دکھائیں کتب
  • 11 سوانح حیات امام البخاری رحمۃ اللہ علیہا (جمعہ 26 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:1053

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک امام بخاری  بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں   انتہائی اختصار کے ساتھ امام بخاری کے حالات زندگی درج کیے گئے ہیں جس میں نام ونسب اور پیدائش‘ کرامات اور ان کا حافظہ‘ ان کے طلب علم کے لیے اسفار‘ ان کی تصانیف ‘ ان کی سیرت وکردار‘ صحیح بخاری کا طریقہ تالیف اور اس پر ائمہ کی آراء وغیرہ درج ہیں۔ اس کتاب کے مطالعے سے عوام کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ کتاب’’ حیات امام البخاری رحمۃ اللہ علیہا ‘‘ مولانا اسحاق بھٹی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 12 سوانح و تصانیف امام ترمذی (پیر 11 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:1302

    کسی بھی شخصیت کی سرگزشت یا اس کا تذکرہ لکھنے کی غرض و غایت عام طور پر یہ خیال کی جاتی ہے کہ اس کے پڑھنے والوں میں زندگی کے نشیب وفراز کا احساس پیدا ہو اور آنے والی نسلیں اس کے مطالعہ سے عبرت پزیر ہو کر ان غلطیوں سے بچیں جن سے ان کو بچنا ضروری ہے۔ اور کچھ شخصیات کے بارے میں اس لیے لکھا جاتا ہے کہ ان مقتدر راہنماؤں اور علمائے دین کے تراجم کو ایک خاص خصوصیت حاصل ہوتی ہے‘ ان کے حالات پڑھنے سے مخلوقِ خدا کے دلوں میں ان کی پیروی کا خیال اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا احساس پیدا ہو۔ آنے والی نسلیں انہیں پڑھ کر اپنا چال چلن‘ کردار اور عادات وخصائل انہی کے سے بنا لیں۔ اور سوانح عمری لکھنا ہمارے سلف کا ایک طریقہ بھی ہے۔زیرِ نظر کتاب بھی اسی موضوع سے متعلقہ ایک علمی کاوش ہے کہ جس میں مؤلف نےامام ترمذی کے حالات زندگی قلمبند کیے ہیں۔ امام ترمذی محدثین میں سے ایک مشہور محدث ہیں جنہوں نے احادیث نبویہﷺ کو جمع کرنے میں اپنی زندگی وقف کردی‘ امام ترمذی نے نہ صرف احادیث رسولﷺ کو ہی جمع کیا بلکہ خصائل و شمائل نبویﷺ کے جمع کرنے کا بھی التزام بڑے اہتمام سے کیا‘ اس مہتمم بالشان کام کے لیے امام نے اپنی زندگی‘ دولت‘ آسائش اور آرام سب وقف کر دیئے جس کے نتیجے میں آپ امام فی الحدیث اور حافظِ حدیث کے القاب سے ملقب کیے گئے۔ اس کتاب میں امام ترمذی کے جو حالات مذکور ہیں انہیں محدثین اور مؤرخین کے تالیفات سے لیا گیا ہے جو تنقید الرجال اور تحقیق الروایات کے بانی تھے۔ زیرِ تبصرہ کتاب’’سوانح وتصانیف امام ترمذی‘‘ امتیاز احم...

  • 13 سیرت امام احمد بن حنبل (بدھ 31 مئی 2017ء)

    مشاہدات:2346

    امام احمد بن حنبل( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد تیس سال کی عمر میں ہی انتقال کرگئے تھے۔والد محترم کی وفات کے بعد امام صاحب کی پرورش اور نگہداشت اُن کی والدہ کے کندھوں پر آن پڑی۔ امام احمد بن حنبل ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ آپ اپنے دور کے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ آپ امام شافعی﷫ کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے مسند کے نام سے حدیث کی کتاب تالیف کی جس میں تقریباً چالیس ہزار احادیث ہیں۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور آپ کی نماز جنازہ پڑھی۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت امام احمد بن...

  • 14 سیرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ (ہفتہ 15 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:3554

    امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِ سیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳شوال ۱۹۴ھ؁، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام بخاری ﷫ کے استاتذہ کرام بھی امام بخاری سے کسب فیض کرتے تھے ۔ آپ کے استاتذہ اور شیوخ کی تعداد کم وبیش ایک ہزار ہے۔ جن میں خیرون القرون کےاساطین علم کےاسمائے گرامی بھی آتے ہیں۔اور آپ کےتلامذہ کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ امام بخاری﷫ سے صحیح بخاری سماعت کرنےوالوں کی تعداد 90ہزار کےلگ بھگ تھی ۔امام بخاری﷫ کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم   کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری   ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے  سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور...

  • 15 سیرت بخاری  (اتوار 18 مئی 2014ء)

    مشاہدات:3797

    امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِسیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ؁ ، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ ان کے علمی کارناموںم میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔امام بخاری ﷫ کی سیر ت پر متعدد اہل علم نے کتب تصنیف کی ہیں لیکن سب سے عمدہ کتاب مولانا عبد السلام مبارکپوری کی تصنیف ''سیرۃ البخاری '' ہے جو کہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے ۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر عبد...

  • 16 شرف اصحاب الحدیث (اتوار 09 اگست 2015ء)

    مشاہدات:2287

     اصحاب الحدیث کی اصطلاح ابتداء ہی سے اس گروہ کی پہچان رہی ہے  جو سنت نبویہ کی تعظیم اوراس کی نشر واشاعت کا کام کرتا اور نبی  کریم ﷺ کےصحابہ کے عقیدہ جیسا اعتقاد رکھتا اورکتاب وسنت کوسمجھنے کے لیے فہم صحابہ پرعمل کرتا چلا آیا ہے۔یہ لوگ خیرالقرون سے تعلق رکھتے ہیں ، اس سے وہ لوگ مراد نہیں ہیں جن کا عقیدہ سلف کے عقیدہ کے خلاف اوروہ صرف عقل اوررائےاوراپنے ذوق اورخوابوں پراعمال کی بنیادرکھتے اوررجوع کرتے ہيں۔ اوریہی وہ گروہ اورفرقہ ہے جوفرقہ ناجيہ اورطائفہ منصورہ جس کا ذکر احادیث میں ملتا ہے۔نبی کریمﷺنے فرمایا:"ہروقت میری امت سے ایک گروہ حق پررہے گا جو بھی انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ انہيں نقصان نہیں دے سکے گا ، حتی کہ اللہ تعالی کا حکم آجائےتووہ گروہ اسی حالت میں ہوگا (مسلم : 1920 ) بہت سارے آئمہ کرام نے اس حدیث میں مذکور گروہ سے بھی اہل حدیث ہی کو مقصودو مراد لیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب " شرف اصحاب الحدیث"پانچویں صدی ہجری کے معروف امام علامہ خطیب بغدادی ﷫کی عربی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ وخلاصہ محترم رفیق احمد رئیس سلفی صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف   نے اس کتاب میں اصحاب الحدیث کی فضیلت اور ان کے مقام ومرتبے کو بیان کیا ہے۔اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مولف نے اس میں موجود تمام احادیث ،آثار اور ائمہ محدثین کے اقوال اپنی سند سے نقل کئے ہیں جس سے اس کی استنادی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 17 شرف اصحاب الحدیث کا اردو ترجمہ فضائل اہلحدیث (جمعرات 02 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:1788

     اصحاب الحدیث کی اصطلاح ابتداء ہی سے اس گروہ کی پہچان رہی ہے  جو سنت نبویہ کی تعظیم اوراس کی نشر واشاعت کا کام کرتا اور نبی  کریم ﷺ کےصحابہ کے عقیدہ جیسا اعتقاد رکھتا اورکتاب وسنت کوسمجھنے کے لیے فہم صحابہ پرعمل کرتا چلا آیا ہے۔یہ لوگ خیرالقرون سے تعلق رکھتے ہیں ، اس سے وہ لوگ مراد نہیں ہیں جن کا عقیدہ سلف کے عقیدہ کے خلاف اوروہ صرف عقل اوررائےاوراپنے ذوق اورخوابوں پراعمال کی بنیادرکھتے اوررجوع کرتے ہيں۔ اوریہی وہ گروہ اورفرقہ ہے جوفرقہ ناجيہ اورطائفہ منصورہ جس کا ذکر احادیث میں ملتا ہے۔نبی کریمﷺنے فرمایا:"ہروقت میری امت سے ایک گروہ حق پررہے گا جو بھی انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ انہيں نقصان نہیں دے سکے گا ، حتی کہ اللہ تعالی کا حکم آجائےتووہ گروہ اسی حالت میں ہوگا (مسلم : 1920 ) بہت سارے آئمہ کرام نے اس حدیث میں مذکور گروہ سے بھی اہل حدیث ہی کو مقصودو مراد لیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب " شرف اصحاب الحدیث"پانچویں صدی ہجری کے معروف امام علامہ خطیب بغدادی ﷫کی عربی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ وخلاصہ خالد گرجاکھی صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف   نے اس کتاب میں اصحاب الحدیث کی فضیلت اور ان کے مقام ومرتبے کو بیان کیا ہے۔اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مولف نے اس میں موجود تمام احادیث ،آثار اور ائمہ محدثین کے اقوال اپنی سند سے نقل کئے ہیں جس سے اس کی استنادی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 18 صحاح ستہ اور ان کے مؤلفین (اتوار 05 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:3302

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔چنانچہ صحیحین ،سنن اربعہ،اصول خمسہ،اور صحاح ستہ وغیرہ اصطلاحات علماء کے ہاں معروف اور متداول چلی آ رہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "صحاح ستہ اور ان کے مولفین "الاستاذ محمد عبدہ الفلاح الفیروز آبادی﷫ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے کتب احادیث کے ان طبقات میں سے آخری طبقہ (یعنی صحاح ستہ) کو منتخب کیا ہے اور ان کتب کے مولفین کی سوانح حیات، ان کی خدمات اور تصنیفات وغیرہ کو تفصیل سے جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سیدات صحابیات وہ عظیم خواتین ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کودیکھا اور ان پر ایمان لائیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام وصحابیات سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام وصحابیات رضی اللہ عنہن کےایمان افروز تذکرے سوانح حی...

  • 20 ماہرین علم حدیث حیات و افکار (منگل 28 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:972

    اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو قرآن مجید اور احادیث نبویہﷺ پر مشتمل جامع شریعت دے کر مبعوث فرمایا۔ اور پھر اس شریعت کی حفاظت کے لیے ہر دور میں کچھ اہل اور خاص لوگ چنیدہ فرمائے جو اس شریعت کی حفاظت کا سبب بنے اور آئندہ بھی بنتے رہیں گے۔ایسے افراد کی تعداد جو کہ مفسرین قرآن وماہرین حدیث ہیں ان کی تعداد اس وقت لاکھوں میں ہے لیکن زیرِ تبصرہ کتاب میں چند مشہور شخصیات کو ہی منتخب کیا گیا ہے جنہیں برصغیر‘ دنیائے عرب اور مرکزی ایشیا کے لوگ عرصہ دراز سے جانتے ہیں مثلا امام مسلم اور امام بخاری دو ایسی ہستیاں ہیں جن کے نام سے ہر مسلمان واقف ہے اور ان کی خدمات کے معترف بھی ہیں لیکن ان کے حوالے سے پاکستان میں کوئی کام نہیں ہوا۔ اس کتاب میں تقریباً پچیس کےقریب مشہور شخصیات کے حالات زندگی درج کیے گئے ہیں۔تعارف میں تاریخ پیدائش وتاریخ وفات‘ علمی سفر ‘ مشہور شاگرد اور  آبائی گاؤں وغیرہ کی تفصیل ہے۔ اور آخر میں حوالہ جات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں چند مضمون نگاروں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ماہرین علم حدیث‘ حیات وافکار ‘‘ موسیٰ خان جلال زئی ﷾ کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1087
  • اس ہفتے کے قارئین: 13141
  • اس ماہ کے قارئین: 13141
  • کل قارئین : 48283227

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں