• #3375
    ڈاکٹر گیان چند

    1 تحقیق کا فن

    تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی اصلیت وحقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین اور تفتیش کرنا۔اصطلاحا تحقیق کا مطلب ہے  کہ کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کر کے کھرے کھوٹے اور اصلی ونقلی مواد میں امتیاز کرنا،پھر تحقیقی قواعد وضوابط کے مطابق اسے استعمال میں لانا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ۔ایسا تحقیقی کام سندی تحقیق میں کیا جاتا ہے ،جو ہر مقالہ کی آخری منزل ہوتی ہے۔ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔۔لیکن افسوس کہ آج تک اردو میں تحقیق کی رسمیات متفقہ طور پر نہ طے ہو سکیں۔ نہ ان کے بارے میں سوچا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب پیش رفت ہوسکی۔ چنانچہ ایک ہی جامعہ میں، بلکہ اس جامعہ کے ایک ہی شعبے میں لکھے جانے والے مقالات باہم ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک مقالے میں حواشی کسی طرح لکھے جاتے ہیں اور کتابیات کسی طرح مرتب کی جاتی ہے۔ دوسرے مقالے میں ان کے لکھنے اور مرتب کرنے کے اصول مختلف ہوسکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تحقیق کا فن "اسی جانب ایک سنگ میل ہےجو ڈاکٹر گیان چند صاحب کی وہ قابل قدر تصنیف ہے جس میں انہوں نے فن تحقیق کو موضوع بحث بنایا ہے۔یہ کتاب نہ صرف ان کی زندگی کے علمی وتحقیقی تجربوں اور وسیع وگہرے مطالعے کا نچوڑ ہے بلکہ اس میں فن تحقیق کے وہ سارے پہلو آ گئے ہیں جو تحقیق کرنے والے ہر طالب علم ،ہر استاذ  اور تمام محققین کے لئے نہایت مفید ہیں۔ (راسخ)

  • #18
    امام ابن تیمیہ

    2 عقیدہ واسطیہ

    ابن تيميه وه مصنف هیں جنہوں نے دین اسلام کی خدمت کرتے ہوئے ہر اہم موضوع پر گفتگو کی ہے اس لیے عقیدے کے معاملے میں بھی ابن تیمیہ نے جس انداز سے وضاحت کی ہے یہ انہی کا خاصہ ہے –اللہ تعالی کی صفات میں تحریف کے منکرین گروہ پیدا ہوئے جو کہ فلسفہ سے متاثر تھے تو ابن تیمیہ نے ان کے فلسفے کا رد اور ان کے باطل عقائد کا رد قرآن وسنت سے کیا اور ان کے عقائد کی خرابی کو بڑی وضاحت سے بیان کرنے کے بعد مدلل رد کیا ہے-ابن تیمیہ نے اس کتاب میں اہل سنت کے عقیدے کو بیان کرتے ہوئے عقیدے کی مختلف بحثوں موضوع سخن بنایا ہے جس میں اللہ تعالی پر ایمان کے ساتھ ساتھ اس کی مختلف صفات کا ثبوت اور اللہ تعالی کا عرش پر مستوی ہونے کا ثبوت اور مومنین کے لیے جنت میں اللہ تعالی کے دیدار پر تفصیلی بحث کی ہے- اسی طرح اولیاء کی کرامات کو واضح کیا ہے کہ کون سی چیز کرامت ہوتی ہے اور کون سی چیز کرامت سے خارج ہے بلکہ شیطانی دھوکہ ہے

  • #2406
    رفیق احمد رئیس سلفی

    3 مدارس کے نصاب تعلیم میں قرآن کریم کا مقام اور ان کا منہج تدریس

    قرآن  کریم  ہمارے  لیے اصل ایما ن اور مسلمانوں کے لیے  سرچشمہ ہدایت ہے ا، انسانیت کے لیے  ایک دائمی دستور حیات ہے  اورکائنات کے لیے   ایک مینارۂ نور ہے جس کی روشنی ہمیشہ قائم  رہنے والی ہے ۔ اور جس کی روشنی  سے  وہ قلوب منور ہوتے ہیں جو ایمان کی لذت سے  آشنا ہیں-قرآن مجید  واحد ایسی کتاب کے  جو پوری انسانیت  کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے  اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں  انسان کو پیش   آنے والےتما م مسائل کو   تفصیل سے  بیان کردیا ہے  جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ   و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت   پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی  زندگی کا انحصار  اس مقدس  کتاب سے  وابستگی پر ہے  اور یہ اس وقت  تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ  جائے۔اسے  پڑھنے اور سمجھنے کا شعور اس  وقت تک  پیدار نہیں ہوتا جب تک اس  کی اہمیت کا احساس نہ ہو۔کسی بھی  اسلامی ادارے ،اسلامی درس گاہ کا نصابِ تعلیم  بغیر  قرآن کریم کے کبھی بھی  مکمل  نہیں ہوسکتا۔ قرآن  کریم  کی تفسیر ،ترجمہ،معانی ومفہوم کی تدریس جس  نصاب تعلیم  کا جزو ہو اس نصاب تعلیم کا کامیاب ہونا  او رنصاب تعلیم  کےپڑہنے والوں کاباسعادت ہونا یقینی ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’مدارس  کے نصاب میں تعلیم  میں قرآن کریم کا مقام اوراس کا منہج تدریس‘‘2005ء  صفا شریعت کالج(انڈیا) کی طرف سے  منعقدکیے  جانے  والے  سیمینار میں تمام  مکتب فکر  کی  طرف سے    پیش کیے گئے   32  مقالات کا مجموعہ ہے ۔اس  سیمینار میں افتتاحی  خطاب  ڈاکٹر سعید الرحمن  اعظمی (ندوۃ العلماء  لکھنو) او رصدارتی کلمات جامعہ سلفیہ ۔بنارس کے  صدر  ڈاکٹر  مقتدیٰ حسن ازہر ی  نے  پیش کیے ۔ صفا شریعت کالج کے مدیر  رفیق احمد سلفی    نے  ان مقالات کی افادیت کے پیش نظر انہیں مرتب کرکے  شائع کیا ۔ اللہ تعالیٰ   صفا شریعت  کالج کے  ذمہ دران کی  اس کاوش کو   قبول فرمائے  اور  اسے  طالبان  ِعلوم نبوت کے لیے مفید بنائے ( آمین)  ( م۔ا)

     

  • #2293
    قاری روح اللہ مدنی

    4 حضرت عمر کا قائدانہ کردار

    سیدنا فاروق اعظم ﷜کی مبارک زندگی اسلامی تاریخ  کاوہ روشن باب ہے جس  نےہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ  دیا ہے ۔ آپ  نے حکومت کے انتظام  وانصرام  بے مثال عدل  وانصاف ،عمال حکومت کی سخت نگرانی ،رعایا کے حقوق کی پاسداری ،اخلاص نیت وعمل ،جہاد فی سبیل اللہ  ،زہد وعبادت ،تقویٰ او رخوف وخشیت الٰہی  او ردعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائےنمایاں انجام دیے  کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے  سے  قاصر ہے۔ انسانی  رویوں کی گہری پہچان ،رعایا کے ہر فرد کے احوال سے بر وقت آگاہی او رحق  وانصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہ کر نےکے اوصاف میں کوئی حکمران فاروق اعظم  ﷜ کا  ثانی نہیں۔ آپ اپنے بے  پناہ رعب وجلال اور دبدبہ کے باوصف نہایت درجہ  سادگی فروتنی  اورتواضع کا پیکر تھے ۔ آپ کا قول ہے کہ ہماری عزت اسلام کے باعث ہے  دنیا کی چکا چوند کے باعث نہیں۔ سید ناعمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے  جس  نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی ،اسے فاروق اعظمؓ کے قائم کردہ ان زریں اصول کو مشعل راہ  بنانا پڑا جنہوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔ سید نا عمر  فاروق ﷜  کے اسلام لانے اور  بعد کے  حالات احوال اور ان کی  عدل انصاف  پر مبنی حکمرانی  سے اگاہی کے لیے  مختلف اہل  علم  اور مؤرخین نے  کتب تصنیف کی ہیں۔اردو زبان میں شبلی نعمانی ، ڈاکٹر صلابی ، محمد حسین ہیکل ،مولانا عبد المالک مجاہد(ڈائریکٹر دار السلام)  وغیرہ کی کتب  قابل ذکر  ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’ حضرت عمر فاروق ﷜کا قائدانہ کردار‘‘ محترم قاری روح اللہ مدنی ﷾‘‘ کی  سیدنا حضرت  عمر بن  خطاب ﷜ کی سیرت  واحوال  کے متعلق  مختصر مگر جامع  کتاب ہے ۔ فاضل  مصنف نے  ایمان افروز اور دلکش  اسلوب میں  امیر المؤمنین  حضر  ت عمر فاروق ﷜ کی سیرت معطرہ کے رنگ برنگ پاکیزہ مناقب ،روح پرور رعایا پروری کے وقعات  کو بڑے  احسن انداز  بیان  میں کیا ہے  ۔اللہ تعالی ان  کی اس کاوش  کو قبول فرمائے  ۔اور تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢  کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق اور  عالم اسلام کے  حکمرانوں  کو سیدنا عمر فاروق ﷜کے نقشے قدم  پرچلنے  کی توفیق عطا فرمائے(آمین) (م۔ا) 

  • #2201
    علامہ علاء الدین علی متقی بن حسام الدین

    5 کنز العمال۔ حصہ 7

    کسی بھی مسلمان کے لئے یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو تدریس ،تقریر یا تحریر کے ذریعے لوگوں تک پہنچائے،آپ ﷺ نے ایسے سعادت مند افراد کے لئے تروتازگی کی دعا فرمائی ہے۔چنانچہ محدثین کرام ﷭نے اسی سعادت اور کامیابی کے حصول کے لئے کوششیں کیں احادیث نبویہ کو اپنی اپنی کتب میں جمع فرمایا۔اسلام کے انہی درخشندہ ستاروں میں سے ایک علامہ علاء الدین علی متقی بن حسام الدین ہندی برھان پوری ﷫ہیں ،جنہوں نے زیر تبصرہ کتاب " کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال "تصنیف فرمائی ہے۔اور اس کا اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا مفتی احسان اللہ شائق نے حاصل کی ہے۔یہ کتاب دراصل امام سیوطی﷫ کی ہے ۔انہوں نے پہلے "الجامع الکبیر"نامی ایک کتاب لکھی ،جس میں تمام احادیث کو جمع فرمایا،اور یہ کتاب آج بھی نام سے موجود ہے۔اس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کو حروف تہجی کی ترتیب پر مرتب فرمایا،اور قسم الاقوال اور قسم الافعال دونوں کو الگ الگ جمع فرمایا۔پھر اسی جامع الکبیر کی قسم الاقوال میں سے مختصر احادیث کو منتخب کیا اور "الجامع الصغیر "نامی کتاب لکھ ڈالی۔پھر کچھ عرصہ بعد "جامع صغیر " کا استدراک کرتے ہوئے "زوائد الجامع "نامی کتا ب لکھ دی۔علامہ علاء الدین علی متقی ﷫کا کام یہ ہے کہ انہوں نے امام سیوطی﷫ کی ان کتب کو فقہی ترتیب پر مرتب کرتے ہوئے "کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال"نامی یہ کتاب تالیف فرمادی،جو نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ پر مشتمل ایک عظیم الشان ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ کی احادیث مباکہ پر عمل کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #421
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    6 سنن ابن ماجہ (مترجم) جلد4

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

  • #393
    ابو عبد الرحمٰن السلفی

    7 عقیدة الموحدین

    ایک آدمی کا ایمان صرف اسی صورت میں کامل ہو سکتا ہے جب وہ اپنے ہر فیصلے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرےاگر وہ ایسانہیں کرتا تو وہ طاغوت کا پیروکار ہے۔ زیر نظر مختصر سے رسالہ میں عقائد کی وقیع بحثوں سے ہٹ کر  توحید کا وہ رخ دکھایاگیا ہے جس سے عام طور عوام تو تو عوام خواص بھی نا آشنا ہیں۔ ابو عبداللہ عبدالرحمن سلفی نے طاغوت کی تعریفات کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن، حدیث اور اقوال سلف صالحین کے روشنی میں ثابت کیاہے کہ موجودہ دور کا سب سے بڑا طاغوت انسان کے انسان پر اس کے بنائے ہوئے قوانین کی حکمرانی کی شکل میں تمام عالم پر چھایا ہو اہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ طاغوت کا انکار توحید کا سب سے بڑا رکن ہے جب تک کسی شخص میں یہ نہ ہو وہ موحد نہیں کہلا سکتا۔

     

     

  • #378
    ڈاکٹر اسرار احمد

    8 سانحۂ کربلا

    ہمارے ہاں شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ضمن میں بہت سے مغالطے اور اور غلط فہمیاں زبان زدعام و خاص ہیں۔ شیعہ حضرات اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے سانحہ کربلا کی آڑ میں صحابہ کرام پر اپنی تحریر و تقریر کا زور آزماتے ہیں۔ زیر مطالعہ مختصر سے رسالہ میں ڈاکٹر اسراراحمد صاحب نے سانحہ کربلا کے سیاق و سباق کی وضاحت کرتے ہوئے اس کی مکمل تفصیلات سے آگاہی فراہم کی ہے۔ اور اس حوالے سے بیان کیا جانے والے تمام رطب و یابس کی قلعی کھولی ہے۔ اس کتابچے کا پس منظر یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں ’ہجری سال نو مبارک‘ کے حوالے اہم باتیں ارشاد فرمائیں۔ پھر ’سانحہ کربلاکا تاریخی پس منظر‘ کے عنوان سے خطاب کیااس کے بعدواقعات کربلا کے ضمن میں حضرت محمد باقر سے مروی ایک روایت کا ترجمہ بھی شائع کیا گیا تھا۔ یہ کتابچہ در اصل ان تینوں کی یکجا صورت ہے۔
  • #338
    حافظ ذوالفقارعلی

    9 دور حاضر کے مالی معاملات کا شرعی حکم

    مسلمان ہونےکےناطےہمارایہ پختہ اعتقاد ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی،سیاسی ہو یا اخلاقی،معاشرتی ہو یا معاشی جس کے متعلق دین میں اصولی رہنمائی موجود نہ ہو۔مگر بدقسمتی کی بات یہ ہےکہ آج مسلمانوں کی اکثریت دین سے بیگانگی کے باعث اسلام کےان سنہری اصولوں سےنابلد ہے جولوگ نماز روزہ کےپابند ہیں ان میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جس نے دین صرف عبادات،نماز،روزہ ،حج اور  زکوۃ کا نام سمجھ لیا ہے مالی معاملات کے بارہ میں احکام شریعت کواس طرح نظر انداز کیے ہوئے ہے کہ گویا ان کادین کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے بالخصوص جدید معاملات کےمتعلق ان کاانداز فکر یہ ہے کہ یہ چونکہ دور حاضر کے پیداوار ہیں عہد رسالت میں ان کاوجود ہیں نہیں تھا اس لیے یہ جائز ہیں۔ان حالات میں اہل علم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاملات جدید ہ سمجھیں او رلوگو ں کی صحیح او رکما حقہ رہنمائی کریں۔یہ کتاب  دور حاضر کےمالی معاملات پر جتنے بھی سوالات واشکالات ہیں ان کاجواب ہے ۔

  • #1744
    ڈاکٹر طارق ہمایوں شیخ

    10 لباس ، ستر، حجاب اور زینت و زیبائش

    اللہ تعالی کے احکام اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےارشادات کو پس پشت ڈال کرجس طرح آج ہم روشن خیالی کو اپنا رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ قرآن اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری ہے۔ دین سے اس دوری کی وجہ سے ایک عا م مسلمان کےلیے حق کی تلاش مشکل ہوگئی ہے۔ بطورمسلمان ہم اپنی اسلامی اقدار اورتہذیب وتمدن کو بھولتےجا رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا اس معاملےمیں سونےپرسہاگے کا کام کررہے ہیں۔غیرمسلموں کی تقلیدمیں ہم اتنے عجلت پسند واقع ہوے ہیں کہ بغیرسوچےسمجھے ان کےنقش قدم پرچلنا شروع کردیتے ہیں۔ لباس،ستر،حجاب اورزینت وزبائش کےمتعلق احکام قرآن میں موجود ہیں اور اس بارے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےفرمودات کتب احادیث میں دیکھے جا سکتے ہیں۔فہم قرآن انسٹی ٹیوٹ نے احکام الہی اورفرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اکٹھاکرکے یہ کتابچہ تشکیل دیا ہے۔ تاکہ آپ بآسانی احکام الہی اورفرامین نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے آگاہ ہوسکیں۔ اورتہذیب مغرب کی چکاچوند کےبہکاوے سے اپنے ایمان کو محفوظ رکھ سکیں۔ اور بہترین اسلامی طرززندگی کو اپناشعار بنا سکیں۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39825462

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں