کل کتب 12

دکھائیں
کتب
  • 1 #1273

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 21294

    ائمہ سلف اور اتباع سنت

    (اتوار 29 اپریل 2012ء) ناشر : طارق اکیڈمی، فیصل آباد

    قرآن اور سنت دین اسلام کے بنیادی ماخذ ہیں۔ حدیث اور قرآن کے وحی ہونے میں صرف اس حد تک فرق ہے کہ قرآن وحی متلو اور حدیث وحی غیر متلو ہے۔ لیکن فی زمانہ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی حدیث قرآن کے خلاف ہونے کا نعرہ مستانہ بلند کر کے اور کبھی ائمہ کرام کی تقلید کے باوصف احادیث رسولﷺ سے انحراف کا رجحان پایا جاتا ہے۔ جبکہ ائمہ کرام کے مختلف موقعوں پر کہے گئے اقوال اس بات کی ضمانت ہیں کہ دین میں حجت صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ ہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی اس کتاب میں ائمہ سلف اور سنت کے حوالے سے نگارشات پیش کی گئی ہیں۔ جس میں ائمہ اربعہ کا عمل بالحدیث اور ترک حدیث پر گتفتگو کرتے ہوئے ترک حدیث کے اسباب پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اردو ترجمہ پروفیسر غلام احمد حریری نے کیا ہے۔ (ع۔م)

  • 2 #5498

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 2531

    اتباع الرسول بصریح المعقول

    (جمعرات 15 جون 2017ء) ناشر : مجلس معارف ابن تیمیہ چیچہ وطنی

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی اصلاحی وتجدیدی زندگی کا واحد مشن یہ تھا کہ اسلام فکر وعمل کی جن بدعات کا شکار ہوگیا ہے اور اس کے صاف ستھرے عقائد وتصورات میں آلائش اور بگاڑ کی جو صورتیں ابھر آئی ہیں ان کو دور کیا جائے اور بتایا جائے کہ اصلی اور حقیقی اسلام کا ان مزخرفا سے دورکا بھی تعلق نہیں ہے۔آپ کی ساری عمر اسلام کے رخ زیبا کو سنوارنے اور جلا بخشنے میں بسر ہوئی ہے۔آپ کی تگ ودو، تحریر وتقریر اور غور وتعمق کا موضوع ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اس سر چشمہ حیات کو کیوں کر اس انداز سے پیش کیا جائے کہ پیاسی اور تشنہ روحیں پھر سے تسلین حاصل کر سکیں۔ اور یہ واقعہ ہے کہ جس اخلاص، جس زور اور بلند آہنگی کے ساتھ امام ابن تیمیہ﷫ نے تجدیدواصلاح کے اس فریضے کو انجام دیا، اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اتباع الرسول بصریح المعقول " میں بھی امام ابن تیمیہ﷫ نے اسلام کی روشن تعلیمات کو اجاگر کیا ہے۔کتاب کا اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحمن عزیز صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف  اور مترجم کی اس خدمت کو  اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 #5064

    مصنف : عمر فاروق سلفی

    مشاہدات : 2927

    اتباع سنت

    (ہفتہ 07 جنوری 2017ء) ناشر : دار الکتب السلفیہ، لاہور

    دین اسلام   میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اسی طرح فرض ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه (سورہ نساء:80) جس نے رسول اللہﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ اور سورۂ محمد میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ(سورہ محمد:33) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کرو (اور اطاعت سے انحراف کر کے) اپنے اعمال ضائع نہ کرو۔ اطاعت رسولﷺ کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ رسو ل اکرمﷺ کی اطاعت صرف آپﷺ کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے فرض قرار دی گئی ہے۔ اطاعت رسولﷺ کے بارے میں صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث بڑی اہم ہے۔ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’میر ی امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا تو صحابہ کرام﷢ نے عرض کیا انکار کس نے کیا؟ تو آپﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا او رجس نے میر ی نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔ (صحیح بخاری:7280) گویا اطاعتِ رسولﷺ اورایمان لازم وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے اطاعت نہیں تو ایمان بھی نہیں۔ اطاعت ِ رسولﷺ کے بارے میں قرآنی آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباع سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں سے ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ یہ دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی چاہیے۔ جس طر ح عبادات(نماز، روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے اسی طرح اخلاق وکردار، کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔ گویا اپنی پوری زندگی میں خواہ انفرادی ہویا اجتماعی، مسجد کے اندر ہویا مسجدکے باہر، بیوی بچوں کے ساتھ ہو یا دوست احباب کے ساتھ ،ہر وقت، ہرجگہ سنت کی پیروی مطلوب ہے ۔محض عبادات کے چند مسائل پرتوجہ دینا اور زندگی کے باقی معاملات میں سنت کی پیروی کو نظر انداز کردینا کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں کہلا سکتا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اتباع سنت‘‘ محترم جناب عمرفاروق سلفی کی مرتب شدہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے سنت، معنی ومفہوم اور تعریف، اتباع سنت کے لیے بنیادی شرط، اتباع سنت کی ضرورت واہمیت، اتباع سنت کے تقاضے، فتنہ انکار حدیث، بدعت.... اتباع سنت کی راہ میں حائل رکاوٹ، عصر حاضر میں اتباع سنت جیسے عنوانات قائم کر کے اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کی دنیا اور اُخروی نجات کا معیار صرف اور صرف قرآن وسنت ہے۔ اور ان دونوں کے علاوہ کو ئی تیسری چیز ہے ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور تمام مسلمانوں کو قرآن وحدیث کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ (م۔ا)

  • 4 #2314

    مصنف : سید بدیع الدین شاہ راشدی

    مشاہدات : 3256

    اتباع سنت

    (بدھ 23 جولائی 2014ء) ناشر : مکتبہ الدعوۃ السفیۃ مٹیاری سندھ

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسلام کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔زیر تبصرہ کتاب(اتباع سنت ) پاکستان کے معروف عالم دین علامہ سید بدیع الدین راشدی کے ایک خطاب پر مشتمل تالیف ہے ،جو انہوں نے 1977ء میں پیپلزپارٹی کا تختہ الٹ کر بر سر اقتدار آنے والے ضیاء الحق کے دور میں کی تھی۔ اس میں انہوں نے مستند دلائل کے ذریعے حجیت حدیث پر استدلال کیا ہے اور منکرین حدیث کو مسکت اور دندان شکن جواب دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 5 #332

    مصنف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن الاعظمی

    مشاہدات : 33470

    اتباع سنت (عقائدہ احکام میں)

    (جمعرات 01 جولائی 2010ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    اس اہم موضوع پر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے مشق استاذ ڈاکٹر محمد ضیاالرحمن اعظمی نے قلم اٹھایا اور سنت رسول اللہ ﷺ اور اتباع سنت کے بارے میں ’’ التمسک بالسنۃ فی العقائد و الاحکام ‘‘ کے نام سے عربی زبان میں ایک جامع کتاب مرتب کی کے مستشرقین کے خلاف اپںے اسلاف کی سنت کو جاری رکھا ۔ ڈاکٹر اعظمی نے مذکورہ کتاب میں محدثین اور فقہا کے نظریات و عقائد کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے دین اسلام میں اتباع سنت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔ ہیز جاہلیت کی رسومات و عادات کے بارے میں دین اسلام کا موقف پیش کرتے ہوئے سنت رسول اللہ ﷺ اور اطاعت رسول کا مفہوم واضح کیا ہے اور اولو الامر کی اطاعت کے بارے میں اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ بیان کیا ۔کتاب کی اہمیت و افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جناب ڈاکٹر اعظمی کی اجازت سے دار السلام نے اس کتاب کا اردو ترجمہ شائع کرنے کا اہتمام کیا  واضح رہے کہ ترجمہ کا کام ڈاکٹر موصوف کے ایک لائق شاگرد ابو الحسن طاہر محمود شیخ نے انجام دیا ہے ۔(ع۔ر)

     

  • 6 #2301

    مصنف : قاری محمد موسیٰ

    مشاہدات : 7823

    اتباع سنت کی اہمیت اور فضیلت

    (بدھ 06 اگست 2014ء) ناشر : بشیر سنز ریل بازار گوجرانوالہ

    دین اسلام  میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اسی طرح فرض ہے  جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے  ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه  (سورہ نساء:80) جس نے  رسول  اللہﷺ کی اطاعت  کی اس  نے اللہ  کی اطاعت  کی ۔ اور  سورۂ محمد میں  اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ(سورہ محمد:33)اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ  اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو (اور اطاعت سے انحراف کر کے ) اپنے  اعمال ضائع نہ کرو۔اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش  نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے  میں صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث بڑی اہم ہے ۔ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’میر ی امت کے  سب لوگ جنت میں جائیں گے  سوائے  اس  شخص کے جس نے انکار کیا  تو صحابہ  کرام﷢ نے عرض کیا  انکار کس نے کیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا جس نے  میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا او رجس نے میر ی نافرمانی کی اس  نے انکار کیا ۔(صحیح بخاری :7280)گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباع سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں  سے  ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے  بلکہ یہ  دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی  چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے  اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔گویا اپنی پوری زندگی  میں خواہ انفرادی ہویا اجتماعی ،مسجد کے اندر ہویا مسجدکے باہر، بیوی بچوں کےساتھ ہو یا دوست احباب کے ساتھ  ،ہر وقت ،ہرجگہ سنت کی پیروی مطلوب ہے ۔محض عبادات کے چند مسائل  پرتوجہ دینا اور زندگی کے باقی معاملات میں سنت کی پیروی کو نظر انداز کردینا کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں کہلا سکتا۔زیر نظر کتاب ’’اتباع سنت کی اہمیت اورفضیلت‘‘ محترم  قاری محمد موسیٰ  کی  تصنیف ہے  ۔ جس میں انہوں نے  قرآنی آیا ت او ر احادیث کی روشنی میں سنت کی اہمیت کواجاگر کیا ہے ۔ اللہ تعالی  ان کی اس کاوش  کو قبول فرمائے ۔اور اہل اسلام کے لیے  اتباع رسولﷺکا ذریعہ بنائے (آمین )(م۔ا)

  • 7 #2023

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 6069

    اتباع کتاب وسنت اور فقہی مذاہب

    (ہفتہ 19 اپریل 2014ء) ناشر : یونیورسٹی بک شاپ اسلام آباد

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ او رباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے ۔ زیر نطر کتاب فتاویٰ ابن تیمیہ کی جلد 19،20 کاترجمہ ہے جو کہ اتباع کتاب وسنت اور فقہی مذاہب کے اصول پرمبنی ان فتاوی جات کا مجموعہ ہے جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے قرآن وسنت سے اعراض برتنے والوں اور مبتدعین کے رد میں تحریر فرمائے۔فتاوی ابن تیمیہ کی ان دو جلدوں کا ترجمہ مولانا حافظ عبدالغفور (بانی جامعہ علوم اثریہ ،جہلم اور ان کے صاحبزدگان علامہ محمد مدنی  ،حافظ عبد الحمید عامر﷾ او رجامعہ علوم اثریہ کے دیگر ذمہ داران کی کوششوں او رکاوشوں کی بدولت پایۂ تکمیل کوپہنچا ہے ۔اللہ تعالی مترجمین ،ناشرین او رتمام معاونین کی کوششوں کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

     

     

  • 8 #3787

    مصنف : رشید اللہ یعقوب

    مشاہدات : 2217

    اطیعو اللہ و اطیعو الرسول

    (بدھ 02 دسمبر 2015ء) ناشر : رحمۃ للعالمین ریسرچ سنٹر کراچی

    ہم پر صدیوں سے ایرانی زبان فارسی کی حکمرانی رہی ہے۔ہمارا ذریعہ تعلیم اور ذہن وفکر کی پرورش کا انحصار اسی زبان پر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم ہر لفظ  خواہ وہ علم ہو یا غیر علم،  اس کا ترجمہ فارسی زبان میں کرنے عادی بن چکے ہیں۔متعدد اہل علم لفظ جلالہ "اللہ " کا فارسی ترجمہ" خدا "کرتے ہیں،حالانکہ اسم جلالہ"اللہ" ہی ذات باری تعالی کا اسم علم غیر مشتق ہے۔اللہ تعالی کی  بے مثال شان،بے مثال ذات اور بے مثال لغوی ممیزات کا تقاضا ہے کہ اسے "اللہ " ہی لکھا ،پڑھا اوربولا جائے ۔اس کے علاوہ کوئی اسم بھی  اس کا ہم پلہ،ہم معنی،ہم مفہوم اور ہم تصور  نہیں ہو سکتا ہے۔لیکن اس کے مقابل ایک لفظ رائج ہو گیا ہے جسے "خدا"کہتے ہیں۔لغت میں جب اس کی حیثیت پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ "خدا" دو لفظوں سے مرکب ہے(خود+آ) یعنی خود ظہور کرنے والا (غیاث اللغات)اس کے علاوہ بھی یہ لفظ متعدد مفاہیم پر دلالت کرتا ہےمثلا:مالک،شوہر،ملاح،خدا جیساوغیرہ وغیرہ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ "خدا" میں لاثانیت،یا بے مثال ہونے کی کوئی صفت موجود نہیں ہے۔اسے ہر شخص پر چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول"محترم مولانا رشید اللہ یعقوب صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے  لفظ اللہ کی جگہ لفظ خدا کے استعمال کو غلط قرار دیا ہے اور لفظ اللہ کے استعمال کو سنت موکدہ ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 9 #812

    مصنف : محمد صادق سیالکوٹی

    مشاہدات : 23147

    سبیل الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔تخریج شدہ

    (جمعہ 12 اگست 2011ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    اسلام اور اس کی تعلیمات کوسمجھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اتباع اساس اور بنیادی شئے ہے۔دین اسلام پر چلنے کے لیے سرورکائنات حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے صرف احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی مشعل اور سنن ہذی کے چراغ ہی قرآن مجید کی راہ عمل کے چراغ ہیں۔یہی وہ موضوع ہے جو زیر  نظر کتاب میں برصغیر پاک وہند کے مشہور مؤلف جناب حضرت مولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی کے زیر قلم آیا ہے ۔یہ کتاب متذکرہ موضوع پر مولانا موصوف کے سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں نہایت حسن وخوبی اور دلائل کے ساتھ ایک کلیدی حیثیت رکھتی  ہے ۔کتاب کی یہ خوبی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اس کے پڑھنے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔کتاب کی سلیس عبارت،دلکش طرز تحریر اور موقع بہ موقع اشعار نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دیے ہیں۔تقلید ائمہ اور اطاعت رسول کے حوالے سے یہ کتاب انتہائی مفید اور قابل مطالعہ ہے ۔(ط۔ا)

  • 10 #2152

    مصنف : عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    مشاہدات : 2719

    سنت نبوی پر عمل واجب اور اس کا انکار کفر ہے

    (جمعہ 30 مئی 2014ء) ناشر : مکتبہ نور حرم، کراچی

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت ﷺ حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسلام کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔زیر تبصرہ کتاب’’سنت نبوی پر عمل واجب اور اس کا انکار کفر ہے‘‘ سعودی عرب کے معروف عالم دین مفتی اعظم سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز﷫ کی تالیف ہے ،جس میں انہوں مستند دلائل کے ذریعے حجیت حدیث پر استدلال کیا ہے اور منکرین حدیث کو مسکت اور دندان شکن جواب دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

     

     

< 1 2 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1885
  • اس ہفتے کے قارئین 16739
  • اس ماہ کے قارئین 40279
  • کل قارئین49270766

موضوعاتی فہرست