دکھائیں کتب
  • 1 آئینہ اسلامی تہذیب و تمدن (جمعرات 28 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:4673

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے با وجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "آئینہ اسلامی تہذیب وتمدن "محترم پروفیسر مزمل احسن شیخ صاحب، ابو طاہر صدیقی صاحب اور ابو خالد صدیقی صاحبان کی مشترکہ کوشش ہے،جس میں انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب انہوں نے انٹر میڈیٹ علوم اسلامیہ کے امت...

  • 2 آئینہ اسلامی تہذیب و تمدن (جمعرات 28 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:4673

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے با وجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "آئینہ اسلامی تہذیب وتمدن "محترم پروفیسر مزمل احسن شیخ صاحب، ابو طاہر صدیقی صاحب اور ابو خالد صدیقی صاحبان کی مشترکہ کوشش ہے،جس میں انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب انہوں نے انٹر میڈیٹ علوم اسلامیہ کے امت...

  • 3 آتش بازی اور لائٹنگ صرف آرائش اور کھیل یا؟ (پیر 01 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2555

    آگ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہے جس کے چلنے سے حرارت اور روشنی پیدا ہوتی ہے ۔آگ جب جل رہی ہواس کی زد میں جو چیز آئے وہ جل کر بھسم ہو جاتی ہے ۔آگ کی ایک چنگاری پورے شہر یا جنگل کوجلانے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔ انسان کے ازلی دشمن شیطان کواللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ۔اور شیطان روزِ اول ہی سے آگ اور آگ سے منسوب چیزوں کو اپنے آلۂکار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جہنم جو آگ کاسب سے بڑا مرکز ومنبع ہے اس کاسب سے بڑا جہنمی خود شیطان ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی نافرمانی کرنے والوں کے لیے عذاب کا اصل گھر آگ ہی کو قرار دیا ہے ۔نیز ا س نے اس عذاب کے دینے میں کسی اورکو اپنا شریک بنانا گوارا نہیں کیا ۔آگ ہماری دشمن ہے اس آگ ہی سے ڈرانے   اور بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسول بھیجے ۔گو آگ ہماری ضرورت بھی ہے اور ضرورت کے وقت آگ سے کام لینا انسان کا حق ہے ۔ لیکن اسے بغیر ضرورت جلائے رکھنا اس سے پیا ر کرنا، کافروں کی طرح اپنی رسومات اور عادات کا حصہ بنانا کسی صورت بھی زیب نہیں دیتاہے۔ کیونکہ آگ بنیادی طور پرہماری دشمن ہے اور ہمارے دشمن شیطان کی پسندیدہ چیز ہے ۔نبی کریم ﷺ نے ہمیں دنیاوی آگ کی دشمنی کابھی احساس دلایا اور اس سے محتاط رہنے کی تاکید کی ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’آتش بازی اور لائیٹنگ صرف آرائش اور کھیل یا؟‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ آگ کی تاریخ اور مختلف مذاہب میں اس کی کیا حیثیت ہے؟کو پیش کرکے   اس کےجائز اور ناجائز استعمال کے سلسلے میں اسلام...

  • 4 آج نہیں تو کبھی نہیں (جمعرات 09 اگست 2018ء)

    مشاہدات:2503

    زندگی کل کے انتظار کیلئے بہت چھوٹی ہے۔ اکثر ہم اپنے روزمرہ کے مشکل کاموں کو کل پر ملتوی کر کے ان سے جان چھڑانے کی بیکار کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں جان لینا چاہئے کہ اس طرح کام سے جان نہیں چھوٹتی بلکہ یہ محض وقت کا ضیاع ہو تا ہے ۔ اس لئے ہمیں آج کا کام کل پر چھوڑنے کی غلط عادت کی اصلاح کر لینی چاہئے کیونکہ زندگی میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو وقت کی قدر کرتا ہے اور مشکل ترین حالات کا سامنا کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔اداروں کے ذمہ داران ؍نگران  حضرات  کو اپنے ماتحت  کام کرنےوالےافراد اور  والدین کو اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے انہیں آج کا کام آج ہی کرنے جیسی اچھی عادت اپنانے کی تلقین بھی کرنی چاہئے۔ اس سے نہ صرف انہیں وقت کی قدر کرنا آئے گی بلکہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کی جرأت بھی پیدا ہو گی جو انہیں کامیابی کی راہ پر گامزن ہونے میں مدد دے گی۔ معروف سکالر  جناب محمد بشیر جمعہ نے زیر نظر کتاب ’’ آج نہیں تو کبھی نہیں ‘‘ میں بڑے احسن  انداز میں    مذکورہ بالا مسئلہ کی  طرف توجہ دلائی ہے اور انسان  کے  اندر پائی جانے  والی سستی ، کاہلی اور تن آسانی  کی وجوہات   ، اسباب  اور اس کا  علاج پیش کیا ہے (م۔ا) 

  • 5 آداب سفر (جمعہ 29 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:2134

    اﷲ تعالیٰ ساری کائنات کا خالق و رزق رساں ہے۔ ا س خاکدانِ گیتی پر بسنے والاہر انسان اپنی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے شب و روزدوڑ دھوپ کرتا ہے اور بڑی محنت ومشقت سے اپنا اور اپنے گھر والوںکاپیٹ بھرنے کے لیے روزی روٹی کماتا ہے۔ اگر وہ یہ تمام کام احکامِ الٰہیہ اور سنتِ نبویہ علیۃ التحیۃ والثناء کے مطابق انجام دے تو یہ سب عبادت بن جاتے ہیں۔ لیکن اگروہ ان امورمیں اسلامی ضابطوں کی پابندی نہ کرے اور انہیں توڑتے ہوئے ناجائز طریقے اختیارکرتے ہوئے یا معاشی جدوجہد کے نام پر دوسروں کے حقوق مارنا شروع کردیتاہے تو یہی کوشش اس کے لیے آخرت میں رسوائی کا سامان بن سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آدابِ سفر‘‘ تالیف اُمِّ عبد اللہ  ترجمہ و تخریج ابو القاسم حافظ محمود احمد نے کیا ہے۔ جس میں سفر کی وضاحت لغوی اور اصطلاحی طور پر بیان کی ہے اور آداب سفر بیان کرتے ہوئے اس کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔  باب اول میں  سفر کے فوائد و عیوب کو اجاگر کیا ہے۔ باب دوم آداب سفر ۔ باب سوم دوران سفر آداب۔ باب چہارم میں اختتام سفر کے آداب۔   باب پنجم سفر عیوب و نقائص پر مشتمل ہے۔لہذا یہ کتاب آداب سفر کے حوالے سے انتہائی مفید کتاب ہے جس کو قرآن و سنت کی روشنی میں مدوّن کیا ہے۔ ہم مصنف اور دیگٰر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ (ر،ر)

  • 6 اثر الفکر الغربی (منگل 28 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2730

         الحمد لله رب العالمين ، والصلاة والسلام على رسوله الأمين ، سيدنا ونبينا محمدٍ صلى الله عليه وسلم ، وعلى آله وصحابته الطيبين الطاهرين ، ومن سلك سبيلهم وترسم خطاهم ونهج منهجهم إلى يوم الدين ، وبعد : فإن هذا الكتاب رسالة علمية تقدم بها المؤلف لنيل درجة الدكتوراه في العقيدة الإسلامية من جامعة أم القرى بمكة شرفها الله ، ونالها بتقدير ( ممتاز ) .  وتتضمن الرسالة مقدمة وثلاثة أبواب وخاتمة :   ففي المقدمة تحدث المؤلف عن أهمية الموضوع ، وصلته بالواقع المعاصر ، والأسباب التي دَعَتْه للكتابة فيه ، والعقبات التي واجهها أثناء البحث ، ومنهجه فيه .    وتضمن الباب الأول بفصوله الثلاثة دراسة المجتمع المسلم بالهند الموحدة _ باكستان ، الهند ، بنغلاديش _ ومن ضمن أبحاثه كيفية دخول الإسلام إلى الهند إبان حكم الخلفاء الراشدين ، ثم عَرَّج الباحث فَذَكَرَ مظاهر المسلمين المميزة في عهد دولة الغزنويين ، والغوريين ، والمماليك .     وجاء فصله الثاني مبيناً أوصاف المسلمين حكاماً ومحكومين في عهد دولة المغول ، وما تعرض له المسلمون حكاماً ومحكومين من التشيع والتنصير .    وجاء فصله الأخير موضحاً حالة المجتمع المسلم في عهد شركة الهند الشرقية ، وبيان مطامعها الاستعمارية ، وتحديد موقف المسلمين حكومة وشعباً تجاهها برفع راية الجهاد لطرد المستعمرين .    وخصصت الدراسة بابها الثاني بفصوله الأربعة في تحديد أثر الفكر الغربي في حياة المسلمين ، وجاء فصله الأول في بيان أثر النشاط التنصيري في...

  • 7 اخلاق اہل قرآن (جمعرات 21 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:1470

    وہ لوگ معراجِ سعادت پاتے ہیں جو قرآن کی تعلیم وتعلّم کو اپنی مشغولیت اور زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں ۔ نبیﷺ نے ایسے اصحاب خوش بخت کو بہترین‘ افضل‘ اہل اللہ اور خدا کے خاص بندے جیسے القابات دے کرشان بخشی ہے۔ ان کی عزت ورفعت کے کیا کہنے کہ جنہیں دیکھ کر ذاتِ الٰہی ملائکہ کے سامنے رشک کرے کہ جس کی تخلیق پر تم معترض تھے‘ دیکھو وہی میرے کلام کو اپنی جلوت وخلوت کا مدارِ گفتگو بنائے ہوئے ہے۔قاری قرآن  کو کل قیامت کو بہت سے اجر سے نوازا جائے گا مگرقارئ قرآن قراءت کے ساتھ ساتھ قرآن مجید میں فہم وتدبر بھی کرے۔۔ زیرِ تبصرہ کتاب  عربی کتب کا اردو ترجمہ ہے جو نہایت سلیس ہے جس میں قارئ قرآن کے اوصاف اور آداب تلاوت سے متعلقہ تفصیل ذکر کی گئی ہے۔ اس کے دو بڑے حصے کیے جا سکتے ہیں پہلے حصے میں قرآن کے اوصاف وخصائل کو نہایت عمدہ پیرائے میں بیان کیا گیا ہےکہ قاری کو کیسا ہونا چاہیے اور کیسا نہیں اور نہایت اختصار اور جامعیت سے کام لیا گیا ہے‘ اور دوسرے حصے میں مصحفِ قرآنی کے آداب بیان کیے گئے ہیں جنہیں عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔۔ یہ کتاب’’اخلاق اہل القرآن ‘‘ ڈاکٹر سعید الرحمان بن نور حبیب کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 8 ارتھ شاستر (اتوار 21 اگست 2011ء)

    مشاہدات:20404

    ارتھ شاستر کوتلیہ چانکیہ کی تصنیف ہے جو ایک برہمن گھرانے میں پیدا ہوا ۔اس کتاب کا زمانہ تصنیف 311سے 300ق۔م کے درمیان ہے۔’ارتھ شاستر‘نے برصغیر کے تمدن اور اسلوب سیاست پر گزشتہ دو ہزار سال کے دوران جو اثرات مرتب کیے ہیں ان کے نقوش آئندہ کئی صدیوں تک بھی واضح رہیں گے۔کوٹلیہ نے اس کتاب میں قدیم ہندوستانی تمدن کے ہر پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔علوم وفنون ،زراعت،معیشت،اردواجیات،سیاسیات،صنعت وحرفت ،قوانین،رسوم ورواج،توہمات،ادویات،فوجی مہارت،سیاسی وغیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام سمیت ہر وہ موضوع کوتلیہ کی فکر کے وسیع دامن میں سماگیا ہے جو سوچ میں آسکتا ہے ۔علم سیاسیت کے پنڈت کہیں کوتلیہ کو اس کی متنوع علمی دستگاہ کی وجہ سے ہندوستان کا ارسطو کہتے ہیں اور کہیں ایک نئے اور واضح تر سیاسی نظام کا خالق ہونے کے باعث اس کا موازنہ میکاولی سے کیا جاتا ہے ۔بہر حال یہ کتاب اس کے افکار ونظریات کو سمجھنے کا معتبر ماخذ ہے۔(ط۔ا)

  • 9 ارتھ شاستر (اتوار 21 اگست 2011ء)

    مشاہدات:20404

    ارتھ شاستر کوتلیہ چانکیہ کی تصنیف ہے جو ایک برہمن گھرانے میں پیدا ہوا ۔اس کتاب کا زمانہ تصنیف 311سے 300ق۔م کے درمیان ہے۔’ارتھ شاستر‘نے برصغیر کے تمدن اور اسلوب سیاست پر گزشتہ دو ہزار سال کے دوران جو اثرات مرتب کیے ہیں ان کے نقوش آئندہ کئی صدیوں تک بھی واضح رہیں گے۔کوٹلیہ نے اس کتاب میں قدیم ہندوستانی تمدن کے ہر پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔علوم وفنون ،زراعت،معیشت،اردواجیات،سیاسیات،صنعت وحرفت ،قوانین،رسوم ورواج،توہمات،ادویات،فوجی مہارت،سیاسی وغیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام سمیت ہر وہ موضوع کوتلیہ کی فکر کے وسیع دامن میں سماگیا ہے جو سوچ میں آسکتا ہے ۔علم سیاسیت کے پنڈت کہیں کوتلیہ کو اس کی متنوع علمی دستگاہ کی وجہ سے ہندوستان کا ارسطو کہتے ہیں اور کہیں ایک نئے اور واضح تر سیاسی نظام کا خالق ہونے کے باعث اس کا موازنہ میکاولی سے کیا جاتا ہے ۔بہر حال یہ کتاب اس کے افکار ونظریات کو سمجھنے کا معتبر ماخذ ہے۔(ط۔ا)

  • 10 اسلام اور بنیادی انسانی حقوق (بدھ 16 مئی 2018ء)

    مشاہدات:2847

    دنیا میں نا انصافی‘ ظلم بربریت‘ قتل وغارت‘ استحصال۔ رنگ ونسل‘ قومیت‘ مذہبی منافرت‘ تفرقہ پرستی‘ برتری وتفاخر‘ عدل وانصاف سے اغماض‘ مفاد پرستی اور تمیز بندو آقا کے سبب ہے۔ خالقِ کائنات نے بنی نوع انسان میں کوئی تفریق وتمیز روا نہیں رکھی۔ اُس کی نگاہ میں سب انسان برابر ہیں‘ سب کے حقوق یکساں ہیں۔ خالقِ کائنات کا مساوات کا اصول ازلی وابدی ہے۔اس کی نگاہ میں اگر کوئی فرق وامتیاز ہے تو وہ نیکی وتقوی کا ہے۔ مساوات اور انسانی حقوق کے حقیقی علم بردار پیغمبرانِ کرام تھے‘ انہوں نے دوسرے انسانوں کے حقوق کے احترام وتحفظ اور اپنے تزکیہ نفس کی تلقین کی۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی اسی موضوع پر ہے جس میں  مصنف نے انسانی حقوق کو بیان کیا ہے اور اس کتاب کو لکھنے کے تین بنیادی اسباب ہیں۔1: استعمار کے پروردہ مفاد یافتہ طبقات کا حکومت پر متصرف ہونا۔ 2:اُمت مسلمہ کی علم وتحقیق سے دوری۔ 3: فرقہ واریت‘ عصبیت وتعصبات۔ اس کتاب میں انہوں نے اس غلط فہمی کی بھی مسکت دلائل سے تردید کی ہے کہ اسلام نے بعض شرائط کے تحت غلامی کو روا رکھا ہے۔ کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے حصہ اول میں سب سے پہلے مقدمہ ہے جس میں انسان کے تمام تر افعال کا شرچشمہ نفس انسانی  کو ثابت کیا گیا ہے باب اول میں حقوق وفرائض کی تعریف‘ ریاست کے آغاز وارتقاء نیز قدیم قانونی مجموعہ جات اور مسودہ جات کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کی بدولت انسانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا رہا ہے اور باب دوم میں بنیادی حقوق کی مختلف اقسام کو بیان کرتے ہوئے...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1419
  • اس ہفتے کے قارئین: 8114
  • اس ماہ کے قارئین: 42135
  • کل قارئین : 47890607

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں