا جذبہ ہے جو تعمیر یا تخریب دونوں کے لئے ایک طاقتور محرک کی حیثیت رکھتا ہے۔کفار مکہ جو غزوہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہزیمت آمیز شکست سے دوچار ہو چکے تھے،اب  وہ مسلمانوں سے بدلہ چکانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ زیر تبصرہ کتاب "غزوہ احد" مکتبہ دار السلام کے مدیر مولانا عبد المالک مجاہد صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے بچوں  کی دلچسپی کے لئے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں اسلام کی دوسری جنگ غزوہ احد کے حالات وواقعات کو بیان کیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے شروع کئے گئے سلسلے غزوات نبوی ﷺکی دوسری کڑی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-ghazwa-e-badar--dar-ul-salam--copy
    عبد المالک مجاہد

    نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ کا ایک بہت بڑا حصہ غزوات اور مغازی پر مشمل ہے ،جس پر باقاعدہ  مستقل کتب لکھی گئی ہیں اور لکھی جا رہی ہیں۔مگر آپ کی جنگیں اور غزوات تاریخ انسانی میں غیر معمولی طور پر ممتاز ہیں۔اکثر دگنی،تگنی اور بعض اوقات دس گنی بڑی قوت کے مقابلہ میں آپ ہی کو قریب قریب ہمیشہ فتح حاسل ہوئی۔دوران جنگ اتنی کم جانیں ضائع ہوئیں کہ انسانی خون کی یہ عزت بھی تاریخ عالم میں بے نظیر ہے!آخر یہ جنگیں کیوں اتنی ممتاز وبے نظیر ہیں؟ان کی نوعیت کیا ہے؟ان جنگوں میں کیا کیا حربی تدابیر اختیار کی گئیں؟کامیابی کا کیا راز تھا؟ زیر تبصرہ کتاب "غزوہ بدر" مکتبہ دار السلام کے مدیر مولانا عبد المالک مجاہد صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے بچوں  کی دلچسپی کے لئے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں اسلام کی پہلی جنگ غزوہ بدر کے حالات وواقعات کو بیان کیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے شروع کئے گئے سلسلے غزوات نبوی ﷺکی پہلی کڑی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-ghazwa-mouta
    محمد احمد باشمیل

    غزوۂ موتہ کا شمار اسلام کے فیصلہ کن معرکوںمیں ہوتا ہے یہ جنگ روم کے عیسائیوں کے خلاف لڑی گئی اس میں آپﷺ نے تین سپہ سالاروں کومقررکیا لیکن وہ تینوں شہید ہوگئے تو مسلمانوں کو انتہائی پسپائی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔تو اس صورت حال میں حضرت خالد بن ولید ﷜نے اسلامی فوج کی قیادت سبنھالی اور مسلمانوں کو جمع کرکے رومیوں کو شکست سے دوچار کیا ۔ زیر نظر کتاب عرب کے مشہو ر تاریخ دان احمد باشمیل کی عربی کتاب کاسلیس آسان ترجمہ ہے فاضل مؤلف نے اس کتاب میں شام کے حالات وواقعات اس کاتاریخی پس منظر او رہجرت کے بعد واقع ہونے واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے ان امورکی وضاحت بھی پیش کی جن کےنتیجہ میں غزوۂ موتہ پیش آیا تھا او راس غزوہ کے حالات واقعات کو تفصیلاً پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-qurani-dastore-hayat-copy
    ابو یحیٰ امام خان نوشہری

    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اور اثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔فی زمانہ بچے بڑے جھوٹے اورلغوافسانوں ،ناولوں اورکہانیوں کے قصوں میں گرفتارنظرآتےہیں ،ایسی کتابوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے،جس میں سچےواقعات بیان کئے گئے ہوں ۔جنہیں پڑھ کرعمل کاجذبہ بیدارہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآنی دستور حیات ‘‘مولانا ابو یحییٰ امام خان نوشہروی ﷫ کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے تقریباً 80 قریب موضوعات کو قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کی روشنی میں بیان کیا ہے اور کتب حدیث وسیرت سے ماخوذ 439 دلچسپ اسلامی واقعات کو اس کتاب میں جمع کردیا ہے ۔(م۔ا)

  • pages-from-qisas-ul-anbiyaa
    حافظ عماد الدین ابن کثیر

    ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات کی افضل اور بزرگ ترین ہستیاں انبیاء ﷩ ہیں ۔جن کا مقام انسانوں میں سے بلند ہے ۔اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں اپنے دین کی تبلیغ کے لیے منتخب فرمایا لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کےلیے انہیں مختلف علاقوں اورقوموں کی طرف مبعوث فرمایا۔اور انہوں نے بھی تبلیغ دین اوراشاعتِ توحید کےلیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ اشاعت ِ حق کے لیے شب رروز انتھک محنت و کوشش کی اور عظیم قربانیاں پیش   کر کے پرچمِ اسلام بلند کیا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان پاکیزہ نفوس کا واقعاتی انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔ جس کا مقصد محمد ﷺ کو سابقہ انبیاء واقوام کے حالات سے باخبر کرنا، آپ کو تسلی دینا اور لوگوں کو عبرت ونصیحت پکڑنے کی دعوت دینا ہے بہت سی احادیث میں بھی انبیاء ﷺ کےقصص وواقعات بیان کیے گئے ہیں۔انبیاء کے واقعات وقصص پر مشتمل مستقل کتب بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’قصص الانبیاء‘‘ از امام ابن کثیر الدمشقی ﷫ انبیاء کے ایمان افروز حالات وواقعات پر مشتمل کتاب ہے ۔امام موصوف کی مایہ ناظ کتابوں میں سےایک ہے اور اپنے موضوع پر لکھی جانے والی اہم ترین کتابوں میں سے ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے جسے اردو قالب میں ڈھالنے کی سعادت ڈاکٹر حافظ عمران ایوب لاہوری ﷾ نے کی ہے ۔موصوف نے اس کتاب کا نہایت ہی سلیس اور رواں ترجمہ پیش کیا ہے۔ اسلوب عام فہم ہے، آیات واحادیث کی مکمل تخریج وتحقیق اوراکثر مقامات سے ضعیف اورموضوع روایات کو خارج کیاہے ۔مترجم موصوف نے اس کتاب کی اصل ترتیب کوبھی درست کیا ہے ،ایک ہی واقعہ میں روایات کے تکرار کو ختم کیا ہے، قارئین کی سہولت کے لیے بہت سے مقامات پر نئے عنوانات بھی قائم کیے ہیں جو کہ امام ابن کثیر نے قائم نہیں کیے تھے ۔ او رکتاب کے آخر میں انبیاء﷩ کے واقعات سےجو نتائج وفوائد فوائد سامنے آتے ہیں ان کابھی اضافہ کردیا ہے۔مذکورہ خوبیاں کے باعث یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب بن گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ عوام کواس کتاب سے مستفید فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-muharram-ul-haraam-wa-masala-sayyedna-hussain-o-yazeed
    عبد السلام رحمانی

    دنیا میں فرقےمختلف ناموں اور کاموں کے اعتبار سے موجود ہیں۔ کچھ فرقے فکری و نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آتے ہیں اور فرقے سیاسی بنیادوں پر وجود پکڑتے ہیں۔ جہاں مختلف گروہ اسلام کی مخالفت پر برسر میدان ہیں وہاں ایک گروہ اہل تشیع بھی ہےجس کے گمراہ کن عقائد و نظریات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اہل تشیع نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت،عقیدت اہل بیت وغیرہ کی آڑ میں اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلاکرنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ ماہ محرم میں اہل تشیع ماتم، نوحہ خوانی،مجالس کا انعقاد، تعزیہ داری کرنے وغیرہ کو عبادات کا درجہ دیتے ہیں۔ محرم حرام ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرمت والا مہینے قرار دیا اور اسی مہینے سے ہجری سن کا آغاز ہوتا ہے۔ اسی محرم کی دسویں تاریخ کو رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام نے روزہ رکھا اور اس دن کے روزے کو ایک خصوصی فضیلت والا قرار دیا ہے۔ اسی دسویں تاریخ کو نواسہ رسولؐ کی شہادت رونما ہوئی جس کو سانحہ کربلا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو تاریخ اسلام کا مشہور ترین واقعہ بن گیا۔ یہ وہ واقعہ ہے جس نے استحقاق سے زیادہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچا اور ضرورت سے زیادہ عموم و خصوص کو الجھایا۔ یہ ایک نا خوشگوار حادثہ تھا، عواقب و انجام کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ امت مسلمہ کے لیے ایک معرکۃ الآراء حادثہ تھا۔ اس کے بطن سے بے شمار گمراہیوں جنم لیا اور اس سے بدعات خرافات کا وہ طوفان برپا ہوا کہ اس دن کا جو اصل و مشروع کام تھا وہ بدعات کے اس طوفان میں مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ زیر نظر کتاب "محرم الحرام و مسئلہ سیدنا حسین و یزید" فضیلۃ الشیخ عبد السلام رحمانی کی ایک گراں قدر تصنیف ہے۔ جس میں فاضل مصنف نے سانحہ کربلا کا ذکر کرتے ہوئے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر کیا ہے اور محرم الحرام میں ہونے والی بدعات کا بھی تقابلی جائزہ لیا ہے اس کے ساتھ سیدنا حسین و یزید کے مابین اختلاف کو بھی مستند حوالوں کے ساتھ قلمبند کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کو اجر عظیم سے نوازے اور امت مسلمہ کو اتحاد و اتفاق سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • title-pages-wafoode-arab-barghahe-nabwi-me
    طالب ہاشمی
    تاریخ اس امر پرشاہد عادل ہےکہ حضورﷺنےمدینہ منورہ میں  جب  اسلامی ریاست کی تشکیل وتاسیس فرمائی تو اللہ تعالی کے فضل عمیم سے حضور کی تبلیغی مساعی کےنتیجےمیں  آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں صرف دس برس  کے قلیل عرصےمیں سلطنت اسلامی کا حصہ دس لاکھ مربع میل  اور ایک رائے کے مطابق بارہ لاکھ مربع میل وسیع ہوگیا ۔اتنی تھوڑی سی مدت میں اتنی عظیم کامیابی  کاراز آپﷺکا وہ تبلیغی نظام تھاجو رب کائنات نےآپ کو سجھایا تھا۔اس وسیع تبلیغی نظام میں وفود کاکردار بھی بیحد اہمیت کاحامل ہے کیونکہ ان لوگوں نےاپنے قبائل میں تبلیغ کا فریضہ بڑی سرگرمی سے انجام دیا۔یہ کہانابجاہوگا کہ وفود کا تذکرہ سیرت طیبہ کاایک اہم باب ہے۔یہ وفود مختلف النوع مقاصد کی حاطر آنحضرت کی خدمت میں  آیاکرتےتھے۔ان مقاصدمیں سے تلاش حق،تفقہ فی الدین،مفاخرت،خوابوں کی تعبیر،صلح وامن کا پیغام اوربعض آپ کو شہید کرنےکے ناپاک عزائم کیلے آئے تھے۔زیر نظرکتاب میں ،محترم جناب طالب ہاشمی صاحب نےسیرت طیبہ کے اسی باب کو بڑے احسن اندازمیں بیان کرنےکی کوشش فرمائی ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-purani-laash-copy
    اشتیاق احمد

    قرآن مجید کی دوسورتوں میں سیدنا ادریس    کا ذکر ہے۔حضرت ادریس کی شخصیت ، زمانے اور وطن کے بارے میں مورخین میں اختلاف ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ آپ آدم اور نوح کے درمیانی زمانے میں پیدا ہوئے اور بابل آپ کا وطن تھا۔ ابن مسعود اور ابن عباس کے نزدیک الیاس اور ادریس  ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں۔ "صحیح بخاری کتاب الانبیا" صحیح بخاری ہی کی ایک روایت کے مطابق جب آنحضرت ﷺ کو معراج ہوئی تو چوتھے آسمان پر آپ نے حضرت ادریس سے ملاقات فرمائی۔حضرت آدم  کے بعد آپ پہلے نبی تھے  انہوں نے ہی سب سے پہلے سینا اور لکھنا شروع کیا ۔اور سید ناادریس   پہلے   انسان ہیں جنہوں نے  ظلم کے خلاف جہاد کیا  اور  ظالموں کو شکست دی۔زیر تبصرہ کتاب’’ پرانی کتاب‘‘ محترم جناب  اشتیاق احمد صاحب کی کاوش ہے  جس میں ا نہوں نے  سید ناادریس   کی  سیرت کو  ایک  عام فہم انداز میں کہانی  اور مکالمے کی صورت میں پیش کیا ہے  اللہ تعالیٰ ان  کی سلسلہ  قصص الانبیاء کی  اس  حسین  کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-purani-kitab-copy
    اشتیاق احمد

    سیدنا یعقوب   کی اولاد بنی اسرائیل کو مصر میں رہتے ہوئے کافی مدت گزر چکی تھی، چوں کہ باہر سے آئے ہوئے تھے، اس لیے مصری انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔اس زمانے میں مصر کا ہر بادشاہ فرعون کہلاتا تھا، حضرت یوسف  سولہویں فرعون کے زمانے میں مصر تشریف لائے۔سیدنا  موسیٰ  کے زمانے کا انیسواں فرعون تھا۔ اس کا نام منفتاح بن ریمسس دوم تھا۔ سیدنا موسیٰ  خدا کےبرگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک تھے. آپ کے بھائی حضرت ہارون  بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔تمام پیغمبر کی نسبت قرآن میں حضرت موسیٰ   کا واقعہ زیادہ آیا ہے۔ تیس سے زیادہ سورتوں میں موسیٰ   و فرعون اور بنی اسرائیل کے واقعہ کی طرف سومرتبہ سے زیادہ اشارہ ہوا ہے۔فرعون نے ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر یہ بتائی گئی کہ بنی اسرائیل کا ایک لڑکا تیری حکومت کے زوال کا باعث ہوگا اس پر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اس قتل کردیا جائے۔اسی زمانے میں حضرت موسی  عمران کے گھرمیں پیدا ہوائے۔ ماں باپ کو سخت پریشانی تھی اور وہ سمجھتے تھے اگر کسی کو پتا چل گیا تو اس بچے کی خیر نہیں۔ کچھ مدت تک تو ماں باپ نے اس خبر کو چھپایا، لیکن مارے پریشان کے ان کا حال برا ہورہا تھا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس معصوم بچے کو صندوق میں ڈال کر دریائے نیل میں بہادو۔حضرت موسیٰ  کی والدہ نے ایسا ہی کیا اور اپنی بڑی لڑکی کو بھیجا کہ وہ صندوق کے ساتھ ساتھ کنارے پر جائے اور دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اس کی حفاظت کرتا ہے۔جب یہ صندوق تیرتا ہوا شاہی محل کے قریب پہنچا تو فرعون کے گھرانے کی عورتوں میں سے ایک نے اس کو دیکھ کر باہر نکلوالیا اور جب اس میں ایک خوب صورت بچے کو دیکھا تو خوش ہوئیں اور اس بچے کو محل میں لے گئیں۔ حضرت موسیٰ  کی بہن بھی فرعون کی خادماؤں میں شامل ہوگئیں۔فرعون کے کوئی اولاد نہ تھی۔ جب اس کی بیوی آسیہ نے ایک حسین و جمیل بچے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئیں۔ اتنے میں فرعون بھی آگیا۔ اور اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ فرعون کی بیوی نے منت سے کہا کہ اس معصوم کو قتل نہ کرو، کوئی بڑی بات نہیں اگر یہی بچہ میری اور تیری آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بن جائے اور ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں اور اگر حقیقت میں یہی وہ بچہ ہے جو تیرے خواب کی تعبیر بننے والا ہے تو ہم اس کی ایسی تربیت کریں گے کہ ہمارے لیے نقصان رسان بننے کی بجائے مفید ہی ثابت ہو۔ اس طرح فرعون حضرت موسی   کے قتل کرنے سے باز رہا۔حضرت موسیٰ  فرعون کے گھر میں پل کر جوان ہوئے۔ آپ بڑے خوب صورت اور طاقتور تھے۔ایک دن آپ شہر سے باہر جارہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک مصری ایک اسرائیلی کو بیگار میں لے کر تنگ کررہا ہے۔ جب حضرت موسیٰ   اس کے قریب سے گزرے تو اسرائیلی نے حضرت موسیٰ   سے فریاد کی، آپ نے مصری کو سختی اور جبر سے روکنے کی کوشش کی، لیکن مصری نہ مانا۔ اس پر حضرت موسیٰ   نے غصے میں آکر مصری کو ایک ایسا طمانچہ مارا کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔  فرعون نے ان کی گرفتاری کے احکام جاری کردئیے۔ اس وقت ایک آدمی فرعون کے دربار میں موجود تھا، جس کو حضرت موسیٰ    سے انس تھا۔ اس نے فوراً حضرت موسیٰ   کو جا کر سارے واقعہ کی اطلاع دی اور مشورہ دیا کہ آپ فوراً یہاں سے نکل جائیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ   بے سرو سامان نکل کھڑے ہوئے اور منزلیں طے کرتے ہوئے مدین کے شہر جاپہنچے۔ وہاں  دو لڑکیوں کی بکریوں کوپانی پلانے کے عوض ان کی مہمان نوازی کی گئی اور ان میں سے ایک لڑکی  کےساتھ  ان  کی شادی  بھی کردی گئی   وہاں کافی عرصہ بکریاں چراتے رہے ۔طویٰ کی مقدس وادی میں آپ کو نبوت سےسرفرازکیاگیا  اور کچھ معجزے اور نشانیاں بھی  عطا کیں اوراللہ تعالیٰ نے  حکم دیا کہ ہماری ان نشانیوں کو لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اس کو او اس کی قوم کو سیدھا راستہ دکھاؤ۔ اس نے بہت سرکشی اور نافرمانی اختیار کررکھی ہے اور وہ بنی اسرائیل پر انتہائی ظلم کررہا ہے، ان کو اس غلامی اور ذلت سے نجات دلاؤ۔حضرت موسیٰ   اپنے بھائی کو ساتھ لے کر فرعون کے دربار گئے اور فرعون سے کہا کہ خدا نے مجھے اپنا پیغمبر اور رسول بنا کر تیرے پاس بھیجا ہے۔ ہم تم سے دو باتیں کہتے ہیں ایک تو خدا واحد پر ایمان لے آؤ۔ دوسرے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم سے باز آؤ اور ان کو غلامی سے نجات دو۔فرعون سے کافی باتیں ہوئیں۔ حضرت موسیٰ   نے پیار و محبت سے فرعون کو سمجھانے کی بہت کوشش کی اور جب اس سے کوئی جواب نہ بن آیا تو درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ کوئی پاگل معلوم ہوتا ہے اور کج بحثی کرنے لگا اور اپنے وزیر بامان سے کہنے لگا کہ ایک اونچی عمارت بناؤ جس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں اور میں تو اس کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ حضرت موسیٰ   نے کہا کہ میں اپنی صداقت میں تیرے پاس ظاہر نشانیاں لایا ہوں۔ فرعون نے کہا اگر تیرے پاس کوئی نشانی ہے تو ہمیں بھی دکھا۔ حضرت موسیٰ   نے اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینک دیا اور وہ ایک خوفناک اژدھا بن گیا۔ پھر اپنا ہاتھ گریبان کے اندر لے گئے۔ جب نکالا تو وہ ایک روشن ستارے کی طرح چمک رہا تھا۔یہ دیکھ کر فرعون کے درباری چلا اٹھے کہ یہ تو کوئی بہت بڑا جادو گر ہے۔ چنانچہ یہ فیصلہ ہوا کہ اب تو موسیٰ اور ہارون کو جانے دیا جائے اور کچھ دن بعد اپنی سلطنت کے تمام بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرکے حضرت موسیٰ   سے مقابلہ کرایا جائے۔مقابلے سے پہلے حضرت موسیٰ  نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، اللہ پر جھوٹی تہمت نہ لگاؤ، ایسا نہ ہو کہ اللہ  کا عذاب تم کو دنیا سے نیست و نابود کردے۔ جادوگروں نے آگے بڑھ کر کہا کہ ان باتوں کو جانے دو۔ اب ذرا دو دو ہاتھ ہوجائیں۔ اب یہ بتاؤکہ پہل تم کرو گے، یا ہم کریں آپ نے فرمایا کہ پہل تمہاری طرف سے ہونی چاہیے۔اب ان جادوگروں نے اپنی رسیاں بان اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں جو سانپ بن کر زمین پر دوڑنے لگے۔ یہ دیکھ کر حضرت  موسیٰ  کچھ گھبراگئے ۔ مگر اسی وقت خدا کا حکم ہوا، موسیٰ خوف نہ کھاؤ، ہمارا وعدہ ہے تم غالب رہو گے، اپنی لاٹھی کو زمین پر ڈال دو۔حضرت موسیٰ نے فوراً اپنا عصا زمین پر پھینک دیا اور وہ ایک خوفناک اژدھا بن گیا۔ جس نے تمام جادو کے زور سے بنے ہوئے نمائشی سانپوں کو نگل لیا۔ جادوگر یہ دیکھ کر سخت حیران ہوئے اور پکار اٹھے کہ موسیٰ   کا یہ عمل جادو نہیں بلکہ خدا کا معجزہ ہے اور فوراً سجدہ میں گر پڑے اور اعلان کیا کہ ہم موسیٰ   اور ہارون کے خدا پر ایمان لے آئے ہیں۔جادوگروں نے کہا کہ اب سچائی ہمارے سامنے آگئی ہے تو جو کچھ کرنا چاہتا ہے کر گزر، ہم ایک الہ پر ایمان لاچکے ہیں۔ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔یہ دیکھ کر اسرائیلی نوجوانوں کی ایک جماعت بھی حضرت موسیٰ   پر ایمان لے آئی۔ لیکن وہ بھی فرعون کے قہر و غضب سے ڈرتے تھے اس لیے کھل کر اعلان نہ کرسکے۔حضرت موسیٰ   نے کہا کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے ہو اور اس کے فرمانبردار بننا چاہتے ہو تو فرعون سے ہرگز نہ ڈرو اور اللہ پر ہی اپنا بھروسہ رکھو۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔جب حضرت موسیٰ  کو فرعون اور اس کے درباریوں کے منصوبوں کا علم ہوا تو آپ نے بنی اسرائیل کے لوگوں نے کہا۔ موسیٰ، ہم تو پہلے ہی مصیبتوں میں پھنسے ہوئے تھے، تیرے آنے سے کچھ امید بندھی تھی، مگر تیرے آنے کے بعد تو اور بھی مصیبت آگئی ہے۔ حضرت موسیٰ   نے اس کو تسلی دی اور کہا کہ گھبراؤ نہیں۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے تم ضرور کامیاب رہو گے اور تمہارا دشمن ہلاک ہوگا۔اللہ نے حضرت موسیٰ   کو حکم دیا کہ اپنی قوم بنی اسرائیلی کو مصر سے نکال کر باپ دادا کی سرزمین پر لے جاؤ، چنانچہ آپ رات کے وقت نبی اسرائیل کو لے کر نکل گئے۔ ادہر فرعون کو بھی اطلاع مل گئی، اس نے ایک زبردست فوج کے ساتھ ان کا تعاقب کیا۔ وہ پانی کے کنارے پر پہنچے تھے کہ مصری فوجیں آگئیں۔ جنہیں دیکھ کر بنی اسرائیل بہت گھبرائے۔ مگر حضرت موسیٰ   نے ان کو تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ   کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی پانی پر مارو، چنانچہ جب حضرت موسیٰ   نے بحیرہ قلزم کے پانی پر اپنی لاٹھی ماری تو اس میں سے راستہ بن گیا اور حضرت موسیٰ   بڑے آرام سے بحیرہ قلزم سے پار ہوگئے۔ یہ دیکھ کر فرعون نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ تم بھی اس راستے سے بحیرہ قلزم کو پار کرجاؤ۔ لیکن جب فرعون اور اس کی ساری فوج درمیان میں آگئی تو اللہ کے حکم سے پانی پھر اپنی اصلی حالت پر آگیا اور فرعون اپنی فوج سمیت غرق ہوگیا۔ جب فرعون غرق ہونے لگا تو اس نے پکارا کہ میں موسیٰ کے رب کے اوپر ایمان لاتا ہوں، لیکن یہ بعد از وقت تھا ۔ فرعون کی پکار پر اللہ نے فرمایا کہ "آج کے دن ہم تیرے جسم کو ان لوگوں کے لیے جو تیرے پیچھے آنے والے ہیں نجات دیں گے کہ وہ عبرت کا نشان بنے"۔ چنانچہ ہزارو سالوں کے بعد اس پرانی  لاش دستیاب ہوئی ہے اور اب مصر کے عجائب خانہ میں موجود ہے۔زیر تبصرہ کتاب’’پرانی لاش‘‘ میں  محترم جنا ب اشتیاق احمد صاحب نے    کہانی او رمکالمے کے  انداز میں اس فرعون کا تذکرہ کیا ہے۔ایک اچھی کہانی کی طرح اس  کہانی میں بھی یہ خوبی نمایاں ہے یہ عبرت ونصیحت کےتمام پہلو اپنے اندرکھتی ہے۔ (م۔ا)

  • pages-from-karbla-se-balakot-tak
    محمد سلیمان فرخ آبادی

    اسلام دین فطرت ہے۔خدا کی عبادت اور اطاعت انسان کے خمیر میں شامل ،اور اس کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ پالنے پوسنے والے کی پوجا ،پرستش اس کی فطرت کا حصہ ہے۔ہر انسانی بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے ۔ماں ،باپ ،ماحول اور سوسائٹی اگر اسے غلط راہوں پر نہ ڈال دے اور اسلام کی سادہ تعلیم اس کے سامنے آئے تو اس کی سادہ فطرت بہت آسانی سے اسے قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتی ہے۔ تاریخ میں کوئی گروہ ایسا نہیں گزرا جو کسی نہ کسی کو معبود مان کر اس کے آگے سر نیاز نہ جھکاتا ہو۔تاریخ اگر ایک طرف یہ ثبوت فراہم کرتی ہے کہ ہر گروہ اور قوم نے کسی نہ کسی خدا کو مان کر اسے پوجا ہے تو دوسری طرف یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ خدا پرستی کے سلسلہ میں انسانی افراد اور جماعتوں نے بارہا ٹھوکریں کھائی ہیں ۔فکر وعمل کے میدانوں میں بھٹک کر انسان ضلالت اور گمراہی کے عمیق غاروں اور کھڈوں میں جا گرا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے جماعت انسان کی راہنمائی کے لئے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا اور نبی کریم ﷺ کے بعد بے شمار ایسے نیک اور مصلح پیدا کئے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اللہ تعالی کے پیغام اور وحی کو اگلی نسلوں تک پہنچایا۔ زیر تبصرہ کتاب "کربلا سے بالا کوٹ تک" محترم محمد سلیمان فرخ آبادی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے سیدنا حسین بن علی ﷢سے لیکر سید احمد شہید تک کے اکیس 21 شہداء ،محدثین اور معروف اہل علم کا تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالی مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو ان عظیم ہستیوں کے نقش قدم پر چلنے توفیق دے۔ آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 337 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :