اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #1600

    مصنف : حافظ عبد القادر روپڑی

    مشاہدات : 23672

    میزان مناظرہ حصہ اول

    (بدھ 19 دسمبر 2012ء) ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی لاہور

    حضرت مولانا عبدالقادر روپڑی اہل حدیث کے مایہ ناز مناظر، ہر دلعزیز خطیب، سیاسی رہنما اور تحریک پاکستان کے نامور مجاہد تھے۔ ایسی نابغہ روزگار شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔ آپ کے علمی، دینی، تبلیغی اور ملی خدمات کا دائرہ بے حد وسیع ہے ۔ آپ مسلک اہل حدیث کے دفاع کے لیے ہر وقت آمادہ رہتے ان کی پوری زندگی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے بسر ہوئی۔ زیر تبصرہ کتاب میں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے مسئلہ مسنون تراویح، صداقت مسلک اہل حدیث اور ضلالت بریلویت، فاتحہ خلف الامام، بشریت مصطفیٰﷺ، مسئلہ حاضر و ناظر، نفی علم غیب، مسئلہ استمداد لغیر اللہ، عدم سماع موتی اور ایسے ہی دیگر عنوانات پر مناظروں کی روداد قلمبند کی گئی ہے اور ان مناظروں میں حضرت حافظ صاحب نے بہت سلجھے  انداز میں کتاب و سنت کے دلائل و براہین دیتے ہوئے اپنے حریفوں کو شکست سے دوچار کر رکھا ہے یہ ایمان افروز روداد علما، طلبہ اور پڑھے لکھے احباب کے لیے یکساں مفید ہے۔اس فن سے دلچسپی رکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کتاب کا ایک ایک لفظ بغور پڑھیں کیونکہ اس فن میں الفاظ کی پہچان اور ہیر پھیر بھی نتائج بدلنے میں اپنا اثر رکھتے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 2 #1600.01

    مصنف : حافظ عبد القادر روپڑی

    مشاہدات : 23252

    میزان مناظرہ حصہ دوم

    (جمعرات 20 دسمبر 2012ء) ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی لاہور

    حضرت مولانا عبدالقادر روپڑی اہل حدیث کے مایہ ناز مناظر، ہر دلعزیز خطیب، سیاسی رہنما اور تحریک پاکستان کے نامور مجاہد تھے۔ ایسی نابغہ روزگار شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔ آپ کے علمی، دینی، تبلیغی اور ملی خدمات کا دائرہ بے حد وسیع ہے ۔ آپ مسلک اہل حدیث کے دفاع کے لیے ہر وقت آمادہ رہتے ان کی پوری زندگی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے بسر ہوئی۔ زیر تبصرہ کتاب میں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے مسئلہ مسنون تراویح، صداقت مسلک اہل حدیث اور ضلالت بریلویت، فاتحہ خلف الامام، بشریت مصطفیٰﷺ، مسئلہ حاضر و ناظر، نفی علم غیب، مسئلہ استمداد لغیر اللہ، عدم سماع موتی اور ایسے ہی دیگر عنوانات پر مناظروں کی روداد قلمبند کی گئی ہے اور ان مناظروں میں حضرت حافظ صاحب نے بہت سلجھے  انداز میں کتاب و سنت کے دلائل و براہین دیتے ہوئے اپنے حریفوں کو شکست سے دوچار کر رکھا ہے یہ ایمان افروز روداد علما، طلبہ اور پڑھے لکھے احباب کے لیے یکساں مفید ہے۔اس فن سے دلچسپی رکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کتاب کا ایک ایک لفظ بغور پڑھیں کیونکہ اس فن میں الفاظ کی پہچان اور ہیر پھیر بھی نتائج بدلنے میں اپنا اثر رکھتے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 3 #1988

    مصنف : عبد الرشید عراقی

    مشاہدات : 2468

    تذکرہ محدث روپڑی

    (بدھ 23 اپریل 2014ء) ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی لاہور

    متحدہ پنجاب کے جن اہل حدیث خاندانوں نے تدریس وتبلیغ اور مناظرات ومباحث میں شہرت پائی ان میں روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ''تنظیم اہلحدیث'' نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ''تنظیم اہلحدیث'' کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی رحمہم اللہ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی وغیرہم۔ ''تنظیم اہلحدیث''کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مذکورہ خدمات کے علاوہ مختلف موضوعات پر تقریبا 80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی )فرماتے ہیں حافظ عبد اللہ روپڑی جیسا ذی علم اور لائق استاد تمام ہندوستان میں کہیں نہیں ملےگا۔ہندوستان میں ان کی نظیر نہیں۔ زیر نظر کتابچہ مولانا عبد الرشید عراقی﷾ کا تالیف کردہ ہے جس میں انہوں نے محدث روپڑی کی خدمات اور ان کے اساتذہ وتلامذہ کا اختصار کے ساتھ تذکرہ کیا ہے ۔مزید تفیلات کے لیے ماہنامہ محدث جلد 18،23،32اور بزم ِارجمندہ،روپڑی علمائے حدیث از مولانا محمداسحاق بھٹی﷾ ملاحظہ فرمائیں اور اسی طرح مدیراعلی ماہنامہ محدث لاہور کی دختر پروفیسر ڈاکٹر حافظہ مریم مدنی کا مقالہ برائے ایم فل بعنوان ''محدث روپڑی اور تفسیری درایت کے اصول'' بھی لائق مطالعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ محدث روپڑی کے درجات کو بلند فرمائے او ران کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے ۔اور ان کے اخلاف کو ان کی علمی وتحقیقی خدمات اور ان کی نایاب کتب کو منظر عام پرلانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) (م۔ا )

     

     

  • 4 #2277

    مصنف : محمد اسحاق بھٹی

    مشاہدات : 2451

    روپڑی علمائے حدیث

    (جمعہ 15 اگست 2014ء) ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی لاہور

    متحدہ پنجاب کے جن اہل  حدیث خاندانوں نے تدریس  وتبلیغ اور مناظرات ومباحث  میں شہرت پائی ان میں  روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے  ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث  روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی رحمہم اللہ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مذکورہ خدمات کے علاوہ  مختلف موضوعات  پر  تقریبا  80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی  )فرماتے ہیں  حافظ عبد اللہ  روپڑی  جیسا ذی علم اور  لائق استاد تمام  ہندوستان میں کہیں  نہیں ملےگا۔ہندوستان  میں ان کی نظیر نہیں۔ زیر نظرکتاب  ’’ روپڑی  علمائے حدیث‘‘ مؤرخ اہل  حدیث  محترم  مولانا محمد  اسحاق بھٹی ﷾ کی تصنیف ہے جس میں  انہوں  نے  حافظ عبد اللہ  محدث  روپڑی  کے تفصیلی حالات اور ان کی علمی  وتصنیفی  خدمات کو بیان کرنے کےساتھ ان کے بعض تلامذہ  کا بھی  مختصرا ًذکر کیا ہے  ۔اس کے بعد  محدث روپڑی کے برادران  میں  سے حافظ محمد حسین روپڑی(والد گرامی  حافظ عبدالرحمن مدنی﷾  مدیر اعلی  ماہنامہ محدث ،لاہور) اور حافظ عبدالرحمن کمیر پوری  کے  حالات  قلمبند کیے ہیں ۔اور پھر محدث  روپڑی کے بھتیجوں میں  سے خطیب ملت  حافظ  اسماعیل  روپڑی ،مناظر اسلام  حافظ عبدالقادر روپڑی ، عالم اسلام کے عظیم سکالر حافظ عبدالرحمن مدنی اور حافظ عبدالوحید روپڑی  وغیرہ کے حالات بیان کرنےکےعلاوہ  جامعہ اہل حدیث، ہفت  روزہ تنظیم  اہل  حدیث  چوک دالگراں،لاہور کےذمہ داران  حافظ عبدالغفار روپڑی اور حافظ عبد الوہاب روپڑی  کابھی مختصراً تذکرہ کیا ہے ۔روپڑی خاندان کے حالات واقعات کے معلومات حاصل کرنے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے  اس کتاب  میں ماہنامہ محدث ،لاہورکے بعض مطبوعہ مضامین بھی شامل ہیں۔اللہ تعالی اس خاندان کی دینِ اسلام کےلیےتمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے  (آمین)(م۔ا)
     

     

  • 5 #3084

    مصنف : حافظ عبد الوہاب روپڑی

    مشاہدات : 3202

    توضیح القرآن تفسیر سورہ المائدہ

    (اتوار 19 اپریل 2015ء) ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی لاہور

    قرآن  مجید پوری انسانیت کے لیے  کتاب ِہدایت ہے  او ر اسے  یہ اعزاز حاصل ہے   کہ دنیا بھرمیں  سب   سے زیاد  ہ پڑھی جانے  والی  کتاب ہے  ۔   اسے  پڑھنے پڑھانے والوں کو   امامِ کائنات   نے    اپنی  زبانِ صادقہ سے   معاشرے   کے  بہتر ین  لوگ قراردیا ہے  اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ  تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت  کرتے ہیں۔   دور ِصحابہ سے لے کر  دورِ حاضر  تک بے شمار اہل  علم نے  اس کی تفہیم  وتشریح اور  ترجمہ وتفسیرکرنے کی  خدمات   سر انجام دیں اور  ائمہ محدثین نے  کتبِ احادیث میں  باقاعدہ  ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے۔اور بعض مفسرین نے    بعض سورتوں کی الگ الگ  تفسیر اور  ان کے   مفاہیم  ومطالب   سمجھا نے کےلیے  بھی کتب تصنیف  کی ہیں  جیسے  معوذتین ،سورہ اخلاص، سورۂ فاتحہ ،سورۂ یوسف ،سورۂ کہف، سورۂ ملک  وغیرہ کی الگ الگ تفاسیر قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’توضیح  الفرقان تفسیر سورۃ المائدۃ ‘‘ مولانا حافظ  عبدالوہاب روپڑی﷾ کی  کاوش  ہے ۔ اس میں  الفاظ  کے معانی  آیات کے شان نزول اور تفسیر ی مطالب حسب ترتیب قلم بند کیے گئے ہیں ، بڑی سہل الفہم اور علمی فوائد اور تفسیری نکات پر مشتمل ہے ۔اسلوب سہل انگیز اور دل نشیں ہے اور استنباط احکام پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔  مصنف کتاب  ہذا حافظ  عبدالوہاب روپڑی صاحب روپڑی خاندان کے  چشم وچراغ ہیں  ۔ موصوف  نے   دینی  تعلیم جامعہ لاہور الاسلامیہ  ،لاہور  سے  حاصل کی  پھر  جامعہ ام القریٰ  تشریف گے  اور وہاں سے  سند فراغت حاصل   کر کے       وطن واپس تشریف لائے اور  عبد اللہ محدث روپڑی﷫  کی قائم کردہ درس گاہ جامعہ اہل حدیث  چوک دالگراں میں   تدریسی  خدمات انجام دینے کے علاوہ  دعوتی وتصنیفی خدمات بھی انجام دے رہے ہیں ۔موصوف صاحب قلم اور اچھے خطیب  بھی ہیں ۔ ان کے زیر اہتمام محدث روپڑی اکیڈمی بھی قائم ہے جس کی  طرف سے محدث روپڑی ﷫ کی بعض علمی اور تحقیقی کتب اور سلطان المناظرین حافظ عبد القادر روپڑی ﷫ کے مناظرات بنام میزان المناظرہ اور خطبات طبع ہوچکے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی  دعوتی و تبلیغی، تدریسی وتصنیفی خدمات کو  قبول فرمائے  اورتفسیری  سلسلہ   کو   پایہ تکمیل تک پہنچانےکی توفیق عطافرمائے ( آمین )(م۔ا)
     

  • 6 #4721

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 2440

    سماع موتی

    (پیر 18 جولائی 2016ء) ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی لاہور

    دین اسلام کی اساس عقیدہ توحید پر مبنی ہےلیکن صد افسوس کہ امت محمد یہ میں سے بہت سے لوگ  مختلف انداز میں شرک جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہیں- سماع موتٰی یعنی مُردوں کے سننے  کا مسئلہ شرک  کا سب سے بڑا چور دروازہ ہے۔ موجودہ دور میں یہ مسئلہ اس قدر سنگینی اختیار کر گیا ہے کہ قائلین سماع موتٰی نہ صرف مردوں کے سننے کے قائل ہیں بلکہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ مردے سن کر جواب بھی دیتے ہیں اور حاجات بھی پوری کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ( فَاِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ )[30:الروم:52] ’’اے نبی! اور تو کوئی مردے کو کیا سنائے گا۔ آپ بھی مردوں کو نہیں سنا سکتے جیسا کہ بہروں کو نہیں سنا سکتے۔‘‘ بہرے کے کان تو ہوتے ہیں‘ لیکن سننے کی طاقت نہیں ہوتی۔ جب وہ نہیں سن سکتا تو مردہ کیا سنے گا جس میں نہ سننے کی طاقت رہی اور نہ سننے کا آلہ۔ ہاں اﷲ تعالیٰ اس حالت میں بھی اس کے ذرات کو سنا سکتا ہے۔ کسی اور کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۔ چنانچہ فرمایا: ( اِنَّ ﷲَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُج وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ)[35:الفاطر:22]’’ اﷲ تو جسے چاہے سنا دے‘ کان ہوں‘ یا نہ ہوں ‘ لیکن اے پیغمبر! آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں‘‘یعنی مردہ ہیں۔ اب اس قدر وضاحت کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مردے سنتے ہیں؟زیر تبصرہ کتاب"سماع موتی"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے رئیس ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الاسلام حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مستند دلائل کے ساتھ سماع موتی کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔کتاب کی تبویب وتخریج حافظ عبد الوھاب روپڑی صاحب نے فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 7 #4921

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 1717

    توحید الرحمٰن بجواب استمداد از عباد الرحمٰن

    (پیر 21 نومبر 2016ء) ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی لاہور

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کا معنیٰ یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا عمل ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ توحید الرحمان بجواب استمداد از عبادالرحمٰن‘‘ حضرت العلام محدث العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑی ﷫ کی تصنیف ہے جو انہوں نے 1959ء میں انجمن حزب الاحناف ،لاہور کی طرف سے شائع کردہ کتاب ’’ استمداد ازعبادالرحمٰن‘‘ کےجواب میں تحریرکی ۔حافظ صاحب مرحوم کی یہ کتاب ان کی زندگی میں تبویب وتصویب جدید سے شائع نہ ہوسکی۔بعد ازاں ان کے اخلاف حافظ عبد الوہاب روپڑی ﷾ نےاس کتاب کو تبویب وترتیب کےساتھ شائع کیا ہے تاکہ عوام الناس ان علمی جواہرپاروں سے استفادہ کرسکیں اور شرکیہ ظلمات سےباہر آکر نجات اخروی حاصل کرسکیں۔محدث روپڑی اکیڈمی نے اس کتاب کےعلاوہ بھی محدث روپڑی بعض کتب(انسانی زندگی کامقصد، زیارت قبر نبویﷺ، ارسال الیدین بعدالرکوع، تحقیق التراویح، تقلید اور علماء دیوبند، وسیلہ بزرگان ، رد بدعات ) کو دوبارہ شائع کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 8 #4928

    مصنف : عبد اللطیف حلیم

    مشاہدات : 1970

    خطبات سلطان المناظرین حافظ عبد القادر روپڑی

    (پیر 28 نومبر 2016ء) ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی لاہور

    برصغیر پاک و ہند میں بہت سی ایسی نابغہ روزگار شخصیات نے جنم لیا جنہیں عالمِ اسلام اور پاک و ہند کی عوام عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہے عالمِ اسلام کی ان ہردلعزیز شخصیات میں سے فن مناظرہ کے امام ، نامور خطیب و ادیب اور ایک کامیاب سیاستدان مولانا حافظ عبدالقادرروپڑی ﷫بھی ہیں جو کتاب اللہ اور علوم اسلامی کے ممتاز عالمِ دین تھے۔ آپ نے 1920ءمیں میاں رحیم بخش کے گھر میں جنم لیا آپ کا گھرانہ دینی، علمی، ادبی اور روحانیت کے اعتبار سے بلند مقام رکھتا تھا آپ کو قدرتِ الٰہی نے اعلیٰ ذہانت و فطانت سے نواز رکھا تھا آپ نے ابتدائی عصری تعلیم کے بعد اپنے چچا محدث زماں حضرت العلام حافظ عبداللہ روپڑی ﷫ کی نگرانی میں درس نظامی کی تکمیل میں غالباً سات سال صرف کئے۔ حافظ روپڑی جس دور میں حصول تعلیم میں مصروف و مشغول تھے وہ دور مناظروں کا دور کہلاتا ہے آپ کا طبعی میلان فن مناظرہ اور تقاریر کی طرف طالب علمی کے زمانے ہی سے تھا دوران تعلیم ہی انہوں نے مناظرے کرنے شروع کر دیئے تھے جو کہ تاحیات جاری رہے۔ آپ نے عیسائیوں، ہندوں، سکھوں، آریہ سماج، مرزائیوں، چکڑالوی اور مختلف مذاہب کے بڑے بڑے رہنماؤں کو شکست دی۔ حافظ صاحب میدان مناظرہ میں سلطان المناظرین کےنام سے پہنچانے جاتے اور خطابت کے میدان میں بھی وہ اپنی مثال آپ تھے یعنی فن مناظرہ کےساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطیبانہ صلاحیتوں سے بھی خوب نوازاتھامشکل سے مشکل بات کو لوگوں کے سامنے ایسے آسان اور عام فہم انداز میں پیش کرتے کہ عام آدمی بھی ان کابیان سن کر علم کے موتیوں سے آراستہ ہوجاتا وہ اپنے خطابات میں عقائد کی اصلاح پر زیادہ زور دیا کرتے تاکہ لوگ عقیدہ توحید میں پختہ ہوجائیں یہی وجہ تھی کہ آپ کےخطبات کو سن کو بہت زیادہ لوگوں یعنی ہندؤوں ، عیسائیوں، آریہ ، سکھوں، قادیانیوں نے اپنے مذاہب چھوڑ کر دین اسلام کوقبول کیا اوربعض ضعیف العقیدہ مسلمان جو شرک ، رسومات اور بدعات کے عادی سنت نبویہ سے نفرت کرنے والے بھی آپ کےخطابات سن کر بدعات ورسومات اور خرافات کوچھوڑ کر سنت نبویﷺ کواپنے لیےمشعل راہ سمجھنے والے ہوگئے ۔مناظرہ اور خطابت کےساتھ ساتھ آپ نے مسلم لیگ کی سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا یہاں تک کہ محنت شاقہ اور ممتاز کارکردگی کی بنا پر ان کو روپڑ کی مسلم لیگ کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ موصوف تحریک آزادی کی سرگرمیوں کی بنا پر قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار ہوئے چنانچہ 35 رفقاءسمیت ان کو انبالہ جیل میں پابندِ سلاسل کیا گیا ۔ تقسیم ملک کے موقع پر ان کے خاندان سے سترہ افراد دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے ان کی خاندان کی ملکیت بہت بڑی اسلامی لائبریری کو اسلام دشمنوں نے آگ لگا کر خاکستر کر دیا تھا، ۔جتنی تحریکیں پاکستان میں اٹھتی رہیں ان میں آپ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بالخصوص تحریک ختم نبوت میں مولانا مفتی محمود، سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالستارخان نیازی اور نوابزادہ نصراللہ خاں وغیرہ کے ہمراہ حضرت روپڑی نے بھی جاندار اور شاندار کردار ادا کیا تھا۔ 1964ءمیں مولانا عبداللہ محدث روپڑی کی وفات کے بعد آپ جامعہ اہلحدیث اور ہفت روزہ ”تنظیم اہلحدیث“ لاہور کے نگران مقرر ہوئے انہوں نے تاحیات بخوبی یہ ذمہ داری نبھائی دن کو جامعہ میں تدریس اور رات کومختلف مقامات پر کانفرنسوں سے خطاب کرتے اس دوران آپ کو امریکہ، برطانیہ، امارات اور دیگر کئی ممالک میں آپ کو خطابات کےلئے خصوصی دعوت دی جاتی رہی۔ آخری عمرمیں چھ سال تک آپ بیمار رہے اس دوران بیرون ممالک سے پاکستان میں آنے والی شخصیات میں سے الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل امامِ کعبہ اور قائم مقام ولی عہد شہزادہ عبداللہ کے نمائندہ اور دیگر کئی رہنما آپ کی عیادت کےلئے رہائش گاہ پر تشریف لائے۔ 6 دسمبر 1999ء بروز سوموار شام کاسورج غروب ہونے کے ساتھ ہی سلطان المناظرین حافظ عبدالقادر روپڑی اپنے خالق حقیقی سے جاملے اگلے روز بروز منگل بعد نماز ظہر ان کے شاگرد رشید جامعہ لاہور الاسلامیہ کےشیخ االحدیث محدث العصر حافظ ثناء اللہ مدنی ﷾ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ گارڈن ٹاؤن لاہور میں خاندانی قبرستان میں دفن ہوئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات سلطان المناظرین‘‘ حافظ عبدالقادر روپڑی ﷫ کے بعض خطبات کا مجموعہ ہے ۔آپ نے تقریباً 70 سال تک توحید وسنت کو بیان کیا۔ان کے جو خطابات کی کیسٹیں مل سکیں حافظ عبد الوہاب روپڑی ﷾ ناظم محدث روپڑی اکیڈمی نے انہیں نقل کر وا کر اس مجموعہ کو بڑے شاندار طریقے سے شائع کیا ہے ۔کیسٹوں سے تقاریر کو نقل کرنے کام محترم جناب مولانا عبداللطیف حلیم نے اپنی شب وروز کی محنت شاقہ سے انجام دیا ہے۔ان خطبات کو منظر عام تک لانے میں شامل تمام افراد کی کاوشوں کوشرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 9 #4933

    مصنف : عبد الرشید عراقی

    مشاہدات : 3379

    برصغیر پاک و ہند میں علم حدیث

    (جمعرات 01 دسمبر 2016ء) ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی لاہور

    برصغیر پاک وہند میں علم حدیث کا آغاز پہلی صدی ہجری سے ہوا اور دوسری صدی ہجری میں حضرت ربیع بن صبیح بصری(م160ھ) برصغیر میں وارد ہوئے اور اس کے بعد ہرصدی میں کوئی نہ کوئی محدث برصغیر میں تشریف لاتے رہے ۔برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیاعلمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
    زیر تبصرہ کتا ب’’برصغیر پاک وہند میں علم حدیث ‘‘ وطن عزیز کے معروف قلمکاروسوانح نگار مولانا عبد الرشید عراقی کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے برصغیر پاک وہند کے علمائے اہل حدیث کی حدیثی خدمات کاتذکرہ کیا ہے ۔نیز علماء اہل حدیث نے خدمت حدیث کے سلسلے میں جو کتابیں تصنیف کیں کی ان کا اس کتاب میں ذکر کیا ہے بقول مصنف اس کتاب میں 436 کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔اور اس کے علاوہ چند مشہور علمائے کرام کے مختصر حالات بھی قلم بند کیے ہیں۔ علاوہ ازیں عراقی صاحب نےان کتابوں کا بھی ذکر کیا ہے جو حدیث کی حمایت وتائید اورنصرت ومدافعت میں لکھی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ عراقی صاحب کی تمام تصنیفی خدمات کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 10 #4952

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 1989

    تقلید اور علمائے دیو بند

    (ہفتہ 10 دسمبر 2016ء) ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی لاہور

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرےفروغ حاصل ہوا  ہے۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے  اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب " تقلید اور علماء دیو بند "رئیس جامعہ لاہور الاسلامیہ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الحدیث مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مولانا رشید احمد گنگوہی ﷫، مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ﷫، مولانا محمود الحسن﷫، مولانا مرتضی حسن ﷫وغیرہ علماء  دیو بند کی تحریرات(جو انہوں نے اثبات تقلید میں مختلف پیرایہ میں لکھی ہیں)کے محققانہ ومنصفانہ جوابات دئیے ہیں۔ مولف موصوف ﷫ اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین  نتائج سے آگاہ  کرنے کے  ساتھ ساتھ  انہیں کتاب وسنت کی طرف  رجوع کرنے  کی  ترغیب دلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1515
  • اس ہفتے کے قارئین 15154
  • اس ماہ کے قارئین 53548
  • کل قارئین49442340

موضوعاتی فہرست