دکھائیں کتب
  • 1 آفتاب بخارا (جمعرات 07 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:727

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواس کی رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے جو انسان کے لیے ضابطۂ حیات ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک محمد بن اسماعیل البخاری  بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  امام بخاری کی حیات زندگی اور ان کی صحیح کی خصوصیات  وکارناموں اور ان کے زہد وتقوی اور تلامذہ  کا تذکرہ ہے اور یہ بات نہایت ضروری ہے کہ آج کے دور کے علم حاصل کرنے والے طلباء کے سامنے اپنے اسلاف کی زندگی ہو اور وہ بھی ان کی طرح محنت ولگن سے علم حاصل کریں اور امام بخاری کا اہل علم کے ہاں کیا مقام ومرتبہ ہے؟ اس بات کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ آفتاب بخارا ‘‘ صاحبزادہ برق التوحیدی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • دین اسلام کی بنیاد قرآن مجید اور حدیث وسنت پر ہے۔دین میں کسی چیز کے حلال و حرام یا جائز و ناجائز ہونے کا مدار انہی پر ہے۔جمہور  امت اور فقہائے اربعہ رحمتہ اللہ علیہم انہی دلائل کی بنا پر موسیقی کو حرام و ناجائز قرار دیتے ہیں۔بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی موسیقی اور آلات موسیقی کی حرمت پر متفق ہیں۔لیکن غامدی حلقہ فکر موسیقی کو جائز اور مستحسن گردانتا ہے۔مولانا ارشاد الحق اثری نے ان کی تردید میں ایک کتاب لکھی تھی جس پر اہل اشراق نے مزید اعتراضات جڑ دیے۔زیر نظر کتاب میں انہی دلائل کا مکمل اور مسکت جواب دیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ موسیقی کو جائز ٹھہرا کر یہ حضرات نوجوان طبقے کو خصوصاً افراد امت کو عموماً مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں۔ان کے  گمراہ کن استدلال کا شافی جواب مولانا اثری نے زیر نظر کتاب میں دیا ہے جو  لائق مطالعہ ہے۔

  • 3 اسلام کا نظریہ کسب و انفاق (ہفتہ 13 جون 2015ء)

    مشاہدات:1285

    دور جدید کا انسان جن سیاسی،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔ آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے۔ اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے، جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ ایک مادہ پرستی میں جنون کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے، وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام کا نظریہ کسب وانفاق" محترم حکیم محمد اسحاق صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے اسلام کے اسی عظیم الشان معاشی نظام کی خوبیوں کو بیان کیا ہے اور اسلام کے علاوہ دیگر نظاموں کی خامیوں اور خرابیوں کو واضح کیا ہے۔اسلام حلال طریقے سے کمانے اور حلال جگہ پر خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ اپنے موضوع ایک انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تع...

  • نظام قدرت کی یہ عجیب نیرنگی اور حکمت ومصلحت ہےکہ یہاں ہر طرف اور ہر شے کے ساتھ اس کی ضد اور مقابل بھی پوری طرح سے کارفرما اور سر گرم نظر آتا ہے۔حق وباطل،خیر وشر،نوروظلمت،اور شب وروز کی طرح متضاد اشیاء کے بے شمار سلسلے کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور تضادات کا یہ سلسلہ مذاہب ،ادیان اور افکار واقدار تک پھیلا ہوا ہے،اور ان میں بھی حق وباطل کا معرکہ برپا ہے۔تاریخ اسلام کے مطالعہ سے یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو خارجی حملوں سے کہیں زیادہ نقصان اس کے داخلی فتنوں ،تحریف وتاویل کے نظریوں ،بدعت وتشیع ،شعوبیت وعجمیت اور منافقانہ تحریکوں سے پہنچا ہے،جو اس سدا بہار وثمر بار درخت کو گھن کی طرح کھوکھلا کرتی رہی ہیں ،جن میں سر فہرست باطنیت اور اسماعیلیت کی خطرناک اور فتنہ پرور تحریک ہے،اور جن کا سر چشمہ رفض وتشیع ہے۔جس نے ایک طویل عرصے سے اسلام کے بالمقابل اور متوازی ایک مستقل دین ومذہب کی شکل اختیار کر لی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسمٰعیلیہ اور عقیدہ امامت کا تعارف ،تاریخی نقطہ نظر سے " محترم سید تنظیم حسین کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے عقیدہ امامت اور اسماعیلیت وباطنیت کے متعلق بڑی اچھی بحث کی ہے اور بڑی جامعیت کے ساتھ اسماعیلیہ کی شاخوں ،،عقائد،ان کی تحریفات وتاویلات،تاریخ اسلام میں ان کے منفی وظالمانہ،تقیہ کے تحت ان کے مخفی خیالات سے حقیقت پسندانہ انداز میں پردہ اٹھایا ہے۔یہ کتاب اس اہم موضوع پر بڑی جامع اور شاندار کتاب ہے اور اردو کے دینی وتاریخی لٹریچر کے ایک خلا کی بڑی حد تک تکمیل کرتی ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام م...

  • 5 انسانی دنیا پر مسلمانوں کےعروج وزوال کا اثر (ہفتہ 01 فروری 2014ء)

    مشاہدات:13121
    جب نبی مکرمﷺ کا دنیا میں بعثت ہوئی اس وقت انسانیت پستی کی آخری حدوں سے بھی آخرتک پہنچ چکی تھی۔ شرک و بدعات، مظالم و عدم مساوات ان کی زندگی کا جزو لاینفک بن چکا تھا۔ لیکن رسول اللہﷺ نے ان کے عقائد و اخلاق اس طور سے سنوارے کہ کل کے راہزن آج کے راہبر بن چکےتھے۔ نبی کریمﷺ کی تشکیل کردہ اسلامی تہذیب نے دنیا کے تمام معاشروں پر نہایت گہرے اثرات ثبت کئے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا اور جہاد، تقویٰ و للہیت ایک اجنبی تصور بن گئے تو امت کا انحطاط وزوال شروع ہوا۔ زیر نظر کتاب میں ابوالحسن ندوی رحمہ اللہ نے امت کے اسی عروج و زوال کو حکیمانہ اسلوب میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے اسلام سے پہلے کی معاشرت کا تفصیلی تعارف کرواتے ہوئے اس کا  محمدی معاشرے سے تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ علاوہ بریں اس عروج کی خوش کن داستان کے بعد دنیا کی امامت و قیادت مسلمانوں کے ہاتھ سے کیسے جاتی رہی، زمام اقتدار کس طرح مادہ پرست یورپ کے ہاتھ میں آئی۔ اور ایسے میں مسلمانوں کا کیا ذمہ داریاں ہیں۔ ان تمام خیالات کو مولانا احسن انداز میں الفاظ کا زیور پہنایا ہے۔

  • 6 انوار البیان فی حل لغات القرآن ۔ جلد1 (جمعرات 20 فروری 2014ء)

    مشاہدات:22799

    قرآن قیامت تك کے لیے  ایک ضابطہ حیات  كی كتاب ہے جواپنے اندر ہر دور کے مسائل کا حل رکھتی ہے۔ لہٰذا قرآن کا ایک ایک لفظ معجزہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن چونکہ فصیح و بلیغ زبان کا شاہکار ہے او راس زبان کو سمجھنےکےلئے عجمیوں کےلیے قواعد وضع کئے گئے تاکہ ان قواعد كو  مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کے مفہوم کو صحیح طرح سمجھا جائے۔

    قرآن کے مدلول کو عامۃ الناس پر منکشف کرنے کے لئے مفسرین نے اپنی اپنی بساط کے مطابق عربی  اور غیر عربی زبان میں تفاسیر لکھیں۔ ان تفاسیر میں مفسرین نے احادیث و آثار فقہی آراء اور لغت کے حل کی مدد سے قرآنی الفاظ کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن کے الفاظ اور  عبارات کی لغوی تفسیر کہ جس میں تراکیب و عبارات کے حل کا اہتمام کیا جاتا  صرف عربی  زبان میں نہیں ۔اُردو زبان میں اس کام کی بہت ضرورت تھی کہ قرآن کی عبارت کو گرامر کی روشنی میں تراکیب کے ساتھ حل کردیا جاتا تاکہ علماء و متعلمین اس سے استفادہ کرسکی اور یہ  الغمام زیر نظر کتاب  ’’انوار البیان  فی حل لغات القرآن ‘‘ میں ہمیں اتم درجہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مصنف نے اس میں ہر سورے کی عبارتوں کی ترکیب اور ہر لفظ کی عربی گرامر کی رو سے نشاندہی کردی ہے اور یہ کتاب چار مجلدات پر مشتمل ہے۔اگرچہ یہ کتاب عامۃ الناس کے لیے نہیں ہے ۔بہرکیف مصنف اپنی کوشش میں کامیاب نظر آتے ہیں اور ایک منتہی اور طالب علم کے لیے علمی حظ اٹھانے کا وافر سامان موجود ہے۔
  • 7 بابل سے بطحاء تک حضرت ابراہیم علیہ السلام (ہفتہ 26 اپریل 2014ء)

    مشاہدات:2108

    اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ''اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے ۔''زیر نظر کتاب '' بابل سےبطحاء تک'' در اصل جد الانبیا سید ابراہیم ﷤ کی حیات طیبہ پر مشتمل ہے جوکہ دنیا کے لیے ایک اعلیٰ نمونہ تھے فاضل مؤلف نے قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کے ساتھ ساتھ تمام ثقہ مصادر سےروایات کوجمع کرکے ان کو ترتیب سے ایک کہانی کی صورت میں پیش کیاہے تاکہ قاری اکتاہٹ بھی محسوس نہ کرے اور پند ونصائح بھی اخذ کرتا چلا جائے۔اس سے ایک باکردار گھریلو ماحول اور صالح معاشرہ بنانے میں اچھی خاصی مدد مل سکتی ہے اور اس کتاب کوترتیب دینے میں طلبہ او رعامۃ الناس کے علمی معیار کو سامنے رکھا گیا ہے ۔ فاضل مصنف '' مولانا ابو یحییٰ محمد زکریا زاہد ''لیڈیز یونیورسٹی،لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں اور ماشاء اللہ مؤطا امام مالک ، جامع الترمذی، سنن النسائی، سنن ابن ماجہ، اور اس درجہ کی دیگر کتب کے ترجمہ وفوائد کی تکمیل کے علاوہ کئی کتب کے مترجم ومؤلف ہیں اشاعت اسلام کے سلسلے میں اللہ تعالی ان کی مساعی جمیلہ کوشرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)

     

  • 8 بستان المحدثین (منگل 22 اگست 2017ء)

    مشاہدات:1075

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے روز اول سے ہر دو میں اُ س دور کی ضرورت کے مطابق انبیاء﷩ کا سلسلہ قائم کیا اور ہر نبی کو کوئی کتاب یا صحیفہ عطا کیا ‘ اس نبوت کے سلسلے کی آخری کڑی جناب حضور کریمﷺ ہیں جنہیں قرآن وحدیث جیسی عظیم کتب سے نوازا گیا  اور پھر اس کی حفاظت کا ذمہ بھی لے لیا کیونکہ شریعت محمدیﷺ قیامت تک کے لیے تھی اس لیے اس کی حفاظت نہایت اہم اور ضروری تھی۔ اور اللہ عزوجل نے نبیﷺ کے بعد یہ کام امت محمدیہ کے علماء پر عائد کر دیا کہ وہ اس کی حفاظت اور اس کے پھیلاؤ کا باعث بنیں اور اس پر علمائے امت نے بہت سی تصانیف لکھیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں  ان کتب کا تذکرہ ہے جو خاص حدیث کے موضوع پر لکھیں گئی ہیں اور پھر ان کتب اور مصنفین  کا اجمالی تعارف بھی دیا گیا ہے تاکہ اس نام کی کتب سے عوام الناس بہر ور ہو سکیں۔ یہ کتاب اصلاً فارسی میں ہے جس کے کئی عربی اور اردو  تراجم بھی ہوئے ہیں ۔ اس کتاب میں جو کہ اردو ترجمہ ہے میں لفظی ترجمہ نہیں ہے بلکہ محاورہ اردو کے موافق  جس کی وجہ سے متن الفاظ کی تقدیم وتاخیر ہے۔ اور پہلے نسخوں میں موجود نقائص کو حد الامکان درست کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘ مشکل الفاظ یا محدثین واہل فقہ کی اصطلاحوں کو حاشیہ میں بیان کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب’’ بستان المحدثین ‘‘ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے او...

  • 9 تفہیم الوقوف (جمعرات 23 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:1409

    وقف کا لغوی معنی ٹھہرنا اور رُکنا ہے۔ جبکہ اہل فن قراء کرام کی اصطلاح میں وقف کے معنی ہیں کہ"کلمہ کے آخر پر اتنی دیر آواز کو منقطع کرنا جس میں بطور عادت سانس لیا جاسکے، اور قراء ت جاری رکھنے کا ارادہ بھی ہو، عام ہے کہ وقف کرنے کے بعد مابعد سے ابتداء کریں یا ماقبل سےاعادہ" (النشر:۱؍۲۴۰) معرفت وقف وابتداء کی اہمیت اور اس علم کی ضرورت کااحساس کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس طرح دلائل شرعیہ یعنی قرآن وحدیث اور اجماع اُمت سےقرآن مجید کا تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، اسی طرح معرفت الوقف، یعنی قرآنی وقوف کو پہچاننا اور دورانِ تلاوت حسنِ وقف وابتداء کی رعایت رکھنا اور اس کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اوراس میں کسی کااختلاف نہیں ۔اوروجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح تجوید کے ذریعہ حروف قرآن کی تصحیح ہوتی ہے اسی طرح معرفت الوقوف کے ذریعے معانی قرآن کی تفہیم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے :’’اورقرآن مجید کوترتیل کے ساتھ پڑھو ۔‘‘(المزمل:4) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ترتیل کا معنی پوچھا گیا توآپ نے فرمایا:’’الترتیل ہو تجوید الحروف ومعرفۃ الوقوف‘‘(الإتقان فی علوم القرآ ن:۱؍۸۵) اس تفسیر میں ترتیل کے دوجز بیان کیے گئے ہیں 1۔تجوید الحروف 2۔معرفۃ الوقوف ۔پس تجوید الحروف کی طرح معرفۃ الوقوف بھی ترتیل کا ایک جزء اور اس کا ایک حصہ ہے ۔زیر تبصرہ کتاب" تفہیم الوقوف بالسؤال والجواب" جناب قاری محمد اسماعیل صاحب امرتسری ﷫کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں  علم وقف کی علمی وفنی مباحث کو ایک منفرد انداز اختیار کرتے ہوئے  س...

  • 10 حیات امام احمد بن حنبل (منگل 18 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1830

    امام احمد بن حنبل﷫( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔ آپ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔امام احمد جس درجہ کے محدث تھے اسی درجہ کے فقیہ اورمجتہد بھی تھے۔ حنبلی مسلک کی نسبت امام صاحب ہی کی جانب ہے۔ اس مسلک کا اصل دار و مدار نقل و روایت اور احادیث و آثار پر ہے۔ آپ امام شافعی﷫کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیثمیں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآنکے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ و...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 590
  • اس ہفتے کے قارئین: 1362
  • اس ماہ کے قارئین: 7579
  • کل مشاہدات: 41236135

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں