کل کتب 174

دکھائیں
کتب
  • 1 #4639

    مصنف : پروفیسر مزمل احسن شیخ

    مشاہدات : 5275

    آئینہ اسلامی تہذیب و تمدن

    (جمعرات 28 اپریل 2016ء) ناشر : خالد بک ڈپو، لاہور

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے با وجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "آئینہ اسلامی تہذیب وتمدن "محترم پروفیسر مزمل احسن شیخ صاحب، ابو طاہر صدیقی صاحب اور ابو خالد صدیقی صاحبان کی مشترکہ کوشش ہے،جس میں انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب انہوں نے انٹر میڈیٹ علوم اسلامیہ کے امتحان کے لئے تیار کی ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبو ل فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 2 #4639

    مصنف : پروفیسر مزمل احسن شیخ

    مشاہدات : 5275

    آئینہ اسلامی تہذیب و تمدن

    (جمعرات 28 اپریل 2016ء) ناشر : خالد بک ڈپو، لاہور

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے با وجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "آئینہ اسلامی تہذیب وتمدن "محترم پروفیسر مزمل احسن شیخ صاحب، ابو طاہر صدیقی صاحب اور ابو خالد صدیقی صاحبان کی مشترکہ کوشش ہے،جس میں انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب انہوں نے انٹر میڈیٹ علوم اسلامیہ کے امتحان کے لئے تیار کی ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبو ل فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 3 #2663

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 2739

    آتش بازی اور لائٹنگ صرف آرائش اور کھیل یا؟

    (پیر 01 دسمبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    آگ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہے جس کے چلنے سے حرارت اور روشنی پیدا ہوتی ہے ۔آگ جب جل رہی ہواس کی زد میں جو چیز آئے وہ جل کر بھسم ہو جاتی ہے ۔آگ کی ایک چنگاری پورے شہر یا جنگل کوجلانے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔ انسان کے ازلی دشمن شیطان کواللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ۔اور شیطان روزِ اول ہی سے آگ اور آگ سے منسوب چیزوں کو اپنے آلۂکار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جہنم جو آگ کاسب سے بڑا مرکز ومنبع ہے اس کاسب سے بڑا جہنمی خود شیطان ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی نافرمانی کرنے والوں کے لیے عذاب کا اصل گھر آگ ہی کو قرار دیا ہے ۔نیز ا س نے اس عذاب کے دینے میں کسی اورکو اپنا شریک بنانا گوارا نہیں کیا ۔آگ ہماری دشمن ہے اس آگ ہی سے ڈرانے   اور بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسول بھیجے ۔گو آگ ہماری ضرورت بھی ہے اور ضرورت کے وقت آگ سے کام لینا انسان کا حق ہے ۔ لیکن اسے بغیر ضرورت جلائے رکھنا اس سے پیا ر کرنا، کافروں کی طرح اپنی رسومات اور عادات کا حصہ بنانا کسی صورت بھی زیب نہیں دیتاہے۔ کیونکہ آگ بنیادی طور پرہماری دشمن ہے اور ہمارے دشمن شیطان کی پسندیدہ چیز ہے ۔نبی کریم ﷺ نے ہمیں دنیاوی آگ کی دشمنی کابھی احساس دلایا اور اس سے محتاط رہنے کی تاکید کی ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’آتش بازی اور لائیٹنگ صرف آرائش اور کھیل یا؟‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ آگ کی تاریخ اور مختلف مذاہب میں اس کی کیا حیثیت ہے؟کو پیش کرکے   اس کےجائز اور ناجائز استعمال کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات کوبھی بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کتابچہ کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔آمین ( م۔ا)

  • 4 #6730

    مصنف : محمد بشیر جمعہ

    مشاہدات : 3010

    آج نہیں تو کبھی نہیں

    (جمعرات 09 اگست 2018ء) ناشر : البدر پبلیکیشنز لاہور

    زندگی کل کے انتظار کیلئے بہت چھوٹی ہے۔ اکثر ہم اپنے روزمرہ کے مشکل کاموں کو کل پر ملتوی کر کے ان سے جان چھڑانے کی بیکار کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں جان لینا چاہئے کہ اس طرح کام سے جان نہیں چھوٹتی بلکہ یہ محض وقت کا ضیاع ہو تا ہے ۔ اس لئے ہمیں آج کا کام کل پر چھوڑنے کی غلط عادت کی اصلاح کر لینی چاہئے کیونکہ زندگی میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو وقت کی قدر کرتا ہے اور مشکل ترین حالات کا سامنا کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔اداروں کے ذمہ داران ؍نگران  حضرات  کو اپنے ماتحت  کام کرنےوالےافراد اور  والدین کو اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے انہیں آج کا کام آج ہی کرنے جیسی اچھی عادت اپنانے کی تلقین بھی کرنی چاہئے۔ اس سے نہ صرف انہیں وقت کی قدر کرنا آئے گی بلکہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کی جرأت بھی پیدا ہو گی جو انہیں کامیابی کی راہ پر گامزن ہونے میں مدد دے گی۔ معروف سکالر  جناب محمد بشیر جمعہ نے زیر نظر کتاب ’’ آج نہیں تو کبھی نہیں ‘‘ میں بڑے احسن  انداز میں    مذکورہ بالا مسئلہ کی  طرف توجہ دلائی ہے اور انسان  کے  اندر پائی جانے  والی سستی ، کاہلی اور تن آسانی  کی وجوہات   ، اسباب  اور اس کا  علاج پیش کیا ہے (م۔ا) 

  • 5 #6120

    مصنف : ام عبد اللہ

    مشاہدات : 2423

    آداب سفر

    (جمعہ 29 دسمبر 2017ء) ناشر : اریب پبلیکیشنز نئی دہلی

    اﷲ تعالیٰ ساری کائنات کا خالق و رزق رساں ہے۔ ا س خاکدانِ گیتی پر بسنے والاہر انسان اپنی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے شب و روزدوڑ دھوپ کرتا ہے اور بڑی محنت ومشقت سے اپنا اور اپنے گھر والوںکاپیٹ بھرنے کے لیے روزی روٹی کماتا ہے۔ اگر وہ یہ تمام کام احکامِ الٰہیہ اور سنتِ نبویہ علیۃ التحیۃ والثناء کے مطابق انجام دے تو یہ سب عبادت بن جاتے ہیں۔ لیکن اگروہ ان امورمیں اسلامی ضابطوں کی پابندی نہ کرے اور انہیں توڑتے ہوئے ناجائز طریقے اختیارکرتے ہوئے یا معاشی جدوجہد کے نام پر دوسروں کے حقوق مارنا شروع کردیتاہے تو یہی کوشش اس کے لیے آخرت میں رسوائی کا سامان بن سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آدابِ سفر‘‘ تالیف اُمِّ عبد اللہ  ترجمہ و تخریج ابو القاسم حافظ محمود احمد نے کیا ہے۔ جس میں سفر کی وضاحت لغوی اور اصطلاحی طور پر بیان کی ہے اور آداب سفر بیان کرتے ہوئے اس کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔  باب اول میں  سفر کے فوائد و عیوب کو اجاگر کیا ہے۔ باب دوم آداب سفر ۔ باب سوم دوران سفر آداب۔ باب چہارم میں اختتام سفر کے آداب۔   باب پنجم سفر عیوب و نقائص پر مشتمل ہے۔لہذا یہ کتاب آداب سفر کے حوالے سے انتہائی مفید کتاب ہے جس کو قرآن و سنت کی روشنی میں مدوّن کیا ہے۔ ہم مصنف اور دیگٰر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ (ر،ر)

  • 6 #2595

    مصنف : خادم حسین الہٰی بخش

    مشاہدات : 2899

    اثر الفکر الغربی

    (منگل 28 اکتوبر 2014ء) ناشر : دار حراء للنشر و التوزیع مکہ مکرمہ

         الحمد لله رب العالمين ، والصلاة والسلام على رسوله الأمين ، سيدنا ونبينا محمدٍ صلى الله عليه وسلم ، وعلى آله وصحابته الطيبين الطاهرين ، ومن سلك سبيلهم وترسم خطاهم ونهج منهجهم إلى يوم الدين ، وبعد : فإن هذا الكتاب رسالة علمية تقدم بها المؤلف لنيل درجة الدكتوراه في العقيدة الإسلامية من جامعة أم القرى بمكة شرفها الله ، ونالها بتقدير ( ممتاز ) .  وتتضمن الرسالة مقدمة وثلاثة أبواب وخاتمة :   ففي المقدمة تحدث المؤلف عن أهمية الموضوع ، وصلته بالواقع المعاصر ، والأسباب التي دَعَتْه للكتابة فيه ، والعقبات التي واجهها أثناء البحث ، ومنهجه فيه .    وتضمن الباب الأول بفصوله الثلاثة دراسة المجتمع المسلم بالهند الموحدة _ باكستان ، الهند ، بنغلاديش _ ومن ضمن أبحاثه كيفية دخول الإسلام إلى الهند إبان حكم الخلفاء الراشدين ، ثم عَرَّج الباحث فَذَكَرَ مظاهر المسلمين المميزة في عهد دولة الغزنويين ، والغوريين ، والمماليك .     وجاء فصله الثاني مبيناً أوصاف المسلمين حكاماً ومحكومين في عهد دولة المغول ، وما تعرض له المسلمون حكاماً ومحكومين من التشيع والتنصير .    وجاء فصله الأخير موضحاً حالة المجتمع المسلم في عهد شركة الهند الشرقية ، وبيان مطامعها الاستعمارية ، وتحديد موقف المسلمين حكومة وشعباً تجاهها برفع راية الجهاد لطرد المستعمرين .    وخصصت الدراسة بابها الثاني بفصوله الأربعة في تحديد أثر الفكر الغربي في حياة المسلمين ، وجاء فصله الأول في بيان أثر النشاط التنصيري في الأفكار والمعتقدات ، فكان من مباحثه التنصير في عهد المغول ، والتنصير أثناء الحكم الإنجليزي المباشر ، وبيان الطرق التي سلكها المُنَصِّرُوْن لتنصير المسلمين وغير المسلمين ، مع تحديد الأسباب التي قادتهم إلى بعض النجاح ....    وحدد الفصل الثاني لهذا الباب أثر الفكر الغربي في مجال التربية والتعليم ، وذلك ببيان موقف الدولة الإسلامية من التعليم ، وموقف الإنجليز من التعليم المُحَقِّق لمطامع المستعمرين ، وبث التنصير عن طريقالتعليم ، والتعليم في الآونة المعاصرة بروافده الثلاثة ، : التعليم الحكومي ، التعليم الخاص ، التعليم الديني .    وكان ثالث فصول هذا الباب محصوراً في القضايا الاجتماعية : كتعليم المرأة ، وعملها ، والزواج ، والقِوَامة ، وشرب المسكرات ، والاقتصاد ، ووسائل الإعلام ....    وجاء خِتام فصول هذا الباب موضحاً أثر الفكر الغربي في مجال النظم التشريعية ، فتحدثت الدراسة عن قضاء المسلمين في الهند ، واتفاقية بَكْسَر وخيانة شركة الهند الشرقية في تنفيذ بنودها المتصلة بالقضاء والفصل بين الناس ، وبداية التحريف في التشريع وآثاره الوخيمة ، ومناقشة فتوى السيد رشيد رضا المصري حول جواز التحاكم إلى غير شريعة الله ، في ضوء الكتاب والسنة وأقوال علماء الإسلام . كما تطرق هذا الفصل إلى وضع دستورٍٍ لدولة باكستان المسلمة ، وقانون العقوبات الباكستاني و مناقشة محتوياته ، وذكرت الدراسة نماذج مقارنة من الجرائم والعقوبات بين الشريعة والقوانين الباكستاني ، وقانون الإثبات ومحتوياته ، وشهادة المرأة ، وشاهد المَلِك بين الشريعة والقانون ...    وخَتَمَتْ الفصل بطلب إصلاحات في القضاء : كإلغاء الرسوم القضائية ، وتكوين مجمعٍ علمي قضائي ، وإصلاح التعليم التشريعي في كليات القانون ، وكليات الحقوق ، والمدارس الدينية ...    وآخر أبواب الرسالة جاء موضحاً لأثر الفكر الغربي في الفرق المنحرفة عن الإسلام ، فتحدث عن الشيعة الاثني عشرية ، والشيعة الإمامية البهرة ، والشيعة الإمامية الأغاخانية ، فكان من مباحث هذا الباب ظاهرة التعاون بين الأفكار المنحرفة ، وظاهرة إخفاء ما يدين به الشيعة عموما....    كما تحدث هذا الباب عن الصوفية وأثر الفكر الغربي فيها ، وحدد منهج الصوفية في الدعوة إلى الإسلام ، وحال الهند المتصوفة عند الاحتلال الإنجليزي ، والنظرة السلبية إلى الحياة ونتائجها لصالح الفكر الغربي .    وجاء رابع فصول هذا الباب في تحديد الفكر الغربي في القرآنيين ، الذين ينكرون حجية السنة في التشريع وأخذ الأحكام الشرعية منها ، ويعود بداية هذا الفكر إلى السيد أحمد خان مؤسس جامعة عليكره ، كما ذكر هذا الباب نماذج من التحريف في فكر زعماء القرآنيين .    وكان ختام فصول الأطروحة في القاديانية وإخلاصها للفكر الغربي ، وذلك حين ادعى زعيمها غلام أحمد القادياني نسخ الجهاد بنبوته ، وأن الهند دار إسلام لا دار حرب ، وتفسير القاديانية لخاتم النبيين ، ونماذج من وحي الغلام ، وختمت الفصل بذكر ما تختلف فيه القاديانية عن الإسلام .     وقبل الخاتمة بينت الوضع الحالي المبشر لصالح الإسلام ، وجاءت الخاتمة متضمنة بين طياتها نتائج البحث التي توصلت إليها الدراسة  المؤلف د/ خادم حسين إلهي بخش  أستاذ العقيدة والفرق والمذاهب المعاصرة  بكلية الشريعة والأنظمة ، قسم الشريعة في 15 شوال 1435 هـ الموافق 11/اكست 2014م   جامعة الطائف    الطائف ، المملكة العربية السعودية

  • 7 #6405

    مصنف : ڈاکٹر سعید الرحمن

    مشاہدات : 1646

    اخلاق اہل قرآن

    (جمعرات 21 دسمبر 2017ء) ناشر : نا معلوم

    وہ لوگ معراجِ سعادت پاتے ہیں جو قرآن کی تعلیم وتعلّم کو اپنی مشغولیت اور زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں ۔ نبیﷺ نے ایسے اصحاب خوش بخت کو بہترین‘ افضل‘ اہل اللہ اور خدا کے خاص بندے جیسے القابات دے کرشان بخشی ہے۔ ان کی عزت ورفعت کے کیا کہنے کہ جنہیں دیکھ کر ذاتِ الٰہی ملائکہ کے سامنے رشک کرے کہ جس کی تخلیق پر تم معترض تھے‘ دیکھو وہی میرے کلام کو اپنی جلوت وخلوت کا مدارِ گفتگو بنائے ہوئے ہے۔قاری قرآن  کو کل قیامت کو بہت سے اجر سے نوازا جائے گا مگرقارئ قرآن قراءت کے ساتھ ساتھ قرآن مجید میں فہم وتدبر بھی کرے۔۔ زیرِ تبصرہ کتاب  عربی کتب کا اردو ترجمہ ہے جو نہایت سلیس ہے جس میں قارئ قرآن کے اوصاف اور آداب تلاوت سے متعلقہ تفصیل ذکر کی گئی ہے۔ اس کے دو بڑے حصے کیے جا سکتے ہیں پہلے حصے میں قرآن کے اوصاف وخصائل کو نہایت عمدہ پیرائے میں بیان کیا گیا ہےکہ قاری کو کیسا ہونا چاہیے اور کیسا نہیں اور نہایت اختصار اور جامعیت سے کام لیا گیا ہے‘ اور دوسرے حصے میں مصحفِ قرآنی کے آداب بیان کیے گئے ہیں جنہیں عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔۔ یہ کتاب’’اخلاق اہل القرآن ‘‘ ڈاکٹر سعید الرحمان بن نور حبیب کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 8 #953

    مصنف : کوتلیہ چانکیہ

    مشاہدات : 20843

    ارتھ شاستر

    (اتوار 21 اگست 2011ء) ناشر : نگارشات مزنگ لاہور

    ارتھ شاستر کوتلیہ چانکیہ کی تصنیف ہے جو ایک برہمن گھرانے میں پیدا ہوا ۔اس کتاب کا زمانہ تصنیف 311سے 300ق۔م کے درمیان ہے۔’ارتھ شاستر‘نے برصغیر کے تمدن اور اسلوب سیاست پر گزشتہ دو ہزار سال کے دوران جو اثرات مرتب کیے ہیں ان کے نقوش آئندہ کئی صدیوں تک بھی واضح رہیں گے۔کوٹلیہ نے اس کتاب میں قدیم ہندوستانی تمدن کے ہر پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔علوم وفنون ،زراعت،معیشت،اردواجیات،سیاسیات،صنعت وحرفت ،قوانین،رسوم ورواج،توہمات،ادویات،فوجی مہارت،سیاسی وغیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام سمیت ہر وہ موضوع کوتلیہ کی فکر کے وسیع دامن میں سماگیا ہے جو سوچ میں آسکتا ہے ۔علم سیاسیت کے پنڈت کہیں کوتلیہ کو اس کی متنوع علمی دستگاہ کی وجہ سے ہندوستان کا ارسطو کہتے ہیں اور کہیں ایک نئے اور واضح تر سیاسی نظام کا خالق ہونے کے باعث اس کا موازنہ میکاولی سے کیا جاتا ہے ۔بہر حال یہ کتاب اس کے افکار ونظریات کو سمجھنے کا معتبر ماخذ ہے۔(ط۔ا)

  • 9 #953

    مصنف : کوتلیہ چانکیہ

    مشاہدات : 20843

    ارتھ شاستر

    (اتوار 21 اگست 2011ء) ناشر : نگارشات مزنگ لاہور

    ارتھ شاستر کوتلیہ چانکیہ کی تصنیف ہے جو ایک برہمن گھرانے میں پیدا ہوا ۔اس کتاب کا زمانہ تصنیف 311سے 300ق۔م کے درمیان ہے۔’ارتھ شاستر‘نے برصغیر کے تمدن اور اسلوب سیاست پر گزشتہ دو ہزار سال کے دوران جو اثرات مرتب کیے ہیں ان کے نقوش آئندہ کئی صدیوں تک بھی واضح رہیں گے۔کوٹلیہ نے اس کتاب میں قدیم ہندوستانی تمدن کے ہر پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔علوم وفنون ،زراعت،معیشت،اردواجیات،سیاسیات،صنعت وحرفت ،قوانین،رسوم ورواج،توہمات،ادویات،فوجی مہارت،سیاسی وغیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام سمیت ہر وہ موضوع کوتلیہ کی فکر کے وسیع دامن میں سماگیا ہے جو سوچ میں آسکتا ہے ۔علم سیاسیت کے پنڈت کہیں کوتلیہ کو اس کی متنوع علمی دستگاہ کی وجہ سے ہندوستان کا ارسطو کہتے ہیں اور کہیں ایک نئے اور واضح تر سیاسی نظام کا خالق ہونے کے باعث اس کا موازنہ میکاولی سے کیا جاتا ہے ۔بہر حال یہ کتاب اس کے افکار ونظریات کو سمجھنے کا معتبر ماخذ ہے۔(ط۔ا)

  • 10 #6401

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد اشرف

    مشاہدات : 3416

    اسلام اور بنیادی انسانی حقوق

    (بدھ 16 مئی 2018ء) ناشر : پنجاب یونیورسٹی پریس لاہور

    دنیا میں نا انصافی‘ ظلم بربریت‘ قتل وغارت‘ استحصال۔ رنگ ونسل‘ قومیت‘ مذہبی منافرت‘ تفرقہ پرستی‘ برتری وتفاخر‘ عدل وانصاف سے اغماض‘ مفاد پرستی اور تمیز بندو آقا کے سبب ہے۔ خالقِ کائنات نے بنی نوع انسان میں کوئی تفریق وتمیز روا نہیں رکھی۔ اُس کی نگاہ میں سب انسان برابر ہیں‘ سب کے حقوق یکساں ہیں۔ خالقِ کائنات کا مساوات کا اصول ازلی وابدی ہے۔اس کی نگاہ میں اگر کوئی فرق وامتیاز ہے تو وہ نیکی وتقوی کا ہے۔ مساوات اور انسانی حقوق کے حقیقی علم بردار پیغمبرانِ کرام تھے‘ انہوں نے دوسرے انسانوں کے حقوق کے احترام وتحفظ اور اپنے تزکیہ نفس کی تلقین کی۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی اسی موضوع پر ہے جس میں  مصنف نے انسانی حقوق کو بیان کیا ہے اور اس کتاب کو لکھنے کے تین بنیادی اسباب ہیں۔1: استعمار کے پروردہ مفاد یافتہ طبقات کا حکومت پر متصرف ہونا۔ 2:اُمت مسلمہ کی علم وتحقیق سے دوری۔ 3: فرقہ واریت‘ عصبیت وتعصبات۔ اس کتاب میں انہوں نے اس غلط فہمی کی بھی مسکت دلائل سے تردید کی ہے کہ اسلام نے بعض شرائط کے تحت غلامی کو روا رکھا ہے۔ کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے حصہ اول میں سب سے پہلے مقدمہ ہے جس میں انسان کے تمام تر افعال کا شرچشمہ نفس انسانی  کو ثابت کیا گیا ہے باب اول میں حقوق وفرائض کی تعریف‘ ریاست کے آغاز وارتقاء نیز قدیم قانونی مجموعہ جات اور مسودہ جات کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کی بدولت انسانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا رہا ہے اور باب دوم میں بنیادی حقوق کی مختلف اقسام کو بیان کرتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق کے جدید تصور کو واضح کیا گیا ہے اور مغرب میں اس کے آغاز وارتقاء کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ باب سوم میں بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی حقوق پر بحث کی گئی ہے۔ باب چہارم میں دو فصول ہیں فصل اول میں اسلام کے بارے میں بنیادی امور کی اور فصل دوم میں اسلام کی عطا کردہ بنیادی انسانی حقوق میں سے نمایاں حقوق کا تذکرہ ہے۔ باب پنجم اسلام اور انسداد غلامی پر مشتمل ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام اور بنیادی انسانی حقوق ‘‘ڈاکٹر حافظ محمد اشرف کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 17 18 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1740
  • اس ہفتے کے قارئین 11425
  • اس ماہ کے قارئین 49819
  • کل قارئین49397033

موضوعاتی فہرست