کل کتب 21

دکھائیں
کتب
  • 1 #3545

    مصنف : ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    مشاہدات : 2787

    الجہاد (رانا اسحاق)

    (منگل 08 ستمبر 2015ء) ناشر : ادارہ اشاعت اسلام علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

    جہاد دینِ اسلام کی چھوٹی ہے ۔جہاد اعلائے کلمۃ اللہ کا سب سے بڑا سبب او رمظلوموں ومقہوروں کو عد ل انصاف فراہم کرنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کو دعوت و انذار کےبعد انتہائی حالات میں اللہ کے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت دی ہے او راللہ کے راستے میں لڑنےوالے  مجاہد کے لئے انعام و اکرام اور جنت کا وعدہ کیا ہے اسی طرح اس لڑائی کو جہاد  جیسے مقدس لفظ سے موسوم کیا  ہے۔ جہادکی اہمیت وفضلیت کے حوالے سے کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے باقاعدہ ابواب قائم کیے ہیں او رکئی اہل علم نے اس پر مستقبل عربی اردوزبان میں کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’الجہاد‘‘ڈاکٹر محمداسحاق رانا ﷫ کی کاوش ہے ۔جسے انہوں نے مدینہ کےقیام کےدوران تحریر کیا تھا اس کتابچہ میں قرآن وسنت کی روشنی میں جہاد کے فضائل بیان کیے ہیں ۔موصوف 1974ء تا 1980ء تک مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے ۔ آپ اس کے علاوہ بھی کئی چھوٹی بڑی کتب کے مصنف ہیں۔ (م۔ا)

  • 2 #1341

    مصنف : عبد الرحمن الرحمانی

    مشاہدات : 25173

    الجہاد الاسلامی

    (جمعرات 13 فروری 2014ء) ناشر : دار الاندلس،لاہور

    فی زمانہ اسلام کےتصورجہادکےبارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اورغیرتوغیر‘اپنےبھی بے شمارمغالطوں کاشکارہیں ۔ایسےنام نہادسکالروں کی بھی کمی نہیں جوجہادوقتال کوصحابہ کرام کےدورسے خاص کرتےہوئے موجودہ دورمیں اسے عملا ً ممنوع قراردیتےہیں ۔زیرنظرکتاب میں ان مغالطوں کانہ صرف ٹھوس علمی جواب دیاگیاہے بلکہ کتاب وسنت سے محکم استدلال  اورقوی استشہادکےذریعے جہادکےصحیح تصوراوراس سے متعلقہ شرعی مسائل کوبھی اجاگرکیاگیاہے۔فاضل مؤلف نے جہادومجاہدین کےفضائل ،جہادکی اقسام اور جنگ وجہادسےمتعلقہ فقہی معاملات کی اس قدرمفصل وضاحت فرمائی ہے کہ اسے بجاطورپرجہادکےاحکام ومسائل کاانسائیکلوپیڈیاقراردیاجاسکتاہے ۔

     

  • 3 #4319

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 4635

    الجہاد فی الاسلام (مودودی)

    (ہفتہ 12 مارچ 2016ء) ناشر : ادارہ ترجمان القرآن لاہور

    جہاد دینِ اسلام کی چوٹی ہے۔ جہاد اعلائے کلمۃ اللہ کا سب سے بڑا سبب اور مظلوموں و مقہوروں کو عدل انصاف فراہم کرنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کو دعوت و انذار کے بعد انتہائی حالات میں اللہ کے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت دی ہے او راللہ کے راستے میں لڑنے والے  مجاہد کے لئے انعام و اکرام اور جنت کا وعدہ کیا ہے اسی طرح اس لڑائی کو جہاد  جیسے مقدس لفظ سے موسوم کیا  ہے۔ جہاد کی اہمیت وفضلیت کے حوالے سے کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے باقاعدہ ابواب قائم کیے ہیں او رکئی اہل علم نے اس پر مستقبل عربی اردوزبان میں کتب تصنیف کی ہیں۔ زير تبصره كتاب"الجہاد فی الاسلام‘‘ مفکر اسلام سید ابو الاعلی مودودی﷫ کی تصنیف ہے جہاد کے موضوع پربڑی اہم کتاب ہے یہ کتاب آپ نے اس وقت لکھی جب آپ "الجمعیۃ" کے مدیر تھے۔ ایک شخص سوامی شردھانند نے شدھی کی تحریک شروع کی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندو بنالیا جائے۔ چونکہ اس تحریک کی بنیاد نفرت، دشمنی اور تعصب پر تھی اور اس نے اپنی کتاب میں حضرت محمد ﷺ کی توہین کی جس پر کسی مسلمان نے غیرت ایمانی میں آکر سوامی شردھانند کو قتل کردیا۔ اس پر پورے ہندوستان میں ایک شور برپا ہوگیا۔ ہندو دینِ اسلام پر حملے کرنے لگے اور اعلانیہ یہ کہا جانے لگا کہ اسلام تلوار اور تشدد کا مذہب ہے۔ انہی دنوں مولانا محمد علی جوہر نے جامع مسجد دہلی میں تقریر کی جس میں بڑی دردمندی کے ساتھ انہوں نے اس ضرورت کا اظہار کیا کہ کاش کوئی شخص اسلام کے مسئلہ جہاد کی پوری وضاحت کرے تاکہ اسلام کے خلاف جو غلط فہمیاں آج پھیلائی جارہی ہیں وہ ختم ہوجائیں۔ اس پر سید مودودی نے الجہاد فی الاسلام کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس وقت سید مودودی کی عمر صرف 24 برس تھی۔ سید مودودی نے الجہاد فی الاسلام کی تصنیف کےدوران قرآن، حدیث، سیرت، تاریخ ،فقہ کے علاوہ تورات انجیل اور زبور نیز ویدوں، گیتا اور اور ہندوؤں کی دیگر مذہبی کتابوں کے اصل مصادر کا بھی براہ راست گہری نظر سے مطالعہ کیا۔علاوہ ازیں انھوں نے بین الاقوامی قوانین ، مغربی نظریات جدید تصورات جنگ کے اصل اور بنیادی مراجع سے بھی بھرپور استفادہ کیا۔ اس اہم ذخیرے میں سید مودودی نے جہاد کی اہمیت ومعنویت، حقیقت اور آداب وشرائط پر بھی روشنی ڈالی۔اور انہوں نے اس کتاب میں واضح کیا کہ دنیا میں حقیقی امن وصلح کا قانون اگر کسی مذہب کے پاس ہے تو وہ صرف اسلام ہے۔ باقی تمام مذاہب کے پاس نہ صرف جنگ کے لئے بلکہ دوسرے اہم معاملات کے لئے بھی تخریب کاری کے سوا کچھ نہیں ہے۔ انھوں نے جہاد اور قتال کی وضاحت کی کہ اسلام جہاد و قتال کس غرض اور مقصد کے لئے کرتا ہے۔ سید مودودی کی یہ قیمتی تحقیق پہلے جمعیۃ علماء ہند کے سہ روزہ ترجمانـ ’’الجمعیۃ‘‘ دہلی میں ۲۲شماروں میں مسلسل اسلام کا قانون جنگ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس کی پہلی قسط ۲۸ رجب ھ بمطابق۲ فروری ۲۷ ۱۹ ء میں شائع ہوئی۔ علامہ سید سلیمان ندوی کو یہ تمام مضامین بہت پسند آئے تو انھوں نے ان مضامین کو ۱۹۳۰ء میں کتاب کی صورت میں’ الجہاد فی الاسلام ‘کے عنوان کے تحت شائع کیا ۔ اورمعارف جنوری ۱۹۳۰ء کے شمارے میں کتاب کا مختصر تعارف ان الفاظ میں کرایا کہ: ’’اس کتاب میں اسلامی جہاد کے اصول و آداب، معترضین کے جوابات، مخالفین کے شکوک و شبہات کی تردید، یہودیوں ،عیسائیوں، ہندؤوں اور بود ھوں کے اصولو ں سے ان کا تقابل اور یورپ کے موجودہ قوانین جنگ پر تبصرہ نیز جہاد کے اسلامی قوانین سے ان کا موازنہ کیا گیا ہے۔ عربی اور انگریزی کی بہترین و مستنند کتابوں کے حوالے سے یہ بات لکھی گئی ہے۔ خیال رہے کہ اس ضروری مسئلے پراس سے زیادہ مسلسل اور مبسوط کتاب اب تک نہیں لکھی گئی۔ اور اسی طرح علامہ اقبال نے اس کتاب کے بارے میں فرمایا تھا: ”اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے۔ اللہ تعالیٰ مولانا مودودی  کے درجات بلند فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • 4 #4465

    مصنف : امیر حمزہ

    مشاہدات : 2236

    بوسنیا کے عرب شہداء

    (بدھ 11 مئی 2016ء) ناشر : دار الاندلس،لاہور

    جہاد فی سبیل اللہ ، اللہ کو محبوب ترین اعمال میں سے ایک ہے اور اللہ تعالی نے  بیش بہا انعامات جہاد فی سبیل میں شریک ایمان والوں کے لئے رکھے ہیں۔ اور تو اور مومن مجاہدین کا اللہ کی راہ میں نکلنے کا عمل اللہ کو اتنا پسندیدہ ہے کہ اس کے مقابلے میں نیک سے نیک، صالح سے صالح مومن جو گھر بیٹھا ہے ، کسی صورت بھی اس مجاہد کے برابر نہیں ہو سکتا ، جو کہ اپنے جان و مال سمیت اللہ کے دین کی سربلدی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو گرانے کے لئے ، کسی شہہ کی پرواہ کئے بغیر نکل کھڑا ہوا ہوتا ہے۔ذیل میں ہم جہاد فی سبیل بارے کچھ اسلامی تعلیمات اور اس راہ میں اپنی جانیں لٹانے والوں کے فضائل پیش کریں گے۔ جہاد كا لغوى معنی طاقت اور وسعت كے مطابق قول و فعل كو صرف اور خرچ كرنا،اور شرعى معنى اللہ تعالى كا كلمہ اور دين بلند كرنے كے ليے مسلمانوں كا كفار كے خلاف قتال اور لڑائى كے ليے جدوجہد كرناہے۔ زیر تبصرہ کتاب" بوسنیا کے عرب شہداء " جماعۃ الدعوہ پاکستان  کے مرکزی رہنما محترم مولانا امیر حمزہ صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نےبوسنیا میں عرب شہداء کی ایمان افروز داستانیں بیان کی ہیں۔یہ کتاب اپنے اس موضوع پر ایک شاندار اور مفید کتاب ہے ،جس کا ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 5 #6008

    مصنف : چراغ علی

    مشاہدات : 1141

    تحقیق الجہاد مع ضمیمہ جات

    (منگل 22 اگست 2017ء) ناشر : مکتبہ اخوت لاہور

    اللہ عزوجل نے اپنے بندوں پر ایمان وعقیدہ کے بعد جو عبادتیں فرض فرمائی ہیں ان میں سے کچھ کا تعلق جسم اور مال دونوں سے ہے ‘ کچھ کا صرف جسم سے ہے او رکچھ کا صرف مال سے ۔ جہاد وہ عبادت ہے جس کا تعلق صرف جسم ومال دونوں  سے ہے اور مال وجان  انسانوں کی وہ محبوب چیز ہے جس کی تحصیل کے سلسلے میں عام طور سے انسان کسی حد پر پہنچ کر قناعت نہیں کرتا بلکہ مزید سے مزید حاصل کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بہت سے خدا نا ترس لوگ مال کی خاطر جائز وناجائز کی بھی پروا نہیں کرتے اور اپنی جان کی حفاظت میں ہمہ وقت فکر مند رہتا ہے لیکن یہی جان اللہ کی راہ میں پیش کرنا جہاد کہلاتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں  جہاد ہی سے متعلق تفصیلات ذکر کی گئی ہیں۔ اس می مصنف نے  ان تمام اعتراضات اور اتہامات کا ذکر کیا ہے جو مخالفین کی طرف سے جہاد اسلامی اور رسالت مآبﷺ کی سیرت طیبہ پر لگائے جاتے ہیں اور ان کے مدلل اور مسکت جوابات بھی نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ دے دیئے گئے ہیں جن کی تفصیل کتاب اور ضمیمہ جات میں درج کی گئی ہے۔ اس کتاب میں بارہ باب  بھی قائم کیے گئے ۔  اس کتاب کے مطالعے سے عوام کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ کتاب’’ تحقیق الجہاد مع ضمیمہ جات ‘‘ مولوی چراغ علی   کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 6 #2786

    مصنف : خلیل احمد حامدی

    مشاہدات : 2373

    جہاد اسلامی

    (منگل 30 دسمبر 2014ء) ناشر : اسلامک پبلیکیشنز، لاہور

    جہاد فی سبیل اللہ ، اللہ کو محبوب ترین اعمال میں سے ایک ہے اور اللہ تعالی نے  بیش بہا انعامات جہاد فی سبیل میں شریک ایمان والوں کے لئے رکھے ہیں۔ اور تو اور مومن مجاہدین کا اللہ کی راہ میں نکلنے کا عمل اللہ کو اتنا پسندیدہ ہے کہ اس کے مقابلے میں نیک سے نیک، صالح سے صالح مومن جو گھر بیٹھا ہے ، کسی صورت بھی اس مجاہد کے برابر نہیں ہو سکتا ، جو کہ اپنے جان و مال سمیت اللہ کے دین کی سربلدی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو گرانے کے لئے ، کسی شہہ کی پرواہ کئے بغیر نکل کھڑا ہوا ہوتا ہے۔ذیل میں ہم جہاد فی سبیل بارے کچھ اسلامی تعلیمات اور اس راہ میں اپنی جانیں لٹانے والوں کے فضائل پیش کریں گے۔ جہاد كا لغوى معنی طاقت اور وسعت كے مطابق قول و فعل كو صرف اور خرچ كرنا،اور شرعى معنى اللہ تعالى كا كلمہ اور دين بلند كرنے كے ليے مسلمانوں كا كفار كے خلاف قتال اور لڑائى كے ليے جدوجہد كرناہے۔ زیر تبصرہ کتاب " جہاد اسلامی،قرآن وحدیث کی روشنی میں " محترم خلیل احمد حامدی کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے جہاد کی لغوی واصطلاحی تعریف،جہاد کے مقاصد،جہاد کے فضائل ومسائل،اور جہاد کی اقسام وغیرہ پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔یہ کتاب اپنے اس موضوع پر ایک شاندار اور مفید کتاب ہے ،جس کا ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 7 #278

    مصنف : حافظ مبشر حسین لاہوری

    مشاہدات : 17515

    جہاد اور دہشت گردی

    (بدھ 10 مارچ 2010ء) ناشر : مبشر اکیڈمی،لاہور

    اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اس حد تک سلامتی کا داعی ہے کہ اپنے ماننے والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے حق حقوق رکھے ہیں کہ جن کے ساتھ اس کی جان ،مال اور عزت محفوظ رہتی ہے۔جبکہ غیروں نے اسلام کو ایک وحشت اور بربریت کی شکل دینے کی کوششیں جاری وساری رکھی ہیں۔اسلام کے ماننے والوں کو بنیاد پرست اور پھر اس سے بڑھ کر دہشت گرد ثابت کر کے اسلام کے معنی سلامتی اور امن کو بدل کر دہشت اور بربریت سے تعبیر کرنا شروع کر دیا ہے۔مصنف نے اپنی کتاب میں دہشت گردی کے حوالے سے پائے جانے والے اشکال اور شبہات کو قرآن وسنت کی تعلیمات سے واضح کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ دہشت گردی کا اسلام کا کوئی تعلق نہیں اور اصل دہشت گرد کو دلائل سے بے نقاب کیا ہے۔دین اسلام میں تو صرف سلامتی ہی سلامتی ہے جبکہ دیگر ادیان  میں پائی جانے والی عصبیت  کس طریقے سے ان کو دہشت گردی پر اکساتی ہے اور اس کے بعد انسانی حقوق کے کوئی اصول وضوابط کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

  • 8 #2453

    مصنف : ڈاکٹر محمد امین

    مشاہدات : 2872

    جہاد اور دہشت گردی چند عصری تطبیقات

    (بدھ 24 ستمبر 2014ء) ناشر : انٹر نیشنل اسلامک ریسرچ کونسل لاہور

    اسلام امن وسلامتی کا دین ہے ۔اسلام کے معنی  اطاعت اور امن وسلامتی کے  ہیں ۔یعنی  مسلمان جہاں اطاعت الٰہی کا نمونہ ہے  وہاں امن وسلامتی کا پیکر بھی  ہے ۔  اسلام فساد اور دہشت گردی کو مٹانے آیا ہے  ۔دنیا میں  اس وقت جو  فساد بپا ہے  اس کا علاج اسلام کے سوا کسی اور  نظریہ میں نہیں ۔ بد قسمتی سے اسلام دشمن قوتیں    جہاد کو دہشت گردی کا  نام دے کر   اسلام کو بدنام کرنے کی  کوششوں  میں مصروف ہیں ۔اسلامی تعلیمات کی رو سے  جہاد کا مقصد  خوف وہراس پھیلانا نہیں بلکہ  ہر وہ کوشش جودین اسلام کی سربلندی  کے لیے   کی جائے وہ جہاد ہے ۔خواہ وہ  کوشش  انفرادی  ہو یا اجتماعی، زبانی  ہو یا قلمی  ہو یا جانی  بشرطیکہ اس کوشش میں نصب العین غلبہ دین  ہو ۔زیر نظر کتاب ’’ جہاد اوردہشت گردی ‘‘مجلس فکر ونظر  ، لاہور  کے زیر اہتمام  22مارچ 2005ء  جہاد اور دہشت گردی کے  سلسلے میں منعقدہ  سیمینار میں  ملک بھر  کے  جید  علماء اور سکالرز کی طرف سے  پیش گئے  مقالات کا  مجموعہ  ہے ۔جسے محترم ڈاکٹر محمدامین صاحب نے  مرتب کر کے  افاد ۂ عام کے لیے شائع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان اس کاوش کو قبول فرمائے(آمین ) (م۔ا)

     

  • 9 #4340

    مصنف : ڈاکٹر اسرار احمد

    مشاہدات : 2267

    جہاد بالقرآن اور اس کے پانچ محاذ

    (منگل 15 مارچ 2016ء) ناشر : مکتبہ مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور

    دین اسلام ایک سراپا رحمت، عفو درگزری، تحمل اور بردباری کا مذہب ہے۔ جہاں دین اسلام نے ملکی سرحدوں کے دفاع کے احکام و مسائل سے آگاہ کیا ہے وہاں اسلام کی نظریاتی حدود کی حفاظت لازم قرار دی ہے۔ اسلامی نظریاتی حدود سے مراد اصلاح انسانیت ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک مغالطہ ذہنوں میں بٹھا دیا گیا ہے جو کہ جہاد اور قتال کو مترداف معنی مراد لیا جا رہا ہے ارشاد ربانی ہے"وجاھد ھم بہ جھاداً کبیرا"(الفرقان:52)۔ اس آیت مبارکہ میں فعل امر کے ساتھ آپﷺ کو یہ تاکید کی جا رہی ہے اس کتاب(قرآن مجید) کے ساتھ آپ جہاد کیجیے جبکہ قتال نام ہے دین اسلام کے دشمنوں سے محاذ آرائی کرنا، میدان مقتل میں فاتح و مغلوب ہونا۔ آپ ﷺ نےاپنے دور مکی میں تزکیہ نفس کیا اور لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کرتے رہے اسی کتاب اللہ کے ساتھ مشرکین مکہ سے جہاد کرتے رہے۔ زیر نظر کتاب"جہاد با لقراٰن اور اس کے پانچ محاذ" مولانا ڈاکٹر اسرار احمد کے فکر انگیز درس کو شیخ جمیل الرحمٰن نے نہایت محنت کے ساتھ احاطہ تحریر میں لاتے ہوئے کتابی شکل میں ڈھالا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ڈاکٹر صاحبؒ اپنے درس"جہاد بالقراٰن" کے موضوع کے تحت بے پناہ علمی نکات سے عوام الناس اور علماء کو آشنا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحبؒ کو غریق رحمت فرمائے اور شیخ جمیل الرحمٰن کو بھی اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 10 #7082

    مصنف : پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری

    مشاہدات : 567

    جہاد فرض عین ہے یا کفایہ ؟

    (جمعرات 10 اکتوبر 2019ء) ناشر : اہلحدیث یوتھ فورس راولپنڈی

    پروفیسر حافظ  عبداللہ بہاولپوری﷫ کا شمار مسلک اہل حدیث کے نامور خطبا اور واعظین میں ہوتا ہے۔ موصوف   ایک قناعت پسند  ،حق گو، سادگی پسند  ، ایک صاحب ورع و تقوی شخصیت اور درد دل رکھنے والے انسان تھے ۔آپ نے اپنی زندگی کو سلف صالحین کے ساتھ تمسک اور اس کے پرچار کے لیے وقف کر دیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے خلوص کی وجہ سے ان کی کلام میں ایک بندہءمومن جیسی تاثیررکھی ہوئی تھی ۔ان کی کلام انتہائی سادہ اورسچائی پرمبنی ہوتی تھی۔اسی وجہ سے ان کی تقریروتحریر اپنےاندر ایک خاص قسم کا اثررکھتی ہوتی تھی ۔ان کے خطبات کے اند ر توحید کا اثبات اور موجودہ رسومات کی پرزورتردیدملتی ہے۔ان کی ہرممکن کوشش ہواکرتی تھی کہ اپنامدعا ومقصداپنے سامعین کو منتقل کردوں۔اور اس کے لیے وہ الفاظ کے پیچ وخم میں مبتلا نہیں ہوتے تھے ۔بلکہ مشکل اور پیچیدہ الفاظ سے حتی ٰالوسع گریز ہی کیا کرتےتھےمسلک اہل حدیث کی حقانیت ثابت کرنے کے حوالے سے ان کی بے شمار خدمات ہیں۔  مولانا نے اپنی زندگی میں مختلف رسائل و مضامین لکھے۔ انہی رسائل کو افادہ عام کے لیے یکجا کتابی شکل میں ’’ رسائل بہاولپوری ‘‘ کےنام سے شائع ش کیا گیا ہے۔ جس میں رفع الیدین، قربانی، روزہ اور تراویح کے مسائل کے علاوہ تقلید کے نتائج کے حوالے سے خصوصی مضامین شامل ہیں اس کے علاوہ  انہوں نے جمہوریت کے حوالے سے اپنی نگارشات پیش کرتے ہوئے اہل حدیث حضرات کے نام بھی بہت سارے رسائل لکھ کر ان کو دعوت فکر و عمل دی ہے۔حافظ  صاحب مرحوم چونکہ ایک   مؤثر  واعظ و خطیب اور درد دل رکھنے والے مصلح تھے۔ مکتبہ اسلامیہ، فیصل آباد   نے ان کے  مواعظ  ،خطبات و دروس  اور محاضرات کو  ’’خطبات بہاولپوری‘‘ کےنام  سے پانچ جلدوں میں  کتابی شکل میں شائع کیا  ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’جہاد فرض عین  ہے یا کفایہ؟ ‘‘   بھی  پروفیسر حافظ محمد عبد اللہ  بہاولپوری ﷫ کے  سرزمین  افغانسان  صوبہ کنٹر  مرکز الدعوۃ والارشاد کے معسکر طیبہ میں علماء  کی ایک جماعت  سے خطاب اور سوال وجواب  کی کتابی صورت ہے ۔اس میں حافظ صاحب  مرحوم نے  جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کے متعلق اپنے دو ٹوک موقف کو پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم  کی  دعوتی، تدریسی،تحریری خدمات  جلیلہ کو قبول فرمائے اور انہیں اپنی جوارِ رحمت  جگہ دے ۔ (آمین)

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1523
  • اس ہفتے کے قارئین 5387
  • اس ماہ کے قارئین 43781
  • کل قارئین49305050

موضوعاتی فہرست