مبشر اکیڈمی،لاہور

مبشر اکیڈمی،لاہور
  • 1 انسان اور فرشتے (جمعہ 30 اکتوبر 2009ء)

    مشاہدات:11835

    عقائد کے باب میں جس طرح ایمان باللہ اور ایمان بالرسل کو اہم حیثیت حاصل ہے اسی طرح ایمان بالملائکہ کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا- لیکن ہمارے ہاں اس موضوع پر  بہت کم لٹریچر  ایسا موجود ہے جو فرشتوں سے متعلق صحیح رخ کی نشاندہی کرتا ہویہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان لوگوں کی گمراہ  کن فکر پروان چڑھ رہی ہے جو فرشتوں کے وجود کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں- زیر مطالعہ کتاب میں مبشر حسین لاہوری نے اپنے مخصوص انداز میں فرشتوں  کی دنیا سے متعلق تمام حقائق سپرد قلم کر دئیے ہیں- فاضل مؤلف نے کتاب کے نو ابواب میں فرشتوں کا تعارف، فرشتوں کو عطاء کردہ قدرت، ان کی صفات واخلاق، اور مشہور فرشتوں کی ذمہ داریوں سے آگأہ کرتے ہوئے  اہل ایمان کے ساتھ فرشتوں کے تعلق کی نوعیت واضح کی ہے- اس کے علاوہ کتاب وسنت کے صریح دلائل کی روشنی میں منکرین ملائکہ کے شبہات واعتراضات کا بھی کافی و شافی جواب دیا گیا ہے-

  • 2 اللہ اور انسان (اتوار 01 نومبر 2009ء)

    مشاہدات:13674

    مصنف نے اس کتاب میں معاشرتی برائیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ہر کی قباحت اور شرعی حکم کو بیا ن کیا ہے- ان معاشرتی بداخلاقیوں اور کبیرہ گناہوں کو مختلف ابواب کے تحت بیا ن کیا ہے-مصنف نے کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے سات مختلف ابواب میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ہر باب کو مختلف فصول میں تقسیم کیا ہے-مصنف نے اپنی کتاب میں جن موضوعات کا احاطہ کیا ہے وہ اجمالا درج ذیل ہیں:حیا کی فضیلت و اہمیت،شرک و تکبیر سے اجتناب،زبان کی حفاظت،جھوٹ وغیبت سے اجتناب اور نقصانات،گالی گلوچ سے اجتناب،پردے کا احکام،حرام مال سے اجتناب،حرام مال کے مختلف ذرائع،مدارس کے مال اور مختلف خیراتی اداروں کے مال کو خرچ کرنے میں احتیاط کو مدنظر رکھنا،دنیا کی محبت ،مال کی محبت اور بخل سے اپنے آپ کو بچانے کی ضرورت واہمیت،سخاوت اور مہمان نوازی کی اہمیت وفضیلت،بغض وعداوت سے بچتے ہوئے تزکیہ نفس کی ضرورت واہمیت کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس چیز پر زور دیا گیا ہے کہ انسان کو ہروقت اپنی موت کو یاد رکھنا چاہیے-اس کے علاوہ بے شمار شاندار موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے-
     

  • 3 انسان اور شیطان (بدھ 18 نومبر 2009ء)

    مشاہدات:13917

    شيطان کے بارے میں مختلف ادیان ومذاہب میں مختلف تصورات پائے جاتے ہیں- کہیں اسے دیوتا کا مقام حاصل ہے تو کہیں نفس امارہ اور خواہش شر کی حیثیت سے دیکھا جاتاہے خود مسلمانوں میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس کے وجود کے انکاری ہیں- شیطان کیا ہے؟ اسے کیوں پیدا کیا گیا؟ اس کا انسان کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟کیا شیطان ہر انسان کےساتھ ہوتا ہے؟شیطان انسان کو کیسے گمراہ کرتا ہے؟ اوراس سے بچاؤ کی کیا احتیاطی تدابیر ہوسکتی ہیں؟  کتاب ہذا میں ان تمام سوالوں کے جواب قرآن وسنت کی روشنی میں انتہائی سادہ انداز میں دئیے گئے ہیں- علاوہ ازیں فلسفہ خیر وشر، دنیا میں ہونے والی برائیوں میں شیطان کا کردار، اور خود انسان کے ارادہ و اختیار کی نوعیت وغیرہ پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے اس سلسلہ میں بہت سے گمراہانہ عقائد کا رد بھی کتاب ہذا کی زینت ہے-

  • 4 جہاد اور دہشت گردی (بدھ 01 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:16069

    اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اس حد تک سلامتی کا داعی ہے کہ اپنے ماننے والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے حق حقوق رکھے ہیں کہ جن کے ساتھ اس کی جان ،مال اور عزت محفوظ رہتی ہے۔جبکہ غیروں نے اسلام کو ایک وحشت اور بربریت کی شکل دینے کی کوششیں جاری وساری رکھی ہیں۔اسلام کے ماننے والوں کو بنیاد پرست اور پھر اس سے بڑھ کر دہشت گرد ثابت کر کے اسلام کے معنی سلامتی اور امن کو بدل کر دہشت اور بربریت سے تعبیر کرنا شروع کر دیا ہے۔مصنف نے اپنی کتاب میں دہشت گردی کے حوالے سے پائے جانے والے اشکال اور شبہات کو قرآن وسنت کی تعلیمات سے واضح کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ دہشت گردی کا اسلام کا کوئی تعلق نہیں اور اصل دہشت گرد کو دلائل سے بے نقاب کیا ہے۔دین اسلام میں تو صرف سلامتی ہی سلامتی ہے جبکہ دیگر ادیان  میں پائی جانے والی عصبیت  کس طریقے سے ان کو دہشت گردی پر اکساتی ہے اور اس کے بعد انسانی حقوق کے کوئی اصول وضوابط کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

  • 5 شیخ عبد القادر جیلانی اور موجودہ مسلمان (ہفتہ 12 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:76193

    شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ الل علیہ کے نام سے کون واقف نہیں۔ علمی مرتبہ، تقویٰ و للّٰہیت اور تزکیہ نفس کے حوالے سے شیخ کی بے مثال خدمات چہار دانگ عالم میں عقیدت و احترام کے ساتھ تسلیم کی جاتی ہیں۔ مگر شیخ کے بعض عقیدت مندوں نے فرطِ عقیدت میں شیخ کی خدمات و تعلیمات کو پس پشت ڈال کر ایک ایسا متوازی دین وضع کر رکھا ہے جو نہ صرف قرآن و سنت کے صریح منافی ہے بلکہ خود شیخ کی مبنی بر حق تعلیمات کے بھی منافی ہے۔ زیر نظر کتاب میں اسی موضوع کو بالتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ مبشر حسین لاہوری ایک علمی ذوق رکھنے والے شخص ہیں موصوف کی متعدد کتب زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ اس کتاب کو حافظ صاحب نے تین ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا باب شیخ جیلانی کے مستند سوانح حیات پر مشتمل ہے۔ دوسرے باب میں شیخ کے عقائد و نظریات اور دینی تعلیمات کے بارے میں بحث کی گئی ہے جبکہ تیسرے باب میں ان غلط عقائد کی بھرپور نشاندہی کی گئی ہے جنھیں شیخ کے بعض عقیدت مندوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر عوام میں پھیلا رکھا ہے۔(ع۔م)
     

  • 6 ہدیۃ الوالدین (ہفتہ 15 فروری 2014ء)

    مشاہدات:16994

    اولاد کے لیے والدین خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بیش بہا تحفہ ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں دسیوں مقامات پر ان کی فرمانبرداری اور ان کی اہمیت و فضیلت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ لیکن فی زمانہ ہم اس مقدس اور خوبصورت رشتے میں ایک گونہ بے ربط اور بد اعتمادی کی فضا دیکھتے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں حافظ مبشر حسین لاہوری نے خصوصی طور پر والدین کے رشتہ پر دینی تعلیمات کو مرتب انداز میں پیش کیا ہے۔ جس میں انھوں نے والدین کے حقوق و فرائض کے علاوہ ان مسائل پر بھی خصوصی گفتگو کی ہے جن سے والدین اور اولاد کے مابین تکرار کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ والدین اور اولاد کے متنازعہ مسائل کی تفصیلات میں جھگڑوں کی وجوہات اور ان کے تدارک کے ذرائع پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے مصنف نے مختلف مسائل کی اہمیت کو اجاگرکرنے کے لیے اپنے مشاہدات و تجربات پر مبنی سچے واقعات بھی قلمبند کیے ہیں۔ بعض ابواب کے آخر میں متعلقہ موضوع پر دیگر اہل علم کےخیالات، آراء اور فتاوٰی بھی درج کیے گئے ہیں۔  (ع۔م)
     

  • 7 نماز نبوی با تصویر (اتوار 15 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:5051

    انسان ہی نہیں، جنات کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت وپرستش کےلیے پیدا فرمایا ہے۔ اور عبادات میں سے  سب سے افضل  ترین عبادت نماز ہے۔ نماز ہی کافر ومسلم اور مومن ومشرک کے درمیان حد فاصل ہے۔ روز محشر سب  سے پہلا سوال نماز ہی کے بارے میں کیا جائے گا۔ نماز ہی وہ فریضہ ہے جس کی ادائیگی  ہر حال میں ضروری ہے۔ خواہ حالت امن ہو ،یا حالت جنگ، حالت صحت ہو، یاحالت مرض، حالت اقامت ہو، یا حالت سفر۔نماز میں تخفیف کی سہولت تو موجود ہے،لیکن اس میں مکمل معافی کی گنجائش نہیں ہے۔نماز کو پابندی وقت کے ساتھ مسجد میں باجماعت ادا کرلینا ہی کافی نہیں،اور نہ ہی خشوع وخضوع ، عاجزی وانکساری اور پورے  اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوجانا نماز کی قبولیت کی علامت ہے، بلکہ اس فریضہ سے عہدہ برآ ہونے اور نماز کو قبولیت کے درجہ تک پہنچانے کےلیے یہ بھی ضروری،  بلکہ انتہائی ضروری ہے کہ نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور سنت کے مطابق اداء کی جائے۔تکبیر تحریمہ سے لیکر سلام تک،قیام وقعود ہو یا رکوع وسجود، اذکار وتسبیحات ہوں یا قراءت قرآن۔ ہر چیز سنت کی روشنی میں اداء کی جائے۔ مگر ایسا  کس طرح ممکن ہے؟ اس کا حل آپ کو اس کتاب میں ملے گا۔ نہ صرف قولی طور پر بلکہ تصاویر کے ساتھ عملی طور پر بھی۔ اور نہ صرف یہ کہ ہر بات مستند حوالہ جات سے مزین ہے بلکہ وضوء، تیمم او رنماز کی عام غلطیاں بھی نشان زدہ کردی گئی ہیں۔(ک۔ح)
     

  • 8 ھدیۃ النساء (جمعرات 12 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:2074

    یہ بات  روزِ روشن کی طرح عیاں  ہے  کہ عورت کی تخلیق مرد کے سکون واطمینان کا باعث ہے ۔ اور انسانی معاشرہ میں  جتنی اہمیت ایک مرد کو  حاصل ہے  اتنی ہی ایک عورت  کوبھی حاصل ہے اس لیے کہ وہ  خاندان کی مرکزی اکائی ہے ۔ ، اگر یہ اسلامی پلیٹ فارم پر سیدھی  چلتی رہی تو اس مادی دنیا کا اصل زیور  وحسن ہے اورمرد کی زندگی میں نکھار اور سوز وگداز پیداکرنے والی یہی عورت ہے ۔ اس کی بدولت مرد جُہدِ مسلسل اور محنت کی  دلدوز چکیوں میں پستا رہتاہے ۔ اور اس کی وجہ سے مرددنیا کے ریگزاروں کو گلزاروں او رسنگستانوں کو گلستانوں میں  تبدیل کرنے کی ہر آن کوشش وکاوش کرتا  رہتا ہے ۔اگر عورت بگڑ جائے اور اس کی زندگی میں فساد وخرابی پیدا ہوجائے  تویہ سارے گلستانوں کو خارستانوں میں تبدیل کردیتی ہے  اور مرد کوہر آن ولحظہ برائی  کے عمیق گڑھوں میں دھکیلتی دیتی ہے ۔اسلام نے  عورت کوہر طرح کے ظلم وستم ، وحشت وبربریت، ناانصافی ، بے حیائی وآوارگی اور فحاشی وعریانی سے نکال کر پاکیزہ ماحول وزندگی عطا کی ہے ۔ او ر جتنے حقوق ومراتب اسلام نے  اسے دیے  ہیں دنیا کے کسی بھی معاشرے  اور تہذیب  وتمدن میں  وہ حقوق عورت کوعطا نہیں کیے گئے ۔اس لیے  عورت  کا اصل مرکز ومحور اس کے گھر کی چاردیواری ہے ۔جس کے اندر رہ کر گھر کے ایک چھوٹے سے یونٹ کی آبیاری کرنا اس کا فریضہ ہے ۔اسلام عورت کی تربیت پر خصوصی توجہ  دیتا ہے  کسی گھر کی عورت اگر نیک  اور پرہیز گار ہے تو وہ امن وآ...

  • 9 جہیز کی تباہ کاریاں (پیر 14 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2904

    جہیز بنیادی طور پر ایک معاشرتی رسم ہے جو ہندوؤں کے ہاں پیدا ہوئی اور ان سے مسلمانوں میں آئی۔ خود ان کے ہاں اس کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔اسلام نے نہ تو جہیز کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا کیونکہ عرب میں اس کا رواج نہ تھا۔ جب ہندوستان میں مسلمانوں کا سابقہ اس رسم سے پڑا تو اس کے معاشرتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے علماء نے اس کے جواز یا عدم جواز کی بات کی۔ہمارے ہاں جہیز کا جو تصور موجود ہے، وہ واقعتاً ایک معاشرتی لعنت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ پر ظلم ہوتا ہے۔اگر کوئی باپ، شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو کچھ دینا چاہے، تو یہ اس کی مرضی ہے اور یہ امر جائز ہے۔ تاہم لڑکے والوں کو مطالبے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو جہیز دیا گیا، وہ اس وجہ سے تھا کہ سیدنا علی ﷜ نبی کریم ﷺ کے زیر پرورش تھے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ آپ نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو کچھ سامان دیا تھا کیونکہ یہ دونوں ہی آپ کے زیر کفالت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے دیگر دامادوں سیدنا ابو العاص اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادیاں کرتے وقت اپنی بیٹیوں کو جہیز نہیں دیا تھا۔جہیز سے ہرگز وراثت کا حق ختم نہیں ہوتا ہے۔ وراثت کا قانون اللہ تعالی نے دیا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر شدید وعید سنائی ہے۔ جہیز اگر لڑکی کا والد اپنی مرضی سے دے تو اس کی حیثیت اس تحفے کی سی ہے جو باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔لیکن اس میں اسراف وتبذیر سےگریز کرنا چاہیے۔ زیرنظر کتاب ’’جہیز کی تباہ کاریاں‘‘ فاضل نوجوان مصنف کتب کثیرہ ڈاکٹر حافظ مبشرحسین لاہوری...

  • 10 جادو جنات اور نظر بد کا توڑ (اتوار 22 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:3842

    جادو کرنا او رکالے علم کےذریعے جنات کاتعاون حاصل کر کے لوگوں کو تکالیف پہنچانا شریعتِ اسلامیہ کی رو سےمحض کبیرہ گناہ ہی نہیں بلکہ ایسا مذموم فعل ہےجو انسان کو دائرۂ اسلام سے ہی خارح کردیتا ہے اور اسے واجب القتل بنادیتا ہے ۔جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جادو جنات اور نظر بد کا توڑ‘‘محترم جناب محمد جمیل اختر لاہوری صاحب کی کاوش ہےجسے انہوں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور ان کے مایہ ناز دو شاگرد امام ابن قیم ، امام ابن کثیر کی کتب سے اخذ واستفادہ کر کے مرتب کیا اور ان کاسلیس ترجمہ کرکے اردو دان...

  • 11 جنات کا پوسٹ مارٹم قرآن و سنت کی روشنی میں (بدھ 06 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:2265

    اس بات میں کسی مسلمان کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ"غیب" کا علم صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے۔ یہ حقیقت قرآن مجید میں کئی ایک مقامات پر دو ٹوک بیان کر دی گئی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:"قل لا یعلم من فی السمٰوات والارض الغیب الاّ اللہ"(النمل) ترجمہ۔"اے نبیؐ کہہ دیجیے!کہ جو مخلوق آسمانوں اور زمین میں ہے، ان میں سے کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا، سوائے اللہ تعالیٰ کے"۔ مگر اس کے باوجود بھی انسان کو یہ تجسس ضرور رہتا ہے کہ وہ ان غیبی امور کے بارے میں کسی نہ کسی طرح رسائی حاصل کر لے۔ اور آج بھی بے شمار لوگوں میں غیب دانی اور مستقبل بینی کے حوالے سےمختلف رجحانات پائے جاتے ہیں۔ ہر اہم کام کا آغاز کرنے کے لیے مثلاً" پسند کی شادی، کاروبار کا افتتاح وغیرہ کرنے کے بارے میں یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ فائدہ ہو گا یا نقصان؟ اسی طرح قسمت شناسی کا تجسس بھی ہوتا ہے کہ قسمت اچھی ہو گی یا بری۔۔؟ مالدار بنوں گا یا نہیں ۔۔؟ میرے گھر بیٹا ہو گا یا بیٹی۔۔؟اور اسی طرح تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کاہن، نجومی، عامل، جادوگر اور دست شناس بھی ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ یہ عامل اپنے آپ کو"غیب دان " اور "دست شناس" ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہی۔ ان عاملوں بے باقاعدہ اپنا کاروبار بنا رکھا ہے اور جاہل عوام کو لوٹنے کے مختلف حربے بنا رکھے ہیں۔ زیر نظر کتاب"جنات کا پوسٹمارٹم قرآن وسنت کی روشنی میں" حافظ مبشر حسین حفظہ اللہ کی جنات کے متعلق ایک لا جواب تصنیف ہے۔ جس میں نام نہاد عاملوں، ک...

  • 12 انسان اور آخرت (بدھ 06 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1943

    اس بات سےآج تک کوئی انکار نہیں کرسکا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جسے زندگی ملی اسے موت بھی دوچار ہوناپڑا، جو آج زندہ ہےکل کو اسے مرنا ہے،موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔ہر فوت ہونے والے انسان خواہ وہ مومن ہے یا کافر کو موت کے بعد دنیا وی زندگی کی جزا وسزا کے مرحلے گزرنا پڑتا ہے۔یعنی ہر فوت ہونے والے کے اس کی زندگی میں اچھے یا برے اعمال کے مطابق کی اس کی جزا وسزا کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید   سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچ سکتے ہیں اور موت کےبعد پیش آنے والے مراحل میں کامیاب ہوسکتے ہیں جنہوں...

  • 13 انسان اور فرشتے ( جدید ایڈیشن ) (بدھ 21 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1395

    ایمانیات میں سے ایک اہم عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کےفرشتوں کو تسلیم کیا جائے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی ایک وہ لطیف اور نورانی مخلوق ہیں اور عام انسان انہیں نہیں دیکھ سکتے۔۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کا پیغام اس کے مقبول بندوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ بعض کم فہم لوگ فرشتوں کے خارجی وجود کا انکار کرتے ہیں اور ان قرآنی آیات کی تلاوت جن میں فرشتوں کا ذکر ہے مجرد قوتوں کے طور پر کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایسے تصورات گمراہی پر مبنی ہیں۔ ملائکہ احکامِ الٰہی کی تعمیل کرنے والی معزز مخلوق ہے۔ ان کے وجود اور ان سے متعلقہ تفصیلات کو ماننا ایمان بالملائکہ کہلاتا ہے۔ فرشتوں کی کوئی خاص صورت نہیں، صورت اور بدن ان کے حق میں ایسا ہے کہ جیسے انسانوں کیلئے ان کا لباس، اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں اختیار کر لیں۔ ہاں قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے بازو ہیں، اس پر ہمیں ایمان رکھنا چاہیےکیونکہ فرشتوں پر ایمان رکھنا ایمان کا حصہ ہے یعنی ارکان ایمان میں سے ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ انسان اور فرشتے‘‘ ڈاکٹر حافظ مبشرحسین ﷾ کی سلسلہ اصلاح عقائد میں سے چوتھی کتاب ہے ۔اس میں انہوں نے یہ بتایا ہےکہ انسانوں اور فرشتوں کےتعلق کی نوعیت کیا ہے ؟ فرشتوں پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے ؟ مشہور فرشتے کون سے ہیں ؟ فرشتوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ فرشتے انسانوں کےحق میں دعائیں کب کرتے ہیں ؟ کن بدبختوں پر فرشتے بددعائیں کرتے ہیں ؟فرشتےکن انسانوں کی مدد کے لیے اترتے ہیں ؟او ر وہ کب اور کیسے مدد کرتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ اس کے علاوہ اس...

  • 14 انسان اور شیطان ( جدید ایڈیشن ) (بدھ 21 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1370

    قرآن مجید جو انسان کے لیے ایک مکمل دستور حیات ہے ۔اس میں بار بار توجہ دلائی گئی ہے کہ شیطان مردود سےبچ کر رہنا ۔ یہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ارشاد باری تعالی ’’ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ‘‘( یقیناًشیطان تمہارا دشمن ہے تم اسے دشمن ہی سمجھو)لیکن شیطان انسان کو کہیں خواہشِ نفس کو ثواب کہہ کر ادھر لگا دیتا ہے ۔کبھی زیادہ اجر کالالچ دے کر او ر اللہ او راس کے رسول ﷺ کے احکامات کے منافی خود ساختہ نیکیوں میں لگا دیتاہے اور اکثر کو آخرت کی جوابدہی سے بے نیاز کر کے دنیا کی رونق میں مدہوش کردیتا ہے۔شیطان سے انسان کی دشمنی آدم کی تخلیق کےوقت سے چلی آرہی ہے اللہ کریم نے شیطان کوقیامت تک کے لیے زندگی دے کر انسانوں کے دل میں وسوسہ ڈالنے کی قوت دی ہے اس عطا شدہ قوت کے بل بوتے پر شیطان نے اللہ تعالی کوچیلنج کردیا کہ وہ آدم کے بیٹوں کو اللہ کا باغی ونافرمان بناکر جہنم کا ایدھن بنادے گا ۔لیکن اللہ کریم نے شیطان کو جواب دیا کہ تو لاکھ کوشش کر کے دیکھ لینا حو میرے مخلص بندے ہوں گے وہ تیری پیروی نہیں کریں گے او رتیرے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ابلیس کے وار سے محفوظ رہنے کےلیے علمائے اسلام اور صلحائے ملت نے کئی کتب تالیف کیں او ردعوت وتبلیغ او روعظ وارشاد کےذریعے بھی راہنمائی فرمائی۔جیسے مکاید الشیطان از امام ابن ابی الدنیا، تلبیس ابلیس از امام ابن جوزی،اغاثۃ اللہفان من مصاید الشیطان از امام ابن قیم الجوزیہ ﷭ اور اسی طرح اردو زبان میں مولانا مبشر حسین لاہوری اور حافظ عمران ایوب لاہوری کی کتب بھی قابل ذکر اور لائق مطالعہ ہیں۔...

  • 15 انسان اور کفر (ہفتہ 24 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:988

    کفر کے معنیٰ ہیں انکار کرنا۔ دین کی ضروری باتوں کا انکار کرنا یا ان ضروری باتوں میں سے کسی ایک یا چند باتوں کا انکار کرنا کفر کہلاتا ہے اور جو شخص کفر کا مرتکب ہوتا ہے اس کو شریعتِ اسلامی میں کافر کہتے ہیں۔کفر زیادہ تر شریعت حقہ سے انکار یا دین سے انکار کے لئے استعمال ہوتا ہے اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا اس کے فرستادہ انبیاء سے یا ان کی لائی ہوئی شریعت سے انکار ہے۔جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا اس سے انکار کرنا کفر ہے اور کفر ایمان کی ضد ہے۔ کسی شخص کے عقائد و نظریات کی بنیاد پر اس کو کافر قرار دینا اسلامی اصطلاح میں تکفیر کہلاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ انسان اورکفر ‘‘ڈاکٹر حافظ مبشرحسین ﷾ کے کتابی سلسلہ اصلاح عقائد کی دسویں اور آخری کتاب ہے ۔اس کتاب کو انہوں نے چارابواب میں تقسیم کیا ہے اور ان میں یہ بتایا ہے کہ وہ کون سی صورتیں ہیں جن سے ایک بندۂ مومن کا ایمان ضائع ہوجاتاہے نیز کسی پر کفر کا فتویٰ لگانے سےپہلے وہ کون سے آداب وضوابط ہیں جن کا لحاظ رکھانا از بس ضروری ہے ۔نیز کتاب کے آخر میں ضمیمہ کےطور پر عقیدہ کی معروف کتاب ’’ شرح العقیدہ الطحاویۃ‘‘ کے ان مباحث کا اردو ترجمہ بھی شامل کردیاگیا ہے جو اس موضوع سےبراہ راست تعلق رکھتے ہیں۔(م۔ا)

  • 16 انسان اور قسمت (جمعرات 22 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1478

    "تقدیر" کائنات میں ہونے والے تغیرات کے متعلق اللہ کی طرف سے لگائے گئے اندزاے کا نام ہے، یہ تغیرات پہلے سے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتے ہیں، اور حکمتِ الہی کے عین مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ تقدیر پر ایمان لانے کیلئے چار امور ہیں:اول: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کے بارے میں اجمالی اور تفصیلی ہر لحاظ سے ازل سے ابد تک علم رکھتا ہے، اور رکھے گا، چاہے اس علم کا تعلق اللہ تعالیٰ کے اپنے افعال کے ساتھ ہو یا اپنے بندوں کے اعمال کے ساتھ۔دوم: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالیٰ نے تقدیر کو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ سوم: اس بات پر ایمان ہو کہ ساری کائنات کے امور مشیئتِ الٰہی کے بغیر نہیں چل سکتے، چاہے یہ افعال اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات سے تعلق رکھتے ہوں یا مخلوقات سے، چہارم: اس بات پر ایمان لانا کہ تمام کائنات اپنی ذات، صفات، اور نقل وحرکت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ انسان اور قسمت ‘‘ڈاکٹر حافظ مبشرحسین ﷾ کی سلسلہ اصلاح عقائد میں سےنویں کتاب ہے۔مسئلہ تقدیر کیا ہے ؟ ہے تقدیر پر ایمان لانے کامطلب کیا ہے ؟ کیا انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے؟ کیاانسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے؟ کیاانسان اپنی تقدیر کے بارے پیشگی معلومات حاصل کرسکتا ہے؟ تقدیر پر ایمان کے بعدعملی جدوجہد کی ضروت کیوں باقی رہتی ہے ؟ اس کتاب میں ان تمام سوالات کا قرآن وسنت اور عقلی دلائل کی روشنی میں ایک عمدہ تجزیاتی مطالعہ پیش کیاگیا ہے اورایمان بالتقدیر کی ضرورت واہمیت پر صحیح اسلامی نقطۂ نظر واضح کیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف...

  • 17 انسان اور قرآن (جمعہ 23 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1540

    ایمان کے چھ بنیادی اجزاء میں ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ الہامی کتابوں پر ایمان لایا جائے کہ وہ سب منزل من اللہ سچی کتابیں تھیں اور قرآن مجید ان میں آخری الہامی کتاب ہے ۔آج آسمان دنیا کے نیچے اگر کسی کتاب کو کتاب ِالٰہی ہونے کا شرف حاصل ہے تووہ صرف قرآن مجید ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن سےپہلے بھی اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی کتابیں نازل فرمائیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کی سب انسانوں کی غفلت، گمراہی اور شرارت کاشکار ہوکر بہت جلد کلام ِالٰہی کے اعزاز سے محروم ہوگئیں۔ اب دنیا میں صرف قرآن ہی ایسی کتاب ہے جو اپنی اصلی حیثیت میں آج بھی محفوظ ہے ۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ قرآن اس دنیا میں سب سے بڑی انقلابی کتاب ہے اس کتاب نے ایک جہان بدل ڈالا۔ اس نےاپنے زمانے کی ایک انتہائی پسماندہ قوم کو وقت کی سب سے بڑی ترقی یافتہ اور مہذب ترین قوم میں تبدیل کردیا اور انسانی زندگی کےلیے ایک ایک گوشے میں نہایت گہرے اثرات مرتب کیے۔قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے ذریعہ ہدایت ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ انسان اور قرآن ‘‘ڈاکٹر حافظ مبشرحسین ﷾ کی سلسلہ اصلاح عقائد میں سےتیسری کتاب ہے۔اس کتاب میں انہوں نے یہ بتایا ہے کہ قرآن مجید کےساتھ ہمارا بنیادی طور پر تین طرح کا تعلق ہے ۔ ایک تویہ کہ ہم قرآن مجید پرصدق دل سے ایمان لائیں ۔ دوسرا یہ کہ ہم پورے آداب کےساتھ اس کی تلاوت کو روزانہ کامعمول بنائیں اور تیسرا یہ کہ ہم ممکنہ استطاعت کی حدتک اس کے احکام...

  • 18 انسان اور رہبر انسانیت (جمعہ 23 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1131

    نبی کریم ﷺ کےساتھ ہرایک مسلمان کا بنیادی طور پر تین طرح کا تعلق ہوناچاہیے ایک تویہ کہ اہم آپ ﷺ پر صدق دل سے ایمان لائیں، دوسرا یہ کہ اہم آپﷺ سے دنیا جہاں کی ہر چیز سے بڑھ کر محبت کریں اور تیسرا یہ کہ ہم ہر ممکنہ حدتک آپ کی اطاعت واتباع کریں کیونکہ دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اسی طرح فرض ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه (سورہ نساء:80) جس نے رسول اللہﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ اور سورۂ محمد میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ(سورہ محمد:33) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو (اور اطاعت سے انحراف کر کے ) اپنے اعمال ضائع نہ کرو۔اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت صرف آپﷺ کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے فرض قرار دی گئی ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث بڑی اہم ہے ۔ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’میر ی امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا انکار کس نے کیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا او رجس نے میر ی نافرمانی کی اس نے انکار کیا ۔(صحیح بخاری :7280) گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے اطاعت نہیں تو ایمان بھی...

  • 19 انسان اور جادو ، جنات (پیر 02 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:2219

    جادو، جنات کاموضوع سرزمین پاک وہند میں ہمیشہ سےعوام وخواص کی دلچسپی اور توجہ کاموضوع رہا ہے۔جادو کرنا او رکالے علم کےذریعے جنات کاتعاون حاصل کر کے لوگوں کو تکالیف پہنچانا شریعتِ اسلامیہ کی رو سےمحض کبیرہ گناہ ہی نہیں بلکہ ایسا مذموم فعل ہےجو انسان کو دائرۂ اسلام سے ہی خارح کردیتا ہے اور اسے واجب القتل بنادیتا ہے ۔جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔ زیر تبصرہ کتاب’’انسان اور جادو جنات‘‘ ڈاکٹر حافظ مبشرحسین﷾ کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے جادو ،جنات کے موضوع کا قرآن وسنت او رواقعاتی تجربات کی روشنی میں جائزہ لیتے ہوئے...

  • 20 ٹی وی معاشرے کا کینسر (بدھ 27 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:943

    دور ِ حاضر میں میڈیا کے جتنے ذرائع موجود ہیں ٹی وی ان سب سے زیادہ آسان ذریعہ ہے ۔ یہ صرف متعلقہ مواد ہی پیش نہیں کرتا بلکہ آواز کے ساتھ ساتھ تصویر دے کر چہرےکا لب ولہجہ اورمطلوبہ منظر کشی بھی بصارت کے ذریعے عوام کےذہنوں میں منتقل کرتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی قوتِ تاثیر دیگر تمام ذرائع سے کئی گنا زیادہ ہے اس میڈیا کے اتنا مؤثر ہونے کے باوجود دنیا بھر کے ممالک میں تفریح کے نام سے فکری وعملی تخریب پر ابھارنے والا مواد پیش کیا جارہا ہے ،سوائے چند ایک معلوماتی یاتعلیمی پروگرامز کے ۔ٹی وی میڈیا کےپھیلائے ہوئے دینی ،اخلاقی او رمعاشرتی نقصانات زبانِ زدِعام ہیں ،وہ چاہے مغرب کے دانش ورہوں یا مشرق کے علمائےاسلام،یورپی عوام ہوں یا ایشیائی باشندے۔ٹی وی بہت سے کبیرہ گناہوں کامجموعہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ ٹی وی معاشرے کا کینسر‘‘ ابوالحسن مبشر احمد ربانی صاحب کی تالیف ہے۔ جس میں میں ٹی وی کے نقصانات او راس کی وجہ سے انسان جن گاہوں کا شکار ہوتاجاتا ہے ان کومصنف نے بڑے احسن انداز میں قرآن واحادیث کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے۔آمین۔( رفیق الرحمن)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1264
  • اس ہفتے کے قارئین: 4788
  • اس ماہ کے قارئین: 29692
  • کل مشاہدات: 42892278

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں