اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #206

    مصنف : حافظ مبشر حسین لاہوری

    مشاہدات : 12889

    انسان اور فرشتے

    (جمعہ 30 اکتوبر 2009ء) ناشر : مبشر اکیڈمی،لاہور

    عقائد کے باب میں جس طرح ایمان باللہ اور ایمان بالرسل کو اہم حیثیت حاصل ہے اسی طرح ایمان بالملائکہ کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا- لیکن ہمارے ہاں اس موضوع پر  بہت کم لٹریچر  ایسا موجود ہے جو فرشتوں سے متعلق صحیح رخ کی نشاندہی کرتا ہویہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان لوگوں کی گمراہ  کن فکر پروان چڑھ رہی ہے جو فرشتوں کے وجود کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں- زیر مطالعہ کتاب میں مبشر حسین لاہوری نے اپنے مخصوص انداز میں فرشتوں  کی دنیا سے متعلق تمام حقائق سپرد قلم کر دئیے ہیں- فاضل مؤلف نے کتاب کے نو ابواب میں فرشتوں کا تعارف، فرشتوں کو عطاء کردہ قدرت، ان کی صفات واخلاق، اور مشہور فرشتوں کی ذمہ داریوں سے آگأہ کرتے ہوئے  اہل ایمان کے ساتھ فرشتوں کے تعلق کی نوعیت واضح کی ہے- اس کے علاوہ کتاب وسنت کے صریح دلائل کی روشنی میں منکرین ملائکہ کے شبہات واعتراضات کا بھی کافی و شافی جواب دیا گیا ہے-

  • 2 #213

    مصنف : حافظ مبشر حسین لاہوری

    مشاہدات : 14641

    اللہ اور انسان

    (اتوار 01 نومبر 2009ء) ناشر : مبشر اکیڈمی،لاہور

    مصنف نے اس کتاب میں معاشرتی برائیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ہر کی قباحت اور شرعی حکم کو بیا ن کیا ہے- ان معاشرتی بداخلاقیوں اور کبیرہ گناہوں کو مختلف ابواب کے تحت بیا ن کیا ہے-مصنف نے کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے سات مختلف ابواب میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ہر باب کو مختلف فصول میں تقسیم کیا ہے-مصنف نے اپنی کتاب میں جن موضوعات کا احاطہ کیا ہے وہ اجمالا درج ذیل ہیں:حیا کی فضیلت و اہمیت،شرک و تکبیر سے اجتناب،زبان کی حفاظت،جھوٹ وغیبت سے اجتناب اور نقصانات،گالی گلوچ سے اجتناب،پردے کا احکام،حرام مال سے اجتناب،حرام مال کے مختلف ذرائع،مدارس کے مال اور مختلف خیراتی اداروں کے مال کو خرچ کرنے میں احتیاط کو مدنظر رکھنا،دنیا کی محبت ،مال کی محبت اور بخل سے اپنے آپ کو بچانے کی ضرورت واہمیت،سخاوت اور مہمان نوازی کی اہمیت وفضیلت،بغض وعداوت سے بچتے ہوئے تزکیہ نفس کی ضرورت واہمیت کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس چیز پر زور دیا گیا ہے کہ انسان کو ہروقت اپنی موت کو یاد رکھنا چاہیے-اس کے علاوہ بے شمار شاندار موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے-
     

  • 3 #216

    مصنف : حافظ مبشر حسین لاہوری

    مشاہدات : 15071

    انسان اور شیطان

    (بدھ 11 نومبر 2009ء) ناشر : مبشر اکیڈمی،لاہور

    شيطان کے بارے میں مختلف ادیان ومذاہب میں مختلف تصورات پائے جاتے ہیں- کہیں اسے دیوتا کا مقام حاصل ہے تو کہیں نفس امارہ اور خواہش شر کی حیثیت سے دیکھا جاتاہے خود مسلمانوں میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس کے وجود کے انکاری ہیں- شیطان کیا ہے؟ اسے کیوں پیدا کیا گیا؟ اس کا انسان کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟کیا شیطان ہر انسان کےساتھ ہوتا ہے؟شیطان انسان کو کیسے گمراہ کرتا ہے؟ اوراس سے بچاؤ کی کیا احتیاطی تدابیر ہوسکتی ہیں؟  کتاب ہذا میں ان تمام سوالوں کے جواب قرآن وسنت کی روشنی میں انتہائی سادہ انداز میں دئیے گئے ہیں- علاوہ ازیں فلسفہ خیر وشر، دنیا میں ہونے والی برائیوں میں شیطان کا کردار، اور خود انسان کے ارادہ و اختیار کی نوعیت وغیرہ پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے اس سلسلہ میں بہت سے گمراہانہ عقائد کا رد بھی کتاب ہذا کی زینت ہے-

  • 4 #278

    مصنف : حافظ مبشر حسین لاہوری

    مشاہدات : 17537

    جہاد اور دہشت گردی

    (بدھ 10 مارچ 2010ء) ناشر : مبشر اکیڈمی،لاہور

    اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اس حد تک سلامتی کا داعی ہے کہ اپنے ماننے والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے حق حقوق رکھے ہیں کہ جن کے ساتھ اس کی جان ،مال اور عزت محفوظ رہتی ہے۔جبکہ غیروں نے اسلام کو ایک وحشت اور بربریت کی شکل دینے کی کوششیں جاری وساری رکھی ہیں۔اسلام کے ماننے والوں کو بنیاد پرست اور پھر اس سے بڑھ کر دہشت گرد ثابت کر کے اسلام کے معنی سلامتی اور امن کو بدل کر دہشت اور بربریت سے تعبیر کرنا شروع کر دیا ہے۔مصنف نے اپنی کتاب میں دہشت گردی کے حوالے سے پائے جانے والے اشکال اور شبہات کو قرآن وسنت کی تعلیمات سے واضح کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ دہشت گردی کا اسلام کا کوئی تعلق نہیں اور اصل دہشت گرد کو دلائل سے بے نقاب کیا ہے۔دین اسلام میں تو صرف سلامتی ہی سلامتی ہے جبکہ دیگر ادیان  میں پائی جانے والی عصبیت  کس طریقے سے ان کو دہشت گردی پر اکساتی ہے اور اس کے بعد انسانی حقوق کے کوئی اصول وضوابط کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

  • 5 #587

    مصنف : حافظ مبشر حسین لاہوری

    مشاہدات : 77087

    شیخ عبد القادر جیلانی اور موجودہ مسلمان

    (ہفتہ 12 جنوری 2013ء) ناشر : مبشر اکیڈمی،لاہور

    شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ الل علیہ کے نام سے کون واقف نہیں۔ علمی مرتبہ، تقویٰ و للّٰہیت اور تزکیہ نفس کے حوالے سے شیخ کی بے مثال خدمات چہار دانگ عالم میں عقیدت و احترام کے ساتھ تسلیم کی جاتی ہیں۔ مگر شیخ کے بعض عقیدت مندوں نے فرطِ عقیدت میں شیخ کی خدمات و تعلیمات کو پس پشت ڈال کر ایک ایسا متوازی دین وضع کر رکھا ہے جو نہ صرف قرآن و سنت کے صریح منافی ہے بلکہ خود شیخ کی مبنی بر حق تعلیمات کے بھی منافی ہے۔ زیر نظر کتاب میں اسی موضوع کو بالتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ مبشر حسین لاہوری ایک علمی ذوق رکھنے والے شخص ہیں موصوف کی متعدد کتب زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ اس کتاب کو حافظ صاحب نے تین ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا باب شیخ جیلانی کے مستند سوانح حیات پر مشتمل ہے۔ دوسرے باب میں شیخ کے عقائد و نظریات اور دینی تعلیمات کے بارے میں بحث کی گئی ہے جبکہ تیسرے باب میں ان غلط عقائد کی بھرپور نشاندہی کی گئی ہے جنھیں شیخ کے بعض عقیدت مندوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر عوام میں پھیلا رکھا ہے۔(ع۔م)
     

  • 6 #1380

    مصنف : حافظ مبشر حسین لاہوری

    مشاہدات : 17436

    ہدیۃ الوالدین

    (اتوار 24 جون 2012ء) ناشر : مبشر اکیڈمی،لاہور

    اولاد کے لیے والدین خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بیش بہا تحفہ ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں دسیوں مقامات پر ان کی فرمانبرداری اور ان کی اہمیت و فضیلت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ لیکن فی زمانہ ہم اس مقدس اور خوبصورت رشتے میں ایک گونہ بے ربط اور بد اعتمادی کی فضا دیکھتے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں حافظ مبشر حسین لاہوری نے خصوصی طور پر والدین کے رشتہ پر دینی تعلیمات کو مرتب انداز میں پیش کیا ہے۔ جس میں انھوں نے والدین کے حقوق و فرائض کے علاوہ ان مسائل پر بھی خصوصی گفتگو کی ہے جن سے والدین اور اولاد کے مابین تکرار کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ والدین اور اولاد کے متنازعہ مسائل کی تفصیلات میں جھگڑوں کی وجوہات اور ان کے تدارک کے ذرائع پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے مصنف نے مختلف مسائل کی اہمیت کو اجاگرکرنے کے لیے اپنے مشاہدات و تجربات پر مبنی سچے واقعات بھی قلمبند کیے ہیں۔ بعض ابواب کے آخر میں متعلقہ موضوع پر دیگر اہل علم کےخیالات، آراء اور فتاوٰی بھی درج کیے گئے ہیں۔  (ع۔م)
     

  • 7 #1945

    مصنف : حافظ مبشر حسین لاہوری

    مشاہدات : 5794

    نماز نبوی با تصویر

    (اتوار 15 دسمبر 2013ء) ناشر : مبشر اکیڈمی،لاہور

    انسان ہی نہیں، جنات کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت وپرستش کےلیے پیدا فرمایا ہے۔ اور عبادات میں سے  سب سے افضل  ترین عبادت نماز ہے۔ نماز ہی کافر ومسلم اور مومن ومشرک کے درمیان حد فاصل ہے۔ روز محشر سب  سے پہلا سوال نماز ہی کے بارے میں کیا جائے گا۔ نماز ہی وہ فریضہ ہے جس کی ادائیگی  ہر حال میں ضروری ہے۔ خواہ حالت امن ہو ،یا حالت جنگ، حالت صحت ہو، یاحالت مرض، حالت اقامت ہو، یا حالت سفر۔نماز میں تخفیف کی سہولت تو موجود ہے،لیکن اس میں مکمل معافی کی گنجائش نہیں ہے۔نماز کو پابندی وقت کے ساتھ مسجد میں باجماعت ادا کرلینا ہی کافی نہیں،اور نہ ہی خشوع وخضوع ، عاجزی وانکساری اور پورے  اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوجانا نماز کی قبولیت کی علامت ہے، بلکہ اس فریضہ سے عہدہ برآ ہونے اور نماز کو قبولیت کے درجہ تک پہنچانے کےلیے یہ بھی ضروری،  بلکہ انتہائی ضروری ہے کہ نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور سنت کے مطابق اداء کی جائے۔تکبیر تحریمہ سے لیکر سلام تک،قیام وقعود ہو یا رکوع وسجود، اذکار وتسبیحات ہوں یا قراءت قرآن۔ ہر چیز سنت کی روشنی میں اداء کی جائے۔ مگر ایسا  کس طرح ممکن ہے؟ اس کا حل آپ کو اس کتاب میں ملے گا۔ نہ صرف قولی طور پر بلکہ تصاویر کے ساتھ عملی طور پر بھی۔ اور نہ صرف یہ کہ ہر بات مستند حوالہ جات سے مزین ہے بلکہ وضوء، تیمم او رنماز کی عام غلطیاں بھی نشان زدہ کردی گئی ہیں۔(ک۔ح)
     

  • 8 #2976

    مصنف : حافظ مبشر حسین لاہوری

    مشاہدات : 2678

    ھدیۃ النساء

    (جمعرات 12 مارچ 2015ء) ناشر : مبشر اکیڈمی،لاہور

    یہ بات  روزِ روشن کی طرح عیاں  ہے  کہ عورت کی تخلیق مرد کے سکون واطمینان کا باعث ہے ۔ اور انسانی معاشرہ میں  جتنی اہمیت ایک مرد کو  حاصل ہے  اتنی ہی ایک عورت  کوبھی حاصل ہے اس لیے کہ وہ  خاندان کی مرکزی اکائی ہے ۔ ، اگر یہ اسلامی پلیٹ فارم پر سیدھی  چلتی رہی تو اس مادی دنیا کا اصل زیور  وحسن ہے اورمرد کی زندگی میں نکھار اور سوز وگداز پیداکرنے والی یہی عورت ہے ۔ اس کی بدولت مرد جُہدِ مسلسل اور محنت کی  دلدوز چکیوں میں پستا رہتاہے ۔ اور اس کی وجہ سے مرددنیا کے ریگزاروں کو گلزاروں او رسنگستانوں کو گلستانوں میں  تبدیل کرنے کی ہر آن کوشش وکاوش کرتا  رہتا ہے ۔اگر عورت بگڑ جائے اور اس کی زندگی میں فساد وخرابی پیدا ہوجائے  تویہ سارے گلستانوں کو خارستانوں میں تبدیل کردیتی ہے  اور مرد کوہر آن ولحظہ برائی  کے عمیق گڑھوں میں دھکیلتی دیتی ہے ۔اسلام نے  عورت کوہر طرح کے ظلم وستم ، وحشت وبربریت، ناانصافی ، بے حیائی وآوارگی اور فحاشی وعریانی سے نکال کر پاکیزہ ماحول وزندگی عطا کی ہے ۔ او ر جتنے حقوق ومراتب اسلام نے  اسے دیے  ہیں دنیا کے کسی بھی معاشرے  اور تہذیب  وتمدن میں  وہ حقوق عورت کوعطا نہیں کیے گئے ۔اس لیے  عورت  کا اصل مرکز ومحور اس کے گھر کی چاردیواری ہے ۔جس کے اندر رہ کر گھر کے ایک چھوٹے سے یونٹ کی آبیاری کرنا اس کا فریضہ ہے ۔اسلام عورت کی تربیت پر خصوصی توجہ  دیتا ہے  کسی گھر کی عورت اگر نیک  اور پرہیز گار ہے تو وہ امن وآشتی کا گہوارہ ہے اور اگر عورت بدکار فاسقہ وفاجرہ ہے تو  وہ برائی کا اڈا  ہ اور فحاشی  وعریانی کاسیل رواں ہے۔اس لیے  ہمیں اپنے گھر کی خواتین کو اسلامی تہذیب وتمدن ، دینی معاشرت ورہن سہن اور عقائد صحیحہ واعمال صالحہ پر گامزن رکھنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے ۔زیر نظر کتاب’’ ہدیۃ النساء‘‘ڈاکٹر حافظ مبشر حسین  لاہور ی ﷾ (فاضل جامعۃ الدعوۃ الاسلامیۃ،مرید کے ،سابق  ریسرچ سکالرمجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور) کی تصنیف ہے  یہ  کتاب  ان کی اصلاحِ خاندان سیریز میں شامل ہے ۔ خواتین کے احکام ومسائل اور ان کی  دینی واخلاقی تربیت پر ایک جامع  کتاب  ہے تاکہ اس کے مطالعہ سے  ایک عورت پہلے اپنی اصلاح کرے اور پھر اپنے خاندان کے دیگر افراد کی اصلاح کےلی کمر بستہ  ہوجائے ۔اللہ تعالی ٰ اس کتاب کو  خواتین اسلام کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)
     

  • 9 #3551

    مصنف : حافظ مبشر حسین لاہوری

    مشاہدات : 4642

    جہیز کی تباہ کاریاں

    (پیر 14 ستمبر 2015ء) ناشر : مبشر اکیڈمی،لاہور

    جہیز بنیادی طور پر ایک معاشرتی رسم ہے جو ہندوؤں کے ہاں پیدا ہوئی اور ان سے مسلمانوں میں آئی۔ خود ان کے ہاں اس کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔اسلام نے نہ تو جہیز کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا کیونکہ عرب میں اس کا رواج نہ تھا۔ جب ہندوستان میں مسلمانوں کا سابقہ اس رسم سے پڑا تو اس کے معاشرتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے علماء نے اس کے جواز یا عدم جواز کی بات کی۔ہمارے ہاں جہیز کا جو تصور موجود ہے، وہ واقعتاً ایک معاشرتی لعنت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ پر ظلم ہوتا ہے۔اگر کوئی باپ، شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو کچھ دینا چاہے، تو یہ اس کی مرضی ہے اور یہ امر جائز ہے۔ تاہم لڑکے والوں کو مطالبے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو جہیز دیا گیا، وہ اس وجہ سے تھا کہ سیدنا علی ﷜ نبی کریم ﷺ کے زیر پرورش تھے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ آپ نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو کچھ سامان دیا تھا کیونکہ یہ دونوں ہی آپ کے زیر کفالت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے دیگر دامادوں سیدنا ابو العاص اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادیاں کرتے وقت اپنی بیٹیوں کو جہیز نہیں دیا تھا۔جہیز سے ہرگز وراثت کا حق ختم نہیں ہوتا ہے۔ وراثت کا قانون اللہ تعالی نے دیا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر شدید وعید سنائی ہے۔ جہیز اگر لڑکی کا والد اپنی مرضی سے دے تو اس کی حیثیت اس تحفے کی سی ہے جو باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔لیکن اس میں اسراف وتبذیر سےگریز کرنا چاہیے۔ زیرنظر کتاب ’’جہیز کی تباہ کاریاں‘‘ فاضل نوجوان مصنف کتب کثیرہ ڈاکٹر حافظ مبشرحسین لاہوری ﷾(ریسرچ سکالر ادارہ تحقیقات اسلامی ، اسلام آباد) کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے ۔ پہلے باب میں چند سچے واقعات پر مشتمل بعض ایسی تحریریں شامل ہیں جن سے مروجہ رسم جہیز کی معاشرتی تباہ کاریوں پر براہ راست روشنی پڑتی ہے ۔ اس کےبعد دوسرے باب میں جہیز کی شر عی حیثیت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور اس کی حدود وقیود واضح کی گئی ہیں جب کہ تیسرے باب میں جہیز کے حوالے سے لوگوں میں پائے جانے والے مختلف شبہات کا ازالہ کیاگیا ہے ۔ بالخصوص ان لوگوں کے نظریات کی بھر پور تردید کی کی گئی ہے جو جہیز کو ’’سنت رسول ‘‘ قرار دینے پر بضد ہیں ۔ چو تھے باب میں جہیز کی شرعی حیثیت کے حوالے سے چند جید علماء کےفتاویٰ جات کوجمع کیاگیا ہے ۔مسئلہ جہیز کے حوالے سے اگرچہ یہ ایک چھوٹی سی کاوش ہے ۔ اگر اسے سنجیدگی سے پڑھا پڑھایا اور عوام میں پھیلایا جائے تو امید ہے کہ یہ لوگوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی کا باعث ہوگی۔ بالخصوص اس کتاب کو معاشرے کے ان افراد تک ضرور پہنچایا جانا چاہیے جوجہیز کی تبا کاریوں سےبےخبر ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو ہمارے معاشرے سے رسم جہیز کے خاتمے کا باعث بنائے اور ہمیں غیر اسلامی رسم ورواج سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین (م۔ا)

  • 10 #3760

    مصنف : محمد جمیل اختر لاہوری

    مشاہدات : 5275

    جادو جنات اور نظر بد کا توڑ

    (اتوار 22 نومبر 2015ء) ناشر : مبشر اکیڈمی،لاہور

    جادو کرنا او رکالے علم کےذریعے جنات کاتعاون حاصل کر کے لوگوں کو تکالیف پہنچانا شریعتِ اسلامیہ کی رو سےمحض کبیرہ گناہ ہی نہیں بلکہ ایسا مذموم فعل ہےجو انسان کو دائرۂ اسلام سے ہی خارح کردیتا ہے اور اسے واجب القتل بنادیتا ہے ۔جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جادو جنات اور نظر بد کا توڑ‘‘محترم جناب محمد جمیل اختر لاہوری صاحب کی کاوش ہےجسے انہوں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور ان کے مایہ ناز دو شاگرد امام ابن قیم ، امام ابن کثیر کی کتب سے اخذ واستفادہ کر کے مرتب کیا اور ان کاسلیس ترجمہ کرکے اردو دان طبقہ کے لیے پیش کیا ہے ۔ اس کتاب پر مولانا حافظ مبشر حسین لاہوی ﷾ کی نظرثانی سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔جادو ،جنات اورنظر بدکےحوالے سے مذکورہ ائمہ اسلاف کا نقطہ نظر سمجھنے کےلیے کتاب میں مکمل راہنمائی موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1022
  • اس ہفتے کے قارئین 12719
  • اس ماہ کے قارئین 51113
  • کل قارئین49409458

موضوعاتی فہرست