ادارہ احیاء السنۃ النبویۃ، سرگودھا

7 کل کتب
دکھائیں

  • 1 فتاویٰ اہل حدیث - جلد1 (پیر 23 اپریل 2012ء)

    مشاہدات:22459

    عبداللہ محدث روپڑی یکتائے روز گار محقق اور اپنے دورکے مجتہد ہونے کے علاوہ علم و فضل کے روشن مینار تھے۔ تفسیر اورحدیث میں آپ کو جامع بصیرت حاصل تھی۔ احکام و مسائل اور ان کے اسباب و علل پر گہری نظر رکھتے تھے۔آپ  نے اپنی زندگی میں دین کے ہر شعبہ سے متعلق سوالات کے کتاب و سنت کی روشنی میں جوابات دئیے۔ یہ فتاوی جات عوام و خواص اور طالبان علم کے لیے نہایت قیمتی ہیں ان کی اسی اہمیت کے پیش نظر ان تمام فتاوی جات کو کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ کتاب کو ’فتاوی اہل حدیث‘ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ مولانا کا تمام تر انحصار قرآن اور حدیث پر رہا ہے اور قیاس وعلت و معلول جیسی بحثوں سے اجتناب کیا گیا ہے۔ فتاوی جات تحقیق سے مزین اور تعصب سے پاک ہیں۔ عوام کی استعداد اور خواص کے علمی و فکری معیار پر پورا اترتے ہیں۔ (ع۔ م)
     

  • 2 مسئلہ جمع بین الصلوٰتین (جمعہ 08 مئی 2015ء)

    مشاہدات:1923

    ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں پڑھنا جمع بین الصلوتین کہلاتا ہے۔جمع بین الصلوتین کی دو اقسام ہیں:جمع تقدیم اور جمع تاخیر۔جمع تقدیم یہ ہے کہ بعد والی نماز کو پہلی نماز کے وقت میں پڑھ لیا جائے جیسے نماز عصر کو ظہر کے وقت میں اور نماز عشاء  کو مغرب کے وقت میں پڑھنا ،جبکہ جمع تاخیر یہ ہے کہ پہلی نماز کو لیٹ کر کے دوسرے نماز کے وقت میں پڑھ لیا جائے جیسے نماز ظہر کو نماز عصر کے وقت میں اور نماز مغرب کو نماز عشاء کے وقت میں پڑھنا۔اس کے علاوہ بھی ایک جمع پائی جاتی ہے جسے جمع صوری کا نام دیا جاتا ہے،اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ  پہلی نماز کو اس کے آخری وقت پر اور دوسری نماز کو اس کے اول وقت پر پڑھ لیا جائے۔بہر حال جمع بین الصلوتین  کی  متعدد صورتیں ہیں اور پھر ان صورتوں میں اہل علم کے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ جمع بین الصلوتین"محترم مولانا محمد صدیق بن عبد العزیز کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے  جمع بین الصلوتین کی تعریف،جمع کی اقسام،حالات جمع،سفر ،خوف، مطر،ضروری حاجت اور ناگزیر حالات ،مرض ،حضر میں جمع بین الصلوتین اور سفر میں جمع بین الصلوتین جیسی اہم مباحث کو بیان کیا ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک منفر د اور شاندار تصنیف ہے،جس کا ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 تعلیم الاحکام من بلوغ المرام کتاب الطہارت (جمعرات 04 جون 2015ء)

    مشاہدات:1922

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی  سے  ہوا  صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم  نے ان  مجموعات کے اختصار اور شروح  ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔او ربعض محدثین نے  احوال ظروف کے  مطابق  مختلف  عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔اس سلسلے  میں امام عبد الحق اشبیلی کی  کتاب  ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید  کی  ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی  کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب  مختصر اور  ایک جامع مجموعۂ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے کتاب  کی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر  کئی اہل علم نے  اس  کی  شروحات...

  • 4 تعلیم الفرائض (ہفتہ 12 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:1829

    فوت ہونے والا شخص اپنےپیچھے جو اپنا مال ، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے اسے ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں ۔ کسی مرنے والے مرد یا عورت کی اشیاء اور وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا ملتا ہے شرعی اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے ہیں ۔ علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے ۔قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے ۔چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے ۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نےبھی صحابہ کواس علم کےطرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا ۔صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس،سیدنا عبد اللہ بن مسعود،سیدنا زیدبن ثابت﷢ کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کےبعد زمانےکی ضروریات نےدیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غوروفکر کر کے تفصیلی وجزئی قواعد مستخرج کیے۔اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تعلیم الفرائض‘‘محدث العصر مجتہد وفقیہ حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کے لائق ترین شاگرد اور روپڑی ﷫ کے فتاوی ٰ جات کو تین مجلدات میں فتاویٰ اہل حدیث کے نام سے مرتب کرنے والے ابوالسلام مولانا محمد صدیق سرگودہوی﷫ کی مرتب شدہ ہے ۔ یہ کتاب در اصل محدث روپڑی کے ارشاد پر ’’وارثت اسلامیہ‘‘&...

  • 5 خالص توحید (منگل 01 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:1435

    تمام انبیاء کرام ﷩ ایک ہی پیغام اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام سالہاسال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت نوح ﷤ نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م ﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ خالص توحید ‘‘ شیخ محمد شفیع مکی کی کاوش ہے اس میں انہوں نے مسئلہ توحید کو نہایت وضاحت کےساتھ بیان کیا ہے اور مختلف عنوانات کےتحت دلائل قرآن وحدیث جمع کردئیے ہیں۔ اور مسئلہ توحید کو مدلل اور آسان لفظوں میں بیان کیا ہے ۔ اصلاح عقائد اور تردید شرک کے مسئلہ میں بے حد مفید ہے ہرمسلمان کو اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو پختہ عقیدۂتوحید عطافرمائے کیونکہ توحید ایمان کی بنیاد ہے توحید کےبغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا۔(م۔ا)

  • 6 شیخ محمد بن عبد الوہاب اور انکی دعوت (ہفتہ 30 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1637

    شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫( 1703 - 1792 م) کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔ شیخ موصوف کی دعوتی تحریک تاریخ اسلام کی ان تحریکوں میں سے ہے جن کو بہت زیادہ مقبولیت وشہرت حاصل ہوئی ۔اور یہی وجہ ہےکہ دنیائے اسلام کےہرخطہ میں میں ان کے معاندین ومؤیدین بہت کافی تعداد میں موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ رسالہ’’ شیخ محمد بن عبدالوہاب﷫ اوران کی دعوت‘‘ شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز﷫ کی الجامعۃالاسلامیۃ مدینہ منورہ میں ایک تقریر کا ترجمہ ہے جو انہو ں نےیونیورسٹی کےہال میں علماء وطلبہ کےایک مجمع میں کی تھی اور بعد میں ٹیپ ریکارڈر سے تحریر میں لایاگیا ۔شیخ ابن باز ﷫ نے اپنی اس تقریر میں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی سوانح حیات اور انکی دعوت کو جامع الفاظ میں پیش کیا ہے۔اس رسالہ پر مدینہ یونیورسٹی کے استاد عطیہ محمد سالم نے جامع تقدیم وتعلیق فرمائی اور اس میں شیخ ابن باز ﷫ کا بھی مختصر تذکرہ وتعارف پیش کیا ہے۔اس اہم رسالہ کاترجمہ مولانا عبد العلیم...

  • 7 راہ سنت (اتوار 27 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:1461

    ٖ اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ شرعی علم کے حصول کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں: ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت ۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان دونوں ماخذوں میں سے کسی ایک ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض ہرکارے کا تھا۔معاذ اللہ فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین، بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے  کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "راہ سنت" محترم مولانا ابو السلام محمد صدیق صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے سنت نبوی کی اہمیت و ضرورت اور حجیت پر تفصیلی بحث کی ہے اور منکرین حدیث کے اعتراضات کا کافی وشافی جواب دیا ہے۔ الل...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1457
  • اس ہفتے کے قارئین: 12728
  • اس ماہ کے قارئین: 33421
  • کل مشاہدات: 45345152

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں