اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

  • نام : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #1269

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 23504

    فتاویٰ اہل حدیث - جلد1

    dsa (فتاویٰ اہل حدیث - جلد1) ناشر : ادارہ احیاء السنۃ النبویۃ، سرگودھا

    عبداللہ محدث روپڑی یکتائے روز گار محقق اور اپنے دورکے مجتہد ہونے کے علاوہ علم و فضل کے روشن مینار تھے۔ تفسیر اورحدیث میں آپ کو جامع بصیرت حاصل تھی۔ احکام و مسائل اور ان کے اسباب و علل پر گہری نظر رکھتے تھے۔آپ  نے اپنی زندگی میں دین کے ہر شعبہ سے متعلق سوالات کے کتاب و سنت کی روشنی میں جوابات دئیے۔ یہ فتاوی جات عوام و خواص اور طالبان علم کے لیے نہایت قیمتی ہیں ان کی اسی اہمیت کے پیش نظر ان تمام فتاوی جات کو کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ کتاب کو ’فتاوی اہل حدیث‘ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ مولانا کا تمام تر انحصار قرآن اور حدیث پر رہا ہے اور قیاس وعلت و معلول جیسی بحثوں سے اجتناب کیا گیا ہے۔ فتاوی جات تحقیق سے مزین اور تعصب سے پاک ہیں۔ عوام کی استعداد اور خواص کے علمی و فکری معیار پر پورا اترتے ہیں۔ (ع۔ م)
     

  • 2 #2746

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 2531

    درایت تفسیری

    (درایت تفسیری) ناشر : نا معلوم

    متحدہ پنجاب کے جن اہل  حدیث خاندانوں نے تدریس  وتبلیغ اور مناظرات ومباحث  میں شہرت پائی ان میں  روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے  ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث  روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم  محدث ،مجتہد مفتی اور  محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی﷭ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ  وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مذکورہ خدمات کے علاوہ  مختلف موضوعات  پر  تقریبا  80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی  )فرماتے ہیں  حافظ عبد اللہ  روپڑی  جیسا ذی علم اور  لائق استاد تمام  ہندوستان میں کہیں  نہیں ملےگا۔ہندوستان  میں ان کی نظیر نہیں۔زیر تبصرہ کتاب ’’ درایت تفسیری‘‘ مجتہد العصر  حافظ عبد اللہ محدث روپڑی﷫ کی اصول  تفسیر کے موضوع پرایک اہم اور بے مثال تالیف ہے ۔یہ کتاب محدث روپڑی کی تعلیمی دور  سے فراغت کے بعد پہلی کتاب ہے ۔ یہ کتاب دراصل  محدث روپڑی نے   فاتح قادیان  مولانا  ثناء اللہ امرتسری ﷫ کی  کتاب کے رد میں لکھی تھی ۔  اس کتاب کا تعارف  کراتے ہوئے  مینجر اخبار ’’تنظیم اہلحدیث ‘‘ روپڑ ضلع ابنالہ لکھتے ہیں :’’آج کا خصوصیت کے ساتھ کچھ ایسی آزادی ہوگئی ہے کہ ہرفرقہ قرآن مجید سے استدلال کرتا ہے  اور تروڑ مروڑ کر اپنے موافق کرلیتا ہے ۔ اس رسالہ میں بتلایا گیا ہے کہ کن اصولوں پر تفسیر کرنی چاہیے اور صحیح تفسیر کونسی  ہے  ‘‘اللہ تعالیٰ محدث روپڑی  کی  مرقد پر  اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطافرمائے (آمین) (م۔ا)

     

  • 3 #3174

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 1896

    لاؤڈ سپیکر اور نماز

    (لاؤڈ سپیکر اور نماز) ناشر : جامعہ قدس اہلحدیث لاہور

    دین اسلام کے فروغ کے لئےجدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ زیر نظر تحریر" لاوڈ سپیکر اور نماز " آ ج سے پچھتر سال قبل ۱۹۴۰ ء میں اس وقت شائع ہوئی جب لاوڈ سپیکر اور ریڈیو نیا نیا ایجاد ہو کر عام استعمال میں آیا،اور اسے نماز ،جمعہ اور عیدین میں استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔لاوڈ سپیکر ایک جدید ایجاد تھی ،جس کے نماز میں جائز وناجائز اور استعمال یا عدم استعمال  کے بارے میں اہل علم  نے غور وفکر کرنا شروع کیا تو مختلف طبقات میں تقسیم ہو گئے۔بعض اس کے  مطلقا استعما ل کے قائل تھے تو بعض مطلقا حرمت کے علمبردارتھےاور اسے آلہ لہو ولعب قرار دے رہے تھے۔اہل علم کے اس  شدید اختلاف کو دیکھ کر عامۃ الناس  حیران وپریشان ہوگئے کہ اب اس کا کیا حل نکالا جائے۔یہ بحث اس زمانے میں سب سے زیادہ بنگلور میں اٹھی ۔چنانچہ اہل بنگلور نے ایک استفتاء معروف علماء کرام کےنام بھیجا ،اور ان سے فتوی طلب کیا۔جن علماء کی طرف یہ مراسلہ بھیجا گیا ان میں سے ایک مراسلہ مدیر تنظیم محترم مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫کے نام روپڑ آیا۔آپ نے مکالمے کی شکل میں  اس مراسلے کا ایسا زبر دست اور شاندار جواب دیا کہ اس پرسب  عش عش کر اٹھے۔آپ کا وہ جواب اس وقت آپ کے سامنے ہے،کہ نماز میں لاوڈ سپیکر کا استعمال بالکل جائز اور درست ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 4 #3180

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 1938

    تعلیم الصلٰوۃ

    (تعلیم الصلٰوۃ) ناشر : مکتبہ تنظیم اہلحدیث جامع قدس لاہور

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تعلیم الصلاۃ" پاکستان کے معروف اہل حدیث عالم دین روپڑی خاندان کے جد امجد اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے مدیر اعلیٰ  ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب﷾کے تایا جان مجتہد العصر علامہ حافظ محمد عبد اللہ محدث روپڑی صاحب ﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نےنماز کی اہمیت وفضیلت اور مقام ومرتبے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوءے نماز کا مکمل طریقہ بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو نماز کا پابند بنائے۔آمین(راسخ)

  • 5 #3208

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 2389

    رد بدعات ( عبد اللہ روپڑی)

    (رد بدعات ( عبد اللہ روپڑی)) ناشر : نا معلوم

    اللہ تعالی نے جن وانس کو صر ف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56) ’’میں نے  جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے  پیدا کیا وہ  صرف میری عبادت کریں‘‘ او ر عبادت کےلیے    اللہ تعالیٰ   نے  زندگی کا کو ئی خاص زمانہ یا سال کا کوئی مہینہ  یا ہفتے کا کو ئی  خاص  دن  یا کوئی خاص رات متعین  نہیں کی  کہ بس اسی میں اللہ تعالیٰ کی  عبادت کی جائے اور باقی زمانہ عبادت سے  غفلت میں گزار دیا جائے بلکہ انسان کی تخلیق  کا اصل  مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ سنِ بلوغ سے لے کر زندگی کے آخری دم تک   اسے ہر لمحہ عبادت  میں  گزارنا چاہیے ۔ لیکن اس وقت   مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے  اور بعض مسلمانوں  نے  سال  کے  مختلف مہینوں میں صرف مخصوص دنوں کو  ہی عبادت کےلیے خاص کررکھا ہے اور ان میں  طرح طرح کی   عبادات کو  دین   میں شامل کر رکھا ہے  جن کا کتاب وسنت سے   کوئی ثبوت نہیں ہے  ۔اور جس کا ثبوت کتاب اللہ  اور سنت رسول  ﷺ سے  نہ ملتا ہو وہ بدعت  ہے اور ہر بدعت گمراہی  ہے   بدعت اور شرک ایسے جرم ہیں جو توبہ کے  بغیر معاف نہیں ہوتے ۔ شرک تو لیے  کہ مشرک اللہ کے علاوہ کسی اور کو مالک الملک کی وحدانیت کےبرابر لانے کی ناکام کوشش کرتا ہے اور بدعت اس لیے کہ بدعتی اپنے عمل سےیہ تاثر دیتا ہے کہ دین نامکمل تھا اور اس نے دین میں یہ اضافہ کر کے اسے مکمل کیا ہے ۔یعنی  شریعت سازی کی مساعی ناتمام کادوسرا نام بدعت ہے ۔  اس  وقت بدعات وخرافات  اور علماء سوء نے پورے  دین کو  اپنی  لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وقت کے  راہبوں ،صوفیوں،  نفس پرستوں او رنام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے  قال اللہ وقال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار وخیالات اور   طرح طرح کی بدعات وخرافات  نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے  اسلام کی اصل  شکل گم ہوتی جارہی ہے ۔اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی  ہے۔دن کی بدعات  الگ  ہیں ، ہفتے کی بدعات الگ ،مہینے کی بدعات الگ،عبادات کی بدعات الگ ،ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔بدعات وخرافات کی تردید  اور اتباع سنت کواجاگر کرنے کے لیے  ہر دور میں   اہل علم نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ ردِّ بدعات ‘‘ مجتہد العصر  حافظ عبد اللہ  محدث روپڑی ﷫ کا تصنیف شدہ ہے ۔ جس میں انہوں نے   مندرجہ ذیل مسائل کی  پوری تحقیق پیش کی ہے ۔اسقاط میت ،  میت کودفن کر کے چالیس قدم پر دعا کرنا ، اہل میت  کے گھر فاتحہ کےلیے  جمع ہونا ، اہل  میت کا دریا پر نہانا ، اہل میت کے گھر کچھ روز  تک گوشت نہ آنے دینا ، بچہ کے ختنہ کے وقت تلوار لے کر کھڑے  ہونا او ربچہ کوٹوکری میں  رکھ  بکری کے سر پر بٹھانا ، خطبہ  میں سنتیں پڑہنا ، مسئلہ توسل ، ذکر لا الہٰ الا اللہ جمع ہو کر تمام رات  پڑھنا،  اذان میں محمد ﷺ کے نام  پر انگوٹھے  چوم کر آنکھوں پر ملنا، ظہر احطتیاطی پڑہنا ،  انگریزی بال رکھنا ، ڈاڑہی منڈانا ، گیارہویں  کا ختم ،  سماع موتی،  قبوں کاگرانا، حدیث  قرن شیطان، اہل نجد کاذکر  معنیٰ بدعت ، مسئلہ تقلید (م۔ا)
     

  • 6 #3238

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 2501

    آلہ جہیر الصوت وغیرہ کی شرعی حیثیت

    (آلہ جہیر الصوت وغیرہ کی شرعی حیثیت) ناشر : جامعہ قدس اہلحدیث لاہور

    دین اسلام کے فروغ کے لئےجدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔زیر نظر تحریر" لاوڈ سپیکر اور نماز " آ ج سے پچھتر سال قبل ۱۹۴۰ ء میں اس وقت شائع ہوئی جب لاوڈ سپیکر اور ریڈیو نیا نیا ایجاد ہو کر عام استعمال میں آیا،اور اسے نماز ،جمعہ اور عیدین میں استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔لاوڈ سپیکر ایک جدید ایجاد تھی ،جس کے نماز میں جائز وناجائز اور استعمال یا عدم استعمال  کے بارے میں اہل علم  نے غور وفکر کرنا شروع کیا تو مختلف طبقات میں تقسیم ہو گئے۔بعض اس کے  مطلقا استعما ل کے قائل تھے تو بعض مطلقا حرمت کے علمبردارتھےاور اسے آلہ لہو ولعب قرار دے رہے تھے۔اہل علم کے اس  شدید اختلاف کو دیکھ کر عامۃ الناس  حیران وپریشان ہوگئے کہ اب اس کا کیا حل نکالا جائے۔یہ بحث اس زمانے میں سب سے زیادہ بنگلور میں اٹھی ۔چنانچہ اہل بنگلور نے ایک استفتاء معروف علماء کرام کےنام بھیجا ،اور ان سے فتوی طلب کیا۔جن علماء کی طرف یہ مراسلہ بھیجا گیا ان میں سے ایک مراسلہ مدیر تنظیم محترم مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫کے نام روپڑ آیا۔آپ نے مکالمے کی شکل میں  اس مراسلے کا ایسا زبر دست اور شاندار جواب دیا کہ اس پرسب  عش عش کر اٹھے۔آپ کا وہ جواب اس وقت آپ کے سامنے ہے،کہ نماز میں لاوڈ سپیکر کا استعمال بالکل جائز اور درست ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 7 #3273

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 2225

    اطفاء الشمعہ فی ظہر الجمعہ بجواب نور الشمعہ فی ظہر الجمعہ ( عبد اللہ روپڑی )

    (اطفاء الشمعہ فی ظہر الجمعہ بجواب نور الشمعہ فی ظہر الجمعہ ( عبد اللہ روپڑی )) ناشر : نا معلوم

    دیہاتوں میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے حوالے سے علماء احناف ہمیشہ سے تردد کا شکار رہے ہیں اورمختلف شرائط بیان کرتے چلے آئے ہیں۔اسی طرح بعض لوگوں کا یہ طریقہ کار ہے کہ وہ شہروں میں نماز جمعہ کے بعد ظہر احتیاطی پڑھتے ہیں۔ان کی نظر میں اگرچہ جمعہ کی کچھ اہمیت نہیں ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسےجمعہ کے دن کی فضیلت باقی دنوں پر ہے،لیلۃ القدر کی فضیلت باقی راتوں پر ہے،اسی طرح نماز جمعہ کو باقی نمازوں پر فضیلت حاصل ہے۔اس کو اہمیت نہ دینا اور معمولی شبہات کی بناء پر اس میں سستی کرنا یا بالکل ترک کر دینا بلکہ پڑھنے والوں سے چھڑانے کی کوشش کرنا یہ ڈبل غلطی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اطفاء الشمعہ فی ظہر الجمعہ بجواب نور الشمعہ فی ظہر الجمعہ " مجلس التحقیق الاسلامی کے رئیس ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾کے تایا جان اورہندوستان کے معروف عالم دین حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کی تصنیف ہے ،جو مولوی احمد علی صاحب بٹالوی﷫ پروفیسر دینیات اسلامیہ کالج لاہور کی کتاب ""نور الشمعہ فی ظہر الجمعہ"کے جواب میں لکھی ہے۔مولوی احمد علی صاحب﷫ نے اپنی اس کتاب میں ظہر احتیاطی پڑھنے  کی ترغیب دیتے ہوئے فرضیت جمعہ سے خوب ہاتھ صاف کیا ہے اور اس کو اتنا کمزور دکھایا ہے کہ وہ اس میں نفل کی جھلک بھی نظر نہ آئے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں شرائط جمعہ پر بحث کرتے ہوئے علماء احناف کے تمام رسائل جو ہندوستان میں شائع ہو چکے تھے ۔قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا مکمل جواب دیا ہے۔اللہ  تعالی سے دعا ہے کہ وہ  ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 8 #3278

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 2165

    مسئلہ تکبیرات عیدین

    (مسئلہ تکبیرات عیدین) ناشر : مکتبہ تنظیم اہلحدیث جامع قدس لاہور

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔لیکن نماز وہ مقبول ہے جو نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔نماز کی متعدد انواع ہیں جن میں سے ایک نماز عیدین ہے۔نماز عیدین کی تکبیرات کی تعداد کے حوالے سے اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے۔اہل حدیث علماء کرام بارہ جبکہ علماء احناف چھ تکبیرات کے قائل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ تکبیرات عیدین" پاکستان کے معروف عالم دین ،مجلس التحقیق الاسلامی اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے مدیر اعلی ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی امرتسری صاحب﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نےنماز عیدین کی بارہ تکبیرات کی تعداد کو احادیث مبارکہ کی روشنی میں بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 9 #3409

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 2698

    مسئلہ ارسال الیدین بعد الرکوع (رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنا)

    (مسئلہ ارسال الیدین بعد الرکوع (رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنا)) ناشر : مکتبہ تنظیم اہل حدیث، لاہور

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ اقرار شہادتین کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنےیا چھوڑنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے،بلکہ کھلے چھوڑ دئیے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ ارسال الیدین بعد الرکوع (رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنا)" پاکستان کے معروف عالم دین اور مجلس التحقیق الاسلامی کے رئیس حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب ﷾کے تایا جان محترم حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔ اس سے پہلےمحترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫کی کتاب "القنوط والیأس لأھل الارسال من نیل الامانی وحصول الآمال" اور قاضی مولوی یوسف حسین خانپوری ﷫ کا رسالہ "اتمام الخشوع بوضع الیمین علی الشمال بعد الرکوع" منظر عام پر آچکے تھے، جن سے لوگوں کے اندر رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے یا چھوڑنے کے حوالے سے ایک بحث پیدا ہوچکی تھی۔چنانچہ مولف موصوف ﷫نے اس بحث میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے دلائل کے ساتھ رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کا موقف اختیار کیا۔ رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کے حوالے سے حافظ عبد اللہ بہاولپوری صاحب ﷫ کی ایک کتاب بھی پہلے اپلوڈ کی جا چکی ہے۔ چونکہ دونوں موقف ہی علمی اور اجتہادی محنت پر مشتمل ہیں،لہذا ہم نے دونوں طرح کے موقف پر مشتمل کتابیں ہیں اپلوڈ کر دی ہیں تاکہ اہل علم دونوں کا مطالعہ کر کے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ اللہ تعالی دونوں مولفین کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 10 #3512

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 1783

    مسئلہ عرس اور گیارہویں

    (مسئلہ عرس اور گیارہویں) ناشر : مکتبہ تنظیم اہل حدیث، لاہور

    نبی کریمﷺ دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ ﷺنے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی ہے۔اور اس امر کی بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات میں سے ایک عرس اور گیارہویں کی بدعت بھی ہے۔جس کا اسلام ،شریعت ،نبی کریمﷺ ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بعد میں گھڑی جانے والی بدعات میں سے ایک بدعت ہے۔ زیر نظر کتاب "مسئلہ عرس اور گیارہویں" ہندوستان کے معروف عالم دین، جامعہ لاہور الاسلامیہ اور مجلس التحقیق الاسلامی کے رئیس حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب﷾ کے تایا جان محترم حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جو مولوی محمد شریف نوری لاہور کے رسالے "مسئلہ گیارہویں" کا جواب ہے۔مولف موصوف﷫ نے اس کتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں عرسوں اور گیارہویں کے بدعت ہونے پر دلائل پیش کئے ہیں،اور تمام مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ سنت کی اتباع کریں اور بدعات سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

< 1 2 3 >

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1943
  • اس ہفتے کے قارئین 14593
  • اس ماہ کے قارئین 38133
  • کل قارئین49241234

موضوعاتی فہرست