کل کتب 15

دکھائیں
کتب
  • 1 #2969

    مصنف : طالب ہاشمی

    مشاہدات : 2686

    ابو یوسف یعقوب المنصور باللہ

    (پیر 09 مارچ 2015ء) ناشر : قومی کتب خانہ لاہور

    شمالی افریقہ میں المرابطین اور الموحدون کا دور حکومت پانچویں صدی ہجری کے وسط سے ساتویں صدی ہجری کے وسط تک تقریبا دو صدیوں پر محیط ہے۔یہ زمانہ اس خطہ ارض کی تاریخ  کا ایک شاندار اور ولولہ انگیز باب ہے۔مجاہد کبیر یوسف بن تاشفین کے بعد دولت مرابطین تو جلد ہی زوال پذیر ہو گئی لیکن اس کی جانشین  دولت موحدین تقریبا ڈیڈھ صدی تک طبل وعلم کی مالک بنی رہی۔اگر ایک طرف افریقہ میں اس کے اقتدار کا پھریرا مراکش،تیونس،الجزائر اور لیبیا وغیرہ پر اڑ رہا تھا تو دوسری طرف یورپ میں اس کا پرچم اقبال اسپین اور پرتگال پر لہرا رہا تھا۔تیسرے موحد فرمانروا ابو یوسف یعقوب المنصور باللہ کا عہد حکومت سلطنت موحدین کے منتہائے عروج کا زمانہ تھا۔اس کی شان وشوکت،معارف پروری اور جہادی معرکوں کی کامیابیوں نے اس کے مداحین کی آنکھوں کو خیرہ دیا تھا۔زیر تبصرہ کتاب " ابو یوسف یعقوب المنصور باللہ "اسی فرمانروا ابو یوسف یعقوب المنصور باللہ کے حالات زندگی پر مشتمل ہے ،جسے نامور مورخ جناب طالب ہاشمی نے نہایت تحقیق وتفحص کے ساتھ دلآویز پیرایہ میں قلمبند کیا ہے۔اور اس میں تاریخ اسلام کے ایک اہم اور شاندار باب کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔اس کتاب کا مطالعہ یقینا بیش بہا معلومات کا باعث ہے۔(راسخ)

     

  • 2 #4772

    مصنف : علامہ شبلی نعمانی

    مشاہدات : 4077

    اورنگ زیب عالمگیر

    (پیر 03 اکتوبر 2016ء) ناشر : فکش ہاؤس مزنگ لاہور

    اورنگزیب عالمگیر3 نومبر ،1618ء کو مالوہ کی سرحد پر پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ ارجمند بانو بیگم تھیں۔ جو ممتاز محل کے نام سے مشہور تھیں۔ اورنگ زیب کی عمر دو سال کی تھی کہ شاہجہان نے اپنے باپ جہانگیر کے خلاف بغاوت کردی۔ اورنگزیب عالم گیر پہلے بادشاہ ہیں جنھوں نے قرآن شریف حفظ کیا اور فارسی مضمون نویسی میں نام پیدا کیا۔ اس کے علاوہ گھڑ سواری ، تیراندازی ، اور فنون سپہ گری میں بھی کمال حاصل کیا۔ سترہ برس کی عمر میں 1636ء دکن کے صوبیدار مقرر ہوے۔ اس دوران میں اس نے کئی بغاوتوں کو فرو کیا۔ اور چند نئے علاقے فتح کیے۔ بلخ کے ازبکوں کی سرکوبی جس جوانمردی سے کی اس کی مثال تاریخ عالم میں مشکل سے ملے گی۔ان کا دورِ حکومت 1658ء تا 1707ء ہےاورنگزیب ابوالمظفر محی الدین کے لقب سے تخت پر بیٹھا اس نے ہندوؤں اور مسلمانوں کی فضول رسمیں ختم کیں اور فحاشی کا انسداد کیا اور خوبصورت مقبروں کی تعمیر و آرائش ممنوع قرار دی۔ قوال ، نجومی ، شاعر موقوف کر دئیے گئے۔ شراب ، افیون اور بھنگ بند کردی ۔ درشن جھروکا کی رسم ختم کی اور بادشاہ کو سلام کرنے کا اسلامی طریقہ رائج کیا۔ سجدہ کرنا اور ہاتھ اٹھانا موقوف ہوا۔ سکوں پر کلمہ لکھنے کا دستور بھی ختم ہوا۔ کھانے کی جنسوں پر ہرقسم کے محصول ہٹا دیے۔ 1665ء میں آسام ، کوچ بہار اور چٹاگانگ فتح کیے اور پرتگیزی اور فرنگی بحری قزاقوں کا خاتمہ کیا۔ عالمگیر احمد نگر میں بیمار ہوا اور 3 مارچ، 1707ء کو نوے برس کی عمر میں فوت ہوا۔ وصیت کے مطابق اسے خلد آباد میں دفن کیا گیا۔ ۔ اورنگ زیب بڑا متقی ، پرہیز گار ،مدبر اور اعلیٰ درجے کا منتظم تھا۔ خزانے سے ذاتی خرچ کے لیے ایک پائی بھی نہ لی۔ قرآن مجید لکھ کر ٹوپیاں سی کر گزارا کرتا تھا۔ سلجھا ہوا ادیب تھا۔ اُس کے خطوط رقعات عالمگیر کے نام سے مرتب ہوئے۔ اس کے حکم پر نظام سلطنت چلانے کیلیے ایک مجموعہ فتاوی تصنیف کیا گیا جسے تاریخ میں فتاوی عالمگیری کے نام سے یادکیا جاتا ہے ۔ فتاویٰ عالمگیری فقہ حنفی میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’اورنگ زیب عالمگیر‘‘ علامہ شبلی نعمانی اور ڈاکٹر اوم پرکاش پرشادکے دومضامین کا مجموعہ ہے ۔علامہ شبلی نعمانی نے اپنے مضمون میں مضبوط دلائل کےذریعے اورنگ زیب کی شخصیت پر لگائے جانے والے الزامات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔اور ڈاکٹر اوم پرکاش ہے اورنگ زیب کوان کی مسلم شناخت سے ہٹ کر ایک ایسے حکمران کے روپ میں دکھایا ہے ۔ جو ہندو مسلم سب کا شہنشاہ تھا۔ جس نے اپنی رعایا کی بہتری کے لیےحتی المقدور کوشش کی ۔(م۔ا)

  • 3 #6495

    مصنف : آغا امیر حسین

    مشاہدات : 2106

    برصغیر کے منفرد حکمران

    (بدھ 02 مئی 2018ء) ناشر : کلاسک چلڈرن لائبریری

    برصغیر میں ایک ہزار برس تک مختلف مسلمان حکمرانوں نے حکومت کی۔ لیکن ان میں سے کچھ ایسے تھے جن کی شخصیت وکردار میں کسی اعتبار سے انفرادیت تھی۔ اپنی ذاتی کاوشوں سے وہ ممتاز ومنفرد ثابت ہوئے یا پھر ان کے منفرد کردار نے برصغیر کی تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ یہ تمام حکمران باہمت‘ بیدار مغز‘ قوت عمل کے مالک اور تعصب سے پاک تھے۔ ان تمام حکمرانوں کو زبر دست مشکلات ومصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انہوں نے مخالفتوں‘ ناکامیوں اور حوصلہ شکن حالات میں ہمت نہ ہاری اور مسلسل جدوجہد کی بدولت آخر کار مثالی کامیابی سے ہمکنار ہوئے ۔زیرِ تبصرہ کتاب بچوں کے لیے خاص طور پر افادہ کے لیے لکھی گئی ہے کیونکہ اس کتاب سے پہلے بچوں کے لیے ایسی کتاب موجود نہ تھی جس میں برصغیر کے ایک سے زیادہ حکمرانوں کے حالات زندگی اختصار کے ساتھ موجود ہوں۔ اپنی تاریخ سے آگاہی کے لیے طویل اور غیر ضروری تفصیلات پر مبنی واقعات پر مشتمل بہت سی کتب تھیں لیکن بچوں کے لیے انہیں پڑھنا آسان نہ تھا جس کی وجہ سے یہ  کتاب اختصار کا مرقع ہے۔ اس کتاب میں پہلا تذکرہ محمود غزنوی کا ہے اس کے بعد ظہیر الدین بابر‘ شیر شاہ سوری‘ جلال الدین اکبر‘ ٹیپو سلطان اور رضیہ سلطانہ جیسے حکمرانوں کا تذکرہ ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔  یہ کتاب’’ برصغیر کے منفرد حکمران ‘‘آغا امیر حسین کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 4 #6400

    مصنف : محمد ظہیر الدین بابر

    مشاہدات : 2596

    تزک بابری

    (منگل 15 مئی 2018ء) ناشر : الفیصل ناشران وتاجران کتب، لاہور

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک محمد ظہیر الدین بابر  بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں محمد ظہیر الدین بابر کے مکمل حالات ‘ ان کے کارہائے نمایاں اور خدمات  بیان کی گئیں ہیں اور ان کی یہ خود نوشت سوانح عمری دنیا کے ان بیش قیمت صحائف میں سے ہے جو ہمیشہ ادبی حلقوں میں روشن ومنور رہیں گے۔ اس کتاب کا شمار دنیا کے بہترین علمی اور تاریخی سرمایہ میں کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب تصنع اور مبالغہ سے پاک ہے‘ عبارت نہایت صاف شستہ اور بے حد دلچسپ ہے۔ مصنف کے ہم عصروں اور ہم وطنوں  کی تصویریں  اس کی تصنیف میں آئینہ کی طرح صاف نظر آتی ہیں‘ ان کا طرز بودوباش‘ ان کے اخلاق وعادات‘ ان کا تمدن ومعاشرت اس خوبی سے پیش کیے گئے ہیں کہ نظر کے سامنے تصویر کھنچ جاتی ہے۔ مزید اس کتاب میں لوگوں کی شکل وشبیہ‘ لباس‘ اشغال وعادات بڑی تفصیل سے بیان کی ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ تزکِ بابری ‘‘محمد ظہیر الدین بابر کی تصنیف کردہ اور مرزا نصیر الدین حیدر کی مترجم کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 5 #5411

    مصنف : ڈاکٹر اختر حسین عزمی

    مشاہدات : 1669

    سلطان زنگی کی بیوہ

    (ہفتہ 18 مارچ 2017ء) ناشر : منشورات، لاہور

    خلفائے راشدین﷢ اور حضرت عمر بن عبد العزیز﷫ کے بعد جن مسلمان حکمرانوں کی عظمت کردار نے آسمان کی رفعتوں کو چھو لیا ان میں ملک العادل سلطان نورالدین محمود زنگی﷫ کا نام نامی امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی عظمت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ ہردور کے مورخ، دوست اور دوشمن سبھی نے اسکی شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربار میں نمایاں جگہ دی ہے۔ بعض مورخین نےخلفائے راشدینؓ کےبعد تمام فرماں روایان اسلام میں اس کوسب سےبہتر قرار دیا ہے۔ نور الدین فروری 1118ء میں پیدا ہوا اور 1146ء سے 1174ء تک 28 سال حکومت کی۔ اس نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔ مصر پر قبضہ کرنے کے بعد نورالدین نے بیت المقدس پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ بیت المقدس کی مسجد عمر میں رکھنے کے لیے اس نے اعلیٰ درجے کا منبر تیار کروایا۔ اس کی خواہش تھی کہ فتح بیت المقدس کے بعد وہ اس منبر کو اپنے ہاتھوں سے رکھے گا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا۔ نورالدین ابھی حملے کی تیاریاں ہی کررہا تھا کہ زنگی کو حشیشین نے زہر دیا۔ جس سے ان کے گلے میں سوزش پیدا هو گئی جو کہ ان کی موت کا باعث بنی 15 مئی 1174ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت نورالدین کی عمر 58سال تھی۔ نور الدین زنگی کی وفات کے بعد جب ان کا کم سن بیٹا مفاد پرست امراء کے ہاتھ میں کھلونا بن گیا تو قدرت حق نے صلاح صلاح الدین ایوبی کو سلطان زنگی کے مشن کا وارث بنا کر کھڑا کردیا۔ عظمت اسلام کے مشن سے منحرف سلطان زنگی مرحوم کے بیٹے کے مقابلے میں خود اس کی ماں یعنی سلطان زنگی کی بیوہ نے جس طرح اندرونی محاذ پر مزاحمت کر کے دمشق کی سلطنت کے بگڑے ہوئے تشخص کو پھر سے بحال کردیا اسلامی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سلطان زنگی کی بیوہ‘‘ میں جناب ڈاکٹر اختر حسین عزمی نے ایک دلچسپ ناول کے انداز میں سلطان نور الدین زنگی کی وفات کےبعدان کی بیوہ کے مثالی تاریخی کردار کو پیش کیا ہے۔ (م۔ا)

  • 6 #2946

    مصنف : مبین رشید

    مشاہدات : 5211

    سلطان محمود غزنوی

    (جمعرات 05 مارچ 2015ء) ناشر : علم و عرفان پبلشرز، لاہور

    سلطان محمود غزنوی﷫ (971ء ۔ 1030ء ) کا پورا نام یمین الدولہ ابو القاسم محمود ابن سبکتگین ہے ۔ 997ء سے اپنے انتقال تک سلطنت غزنویہ کے حکمران رہے۔ انہوں نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کیا ۔ اس کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا۔ وہ تاریخِ اسلامیہ کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے سلطان کا لقب اختیار کیا۔محمودغزنوی 971ء میں پیدا ہوا۔ چھ برس کا تھا کہ باپ غزنی کا بادشاہ بنا۔ پندرہ سال کی عمر میں باپ کے ساتھ جنگوں میں شریک ہونے لگا اور اس کی بہادری اور جرات کے چرچے ہونے لگے، چنانچہ سبکتگین نے اس کو خراسان کا حاکم بنا کر بھیج دیا۔ تعلیم نہایت عمدہ پائی تھی، فقہ، حدیث، تفسیر کی کتابیں پڑھیں، قرآن مجید حفظ کیا۔ ابتدائی عمر میں فقہ پر خود ایک کتاب بھی لکھی۔شمالی ہند کا راجا جے پال سبکتگین کے زمانے میں دو دفعہ غزنی پر حملہ کرچکا تھا، جب محمود چھبیس سال کی عمر میں باپ کا جانشین ہوا تو جے پال نے تیسری دفعہ حملہ کردیا۔ محمود نے اس کو سخت شکست دی اور گرفتار کرلیا۔ راجا نے بڑے وعدے وعید کرکے رہائی حاصل کی۔محمود غزنوی ایک سپہ سالار اور فاتح کی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ علم و فن کی سرپرستی کے اعتبار سے بے نظیر حکمران تھا۔ بڑے بڑے عالم اور شاعر اس کے دربار میں موجود تھے۔ فردوسی کی سرپرستی کرکے اس نے شاہنامے کی تکمیل کرائی۔ غزنی میں بڑے بڑے مدرسے قائم کیے۔ اہل علم کی امداد پر لاکھوں روپیہ سالانہ صرف کرتا۔ وہ نہایت نیک دل مسلمان تھا۔ اس نے کسی کو جبراً مسلمان نہیں بنایا اور کسی کو میدان جنگ کے باہر قتل نہ کیا۔ 1022 میں محمود غزنوی نے پنجاب کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔ بت شکن سلطان محمود غزنوی اسلامی تاریخ کا ایسا درخشندہ ستارہ ہے جس پر بجا طور پر بر صغیر کے مسلمان فخر کر تے ہیں ۔انتہائی کٹھن حالات میں اس نے ہندوستان پر لگاتار سترہ حملے کیے اور ہر بار فتح و نصرت نے اس کے قدم چومے برصغیر میں ہندوؤں کے غرور کی علامت سومنات کے مندر کو 1026 میں فتح کر کے  اس خطے میں اسلام کی پہلی اینٹ رکھی ۔ہندوں برہمنوں نے محمود غزنوی سے استدعا کی کہ   اس بت کی حفاظت کرے جس کے عوض اسے بہت زیادہ دولت دی جائے گئی تو اس نےیہ کہہ کراس آفر کو ٹھکرا دیا کہ وہ بت شکن ہے بت فروش نہیں۔ سلطان محمود غزنوی نے 1030 میں 59 سال کی عمر میں وفات پائی ۔غزنی کے موجودہ قصبے سے تین میل باہر اس کا مقبرہ ہے۔ ان کے کارناموں سے تاریخ کے صفحات مزین ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سلطان محمود غزنوی‘‘ محمود غزنوی کی حیات وخدمات،کارناموں کےحوالے سے بہترین کتاب ہے ۔مصنف نے   کوشش کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تاریخی حقائق کو یکجا کیا جائے کہ جس میں سلطان محمود غزنوی کی شخصیت کےتمام پہلو سامنے آجائیں۔(م۔ا)

     

  • 7 #2958

    مصنف : طالب ہاشمی

    مشاہدات : 3787

    سلطان نور الدین محمود زنگیؒ

    (جمعرات 19 فروری 2015ء) ناشر : طہٰ پبلیکیشنز، لاہور

    خلفائے راشدین﷢ اور حضرت عمر بن عبد العزیز ﷫کےبعد جن مسلمان حکمرانوں کی عظمت کردار نے آسمان کی رفعتوں کو چھو لیا ان میں ملک العادل سلطان نورالدین محمود زندگی﷫ کا نام نامی امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی عظمت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ ہردور کے مورخ ،دوست اوردوشمن سبھی نے اسکی شہرتِ عام اور بقائے دوام کےدربار میں نمایاں جگہ دی ہے۔بعض مورخین نےخلفائے راشدینؓ کےبعد تمام فرماں روایان اسلام میں اس کوسب سےبہتر قرار دیا ہے ۔سلطان نور الدین زنگی سلطنت کے بانی عماد الدین زنگی کا بیٹا تھا عماد الدین زنگی سلجوقی حکومت کی طرف سے شہر موصل کا حاکم تھا۔ جب سلجوقی حکومت کمزور ہوگئی تو اس نے زنگی سلطنت قائم کرلی اورعیسائیوں کو شکستوں پر شکستیں دیں جس نے تاریخ میں بڑا نام پیدا کیا۔ نور الدین فروری 1118ء میں پیدا ہوا اور 1146ء سے 1174ء تک 28سال حکومت کی۔اس نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔مصر پر قبضہ کرنے کے بعد نورالدین نے بیت المقدس پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ بیت المقدس کی مسجد عمر میں رکھنے کے لیے اس نے اعلیٰ درجے کا منبر تیار کروایا۔ اس کی خواہش تھی کہ فتح بیت المقدس کے بعد وہ اس منبر کو اپنے ہاتھوں سے رکھے گا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا۔ نورالدین ابھی حملے کی تیاریاں ہی کررہا تھا کہ زنگی کو حشیشین نے زہر دیا۔جس سے ان کے گلے میں سوزش پیدا هو گئی جو کہ ان کی موت کا باعث بنی15 مئی 1174ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت نورالدین کی عمر 58سال تھی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سلطان نورالدین زنگی ‘‘ معروف سوانح نگار اور ادیب محترم طالب ہاشمی کی تصنیف ہے ۔ جس نے انہوں چھٹی صدر ہجری کے مجاہد ِ اعظم نورالدین زنگی  کی شخصیت ،حیات وخدمات اور ان کے جنگی کارناموں کو بڑے دلنشیں انداز میں بیان کیا۔ جو یقینا تاریخ کے طالب علم کےلیے لائق مطالعہ ہے ۔(م۔ا)

  • 8 #5752

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 3342

    سیدنا عمر بن عبد العزیز شخصیت اور کارنامے

    (پیر 28 اگست 2017ء) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ

    امیر المومنین سیدنا عمر بن عبد العزیز ﷫ کوپانچواں خلیفۂ راشد تسلیم کیا گیا ہے ۔ حضرت عمربن عبد العزیز ﷫ عمرثانی کی حیثیت سےابھرکر سامنے آئے ۔جیسے سیدنا عمرفاروق اعظم نےاپنے 10 سالہ عہد خلافت میں ہزاروں مربع میل پر فتح حاصل کی۔حضرت عمر بن عبد العزیز نےاڑھائی سال خلافت کوسنبھالا مگر انہوں نے بھی متعدد علاقوں کو فتح کر کے اسلامی حدود میں شامل کیا۔ انہوں نے جہاد کے علاوہ دعوت الی اللہ پر بھی خاصہ زور دیا اور کفر کےدلوں کو اسلام کی برکات سےآراستہ کر کے ان کو دین اسلام میں داخل کیا ۔حدیث وسیراور تاریخ ورجال کی کتب میں ان کے عدل انصاف ،خشیت وللہیت،زہد وتقوٰی ،فہم وفراست اور قضا وسیاست کے بے شمار واقعات محفوظ ہیں اور آپ کی سیرت پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت عمر بن عبد العزیز ﷫شخصیت اور کارنامے‘‘امیر المومنین خلفیہ راشد سیدنا عمرفاروق کے حقیقی جانشین عمرثانی کی سیرت وخدمات اور خلافت کے حالات واقعا ت پر مشتمل ہے ۔یہ کتاب ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی کی کاوش ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا آصف نسیم نے کیا ہے۔انہوں نے اس کتاب کو آٹھ فصلوں میں تقسیم کیا ہے۔دلچسپ پیرائیوں اور عنوانات باندھ کر حضرت عمربن عبدالعزیز ﷫ کی پوری حیات کے ہر پہلو کو بحوالہ درج کیا ہے اور حضرت عمر بن عبد العزیز ﷫ کی صحیح تصویر کشی کی ہے ۔ کہیں غلو یا تنقیص کا عنصر نہیں ہے ۔یہ کتاب مناسب معلومات پر مبنی ہے جو بے جاتطویل واختصارسے مبرّا ہے۔ فاضل مصنف نے پوری کتاب میں دلچسپی کو برقرار رکھا ہے ۔(رفیق الرحمن)

  • 9 #6998

    مصنف : قاضی عبد الستار

    مشاہدات : 777

    صلاح الدین ایوبی

    (جمعہ 28 جون 2019ء) ناشر : وحید بک سنٹر لاہور

    اسلامی تاریخ میں جو شخصیات مسلمانوں کےلیے سرمایۂ افتخار کی حیثیت رکھتی ہیں ان میں ایک نمایاں نام سلطان یوسف المعروف صلاح الدین ایوبی کا ہے جنہوں نے اپنی بے مثال شجاعت اور جرأت واستقلال سے قبلۂ اول فلسطین کو صلیبیوں کے پنجۂ استبداء سے آزادکروایا ۔سلطان صلاح الدین ایوبی کی پوری زندگی ان کے دلیرانہ اور بہادرانہ کارناموں سے بھری پڑی ہے موصوف نے ہمیشہ ملت کے دفاع کااور اسلام کی سربلندی کےلیے اپنی شمشیر کو بے نیام کرتے ہوئے میدان قتال مین دادشجاعت دی ہےسلطان صلاح الدین ایوبی نے آخری چھ سالوں جوکہ  سلطان کی حیات کے سب سے قیمتی اور یادگار ایام ہیں کہ جن میں انہوں نے مسلسل صلیبیوں کو گھیر گھیر کر ان کا شکار کرتے ہوئے بیت المقدس کو ان کے ناپاک عزائم سے بچانے کےلیے اللہ کے گھر کی عزت وناموس کی رکھوالی کے لیے  دن رات اپنی جان ہتھیلی پرلیے شمشیروں کی چھاوں میں ،تیروں کی بارش میں ،نیزوں کی انیوں میں،گھوڑے کی پشت پر بیٹھ کر اس کو دشمن کی صفوں  میں سرمیٹ دوڑاتے ہوئے تلوار بلند کرتے ہوئے اللہ کے باغیوں ،کافروں ،ظالموں کی گردنیں اڑاتے ہوئے بسرکیا ۔ زیر نظر کتاب ’’ صلاح الدین ایوبی ‘‘قاضی عبد  الستار  کی تصنیف ہے جس میں ا نہوں نے  سلطان صلاح الدین ایوبی کی دلیرانہ اور بہادرانہ ایمان افروز  زندگی کو  ایک ناول کی صورت میں دلچسپ انداز میں مرتب کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 10 #2390

    مصنف : بحر اللہ ہزاروی

    مشاہدات : 2004

    عبد العزیز بن عبد اللہ آل سعود

    (پیر 01 ستمبر 2014ء) ناشر : فواد پبلیکیشنز اسلام آباد

    بانی مملکت  سعودی  شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعو د  1886ء میں پید اہوئے  ۔والدین  نے  ان کی  تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام کیا قرآن پاک اور ابتدائی دینی تعلیم  الشیخ قاضی عبد اللہ ا لخرجی او راصول فقہ  اور توحید کی تعلیم  الشیخ عبد اللہ بن عبدالطیف سے  حاصل کی ۔ جب گیارہ برس کے ہوئے تو شرعی علوم پر  بھی مکمل دسترس حاصل کرچکے  تھے ۔ریاض پر الرشید کے غلبہ کی وجہ سے  شاہ عبدالعزیز اپنے والد گرامی کے ہمرا کویت چلے گئے۔شاہ عبد العزیز وہاں اپنے خاندان پر گزرنے والی مشکلات کے بارے میں سوچا کرتے تھےکہ  ان کے والد کس طرح کویت میں  جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ وہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں پریشان رہتے۔اس کی تعمیر وترقی  کا خواب دیکھتے رہتے  تھے ۔شاہ عبدالعزیز کے والد نے  ان کی سیاسی تربیت اسے انداز سے کی کہ وہ لوگوں سے کامیابی  کے ساتھ مکالمہ کرسکیں۔شاہ عبد العزیز نے  اپنے والد گرامی کےسائے میں  کویت میں  صبرو سکون کے بڑی منطم زندگی گزاری۔انہوں نے  1902 میں  اپنے چالیس جانثار کو ساتھ لے کر ریاض  پر حملہ کر کے  ریاض  کو الرشید  کے  قبضہ  سے  آزاد کروایا ۔ جس سے مملکت سعودی عرب کا آغاز  ہوا اور پر  تھوڑے عرصہ میں پورے سعودی عرب پر شاہ عبد العزیز نےعدل وانصاف پر مبنی  حکومت قائم کی ۔شاہ  عبدالعزیز نے تیس سال تک مسلسل جدوجہدکی اور اپنی مملکت کی سرحدوں کو وہاں تک پہنچایا جوان کے  آباؤ اجداد کے وقت میں  تھیں۔ان کی کوششوں سے  سعودی  عرب  صحیح اسلامی مملکت کے طور پر نمایا ں ہوا۔جس کی وجہ سے  اللہ تعالی نے   ان کو تیل کےذریعے دولت کی فراوانی سے مالامال کیا۔ غلبۂ  اسلام  کے لیے شاہ عبدالعزیز  کی خدمات   قابل تحسین ہیں ۔73سال کی عمر میں  1953ءکو طائف میں  وفات پائی ۔زیر  نظر  کتاب  بحر اللہ ہزاروی  کی تصنیف ہے جس میں  انہوں نے   شاہ عبد العزیزبن عبد الرحمن  آل سعود کی  بچپن سے  جوانی اور  سعودی عرب میں  اسلامی حکومت قائم کرنے کے  تفصیلی حالات کوبڑے احسن انداز  میں  تحریر کیا ہے ۔ کتاب  کے مصنف  نے طویل عرصہ  سعودی عرب میں  پاکستان کےسفارتی  مشن  میں خدمات  انجام دیں  اور 1993ء میں جامعہ کراچی سے ’’مملکت سعودی عرب میں اسلامی نظام اور عالم اسلام پر اس  کے اثرات‘‘ کےعنوان پر  پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔سعودی عرب کی تاریخ  اور آل سعود کے  حالات وواقعات جاننے کےلیے یہ  ایک   منفرد کتاب ہے ۔ اللہ تعالی  حکام  سعودیہ کو دین حنیف کی خدمت کرنے اور  اس پر قائم رہنے کی  توفیق دے  (آمین)(م۔ا)

     

< 1 2 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1702
  • اس ہفتے کے قارئین 11387
  • اس ماہ کے قارئین 49781
  • کل قارئین49395946

موضوعاتی فہرست