اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #172

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد دین قاسمی

    مشاہدات : 12755

    جناب غلام احمد پرویز کے نظام ربوبیت پر ایک نظر

    (جمعرات 04 جون 2009ء) ناشر : بیت الحکمت، لاہور

    جناب غلام احمد پرویز نے تہذیب غالب کے جملہ عوامل وعناصر کو لے کر اسلامی تعلیمات میں سمودینے کے لیے قرآنی مفردات کی خودساختہ توضیح اور مصلحت قرآنیہ کی خانہ زاد تشریح سے خوب کام لیا-ان کی بہت سی توضیحات تشریحات، انتہائی رکیک،دورخیز، اختراعی اور افترائی ہیں-زیر نظر کتاب میں پروفیسر حافظ محمد دین قاسمی صاحب نے پرویز صاحب کے انہی نظریات کی قلعی کھولتے ہوئے جناب کے نظام ربوبیت کا مدلل انداز میں جائزہ لیا ہے- کتاب کے شروع میں علمی اور تحقیقی انداز میں پرویز اور کارل مارکس کے اشتراکی نظریات میں کس حدتک مماثلت پائی جاتی ہے کی بین مثالیں پیش کی ہیں- اور ملکیت اراضی، ملکیت مال، انفاق اموال اور زکوۃ کے حوالے سے قرآن مجید کا مؤقف واضح کیا گیا ہے-علاوہ ازیں کیا صدر اسلام میں نظام ربوبیت نافذ تھا؟کیا خلافت راشدہ میں دولت فاضلہ کا وجود نہیں تھا؟کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے صدر اسلام کے نظام معیشت کی اصل واساس اور ''مفکر قرآن'' کو اپنے ہی ڈھیروں تضادات دکھا کر موصوف کے دام ہمرنگ زمیں کا شکار ہونے والوں کی  راہ اعتدال کی جانب راہنمائی کی ہے-

  • 2 #832

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد دین قاسمی

    مشاہدات : 23002

    جناب غلام احمد پرویز اپنے الفاظ کے آئینے میں

    (پیر 29 اگست 2011ء) ناشر : بیت الحکمت، لاہور

    غلام احمد پرویز پاکستان میں فتنہ انکار حدیث کے سرغنہ اور سرخیل تھے۔ان کی ساری زندگی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت وثبوت میں تشکیک ابھارنے میں بسر ہوئی اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ تردید حدیث کا کام قرآن حکیم کے ’’حقائق ومعارف‘‘اجاگر کرتے ہوئے سرانجام دیتے تھے۔حافظ محمد دین قاسمی صاحب نے زیر نظر کتاب میں ’’مفکر قرآن‘‘کے کردار وعمل کو اجاگر کیا ہے اور ان کے فکری تضاد پر روشنی ڈالی ہے۔قاسمی صاحب کا نام’رد پرویزیت‘میں ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے اور اب تک ان کی متعدد کتابیں اس فتنہ کی سرکوبی کے حوالے سے شائع ہو چکی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ’مفکر قرآن‘صاحب قرآن کے نام پر جو کچھ پیش کرتے رہے وہ تحریف کی بد ترین شکل ہے لیکن ان کے مداح اسے معارف وحقائق کا نام دیتے ہیں۔زیر نظر کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوگا کہ پرویز صاحب ساری عمر متضاد باتیں کہتے رہے اور اپنی تردید خود ہی کرتے رہے۔ظاہر ہے کہ یہ ان کے باطل پر ہونے کی واضح دلیل ہے ،امید ہے اس کتاب کے مطالعہ  سے پرویزصاحب کی دوغلی شخصیت بے نقاب ہوگی اور مقلد شیان حق کو سچ او رجھوٹ میں امتیاز کرنے میں سہولت ہوگی۔(ط۔ا)

  • 3 #1056

    مصنف : عبد الرشید عراقی

    مشاہدات : 20636

    تذکرۃ النبلاء فی تراجم العلماء

    (منگل 27 ستمبر 2011ء) ناشر : بیت الحکمت، لاہور

    قرن اول سے لے کر اپنے اقبال کے آخری دور تک مسلمانوں نے اپنی ہر صدی کے ممتاز اکابر رجال کے سیر واخبار کا ایسا دفتر زمانہ میں یادگار چھوڑا کہ اقوام و ملل ان کی مثال سے عاجز ہیں۔ لیکن افسوس کہ برصغیر پاک و ہند کے دفتر بہت مدت تک اپنے اکابرین کے تذکرے سے خالی رہے۔ محترم عبدالرشید عراقی کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو برصغیر کی اسلامی و علمی تاریخ کو گمنامی سے بچانے کے لیے میدان کارزار میں اترے۔ زیر نظر کتاب بھی اس موضوع پر موصوف کی منفرد اور قابل قدر کاوش ہے جس میں انھوں نے برصغیر کے 174 علماے کرام کے حالات قلمبند کیے ہیں۔ اس میں پہلے ان علما کا تذکرہ کیا گیا ہے جو دین اسلام کی اشاعت اور ترویج میں مصروف عمل رہےمثلاً خاندان شاہ ولی اللہ دہلوی، خاندان غزنویہ امرتسر، لکھوی خاندان اور اس کے علاوہ ان علما کا تذکرہ ہے جنھوں نے صرف ایک دو پشت سے دین اسلام کی اشاعت اور توحید و سنت کی ترقی و ترویج میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ علاوہ ازیں اس میں ایسے جلیل القدر علما کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جو دو یا تین بھائی تھے اور سب ہی عالم دین تھے، ان علما نے تصنیف و تالیف، درس و تدریس اور وعظ و تبلیغ میں نمایاں خدمات انجام دیں مثلاً درس و تدریس میں مولانا شاہ محمد اسحاق دہلوی، ان کے بھائی شاہ محمد یعقوب دہلوی اور مولانا فقیر اللہ مدراسی وغیرہ۔ یہ  کتاب جہاں پیکران عظیمت کی زندگی کی خوبصورت تصویر ہے وہیں یہ قاری کے لیے راہ عمل متعین کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔(ع۔م)

  • 4 #1814

    مصنف : ڈاکٹر مستفیض احمد علوی

    مشاہدات : 6021

    مغربی جمہوریت حقیقت اور سراب

    (ہفتہ 14 ستمبر 2013ء) ناشر : بیت الحکمت، لاہور

    مذہب سے اظہاربیزاری کرکےاپنی عقل کی بنیادپرجو سیاسی نظام انسان  نے وضع کیاہےاس دورجدیدمیں اسے جمہوریت کہتےہیں ۔ جمہوریت کو اساس اہل یورپ نےفراہم کی ۔پھربعد میں مسلمانوں نے اسےاپنایا۔مسلمانوں جب اسے اپنایاتو اس میں بنیادی طور پر تین طرح کی آراتھیں ۔پہلی یہ کہ اسے مکمل رد کردیاجائےدوسری یہ تھی کہ اسےمکمل قبول کرلیاجائے جبکہ بعض کےہاں اسے قبول توکیا جائے لیکن ترمیم و اضافےکےساتھ ۔زیرنظرکتاب اولیں نقطہ کی حامل ہے جس میں مصنف نے عقلی ،فطری ،اخلاقی اور شرعی بنیادوں پر اس کاکھوکلا پن ثابت کرکےدکھادیاہے۔موصوف کاکہناہےکہ گزشتہ دوصدیوں سے دنیاجمہوریت کاتجربہ کررہی ہے ۔جس میں اسے مسلسل ناکامی کا سامناکرناپڑرہاہے۔اور آئندہ بھی اس کی کامیابی کوئی امکانات نظر نہیں آرہےسو بہتر یہی ہےکہ اسلام کا دیاہوانظام خلافت جوکہ ایک فطر ی نظام ہےمسلمانوں کو چاہیےکہ اسے اپنائیں۔کیونکہ اس میں ہی ان کی کامیابی کاراز ہے۔اس کےعلاوہ یہ ہےکہ دنیاکی دیگر اقوام کو اگرظاہر ی طورپر کچھ کامیابی مل بھی جاتی ہےاس سے یہ دوکھانہیں کھاناچاہیےکہ مسلمانوں کو بھی اس سے کامیابی ممکن ہوکیونکہ اس امت کی اساس ہی دیگرہے۔(ع۔ح)
     

  • 5 #1865

    مصنف : ڈاکٹر محمد امین

    مشاہدات : 9185

    اسلام اور تہذیب مغرب کی کشمکش

    (جمعرات 07 نومبر 2013ء) ناشر : بیت الحکمت، لاہور

    اسلام اورمغربی تہذیب کی کشمکش صدیوں سے جاری ہے۔ مغربی تہذیب کو اپنانے  کے حوالے سے عالم اسلام میں تین مختلف  مکاتب فکرپائے جاتے ہیں۔بعض نے مغربی تہذیب کومکمل طور پر اپنا طر زِ حیات بنالیا،توبعض  نے  درمیانی راہ  نکال کر اس سےایک طرزِ مفاہمت پیدا کرلی۔صرف چند صاحب کرداراور باحمیت کردار  ایسے ہیں، جنہوں نے کامل بصیرت اور گہرےادراک کے ساتھ اس تہذیب کاپرزور رد  کیا،اور مخالفین کے منہ بند کر دءے۔ اسلام اور  تہذیب مغرب کی یہ کشمکش مستقبل قریب میں کیا رخ اختیار کرے گی ،محترم ڈاکٹر محمدامین صاحب جیسے ذی شعور اورجدید وقدیم  علوم  سے  آراستہ  شخصیت نے  اس نازک موضوع پر  قلم  اٹھاکراس کا حق ادا کردیا ہے  ۔مصنف نے   اپنی کتاب میں  دواہم امور پربحث کی ہے ۔(اول) مسلمانوں کا مغربی تہذیب کے بارے میں  کیا رویہ ہونا  چاہیے، وہ اسے رد کردیں ،قبول کرلیں یا اس سے مفاہمت کرلیں ؟ مصنف نے  تینوں نقطۂ   ہائے نظر کے مؤیدین کے دلائل ذکر کر کے ان کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنا نقطۂ نظر بھی تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے،اوراس سوال کاواضح جواب  دیا ہے ۔(دوم)مسلم معاشرے پرمغربی تہذیب کے اثرات ۔اس امر میں کوئی  شک نہیں ہے کہ مسلم معاشرے کے بیدارمغز  عناصرنے اپنےمسلمانوں کومغرب کی غلامی سے نکالنے کے لیے جو جدوجہد کی  ہے، مسلمانوں نے  عملاً ان کا ساتھ دیا ہے  ۔تاہم اس سے بھی انکار نہیں کہ زوال وادبار کی گزشتہ دوصدیوں میں مغربی استعمار اپنی قوت  اور فراست سے مسلم معاشرے پر اثرانداز ہونے  میں  کسی حدتک کامیاب  رہا ہے،  اور مغربی تہذیب کے بہت سے افکار ونظریات مسلم معاشرے میں  سرایت کرگئے ہیں۔ فاضل    مؤلف  نے مغرب سے درآمدشدہ ان نظریات وتصورات اوراداروں کی بڑے  احسن اندراز  میں  نشاندہی کرتے ہوئے  ان کا  اسلامی  تعلیمات وتصورات سے مختلف ومتضاد ہونا بھی واضح کردیا ہے  ،او ربڑے منطقی اسلوب اور علمی تجزیے سے  تہذیب مغرب کی دلدل سے نکلنےکاحل تجویز کیا ہے۔  امید ہے کہ  امت مسلمہ کے افراد کے لیے یہ علمی کوشش ان شاء اللہ  بصیرت افروز ثابت ہوگی۔(م۔ا)
     

  • 6 #1911

    مصنف : ابو الاسجد

    مشاہدات : 3703

    مقالات شاغف

    (پیر 24 فروری 2014ء) ناشر : بیت الحکمت، لاہور

    اسلامی تعلیمات کی تعلیم و  تفہیم کے لیے ہمیشہ کتاب و سنت  کے  دو مستند ذرائع موجود رہے ہیں ۔قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ قرآن  مجید کی  حفاظت  کی ذمہ داری  تو اللہ تعالیٰ نےاس آیت مبارکہ میں بیان  کردی ہے    إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحٰفظون  جس  طرح   قرآن  مجید کی حفاظت ضروری ہے  ،بعینہ ٖ آپ ﷺ کی توضیحات وتشریحات (احادیث مبارکہ) کا تحفظ بھی  ناگزیر ہے ۔ قرآن مجید اگر  وحی متلو ہے تو حدیث وحی غیر متلو ہے  جس محفوظ  ذریعے اور طریق سے قرآن مجید کی  آیات بینات کا نزول ہوا ہے اسی  طریق اور ذریعے سے  اس کی تشریحات وتوضیحات کی بھی تعلیم دی گئی ہے  صحابہ  کرام  نے آپ کی سنت اور عادت کو اپنایا اور آپ کے اقوال وافعال واحوال کو ہر  اعتبار سے محفوظ رکھنے کی  کوشش کی  اس کے بعد ائمہ محدثین نے  لاکھوں احادیث کو  مدون کر کے ان کی درجہ  بندی کی  اور ان کی صحت وضعف کو  واضح کیا اور روایت ودرایت کے حوالے سے  متن اور راوی  کے صحت واعتبار کےلیے  ایسے علوم وفنون کوبھی ترتیب  دیا جس کی مثال اس سے  قبل تاریخ علوم انسانی  میں  ناپید اور مفقود ہے   کہ  جس سے  علوم  الحدیث کو علمی وقار اور عملی امتیاز حاصل  ہوا۔ جب بھی  انکار  سنت کے فتنے  نے  آنکھ کھولی تو  اہل علم اور  ائمہ محدثین نے  اپنی  عملی اور تحقیقی کاوشوں سے اسے  موت کی نیند سلا دیا۔ زیر نظر کتاب ’’ مقالات شاغف ‘‘ در  اصل ابو الاشبال شاغف بہاری ﷾ کے  برصغیر پاک وہند کے  علمی  وتحقیقی رسائل وجرائد میں  علم  حدیث   کی حجیت  ،ثقاہت،تدوین  اور  دفاع حدیث  کے  موضوع پر تحقیقی مضامین کا نادر مجموعہ ہے  مولانا  ابو الاشبال شاغف  بہاری﷾ انڈیا کے صوبہ بہار میں  پید ا ہو ئے   اور مختلف کبار علماء سے  شر ف تلمذ کیا  آپ  تحقیق وتخریج کے  حوالے  سے  مرجع  کی حیثیت رکھتے  ہیں  آپ کو رابطہ عالم اسلامی کے علمی  وتحقیقی مرکز میں کام کرنے کے مواقع بھی ملے ۔  طویل عرصہ سے سعوی عرب میں مقیم ہیں  آپ کی علمی  وجاہت کے پیش نظر حکومت  سعودیہ نے انہیں  شہریت کے اعزاز سے بھی نوازا ہے  اللہ تعالی  سے دعا  ہے کہ  وہ ان مقالات کے مطالعہ سے  دین وشریعت کا صحیح فہم پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے  (آمین) (م۔ا)

  • 7 #3130

    مصنف : ڈاکٹر نثار احمد

    مشاہدات : 4792

    خطبہ حجۃ الوداع

    (ہفتہ 02 مئی 2015ء) ناشر : بیت الحکمت، لاہور

    یوں تو نبی کریم ﷺ  کا ہر ایک ارشاد، ہر جملہ اور ہر لفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ہر ایک لفظ میں،ہر ایک جملے میں ہمارے لیے ہدایت اور راہنمائی کے بہت سے پہلو ہیں۔لیکن آپﷺ کے ہزاروں ارشادات عالیہ میں سے جن ارشادات کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ان میں سے ایک خطبہ حجۃ الوداع کا خطبہ بھی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جو آخری حج کیا` اسے دو حوالوں سے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ایک اس حوالہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج وہی کیا،اور اس حوالے سے بھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس خطبہ میں ارشاد فرمایا : لعلی لا القاکم بعد عامی ھذا۔ یہ میری تم سے آخری اجتماعی ملاقات ہے،شاید اس مقام پر اس کے بعد تم مجھ سے نہ مل سکوں۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن میں یہ بات تھی کہ میں اپنے صحابہ سے آخری اجتماعی ملاقات کر رہا ہوں۔خطبہ حجۃ الوداع کو اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔خطبہ حجۃ الوداع بلا شبہ انسانی حقوق کا اولین اور مثالی منشور اعظم ہے۔اس منشور میں کسی گروہ کی حمایت،کوئی نسلی ،قومی مفاد ،کسی قسم کی ذاتی گرض وغیرہ کا کوئی شائبہ تک نظر نہیں آتا ہے۔آپ نے  اس خطبہ میں  اتحادِ امت کا موضوع اپنے سامنے رکھا اور پھر دردِ امت کی پوری توانائی اسی موضوع پر صرف فرمادی، پہلے نہایت درد انگیز الفاظ میں قیامِ اتحاد کی اپیل کی، پھر فرمایا کہ پس ماندہ طبقات کو شکایت کا موقع نہ دینا، تاکہ حصارِ اسلام میں کوئی شگاف نہ پڑجائے، پھر اسباب نفاق کی تفصیل بیان کرکے ان کی بیخ کنی کا عملی طور پر سروسامان فرمایا، پھر واضح کیا کہ جملہ مسلمانوں کے اتحاد کا مستقل سنگِ اساس کیا ہے؟ آخری وصیت یہ فرمائی کہ ان ہدایات کو آیندہ نسلوں میں پھیلانے اور پہنچانے کے فرض میں کوتاہی نہ کرنا، خاتمہٴ تقریر کے بعد حضور ﷺ نے اپنی ذات کی سرخ روئی کے لیے حاضرین سے شہادت پیش کرتے ہوئے اس طرح بار بار اللہ کو پکارا کہ مخلوق خدا کے دل پگھل گئے، آنکھیں سیلاب بن گئیں اور روحیں انسانی جسموں میں تڑپنے لگیں۔ زیر تبصرہ کتاب " خطبہ حجۃ الوداع ،حقوق انسانی کا عالمی منشور "پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد سابق رئیس کلیہ فنون و صدر شعبہ اسلامی تاریخ جامعہ کراچی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسی عظیم الشان خطبے  کے تاریخی پس منطر،مکمل عربی متن ،اردو ترجمہ اور توضیح وتشریح  فرمائی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبول فرمائے ۔آمین(راسخ)

  • 8 #3140

    مصنف : ڈاکٹر عبد القادر جیلانی

    مشاہدات : 3946

    اسلام، پیغمبرِ اسلام اور مستشرقینِ مغرب کا اندازِ فکر

    (منگل 28 اپریل 2015ء) ناشر : بیت الحکمت، لاہور

    تہذیبیں گروہ انسانی کی شدید محنت اور جاں فشانی کا ثمرہ ہوتی ہیں۔ہر گروہ کو اپنی تہذیب سے فطری وابستگی ہوتی ہے۔جب تک اس کی تہذیب اسے تسکین دیتی ہے ،وہ دیگر تہذیبوں سے بے نیاز رہتا ہے۔جب کوئی بیرونی تہذیب اس پر دباؤ ڈالنے لگتی ہے تو معاشرہ اپنی تہذیب کی مدافعت کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے،اور مخالف تہذیب کو اپنی تہذیب پر اثر انداز ہونے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ مدافعت اکثر حربی ٹکراؤ کی صورت اختیار کر جاتی ہے،اور اگر حربی مدافعت کی قوت باقی نہیں رہ جاتی تو غالب معاشرے کے خلاف سرد جنگ شروع ہوجاتی ہے۔تاآنکہ دونوں میں سے کسی ایک کو قطعی برتری حاصل نہ ہوجائے۔بصورت دیگر کوئی نئی تہذیب وجود میں آتی ہے جس میں متحارب معاشرے ضم ہوجاتے ہیں۔مستشرقین بھی اسلام اور پیغمبر اسلام کو اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، اور اس کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام ،پیغمبر اسلام اور مستشرقین مغرب کا انداز فکر"محترم ڈاکٹر عبد القادر جیلانی کا کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لئے لکھا گیا مقالہ ہے،جسے محترم آصف اکبر صاحب نے مرتب کیا ہے۔مقالہ نگار نے اس میں مغرب کا پس منظر،ریاست اسلامیہ کی توسیع اور عہد وسطی کا مغرب، مغرب کا رد عمل ،مستشرقین، اورسترہویں تا انیسویں صدی عیسوی کا مشترکہ جائزہ جیسے موضوعات پر تفصیلی بحث کی ہے۔مغرب کے انداز فکر کو سمجھنے کے لئے یہ ایک مفید اور بہترین کتاب ہے۔(راسخ)

  • 9 #3840

    مصنف : نور محمد قریشی

    مشاہدات : 2041

    حیات مسیح اور ختم نبوت

    (ہفتہ 19 دسمبر 2015ء) ناشر : بیت الحکمت، لاہور

    امت مسلمہ مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام پر ہر دور میں متفق رہی ہے ۔لیکن مرزا قادیانی کے کچھ نفس پرستوں نے خود ساختہ عقلی دلائل کا سہارا لے کر مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام پر امت مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔اور الحمد اللہ ہمارے بزرگان دین اور علماءکرام نے ایسے فتنوں کا پوری طرح تعاقب کیااور ان کو کیفر کردار تک پہنچایا  ہے۔قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جب یہود نے عیسی علیہ السلام کو صلیب دے کر قتل کرنے کی کوشش کی تو قرآن نے جو فرمایا کہ 'اللہ نےانہیں اپنی طرف بلند کردیا 'وہ حقیقت میں انہیں بلند نہیں کیا گیا تھا بلکہ انکے درجات بلند کردیے گئے تھے ، اس جگہ پر درجات کے بلند ی کا یہ فیدہ ہوا کہ صلیب پر وہ زندہ رہے اور یہود کو شبہ لگ گیا کہ وہ وفات پاچکے ہیں اور وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے، عیسی پھر کسی اور علاقہ میں چلے گئے وہاں تقریبا نصف صدی حیات رہے پھر طبعی وفات پائی اور انکی قبر کشمیر میں ہے۔ یہی عقیدہ تھوڑی سی کمی پیشی کیساتھ  قمر احمد عثمانی  کا بھی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "حیات مسیح اور ختم نبوت" محترم نور محمد قریشی ایڈووکیٹ صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے قمر احمد عثمانی کے نظریات کا رد کرتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں درست عقائد کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 10 #4893

    مصنف : عتیق امجد

    مشاہدات : 2132

    نواب صدیق حسن خاں  کی خدمات حدیث

    (اتوار 06 نومبر 2016ء) ناشر : بیت الحکمت، لاہور

    برصغیر میں علومِ اسلامیہ،خدمت ِقرآن اور عقیدہ سلف کی نصرت واشاعت کےسلسلے میں نواب صدیق حسن خاں﷫ (1832۔1890ء) صدیق حسن خان قنوجی رحمہ اللہ کی ذات والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ علامہ مفتی صدر الدین ، شیخ عبد الحق محدث بنارسی ، شیخ قاضی حسین بن محسن انصاری خزرجی ۔ شیخ یحیی بن محمد الحازمی ، قاضی عدن ، علامہ سید خیر الدین آلوسی زادہ جیسے اعلام اور اعیان سے کسب ِفیض کیا۔آپ کی مساعی جمیلہ روزِروشن کی طرح عیاں ہیں ۔ عربی ، فارسی ، اردو تینوں زبانوں میں دو سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں او ردوسرے علماء کو بھی تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ کیا،ان کے لیے خصوصی وظائف کا بندوبست کیا او راسلامی علوم وفنون کے اصل مصادر ومآخذ کی از سرنو طباعت واشاعت کاوسیع اہتمام کیا۔نواب محمدصدیق حسن خان﷫ نے علوم ِاسلامیہ کے تقریبا تمام گوشوں سے متعلق مستقل تالیفات رقم کی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا دینی وعلمی موضوع ہو جس پر نواب صاحب نے کوئی مستقبل رسالہ یا کتاب نہ لکھی ہو۔حدیث پاک کی ترویج کا ایک انوکھا طریقہ یہ اختیار فرمایا کہ کتب ِاحادیث کے حفظ کا اعلان کیا۔ اوراس پرمعقول انعام مقرر کیا۔ چنانچہ صحیح بخاری کے حفظ کرنے پر ایک ہزار روپیہ اور بلوغ المرام کے کے حفظ کرنے ایک سو روپیہ انعام مقرر کیا۔ جہاں نواب صاحب نے خود حدیث اور اس کے متعلقات پر بیش قیمت کتابیں تصنیف کیں وہاں متقدمین کی کتابیں بصرف کثیر چھپوا کر قدردانوں تک مفت پہنچائیں۔دوسری طرف صحاح ستہ بشمول موطا امام مالک کے اردو تراجم و شروح لکھوا کر شائع کرانے کا بھی اہتمام کیا۔ تاکہ عوام براہ راست علوم سنت سے فیض یاب ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ نواب صدیق حسن خاں کی خدمات حدیث ‘‘ شیح الحدیث مولانا عبد اللہ امجد چھتوی کےصاحبزادے عتیق امجد کی کاوش ہے ۔اس میں انہو ں نے برصغیر کے عظیم رہنما ، محدث ، مفسر،حسن ملت علامہ نواب صدیق حسن خاں کی خدمات حدیث کا تذکرہ کیا ہے۔کوئی اسلامی موضوع ایسا نہیں جس پر نواب صدیق حسن خان نےقلم نہ اٹھایا ہو لیکن تفسیر قرآن مجید اور حدیث مصطفیٰﷺ کے میدان میں تو آپ کی خدمت نہایت قابل رشک اور مثالی ہیں۔ صرف میدان حدیث اور علوم حدیث کےسلسلے میں آپ کی تصنیفات وتالیفات تقریباً باسٹھ ہیں ۔اس کےعلاوہ آپ نےمدارس حدیث کےقیام ، کتب حدیث پر مشتمل لائبریریاں،کتب حدیث کےمطابع، خدمت حدیث کےلیے علماء وفقہاء کوترغیب ووظائف، کتب حدیث کے تراجم وشروحات لکھنے کےلیے علماء کی سرپرستی، طلباء حدیث کو حفظ حدیث پر انعامات کےعلاوہ اپنےوعظ وتقاریر، درس وتدریس اور بالخصوص عمل بالحدیث کےساتھ وہ انمٹ اور لازوال خدمات سرانجام دی ہیں جورہتی دنیا تک یاد رہیں گئی۔مصنف کتاب ہذا نے علامہ نواب صدیق حسن کی انہی خدمات کو اس کتاب میں خوبصورت انداز میں پیش کرکے شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب سے ایم علوم اسلامیہ کی ڈگری حاصل کی ہے۔(م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 929
  • اس ہفتے کے قارئین 4806
  • اس ماہ کے قارئین 56839
  • کل قارئین49481573

موضوعاتی فہرست